اردو دنیا،اکتوبر 2025
گنجینۂ
معنی کا طلسم اس کو سمجھئے
جو
لفظ کہ غالب میرے اشعار میں آوے
(غالب)
اردو
شاعری کو اگر ادوارمیں تقسیم کیا جائے تو مرزا اسداللہ غالب پانچویںدور کے شاعر
قرار پاتے ہیں ۔ اس دور تک اردو شاعری نے ایک سنہری منزل طے کرلی تھی۔جس سے واضح
ہوتا کہ غالب ایسے ماحول کے پروردہ ہیںجس میں اردو شاعری کے معیارات متعین کیے
جاچکے تھے۔ بلندی تخیل ، تفحص الفاظ ،معنی آفرینی، منظر کشی اور پیکر تراشی؛ کسی
بھی فن پارے کی قدر و قیمت متعین کرنے لگی تھیں۔ میر کا لہجہ اور ان کی سادگی و
ندرت بیان دنیائے شاعری میں رقصاں تھا۔ ایسے ماحول میں ایک نئی شناخت قائم کرنا
کوئی عام بات نہ تھی۔لیکن مرزا نوشہ نے اپنی جولانی تخیل، وسعت مطالعہ اور موزونی
طبع سے پورے عہد کو ایک نئے رنگ وآہنگ سے متعارف کیا اور ’گنجینۂ الفاظ‘ سے ’معنی
کا ایسا طلسم‘تیار کیا کہ اساتذۂ فن بھی مسحورہو گئے۔ اس شعری طلسمات میں دیدہ ٔبینا
کے لیے ادب اور ادبیت کی ہر وہ خوبی نظر آتی ہے جس کا وہ متلاشی ہوتا ہے۔ ُموسیقی،فلسفہ،
لسانیات، تاریخ،طب، جفرارو رمل کی اصطلاحیں اپنے کروفر کے ساتھ جلوہ نما ہیں۔ یہی
وجہ ہے کہ عبدالرحمن بجنوری کو لکھنا پڑا کہ:
’’ہندوستان
کی الہامی کتابیں دو ہیں: وید مقدس ودیوان غالب۔ لوح سے تمت تک مشکل سے سو صفحے ہیں
لیکن کیا ہے جو یاں حاضر نہیں۔ کون سا نغمہ ہے جو اس ساز زندگی کے تاروں میںبیدار یا
خوابیدہ موجود نہیں ہے۔ شاعری کو اکثر
شعرا نے اپنی اپنی حد نگاہ کے مطابق حقیقت اور مجاز ، جذبہ اور وجدان، ذہن اور تخیل
کے لحاظ سے تقسیم کیا ہے مگر یہ تقسیم خودان کی نارسائی کی دلیل ہے۔ شاعری
انکشافات حیات ہے جس طرح زندگی اپنی نمود میں محدود نہیں۔ شاعری بھی اپنے
اظہار میں لاتعین ہے۔
اس
لحاظ سے مرزا کو ایک رب النوع تسلیم کرنا لازم آتاہے۔ غالب نے بزم ہستی میں جو
فانوس خیال روشن کیا ہے کون سا ’پیکر تصویر‘ ہے جو اس کے ’کاغذی پیرہن‘ پر منازل زیست
قطع کرتاہوا نظر نہیں آتا۔1
غالب
کی حیات وخدمات کا مطالعہ کریں تومعلوم ہوگا کہ غالب کی زیادہ تر تصنیفات فارسی میں
ہیں، اردومیںشاعری کا ایک دیوان اور خطوط کے دو مجموعے [عود ہندی اور اردوئے معلی]
ہیں۔تقربیاً سات تصانیف [’دیوان غالب فارسی‘ ، ’مہر نیم روز‘ ،’ دستنبو‘، ’قاطع
برہان‘، ’پنج آہنگ‘، ’نگارستان سخن‘، ’ قادر نامہ‘ ، ’لطائف غیبی‘ اور ’درفش کاویانی‘]
فارسی میں ہیں۔ لیکن غالب کے فکر وفن پر کتنی کتابیں لکھیں گئیں اس کا باقاعدہ کوئی
شمار نہیں ہے۔اگر ان کی حیات وخدمات پر منعقد سمینار ، سمپوزیم، رسائل نمبر اورتحقیقی مقالات کو چھوڑ
دیا جائے تو بھی یہ گنتی ہزارسے زائد ہے۔جو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ آخران
چند کتابوں میں ایسی کیا خوبی ہے کہ آج غالب کی وفات کے ڈیڑھ سو سال بعد بھی ان کی
ادبی خدمات کے اعتراف میں ادبی حلقوں اور تحقیقی اداروں میں وہی کروفر نظر آتاہے۔
اس کا ایک بہتر جواب یہ ہو سکتاہے کہ غالب کے’ گنجینۂ معنی کا طلسم‘ہی ایسا ہے کہ
ہرروز نت نئے معنی سامنے آتے ہیں۔
’غالب کی فکری حیات کا احاطہ کرنے کے لیے تمام بڑے ادیبوں اور
ناقدوں نے کوششیں کی ہیں۔ لیکن کسی بھی ادبی تحقیق کو حرف آخر کہنا درست نہیں
ہے۔بسا اوقات ایسے اہم گوشے غیر اہم بن کرپردۂ خفا میں رہ جاتے ہیں جن پر کسی
حصول (Achivment) کا انحصار ہوسکتاہے۔ مثلاً ماہرین غالبیات میں سے کسی ایک نے بھی اب
تک غالب کو ’فاصلاتی تعلیم کے بنیاد گزار ‘ کے طور پر نہیں دیکھا تھا۔ جس پر ’پروفیسر
صادق حسین‘ صاحب نے حال ہی میں ایک کتاب ترتیب دی ہے۔
ظاہر
سی بات ہے کہ شاعری اورخاص طور پر غالب کے کلام کی تفہیم جس میں ’بیان‘ اور’ معانی‘
کی وہ تمام صنعتیں موجود ہیں جو کسی فن پارے کا منتہیٰ ہوسکتی ہیں۔اس لیے ایسے قاری
کے لیے غالب کا کلام قدرے مشکل ہے؛جس کا تعلق ادب اورخصوصافارسی زبان سے نہ ہو۔ اس
حوالے سے شمس الرحمن فاروقی لکھتے ہیں:
غالب
کی فارسیت کا نمایاں وصف (لسانی اعتبار سے) اس کی پیچیدگی ہے اور (کیفیت کے اعتبار
سے) اس کی تجریدیت ہے۔ تجریدیت کا ذکر میں
تھوڑا بہت کرچکا ہوں۔ پیچیدگی سے میری مراد مرکبات میں ان الفاظ کا داخل کرنا ہے
جو بجائے خود ترکیب یافقرے کا وصف رکھتے ہیں۔ مثلا ’خوں شدہ‘ ایک فقرہ ہے۔ ’دل خوں
شدہ‘ ایک اور طرح کا فقرہ ہے۔ جب اس کو مرکب کیا تو ’دل خوں شدۂ کش مکش‘ کا فقرہ
بنا۔ اب اس کو پھر مرکب کیا اور ’دل خوں شدۂ کشمکش حسرت دیدار‘ کا فقرہ بنا۔ ’خوں
شدہ‘ کے اپنی معنی ہیں۔ ’دل ‘ فاعل بھی ہوسکتاہے لیکن اگر’دل خوں شدہ‘ کو ایک فقرہ
ماناجائے تو ’دل ‘ کی فاعلیت ختم ہوجاتی ہے ، اور یہ پورا فقرہ دوسرے مصرعے میں
’آئینہ‘ کی صفت بن جاتا ہے ظاہر ہے کہ محض توالی اضافت کے ذریعہ یہ بات نہیں حاصل
ہوسکتی۔ پیچیدہ فارسیت کی یہ صفت صرف غالب سے مخصوص ہے۔ انھوں نے اس کو اردو زبان
میں پوری طرح حل کرلیا ہے۔ جو لوگ مومن وغیرہ کی فارسیت کو غالب کے مقابلے میں
لاتے ہیں ، وہ اس نکتے کو نظر انداز کرجاتے ہیں کہ غالب کی فارسیت کا اصل جوہر اس
بات میں ہے کہ وہ ایسے فقروں کو مرکب کرتے ہیں جو خود ترکیب یا فقرے کا حکم رکھتے
ہیں، اور ان کے یہاں اکثر (جیسا کہ اوپر کی مثال سے واضح ہوا ہوگا) فارسیت دو مصرعوں میں نئے نئے ربط پیدا کرنے کا
عمل کرتی ہے۔ 2
چونکہ
اردو زبان در اصل عربی، فارسی اور ہندی کا آمیزہ ہے اور کم وبیش عربی اور فارسی
زبان کے الفاظ تمام شعرا کے یہاں موجود ہیں لیکن فارسیت کو جس طرح غالب نے اپنے
کلام میں برتاہے ؛اس کی تہہ تک عام قاری کی رسائی خاصی مشکل ہے۔ بعض اشعار تو اس
قدر پر پیچ ہیں کہ ان کے تلامذہ بھی اس کی تہہ تک نہیں پہنچ پاتے تھے۔ مولوی
عبدالرزاق شاکر کے نام غالب کے ایک خط کا اقتباس دیکھیں جس میں غالب نے خود اپنے
اشعارکے چند مصرعوں کی تشریح کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’پہلے
معنی ابیات بے معنی سنیے، ’نقش فریادی‘ الخ، ایران میں رسم ہے کہ دادخواہ کاغذ کے
کپڑے پہن کر حاکم کے سامنے جاتاہے۔ جیسے مشعل دن کو جلانا یا خود آلودہ کپڑا بانس
پر لٹکا کر لے جانا۔ پس شاعر خیال کرتاہے کہ نقش کس کی سوخی تحریر کا فریادی ہے کہ
جو صورت تصویر ہے ، اس کا پیرہن کاغذی ہے؟ یعنی ہستی اگر چہ مثل تصاویر اعتبار محض
ہو ، موجب رنج وملال و آزار ہے۔
’شوق
ہر رنگ، الخ‘رقیب، بہ معنی مخالف، یعنی شوق سروسامان کا دشمن ہے۔ دلیل یہ کہ قیس
جو زندگی میں ننگا پڑا پھرتاتھا، تصویر کے پردے میں بھی ننگا ہی رہا۔ لطف یہ ہے کہ
مجنوں کی تصویر باطن عریاں ہی کھنچتی ہے، جہاں کھنچتی ہے۔
’زخم
بے داد، الخ‘ یہ ایک بات میں نے اپنی طبیعت سے نئی نکالی ہے جیسا کہ شعر میں ،
شعر ؎
نہیں
ذریعۂ راحت، جراحت پیکاں
وہ
زخم تیغ ہے، جس کو کہ دل کشا کہیے
یعنی
زخم تیرکی توہین، بہ سبب ایک رخنہ ہونے کے اور تلوار کے زخم کی تحسین بہ سبب ایک
طاق ساکھل جانے کے، ’زخم نے داد نہ دی تنگی دل کی‘، یعنی زائل نہ کیا تنگی کو،
’پرافشاں‘، بہ معنی ’بے تاب‘ اور یہ لفظ تیر کے مناسب۔ حاصل یہ کہ تیر تنگی دل کی
داد کیا دیتا، وہ تو خود ضیق مقام سے گھبرا کر پرفشاں وسراسیمہ نکل گیا۔‘ 3
اس
اقتباس کے پہلے جملے پر غورکریں ’پہلے معنی ابیات بے معنی سنیے، ’نقش فریادی،الخ....‘
یعنی عبدالرزاق شاکر شعر کے اصل مفہوم تک نہیں پہنچ سکے۔جس سے واضح ہوتاہے کہ غالب
کے اشعار عام اور بسا اوقات خاص قاری کے لیے بھی مشکل ہیں اور ان اشعار کی تہوں میں
پوشیدہ مفاہیم تک رسائی ’غالب کی فکری جہات ‘ تک رسائی حاصل کرنے پر منحصر ہے۔اور
غالب کی فکری سطح تک پہنچنے میں غالب کے خطوط اہم ذریعہ ہیں۔ان کے مطالعے سے ان
پرپیچ الفاظ، تراکیب اوراصطلاحات کی گتھی سلجھتی ہوئی نظر آتی ہے۔یعنی تفہیم غالب
کے باب میںخطوط غالب [خصوصاً تلامذہ کے نام] وہ کلید ہیں جن سے ’غالب کے فکری
ابعاد‘روشن ہوتے ہیں۔
غالب
ایک شعر کے لیے ستر کنویں نہیں بلکہ تمام کنوؤں کو جھانکتے اوراس کی خشکی وتری کو
ٹٹولتے ہیں۔ ایک ایک لفظ کو علم کلام، علم عروض اور نحو وصرف کے میزان پر پرکھنے
کے علاوہ اساتذہ شعرا [خصوصا فارسی کے
شعرا]کے کلام کی کسوٹی پر تولتے ہیں۔پھر اس لفظ کے استعمال پرحتمی مہر ثبت کرتے ہیں۔مثال
کے طور پر منشی ہر گوپال تفتہ کے نام خط کا اقتباس دیکھیں ؎
’’چہ
گل چہ لالہ چہ نسترن مکنید
کیا
گلاب کا پھول، کیا لالہ، کیا موتیا، کیا چنیا [چنپا] نہ کرو، زنہار نہ کرو، یعنی کیا
نہ کرو؟ اب جب تمھیں کہو کہ صاحب ذکر نہ کرو، تب کوئی جانے ورنہ کبھی جانا نہیں
جاتا کہ ذکر نہ کرو۔ اے تم نے کہا بھی کہ ہمارا مقصود یہ ہے کہ ذکر نہ کرو۔ حضرت!
’ذکر‘ مضاف کیوں کر ہوسکتاہے؟
گل
ولالہ نسرین و نسترن کی طرف کہوگے کہ’ ذکر‘ کا لفظ نہیں ’بیان‘ کا لفظ اوپر کے
مصرع میں ہے۔ وہ ’بیان‘ کا لفظ رسوں سے اور زنجیروں سے ان چار لفظوں سے ربط نہیں
پاتا۔ مطلع لکھو، قطعہ لکھو، ترجیع بند لکھو، یہ مصرع معنیٰ دینے کا ہی نہیں، مہمل
محض ہے۔‘‘4
یعنی
شعری لفظیات کے حوالے سے غالب کا ایک خاص شیوہ ہے کہ الفاظ بے ربط اور مہمل نہ
ہوں، بلکہ لفظی اور معنوی دونوں سطح پر مربوط اورمتعدد ابعاد کے حامل ہوں۔مثال کے
طور پر(غزل)’نقش فریادی‘ کے مقطع کا شعردیکھیں ؎
میں
کہ ہوں غالب اسیری میں بھی آتش زیر پا
موئے
آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا
اس
شعرکے پہلے مصرعے میں لفظ ’اسیری‘ دوسرے مصرعے کے لفظ ’زنجیر‘ سے کنایۃً مربوط
ہے۔اسی طرح پہلے مصرعے میں ’آتش زیرپا‘ سے ’موئے آتش دیدہ‘ مربوط ہے ۔اس شعر میں
مستعمل الفاظ ’ موئے آتش دیدہ‘ اور ’حلقۂ زنجیر‘ کی ایک اور خوبی انفرادیت کے
باوجودیک کیفیتی نسبت ہے۔یعنی ’جھلسے ہوئے بال‘ اور ’زنجیر کی کڑی‘ کی شکل ایک جیسی
ہوتی ہے۔جس سے واضح ہوتاہے کہ اس شعرکے تمام الفاظ عمارت کی اینٹ کے مانند ایک
دوسرے سے بندھے اور نگوں کی طرح جَڑے ہوئے ہیں اور انھیں لفظوں سے وہ منظر
ابھرتاہے جو غالب ہمیں دکھانا چاہتے ہیں۔ چودھری عبدالغفور سرور کے نام خط کا ایک
اقتباس دیکھیں ؎
سبزئہ
خط سے ترا کاکل سرکش نہ دبا
یہ
زمرد بھی حریف دم افعیٰ نہ ہوا
’’قبول
دعا وقت طلوع منجملہ مضامین شعری ہے جیسے کتان کا پرتو ماہ میں پھٹ جانا اور زمرد
سے افعی کااندھا ہوجانا۔ آصف الدولہ نے افعی تلاش کرکے منگوایا اور قطعات زمرد اس
کے محاذی چشم رکھے کچھ اثر نہ ہوا۔ ‘‘5
اس
شعر میں ’سبزۂ خط‘، ’کاکل سرکش‘، ’زمرد‘ اور ’افعیٰ‘ چار الفاظ ہیں لیکن
چاروںاپنے مقام ، مرتبہ اور معنویت کے اعتبار سے ایک دوسرے سے ا س قدر مربوط ہیں
کہ ان میں سے کسی ایک لفظ کو بدلنے سے معنویت اور منظرکشی میں وہ خوبصورتی باقی نہیں
رہے گی جوابھی ہے۔یعنی ان چاروں لفظوں میں ایک طرف معنویت ہے تو دوسری طرف تشابہ۔یعنی
’سبزۂ خط‘ اور ’زمرد‘ میں ہریالی کی
مشابہت اور ’کاکل سرکش‘ اور ’ افعیٰ ‘ میں کالے پن کی مشابہت ۔غورکرنے کی بات یہ
بھی ہے کہ دونوں ہی مشابہتوں میں ’رنگ‘ کو اہمیت حاصل ہے اور دونوں رنگ اپنے اپنے
معنی کے اعتبار سے بے حد اہم ہیں۔ یعنی ’ناگ‘ کا رنگ کالا ہوتاہے اور ’کاکل‘ کالے
اور بڑے بال کو کہتے ہیں،جب کہ ’سبزۂ خط‘ ہریالی مائل ہوتاہے اور ’زمرد‘ کا رنگ
ہرا ہوتاہے۔یعنی ’زمرد‘ اور ’سبزۂ خط ‘ میں ہریالی کی مشابہت ہے۔اب ان سب سے الگ
ان کی کیفیت پر غورکریں کہ’ سبزۂ خط‘، ’ کاکل‘ کے نیچے ہوتا ہے جس سے ’سبزۂ
خط‘کا’ کاکل‘ سے دبنا لازم آتاہے۔لیکن خلاف عادت معنی پیداکرنے کے لیے جو ’زمرد‘
اور ’افعیٰ‘ کی تمثیل لائی گئی ہے وہ بڑے کمال کی ہے۔یعنی عام قاعدہ یہ ہے کہ
’زمرد‘ پتھر اگر ’ناگ‘ سانپ کے آنکھ کے سامنے پڑجائے تو وہ اندھا ہوجاتاہے۔ تو
’کاکل سرکش‘ جو ’افعیٰ‘یعنی ناگ سانپ کے مانند ہے ، اسے ’سبزۂ خط‘ پر نہیں لٹکنا
چاہیے تھا،لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اسی لیے
’افعی‘ کے سامنے ’زمرد‘ رکھنے سے ’افعی‘ اندھا نہ ہوا۔ یعنی معشوق عاشق کی
تمام تر تدبیر ات، قواعد وتوہمات کے باوجود رام نہ ہوسکا۔
مذکورہ
بالا توضیحات کامقصدیہ ہے کہ شعری اظہار خیال میں غالب کا اولین دستور ؛معنی کی
ابلاغ و ترسیل کے لیے مناسب لفظوں کا انتخاب ہے۔ان کے اشعار کا مطالعہ کریں تو کہیںکسی
لفظ پر ایسا احساس نہیں ہو گا کہ اس لفظ کے بجائے بھی کام چل سکتا تھا یا اس لفظ
کے بجائے یہ لفظ زیادہ موزوں ہوسکتاتھا۔مثال کے طور پر بوسہ کے لیے ’لب‘ کا
استعمال ہوتاہے۔ اس لیے غالب کے نزدیک بوسہ کے لیے ’زبان‘ کااستعمال بے قاعدہ اور
غیرموزوں ہے ۔سعدالدین خاں شفق ؔکے نام خط کا یہ اقتباس دیکھیں:
’’ایک
جگہ آپ تحریر میں سہو کر گئے ہیں
؎
ع اے مطرب جادو فن
بازم رہ ہوشم زن
دومیم
آپڑے ہیں، ایک محض بیکار ہے ’دیگر‘ کی جگہ آپ’ بازم‘ لکھ گئے ہیں۔
ع اے مطرب جادو فن دیگر
رو ہوشم زن‘‘6
مذکورہ
بالا پہلے مصرعے میں ’بازم‘ اور ’ہوشم‘ دو الگ الگ الفاظ ہیں لیکن دونوں میں ایک
حرف ’میم‘ کی تکرار ہے اس لیے تصحیح کرتے ہوئے لفظ ’بازم‘ کو اس کے بہتر متبادل میں
تبدیل کردیا۔اس تبدیلی سے ’صوتی تکرار‘ختم ہوگئی ہے۔اور متکلم کی بات بھی وہی رہی،اس
کی ابلاغ وترسیل میں میں کسی قسم کی رکاوٹ بھی پیدا نہیں ہوئی۔لفظوں کے انتخاب اور
تغیروتبدل کے حوالے سے ہی منشی شیو نرائن کے نام خط کا یہ اقتباس دیکھیں:
جو
لفظ ٹکسال سے باہر تھے وہ بدل ڈالے مثلا ’وے‘ کو، کہ یہ گنوارو بولی ہے ’وہ‘ یہ ٹھیٹ
اردو ہے، ’کرانا‘ یہ بیرو نجات کی بولی ہے ’کروانا‘ یہ صحیح ہے،’ راجے‘ یہ غلط ہے
’راجہ‘ صحیح ہے، کہیں کہیں روابط و ضمائر مربوط نہ تھے ان کو مربوط کردیا ہے۔7
اس
اقتباس سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ غالب لفظوں کے ایسے ماہرنباض ہیںجواس کے ظاہری
اور باطنی سقم کوایک نظر میںبھانپ لیتے ہیں۔ ایک ماہرشیشہ گر کی طرح آہستگی اور
ہنرمندی سے وہ سب کرجاتے ہیں جس سے’الفاظ‘ عیوب،قبح وسقم سے مشفا (صحت مند ) اورمعانی کی تہ در تہ پرتوں
کے متحمل ہوجاتے ہیں ۔
شاعری
میںلفظی ارتباط اورمعنوی ہم آہنگی کو بڑی اہمیت حاصل ہے اس لیے اگر کسی شعر میں
لفظی یا معنوی طور پر بے ربطی ہو اور مقصدیت غیر واضح ہو تو وہ شعر موثرنہیں
ہوگا۔اس لیے یہ کہنا درست ہے کہ غالب کا شعری نظریہ ورجل کے نظریے[ ’جس طرح ریچھنی اپنے بدصورت بچے
کو چاٹ چاٹ کر خوبصورت اور چمکدار بنا دیتی ہے اسی طرح شاعر وں کو اپنی تخلیقات کو
مختلف زایوں سے دیکھنا اور سنوارنا چاہیے۔] سے قریب ہے۔ اس حوالے سے تفتہ کے نام
خط کا ایک اقتباس ملاحظہ ہو:
’’میں
نے مانا تمھاری شاعری کو میں جانتا ہوں کہ کوئی دم تم کو فکر سخن سے فرصت نہ ہوگی۔
یہ جو تم نے التزام کیا ہے ترصیع کی صنعت کا اور دولخت شعر لکھنے کا، اس میں ضرور
نشست معنی بھی ملحوظ رکھو، اورجو کچھ لکھو اس کو دوبارہ سہ بارہ دیکھا کرو‘‘ 8
مذکورہ
بالا اقتباس پر غورکریں تو معلوم ہوگا کہ غالب نے ’نشست معنی‘ کے ساتھ ساتھ ’جو
لکھا اس کو دوبار، سہ بار دیکھا کرو‘ کی بھی تلقین ہے۔یعنی شاعری صرف ہم وزن الفاظ
کو کسی ایک بحر اور قافیے کے التزام کا نام نہیں ہے بلکہ اس کی خوبصورتی ’اچھے
الفاظ میں اچھے مفہوم‘ کی ترسیل ہے۔ اور یہ خصوصیت ریچھنی کے اسی عمل کی متقاضی
ہے۔یعنی اچھی شاعری کے لوازمات میں موزونی طبع ،وسعت مطالعہ اور تفحص الفاظ کواول
درجے کی اہمیت حاصل ہے۔ایک اچھے شاعرکی طبعی افتاد اور لگن اس کے کلام پر آوردو
اکتساب کے رنگ نہیں چڑھنے دیتی۔مرزا حاتم علی مہر کے نام غالب کے خط کاایک اقتباس
ملاحظہ ہو:
’’سنوصاحب!
شعرا میں فردوسی اور فقرا میں حسن بصری اورعشاق میں مجنوں، یہ تین آدمی تین فن میں
سر دفتراور پیشوا ہیں، شاعر کا کمال یہ ہے کہ فردوسی ہوجائے، فقیر کی انتہا یہ ہے کہ حسن بصری سے ٹکر کھائے،
عاشق کی نمود یہ ہے کہ مجنوں کی ہم طرحی نصیب ہو۔‘‘ 9
یعنی
جس کی شاعری میں فردوسی کی صفات در آگئیں اس کا کلام کسی کے داد و دہش کا محتاج نہیں
ہوگا۔بلکہ اس قسم کی شاعری بذات خود قاری وسامع سے آہ! اور واہ! کہلوانے کی متحمل
ہوگی۔’غالب کی یہی وہ شعری فکر ہے‘ جس کی بدولت وہ اپنے خیالات کو نت نئے پیراہن میں
ملبوس کرتے ہیںاورلفظوںکی قلم سے جو نقاشی کرتے ہیںاس میں بہزاد اور معانی سے کہیں
آگے ہوجاتے ہیں۔شہید صفی پوری لکھتے ہیں:
’اگر
ہم غالب کے تخلیقی ذہن کو ایک ایسی کھٹال سے تشبیہ دیں جس میں دو کم قیمت کی
دھاتوں کو گلا کر ایک نئی قیمتی دھات تیار کی جاسکتی ہے تو بالکل درست ہوگا۔ کیمیا
گر اپنی ہر کوشش میں سونا بنانے میں کامیاب نہیں ہوتا۔ وہ سونا بنانے میں اسی وقت
کامیاب ہوتا ہے جب اسے دھاتوں کے تناسب امتزاج اور حرارت کے نقطہ توازن کا تجربات
کے بعد اندازہ ہوجاتا ہے۔ غالب کی گرمی فکر نے ان کے ذہن میں اردو اور فارسی دونوں
زبانوں کو پگھلایا ، ابتدا میں جو مرکب تیار ہوا وہ ادنی درجہ کا تھا اور اس کی
کوئی قیمت نہیں تھی لیکن ان کی فکرنے ان کو پگھلا کر ایسا یکجان کردیا کہ اس سے نئی
تخلیقی زبان تیار ہوگئی جس نے اردو شاعری کو وسعت دی، زبان کو وسعت دی اور فکر کی
جولاں گاہ کے لیے نئے نئے میدان فراہم کردیے۔‘10
لغات
غالب کے حوالے سے شان الحق حقی لکھتے ہیں:
’لغات
کلام غالب کا امتیازی عنصر وہ لفظی اختراعات اور پر تخیل تراکیب ہیں جو انھیں سے
مخصوص ہیں، اور بعض کا اتباع بھی ہوا، یعنی جزو زبان بن گئیں یا کتابوں کے عنوانات
کے طور پر مستعار لی گئیں۔ ‘ 11
مختصر
یہ کہ ’غالب کا گنجینہ معنی لفظوں کاوہی طلسم ہے جس کی بدولت ہر وہ خیال پیدا کرنے
پر قادر ہیںجو وہ پیش کرنا چاہتے ہیں۔پیکر تراشی، مضمون آفرینی اور تخیلاتی سیر سب
کچھ انھیں لفظوں کی بازی گری اور الٹ پھیرپر مبنی ہے جس کی بندش، نشست اور موزونیت
الہامی کیفیت پیدا کرتی ہے۔معانی کی ترسیل کے لیے وہ مفرد الفاظ کے علاوہ ایسے ترکیب
بندالفاظ خلق کرتے ہیں جن میں معنی آفرینی بھی ان کے تخیل پر مبنی ہوتی ہے۔ گویا
کہ وہ لفظوں کے ابعاد سے کماحقہ واقف ہیں اور کسی بھی مفرد یا مرکب لفظ کے اسی بعد
(Dimention) کو استعمال کرتے ہیں جو بے جوڑ ہو۔
حواشی
1 محاسن کلام
غالب،عبدالرحمن بجنوری، ص 09-10، سن ندارد
2 شعر شور انگیز،
شمس الرحمن فاروقی ،ص 83، مطبوعہ قومی کونسل برئے فروغ اردو زبان، دہلی
3 فاصلاتی تعلیم
کا بنیاد گزار غالب، پروفیسر صادق حسین، ص 77-78،مطبوعہ، ایجوکیشنل پبلشنگ
ہاؤس، نئی دہلی۔2023
4 اردوئے معلی
:مجموعہ خطوط غالب، رفاہ عام اسٹیم پریس لاہور،1930؍
ص286
5 ایضاً، ص286
6 ایضاً، ص251
7 ایضاً، ص284
8 ایضاً، ص 63
9 ایضاً، 202
10 غالب کی تخلیقی تخیل،
ص 204-205 ، شہید صفی پوری، مطبوعہ ادارہ فروغ اردو لکھنؤ، 1969
11 آئینہ افکار غالب،
شان الحق حقی، ص 87، مطبوعہ ادارہ یادگار غالب کراچی،2001، پاکستان
Dr. Abdur Rahman
Assistant Professor
Rajendra College
Jai Prakash University
Chapra-831301
Mob: 9990552498
Email: rahman11007@gmail.com

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں