اردو دنیا،اکتوبر 2025
جموں
و کشمیر میں اردو ڈراما کی کمی یا دوسری اصناف کے مقابلے میں اس صنف کی پس ماندگی
قابل فہم ہے، لیکن اس کمی کے باوجود جموں و کشمیر میں ڈراما کی روایت سے انکار
کرنا بھی ممکن نہیں۔ جب بھی مجموعی حیثیت سے جموں و کشمیر میں اردو ڈراما کا ذکر
آتا ہے تو یہاں کے بھانڈوں کا ذکر کرنا ناگزیر ہوجاتا ہے۔ ڈراما کے مشہور محقق عشرت رحمانی نے غنی کاشمیری
کی مثنوی ’نیرنگ خیال‘ کے حوالے سے کشمیری بھانڈوں کا ذکر کیا ہے جو اورنگ زیب کے
عہد میں گانے بجانے اور نقلیں کرنے اور سوانگ رچانے کا کام بطور پیشہ کرتے تھے اور
بازاروں میں تماشائیوں کو جمع کرتے اور نقلیں دکھا کر روزی کماتے تھے۔ شادی بیاہ
کے موقعوں پر بھی یہ بھانڈ اپنا کرتب دکھاتے تھے۔ یہ کرتب مزاحیہ عناصر سے پُر
ہوتے تھے اور عوام کو تفریح کے ساتھ ساتھ ایک پیغام بھی دیتے تھے۔
بھانڈ
شاہی محفلوں میں اپنا فن دکھاتے تھے اور اس میں مرد زنانہ کردار ادا کرتے
تھے۔ برج پریمی کے مطابق ڈرامے کی تشکیل و
تہذیب میں ان محفلوں (یعنی بھانڈ جشنوں ) کا اہم رول رہا ہے۔ مکالموں کی ادائیگی میں
بھانڈوں کو خاص مہارت حاصل تھی۔ مکالموں میں برجستگی کا خاص خیال رکھتے تھے۔ برج
پریمی فرماتے ہیں:
’’بھانڈ
بہروپ بدلنے میں بھی ماہر تھے اور بڑے حاضر جواب بھی تھے۔ ان کے خوبصورت لڑکے
زنانہ کردار ادا کرتے تھے...مکالموں کی ادائیگی میں ان کا عمل خاص طور پر قابل دید
تھا...نڈ پاتھر یا بھانڈ جشن جس کا اوپر ذکر ہوا، دراصل یہاں کا عوامی ڈراما تھا۔
جس طرح ہندی ڈرامے کا ذکر کرتے ہوئے جگہ
جگہ گھومنے والی ناٹک منڈلیوں کا ذکر کرنا ناگزیر ہے، اسی طرح کشمیر میں ڈرامے کا
ذکر کرتے ہوئے ان ناٹک منڈلیوں کا ذکر کرنا ضروری بنتا ہے۔ یہ فنکار جگہ جگہ اور
گائوں گائوں گھوم کر زمانے کے تقاضوں کے مطابق:
لوگوں
کی تفریح کا سامان مہیا کرتے تھے اور روح عصر کو رمز و علائم میں پیش کرتے تھے۔ اس
کے علاوہ روزی روٹی کے مسئلے کو بھی حل کرتے تھے۔یہاں یہ کہنا بیجا بھی نہ ہوگا کہ
بھانڈ مسخرے کو کہتے ہیں اور پاتھر کے معنی ہیں کسی شخص کے حرکات کی نقالی کرنا۔
بھانڈ پاتھر کا بنیادی مقصد بھی سماجی طنز ہی تھا۔ طنز کے ساتھ مزاح کا بڑا تعلق ہے۔ اس لیے بھانڈ پاتھر تفریح کا بڑا
ذریعہ تھا۔ یہ ایک چلتا پھرتا اسٹیج تھا اور جیسا کہ ذکر ہوا ناٹک منڈلی یا نوٹنکی
دکھانے والی منڈلی کی طرح کا تھا اور اس کا یہی منصب تھا جو ابتدائی دور میں
ہندوستان کے وعوای تھیٹر کا تھا۔‘‘
(جموں و کشمیر میں اردو ادب کی نشو ونما، برج پریمی، ص 98-99)
اس
طرح برج پریمی کے مطابق بھانڈ جشن یا
بھانڈ پاتھر جموں وکشمیر کا ’عوامی ڈراما‘
تھا جس میں عام تفریح کے ساتھ ساتھ مختلف مسائل کو اپنے الفاظ میں پیش کیا
جاتا تھا اور حکمرانوں کی اس طرف توجہ دلائی جاتی تھے۔
انیسویں
صدی کے اواخر میں ڈراما کو عوامی سرپرستی ملی اور جموں میں خاص طور پر رام لیلا نے
اس میں اہم کردار ادا کیا۔ ڈوگرہ حکمراں مہاراجہ پرتاپ سنگھ کے دور ِ حکومت میںباہر
سے یہاں متعدد راس لیلا پارٹیاں آنا شروع ہوئیں۔ان راس لیلائوں نے مذہب کے ساتھ
ساتھ سماجی مسائل کو بھی اپنا موضوع بنایا۔ برج پریمی اپنی کتاب میں فرماتے ہیں:
’’مہاراجہ
پرتاپ سنگھ کے دور حکومت میں ریاست کے باہر سے متعدد راس لیلا پارٹیاں ریاست میں
آنا شروع ہوئیں۔ شروع شروع میں ایسے ڈراموں کا مقصد مذہبی قصہ کہانیوں کو ڈرامائی
شکل میں پیش کرنا تھا۔ بعد میں آہستہ آہستہ سماجی مسائل شامل کیے جانے لگے اور
ڈراما لیلائوں اور نیلائوں کے اثر سے باہر آنے لگے۔ جب راس لیلا پارٹیاں جموں اور
سرینگر آکر ڈرامے اسٹیج کرنے لگیں اور انھیں مقبولیت حاصل ہوئی تو ہامرے نوجوانوں
نے بھی اس شعبے میں اپنی صلاحتیں آزمانے
کے مواقع تلاش کیے۔ اس سلسلے میں بنیادی کوششیں جموں میں ہوئی جہاں محمد عمر نور
الہی صاحبان کی جوڑی نے اسٹیج اور ڈراما کے ساتھ اپنی بے پناہ دلچسپی کا اظہار کیا۔
انھوں نے نہ صرف خود ناٹک لکھے بلکہ اردو زبان میں ڈراما کی پہلی تاریخ و تنقید
’ناٹک ساگر‘ کے عنوان سے لکھی جو 1924 میں لاہور سے شائع ہوئی۔ یہ کتاب آج تک
اردو ڈرامائی ادب میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔‘‘
( جموں و کشمیر میں اردو ادب کی نشو و نما، برج پریمی، ص 100)
راس لیلا پارٹیوں کے
سرینگر اور جموں میں آنے سے یہاں کے نوجوانوں میں بھی ڈراما کا شوق پیدا ہوا۔
ادھرپورے ملک میں آ غا حشر کاشمیری کے ڈراموں کی دھوم مچی ہوئی تھی۔ محمد عمر نور الہی صاحبان نے اس زمانے میں
متعدد ڈرامے لکھے جن میں تین ٹوپیاں، بگڑے دل، ظفر کی موت ، روح سیاست وغیرہ قابل
ذکر ہیں۔
اس
دوران کشمیر میں باہر سے کئی ڈراما کمپنیاں پہنچ چکی تھیں اور ان کمپنیوں نے یہاں
کے لوگوں میں ڈراما کی تئیں دلچسپی پیدا کی۔ ایک پیشہ ور کمپنی بھی وجود میں آگئی
اور گائو کد ل سرینگر میں تھیٹر قائم کیا تھا۔
1947کے بعد ریاست میں
اردو ڈرامے نے خوب ترقی کی۔ جموں اور سرینگر
میں اسٹیج ڈرامے کے ساتھ ساتھ ریڈیو ڈرامے بھی لکھے جانے لگے۔ ریڈیو ڈراما عوام میں
بے حد مقبول ہوا اور اس نے ترقی کی نئی منزلیں طے کیں۔ موضوعات کے تنوع کے ساتھ
ساتھ تکنیک کے نئے تجربے ہوئے، نمایاں لکھنے والوں میں پریم ناتھ پردیسی، اختر محی
الدین، سوم ناتھ زتشی، رام کامر ابرول، ٹھاکر پونچھی، سکھ دیوسنگھ، علی محمد لون،
نرہری رائے زادہ، پشکر ناتھ، زیڈ سیمی، وجے سمن، وجے سوری، بنسی نردوش، جتندر
شرما، دینو بھائی پنڈت، وید راہی، شبنم قیوم وغیرہ قابل ذکر ہیں۔’ جشن تمثیل ‘ کے
قیام کے ساتھ ہی ریڈیو پر ہر سال ڈرامے پیش کیے جاتے اور ڈرامائی ہفتہ ا نعقاد
ہوتا تھا، جس نے فنکاروں کی حوصلہ افزائی میں اہم رول ادا کیا۔ اس دور کے ڈراموں میں
زیڈ سیمی کا ڈراما’ جہانگیر کی موت‘ ، دینو بھائی پنت کا ’سورگ کی کھوجـ‘ نرہری رائے زادہ کا ’پرانے دیپ نیا اجالا‘ وجے سمن کا ’ انگ مان‘ رام کمار ابرول کے ڈرامے ’ انسان جیت گیا، دھرتی اور ہم ، چکی کے
پاٹ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
ریاستی
کلچرل اکیڈمی نے نے بھی ڈرامے کے فروغ میں اہم رول ادا کیا۔ اس کے اہتمام سے کئی
ڈراما کلب وجود میں آئے، جنھوں نے ڈرامہ نگاروں اور فنکاروں کو مالی امداد فراہم
کرکے ڈرامے کے مزید امکانات روشن کیے۔
جموں
و کشمیر میں اردو ادب کا ایک اہم نام پریم ناتھ پردیسی کا ہے۔ انھوں نے افسانوں کے
ساتھ ساتھ ڈرامے بھی لکھے۔ پریم ناتھ پردیسی ترقی پسند تحریک سے وابستہ تھے۔ مجاہد
شیروانی، قدہ گوجواری، سانکرات وغیرہ ان کے مشہور ڈرامے ہیں۔ پریم ناتھ پردیسی کے
بعد سوم ناتھ زتشی، علی محمد لون، بنسی
نردوش، ہری کرشن کول، ہردے کول بھارتی، آفاق احمد، شکیل الرحمن، حامدی کاشمیری،
فاروق مسعودی وغیرہ کے ڈرامے بہت مقبول ہوئے۔ ان ڈراما نگاروں کے علاوہ وجے سمن
سوسن، وید راہی، دیانند کپور، گوپی ناتھ کوشک، شری رام شرما ، وینو بھائی پنت، رام
کمار ابرول، زیڈ سیمی وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔
علی
محمد لون جموں و کشمیر کے ایک بڑے ڈراما نگار ہیں۔ ریڈیو میں ملازمت کے دوران ان
کو اپنی صلاحیتیوں کو نکھارنے کا موقع ملا۔’گھروندے‘ ان کا ایک مشہور ڈراما ہے جس
نے اپنے زمانے میں تہلکہ مچایا۔ اس کے علاوہ لون کے ڈراموں میں دیوانے کا خواب،
اور چٹان جیسے لا زوال ڈرامے مشہور ہیں۔ ڈراما نگاروں میں ایک اہم نام پران کشور
کا ہے۔ پران کشور ریڈیو میں ملازمت کرتے تھے جہاں وہ ڈرامے کی ہدایت کاری اور
پروڈکشن پر کام کرتے تھے۔ انھوں نے کئی اچھے اور کامیاب ڈرامے لکھے ۔
اگرچہ
اکیسویں صدی کے شروع ہوتے ہی ہمارے ڈراما
نگاروں کو بہت سے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا جن میں کمی ہونے کے بجائے دن بہ دن
اضافہ ہی ہوتا رہا تاہم اس دوران ہمارے ڈراما نگاروں نے اس صنف کی آبیاری بڑی خوش
اسلوبی سے کی۔ مختلف کیبل، ٹی وی چینلوں اور سوشل میڈیا کے آتے ہی لوگوں کی تفریح
کے مراکز بھی بدل گئے۔
اکیسویں
صدی کی ابتدا میں جن ڈراما نگاروں نے دیگر اصناف کے ساتھ ڈراما نگاری میں طبع
آزمائی کی ان میں سب سے پہلے نور شاہ کا نام قابل ذکر ہے جنھوں نے افسانے کے ساتھ
ساتھ اُردو ڈرامے بھی لکھے۔ نور شاہ نے ریڈیو ، ٹیلی ویژن اور تھیٹر تینوں کے لیے
ڈرامے لکھے۔ ان میں متعدد ڈرامے شائع بھی ہوئے۔ ’سفر زندگی کا‘ ان کا ایک مشہور
ڈراما ہے جس میں انھوں نے کشمیر کے بھائی
چارے کی عکاسی کی ہے۔ ملاحظہ ہو ڈراما ’ سفر زندگی کا ‘ سے یہ مکالمے:
پاپا: دیکھا آمنہ کیا بول رہا ہے تمہارا بھائی
شکیل:
جب سے میں یہاں آیا ہوں میں دیکھ رہا ہوں اور محسوس کررہا ہوں کہ آپ مجھے
استعمال کرنا چاہتے ہیں، اپنی انگلیوں پر نچانا چاہتے ہیں۔
پاپا:
تم ایسی باتیں اس لیے کرتے ہو کہ تم ابھی جوان ہو ، میری طرح بڑھاپے کی دہلیز تک
