اردو دنیا،اکتوبر 2025
قبل
از یں کہ داراشکوہ کے فارسی دیوان اور اس کی شاعری پر کسی قسم کی کوئی گفتگو کی
جائے۔مختصر الفاظ میں اس کے حالات زندگی
اور ادبی خدمات پر ایک سرسری نظر ڈالنی ضروری ہے،جس کی روشنی میں اس کے
شاعرانہ افکار کی اور بہتر طرز پر ادراک و تفہیم ہو سکے۔
سوانح
: مغل شہنشاہ شہاب الدین خرم ملقب بہ شاہ جہاں اور ملکۂ ہندوستان ممتاز محل کا
فرزند ارجمندشہزادۂ بلند اقبال داراشکوہ، 20 مارچ 1615کو شہر اجمیر میں پیدا ہوا۔
اس کے بچپن کے حالات کے متعلق تفصیلی معلومات تو نہیں ملتیںالبتہ اتنا ضرور پتہ ہے
کہ جب اس کی عمر بارہ سال تھی تو اس کے والد شاہ جہاں نے اپنے باپ جہانگیر کے خلاف
بغاوت کردی تھی مگر ناکام ہوگیا۔ جس کے نتیجہ میں اس کے دادا (جہانگیر) نے سزاکے
طور پر اس کے تینوں بیٹوں کو جن میں وہ بھی شامل تھا، اپنی تحویل میں دینے کی شرط
رکھی، پس چاروناچار شاہجہاں کو اپنے باپ کی یہ شرط ماننی پڑی۔داراشکوہ کولاہور کے
قلعہ میں نظر بند کردیا گیا۔وہاں اس کی دیکھ بھال اس کی دادی نور جہاں نے کی۔مذکورہ
قلعہ میں وہ دو سال تک نظر بند رہا اور جب شاہ جہان بادشاہ ہوا، تب وہ آگرہ واپس
آیااور اس کی تعلیم و تربیت کا سلسلہ شروع ہوا۔
اس کے استادوں میں عبد اللطیف سلطان پوری جو فقہ حنفی کے جید عالم دین تھے
اور اور شیخ احمد دہلوی کے نام سرفہرست ہیں۔مذکورہ شہزادے کو خطاطی و خوشنویسی سے
غیر معمولی شغف تھا اور اس فن میں اس کے استاد ملا عبد الرشید خوشنویس تھے۔جو اپنے
زمانے کے ایک ماہر فن استاد تسلیم کیے جاتے تھے۔
داراشکوہ
کی شادی اس کی ماں ممتاز محل کی مرضی سے اس کے ماموں کی بیٹی’نادرہ بیگم بنت سلطان
پرویز‘ سے ہوئی تھی اور اس کے بطن سے چار
لڑکے اور دو لڑکیاں ہوئیں۔
خوشنویسی
کے علاوہ داراشکوہ دیگر علوم و فنون مثلاً شعر وادب،فلسفہ،مختلف زبانوں اور ہنروں
سے بھی بے حد دلچسپی رکھتا تھا۔ وہ تعلیم کے علاوہ اپنا وقت علما و فضلا اور صوفیا
وغیرہ کی صحبت میں گذارتا تھا۔ وہ 1055ھ مطابق ؍1646
میں’ملاشاہ بدخشی‘ کا مرید ہوگیا اور پھر اس کے بعد ان دونوں کے درمیان ملاقاتوں
اور تبادلہ خیال کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا۔اوراس طرح وہ ’قادریہ سلسلہ‘سے وابستہ ہوگیا۔
دارا
شکوہ صوفیا اور دیگر مذاہب کے پیشواؤں مثلاً عیسائیوں، یہودیوں،ہندوؤں، برہمنوں
اورجوگیوں وغیرہ سے مراسم رکھتا تھا اور اپنے زمانہ سے الگ خیالات رکھنے کی وجہ سے
داراشکوہ پر کفر و الحاد کا الزام لگایا گیا اور اس کے بھائیوں نے اس کی مخالفت
شروع کردی۔ ان کی یہ مخالفت،نفرت میں تبدیل ہونے لگی۔تخت و تاراج کے لیے داراشکوہ
اور اورنگ زیب کے درمیان جو کشمکش تھی، بالآخروہ ایک جنگ پر منتج ہوئی۔ 1069ھ مطابق؍
1659 میں جوجنگ اس کی اورنگ زیب کے ساتھ ہوئی، اس میں وہ ہار گیا۔اس نے ایران میں
