9/1/26

سیماب اکبرآبادی کی شعری کائنات،مضمون نگار: مقیم احمد

 اردو دنیا،اکتوبر 2025

سیماب اکبرآبادی کا شمار اردو کے ممتاز اساتذئہ سخن میں ہوتا ہے۔ داغ دہلوی کے شاگردوں میں اقبال کے بعد سب سے زیادہ شہرت سیماب اکبرآبادی کو حاصل ہوئی۔ ظاہر ہے سیماب شاعر کی حیثیت سے تو معروف ہیں لیکن انھوں نے ادب کی دیگر اصناف میں بھی طبع آزمائی کی ہے جس کی طرف عام طور سے لوگوں نے توجہ نہیں دی۔ سیماب نے اردو شاعری کی بہت خدمت کی۔ وہ نہ صرف فن عروض میں مہارت رکھتے تھے بلکہ انھوں نے متعدد شعرا کی اصلاح وتربیت کا فریضہ بھی انجام دیا۔ البتہ یہ بات کم لوگوں کو معلوم ہے کہ سیماب نے افسانہ، ناول، ڈرامہ، سیرت اور سوانح کے علاوہ کئی اہم منظوم تراجم بھی کیے اورتحقیق و تنقید کے میدان میں بھی قابل ذکر تحریریں یادگار چھوڑی ہیں۔سیماب اکبرآبادی نے اردو دنیا میں ’آگرہ اسکول‘ کا تصور پیش کیا۔ انھوں نے نشرو اشاعت کے فروغ کے لیے’قصرالادب‘ نامی ادارہ قائم کیا، جس کے تحت متعدد کتابیں شائع کیں اور کئی رسائل واخبارات جاری کیے، جن میں رسالہ ’شاعر‘ قابل ذکر ہے، جو آج بھی جاری ہے۔

سیماب کا زمانہ وہ ہے جب ہمارے یہاں کلاسکی غزل کی روایت اختتام کو پہنچ رہی تھی اور جدید غزل کی روایت شروع ہو رہی تھی۔چنانچہ سیماب اکبرآبادی اس دورکے ان شعرا میں شامل ہیں جنھوں نے کلاسیکی غزل کے تسلسل کو قائم رکھا اور اس میں نئے افکار و موضوعات شامل کیے۔ سیماب کے تقریباً تین ہزار شاگرد ہوئے۔ تلامذہ کی اتنی بڑی تعدادشاید اردو شاعری میں کسی استادِفن کو نصیب نہیں ہوئی۔ سیماب کے تلامذہ میں جہاں بہت سے شعرا خود استادی کے منصب پر فائز ہوئے وہیں تلامذۂ سیماب میں بھی کئی شاگرد آج اردو ادب کے اہم ادیبوں میں شمارہوتے ہیں۔ لوگوں نے شاید یہ سمجھ کران کو نظرانداز کیا کہ وہ بس روایتی قسم کے شاعر ہیں۔ جب کہ ان کی شاعری اور ان کی ادبی خدمات کا سرمایہ اس قابل ہے کہ اس کا بھرپورجائزہ لیا جائے۔ سیماب اکبر آبادی کے معاصر شعرا میں علامہ اقبال،فانی بدایونی،چکبست،حسرت موہانی،شاد عظیم آبادی،جوش ملیح آبادی اور یاس یگانہ چنگیزی وغیرہ بہت اہم ہیں۔ ان ادیبوں کے نام سے ہی اندازہ ہوتا ہے کہ اردو شاعری خصوصاً اردو غزل اس عہد میں کس قدر توانا رہی ہوگی۔

 سیماب نے بہت کم عمری میں اپنی شاعری کا آغازکیا۔ یہ وہ دور تھا جب عموماً اردو غزل وقتی تفریح کا ذریعہ سمجھی جاتی تھی۔ غزل کے اکثر مضامین گل و بلبل، شمع وپروانہ، شراب و شباب، عاشق ومعشوق ا ورشانہ و زلف جیسے روایتی تلازمات تک محدود تھے۔ اردو غزل، قدیم فارسی غزل کی روایات و خصوصیات سے باہر نہیں نکل سکی تھی اورانہی روایتی موضوعات کو نئے زاویے دے کر، زبان و بیان کے کمالات دکھا کر غزل کہنا کمال فن سمجھا جاتا تھا۔ تخیل پر تغزل کو فوقیت تھی۔تصوف کے موضوعات کو برتا جانے لگا تھا لیکن اس میں بھی عمومیت تھی۔ایسے ماحول میں سیماب نے شعر گوئی کی ابتدا کی۔سیماب نے استادی وشاگردی کے ادارے کو وسعت دی اور نئی ادبی تہذیب یا شعری تہذیب کو مستحکم اور  قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ لیکن لوگوں نے ان کی طرف توجہ اس لیے نہیں دی کہ ان کو لوگوں نے جدید شاعر کے طور پرنہیں قبول کیا۔ سیماب چاہے مخصوص معنی میں جدید شاعر نہ ہوں، جس معنی میں فراق، حسرت اور شاد وغیرہ تھے لیکن نئے زمانے میں اپنی کلاسکی روایت کو آگے بڑھانے والوں میںاور اس سلسلے کو قائم کرنے والوں میں سیماب کا بہت اہم کردارہے۔

 سیماب اکبرآبادی نے غزل گوئی کے ساتھ ساتھ نظم کو بھی اپنے تخلیقی اظہار کا ذریعہ بنایا۔ وہ اپنی کتاب ’خطبات کلیم عجم‘ میںلکھتے ہیں:

 ’’نظم غزل گوئی سے زیادہ ضروری او ر بہتر صنف کلام ہے۔‘‘ 1

نیستاں(1925)، کارامروز(1935)، ساز و آہنگ (1941) اور شعر انقلاب (1947)  سیماب اکبرآبادی کی نظموںکے مجموعے ہیں، جن میں انھوںنے نت نئی علامتوں کو زندگی کی بدلتی ہوئی قدروں سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی ہے۔ نیستاں ان کی شاعری کے پہلے دور کا ترجمان ہے۔ اس میں مختلف النوع موضوعات پر57نظمیں شامل ہیں۔ ترانۂ وحدت، خورشید رسالت، گھٹا مدینے سے، گنبد سبز رسول اللہ، عیدقرباں اور فریاد وغیرہ یہ سب مذہبی نظموں کے ذیل میں آتی ہیں۔ سیماب ان نظموںمیں اللہ اور اس کے رسول کی محبت اور حمد و نعت میں غرق نظر آتے ہیں تووہیں دوسری طرف بادئہ عرفاں کا پہلا دور، عرفان نفس، ہمہ اوست، توہی تو ہے وغیرہ نظمیں فلسفیانہ اور تصوف کے اعلیٰ وارفع جذبات وخیالات سے معمور ہیں۔

اس مجموعہ کے بالکل آخری حصے میں جنت کے خطوط والی چھہ نظموں کا حصہ بالکل منفرد اور بے مثال ہے۔ اس میں سیماب نے انسانی فطرت کے نشیب وفراز سے اپنی گہری واقفیت کا ثبوت دیا ہے۔ موضوع بھی بالکل نیا اور انداز بیان بھی انوکھاہے جس میں پہلا خط صغیرسن بچے کی طرف سے اپنے باپ کے نام،دوسرا خط ایک معصوم بچی کی طرف سے ماں کے نام، تیسراماں کی طرف سے بچوں کے نام، چو تھا خط باپ کی طرف سے بچوں کے نام،پانچواںبیوی کی طرف سے شوہر کے نام اور چھٹاخط شوہر کی طرف سے بیوی کے نام لکھا گیا ہے۔یہ تمام خطوط انسانی جذبات واحساسات کے اظہار سے لبریز ہیں۔ ان میں مختلف لوگوں کے انتقال سے ان کے قریب ترین متعلقین پرجو کچھ گزرتی ہے، اس کااحساس کرتے ہوئے انھیں بہت خوبصورت اور اثرانگیزانداز میں صبر کی تلقین کی گئی ہے۔جنت سے چو تھا خط باپ کی طرف سے بچوں کے نام سے درج ذیل اشعار ملاحظہ کیجیے        ؎

تمھارے ساتھ کیا ہم نے ساری عمر نباہ

ہوئے تمھاری ترقی کے وسوسوں میں تباہ

ملا کیا تمھیں آرام ہم سے خاطرخواہ

ہمیں یہ اس کا نتیجہ ملا، یا اللہ

ستم ہے، شمع تمنا کو ہاتھ تم نے دیا

اندھیری گور میں بچو، نہ ساتھ تم نے دیا

تعلقات ہی انسان کے یاد آتے ہیں

تعلقات ہی بعد فنا رلاتے ہیں

مرے سلوک مجھے یاد اب دلاتے ہیں

فریب صاف یہ دنیا کے رشتے ناتے ہیں

تعلقات کا  گر آدمی میں روگ نہ ہو

تو اس کے بعد زمانے میں اس کا سوگ نہ ہو

ان کی نظموں کا دوسرا مجموعہ ’کارِامروز‘ ہے، جس میں سیاسی، قومی ووطنی اور اہم شخصیات پرنظمیں شامل ہیں۔ سیاسی نظموں میں طلوع سیاست، جذب وسلوک، آزادی، بلراج کوہمارا مشورہ وغیرہ شامل ہیں۔ رسول کائنات، گاندھی، نظیر اکبرآبادی، غالب،داغ، محمدعلی، میر ناصر علی وغیرہ نظموں میں مختلف شخصیات سے سیماب کے تعلق و عقیدت کااظہار ہوتاہے۔ نظیروغالب میں شاعرانہ عظمت کے علاوہ وطنی نسبت پربھی فخریہ جذبات حاوی ہیں۔

سیماب نے سری کرشن اور گوتم بدھ سے متعلق نظموں میں تاریخی واقعات کو شعر کے لباس میں بیان کیا ہے۔ وہ سری کرشن کی عظمت اور ان کے صداقت ومحبت کے پیغام کا تذکرہ جوش وعقیدت سے کرتے ہیں۔ اس قسم کی تمام نظموں سے ان کی بے تعصبی ظاہر ہوتی ہے۔ زیر مطالعہ نظم کے علاوہ دوسرے مجموعوں کی نظموں ’وہ بانسری کہاں ہے‘، ’میرا خطاب سری کرشن کی قوم سے‘ میں بھی ان کا یہ رنگ نمایاں نظر آتا ہے۔ان کی شخصی نظموں کے متعلق نیاز فتح پوری لکھتے ہیں:

’’شخصی نظموں میں میرے نزدیک سب سے زیادہ بہتر نظم سری کرشن کے متعلق ہے اور اس کا سبب یہی ہے کہ مذہب میں سری کرشن ہی کی زندگی ایسی زندگی ہے جو شاعر کے احساساتِ حسن کو بیدار کرسکتی ہے۔ انھوں نے کائنات پر بھی نظمیں لکھی ہیں، لیکن ان میں وہ بات پیدا نہ ہوسکی۔‘‘  2

صبح محبت، نزول انسان اور انسانیت، اساس کائنات، امتحان شیخ وبرہمن، بھولے ہوئے فسانے اور اس طرح کی متعدد نظموں میں سیماب نے آپسی اتحاد وبھائی چارگی اور اخوت ومحبت کا پیغام دیاہے۔طلوع سیاست، ایک پیغام اہل عالم کے نام،بساط سیاست، انقلابِ روس، اے سرمایہ دارو، مشرق سے مغرب کو، اعلان جنگ، دعوت انقلاب    ؎

وطن پیارے وطن تیری محبت جزوِ ایماں ہے

تو جیسا ہے جو کچھ ہے سکون دل کا ساماں ہے

وطن میں مجھ کو جینا ہے وطن میں مجھ کو مرنا ہے

وطن پر زندگی کو ایک دن قربان کرنا ہے

وطن کی خاک سے اٹھا ہوں رنگیں پیرہن ہوکر

وطن کی خاک میں مل جاؤں گا خاک وطن ہوکر

اس کے علاوہ اس حصے کی متعدد نظمیں حسن و عشق اور محبت کے جذبات سے مملو ہیں تو بعض متفرق موضوعات پرخلق کی گئی ہیں۔ اس مجموعہ کا آخری حصہ سیماب نے اپنے وطن اکبرآباد (آگرہ) کی تاریخی حیثیت وعظمت اور سلاطین مغلیہ کی عمارتوں اور یادگاروں پر اظہار عقیدت و محبت کے لیے وقف کیاہے۔ اس حصہ کا عنوان ’ارض تاج‘ ہے۔ اس کے تحت درج ذیل نظمیں شامل کی گئی ہیں۔ تاج محل، قلعہ معلی، مسجدجامع، اعتمادالدولہ، چینی کا روضہ، آرام باغ، جمنا، سکندرہ، فتح پورسیکری، مزار اکبر، درۃ التاج،دیال باغ، جودہ بائی کا مندر، روضۂ ممتاز اور مقبرئہ نور جہاں، مولد غالب اور قصرالادب یعنی مولد سیماب اکبرآبادی۔ ان مقامات سے متعلق شاعر نے انتہائی محبت بھرے جذبات کا اظہار کیاہے۔ یہ سبھی آثار بجائے خود بہت بلندوبالاحیثیت کے حامل ہیں اور ان میں اپنے حسن بیان سے سیماب نے جو شیرینی اورچاشنی پیداکی ہے اس نے پڑھنے والوں کے لیے ان کے جمالیاتی حظ وکیفیت کو دوبالاکردیاہے، اپنے مکان قصرالادب پر سیماب کی نظم بڑی معنی خیز اور پُرکیف ہے۔ اس میں سیماب نے آگرہ کی تاریخی وادبی حیثیت کے پس منظرمیں اردو کے شعرا میرو غالب کے بعد خوداپنے وجودپر فخرکیاہے۔

تیسرے مجموعے ’سازوآہنگ‘ کوسیماب نے پانچ حصوں میں تقسیم کیاہے۔ پہلے حصہ میں نوائے عصر کے تحت قومیت، سیاست، وطنیت پرنظمیں لکھی ہیں۔ سیماب نظم ’قدم بڑھائے چلو‘میں اہل وطن کواس طرح آگے بڑھنے کی تلقین کرتے ہیں       ؎

ہوں لاکھ مشکلیں پیدا قدم بڑھانے  میں

فلک رہے تمھیں مصروف آزمانے میں

بلا سے برق کا مسکن ہو آشیانے میں

بلا سے زلزلے آتے رہیں زمانے میں

مگر ثبات میں لغزش نہ آنے پائے چلو

قدم بڑھائے چلو

حصہ دوم میں صلائے تہذیب کے تحت مذہب، اخلاق ومعاشرت پر نظمیں ہیں۔ اس کے علاوہ اذان ہمالہ، صبح آزادی کاگیت، ایشیا،ہندوستانی نوجوان، قومی ترانہ، دعوت انقلاب، نوحۂ وطن، ہندوستان وغیرہ سیماب کی سیاسی بصیرت اور نظریات کے ساتھ ساتھ قادرالکلامی کی مثالیں ہیں۔اس باب کی بیشتر نظمیں اپنے موضوعات کے اعتبار سے آج کاآئینہ لگتی ہیںمثلاً فرقہ پرست ایڈیٹر، عید اور بسنت، شب برأت، منزل، مزدور کا پیغام مشرقی مزدور کے نام وغیرہ۔حصہ سوم میں حدیث ادب کے تحت شعروحکمت پرنظمیں شامل ہیں۔ ان نظموں میں سیماب نے اپنے اعلیٰ وارفع خیالات کو فن کارانہ کمال کے ساتھ پیش کیاہے اوریہ ان کے تخلیقی ذہن و مزاج کی بھرپور ترجمانی کرتی ہیں۔اس باب کی نظمیں سیماب کی قادرالکلامی اور شاعرانہ عظمت کی غماز ہیں۔ مثلاً صبح بہار، اندیشہ، تصور، فرشتۂ محبت، نیلاناگنی، کمسن راہبہ سے وغیرہ۔ سیماب نے حصہ چہارم میں سرودِروح اور معتقدات جیسے عناوین کے تحت نظموں میں مذہبی شخصیات کاتذکرہ کیاہے جس میں ’ابن آذر‘، ’ابن عمران‘ اور ’ابن مریم‘ وغیرہ نظمیں شامل ہیں۔ سیماب نے ان نظموں میں مذکور شخصیات کے کردار اور مکارم اخلاق کو شاعرانہ اندا زمیں بہت خوبی سے پیش کیا ہے اور ان کے توسط سے شرک و بدعت جیسی برائیوں کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس حصہ کی دیگر اہم نظموں میں معراج النبی اورایک لمحۂ فکریہ، صبح حرم، شام کلیسا، میرا خطاب، سری کرشن، وہ بانسری کہاں ہے اور گرونانک وغیرہ ہیں۔ حصہ پنجم میں سیماب نے بچوں سے متعلق نظمیں پیش کی ہیں۔ یہ نظمیں بچوں کی ذہنی نشوونما کے لیے ان کی نفسیات کو مدنظررکھ کر لکھی گئی ہیں۔بچوں کی لیے نظمیں لکھتے ہوئے سیماب نے ان کے تصور،تخیل اورنفسیات کو بھی ملحوظ رکھا ہے۔ ان کی نظمیں ترنم، موسیقی اور غنائی کیفیات کی بھرپور ترجمانی کرتی ہیں۔ اس حصہ میں شامل دعا،خدا،بچوں کی دعا، خدا کاشکر کرو، جگنو اور بچہ، بلبل اور گلاب،برسات، سلیمہ کی بلی، وطن کی لگن، ماں کی لوری وغیرہ نظمیں قابل ذکر ہیں۔

سیماب کی نظموں کاچوتھا مجموعہ ’شعرانقلاب‘ ہے۔ اس کی اشاعت ہندوستان کی آزادی کے سال یعنی 1947میں ہوئی۔ سیماب کے کلام میں اس کی خاص اہمیت و انفرادیت ہے۔ اس میں ان کے فکر و فن کے متعلق ارتقائی بلندیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ ’شعرانقلاب‘ میں شاعر کی فکر میں مزیدبلندی اور شدت پیدا ہوگئی ہے۔ اس میں اس عہد کے مسائل پر سنجیدہ توجہ دیتے ہوئے سیماب نے سماج کی کمزوریوںپر سخت تنقید کی ہے۔ اہل وطن کی منفرد فکر کو ترک کرنے کی ترغیب دی ہے۔ دوسروں پر تنقید کے بجائے اپنی ذات و معاشرے کی اصلاح کی ضروریات پر زور دیاہے۔ مزید برآں سماج وسیاست کی خرابیوں و خامیوں کی نشان دہی کرتے ہوئے ان کی اصلاح وبہتری کی تجاویز بھی پیش کی ہیں۔ یہ پورا مجموعہ سیاسی اور انقلابی نظموں پرمشتمل ہے۔ اس مجموعہ کی کچھ نظمیں عالمگیر موضوعات پر ہیں، مثلاً دنیا کی حیات نو، کارواں کی پکار، ارض تاج سے ایک ضروری پیغام، ایک انتباہ، تم سے کہناہے، پھوٹ کا گیت، اے حجرہ نشینو، وحدت جشن عید، نمازعید، جاگ اے ہندوستاں، امیدیں اور ابھی قدم نہ روک وغیرہ۔

سیماب کی غزلوں کے مجموعے ’کلیم عجم‘ (1936)، ’سدرۃ المنتہیٰ‘ (1946) اور ’لوح محفوظ‘ (1979)  ہیں۔ ’کلیم عجم‘ کو ادبی حلقوں میں خاطرخواہ سراہا گیا۔سیماب کا یہ مجموعہ ادبی منظرنامے پر تازہ ہوا کے خوش گوار جھونکے کی طرح سامنے آیا۔ اس جلد میں غزلیات کے تین حصے ’صہبائے کہن‘، ’بادئہ دوشیں‘ اور ’نشید نو‘ شامل ہیں۔مجموعی طور پر سیماب نے اپنی غزلوں میں روایتی موضوعات کے ساتھ ساتھ سیاسی اور سماجی مسائل وموضوعات کو بھی داخل کیا، بہت سی جگہ روایت سے انحراف بھی کیااور اس صنف کوغیرضروری جکڑبندیوں سے آزاد کرکے نئی تحریکوں اور بدلتے ہوئے نظام سے متعلق موضوعات سے آشناکیا۔ سیماب نے ندرتِ خیال، جدتِ بیان اور شگفتہ طرزِ اداسے اپنی غزلوں کونئی آب وتاب بخشی۔

کلیم عجم‘ کے ابتدائی صفحات میں ’میرے شعری معتقدات‘ کے تحت خود سیماب نے اپنی شاعری کے بارے میں واضح اشارہ کیاہے:

’’...میں اب شاعری میں بلند خیالات اور بلند انسانی جذبات کی ترجمانی کا حامی ہوں۔ میںایسی شاعری میں فلسفہ، حقائق اور معارف کے نکات پسند کرتا ہوں۔ میں اس شاعری کا منکر ہوں جس کا موضوع صرف عورت یا اس کے متعلقات ہوں،یا جوا مرد پرستی کی نفسیات پر مشتمل ہو۔ میری شاعری کا موضوع حسن محض اور عشق محض ہے اور تمام ضمائر کا مرجع وہ ذات ہے جو حاصل حسن اور مرکزمحبت ہو۔ جس طرح علم شاعری کے لیے ضروری اور لازمی ہے اسی طرح محبت اور شاعری کو بھی میں لازم و ملزوم سمجھتا ہوں اور خیالات میں تصنع یا بناوٹ کا حامی نہیں۔ میں خیالات کو صداقت اور محبت پر مبنی دیکھنا چاہتا ہوں اور حقیقی واردات قلب کی ترجمانی میرا مسلک بیان ہے۔ گو مجھے تمام اصناف سخن پر فطرت نے قدرت دی ہے مگر میں نظم، غزل اور رباعی کو اظہار خیال کا بہترین ذریعہ سمجھتا ہوں۔ شعر کی الہامی حیثیت پر میرا ایمان ہے۔میں شعر میں بلند خیال کے ساتھ بلند الفاظ کا موید ہوں، ایسے الفاظ جن میں غرابت نہ ہو اور جنھیں تعلیم یافتہ اصحاب بہ آسانی سمجھ سکیں۔‘‘        3

سیماب اکبرآبادی کی غزلوں میں حسن وعشق، تصوف سے معمورخیالات،روحانی کیفیات، عصری حقائق،عصری پس منظر اور انفرادی کیفیت میں ڈوبے ہوئے ایسے اثرانگیز اشعار بھی موجودہیں جو جذبے کی صداقت سے ہم آہنگ ہوکر آفاقی حیثیت کے حامل بن گئے ہیں۔ سیماب کی غزلیہ شاعری میں بیان کی دل نشینی، اسلوب کی دل آویزی اور استعارے کے حسن وندرت کی مثالیں بھی موجودہیں۔ سیماب کے یہاں سیاسی فضاکا عکس بھی نمایاں ہے۔سدرۃ المنتہیٰ (1946)  اس کی واضح مثال ہے۔ صیاد،زنداں، سلاسل، آزادی، انقلاب اور ایسے ہی کئی موضوعات ان کے اس دیوان میں نمایاں ہیں۔سیماب نے جہاں اپنی غزلیہ شاعری میں حسن وعشق کے نکھرے ہوئے تصور کو پیش کرنے میں دلچسپی دکھائی تووہیں دوسری طرف ان کی عشقیہ شاعری کی پاکیزگی اور فکروخیال کی ندرت کااظہار بھی دکھائی دیتاہے۔زبان کے تخلیقی استعمال میں بھی انھوں نے نئی راہ نکالنے کی کوشش کی ہے۔ اس ضمن میں ان کے درج ذیل اشعار ملاحظہ کیجیے، جن میں اسلوب کی توانائی اور شعری نزاکتوں کاحسن نمایاں ہے       ؎

محبت میں اک ایسا وقت بھی آتاہے انساں پر

ستاروں کی چمک سے چوٹ لگتی ہے رگِ جاں پر

کہانی میری روداد جہاں معلوم ہوتی ہے

جوسنتا ہے اسی کی داستاں معلوم ہوتی ہے

کہانی ہے  تواتنی ہے فریب خواب ہستی کی

کہ آنکھیں بندہوں اور آدمی افسانہ ہوجائے

ادب آموز تھی پاکیزگیِ نیت عشق

بے وضو میں نے کبھی ذکر تمہارانہ کیا

تسکین ومحبت کے یہ دوہی طریقے تھے

یاتم نہ  بنے ہوتے  یا  دل  نہ بنا  ہوتا

قطرہ دریا ہے اگر شامل دریا ہوجائے

ذرہ اس بھید کو پاجائے تو صحرا ہوجائے

سیماب اکبرآبادی نے گرچہ بہت طویل زندگی نہیں پائی لیکن سفر حیات میں جہاں انھیں سکون کے لمحات میسر آئے تووہیں مصائب و مشکلات کے شعلوں نے ہرلمحہ انھیں آزمائشوں میں بھی مبتلارکھا۔ تقسیم ہند کے بعد کی اذیتوں کا انھوں نے براہ راست مشاہدہ کیا،جوان کے دیوان’لوح محفوظ’میں دیکھنے کو ملتا ہے۔اس مجموعے میں 1945سے 1951تک کی غزلیں شامل ہیں۔ ’لوح محفوظ‘کی غزلوں میں جہاں پختگی، شائستگی اور سلیقہ کا اظہار ملتاہے تو وہیں دوسری طرف زبان اور تراکیب کے تجربات بھی ملتے ہیں۔ ان میں ایک طرف تقسیم ہند کا غم جھلکتاہے تو دوسری طرف ہجرت کا کرب۔ بہرحال ان کی ہنرمندانہ پیش کش سیماب کی انفرادیت ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔

جب ہم رباعیات سیماب کامطالعہ کرتے ہیںتو ہمیں اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ جہاں ایک طرف سیماب نے اپنی رباعیوں میں عصری زندگی کی پیچیدگیوں، ناہمواریوں اورپریشانیوں کوبیان کیا ہے تو دوسری طرف سیماب نے اپنی رباعیوں میں مذہب،سیاست، جمہوریت، جنگ کی صورت حال، وطن پرستی، ہندوستان پر غیروں کے ظلم وجبر، مغربی تہذیب کی تباہ کاریوں، مسلکی اختلافات سبھی پراظہار خیال کیاہے۔ خصوصاً دوسری عالمی جنگ کے سبب جس طرح کاانتشار، بدامنی اور غیرمحفوظ زندگی کی کیفیت پیداہوگئی تھی، وہ ان کی رباعیات میں نمایاں ہیں۔ سیماب کی رباعیات کا مجموعہ ’عالم آشوب‘ فنی بلندی کے مقابلے میں تاریخی حیثیت زیادہ رکھتا ہے۔ اس مجموعہ میں انھوںنے مئی 1940سے دسمبر1943تک کے سارے حالات بالترتیب قلم بند کیے ہیں۔ اس مجموعہ میں انھوںنے دوسری جنگ عظیم کے وقت کے سیاسی حالات پر اپنے ردعمل کااظہار کیاہے۔ عالمی جنگ کے زمانے میں سیماب اکبرآبادی کی نظر محض جنگ کے حالات پر ہی مرکوز نہیں تھی بلکہ ان کی دوربیں نگاہ حالات کے دیگر پہلوؤں پر بھی تھی۔ اس زوال آمادہ دور میں انھیں سیاست، مذہب سب مجہول دکھائی دیتے ہیں۔ انھیں مغرب کے حکمرانوں کی دورنگی چالوں کا بھی ادراک ہے جو ظاہرداری کے لیے امن و صلح کی باتیں کرتے ہیں اور پھر انھیں کی سازش کے تحت عالمی جنگ برپا ہوئی جس کے نتیجے میں غریب اورمحکوم اقوام وممالک کو سنگین خمیازہ بھگتناپڑا۔بطور مثال سیماب کی دو رباعیاں ملاحظہ ہوں         ؎

تہذیب و سکوں کا ہو وہ منظر پیدا

انسان دل انساں میں کرے گھر پیدا

کر دو انسانیت کو اس درجہ بلند

پھر نہ  ہو سکے جہاں میں  ہٹلر  پیدا

——

معموروں کو ویران کیے جاتے ہیں

تخریب کے سامان کیے جاتے ہیں

اوروں کے زیاں کی دھن میں افراد وطن

خوداپنا ہی نقصان کیے جاتے ہیں

سیماب کی رباعیوں کے سلسلے میں مخمور اکبرآبادی لکھتے ہیں:

’’سیماب صاحب کی رباعیوں کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ اس مجموعہ میں انھوں نے فلسفے کے بجائے سیاست حاضرہ کو موضوع بنایا۔ جوش کی رباعیوں میں مذہب اور سماج پرطنز ہے تو سیماب نے اس پیکر میں حوادث کے دوش بدوش اکثر کرداروں کی جھلک بھی دکھائی ہے۔ یہ ایک خوش آئند انحراف اور ایک مفید اضافہ ہے۔ سیماب کی رباعیات بلندیِ فکر اور عمیق نظری کا اعلیٰ نمونہ ہیں... ماہ بہ ماہ ترتیب کے التزام سے اس مجموعہ میں ایک تاریخی تسلسل بھی پیدا ہوگیا ہے‘‘4

نظم جدید کے آغاز کے بعدجدیدتقاضوں کے تحت اردو کی جن دوسری شعری اصناف میں تبدیلیاں واقع ہوئی تھیں، ان میں مراثی اور سلام بھی شامل تھے۔ سیماب نے مرثیوں اور سلاموںکوعہدحاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرکے ان کے موضوعات واسالیب میں بھی تنوع پیداکیا اوراپنی شاعرانہ مہارت اورفنی پختگی کاثبوت دیتے ہوئے عزائی شاعری پر مشتمل دومجموعے ’سرودِ غم‘ اور ’نفیرغم‘ 1943میں شائع کیے۔ ان مجموعوں میں مذہبی عقیدت مندی اور جذباتیت کے اظہار کے ساتھ ساتھ فن کو کہیں بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔یہ مرثیے اورسلام سیماب کے مجموعوں کی اشاعت کے بعد کے سبھی شعرا کے لیے رہنما ثابت ہوئے اوربعد کا کوئی شاعر ان کے اثرات سے دست برداری کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔ اس لحاظ سے سیماب کی عزائی شاعری اردو ادب میں بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔

 سیماب کے منظوم تراجم ’وحی منظوم‘ اور ’الہامِ منظوم‘ پر مشتمل ہیں۔ اول الذکر میں سیماب نے قرآن پاک کا منظوم ترجمہ کیاہے اور ہر آیت کو انھوںنے شعر کے قالب میں ڈھال دیا ہے، جس سے واضح طورپران کی عربی دانی اور قرآن پاک سے شغف کا ثبوت فراہم ہوتا ہے۔ علامہ سیماب نے ’وحی منظوم‘ میں جہاں ترجمے کے تمام اصول وضوابط کو ملحوظ رکھاہے، وہیں ترجمہ کرتے وقت شاعری کے رموز و نکات سے بھی انحراف نہیں کیاہے۔ انھوںنے یہ ترجمہ اس احتیاط اور ذمہ داری کے ساتھ کیاہے کہ قرآنی متن کے تمام تقاضے پورے ہوں اور ساتھ ہی یہ بات بھی یقینی بنائی کہ شعریت میں کوئی کمی محسوس نہ ہو۔انھوںنے پورے 30پاروں کاترجمہ ایک ہی بحرمیں کیاہے۔ ترجمہ کی خاطر زائد الفاظ کو قوسین میں جگہ دی اور جہاں کہیں ضرورت پڑی پورے مصرعے کو قوسین میں درج کیاہے۔ سیماب کے اس ترجمے کی ایک بڑی خصوصیت، سلاست،روانی اور اختصار وجامعیت ہے۔ یہ صفات قرآن پاک کے دیگر منظوم تراجم میں عموماً کم دیکھنے میں آتی ہیں۔

قرآن پاک کے ترجمہ ’وحی منظوم‘ کے علاوہ سیماب نے مشہور مفکراور فارسی کے عظیم شاعر مولانا جلال الدین رومی کی معرکۃ الآر تخلیق ’مثنوی معنوی‘ یا ’مثنوی مولاناروم‘ کے چھ حصوںکا منظوم ترجمہ بڑی فن کارانہ مہارت کے ساتھ کیا۔سیماب کی اس کاوش سے متعلق مولانا محی الدین قائد رقم طراز ہیں:

’’لاہور کے زمانۂ قیام میں سیماب نے ایک ایسا کارعظیم انجام دیا ہے جسے اب تک عہد حاضر کا کوئی شاعر مکمل نہ کرسکا تھا۔ وہ کارِعظیم مثنوی مولانا روم کا منظوم اردو ترجمہ ہے۔ سیماب نے اپنی زندگی میں جہاں اور بہت سے کارِنمایاں کیے ہیں ان میں سب سے افضل کارنامہ یہی ہے جسے قیامت تک دنیا فراموش نہ کرسکے گی۔‘‘5

سیماب نے ترجمہ ’الہام منظوم‘ نہایت متانت اور سنجیدگی کے ساتھ کیا اور الہامی افکار کو اس خوبی سے اردو نظم کے قالب میں ڈھالا ہے کہ کلام میں فنی نادرہ کاری کا اپناالگ امتیاز قائم ہوگیا ہے۔ اردو میںصحت زبان کے ساتھ ساتھ صحت مفہوم کوواضح طورپر ادا کرنے کی کوشش سیماب نے نہایت کامیابی کے ساتھ کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ منظوم ترجمہ محض ترجمہ نہیں رہ جاتا بلکہ ایک ایسی شاہکار تخلیق کے روپ میں ڈھل جاتاہے، جس میں بلاکی شعریت، معنویت اورکشش نظر آتی ہے۔ یہی باتیں سیماب کے ترجمے کو دیگر تراجم کے مقابلے ممتاز بناتی ہیں۔ یہ شعری کارنامہ ان کی شاعرانہ عظمت اورکلاسیکی فارسی ادب پرگہری نظر اور فارسی زبان پر مہارت کا واضح ثبوت ہے۔

مجموعی اعتبار سے ان کے شعری سروکار کا جائزہ لینے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ سیماب کو زبان وبیان میں پوری قدرت حاصل ہے سیماب اکبرآبادی کا کلام سوزوگداز کا حامل ہے۔ ان کے یہاں بیشتر اشعار متوازن اور صحت مندانہ روایات کے آئینہ دار ہیں، ان میں سوقیانہ پن اور ابتذال نہیں۔ سیماب نے جہاں اپنی نظموں میں اخلاقی مضامین پیش کیے ہیں جن کے مطالعے سے انسانی تہذیب،جذبۂ ایثار، حب الوطنی، نیک خیالی، حصول آزادی کے نعرے، ملک کو بہتر بنانے کا احساس، مزدوروں کی حالت پر تاسف اور ان کی اصلاح،مختلف سیاسی تحریکوں کا ارتقا، قوم کو سنوارنے کی تمنا وغیرہ دیکھنے کو ملتے ہیں تو وہیںسیماب نے متفرق عنوانات زندگی کو اپنی غزلوں کے ذریعہ عوام تک سلجھے ہوئے انداز میں پہنچانے کی کامیاب سعی کی ہے۔

ٌٌٌحواشی

1        خطبات کلیم عجم،سیماب اکبرآبادی،سیماب اکادمی، کراچی پاکستان،1985   ص 128

2        سیماب کی نظمیہ شاعری،ڈاکٹر زرینہ ثانی،سیماب اکادمی،1978ص73-74

3        خطبات کلیم عجم،سیماب اکبرآبادی،سیماب اکادمی، کراچی پاکستان،1985  ص 161

4        عالم آشوب، سیماب اکبرآبادی(پیش لفظ، مخمور اکبر آبادی)مکتبہ قصرالادب،آگرہ  ص۔س

5        شاعر، آگرہ، اسکول نمبر، 1937، ص90


Dr. Muqeem Ahmad

I-23, Abul Fazal Enclave

Jamia Nagar, Okhla

New Delhi- 110025

Mob.: 9999555676

moqeemjnu@gmail.com


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تازہ اشاعت

ابواللیث جاوید کے افسانوں کے امتیازات،مضمون نگار:آصف سلیم

  اردو دنیا،اکتوبر 2025 معاصر افسانوی منظرنامے میں ابواللیث جاوید منفرد اور جداگانہ طرزِ تحریر کی بدولت ایک الگ شناخت رکھتے ہیں۔ 1970 کے قری...