9/1/26

سماجی روایت کا نوحہ گر: علی عباس حسینی،مضمون نگار:گلاب سنگھ

 اردو دنیا،اکتوبر 2025

علی عباس حسینی (1897-1969) اردو ادب کے ایک ممتاز افسانہ نگار، نقاد، ڈراما نویس، اور مترجم تھے جنھوں نے اپنے قلم سے سماجی روایات، انسانی نفسیات اور معاشرتی مسائل کو نہایت گہرائی اور فنکارانہ انداز میں پیش کیا۔ ان کا ادبی سفر اردو افسانہ نگاری کی ترقی پسند تحریک کے عہد میں شروع ہوا، اور انھوں نے اپنے تخلیقی کاموں کے ذریعے معاشرے کے زخموں کو نوحہ گری کے انداز میں بیان کیا۔ وہ سماجی ناہمواریوں، طبقاتی کشمکش، اور انسانی رشتوں کی نزاکتوں کے عکاس بنے، اور ان کی تحریریں آج بھی اردو ادب میں اہم مقام رکھتی ہیں۔ علی عباس حسینی 3 فروری 1897 کواتر پردیش کے ضلع غازی پور کے ایک گاؤں پارہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک متوسط گھرانے سے تھا، اور بچپن سے ہی انھیں کہانیوں اور قصوں سے گہرا لگاؤ تھا۔ دس گیارہ برس کی عمر میں ہی انھوں نے ’الف لیلیٰ‘، ’شاہنامہ فردوسی‘، اور ’طلسم ہوش ربا‘ جیسے ادبی شاہکاروں کا مطالعہ کر لیا تھا، جو ان کے ادبی ذوق کی ابتدائی تربیت کا حصہ بنے۔  انھوں نے مشن ہائی اسکول الہ آباد سے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کی تعلیم حاصل کی، پھر کیننگ کالج لکھنؤ سے بی اے اور الہ آباد یونیورسٹی سے تاریخ میں ایم اے کیا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ گورنمنٹ جوبلی کالج لکھنؤ میں استاد مقرر ہوئے اور 1954 میں پرنسپل کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ ان کے یہ سوانحی کوائف ان کے علمی و ادبی کارناموں پر پوری طرح اثرانداز ہوئے ہیں۔

علی عباس حسینی نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز 1917 میں اپنے پہلے افسانے ’غنچہ ناشگفتہ‘ سے کیا۔ اس کے بعد 1920 میں انھوں نے ’سر سید احمد پاشا‘ کے قلمی نام سے اپنا پہلا رومانوی ناول ’قاف کی پری‘ لکھا۔ ان کا دوسرا ناول ’شاید کہ بہار آئی‘ ان کی رومانوی تحریروں کا آخری نمونہ تھا۔ تاہم ان کی شہرت کا اصل سبب ان کے افسانے اور تنقیدی مضامین ہیں۔ ان کے افسانوں کے مجموعوں میں ’رفیق تنہائی‘، ’باسی پھول‘، ’کانٹوں میں پھول‘، ’میلہ گھومنی‘، ’ندیا کنارے‘، ’آئی سی ایس اور دوسرے افسانے‘، ’یہ کچھ ہنسی نہیں ہے‘، ’الجھے دھاگے‘، ’ایک حمام میں‘، اور ’سیلاب کی راتیں‘شامل ہیں۔ ان کے ڈراموں کا مجموعہ ’ایک ایکٹ کے ڈرامے‘ کے نام سے شائع ہوا۔ ان کی تنقیدی کتاب ’عروس ادب‘ اردو فکشن کی تنقید و تاریخ کے حوالے سے ایک مستند حوالہ سمجھی جاتی ہے۔پریم چند اسکول کے ارتقائی مراحل کو فروغ دینے والوں میں علی عباس حسینی کا نام اہم ہے۔ جس عہد میں انھوںنے ادبی دنیا میں قدم رکھا اس وقت پریم چند، سجاد حیدر یلدرم، نیاز فتح پوری، سلطان حیدر جوش،سدرشن، اعظم کریوی، سہیل عظیم آبادی وغیرہ افسانوی ادب میں روح پھونک چکے تھے۔ لیکن علی عباس حسینی کی انفرادیت یہ ہے کہ انھوں نے اپنے وسیع اورعمیق مطالعہ اور گہری علمی بصیرت کے ذریعے اسے اور بھی روشن کیا۔ بقول مظہر امام:

’’علی عباس حسینی نے اپنے وسیع مطالعے، حسن ذوق، صلاحیت داستان گو ئی اور فنی بصیرت سے کام لے کر اپنے فن کی شمع اس طرح جلائی کہ نہ صرف اپنے معاصرین کے درمیان ان کا اپنا چہرہ تابناک اور روشن رہا، بلکہ اپنے بعد کی نسل میں بھی وہ غیریت اور اجنبیت کی نگاہ سے نہ دیکھے گئے۔‘‘

(ڈاکٹر تہمینہ اختر ،علی عباس حسینی ،حیات اور ادبی خدمات ،جواہر آفیسٹ پرنٹرس ،دہلی ، سنہ1992 ، ص: 69)

علی عباس حسینی کو ’سماجی روایت کا نوحہ گر‘ کہنا اس لیے مناسب ہے کہ انھوں نے اپنے افسانوں میں معاشرے کے دکھوں، تضادات، اور ناانصافیوں کو ایک نوحہ کی شکل میں بیان کیا۔ ان کی تحریروں میں سماجی ہم آہنگی، طبقاتی تفاوت، اور انسانی رشتوں کی پیچیدگیوں کو نہایت حساسیت سے پیش کیا گیا ہے۔ ان کا مشہور افسانہ ’میلہ گھومنی‘ اس کی واضح مثال ہے، جس میں انھوں نے دیہی زندگی کے مسائل اور روایات کو بیان کرتے ہوئے معاشرتی ناہمواریوں پر نوحہ خوانی کی۔ ان کے افسانوں میں کردار اکثر سماج کے مظلوم طبقات سے تعلق رکھتے ہیں، جو اپنی زندگی کی تلخیوں اور مجبوریوں سے لڑتے نظر آتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ان کے ایک افسانے میں شیخ سعید نامی کردار فرقہ وارانہ فسادات کے دوران اپنے نواسے کے لیے دودھ لینے نکلتا ہے، لیکن اسے ایک ہندو شخص اغوا کر لیتا ہے۔ کہانی کے اختتام پر دونوں کرداروں کے درمیان انسانی ہمدردی کا رشتہ قائم ہو جاتا ہے، جو سماجی ہم آہنگی کی ایک خوبصورت تصویر پیش کرتا ہے۔ اس طرح حسینی نے نفرت اور تعصب کے خلاف محبت اور انسانیت کا نوحہ پڑھا۔اسی طرح ان کا افسانہ ’ندیا کنارے‘ دیہی زندگی کی سادگی اور غربت کے دکھوں کو بیان کرتا ہے۔ ان کی کہانیوں میں عورتوں کے مسائل، خاندانی رشتوں کی نزاکتیں، اور معاشی استحصال جیسے موضوعات بار بار سامنے آتے ہیں۔ وہ معاشرے کے ان زخموں کو نوحہ گری کے انداز میں پیش کرتے ہیں، لیکن ساتھ ہی امید اور انسانیت کی روشنی بھی دکھاتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں ترقی پسند فکر کی جھلک نمایاں ہے، لیکن وہ محض نعرہ بازی سے بالاتر ہو کر انسانی نفسیات اور سماجی حقائق کو گہرائی سے دیکھتے ہیں۔

جیسا کہ ظاہر ہے ابتدائی دور کی کہانیوں میں داستانی رنگ اور رومانیت کا عکس نمایاں ہے، جس سے حقیقت پسندی کے بادشاہ یعنی پریم چند بھی نہ بچ سکے۔ چنانچہ علی عباس حسینی کے ہاں بھی ابتدا میں یہ رنگ موجود ہے۔ اس دور کے افسانوں میں عورت ان کی کہانیوں کا مخصوص موضوع رہا۔ لیکن کہانی کے بغور مطالعہ سے اس حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے کہ حسینی کے نزدیک عورت کی دلکشی اور رعنائی محض وقتی قرب ولذت وآشنائی کے لیے نہیں بلکہ وہ اتھاہ سمندر ہے، جس کا کنارہ تلاش کرنا ناممکن ہے۔ یعنی اس عورت کے حسن میں ماں، بہو، بیٹی، بیوی، بہن کے پاک اوتار کے ساتھ ایک ایسا مضبوط رشتہ قائم ہے، جس میں قربانی وایثار،حیا اور وفاداری کا سچا جذبہ بھی موجود ہے۔ گویا حسینی کی رومانیت کروٹ لیتی ہے اور حقیقت پسندی کا عکس ظاہر ہونے لگتا ہے۔ البتہ یہ درست ہے کہ حسینی کی ابتدائی کہانیوں پر رومانیت اور شاعرانہ انداز نگارش غالب ہے۔ تاہم ان کا نقطۂ نظر خالص رومانوی نہیں بلکہ معاشرتی اصلاح اور حقیقت پسندی کے نقطۂ نظر سے عبارت ہے۔ بقول ڈاکٹر تہمینہ اختر:

’’عورت کا صرف یہ تصور ہی حسینی کے ہاں موجود نہیں بلکہ عورت کا درجہ حسینی کے یہاں بہت بلند ہے۔ ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کسی بھی روپ میں آئے اکثر قربانی وایثار کی بیٹی، وفا کی دیوی بن کر آتی ہے۔ جوخاردار کو گلزار بناسکتی ہے۔ جو صحرا میں گلاب کھلا سکتی ہے۔ جو بھٹکوں کو راستہ دکھاتی ہے، نوروناراور بیوی میں اس کا روپ نکھر کر سامنے آتا ہے۔ بے باک، ہرجائی اور بے وفا عورت بھی ان کی کہانیوں میںآتی ہے۔ مگر فن کار اسے ناانصافی کا شکار ہونے سے بچا لیتا ہے۔ یابتولن اور اس قسم کی چند کہانیوںمیں انھوں نے عام روش سے ہٹ کر عورت کا ایک روپ دکھایا ہے ،جو محبوب کی خاطر ہر بدنامی کوبرداشت کرلیتی ہے۔ جو آوارہ ہوتے ہوئے بھی محبت کا شدید جذبہ دل میں رکھتی ہے۔‘‘

(علی عباس حسینی ،افسانہ باسی پھول ، مجموعہ (باسی پھول) ، مکتبہ اردو ،لاہور ،ص 1939، ص:45)

حسینی کے رومانوی اور عشقیہ موضوع کے بطن سے جو اصلاحی وحقیقی افسانے جنم لیتے ہیں، ان میں باسی پھول، کیے کا بھوگ، عدالت، رفیق تنہائی، مقابلہ، بندوں کی جوڑی، انتقام، نئی ہمسائی، بہو کی ہنسی، سکھی اور باغی کی بیوی وغیرہ اہم ہیں۔ ان میں افسانہ ’باسی پھول‘ بے حد اہم قرار پاتا ہے۔ افسانہ کا مرکزی کردار رشید اور صابرہ ہیں۔ دونوں ایک دوسرے سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔ لیکن صابرہ کی شادی دوسرے شخص سے طے ہوجاتی ہے اور اس طرح دونوںایک دوسرے سے الگ ہوجاتے ہیں۔ شادی کے سات سال بعد صابرہ بیوہ ہوجاتی ہے۔ صابرہ کی بیوہ زندگی رشید دیکھ نہیں پاتا ہے۔ اس کا عشق جوش مارتا ہے، وہ صابرہ سے شادی کی درخواست کرتا ہے مگر بیوہ صابرہ رشیدہ سے بے پناہ عشق کے باوجود دوسری شادی کو معیوب سمجھتی ہے اور رشید سے کہتی ہے:

’’ ...اس کے معنی یہ تو نہیں کہ آپ دین وایمان سب بھول کر جہنم وجنت سب سے انکار کرکے کفر بکنے لگیں۔‘‘  (ایضاً ،ص:47

صابرہ رشید کے پیغام کو کفر اور دین وایمان کے خلاف سمجھتی ہے،کیونکہ بیوہ کی شادی آج بھی ہمارے ملک میں سماجی نقطۂ نظر سے پوری طرح قابل قبول نہیں۔ حسینی اس بندھن کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے رشید کی زبانی لکھتے ہیں:

’’ ...کیا خدا نے بیوہ سے عقد کا حکم نہیں دیا ہے۔ کیا رسول اللہ نے خود اس پر عمل کرکے نہیں دکھایا۔ لیکن آپ نے اسے گالی کے مترادف سمجھا۔ سوائے ہندوستان کے کسی ملک میں اسے نہ معیوب سمجھتے ہیں نہ خلاف عقل وشرع...‘‘

(پروفیسرصغیر افراہیم ،ترقی پسند تحریک سے قبل ،اردو افسانہ (افسانہ شہید معاشرت)ایجوکیشنل بک ہائوس ،علی گڑھ ، سنہ 2009،  ص:99)

علی عباس حسینی نے افسانہ ’شہید معاشرت‘ میں بیوہ کی حالت زار کو بے حد کربناک جملے میں بیان کیا ہے :

’’پانچ برس کے سن میں بیاہی گئی اور بارہ برس کی عمر میں بیوہ ہوئی۔ عنفوان شباب میں شوہر کے پیار ومحبت کی جگہ ساس کی جوتیاں تھیں اور نندوںکی قینچی کی طرح چلتی ہوئی زبانیں۔‘‘

افسانہ کی ہیروئن اپنے عاشق موہن سے بیوگی کی حالت زار بیان کرتے ہوئے کہتی ہے:

’’میں بدنہ سہی مگر بدنام ہوں، اس لیے میں کسی شریف کی بیوی بننے کے قابل نہیں رہی۔ اب میں صرف نفس پرستوں کا شکار بن سکتی ہوں اور محض اسی کے لائق ہوں...موہن ! دیکھو اپنی اور میری سچی محبت میں داغ نہ لگائو۔ ہندو عورت گر کر نہیں ابھرتی اور نہ میں تمھاری دشمن ہوں کہ اپنے ساتھ تمھیں بھی لے ڈوبوں۔‘‘  (ایضاً،ص:100)

اس گھٹن بھری زندگی کی آخری سانس وہ ودھوا آشرم میں لیتی ہے اور مرتے وقت موہن کو نصیحت کرجاتی ہے کہ

’’وعدہ کرو کہ تم اپنی طرف سے حتی الامکان کوشش کروگے کہ تم بدھوا بواہ ’’عقد بیوگان‘ کے رائج کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگادوگے ۔ ہندو ذات میں اس سے زیادہ براعیب کوئی نہیں۔‘‘  (ایضاً،ص:100)

حسینی دیہی زندگی کے بندھنوں اور محنت کش طبقہ کی روداد سے پوری طرح واقف تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانے دیہی طرز ومعاشرہ کو اپنے اندر جذب کرلینے میں کامیاب رہے۔ انھوںنے سرمایہ دارانہ طبقے کے جبر واستحصال اور محنت کش طبقے کی کسمپرسی اور مذہبی بندھنوں کی بھی بھرپور عکاسی کی ہے۔ بقول وقار عظیم:

’’علی عباس حسینی کے دردمند دل نے دیہات کی زندگی میں دردوغم کے ان گنت موقع تلاش کر لیے اور اس میں اپنے دل کی تڑپ وکسک اور درد وغم کے تاثر کو شامل کرکے دوسروں کو بھی اپنا شریک غم بنایا ہے۔ حسینی نے پریم چند کی ڈگر پر چل کر دیہاتوں کی گلی کوچوں میںپہنچنا سیکھا اور اپنی باریک بین نظروں سے وہ مناظر دیکھے جوپریم چند کی نظر سے بھی پوشیدہ تھے۔ ان مناظر کو حسینی نے فن کے رس میں بھر کر سب کے سامنے پیش کیا۔ اس طرح حسینی نے بھی زیادہ تر دیہات کے متعلق ہی افسانے لکھے ہیں اور پھر حسینی تو ایک حساس ماحول کی پیداوار تھے۔ انھوں نے اپنے ماحول کی دھڑکن صرف سنی ہی نہیں بلکہ محسوس بھی کی ہے۔ اسی لیے تو ان کے دائرہ قلم کا مرکز شعوری یا تحت الشعوری طور پر متعین ہوچکا تھا۔ زمیندار کا ظلم اور رعایا کی مصیبت۔ ‘‘

(وقار عظیم ،نیا افسانہ ،ایجوکیشنل بک ہائوس ،علی گڑھ ، سن 1987 ، ص:25 )

دیہاتی زندگی پر مشتمل افسانہ کفن، بیگار، میلہ گھومنی، خوش قسمت لڑکا، انتقام، سکھی، پاگل، کھیت وغیرہ ہیں۔ جن میں دیہات کی معصوم اور فطری زندگی کی بھرپور عکاسی ملتی ہے۔ اس ضمن میں افسانہ ’انتقام‘ ہے ،جو جاگیردانہ طبقے کے جبر واستحصال کی بھرپور نمائندگی کرتا ہے۔ افسانہ’بیگار‘ میں کسانوں کی روداد لچھمن کی زبانی ملا حظہ ہو:

’’چنادادا یہ تو بتائو کہ جنھیں پرمیشور نے جمیندار کو جنم دیا، اس نے ہم پرجا کو بھی بنایا کہ کوئی اور ہے؟‘‘

لچھمن اپنے سماجی بندھنوں کے تجربات کو کچھ یوں بیان کرتا ہے یا جواب دیتا ہے:

’’پنڈت جی کہتے تھے ہجاروں، لاکھوں دیوی دیوتا میں ایسا جان پڑتا ہے کہ جمیندار کو کسی بڑے دیوتا نے بنایا اور پرجا کو کسی بالکل چھوٹے دیوتا نے۔‘‘

(علی عباس حسینی ،افسانہ بیگار، مجموعہ (میلہ گھومنی) بی ۔آر۔ بی ایس پریس ،لاہور ،سنہ1947 ، ص:258-259)

علی عباس حسینی نے اس افسانے کے ذریعے سماجی استحصال کو بے نقاب کیا ہے۔ لچھمن کا مندرجہ بالا مکالمہ واضح کرتاہے کہ مظلوم طبقات پنڈتوں اورساہوکاروں کے فریب میں اس طرح جکڑچکے تھے کہ بڑے دیوتا ان برہمنوں کو سمجھنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ سدرشن کے افسانوں میں سماجی حقیقت کی بہترین مثال افسانہ ’بیوی‘ ہے۔ افسانہ کا مرکزی کردار یورپ میں تعلیم یافتہ دولت مند منور ہے۔ جس کی نظر میں عورت وقتی پھول ہے، جسے گلے کا ہار بنانا ٹھیک نہیں۔ منور کا نکاح اس کے والد مرحوم طالب علمی کے زمانے میں کرچکے تھے۔ جسے منور تسلیم کرنے سے انکار کردیتا ہے بلکہ ہر طرح سے لعن طعن عورت سے متعلق کرتا ہے اور عیش پرستی کے جال میں ملوث ہوجاتا ہے۔ مگر ایک وقت ایسا آپڑتا ہے کہ چیچک کے مرض کا شکار ہوجاتا ہے۔ جب اس کی خبر اس کی بیوی سلمیٰ کو ملتی ہے تو وہ تڑپ اٹھتی ہے اور وہ اس کی تیمارداری کے لیے والدین کی اجازت چاہتی ہے، کیوںکہ اس کی نظر میں منور اس کا شوہر ہے۔ حسینی سلمی کی زبانی بیان کرتے ہیں:

’’وہ جانتی تھی کہ عقد نے اسے منور کی بیوی بنادیا ہے اور وہ اس کا سرتاج اور شوہر ہوچکا ہے، بیاہ محض ہندوستانی رسم کی پابندی عرف عام کی پیروی ہے۔‘‘

(علی عباس حسینی ،افسانہ بیوی، مجموعہ( باسی پھول) مکتبہ اردو ،لاہور ،سنہ1939 ، ص:81-82)

سلمیٰ جو حسین ونوجوان منور کاخواب صدیوں سے سجائے بیٹھی تھی اس کی بگڑی صورت میں تلاش کر رہی تھی ۔ سلمیٰ کی تیمارداری رنگ لائی اور منور رفتہ رفتہ ٹھیک ہوگیا لیکن اپنی عیش پرست آنکھوں کو نہ بچا سکا اور وہ سلمیٰ کے ساتھ کی گئی حرکتوں پر بے حد شرمندہ ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ:

’’ہائے! تمھیں اب میںدیکھ نہیں سکتا!‘‘

اور کانپتے ہوئے لب سے بولا۔

’’سلمیٰ تم کو مجھ سے طلاق لے لینا چاہیے۔ میں پہلے روحانی طور پر اندھا تھا، اب جسمانی حیثیت سے بھی ہوں، میںتمھیں اپنی لکڑی نہ بنائوں گا۔‘‘  (ایضاً،ص:87)

سلمیٰ جواب دیتی ہے:

’’آپ اس طرح کی باتیں نہ کریں ، مجھے رنج ہوتا ہے۔ بیوی شوہر سے علاحدہ نہیں ہوسکتی! دونوں ایک دوسرے کے سہارے...۔ ‘‘ (ایضاً،ص:87-88)

ان چند جملوں کے ذریعے حسینی نے مغربی اور مشرقی امتزاج کو واضح کردیا ہے، ساتھ ہی مشرقی عورت کی معصوم ذہنیت کی عکاسی بھی۔ ڈاکٹر تہمینہ حسینی کے افسانوں پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھتی ہیں:

’’تاہم سینہ زنی اور قنوطیت کی حد تک حسینی کے افسانے نہیں پہنچے ہیں اور نہ ہی ان میں مایوسی یا نا امیدی ملتی ہے بلکہ ان کے افسانوں کی فضا تو کسی حد تک امید افزا ہوتی ہے۔ ان کے افسانوں کو پڑھ کر غم کے آنسو بھی نکلتے ہیں تو کہیں خوشی کے آنسو بھی۔ اپنے افسانوں کو حسینی صاحب نے اپنی زندگی کے فلسفہ یعنی محبت، ایثار، قربانی، خدمت گزاری، جاں نثاری اور گہری درد مندی سے تشکیل کیا ہے۔ اس لیے تو یہ سب چیزیں حقیقت بن کر ان کے افسانوں میں نظر آتی ہیں۔ جو دل ودماغ پر اثرکیے بغیرنہیں رہتی اور جو حسینی کے دردمندانہ دل کی کیفیتوں کا اظہار بھی کرتے ہیں۔‘‘

(ڈاکٹر تہمینہ اختر ،علی عباس حسینی، حیات اور ادبی خدمات ،جواہر آفیسٹ پرنٹرس ،دہلی ، سنہ1992 ، ص:114-115)

حسینی نے گائوں کے کسانوں کی معصوم اور فطری زندگی اور جبرواستحصال کے ساتھ شہری زندگی کو بھی موضوع قلم بنایا۔ اس نوع کے افسانوں میں نئی ہمسائی، زود پشیماں، شہیدت معاشرت، صفیر قفس، مغالطہ کی قیمت، باغی کی بیوی وغیرہ اہم ہیں۔ ان میں ’نئی ہمسائی‘ طوائف کے کردار پر مشتمل افسانہ ہے۔ حقیقتاً یہ ایک اصلاحی نوعیت کا افسانہ ہے، جس میں حسینی نے اس جانب اشارہ کیا ہے کہ ہر مذہب اور ہر طبقہ کے دل میں انسانیت کا جذبہ موجود ہوتا ہے، اس لیے ہمیں کوئی حق نہیں کہ ایک دوسرے کو اس کے مذہب، فرقہ یا پیشہ سے متعلق آواز اٹھائیں اور ذلیل وخوار کریں۔ طوائف کے درد کو حسینی اس کی زبانی بیان کرتے ہوئے سماج پر طنز کرتے ہیں:

’’میں بیسوا کے گھر میں پیدا ہوئی۔ بیسوا ہی بن کر رہ سکتی ہوں۔ شریف نہیں بن سکتی! خدا توبہ قبول کرسکتا ہے مگر انسان نہیں بخش سکتا ہے، وہ اور اس کے قانون خدائی قانون سے بھی زیادہ سخت ہیں۔‘‘

(علی عباس حسینی ،افسانہ نئی ہمائی ،مجموعہ (باسی پھول) مکتبہ اردو لاہور، سنہ 1939، ص:92)

حسینی نے بھی پریم چند کی طرح وطن کی محبت اور آزاد ہندوستان کے خواب پر مشتمل افسانے تخلیق کیے اور ساتھ ہی ہندو مسلمانوں کی انسان دوستی اور اتحاد کو بھی موضوع بنایاجو فرنگی حکومت نے اپنی شاطرانہ چال کے ذریعے ہندوئوں اور مسلمانوں کو مذہب کے نام پر جنگ کا شعلہ بھڑکایا تھا۔ مثلاً ماں کی پکار، وطن کی پاک مٹی، ہمارا گائوں، میخانہ ، ندیا کنارے اہم ہیں۔ ایک ماں کے دو بچے ، ہندو مسلم فسادات کی تصویر کشی کی بہترین مثال ہے۔ یہ افسانہ نفرت اور انتقام سے شروع ہوکر محبت، بھائی چارگی اور اخیر میں حب الوطنی کے درس پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ اس کا موضوع کلکتہ میں ہندو مسلم فساد ہے، جس میں ایک مسلم اپنے یتیم نواسہ کے لیے دکان سے کچھ خرید کر ٹیکسی پر سوار ہوتا ہے تو ایک ہندو اس کی گردن پر چاقو رکھ دیتا ہے۔ مسلمان ہندو سے جب اس انتقام کی وجہ دریافت کرتا ہے تو وہ کہتا ہے:

’’اس کا بیٹا اپنے چھ ماہ کے بچے کے لیے غذا لینے کو نکلا ہی تھا کہ مسلمانوں نے اسے مارڈالا۔ اب اس ظلم کے بعد تم کیسے امید رکھتے ہوکہ میں اپنے بس میں لانے کے بعد کسی مسلمان کو زندہ چھوڑوں گا۔‘‘

(ڈاکٹر تہمینہ اختر ،علی عباس حسینی ،حیات اور ادبی خدمات ،جواہر آفیسٹ پرنٹرس ،دہلی ، سنہ1992ء ، ص:81)

ہندو کے درد وکرب کا انتقامی جذبہ دیکھ کر مسلمان اس سے یہ التجا کرتا ہے کہ مجھے قتل کرنے کے بعد زکریا اسٹریٹ کے مسلم ہوٹل میں نمبر 28کے کمرے تک جانا جہاں دو لاشیںموجود ہیں۔ ایک نوجوان بیٹے کی اور دوسری میری سال بھر کی بیاہی بیٹی کی۔ ہوٹل والے کو میرا بٹوا دے دینا، تاکہ تجہیز وتکفین کرسکے اور بیٹی کی گود میں تین دن کا نو نہال سسکتا ملے گا، اسے یہ فلن فوڈ پھر کھلا دینا اس کے بعد اسے بھی قتل کردینا۔ مسلمان کی خواہش سن کر ہندو جسونت رائے کا دل بھر آیا اور نفرت محبت میں تبدیل ہوگئی اور دونوں نواسے تک پہنچے اور جسونت رائے شیخ سعید سے ان کا نواسا لے کر اپنی بدھوا بہوا کی گود میں دیتے ہوئے بولتا ہے:

’’بہو‘‘ ایک مسلمان نے تیری مانگ کا سندور چھینا اور تونے بڑے جیتے ہوئے دل پر پھاہا رکھا اور اپنے لخت جگر سے تیری بھری گود اور بھری۔یہ دوسرا بچہ ہے تیرا۔ جس کے دو بچے ہوں، اس کا شوہر کا غم کیوں...؟‘‘ (ایضاً ، ص:81)

 

افسانے کا اختتام حب الوطنی اور قومی وملی اتحاد کا درس دیتا ہے:

’’ دیکھو یہ بھارت ماتا کی گود میں دو بچے ہیں۔ ایک ہندو اور ایک مسلمان...یہ میری داہنی اور بائیں آنکھیں ہیں۔ جب ان میں سے ایک پھوٹی تو میں کانی ٹھہری اور جب دونوں تو بالکل اندھی۔‘‘  (ایضاً،ص:82)

علی عباس حسینی کی کہانیوں کے مکالمے سے واضح ہوتا ہے کہ ان کا طرز تحریر پریم چند اسکول کو آگے بڑھانے میںمعاون ثابت ہوا۔ انھوں نے اردو فکشن کو حقیقت کے نئے آہنگ سے روشناس کیا اور اپنی ذہین اور جدت پسند طبیعت کے سبب کسانوں کی غربت ومظلومیت کا حقیقی نقشہ کھینچا اور ساتھ ہی شہری زندگی ، فرقہ واریت، تقسیمِ ہند کی جانب بھی اپنے قلم کو جنبش دے کر اصلاحی اور حقیقی افسانے اور ناول خلق کیے۔

حسینی کا اسلوب سادہ لیکن گہرا ہے۔ وہ پیچیدہ الفاظ کے بجائے روزمرہ کی زبان استعمال کرتے ہیں، جو ان کی کہانیوں کو عام قاری تک پہنچاتی ہے۔ ان کی تحریروں میں مشاہدے کی گہرائی، کردار نگاری کی نزاکت، اور سماجی مسائل کی عکاسی انھیں منفرد بناتی ہے۔ وہ روایت اور جدت کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتے ہیں، کیونکہ ان کے افسانوں میں دیہی روایات کے ساتھ ساتھ جدید سماجی شعور بھی جھلکتا ہے۔علی عباس حسینی کا ادب آج بھی اردو افسانہ نگاری میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ ان کی کہانیاں سماجی مسائل کی آئینہ دار ہیں اور ان کی تنقید ادبی معیار کو بلند کرنے میں معاون ثابت ہوئی۔ وہ ایک ایسے نوحہ گر تھے جنہوں نے معاشرے کے دکھوں کو اپنی تحریروں میں سمو کر انھیں ابدی بنا دیا۔ ان کی وفات 27 ستمبر 1969 کو ہوئی، لیکن ان کا ادبی ورثہ آج بھی زندہ ہے۔علی عباس حسینی سماجی روایت کے ایک سچے نوحہ گر تھے جنہوں نے اپنے فن کے ذریعے معاشرے کی تلخیوں، تنوع، اور تضادات کو بیان کیا ہے۔ ان کی تحریریں نہ صرف ادبی شاہکار ہیں بلکہ ایک سماجی دستاویز بھی ہیں جو ہمیں اپنے ماضی اور حال کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔ ان کا کام اردو ادب کے طلبا اور قارئین کے لیے ایک علمی اثاثہ ہے، جو ہمیں بہت سی معاشرتی سچائیوں، ان کے اسباب و عوامل اور مختلف پہلوؤں سے ان کے حل کی تجویز سے متعلق سنجیدہ غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔

 

Dr. Gulab Singh

R/O Beoli Doda (J&K)

Mob:7006847561

Email: gulabsingh2035@gmail.com


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تازہ اشاعت

ابواللیث جاوید کے افسانوں کے امتیازات،مضمون نگار:آصف سلیم

  اردو دنیا،اکتوبر 2025 معاصر افسانوی منظرنامے میں ابواللیث جاوید منفرد اور جداگانہ طرزِ تحریر کی بدولت ایک الگ شناخت رکھتے ہیں۔ 1970 کے قری...