پناہ لینے کا منصوبہ بنا یا مگر بدقسمتی سے اس سے پہلے کہ وہ ایران پہنچتا،گرفتار
کرلیا گیا اور اورنگ زیب کے حکم سے 30 اگست1659 میں قتل کردیا گیا۔
(دیوان دارا شکوہ، ص19-25)
تصانیف
و افکار: ملا شاہ کی صحبت میں داراشکوہ کا
رجحان تصوف و فلسفہ کی طرف زیادہ ہوگیا اور وہ اپنا زیادہ تر وقت ایسی فلسفیانہ
کتابوں کے مطالعہ میں صرف کرنے لگا جن میں تصوف اسلامی اور ویدانت کے مختلف مسائل
سے بحث ہوئی۔ اسی دوران مختلف خیالات کے درویشوں، صوفیوں اور رشیوں سے اس کی مسلسل
اور طویل ملاقاتیں ہوتیں رہیں اور ان آزاد خیال لوگوں سے ان مسائل پر گفتگو ہوئی۔
اس زمانے کے بڑے بڑے آزاد صوفیا مثلاً ’سرمد‘، ’شیخ صوفی‘،’شاہ محب اللہ الہ
آباد ی‘ اور’ بابا لال‘ وغیرہ نے شہزادے کے مذہبی خیالات پر گہرا اثر ڈالا۔
چنانچہ اس کے بعد کی تصانیف مثلاً ’رسالۂ حق نما‘، ’حسنات العارفین‘ اور’مجمع
البحرین‘ میں وہ اپنے متضاد بیانات کو نبھانے کی کوشش کرتا ہے اور اپنے دلائل کی
تائید میں زمانہ گذشتہ کے دوسرے مشہور صوفیا سے منسوب اپنے عقائد کی تائید میں
قوال پیش کرتا ہے۔ اسی طرح ’مجمع البحرین‘ کی تصنیف کا مقصد اس بات کی تلقین کرنا
ہے کہ ہندو فقراء سے مل کر اور ان سے مذکورہ مضامین پر بحث و مباحثہ کرکے اس بات
کا انکشاف ہوتا ہے کہ اسلام اور ہندو مذہب میں محض فروعی مسائل کا فرق ہے ورنہ حقیقت
میں دونوں مذاہب کی روح اور ان کا منشا ایک ہی ہے۔ چنانچہ اس کتاب کے ذریعہ
داراشکوہ، تصوف اسلامی اور ویدانت کو قریب
لانے کی کوشش کرتاہے۔شہزادے کے ’میر منشی چندر بھان برہمن‘ نے اس سلسلہ کی مشہور
کتاب’ سوال و جواب داراشکوہ و بابا لال‘ مرتب کی۔دارا شکوہ نے خود بعض پنڈتوں کی
مدد سے’اپنشد‘ کا فارسی میںترجمہ کیا اور اس کو ’سر اکبر‘ یا’سرالاسرار ‘ کے نام
سے موسوم کیا۔
(دیوان دارا شکوہ ص34-42)
شعرا کی سرپرستی : مغل
بادشاہوں اور شہزادوں کی طرح دارا شکوہ نے بھی شعرا کی سرپرستی کے فرائض انجام دیے۔
ان شاعروں کی صحیح تعداد بتا پانا تو مشکل ہے جن کی وہ سرپرستی کیا کرتا تھا۔البتہ
’مراۃ الخیال‘ کے مصنف نے لکھا ہے کہ ان تمام شعرا میں ’مرزا دانش ‘(المتوفی 1076ھ؍1665)
اس کا پسندیدہ ترین شاعر تھا۔ داراشکوہ نے اس کو مندرجہ ذیل غزل کے عوض ایک لاکھ
روپیہ کی رقم انعام میں دی تھی ؎
موسم
آن شد کہ ابر ی تر چمن پرور شود
نکہت
گل مایۂ شور جنون در سر شود
تاک
را سیراب سازد ابر نیسان در بہار
قطرۂ
تامئی تواند شد چرا گوہر شود
نالہ
بلبل نہان در پردۂ برگ گل است
بید
ما خم کاش از این یک پردہ نازک ترشود
ما
بہ ذوق گریۂ ہستی در این بزم آمدیم
مئی
بدہ ساقی بقدری آن کہ چشم تر شود
راز
پوشیدن نیامد دانش از بیتاب عشق
درمیان
انجمن پروانہ خاکستر شود
ترجمہ:
’’اب
وہ موسم آ گیا ہے کہ نم دار بادل چمن کو نمو بخشے،اور گل کی خوشبو، جنون انگیز
جوش و خروش کا سبب بن جائے۔
بہار
میں نیسان کا بادل اگر تاک کو سیراب کر دے،تو وہ قطرہ شراب بن سکتا ہے، پھر گوہر کیوں
بنے؟
بلبل
کا نالہ گل کی پتی کے پردے میں چھپا ہوا ہے،کاش ہماری شاخِ بید اس نازک پردے سے بھی
زیادہ نرم ہو جائے۔
ہم
اس محفل میں زندگی کے گریہ کے ذوق کے ساتھ آئے ہیں،اے ساقی! شراب اتنی دے کہ
آنکھیں نمناک ہو جائیں۔
عشق
کی بے تابی نے دانش کو راز چھپانا سکھایا ہی نہیں،کہ وہ پروانہ جو محفل میں آتا
ہے، راکھ بن کر رہ جاتا ہے۔‘‘
مذکورہ
بالا شاعر کے علاوہ اس کا دوسرا منظور نظر شاعر شاہجہاں کے دربار کا ایک امیر
’چندر بھان برہمن‘ تھا۔ صاحب مراۃ الخیال کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ شہزادے نے
شاہجہاں کی موجودگی میں مندرجہ ذیل شعر پڑھنے کو کہا، جس کو وہ خود بہت پسند کرتا
تھا ؎
مرادلیست
بکفر آشنا کہ چند ین بار
بہ
کعبہ بروم و بازش برہمن آوردم
ترجمہ: ’’میں اُس کفر آشنا سے راضی نہیں:کہ کئی بار
کعبہ گیا اور پھر اُسے برہمن لا کر دیا۔‘‘
بادشاہ
شاعر کی اس جرأ ت پر برہم ہوا لیکن افضل خان نے سعدی شیرازی کے مذکورہ ذیل شعر کا
حوالہ دے کر، اس کو مطمئن کردیا،بیت ؎
خر
عیسیٰ اگر بہ مکہ رود
چون
بیاید ہنوز خرباشد
(مراۃ الخیال، ص214)
ترجمہ
:’’اگر حضرت عیسیٰ کا گدھا مکہ بھی چلا جائے، جب واپس آئے گا، تب بھی وہ گدھا ہی
رہے گا۔‘‘
دارا
شکوہ ہندوعلما و شعرا اور منشیوں سے بہت انس رکھتا تھا اور وہ ان کی حوصلہ افزائی
سے کبھی دریغ نہ کرتا تھا۔ (ادبیات فارسی میں ہندوؤں کا حصہ، ص 49)
داراشکوہ
تذکرہ نگاروں کی نظر میں: شعرا ئے فارسی کے تذکروں میں ہمیں صرف مندرجہ تین
تذکروں میں داراشکوہ کا ذکر بحیثیت فارسی گو شاعر ملتا ہے۔
مقالات
الشعرا تالیف میر علی شیر قانع تتوی (متوفی سنہ 1203ھ) میں ان کا ذکر ہے جس کا اردو ترجمہ یوں ہے:
’’دارا
شکوہ، جو شاہ جہاں بادشاہ کے فرزند تھے، ''قادری'' تخلص رکھتے تھے۔ وہ عمدہ اخلاق
اور کشادہ نظری کے ساتھ مشہور تھے۔ وہ توحید اور تصوف میں یگانہ وقت تھے اور سرمد
کے عقیدت مندوں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کی صحبت اکثر اہلِ سلوک کے ساتھ رہتی تھی۔
انھوں
نے توحید کے لطائف پر کئی رسالے لکھے، جن میں سکینۃ الاولیاء، رسالہ حق نما اور
’حسنات العارفین‘ شامل ہیں۔
جب
وہ اپنے والد (شاہ جہاں) سے ناراض ہو کر سندھ کی طرف روانہ ہوئے، تو خیال کیا کہ
شاید ٹھٹھہ ان کے قیام کے لائق ہو۔ جب وہ ٹھٹھہ پہنچے اور دیکھا کہ ان کی شان و
شوکت کے مطابق اس شہر کے مکانات مناسب نہیں ہیں، تو ایک جانب سے شہر میں داخل ہوئے
اور دوسری جانب سے رنجیدہ دل کے ساتھ نکل گئے۔
غصے
کی حالت میں، قاضی ابراہیم تتوی کو جو ان کے ہمراہ تھا، حکم دیا کہ شہر کو آگ لگا
دی جائے۔لہٰذا چند بوسیدہ محلوں کو آگ
لگا دی گئی، ابھی تک وہ ’سوختہ گھات‘ کے
لقب سے مشہور ہے۔الغرض، سن 1070 ہجری میں اس فانی دنیا کو الوداع کہا۔ ’’صاحب بہشت
برین‘‘۔ ان کا ایک دیوانِ شعری بھی موجود ہے۔
ایک
بار جب میر رضی ’دانش‘ نے یہ شعر کہا
؎
تاک
را سیراب کن ای ابر نیسان در بہار
قطرہ
تا می می تواند شد، چرا گوہر شود؟
’’اے
نیسان کے بادل! بہار میں تاک کو سیراب کر، کیونکہ اگر قطرہ شراب بن سکتا ہے، تو
پھر وہ گوہر کیوں بنے؟‘‘
تو
ہر ایک نے اپنے اپنے طور پر شعر کا جواب دینے کی کوشش کی، اور دارا شکوہ نے اس کے
جواب میں یہ شعر کہا ؎
سلطنت
سھل ست خود را آشنایی فقر کن
قطرہ
تا دریا تواند شد چرا گوھر شود
’’سلطنت
آسان ہے، خود کو فقر سے آشنا کر: قطرہ اگر دریا بن سکتا ہے، تو گوہر کیوں بنے؟‘‘
کلمات
الشعراء تالیف محمد افضل سرخوش میں بھی
ذکر ہے، فارس اقتباس کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:
’’وہ
(داراشکوہ)جو ’شاہِ بلند اقبال‘ کے لقب سے مشہور تھا، شاہ جہاں کا ولی عہد، ایک ایسا
بادشاہ زادہ تھا جو خوش اخلاق، خوش فکر، خوش رو، بردبار، صوفی مشرب، فقیروں کا
دوست، موحد اور محقق تھا۔وہ بلند ہمت اور تیز ذہن رکھتا تھا، اور صوفیہ کے مطالب
کو رباعی اور غزل میں منظوم کیا کرتا تھا۔اپنے اس عقیدے کی بنا پر کہ وہ سلسلہ عالیہ
قادریہ سے وابستہ ہے، وہ ''قادری'' تخلص اختیار کرتا تھا۔
اس
نے ملا شاہ، جو میاں شاہ میر لاہوری کے خلیفہ تھے، کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔وہ اس
درجہ کا تحمل اور وقار رکھتا تھا کہ... علمِ تصوف میں اس کی بلند پایہ تصانیف
موجود ہیں، اور اس نے نہایت باریک سوالات بھی تحریر کیے۔اس نے ایک مختصر دیوان بھی
مرتب کیا ہے۔‘‘
خزئنۃ
الاصفیاء تا لیف غلام سرور :
نوٹ: اس تذکرے کا فارسی متن بہت تلاش کرنے پر بھی نہیں
ملا،ایک اردو ترجمہ دستیاب ہوا،جس کا اقتباس پیش خدمت ہے:
’’شہزادہ
محمد دارا شکوہ بن شہاب الدین محمد شاہ جہاںبادشاہ قدس سرہ: حضرت ملاشاہ بدخشانی
کے نامور مرید و خلیفہ،ظاہر و باطنی اوصاف کے جامع، بادشاہ صورت اور درویش سیرت
تھے۔مسائل تصوف اور سلوک و عرفان سے بڑی وابستگی تھی۔حضرت شیخ محمد میاں میرؒ کی
خدمت میں بھی حاضررہ کر اخذفیض کیا تھا۔ اپنے مرشد کی طرح نظریۂ وحد ۃ الوجود
(ہمہ اوست) کے زبر دست حامی و مبلغ تھے۔متعدد کتب کے مولف و مصنف ہیں۔نظم و نثر پر
مہارت کامل رکھتے تھے اور اپنے خیالات کو بڑی خوبی و آزادی کے ساتھ بیان کرتے۔
1070ھ میں عالمگیر کے حکم سے قتل ہوئے۔
سفینۂ
الاولیاء، سکینۃ الاولیاء، رسالۂ حق نما، حسنات العارفین یا شطحیات، مجمع البحرین،
سر اکبر، دیوان اکسیر اعظم ان کی مشہور تصانیف ہیں۔‘‘
(خزینۃ الاصفیاء،اردو ترجمہ، ص262)
دیوان
فارسی دارا شکوہ قادری : ایک مد ت دراز تک
عام رائے یہی بنی ہوئی تھی کہ دارا شکوہ کا فارسی دیوان اب ناپید ہو گیا ہے مذکورہ
شہزادے کے دیوان کے جو قلمی نسخے خود اس کی زندگی میںتیار ہوئے ہوں گے،وہ دستبرد
زمانہ کی نذر ہوگئے۔ دیوان کی عدم موجودگی کے متعلق یہ خیال ظاہر کیا گیا کہ سیاسی
اختلافات اور علما کے مذہبی تعصب کی وجہ سے داراشکوہ کا دیوان باقی نہ رہ سکا۔یہ
بات سراسر غلط ہے کیوں کہ مذکورہ شہزادے کی دیگر تصانیف جو قابل اعتراض سمجھی جاتی
تھیں،ان کے قلمی نسخے اکثر و بیشتر ہندوستان اور بیرون مملک میں دستیاب ہیں۔
داراشکوہ کے دیوان کی ندرت کے بارے میں آئندہ صفحات میں تفصیل سے گفتگو کی جائے گی۔
دارا شکوہ کے فارسی دیوان کے قلمی نسخوں کا
خلاصہ حسب ذیل ہے۔
دیوان
دارا شکوہ کے قلمی نسخے :
نسخہ
ٔ نیشنل میوزیم آف پاک: خان بہادر مولوی ظفر حسن نے1939 میں رائل ایشیاٹک
سوسائٹی بنگال کے مجلہ میں داراشکوہ کے دیوان پر ایک مضمون لکھا اور اس بات کا
انکشاف کیا کہ ان کے ذاتی کتب خانے میں مذکورہ دیوان کا ایک ناقص نسخہ موجود ہے۔ یہی
نسخہ1950 میں نیشنل میوزیم آف پاک کی تحویل میں آیا۔ مذکورہ نسخہ انتہائی بوسیدہ
حالت میں تھا۔ جس میں محض 48 اوراق ہی تھے۔ اس کے ہر ورق پر 13 سطریں بہ خط شکستہ
ہیں۔ کامل و ناقص غزلیات کی تعداد 133 اور رباعیات کی تعداد 28ہے۔ مذکورہ دیوان کے
سرورق پر یہ عبارت لکھی ہے ؎
دیوان
شاہزادہ دارا شکوہ قادری
اور
آخری صفحے پر لکھا ہے ؎
تمت
دیوان داراشکوہ
اس
مخطوطے کے کئی اوراق غائب بھی ہیں۔
پنجاب
پبلک لائبریری لاہور : یہ خیال کیا جاتا تھا کہ داراشکوہ کے دیوان کا یہی واحد
مخطوطہ موجود ہے۔ لیکن بعد میں ایک اور قلمی نسخے کا پتہ چلا۔اس نسخے کی موجودگی
کا علم پنجاب پبلک لائبریری لاہور میں ہوا۔ اس مخطوطے میں اول تا آخر کہیں بھی
داراشکوہ کا نام تو نہیں لکھا مگر غزلوں کے مقطعوں میں قادری تخلص ضرور ملتا
ہے۔چنانچہ لائبریری کی فہرست مخطوطات میں لکھا ہے:
’’
موصوف کے پورے نام اور حالات کی تعیین و تحقیق نہیں ہو
سکی۔ قادری کی رباعیات و غزلیات (جو حروف تہجی کے اعتبار سے ترتیب دی گئی ہیں) ایک
مکمل مجموعہ کی شکل میں ہیں۔ اشعار سادہ اور خیالات سطحی پر مشتمل ہیں۔ اکثر ابیات
اور بالخصوص کچھ مقطعوں میں نظریہ ہمہ اوست کی حمایت ہے۔ ملاعبد القادر بدایونی
(المتوفی1004 ھ) کا تخلص بھی قادری تھا لیکن ان کا کوئی دیوان معلوم نہیں۔ ایک
کمزورقیاس یہ ہے کہ یہ انہی کا دیوان ہوگا۔‘‘
جب نیشنل میوزیم آف
پاک کے قلمی نسخے سے مذکورہ نسخے کا مقابلہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ اصل میں دیوان
داراشکوہ کا ہی دوسرا نسخہ ہے۔ پنجاب پبلک لائبریری والا نسخہ بہت عمدہ کا غذ پر
خوشخط نستعلق میںہے۔ یہ نسخہ کامل ہے اور اسی کے70 صفحات ہیں۔ ہر ورق پر 14 سطریں
ہیں۔ غزلوں کی کل تعداد 210 اور 141 رباعیاں ہیں۔
مطبوعہ
نسخہ ریسرچ سوسائٹی : دیوان دارا شکوہ کو سب سے پہلے احمد نبی خان نے
ریسرچ سوسائٹی آف پاکستان سے1969میں شائع کیا تھا۔ مرتب نے مذکورہ بالا نسخوں کی بنیاد پر دیوان
کو مرتب کرنے کا فریضہ انجام دیا اور اس کے ساتھ انھوں نے ایک بے حد اہم کام اور
انجام دیا کہ داراشکوہ کے اشعار کی ایک اچھی خاصی تعداد، کو بھی جمع کردیا جو اس کی
دیگر تصانیف مثلاً سکینۃ الاولیا، رسالۂ حق نما، حسنات العارفین،مجمع البحرین وغیرہ
میں موجو د تھی۔ ان میں سے بعض اشعار اور رباعیات تو ایسی ہیں کہ دیوان کے دونوں
مخطوطوں میں نہیں ملتیں۔اس لیے انھوں نے مذکورہ دیوان کا متن مرتب کرتے وقت ان
تمام رباعیات اور منفرد اشعار کو مناسب جگہوں پر نقل کردیا۔ اس طرح دونوں مخطوطات
کا موزانہ کرنے اور دیگر ذرائع سے اشعار کے اضافہ کے بعد، اب مطبوء نسخہ 215 غزلیات
اور 145 رباعیات پر مشتمل ہے۔(دیوان داراشکوہ، ص 19-42)
نسخہ
قومی کونسل : اس نسخے کو دوسری مرتبہ
پروفیسر شاہد نوخیز صاحب نے از سر نو مرتب کرکے، ایک عالمانہ مقدمہ کے ساتھ ترتیب
و تدوین دیا اور مذکورہ دیوان میں موجود تمام فارسی اشعار کا اردو میں ترجمہ بھی کیا۔
اس نسخہ کو قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ، نئی دہلی نے 2021 میں زیور طبع سے
آراستہ کیا۔ اس ادبی خدمت کی وجہ سے ہی آج داراشکوہ کا دیوان ہر خاص و عام کی
دسترس میں ہے۔یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اس نسخہ کو مذکورہ بالا نسخے پر فوقیت حاصل
ہے۔
شاعری
: داراشکوہ کی شاعری پر، اس کے مذکورہ
بالا افکار و نظریات کی چھاپ ہے۔ اگرچہ اس کی نثر کی کتابوں کی طرح اس کی شاعری کے
مختلف ادوار کا تعین نہیں کیا جاسکتا لیکن پھر بھی اس کے مطالعے سے اس کے صوفیانہ
غوروفکر کے تدریجی ارتقا کا پتہ چلتا ہے۔
موضوعات
: داراشکوہ کی ابتدائی غزلیات میں جن کو
اس کا ابتدائی کلام خیال کیا جاتا ہے، اسلام سے سچی وابستگی، خداکی وحدانیت، رسولؐ
اور خلفائے راشدینؓ سے گہری محبت اور عقیدت کا اظہار ہوتا ہے۔
داراشکوہ
صوفیا اور درویشوں سے بے پناہ محبت کرتا تھا۔خاص طور سے شیخ عبد القادر جیلانی ؒ،
شیخ بہاء الدین زکریا ؒ،حضرت میاں میر صاحب ؒ اور اپنے پیر و مرشد ملاشاہ بدخشیؒ
سے اسے گہری عقیدت تھی۔ان میں سے اکثر بزرگ صوفیا کی تعریف میں وہ متعدد جگہ رطب
اللسان نظر آتا ہے۔ جیسا کہ ذیل کے اشعار سے ظاہر ہے۔
حضرت
شیخ بہاء الدین زکریا ؒ کی تعریف یوں کی ہے
؎
قطب
دنیا و دین بہاء الدین
نقشبند
یقین بہاء الدین
قادری
ہر کہ دامنش بگرفت
دار
خلد بریں بہاء الدین
(دیوان دارا کونسل، ص133-24)
ترجمہ:’’دنیا
و دین کے قطب بہاء الدین ہیں،نقشبندِ یقینی، بہاء الدین۔
جو
بھی قادری ہو اور ان کا دامن تھام لے، اس کے لیے جنتِ برین ہے بہاء الدین۔‘‘
ملا شاہ بدخشی ؒ کی
تعریف میںیہ اشعار ملاحظہ کیجیے ؎
حضرت
ملا شہ آن شاہ ما
کو
مرید خاص میان میر ہست
ہرمسی را زر
کند ارشاد او
طالبان
را فقر او اکسیر ہست
(دیوان دارا، قومی اردو کونسل، ص27)
ترجمہ:
’’حضرت ملا شاہ، وہی ہمارے بادشاہ ہیں، جو میر (دارا شکوہ) کے خاص مرید ہیں۔
ان
کی رہنمائی ہر تانبے کو سونا بنا دیتی ہے، اور طالبوں کے لیے ان کا فقر اکسیر ہے۔
دارا
شکوہ نے اپنے اشعار میں ان جگہوںکی بھی تعریف کی ہے جن سے اس کے مرشد ملا شاہ ؒ
اور حضرت میاں میر ؒ تعلق رکھتے تھے، اس
ضمن میں کشمیر، پنجاب اور لاہور قابل ذکر ہیں۔
دارا
شکوہ نے اپنی شاعری میں اخلاقی موضوعات پر بھی خامہ فرسائی کی ہے۔اس کے اشعار میں
اخلاقیات کے مختلف موضوعات بھی نظر آتے ہیںجن کا شمار زندگی کی ہمہ گیر اقدار میں
ہوتا ہے۔ چند مثالیں ملاحظہ ہو
؎
تو
بھی اس دنیا میں ایک مسافر ہے،
یقین
رکھ، اگر زندہ ہے تو ہوشیار رہ۔
اپنا
راز کسی غیر دل والے سے نہ کہہ،
کیونکہ
راز داری غیر دل والوں میں نہیں ہوتی۔
اسلوب
شعری : دارا شکوہ کی شاعری کے مضامین پر
گفتگو کے بعد ضروری ہوجاتا ہے کہ اس کی شاعری کے اسلوب شعری پر بھی گفتگو کی
جائے۔ اس سلسلہ میں جناب وکراما جیت حسرت
جو ایک ممتاز ہندوستانی مورخ،محقق اور ادیب گزرے ہیں،جنھیں مغلیہ عہد کے مطالعات میں
ان کی گراں قدر خدمات کے لیے جانا جاتا ہے۔ موصوف نے اپنی مشہور انگریزی
کتاب’داراشکوہ: حیات و خدمات‘ میں داراشکوہ کی شاعری پر اظہار خیال کرتے ہوئے جو
کچھ لکھا ہے،اردو میں اس کی تلخیص مندرجہ ذیل ہے:
’’دارا
شکوہ کی شاعری کے مطالعہ سے واضح ہے کہ اسے تصوف و فلسفہ نیز مختلف مذاہب کے تقابلی
مطالعہ کا بہت شوق تھا۔ ان موضوعات کے علاوہ ادب و اخلاق کا ذکر بھی شعوری یا غیر
شعوری طور پر ضمناً آگیا ہے لیکن تصوف کی جس منزل پر وہ پہنچا ہے وہ کسی اکتساب یا
غور و فکر کا نتیجہ نہیں بلکہ محض اس کی ذکاوت ذہن کی پیداوار ہے۔ جو تقلید یا تدریس
کی محتاج نہیں۔ وہ ہر جگہ ہمہ اوست کا دم بھر تا نظر آتا ہے۔اس کی اکثر رباعیاں
متعدد صوفیانہ اقوال کی تشریح و توضیح ہیں۔ مختلف مذاہب کے نظر یات کو یکساں ثابت
کرنے کی کوشش میں جو ذہنی انتشار پیدا ہوا ہے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے فکر و
نظر میں کوئی انفرادیت اور ارتباط قائم نہ رہ سکا اور یہی وجہ ہے کہ اس کی غزلوں میں
تفکر کا فقدان ہے۔ خالص ادبی نقطۂ نظر سے بھی اس کی شاعری عام شاعرانہ خوبیوں سے
عاری ہے اور مشکل ہی سے اس کی غزلوں میں ایک دو شعر ایسے ملیں گے جن میں واقعی
شاعرانہ تخیل کی جھلک موجود ہو اور یہ کہنا تو بالکل بے جانہ ہوگا کہ اس کی شاعری
تغزل سے بالکل نا آشنا ہے‘‘
(Dara Shikuh:
Life & Works, P 135-36)
بہرحال
داراشکوہ کے دیوان کے مطالعے کے بعد اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ شہزادے کو
فارسی شعر و ادب پرمکمل دسترس حاصل تھی، اس نے کلاسیکی فارسی شعرا کے کلام کا بہ
نظر غائر مطالعہ کیا تھا۔ اس بات کی دلیل یہ ہے کہ اس نے اپنی تصانیف میں حسب
ضرورت سنائی،نظامی، عطار، خسرو، حافظ، سعدی، جامی، عراقی اور ابوالخیر وغیرہ کے
اشعار نقل کیے ہیں۔ چونکہ اس کی شاعری کا موضوع تصوف تھا۔اس لیے تصوف اور عرفان سے
متعلق مضامین ہی پیش کیے ہیں۔
فارسی
شاعری میں داراشکوہ کا مقام : اگر ہم
فارسی شاعری میں داراشکوہ کے مقام کا تعین کریں تو وکرما جیت حسرت کی رائے درست
معلوم ہوتی ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ اس کی شاعری شاعرانہ جذبات اور لطافت کے
اعتبار سے بالکل بے جان ہے۔اسی وجہ سے اس کو بحیثیت شاعر ہمعصر یا متأخر شعرا کی
صف میں شامل نہیں کیاجاسکتا۔اس زمانہ میں عرفی، نظیری، طالب آملی،کلیم،قدسی،فیضی
وغیرہ کے تغزل و آہنگ کا شہرہ تھا اور مذکورہ شاعروں کے کلام کا رنگ خاص و عوام
کے دل و ذہن پر طاری تھا۔غیر دلچسپ اسلوب کی وجہ سے داراشکوہ کی شاعری کو مقبولیت
حاصل نہ ہوسکی۔ اس بات کا اندازہ اس کو خود بھی تھا ؎
ہزار
بیت و غزل گفت قادری در عشق
ولی
چہ سود کسی منتبہ نمی گردد
(ایضاً، ص 74)
ترجمہ:
’’قادری نے عشق میں ہزار بار بات کی، لیکن کیا فائدہ، کوئی ہوشیار نہیں ہوتا۔‘‘
دیوان
کے قلمی نسخوں کے فقدان کے پس پشت بھی یہ عنصر کار فرما ہے۔اس زمانہ میں مذکورہ دیوان
کا علم بہت کم لوگوں کو تھا۔ تذکرہ نویس بھی اس سے بے خبر تھے۔اس لیے انھوںنے بھی
داراشکوہ کو بحیثیت فارسی گو اپنے تذکروں میں شامل نہیں کیا۔چنانچہ اس کی تصانیف
کے قلمی نسخے دستیاب ہیںلیکن دیوان نایاب ہی رہا۔شاید اس کی وجہ یہی رہی ہو کہ خاص
و عام میں سے کسی کو بھی اس کے اسلوب بیان اور موضوع سے دلچسپی نہ تھی۔اسی وجہ سے
کسی نے اس کے دیوان کا مطالعہ بھی نہ کیا ہو اور دیوان کی زیادہ نقول تیار نہ ہو ئی
ہوں۔
مآخذ
و مصادر
.1 دیوان دارا
شکوہ:(ترتیب و تدوین مع مقدمہ ) مترجم: پروفیسر شاہد نوخیز،قومی کونسل برائے فروغ
زبان اردو،نئی دہلی،2021
.2 دیوان داراشکوہ
(اکثیر اعظم)، مرتبہ احمد نبی خان،ریسر چ سوسائٹی آف پاکستان،1969
.3 تذکرۂ مقالات
الشعراء،میر علی شیر ’قانع‘ تتوی،مرتبہ سید
حسام الدین راشدی،سندی ادبی بورڈکرانچی،1957
.4 کلمات
الشعراء،محمد افضل سرخوش،تصحیح علی رضا قزوہ، کتابخانہ موزہ و مرکز اسناد مجلس
شورای اسلامی تہران 1389 ق
.5 خزینۃالاصفیاء(اردو)،مفتی
غلام سرور،مترجم علامہ اقبال احمد فاروقی،مکتبہ نبویہ۔لاہور
.6 مراۃالخیال،مرزا
سلطان احمد،مطبع صفدری بمبئی،1882
.7 مجمع البحرین،داراشکوہ،
مرتبہ و ترجمہ عادل اسیر دہلوی، ملک بک ڈپو،2013
.8 رباعیات دارا
شکوہ،مرتبہ و ترجمہ عادل اسیر دہلوی،ملک بک ڈپو،2011
.9 ملا شاہ بدخشی
:آثار و افکار، دکتر ظہور الدین احمد،مترجم فضل الرحمن فاضل،سفارت جمہوری اسلامی
افغانستان دہلی نو
.10 ادبیات فارسی میں
ہندوؤں کا حصہ،ڈاکٹر سید عبد اللہ، انجمن ترقی ہند،نئی دہلی
Dr. Sayed Naved Jafri Dehlvi
Research Scholar, Dept of Persian
Jamia Millia Islamia
New Delhi- 110025
Mob.: 9990479614
nj.delhi1309@gmail.com

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں