7/1/26

دورِ حاضر میں پریم چند مطالعہ کی نئی جہتیں،مضمون نگار: صغیر افراہیم

اردو دنیا،اکتوبر 2025 

راشد الخیری، دیانرائن نگم، پنڈت جناردھن جھا اور نیاز فتح پوری سے لے کر کمل کشور گوئنکا اور پردیپ جین تک، تقریباً 100 برس کے دوران پریم چند پر مختلف زاویوں سے کام ہوا ہے۔ ابتدامیں رومانیت اور حقیقت پسندانہ رجحانات کے تحت، پھر طویل عرصہ تک مارکسوادی نقطہ نظر سے پریم چند، اور ان کی افسانوی تخلیقات کا عمیق مطالعہ کیا گیاہے۔ جدید رویوں کے حامل دانشورانِ ادب نے اگرچہ پریم چند پر کم اور ان کے ناقدین پر زیادہ گفتگو کی ہے لیکن انھوں نے بھی یہ تسلیم کیا ہے کہ:

1.        پریم چند کا ذہن ارتقا پذیر تھا۔

2.       وہ ماضی اور حال کے اکثر رجحانات اور تقاضوں سے واقف تھے۔

3     .ان کا فن حالات کے ساتھ ترقی کررہا تھا۔

4     .ان کے خیالات رونما ہونے والے واقعات کی رفتار کا ساتھ دے رہے تھے۔

5     .وہ عوام کی روح میں اتر کر، ان کے لرزتے، دھندلے اور سہمے خوابوں کو دیکھتے                  اور دِکھاتے تھے۔

6     .کسانوں، مزدوروں اور عورتوں کو استحصالی نظام کے مایا جال سے نکال کر، ایک بہتر اور پرسکون زندگی عطا کرنا چاہتے تھے۔

موضوع کی سطح پر کائنات سے ذات تک سمٹنے اور پھر ہیئتی اور لسانیاتی اعتبار سے انھیں دیکھنے کے عہد، یعنی 1980 کے آس پاس سے پریم چند کے غیر افسانوی ادب کو بھی مختلف اور متضاد زاویوں سے پرکھا جارہا ہے، اس میں سرفہرست سیلیش زیدی، مدن گوپال، پردیپ جین اور کمل کشور گوئنکا ہیں۔ کمل کشور گوئنکانے اپنی کتاب ’پریم چند ادھین کی نئی دِشائیں‘1 کے ذریعہ آواز بلند کی، کہ فکروفن کے کئی ایسے پہلو ہیں جو تشنہ ہیں اور خصوصی توجہ کے مستحق ہیں۔ کمل کشور2 جو ابھی پچھلے ماہ (یکم اپریل 2025) ہم سے رخصت ہوئے ہیں، پریم چند کے مطالعہ کی کئی نئی جہتوں کی نشاندہی کرتے ہوئے جدّت طبع، اسالیبِ بیان، تکنیکی رجحانات، کرداروں کی آویزش پر زور دیا، نیز تہذیبی وتاریخی تضاد وتصادم کے لحاظ سے بھی تحقیق وتنقید کو مزید استحکام بخشا۔3 ان کی وسیع النظری اور ہشت پہل کاوشوں نے ہمیں احساس دلایا ہے کہ افسانوی ادب کے علاوہ پریم چند کے غیر افسانوی ادب کابھی یکسوئی اور دلجمعی سے، مطالعہ کرنا ہوگا، اور تلاش و تحقیق کے بعد دستیاب تحریروں کی تفصیلات کو cross check کرنا ہوگا۔ یہ مطالعہ (مضامین، تبصرے، انشائیے، ترجمے، خطوط، اداریے، کالم) 4بعض غلط فہمیوں کے ازالہ کے ساتھ پریم چند کے خواب کی تعبیر اور تعمیر میں مزید معاون ثابت ہوسکتا ہے۔

انشائیے، تراجم، خطبات، مکتوبات پر کام کرتے ہوئے، پریم چند ایک ادیب،نقاد اور صحافی کی حیثیت سے بھی سامنے آتے ہیں۔ اِن نئی جہتوں کے وسیلے سے مابعد جدید دانشوروں نے واضح کیا ہے کہ ’عیدگاہ‘ محض بچوں کی نفسیات پر مبنی کہانی نہیں، غربت وامارت کا استعارہ بھی ہے اور اس کی نئی قرأت سوال قائم کرتی ہے کہ فطرہ کی رقم درِّیتیم حامد کو کیوں نہیں مل سکی؟ بے بس اور مفلس امینہ نے اپنے اور اپنے پوتے کی گزر بسر کے لیے ہاتھ پھیلانے کے بجائے محنت ومزدوری کو کیوں ترجیح دی؟ بھشتی، وکیل، سپاہی جیسے کرداروں کے مابین لوہے کا چمٹہ کیاتازیانے کی شکل اختیار کرسکتاہے اور فولادی’دستِ پناہ‘ عوامی اقتدار اور جمہوری نظام کی بشارت ثابت ہوسکتاہے؟ اسی طرح افسانہ ’کفن‘ پر سوال قائم ہوا ہے کہ یہ کس کردار کا کفن ہے؟ گھیسو، مادھو، زمیندار یا سلیقہ سے نِکموںکا پیٹ پالنے والی بدھیا کا، یا اس کے پیٹ میں پلنے والے معصوم کا، یا پھر حقائق سے چشم پوشی اختیار کرنے والے مہذب معاشرہ کا؟

دورِ حاضر کے کمل کشور گوئنکا جیسے معدودے چند ناقدین کی مسلسل جاں فشانی، تلاش و جستجو او ر بے باکانہ اظہار پریم چند شناسی کے نئے در کھول رہا ہے۔ انھوں نے اردو اور ہندی کی تحریروں کے اعداد وشمار، عمومی جائزے اور تبصرے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ دھول سے اٹی ہوئی فائلوں میں بند راز ونکات اور گم ہوجانے والے شہ پاروں کو ازسر نو تلاش کیا۔ مثلاً ہائی اسکول کے نصاب میں شامل ہونے والی پریم چند کی مرتبہ کتاب ’باکمالوں کے درشن‘ پر درجنوں سوالات قائم کیے۔ الہ آباد کے مشہور اردو ناشر رام نرائن نے جب اسے 1929میں شائع کیا تو اس کی خوب واہ واہ ہوئی۔ نگراں کمیٹی نے کیوں اعتراض جتاتے ہوئے پریم چند کو کچھ مشورے دئیے؟ نیز دو سال بعد کیوں اس شور کی روشنی میں ترمیم وتنسیخ ہوئی؟ وغیرہ وغیرہ۔

1980 سے قبل پریم چند کے اکثر ناقدین نے اپنے محققانہ اور ناقدانہ فن پاروں میں اس پر زور دیا کہ پریم چند کے افسانوں، ناولوں اور ڈراموں میں ان کے عہد تک کے ہندوستان کے معاشی، سیاسی، طبقاتی اور عوامی کشمکش کا واضح اور تابناک نقشہ ملتا ہے۔ بلاشبہ یہ زاویۂ نگاہ درست ہے کہ پریم چند نے قصہ کہانیوں کو محلوں سے نکال کر چوپال تک پہنچایا۔ شہزادیوں، شہزادوں اور امیر زادوں کی جگہ عوام کو مرکزیت عطا کرتے ہوئے غوروفکر، جدوجہد و عمل کے نئے کینوس اجاگر کیے، لیکن کیا پریم چند کی ادبی خدمات کا دائرہ یہیں تک محدود ہے؟ انھوں نے نثر کی تقریباً ہر صنف میں فن کا کمال دکھایا ہے۔ اِس لیے دورِ حاضر کے باشعور ناقدین اور محققین، ان کی تمام نگارشات کی درجہ بندی5کرتے ہوئے مطالعہ کی نئی نئی جہتیں تلاش کررہے ہیں۔ یہ وہ جہتیں ہیں جن پر ماضی میں کم توجہ دی گئی تھی۔ یہ مطالعہ اپنی جگہ بہت اہم اور قابلِ رشک ہے۔ پریم چند کے مضامین پر گوئنکاکی طرح یکسوئی اور دلجمعی سے کام کرنے سے ظاہر ہوا کہ اہم شخصیات پر ان کے 27 مضامین ہیں جو ’زمانہ‘، ’آوازِ خلق‘، ’اردوئے معلی‘ کی فائلوں میں موجود ہیں۔ ان میں اگر اکبر اعظم ہیں تو رانا پرتاپ بھی، کالی داس ہیں تو شیخ سعدی بھی، شرر و سرشار ہیں تو بہاری اور بھارتیندو بھی۔ شخصیات کے علاوہ 28 تنقیدی مضامین ہیں جومعروف ادیبوں کے فن پاروں پر لکھے گئے ہیں۔ ناول کا فن، ناول کا موضوع، مختصر افسانے کا فن، انشائیے اور صحافت کافن جیسے موضوعات بھی ان میں جلوہ گرہیں۔

صحافت کے آداب سے واقف اس فنکار (پریم چند) کو، پنڈت بدری ناتھ سدرشن، جگت موہن لال رواں اور ثاقب کانپوری کے مشورے سے رسالہ ’زمانہ‘ اور اخبار ’آواز خلق‘ کا اعزازی معاون مدیر بنایا گیا تھا۔ پریم چند نے بھی رسماً نہیں صحافت کے رموز ونکات کا پورا لحاظ رکھتے ہوئے ذمہ داریاں ادا کیں۔ افسانہ اور حقیقت کو ایک دوسرے میں تحلیل کردینے والا یہ فنکار اپنے ایک افسانہ ’موت کے بعد‘ میں اخبار نویسی کو بنیادی موضوع بناتا ہے تو دوسرے افسانہ ’لعنت‘ میں ایڈیٹر کے فرائض سے اپنے قارئین کو دلچسپ انداز میں آگاہ کرتا ہے۔ انداز سادہ مگر طنز ملیح لیے ہوئے ہے۔ موجودہ میڈیا اور آج کے صحافی کو ان مضامین کے گہرے مطالعہ کی ہی نہیں، انھیں آگے بڑھانے اور عوام تک پہنچانے کا فریضہ بھی ادا کرنا چاہیے۔

جہانِ پریم چند‘ میں اس کا ذکر ضمنی طور پر آتا ہے کہ پریم چند نے گاندھی جی کی تقریر سے متاثر ہوکر سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ غور کیجیے تو یہ سرفروشی، جاں نثاری اور حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ایک بڑا مجاہدانہ عمل ہے۔ انھوں نے کسی مجبوری کے تحت نہیں بلکہ سوچ سمجھ کر، 15فروری 1921 کو نوآبادیاتی نظام کی جابرانہ قوت کے خلاف، بطور احتجاج استعفیٰ دیا تھا۔ اِس کے بعد انھوں نے ایک نئے عزم و حوصلہ کے ساتھ بنارس کے ادبی رسالہ ’مریادا‘ اور گیان منڈل کے روزنامہ ’آج‘ سے تعلق قائم کیا اور آخر میں (1923 میں)سرسوتی پریس (بنارس ) سے رشتہ جوڑا۔ ماہنامہ ’ہنس‘ اور ہفتہ وار ’جاگرن نکالا‘،وہ ’مادھوری‘ اور ’پرتاپ‘ میں بھی کام کرتے رہے اور ایک باشعور فکشن رائٹر کی طرح، صحافتی تحریروں میں بھی طبقاتی تقسیم پر بے باکانہ طور پر لکھتے رہے۔ ان کے ڈیرھ سو کالموں اور ساڑھے چار سو اداریوں میں ڈاکٹر شانتی کمار (میدانِ عمل) کے کردار کابھی عکس نظر آتا ہے اور ٹھاکر درشن سنگھ (صرف ایک آواز) کی گونج بھی سنائی دیتی ہے۔ چھوٹے چھوٹے بامعنی اداریوں میں ہوری، دھنیا، گوبر، جھونا، سلیا، ہرکھو، ماتادین اورداتادین (گئودان) کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں تو ناول ’چوگانِ ہستی‘ کا سورداس، عدم تشدد کے استقامت کا استعارہ اور صحافتی رنگ میں مستحکم فریاد فغاں نظر آتاہے۔ ’دودھ کی قیمت‘ کا منگل، ’نجات‘ کا دکھی اور ’سواسیرگیہوں‘ کاشنکر کرپشن، اقرِباپروری، انسانی حقوق کی خلاف ورزی بلکہ تاناشاہی کی نشاندہی کرتے ہوئے انقلابی چولے کو چننے کا احساس دلاتے ہیں۔

نواب رائے اور دھنپت رائے کو پریم کے ساگر میں ڈبودینے والا پریم چند مختلف جہتوں اور زاویوں سے ادبی خدمات انجام دیتا رہاہے۔ اس عظیم فنکار کی تمام تحریروں کا معروضی مطالعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کی تحریریں ہر دور کی نمائندہ تحریروں میں شمار کیے جانے کے لائق ہیں اور یہی بڑے فنکار کی عظمت کا راز ہے۔ ان میں نوآبادیاتی نظام سے عالمگیریت کی ذومعنی ترقی کاہرعکس تلاش کیا جاسکتاہے۔ پریم چند نے دیہی اور قصباتی ماحول میں ’نیکی کردریا میں ڈال‘ کے اس منظر نامہ کو بھی اجاگر کیا ہے جہاں کسی پر نیکی کرکے احسان جتانا معیوب سمجھا جاتا تھا۔مگر آج، خاص طور سے کووِڈ-19 کے بعد، صاحبِ اقتدار افراد بلکہ ترقی یافتہ اشخاص کا احسان جتانے کا رویہ، پریم چند کے زاویۂ نگاہ سے بہت بدلا ہوااور تضحیک آمیز محسوس ہوتاہے۔ دراصل ہمارے عہد کے یہ وہ نمائشی بہی خواہ ہیں جو اپنی شناخت اور پہچان بنانے کے لیے دوسروں کی انفرادیت کو ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ غور کریں تو اعلیٰ ڈگریوں کے بوجھ تلے دبا ہوا، ہمارا یہ معاشرہ، بالواسطہ طور پر، پریم چند کی اِفادیت، اہمیت اور معنویت کو مزید مستحکم کرتاہے۔

قلم کے اِس مزدور نے تمام عمر تعلیم وتربیت کو فوقیت دی، محض ڈگری کو نہیں، اِس عمل سے چشم پوشی کا نتیجہ آج سامنے ہے۔ مختلف جہتوں سے ان کا مطالعہ نمایاں اظہار ہے کہ پریم چند کے لیے صبح بنارس اور شامِ اودھ ایک سمان ہیں۔ وہ مدن گوپال کو لکھتے ہیں کہ ’’میں اردو میں تخلیق کرتا ہوں۔ میری صبح ہندی کے لیے اور شام اردو کے لیے ہے‘‘۔ محمد عاقل سے کہتے ہیں ’’کبھی میں اردو میں پہلے لکھتا ہوں اور اس کا انوواد کرتا ہوں اور کبھی ہندی میں لکھتا ہوں اور بعد میں اس کا اردو ترجمہ کرتا ہوں‘‘۔

گاؤں، قصبہ، شہر کو ایک مثلث کی شکل دیتے ہوئے، وہاں کی سوندھی سوندھی خوشبو کے ان گنت سہانے خواب دیکھنے والا پریم چند، آج کی نقل مکانی کے اسباب کو دیکھ کر شاید مزید بے چین ہو اٹھتا۔ علم کی بے قدری، خواتین کی زبوں حالی، مزدوروں کی تنگ دستی اور کسانوں کی کسمپرسی کے ماحول میں، رشوت خوری اور لوٹ مار کے نئے نئے طریقے، مسیحائی کے منصب پر فائز عملے کی بے توجہی، انتظامیہ کی بے بسی کے منظر نامہ میں بڑھتے ہوئے واقعات بلاشبہ انھیں تلملادیتے۔ شدت سے ابھرنے والا یہ شعوری اور لاشعوری احساس ان کی مختلف تحریروں کے معروضی مطالعے پر، عصرِ حاضر کے دانش وروں کو مزید لکھنے پر آمادہ کررہا ہے۔ یہاں میں ماضی اور حال کو مربوط کرنے والی چند مثالوں پر اکتفا کرنا چاہتا ہوں۔ پریم چند کی 12مارچ 1934کے ’جاگرن‘ میں شائع ہونے والی تحریر ’بیکاری کیسے دور ہو‘ ہر حساس ذہن میں آج بھی تیر کی طرح چبھتی ہے۔ 31جولائی 1933 کے ’جاگرن‘ میں ’رشوت کی گرم بازاری‘ کے عنوان سے قلم بند کی گئی تحریر کو اگر ہم اپریل 1931 کے ساہتیہ سمالوچک کے لیکھ ’ہمارے نیتاؤں کی بہکی باتیں‘ سے منسلک کریں تو بدلتے ہوئے منظر نامہ کی دھند صاف ہوتی دکھائی دے گی۔ مطالعہ اور مشاہدہ اس کا غماز ہے کہ پریم چند کاماہنامہ زمانہ، کانپور کے فروری 1906 کے شمارہ میں شائع ہونے والا طویل مضمون ’ڈراما جنگ روس وجاپان‘ پہلی جنگِ عظیم کا نقیب بنتا ہے تو 28سال بعد 19فروری 1934 کے ’جاگرن‘ میں چھپنے والا کالم ’روس اور جاپان میں تناؤ‘ دوسری جنگ عظیم سے بچنے کا اشاریہ محسوس ہوتا ہے کیونکہ ایک سال پہلے وہ 10اپریل 1933 کے ’جاگرن‘ میں بعنوان ’جرمنی میں یہودیوں کا اتّیاچار‘ قلم بند کرچکے تھے۔

پریم چند کی دور رسی، دور بینی اور انسانی ہمدردی سے لبریز ’جاگرن‘ میں شائع ہونے والی تحریریں خصوصاً 15اکتوبر 1932، 22مئی 1933 اور 26اکتوبر 1934 کے بالترتیب یہ کالم :

  1.         مولانا شوکت علی کی گہری سوجھ بوجھ
  2.         سچی راج نیتی
  3.   سورگیئہ مولانا محمدعلی کافارمولہ

تخصیص وتمیز کو منہدم کرتا ہے اور ان کے لیے تازیانہ ثابت ہوتاہے جنھیں توہم پرستی، اندھی عقیدت مندی سے وابستہ رِوایتوں کی زیادہ فکر ہے، بدحال عوام، کسان اور مزدور کی نہیں۔ پریم چند نے ستمبر 1924  میں کانپور سے شائع ہونے والے ’پرتاپ‘ میں شری کرشن کے یوم پیدائش پر لکھے اپنے مضمون میں ’ہندو مسلم پرشن‘ کو ایک اہم مگر نہایت وسیع دائرے میں دیکھاتھا۔ استفہامیہ نکات کے اسباب وعلل بھی بتائے تھے مگر ہمارے پاس اتنا حوصلہ کہاں کہ اس نسخہ کو ہم اپنی عملی زندگی کا حصہ بناسکیں۔

میں اپنی بات کو ’ہنس‘ دسمبر 1933 میں شائع ہونے والے پریم چند کے مضمون ’جیون اور ساہتیہ میں گھِرنا کا استھان‘ پر ختم کرنا چاہتا ہوں جس کے مطالعہ، اور جس پر عمل کی آج شدید ضرورت ہے۔ اس کے ذریعے تفریق کی دیواریں منہدم ہوسکتی ہیں۔ کیونکہ تفریق کے ہر پہلو نے ہمیں گہرے زخم دئیے ہیں۔ لیکن یہ کیا کم خوشی کی بات ہے کہ انسانیت، محبت اور علم وفن سے بے لوث لگاؤ رکھنے والے آج یکجا ہوکر، مجاہد فکروعمل، منشی پریم چند کو خلوصِ دل سے یاد کررہے ہیں اور ان کے مطالعہ کی نئی نئی جہتیں تلاش کررہے ہیں، شاید اس وجہ سے بھی کہ ادب نواز فنکاروں اور دانشوروں نے سمجھ لیا ہے کہ اب محض عقیدت اور مفروضوں سے بات بننے والی نہیں ہے۔ صارفیت اور عالمگیریت کابڑھتا ہوا تصور،زندگی اور متعلقاتِ زندگی کو براہِ راست متاثر کررہاہے۔ خوشی کی بات ہے کہ اردو ہندی ادب میں بھی عالمی ادب کی طرح متنوع تبدیلیاں ہورہی ہیں۔ ایسے میں مکمل طور سے ہندوستانی افکار وخیالات اور تہذیب وتمدن کے عکاس کے طور پر اپنے قد کو مزید بلند کرنے والا یہ فنکار نہ صرف عصری تقاضوں پر پورا اترتا ہے بلکہ مطالعہ پریم چند کی نئی جہتوں کی جانب دانشورانِ ادب کو راغب بھی کررہا ہے، اس سے ترسیل وتفہیم کے نئے در کھل رہے ہیں۔ کتابوں سے دوری قائم ہوتے ہوئے اِس دور میں بھی مطالعہ کی نئی نئی جہتوں کی تلاش پریم چند کے افکار ونظریات کے زندہ وتابندہ ہونے کی سب سے بڑی مثال ہے۔

 

حواشی

  1.        1981میں شائع ہونے والی اس کتاب کے تعلق سے گوئنکا نے مقدمہ میں تفصیل سے جدید افکار ونظریات کے تعلق سے لکھا ہے اور برتی جانے والی کوتاہیوں پر سخت تنقید کی ہے۔ کتاب کا دوسرا ایڈیشن ترمیم وتنسیخ کے ساتھ 2007 میں شائع ہوا۔ اس اہم کتاب کا ترجمہ این سی پی یو ایل کے توسط سے محمدصغیر حسین نے کیا۔ عالمی یوم کتاب کے موقع پر (23اپریل 2025) ڈاکٹر شمس اقبال (ڈائریکٹر این سی پی یو ایل) نے بڑے تزک واحتشام کے ساتھ اس کا اجرا کرایا۔
  2.        بلند شہر کے مارواڑی پریوار میں کمل کشور 11اکتوبر 1938 کو پیدا ہوئے۔ 1961 میں دہلی یونیورسٹی سے ہندی میں ایم اے کیا۔ 1972 میں اِسی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لی۔ موضوع تھا ’پریم چند کے اپنیاسوں کا شِلپ وِدھان‘۔ 1984میں رانچی یونیورسٹی سے پریم چند کے جیون پر ڈی لٹ کی سند حاصل کی۔ وہ 1962سے مسلسل لکھتے رہے ہیں۔ 1974 میں ان کی پہلی کتاب جس نے شہرت حاصل کی، وہ ان کا تحقیقی مقالہ تھا جس میں انھوں نے روایتی انداز سے الگ ہٹ کر پریم چند کے ناولوں کی ہیئت اور فن پر مدلل بحث کی تھی اور لسانیاتی خوبیوں کو اجاگر کیا تھا۔ فنی نزاکتوں اور طریقِ کار کے برتنے کے انداز کو جس طرح انھوں نے پیش کیا ہے بعد میں اس کی پیروی کی گئی۔ دراصل ان کی پوری زندگی جدید تحقیق وتنقید کی آئینہ دار ہے۔
  3.        شاعر، محقق، نقاد، صحافی، ڈرامہ نویس کے علاوہ کمل کشور نے بچوں کے ادب کو بھی موضوع بنایا ہے مگر ان کی اصل شہرت کا باعث پریم چند پر ان کا اعلیٰ درجہ کام ہے۔ ’پریم چند کا آپریاپت ساہتیہ‘ اور ’پریم چند وِشوکوش‘ نے ادبی حلقہ میں ہلچل مچائی ہے۔
  4.        (i)مضامین: 28سوانحی (اردو میں) 10 تنقیدی مضامین اردو میں، 18ہندی میں

          (ii) تبصرے: 17 (اردو میں)

          (iii) انشائیے:32(اردو میں 13، ہندی میں 19)

          (iv) اداریے: 450(آج، مریادا، ہنس،جاگرن وغیرہ میں)

          (v) کالم: 150(مادھوری، پرتاپ، جاگرن، ہنس وغیرہ میں)

          (vi) خطوط: 695(اردومیں 465، ہندی میں 225، انگریزی میں 5)

5.   (vii) ترجمے:10 اگر صرف پریم چند کے خطوط کی ہی شیرازہ بندی کی جائے تو اردو میں 465، ہندی میں 220، اور انگریزی میں لکھے گئے پانچ خط دستیاب ہیں۔ شخصیات کے نام 660، ایڈیٹر یا ادارے کے نام 23، اور بغیر نام کے 7خط مدن گوپال نے یکجا کیے ہیں۔ کمل کشور نے اِس جانب توجہ دلائی ہے کہ 58 لوگوں کے نام لکھے گئے خطوط میں محض دیانرائن نگم کے نام 350مکاتیب ہیں۔

 

Prof.  Sagheer Faraheim

Ex. Department of Urdu

Aligarh Muslim University

Aligarh- 202001 (UP)

Mob.: 9358257697

s.afraheim@yahoo.in


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تازہ اشاعت

ابواللیث جاوید کے افسانوں کے امتیازات،مضمون نگار:آصف سلیم

  اردو دنیا،اکتوبر 2025 معاصر افسانوی منظرنامے میں ابواللیث جاوید منفرد اور جداگانہ طرزِ تحریر کی بدولت ایک الگ شناخت رکھتے ہیں۔ 1970 کے قری...