9/1/26

دارا شکوہ کی فارسی شاعری:ایک جائزہ،مضمون نگار: محمد شہباز

 اردو دنیا،اکتوبر 2025

مغل شہزادہ داراشکوہ نہ صرف صوفیائے کرام سے عقیدت رکھتا تھا بلکہ وہ خود بھی ایک شاعر، محقق اور صوفی تھا۔ وہ اہل علم، یوگیوں اور درویشوں کی صحبت کو عزیز رکھتا تھا اور ان سے اکتساب فیض بھی کرتا تھا۔ دارا شکوہ ایک باذوق شاعر تھا اور شاعری میں قادری تخلص کرتا تھا۔

 دارا شکوہ کا موجودہ دیوان ’اکسیر اعظم‘ یا ’دیوان قادری‘ کے نام سے جانا جاتا ہے جو تقریباً 216 غزلوں اور 148 رباعیات پر مشتمل ہے۔ یہ پورا کا پورا منظوم کلام صوفیانہ رنگ میں ڈوبا ہوا ہے۔ ان کی بیشتر غزلیں دین اسلام سے گہری وابستگی، کا مظہر ہیں۔ ان کے کلام میں عرفان و تصوف کے مضامین کے ساتھ ساتھ اخلاقیات کے عناصر بھی نمایاں نظر آتے ہیں۔ دارا شکوہ کی پوری شاعری تصوف اور فلسفے کے ارد گرد گردش کرتی ہوئی نظر آتی ہے، چونکہ عام لوگوں کے لیے تصوف اور فلسفے جیسے خشک مضامین میں لطافت پیدا کرنا ایک دشوار کن عمل ہے۔ اسی وجہ سے داراشکوہ کی شاعری کو عام مقبولیت حاصل نہ ہو سکی جس پر خود دارا نے افسوس کا اظہارکچھ اس طرح کیا ہے        ؎

ہزار بیت وغزل گفت قادری در عشق

ولی چہ سود کسی متنبہ نمی گردد

یعنی ہزاروں شعر اور غزلیں قادری نے عشق میں کہیں ہیں لیکن کیا فائدہ کوئی اس پر دھیان ہی نہیں دیتا ۔

دارا کی شاعری کا اگر بالاستیعاب مطالعہ کیا جائے تو اس کی پوری شاعری وحدت الوجود اور وحدت الشہود کے محور پر گردش کرتی  ہے۔یہ وحدت الوجود اور وحدت الشہود کیا ہے۔ وحدت الوجود اور وحدت الشہود تصوف کا ایک فلسفیانہ اور نظریاتی مسئلہ ہے۔

اسی طرح دارا شکوہ قادری نے ہندوستان کی تہذیب و ثقافت، تنوع، مذاہب اور فرقوں کی بنیاد پر ہندوستان کو پوری دنیا میں متعارف کرانے کے لیے ہندو مذہب اور اسلام کے بنیادی عقائد و نظریات کو یکجا کرنے کی کوششیں کیں جو اس وقت کے لوگوں کو عموماً برداشت نہیں ہوئیں۔ اسی تناظر میں دارا شکوہ کو قتل کر دیا گیا۔ یہ حقیقت بھی سب پر عیاں ہے کہ شاہ جہاں کا سب سے پیارا ولی عہد چونکہ سیاست سے کوئی سروکار نہیں رکھتا تھا اور مذاہب، فلسفہ، ہندومت اور اسلام کے مشترکات میں زیادہ دلچسپی رکھتا تھا اور وقت کے ہاتھوں بے بس اور مجبور تھا۔ اسی بے بسی اور مجبوری کا اظہار اور لوگوں کے طعن و تشنیع کا اقرار دارا شکوہ نے اپنی شاعری میں بھی کیا ہے       ؎

تو  نہ پرسی بیش ز بدنامی

فارغ از طعن خاص و عام منم

ای تو در  ریش و دستاری

جستہ از بند ھای دام منم

تا جہان است باد میخانہ

کہ دعا گوی صبح و شام منم

یعنی تم میری بدنامی کے بارے میں زیادہ مت پو چھو، میں خاص و عام کے طعن و تشنیع سے بیگانہ ہو چکا ہوں، اے میرے خلاف بولنے والے انسان تو ریش اور دستار کی بندش میں جکڑا ہوا ہے،میرے جال کی بندشوں سے چھٹکارا پاجا۔جب تک دنیا باقی ہے،میرا میخانہ اسی طرح آباد رہے،کیونکہ صبح و شام میری یہی دعا ہے۔

اسی درد و کرب کا اظہار ان کے دوسرے اشعار میں بھی ملتاہے          ؎

پیر میخانہ داد حکم سماع

زاہدان را دگر ز ما ست وداع

مومن وکافرم نہ کرد قبول

شد بکفر حقیقتم اجماع

یعنی  جیسے ہی میخانہ کے پیر نے سماع کا حکم دیا، سارے زاہد حضرات مجھ سے دور ہو گئے۔ مجھے (میری باتوں کو) کافر اور مومن کسی نے بھی قبول نہیں کیا اور میری حقیقت پر کفر کا اجماع ہو گیا۔

دارا شکوہ  نے بنارس میں سنسکرت سیکھی اور اس زبان کو سیکھ کر ہندو مذہب، ہندو فلسفہ کو سمجھنے کی کوشش کی اور اس کا اسلامی فکر، اسلامی فلسفہ اور اسلامی تصوف سے موازنہ کرکے سنسکرت کی بہترین کتابوں کو سمجھا تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ ہندو مذہب اور اسلام اتنے متضاد نہیں ہیں کہ دونوں کے ماننے والے ایک دوسرے کو  دشمن سمجھیں۔ 

دارا شکوہ کا رجحان تصوف اورعرفان کی طرف بہت زیادہ تھا لیکن دارا شکوہ کا تصوف اس لحاظ سے منفرد تھا کہ وہ ایک بہت ہی عالم اور دانشور ہونے کے ساتھ ساتھ ہندو مت کی مقدس کتابوں کے مطالعہ میں بھی مگن تھا۔ اس نے دونوں مذاہب کے تقابلی مطالعہ کے ذریعے ان دونوں مذاہب کے درمیان اشتراکات نکالنے کی کوششیں کیں تاکہ ہندو اور مسلم سماج کے درمیان نفرتیں اور  باہمی اختلافات اور تنازعات ختم ہو جائیں۔ اس کے  نتیجہ میں دارا شکوہ نے  اپنی عزیز و اقارب کی طرف سے بھی بہت سے ظلم و ستم برداشت کیے، جن کا شکوہ اپنی ایک غزل میں کچھ اس طرح کیا ہے        ؎

ندیدم  از جہان  از کس وفائی

وفا کردم بدل دیدم جفائی

یعنی  میں نے دنیا میں کسی سے وفا نہیں دیکھی، اگر وفا کی بھی تو اس کے بدلے میں جفا ہی ملی        ؎

شدم بیمار جز حق کس نہ پرسید

سوای حق ندارم آشنائی

یعنی میں بیمار ہوا تو حق تعالی کے علاوہ کسی نے بھی  حال نہیں پوچھا، میں حق تعالی کے علاوہ کسی سے آشنائی بھی نہیں رکھتا۔

مرا این اقربا مارند و عقرب

بود لطف تو زخمم را دوائی

یعنی میرے یہ عزیز و اقارب سانپ اور بچھو کی طرح ہیں۔ اے خدا تیرے ہی لطف وکرم میرے زخموں کی دوا ہیں۔

ندیدم من ز غیر تو توقع

نگیرم بہ اگر جویم سوائی

یعنی میں نے تیرے علاوہ کسی سے امید اور توقع نہیں رکھی، اگر میں تلاش بھی کروں تو تجھ سے بہتر نہیں  پاؤں گا۔

شفای دل اگر خواہی ز حق خواہ

تو ہم ای قادری داری خدائی

یعنی اگر دل کی شفا چاہتے ہو تو حق تعالی سے طلب کرو، کیونکہ اے قادری تم بھی  خدا پر یقین رکھتے ہو۔

داراشکوہ  اپنے پیر و مرشد ملا شاہ بدخشی سے والہانہ عقیدت اور صوفیا ئے کرام سے سچی محبت رکھتے تھے جس کی جھلکیاں ان کی شاعری میں جابجا نظر آتی ہیں۔ اپنی ایک غزل میں خواجہ خواجگان حضرت بہاؤالدین نقشبندی کا، جو سلسلہ نقشبندیہ کے بانی تھے ،کچھ اس طرح ذکر کرتے ہیں         ؎

قطب دین و دنیا بہاؤالدین

 نقشبند یقین بہاؤالدین

یعنی بہاؤالدین دین اور دنیا کے قطب ہیں اور بہاؤالدین نقشبندیہ میں یقین رکھے تھے        ؎

قادری ہر کہ دامنش بگرفت

 داد خلد برین  بہاؤالدین

 یعنی قادری جس کسی نے بھی ان کے دامن کو پکڑ لیا، بہاؤالدین کے ساتھ وہ خلد بریں میں چلا گیا۔

اسی طرح اپنے پیر و مرشد ملا شاہ بدخشی کے بارے میں کہتے ہیں۔

 چون خدا وصاحب پیرہست

 کعبہ من حضرت کشمیرہست

یعنی جب خدا اور خدا والے یعنی ملا شاہ بدخشی میرے پیر و مرشد ہیں تومیرا کعبہ حضرت کشمیر ہے۔

 شاہ را چون قادری محکم گرفت

 ہر کہ را دیدار حق تقدیر ہست

 یعنی ملا شاہ کو جب قادری نے مضبوطی سے تھام لیا تو دیدار حق اس کی تقدیر کا جز بن گیا۔

رہی بات دارا شکوہ کی فارسی رباعیات کی تو ان کی رباعیات میں زیادہ تر وہی مضامین و مطالب ہیں جو ان کی غزلوں میں ملتے ہیں جیسے: وحدت الوجود، معرفت الٰہی، عشق حقیقی، جام، پیمانہ، میخانہ، صراحی اور ساقی وغیرہ۔ بقول پروفیسر عراق رضا زیدیـ:

ــــ’’دارہ شکوہ کی رباعیات میں وہ تمام خوبیاں موجود ہیں جو روایت میں ابو سعید ابو الخیر، عمر خیام، سعدی، عطار اور مولانا روم سے اس تک پہنچی تھیں‘‘

 داراشکوہ کی رباعیات کے چند نمونے درج ذیل ہیں         ؎

جز یار ندید چشم مست عارف

اغیار بہ سرو جان  الست عارف

در حرف زدن اگرچہ گوید من و تو

توحید کجا  رود  ز دست عارف

یعنی  عارف کی مست نگاہوں نے محبوب کے علاوہ کسی کو نہیں دیکھا،اغیار پورے انہماک کے ساتھ عارف کے الست کے تعاقب میں لگے پڑے ہیں۔

بولنے میں اگرچہ وہ 'من و تو 'کے الفاظ استعمال کرتا ہے،لیکن حقیقت میں توحید عارف کے ہاتھ سے کہاں چھوٹتی ہے۔

در عین فنای خود بقا را دیدم

بیمار شدم تا دوا  ر ا  دیدم

از ما چو خدا جدا نبودہ ہرگز

در آئینہ خویش خدا را دیدم

یعنی  میںنے  عین فنا کے عالم میں بقا کو دیکھا، اس سے پہلے کہ دوا  دیکھوں بیمار ہو گیا۔جس طرح سے خدا کی ذات ہم سے ہرگز جدا نہیں ہو سکتی،اسی طرح میں نے اپنے آئینے میں خدا کو دیکھا       ؎

مجنون کہ روان شدی ز چشمش میلی

غیر از لیلی بکس نبودش میلی

پرسید ازو کسی کہ شب بہ یا روز

گفتا  ز ہزار روز بہتر لیلیٰ

یعنی  مجنوں جو اپنی اشکبار آنکھوں کی وجہ سے(لیلیٰ کے فراق میں) دیوانہ ہوگیا تھا۔لیلی کے علاوہ اور کوئی اس کی دیوانگی کا سبب نہ تھا۔ کسی نے اس (مجنون) سے پوچھا کہ رات بہتر ہے یا دن،تو اس نے کہا:ہزار دنوں سے بہتر ایک رات ہے۔

بہرحال دارہ شکوہ  ایک قادر الکلام شاعر، بلند پایہ مصنف اور صوفی مزاج انسان ہے۔ دارا شکوہ اپنے نام کی طرح دارای  شکوہ یعنی عظمت و افتخار رکھنے والی ایک منفرد اور جداگانہ شخصیت کا حامل تھا۔ اس کے کلام میں لطافت، حلاوت اور شیرینی کے ساتھ ساتھ ذکاوت اور ذہانت کے نمونے بھی بدرجہ اتم نظر آتے ہیں۔ عرفان و تصوف میں مستغرق ہونے کی وجہ سے ان کی شاعری میں صوفیانہ رنگ جابجا دکھائی پڑتا ہے۔  اسی طرح ان کی تصانیف سفینۃ الاولیا،سکینۃ الاولیاء، حسنات العارفین، رسالہ حق نما، سر اکبر اور مجمع البحرین صوفیانہ مضامین کا سرچشمہ، صلح کل اور گنگا جمنی تہذیب کی علمبردار نظر آتی ہیں۔

 

Dr. Mohd Shahbaz

Gali Meer Afzal, Lal Kuan

Delhi- 110006

Mob.: 9389830542

shahbazmisbahi11@gmail.com


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تازہ اشاعت

ابواللیث جاوید کے افسانوں کے امتیازات،مضمون نگار:آصف سلیم

  اردو دنیا،اکتوبر 2025 معاصر افسانوی منظرنامے میں ابواللیث جاوید منفرد اور جداگانہ طرزِ تحریر کی بدولت ایک الگ شناخت رکھتے ہیں۔ 1970 کے قری...