نہیں آئے ہو، باتیں کرنا آسان ہے اور زندگی کے راستے تلاش کرنا ایک کٹھن کام ہے۔
(کمشیر کہانی: افسانے، ڈرامے، نور شاہ، ص 135)
نور
شاہ کے ریڈیائی ڈراموں میں میرے دکھ کی دوا کرے کوئی، امرائو جان ادا اور میرا جی
قابل ذکر ہیں۔ ان کے علاوہ میری
دھرتی میری جنت، ویرانے کے پھول، دل کی بستی وھیل چئیر، اور چاندکے پھول،
وادیاں خاموش ہیں وغیرہ ان کے مشہور ڈرامے ہیں۔ ان ڈراموں میں نور شاہ نے سماج کے
مختلف مسائل اور پہلوئو ں کی عکاسی بڑے ہی خوبصورت و فنکارانہ انداز میں کی ہے۔
نور
شاہ کے بعد جن فنکاروں نے جموں و کشمیر میں ڈرامے کی صنف کی آبیاری کی ان میں ویریندر
پٹواری ایک اہم نام ہے۔ ویریندر پٹواری نے 13 ریڈیائی ڈرامے، چھ اسٹیج ڈرامے، سات ٹیلی ویژن ڈرامے لکھے ہیں۔ بقول ڈاکٹر محی
الدین زور کشمیری ان کا مشہور ڈراما ’گھر‘
ایپک ٹھیٹر کی تکنیک پر لکھا گیا ہے۔ اور ڈراما ’آخری دن‘ علامتی انداز میں
لکھا گیا ہے جس میں ملکی اور بین الاقوامی حالات کو موضوع بنایا گیا ہے۔ ’انسان ‘
بھی ان کا ایک مشہور ڈراما ہے ۔ پٹواری ابسرڈ تھیٹر (Absurd Theatre) سے
بھی متاثر نظر آتے ہیں جہاں زندگی کی لایعنیت ان کا خاص موضوع ہے۔
پروفیسر
ظہورالدین نے تنقیدو افسانہ کے ساتھ ساتھ ڈراما نگاری میں بھی طبع آزمائی کی
ہے۔ ان کے ڈراموں میں موت کا جزیرہ،
لندن،عبرت خیز، تیرا افسانہ، بریف کیس، نئی دنیا وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ظہورالدین دیومالائی
اور ساطیری عناصر سے مدد لیتے ہیں اور انھیں بڑی خوبی کے ساتھ اپنے ڈراموں میں
استعمال کرتے ہیں۔ ظہورالدین کا ڈراما ’ بریف کیس‘ سماج میں پھیلی بد عنوانیوں اور
اساتذہ کی یونینوں کے بارے میں ہے۔
جموں
وکشمیر میں ڈرامے کا ایک اہم نام آنند لہر بھی ہے جنھوں بڑے کامیاب ڈرامے لکھے ہیں۔
انھوں نے فکشن پر بھی طبع آزمائی کی ہے۔
’نروان‘ اور ’تپسوی کون‘ ان کے مشہور
ڈرامے ہیں۔’ تپسوی کون‘ کو سماجی موضوع پر ایک مکمل ڈراما کہا جاسکتا ہے۔ یہ
ڈراما غلط طریقے سے دولت کمانے اور سماج میں
اعلیٰ رتبہ پانے کے بارے میں ہے،جو قارئین
کو چونکانے کے ساتھ ساتھ سوچنے پر مجبور بھی کرتا ہے۔ امن ، دوستی اور یکجہتی پر
لہر کا ایک مشہور ڈراما ’سرحد کے پیچھے‘ہے۔
بلراج
بخشی بنیادی طور پر ایک صحافی ہیں لیکن
انھوں نے ڈرامے بھی لکھے ہیں۔ سیاسی و سماجی موضوعات پر بڑی بے باکی سے لکھتے ہیں۔
اس سلسلے میں ان کا ڈراما ’قانون شکن‘
مثال کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔
جموں و کشمیر میںہم
عصر اردو ڈرامے کی دنیا میں ایک اہم اور مشہور نام محمد امین بٹ کا ہے۔ان کے
ڈراموں میں روح کی آہٹ، ’سحر ہونے
تک‘ کرن کرن اجالا، نئی صبح، تلاش ، فیصلہ محفوظ ہے وغیرہ قابل ذکر
ہیں۔ محمد امین بٹ نہ صرف ڈرامے لکھتے ہیں بلکہ انھیں پرڈیوس بھی کرتے ہیں اور
متعدد ڈراموں میں انھوں نے اپنی اداکاری کے بھی جوہر دکھائے ہیں۔ اپنے مشہور
ڈرامے’ روح کی آہٹ ‘ میں عربی روایت کو عصر حاضر کے ایک اہم مسئلے کے ساتھ ملایا
ہے اور اس طرح اس ڈراما میں پیش کردہ پیغام آئینے کی طرح واضح ہوجاتا ہے۔ جاہلیت والے عرب میں بیٹیوں کو جنم دیتے ہی
زندہ دفنایا جاتا تھا اور آج سائنس و ٹکنالوجی کی مدد سے فیٹس(Foetus)
کی جانچ کے ساتھ ہی ان کی زندگی کا خاتمہ جنم لینے سے
پہلے ہی کیا جاتا ہے، جس نے انسان کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کیا ہے:
’’
بچہ غلط فہمی تھی ان کی...مشینوں پر ایمان لائے ہیں...یہ فیصلے تو کہیں اور ہوتے ہیںمما... انسان کی بنائی ہوئی مشینوں میں
نہیں...‘‘
راجہ
یوسف نہ صرف ایک اچھے افسانہ نگار ہیں بلکہ انھوں نے بڑے کامیاب ڈرامے بھی لکھے ہیں
اور ایک اداکار کے طور پر انھوں نے اپنے
جوہر دکھائے ہیں۔ اپنی اداکاری اور تخلیق کاری پر ان کو متعدد انعامات و اعزازات
سے نوازا گیا ہے، جن میں انفو ٹل ایوارڑ، یوتھ پاور ایوارڑ، ندائے کشمیر ایوارڑ
قابل ذکر ہیں۔ ان کے افسانوں کا پہلا
مجموعہ ’ کاغذی پیرہن‘ 1988 میں شائع ہوا۔ راجہ یوسف نے ریڈیو، ٹیلی ویژن اور تھیٹر
کے لیے متعدد ڈرامے لکھے۔ ان ڈراموں میں
زمانے کی ہوا، حساب ماسٹر، سنہرے ورق، آبشار، ست رنگ، رنگ بہ رنگ قابل ذکر ہیں۔ راجہ یوسف نے اپنے ٹیلی ویژن ڈراموں میں گھریلو
مسائل کو اجاگر کیا ہے۔ بہو، بیٹیوں اور بزرگوں کے ساتھ ناروا سلوک ان کے
ڈراموں بالخصوص ڈراما ’پرایا آنگن‘ کا
خاص موضوع ہے۔
جموں
وکشمیر میں ہم عصر ڈراما نگاروں میں اشرف عادل ایک اہم نام ہے جنھوں نے متعدد کامیاب
اور مشہور ڈرامے لکھے ہیں۔ ان کے ڈرامے نشر بھی ہوتے ہیں اور کتابی صورت میں بھی
شائع ہوئے ہیں۔ انھوں نے عالمی سطح کے مسائل کو اپنے ڈراموں کا موضوع بنایا ہے جیسے
عالمی امن ، بھوک، ایڈس وغیرہ جیسے مسائل۔
ساتھ ہی خالص تاریخی اور ادبی موضوعات پر بھی خامہ فرسائی کی ہے۔ حضرت محل، حکم حاکم، اور تمثیل داغ
اس سلسلے میں ان کے اہم ڈرامے ہیں۔ ان کے ریڈیو اور ٹی وی ڈراموں کا مجموعہ
’ چاند کا ہم شکل‘ (2014) میں منظر عام پر
آچکا ہے جس میں شامل ڈرامے تکنیک اور موضوع کے حوالے سے نئے امکانات کا پتا دیتے
ہیں۔ اشرف عادل کے ڈراما ’تمثیل داغ‘ کے
حوالے سے ڈاکٹر محی الدین زور کشمیری لکھتے ہیں:
’’
تمثیل داغ‘ کے عنوان سے اشرف عادل کا ایک ریڈیائی ڈراما
(2012) میں منظر عام پر آگیا ہے۔ یہ
ڈراما بیشتر داغ دہلوی کے ہی کردار کے ارد
گرد گھومتا ہے۔ مصنف نے اس ڈرامے میں راوی کے عمل دخل سے ایکشن کی رفتار کو تیز کرکے داغ کی زندگی کے اور بھی مختلف گوشوں کو
اجاگر کیا ہے۔ اس میں ہمیں اس دور کی تہذیبی ، تمدنی، سیاسی اور معاشرتی تصویر کی
مختلف جھلکیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ اس ڈرامے کا نقطئہ عروج بڑے فنکارانہ انداز میں
پیش کیا گیا ہے۔‘‘
(جموں و کشمیر میں ہم عصر اردو ڈراما اور تھیٹر کی صورت حال،
ڈاکٹر محی الدین زور کشمیری، اردو دنیا، فروری 2020)
اشرف
عادل کے ریڈیو ڈراما ’ آستین کا سانپ ‘
سے یہ مکالمے ملاحظہ ہوں:
انسپکٹر
: للیکن آپ کو یہ خنجر کس کے کمرے سے ملا۔
نوید:
یہ خنجر مجھے ناصر کے کمرے سے ملا ۔ کیونکہ مجھے پورا یقین تھا کہ خون اسی نے کیا
ہوگا ،ڈاکٹر ہاشم کے کہنے ہر۔
ڈاکٹر
ہاشم: ہاہاہا... ہاہاہا... ہاہاہا... انسپکٹر صاحب۔ آپ مجھے گرفتار نہیں کرسکتے۔
انسپکٹر
: کیوں نہیں کرسکتا۔ آپ کیا ہم پر بھی کالا جادو کریں گے۔
ڈاکٹر
ہاشم: کیونکہ...کیونکہ آپ کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے کہ قتل میں نے کیا۔
عادل
اشرف کو زبان پر قدرت حاصل ہے اور کشمکش ان کے ڈراموں کی خاص خوبی ہے۔
جموں
وکشمیر کے ایک اہم اور مشہور ڈراما نگار پدم شری موتی لال کیمو ہیں۔ کیمو اصل میں کشمیری زبان کے ڈراما نگار ہیں۔
دہلی کے NSD سے تربیت یافتہ ہے۔ کلچرل اکیڈمی کے ایڈیشنل سکریٹری رہ چکے ہیں
اور ڈراما نگاری میں کئی انعامات حاصل کیے ہیں۔ موتی لال کیمو نے کشمیری میں ڈراما
’بھانڈ ذہائی‘ کے عنوان سے ایک ڈراما لکھا
جس کو انھوں نے بعد میں اُردو میں بھی منتقل کیا۔
ڈاکٹر
مجید احمد محقق و نقاد ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے ڈراما نگار بھی ہیں۔ ان کا مشہور ریڈیو ڈراما ’ادھورے خواب‘ اب کتابی
شکل میں بھی 2009میں چھپ چکا ہے۔کتاب کے
آغاز میں ڈراما کے فن و تکنیک پر بھی روشنی ڈالی ہے اور ساتھ ہی اس ڈراما میں فن
و تکنیک کا خاص خیال رکھا ہے۔
عصر
حاضر میں منوج شیری کا شمار بھی اچھے ڈراما نگاروں میں ہوتا ہے۔ انھوں نے افسانے
بھی لکھے ہیں۔ ریڈیو، ٹیلی ویژن اور اسٹیج کے لیے ڈرامے لکھتے ہیں۔ ان کے ڈراموں
کا ایک مجموعہ ’بچھڑے بکھرے ‘ (2016) میں
چھپ چکا ہے۔ ان کے اس مجموعے کے ڈرامے، ٹیلی
ویژن، ریڈیو اور اسٹیج پر پیش ہوچکے ہیں۔ اس مجموعے میں پانچ ڈرامے شامل ہیں:
بکھرے بچھڑے، گھر، مشورہ، نور، پاسک در۔
منوج شیری کے ڈراما کا خاص موضوع کشمیر کا بھائی چارہ اور یہاں کی خوبصورتی
ہے۔ اسا طیر اور دیومالا سے بھی مدد لیتے ہیں اور اپنے ڈراموں کے کردار ترتیب دیتے
ہیں۔ سماج وثقافت کو بڑی خوبصورتی سے اپنے ڈراموں میں پیش کرتے ہیں۔ ڈراما ’گھر‘ میں گھر کی اہمیت اور بیمہ کمپنی کی بے
رخی کو موضوع بنایا ہے جب ماسٹر جی کا گھر جل جاتا ہے تو بیمہ کمپنی معاوضہ ادا
کرنے سے پہلے انکار کرتی ہے اور پھر ماسٹر
جی کے دوست کی حکمت عملی سے مسئلہ سلجھ جاتا ہے اور یوں ماسٹر جی کو معاوضہ مل
جاتا ہے۔ یوں اس ڈرامے کا موضوع آج کے حالات میں ایک عام موضوع لگتا ہے لیکن مادیت
پرستی اور بیمہ کمپنی اور دوسری تجارتی کمپنیوں کی چالاکیوں کو مدنظر یہ موضوع ایک
اہم موضوع بن جاتا ہے اور آخر پر واضح ہوجاتا ہے کہ’گھر‘ کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔
ملاحظہ ہوں اس ڈرامے سے یہ اختتامی جملے:
منیجر:
مجھے اب یقین ہوا کہ آپ صحیح بول رہے ہیں۔
ماسٹرجی:
میرے خیال سے اب آپ کو ہمارا معاوضہ ادا کرنا چاہیے۔
منیجر: جی ضرور ہمیں اپنی غلطی کا اعتراف ہے اور کمپنی
کو یہ معاوضہ دینے میں اب کوئی اعتراض نہیں، مگر میری علی محمد سے ایک گزارش ہے۔
علی
محمد: جناب وہ کیا۔
منیجر:
آپ کے گھر کا ماڈل م اپنے دفتر میں رکھنا چاہتے ہیں۔
علی
محمد: جی ضرور رکھیں۔مگر اس کے نیچے یہ ضرور لکھیں کہ گھر کی قیمت روپیوں سے ادا
نہیں کی جاسکتی۔
منیجر:
ایسا ہی ہوگا
( بکھرے بچھڑے: ڈرامے، منوج شیری۔ ص82)
شوکت
نسیم بھی ابھرتے ہوئے ایک اچھے ڈراما نگار ہیں۔ ان کے ڈرامے ’سچ کی جیت ‘ کا انداز روایتی ہے، جس میں امیری و غریبی کے
تصادم کو دکھایا گیا ہے۔ اس ڈرامے میں سماج کی عورت دبی ہوئی نہیں بلکہ وہ ظلم کے
خلاف آواز اٹھاتی نظر آتی ہیں۔ شوکت نسیم کے ڈرامے نئے امکانات کا پتا دیتے ہیں۔
وہ نئے نئے تجربے کرنے میں یقین رکھتے ہیں۔ان کے یہاں نئے پن کا احساس ہوتا ہے۔
عارض
ارشاد نے اپنے ریڈیائی ڈرامے ’آخری ثبوت
‘ میں سائبر کرائم کے مسئلے کو اجاگر کیا
ہے، جو آج انٹرنیٹ کے پھیلائو اور سوشل میڈیا کے ہوتے ہوئے دنیا کا ایک بڑا مسئلہ
ہے۔
شوکت شہری بھی ڈراما
کا ایک اہم نام ہے۔ شوکت شہری کو ڈراما نگاری کا فن اپنے والد سجود سیلانی سے ورثے
میں ملا ہے۔2006میں کلچرل اکیڈمی ڈراما فیسٹول
کے تحت شوکت شہری کا ڈراما ’ایک پوٹلی ارمانوں کی‘ ٹیگور ہال سرینگر
میں پیش کیا گیا۔ اس کے علاوہ ہم زندہ ہیں
اور ’ منٹو کا فارمولہ ‘ قابل ذکر ہیں۔ تقریباََ پچھلے تیس سال سے ان کے
ڈرامے ریڈیو، ٹیلی ویژن اور اسٹیج کی زینت
بنے ہوئے ہیں۔
مشتاق
مہدی تقریباً پچھلے چالیس سال سے اردو ادب کی آبیاری کررہے ہیں۔ متعدد کامیاب
افسانوں کے علاوہ انھوں نے کئی کامیاب ڈرامے بھی لکھے ہیں۔ ’خواب ‘ اور ’کالے نگر‘ ان کے دو مشہور ڈرامے ہیں۔ اس کے علاوہ زاہد
مختار نے بھی کئی اُردو ڈرامے لکھے ہیں۔
نذیر
جہانگیر نے بھی کئی کامیاب ڈرامے لکھے ہیں ۔
’بہتے جسم‘ کے عنوان سے ان کا ٹیلی ویژن ڈراما 2005 میں شائع ہوچکا ہے۔ بہتے جسم ایک مزاحیہ ڈراما
ہے لیکن بیچ بیچ میں اس میں سنجیدگی کا عنصر بھی پایا جاتا ہے۔ نذیر جہانگیر سماج
میں مسائل کو بھی اجاگر کرتے ہیں اور ساتھ ہی ان کا حل بھی بتادیتے ہیں۔
غلام
نبی شاہد نے افسانوں کے ساتھ ساتھ کچھ ڈرامے بھی لکھے ہیں۔ اردو او ر کشمیری دونوں
زبانوں میں ڈرامے لکھے ہیں۔’ خواب سراب ‘ اور ’زندگی‘ ان کے کامیاب ڈرامے ہیں۔
پرویز
ملک نے کئی ڈرامے لکھے ہیں۔ راجوری سے تعلق رکھتے ہیں۔ ریڈیو، ٹیلی ویژن اور اسٹیج
کے لیے کئی ڈرامے لکھے۔ ان کے ڈراموں میں فرصت کے رات دن، ایک چاند دو راتیں،
اونچے دروازے، اور ’ وہ دروازہ کھل جائے
گا‘ قابل ذکر ہیں۔’ وہ دروازہ کھل جائے گا‘ پر کلچرل اکیڈمی سے انعام بھی حاصل کیا
ہے۔
ریاض
معصوم قریشی ایک اچھے افسانہ نگار اور ناول نگار ہیں۔ 1984 میں ان کا ناول ’خیالوں
کے قفس میں‘ شائع ہوا۔ اس ناول کا ریڈیو ڈراما روپ بھی نشر ہوچکا ہے۔ اردو میں تقریباً
پچاس ریڈیو اور ٹیلی ویژن ڈرامے لکھے ہیں۔ ان کے ڈرامے نفسیات، طبقاتی کشمکش کے
مسائل پر ہوتے ہیں۔ ’وہ اجنبی اور کتا‘ ان کا مشہور ڈراما ہے۔
اکبر
جے پوری نہ صرف ایک بڑے شاعر گزرے ہیں بلکہ انھوں نے ایک مشہور اور کامیاب ڈراما ’
ملاپ ‘ بھی لکھا ہے۔
مشتاق
کاک جموں و کشمیر کے ایک کامیاب ڈراما نگار ہیں۔ انھوں نے بڑے ڈراما فیسٹول میں
اپنے ڈرامے پیش کیے اور انعامات سے نوازے گئے۔
ولی
محمد خوشباش نے بھی کئی کامیاب ڈرامے لکھے ہیں۔
اس
طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ جموں و کشمیر میں اردو ڈراما کی صورت حال تسلی بخش ہے۔
حالانکہ ابھی اس میں مزید بہتری لانے کی ضرورت ہے۔موضوعات کی سطح پر بھی اور تکنیکی
سطح پر بھی۔ ہمارے ڈراما نگاروں کو مقامی موضوعات کے ساتھ ساتھ عالمی موضوعات پر
بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے، جس سے ڈراماکے قارئین و سامعین کا دائرہ وسیع سے وسیع
تر ہو۔ہمیں ڈراما کے فن کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے اور کالج سے لے کر یونیورسٹی
تک اس کے تعلیمی نصاب پر خاص توجہ دینی ہوگی۔جہاں جدید تکنیک پر توجہ دینی کی
ضرورت ہے وہاں ڈراما میں زبان کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اس پر بھی
توجہ دینی ہوگی۔اس سلسلے میں کالج اور یونیورسٹی میں ورکشاپ منعقد کرنے ہوں گے۔ موجودہ دور میں ڈراما اور ڈرامے کی تکنیک
کو سمجھانے کی ضرورت ہے۔ڈراما اور تھیٹر کے مقاصد کو اجاگر کرنا ضروری ہے۔
حوالہ
جات
- جموں وکشمیر میں اردو ادب کی نشوونما، برج پریمی، دیپ پبلی کیشنز، سرینگر کشمیر، 1992
- اردو ڈاما کا ارتقا:عشرت رحمانی، ایجوکیشنل بک ہائوس، علی گڑھ، 1978
- جموں وکشمیر میں ہم عصر اردو ڈراما اور تھیٹر کی صورت حال، ڈاکٹر محی الدین زور کشمیری، اردو دنیا، فروری 2020
- ہمارا ادب،ہم عصر ڈراما نمبر، جموں و کشمیر کلچرل اکیڈمی لال منڈی سرینگر
- ریاست جموں و کشمیر میں اردو ڈراما، پاکیزہ اختر، اودھ نامہ اخبار، 26 جولائی 2018
- کشمیر کے فکشن نگاراور ڈراما نگار: جگن ناتھ ٹھاکر پونچھی، احمد سہیل، مکالمہ پورٹل
- نور شاہ، ایس معشوق احمد، ااشتراک آن لائن پورٹل ، ستمبر، 2021
- ناٹک ترچ، موتی لال کیمو، جموں و کشمیر کلچرل اکیڈمی سرینگر، 1980
- بکھرے، بچھڑے،: ڈرامے، منوج شیری،گلوبل کمیونیکیشنز، سرینگر، 2016
- کاغذی پیرہن، راجہ یوسف، 1988
- کشمیر کہانی: افسانے، ڈرامے، نور شاہ، میزان پبلشرز، سرینگر، 2012
- چاند کا ہم شکل: ریدیو، ٹی وی ڈرامے، اشرف عادل، کاف پرنٹرس، سرینگر، 2013
- شکربابا، مشتاق مہدی، مہدی پبلیکشنز، سرینگر، 2019
Dr. Ashraf Lone
R/O: Wagub Sopore
Distt.: Baramulla- 193201 (J&K)
Mob.: 9811112564
ashjnu.09@gmail.com

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں