اردو دنیا،اکتوبر 2025
یاس
یگانہ چنگیزی کا شمار جدید اردو غزل کے معماروں میں ہوتاہے۔ ان کا تعلق عظیم آباد
سے تھا۔ آباو اجداد کے پاس کافی جاگیریں تھیں۔ مرزا واجد حسین یاس یگانہ چنگیزی
عظیم آبادی ثم لکھنوی ابن مرزا پیارے صاحب ابن مرزا آغا جان... کے آبا واجدا د
ہزارستان غزنی سے ہندوستان آئے اورسلطنت مغلیہ کے دربار سے وابستہ ہو گئے۔ پرگنہ
حویلی عظیم آباد میں جاگیریں ملیں اور وہیں سکونت پزیر ہوئے۔یاس یگانہ اپنی کتاب
’ آیات وجدانی‘ کے صفحہ 4 میںلکھتے ہیں:
’’
میرے مورث اعلیٰ مرزا حسن بیگ چغتائی نے کوئی نمایاں
خدمت کی ہوگی جس کے صلے میں وہ جاگیر ملی جو نسل بعد نسل عظیم آباد میں ان کی
اولاد پر منتقل ہوتی رہی۔ جس کا بچا کھچا حصہ میرے والد کو بھی ملا تھا۔‘‘(آیات
وجدانی، ص4 )
یاس
یگانہ چنگیزی کا اصل نام مرزا واجد حسین اور تاریخی نام مرزا افضل علی بیگ
تھا۔انھوں نے شروع میں یاس اور بعد میں یگانہ تخلص اختیار کیا اس لیے یاس اور یگانہ
دونوں سے مشہور ہوئے اور چونکہ چنگیز خاں سے ان کے اجداد کا تعلق تھا اس لیے اپنے
تخلص کے ساتھ چنگیزی منسلک کر لیا۔ یاس یگانہ کی پیدائش 17 اکتوبر 1884کو محلہ مغل
پورہ پٹنہ جسے زمانہ قدیم میں عظیم آباد کہتے تھے،جمعہ کے دن ہوئی۔ عظیم آباد کا
یہ محلہ تیموریوں، چغتائیوںاور قزلباشوں کا مسکن تھا۔عام بچوں کی طرح ابتدائی تعلیم
مکتب میں حاصل کی۔ وہیں انھوں نے فارسی کی بھی چند کتابیں پڑھیں۔ اس کے بعد پٹنہ
کے محمڈن اینگلو عربک اسکول میں داخلہ لیا۔ چونکہ پڑھنے میں اچھے تھے اس لیے انھیں
ہر سال وظیفہ ملا کرتا تھا۔ سنہ 1903میںکلکتہ یونیورسٹی سے میٹرک کا امتحان
پاس کیا اور اس کے بعد معاش کی جستجو میں مصروف ہو گئے۔حالات نے ساتھ نہ دیا جس کے
نتیجے میں انھیں خاک چھاننی پڑی۔ 1904 میں مٹیا برج، کلکتہ میں شہزادہ مرزا مقیم
بہادر کے فرزندوں کو انگریزی کی تعلیم دینے کے لیے اتالیق مقرر ہوئے۔ لیکن اتفاق
سے کلکتہ کی آب و ہوا ان کو راس نہ آئی۔خرابی صحت کی وجہ سے کچھ دنوں بعد پٹنہ
واپس آگئے۔یہاں بھی صحت نے ساتھ نہیں دیا۔1905 میں بغرض علاج لکھنؤ گئے، یہاں کی
فضا انھیں راس آگئی۔ نوابوں کے شہر کی آب و ہوا اور رنگا رنگ دلچسپیوں نے ان پر
ایسا اثر کیا کہ انھوں نے لکھنو ہی میں رہنے کا فیصلہ کیا۔چندبرسوں بعد لکھنؤ ہی
میں 1913میں ان کی شادی جناب حکیم مرزا محمد شفیع صاحب کی دختر نیک اختر’ کنیز حسین‘سے
ہوئی۔ ان سے سات بچے ہوئے۔ سسرالی رشتہ ہونے کی وجہ سے انھوں نے لکھنؤ کو اپنا
وطن بنالیا اور وہیں کے ہو کر رہ گئے۔
شادی کے بعد ذمے داری
مزید بڑھی تو وہ روزگار کے سلسلے میں بھاگ دوڑ کرتے نظر آئے۔ان کی ملازمت کا
سلسلہ ہمیشہ ناہمواریوں کا شکار رہا۔ایک عرصے تک وہ ’اودھ اخبار‘ سے وابستہ
رہے۔1924 میں یگانہ اٹاوہ کے اسلامیہ ہائی اسکول چلے آئے۔ 1925 میںوہ اٹاوہ چھوڑ
کرعلی گڑھ میں ایک پریس سے منسلک ہوگئے۔ لیکن بہت جلد اگلے ہی سال 1926 میں ’اردو
مرکز‘ لاہورسے وابستہ ہو گئے۔ یہاں کے ادیبوں سے ان کے مراسم اچھے تھے۔شاعر مشرق
علامہ اقبال کے یہاں آنا جانا رہا۔ اقبال بھی یگانہ کے بڑے قائل تھے۔ دوسال کے
اندر ہی 1928 میں یگانہ نے ’اردو مرکز‘ چھوڑ دیا۔ اس کے بعد حیدرآباد دکن کا رخ کیا۔
یہاں کے قیام نے ان کے رزق میں کشادگی پیدا کی۔ حالانکہ یہاں ان کا تقرر محکمہ
رجسٹریشن میں بحیثیت ’نقل نویس‘ عارضی ہوا تھا۔لیکن جلد ہی1931 میں یگانہ یہاں کے
باقاعدہ ملازم ہو گئے۔ یہ جگہ سب رجسٹرار کی تھی۔ 1942 تک وہ اس عہدے پر فائز رہے، تقریباً 55 برس تک ملازمت کی۔
یگانہ
اسکول کے زمانے سے ہی شاعری کرنے لگے تھے۔ ابتدائی دور میں بیتاب عظیم آباد ی سے
انھوں نے اصلاح لی۔ جب یگانہ لکھنؤ آئے تو وہاںکی ادبی محفلوں اور مشاعروں کو قریب
سے دیکھا۔ لکھنؤ کااپنا انداز تھا۔ شعرا کی اپنی شناخت تھی۔شروع شروع میں تو
انھوں نے وہاں کے ماحول میں ڈھلنے کی کوشش کی لیکن یگانہ وہاں کے ادبی مزاج سے پوری
طرح ہم آہنگ نہیں ہو پائے۔ لکھنؤ کا قیام ہنگامہ خیز رہا۔ جس کا اثر ان کے فن پر
بھی پڑا جبکہ ابتدا میں اہل لکھنؤ نے ان کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور لیتے بھی کیوں نہیں؟
وہ تو اپنی شاعری میں یگانہ تھے۔انھوں نے اپنا راستہ خود بنایا، ان راستوں کو ترک
کردیا جو دوسروں کے بنائے ہوئے تھے۔ اس لیے لکھنؤاسکول میں آتش کے بعد یگانہ ہی
سب سے منفرد شاعر کہلائے۔ چونکہ لکھنؤ والے خود ہی اہل زبان تھے اس لیے ان کو یہ
بات کیسے ہضم ہوتی کہ کوئی غیر لکھنوی اپنا سکہ جمائے۔ اس لیے لکھنوی شعرا سے ان کی
چشمک ہونے لگی۔ بات بگڑنے لگی اور نوبت یہاں تک آپہنچی کہ تحریر ی شکل میں مخالفت
شروع ہوگئی۔ یہ الگ بات ہے کہ اس تحریری جنگ کا آغاز خود یگانہ نے کیا تھاجس کا
خمیازہ انھیں بھگتنا پڑا لیکن وہ یگانہ تھے کہاں چپ بیٹھ سکتے تھے۔ انھوں نے
’شہرتِ کا ذبہ‘ نام سے ایک کتاب لکھ ڈالی۔ اس کے بعد ایک دوسرے کے خلاف لکھنے کا
سلسلہ چل پڑا۔ہر عمل کا ردعمل ہوتا ہے۔ یگانہ کے ساتھ جب بار ہا مشاعروں میں یہی
سلوک روا رکھا گیا تو انھوں نے بھی جوابی حملوں کی ٹھانی اور آہستہ آہستہ مرزا
واجد حسین یاس عظیم آبادی سے یگانہ چنگیزی ہوگئے۔اس سلسلے میں ڈاکٹر سلیم اختر
لکھتے ہیں :
’’جواباً
یگانہ نے لکھنؤ کے ساتھ ساتھ ملک کے دیگر اہم شعرا پر سخت ترین الفاظ میں تنقید
کا آغاز کر دیا، یگانہ کی نرگسیت کو تسکین کے لیے شایان ِشان ہدف کی تلاش تھی
جوغالب کی صورت میں مل گیا۔یوں وہ غالب شکن بن گیا، لیکن یگانہ نے محض تبرہ بازی
نہ کی بلکہ کلام کی پختگی اور الفاظ کے استعمال کے تخلیقی شعور سے خود کو اہم اور
صاحب اسلوب شاعر بھی تسلیم کیا‘‘۔
(اردو ادب کی مختصر ترین تاریخ: سلیم اختر، ص نمبر 409)
غالب
کے تئیں اہل لکھنؤ بالخصوص وہاں کے ادبی حلقوں میں خاص عزت و احترام تھا۔ وہ غالب
کے فن اور ان کی تخلیقی عظمت کے قائل تھے۔ خود یاس یگانہ چنگیزی بھی غالب کی اہمیت
اور اردو ادب میں ان کی ازلی حیثیت و مرتبہ کے معترف تھے اور ان کو عظیم شاعر تسلیم
کرتے تھے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’یہ
کس نے آپ کو بہکا یا کہ میںغالب کا مخالف ہوں، وہ یقینا بہت بڑا شاعر ہے۔ صاحب!
غالب کی صحیح قدر و منزلت مجھ سے زیادہ کون سمجھے گا۔ مجھے غصہ اس بات پر آتا ہے
کہ لوگ اس کے جائز مقام سے زیادہ اسے دینا چاہتے ہیں۔ اور پھر قسم یہ ہے کہ یہ بھی
وہ لوگ نہیں، جو اس کا صحیح مقام سمجھتے ہوں، بلکہ وہ جو تقلیداً اسے بڑا سمجھتے ہیں۔۔۔۔۔۔
تو صاحب ! میں غالب کے خلاف نہیں تھا، اور نہ ہوں لیکن میں اس کی جائز جگہ سے
زیادہ اس کے حوالے کردینے پر تیار نہیں۔‘‘
(مضمون از مالک رام، مشمولہ، مرزا یگانہ : شخصیت اور فن،ص نمبر
19)
دراصل
لکھنؤ کے شعرا غالب کو بڑی شد و مد سے چاہتے تھے۔ وہ لوگ ان کو جائزمقام دینے میں
غلو کر بیٹھے تھے اسی لیے یگانہ نے ان کو جائز مقام دلانے کی کوشش کی جو ایک حقیقت
پسند ادیب و ناقد کا فرض بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غالب کو ان کے معیار اور مرتبے
سے زیادہ اہمیت نہیں دی جاسکتی کیونکہ یہ مناسب نہیں ہے۔ جیسا کہ مذکورہ بالا
اقتباس سے واضح ہوجاتا ہے۔ جہاں پر ان کو غالب کی صفت پسند آئی انھوں نے اس کا
ذکر اپنی رباعی میں کیا ہے۔ ایک رباعی کہتے ہیں ؎
دونوں
دیوانے ہیں علی کے طالب
جاں
ایک ہے گو جدا ہیں قالب
مذہب
میں شاعری میں قومیت میں
غالب
ہیں یگانہ اور یگانہ غالب
یاس
یگانہ نے 1934 میں ’غالب شکن‘ کے نام سے رسالہ شائع کیا۔ اس رسالے کو دوبارہ
اضافوں کے ساتھ 1935 میں چھاپا۔ یگانہ نے جہاں بھی غالب کی مخالفت کی، دلیل کے
ساتھ کی۔ وہ کئی پہلوؤں سے غالب کے مخالف تھے۔انھوں نے ان کی فنی خامیوں کا بھی
ذکر کیا۔ غالب کی فارسی آمیز شاعری سے بھی خفا تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ غالب نے
اپنے فارسی کے اساتذہ سے اپنے کلام کو چرایا ہے۔ وہ مرزا غالب جیسے مشہور شاعر کو
کٹ گھرے میں کھڑا کرتے رہے ہیں اور ان پر اپنے اعتراضات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ یگانہ
کا شعر دیکھیے ؎
غالب
اور مرزا یگانہ کیا
آج
کیا فیصلہ کرے کوئی
یہ
بات بھی مبنی بر حقیقت ہے کہ غالب کی مخالفت میں انھوں نے جتنی بدنامی اور سبکی کا
سامنا کیا وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آئی۔ اس کا خمیازہ ان کو یہاں تک اٹھا نا
پڑا کہ ا ن کی ادبی خدمات اور شعر گوئی کو نئے رنگ سے آشنا کرنے اور اردو زبان کو
نکھارنے، سنوارنے کی کوششیں سب ماند پڑگئی اور بدلے میں ان کو غالب شکن کا تمغہ
ملا۔ یاس یگانہ چنگیزی کی شناخت محض غالب شکن کے طور پر اردو ادب میں رہ گئی
ہے۔جبکہ وہ خود ایک قادرالکلام شاعر تھے اور ان کا امتیاز بھی یہی تھا کہ روایتی
شاعری سے ہٹ کر انھوں نے جدید غزل کے لیے راستہ ہموار کیا۔یاس یگانہ چنگیزی نے نئی
غزل کا لب و لہجہ نکھارا۔ نئی غزل کی راہ ہموار کرنے میں ان کے کردار کو نظر انداز
نہیں کیاجا سکتا۔ با قر مہدی نے اردو غزل کے اہم ترین ناموں میں میر و غالب کے بعد
تیسرا نام یاس یگانہ چنگیزی کا ہی لیا ہے :
’’اردو
غزل میں میراور غالب کے بعد تیسرا نام جو سب سے زیادہ قابل احترام اور اہمیت کا
مالک ہے، وہ یگانہ کا ہے ۔‘‘ (ماہنامہ آج کل، دہلی، مئی1956،ص نمبر 15)
اسی
لیے مجنوں گور کھپوری نے یاس یگانہ کی شاعری کے متعلق کہا ہے کہ ان کی شاعر ی سے
ہمارے اندر ایک جبروتی طاقت اور ولولہ پیدا ہو تا ہے۔یگانہ نے روایتی شاعری سے ہٹ
کر ایک جبروتی رخ دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں :
’’یگانہ
پہلے شاعر ہیں جو ہم کو زندگی کا جبروتی رخ دکھاتے ہیں اور ہمارے اندر سعی و پیکار
کا ولولہ پیدا کرتے ہیں۔‘‘
(مضمون ’غزل اور عصر جدید‘، رسالہ ’نگار لکھنو‘، جنوری 1942،ص
50)
یگانہ
نے لکھنوی شاعری اور اردو غزل کو نہ صرف طاقت و توانائی عطا کی بلکہ اس کے موضوعات
میں بھی تنوع پیدا کیا۔ رونے دھونے کی روایت کو اردو غزل سے خارج کرنے کی کو شش کی
جیسا کہ نیاز فتح پوری کے اقتباس سے اندازہ ہوگا۔جس طرح کی ترجمانی یگانہ نے کی یہ
اس وقت کی اردو غزل میں ایک نئے رخ،نئی سمت اور نئی منزل کی طرف لے جانے والا تھا۔
اس لیے اردو کے تمام معتبر ناقدین نے یگانہ چنگیزی کو جدید اردو غزل کا نقطہ آغاز
کہاہے۔نیاز فتح پوری لکھتے ہیں :
’’یگانہ
پہلا شخص تھا جس نے لکھنؤ کے روتے اور بسورتے رنگ تغزل پر کاری ضرب لگائی اور یہ
کہنا غالبا غلط نہ ہوگا کہ یگانہ ہی نے سب سے پہلے اپنے زمانے کی لکھنوی شاعری کے
اس رنگ تغزل کو بدلا، جو اپنا اصلی رنگ چھوڑ کر، بے تمیزی کے ساتھ غالب کی تقلید
پر آمادہ ہو گئے تھے ‘‘
(نیاز فتح پوری بزم
نگار نمبر، ماہنامہ نگار، لکھنؤ، جنوری 1931ص نمبر 222)
سید
سلیمان ندوی نے انھیں ایک کامل شاعر تسلیم کیا ہے۔ ان کے خیالات بلند و اعلیٰ،
زبان صاف ستھری، کلام حشو و زوائد سے پاک اور ترکیبیں بے مثال ہوتی ہیں۔ ان کی
شاعری سے لکھنؤ میں ایک مفید انقلاب برپا ہوا۔ وہ لکھتے ہیں :
’’میرزا
یاس عظیم آبادی اردو کے مشہور شعرا میں سے ہیں۔ یہ بات بلاخوف و تردید کہی جا سکتی
ہے کہ یگانہ اپنے وقت کے ایک کامل شاعر ہیں، ان کے خیالات بلند ہیں، زبان صاف ستھری،
ترکیبیں چست اور کلام حشو و زوائد سے پاک ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ لکھنو کے طر ز
شاعری میں ان کے ہنگاموں کے باعث مفید انقلاب پیدا ہوا ہے، ان کے رباعیات کے مضامین
نہ صرف فلسفہء خودی کی تشریح پر مشتمل ہیں بلکہ انفس کے بعد آفاق کا فلسفہ بھی ان
میں جابجابیان کیا گیا ہے، کہتے ہیں اور کیا خوب کہتے ہیں ۔‘‘
(ترانہ، مشمولہ معارف، شمارہ نمبر 4، جلد نمبر 33،ص نمبر 314
)
وہ
میر و غالب اور اقبال و حالی جیسے شعرا سے مختلف سوچ رکھتے تھے۔اپنے ہم عصروں سے
الگ شناخت بنانا جانتے تھے اور انھوں نے اپنی منفرد پہچان بنائی تھی۔ جیسا کہ آل
احمد سرور نے یگانہ کی انفرادیت، ان کے تیور اور ان کی آن بان شان کے بارے میں
لکھا ہے :
’’
یگانہ واقعی بہت اچھے شاعر تھے۔ ان میں ایک انفرادیت تھی۔
ان کا رنگ ہم عصروں سے الگ تھا۔ اس میں ایک مردانگی، ایک تیور، ایک ولولہ، ایک آن
بان نظر آتی ہے ۔‘‘(خواب باقی ہیں،ص222)
یاس
یگانہ چنگیزی پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے لیکن جتنا لکھا گیا ہے وہ ان کے قد سے کم
ہے۔ عام طور پر ان کی شناخت ایک غالب شکن ادیب تک محدود رہ گئی ہے جب کہ ا ن کی
شاعری کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ا ن کی سوچ اعلیٰ و ارفع تھی جو اصلاح
معاشرہ کے لیے تھی۔ مثلاً ان کا یہ شعر ہر اس شخص کے لیے ہے جو دنیاوی مال و دولت
کے نشے میںچور ہوکر اپنے آ پ کو ہی خدا سمجھ بیٹھتاہے،جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اس کے
بس میں کچھ نہیں ہوتا۔ان کا یہ شعر ہر اس مغرور و متکبر انسان کے لیے چیلنج ہے کہ
انسان خدا نہیں بن سکتا ؎
خودی
کا نشہ چڑھا آپ میں رہا نہ گیا
خدا
بنے تھے یگانہ مگر بنا نہ گیا
یگانہ
نے غزل کو مصنوعی اور گنجلک و پیچیدہ زبان سے نکال کر سادہ اور آسان زبان کے ساتھ
پر اثر انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔وہ غزل کومبالغہ اور مصنوعی جذبات سے پاک
دیکھنا چاہتے تھے۔وہ مانتے تھے کہ غزل کی بنیاد جھوٹی عشقیہ شاعری پر ہے۔اسی لیے
انھوں نے اپنی شاعری میں صاف گوئی کو جگہ دی اور اردو غزل کو سچائی کا آئینہ دکھایا۔
انھوں نے اردو غزل کے پرانے اصولوں کو چیلنج کیا اور اس سے ہٹ کر غزل کو نئی راہ
دکھائی۔ان کی اس خوبی کو دیکھتے ہوئے نریش کمار شاد نے یاس یگانہ چنگیزی کو عظیم
غزل گو شعرا میں شمار کیا ہے۔ ان کے نزدیک یگانہ کی شعری عظمت پر شک کرنا ایک ادبی
خیانت کے مترادف ہے۔ وہ لکھتے ہیں :
’’یگانہ
بلاشبہ اس دور کے نہایت عظیم غزل گو شعرا
میں سے ہیں اور ان کی عظمت میں شک کرنا، ادبی خیانت کے مترادف ہے۔‘‘
(’ یاس کی خود پرستی‘، رسالہ نیا دور، لکھنؤ، جولائی 1961،ص 32)
ان کی شاعری میں خودی،
انانیت، چیلنج، انصاف، ولولہ،انقلابی جذبات، تنقید ذات، سماجی منافقت، سچائی،
خودداری، وقت کی بے رحمی اور فلسفیانہ کلام کی جھلک نظر آتی ہے۔ اسی لیے یہ وثوق
کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ ان کی شاعری میں وہ گہرائی ہے کہ جس میں جس قدر غواصی کی
جائے گی اس سے ہمیشہ نئے مفاہیم اور نئی بصیرتیں روشن ہوں گی۔
Md. Shahabuddin
Assistant Prof & Head Dept of Urdu
Marwari College
Bhagalpur- 812007 (Bihar)
Mob.: 8826080282
shahab.qasmi1@gmail.com

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں