7/1/26

اردو زبان کا ڈیجیٹل چہرہ،مضمون نگار: محمد آصف رضا

 اردو دنیا،اکتوبر 2025

بلاشبہ زبان محض اظہار خیال کا ذریعہ نہیں بلکہ تمدن کا آئینہ، ثقافت کا زینہ اور تہذیب کی معنوی روایت ہوتی ہے،جو قوموں کے احساسات و جذبات کی عکاسی کرتی ہے۔ اردو زبان، جس کی تشکیل و تعمیر مختلف تہذیبوں و ثقافتوں کے میل جول سے ہوئی تھی، وہی زبان آج ایک ایسے گردشِ ماہ و سال میں داخل ہوچکی ہے جہاں ڈیجیٹل دنیا نے اس کے لسانی خد و خال کو نئی سمت و رفتار عطا کی ہے۔ سوشل میڈیا کی برقی دنیا میں اردو محض الفاظ کا مجموعہ نہیں رہ گئی ہے بلکہ ایک تخلیقی اظہار، ایک صوتی و بصری تجربہ اور ایک نئی فکری ترنگ بن چکی ہے۔

 اردو زبان کا یہ سفر جو کبھی دہلی اور لکھنؤکی گلیوں، درباروں اور شعری نشستوں  سے ہوتا ہوا طباعت کے میدان میں داخل ہوا تھا، آج ایک نئی دنیا کی ڈیجیٹل فضا  میں سانس لے رہا ہے۔اکیسویں صدی کا آغاز دنیا بھر میں ڈیجیٹل انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔جب موبائل فون عام ہوئے، انٹرنیٹ ہر ہاتھ تک پہنچا، اور سماجی رابطوں کے مختلف پلیٹ فارم وجود میں آئے،تو زبان کا ایک نیا چہرہ، ایک نیاروپ ابھرنے لگا۔فیس بک، ایکس (ٹوئٹر)، انسٹاگرام، یوٹیوب، اور واٹس ایپ جیسے پلیٹ فارم اردو کو ایک زندہ، متحرک اور روزمرہ کی زندگی سے جڑی زبان میں تبدیل کر رہے ہیں۔ جہاں ایک طرف قدیم اور روایتی اسالیب دم توڑتے نظر آتے ہیں، وہیں دوسری طرف نئے طرزِ اظہار، نئے لہجے اور تازہ بیانیے جنم لے رہے ہیں۔ اب اردو کسی شہر، گلی،درسی کتاب یا مشاعرے تک محدود نہیں بلکہ اسکرین پر ٹائپ ہوتی، ہیش ٹیگز میں مقید ہوتی، میمز میں ہنستی، اور ویڈیوز میں بولتی ہوئی سنائی دیتی ہے۔

سوشل میڈیا نے اردو زبان کو ایک نئی جہت بخشی ہے، جہاں اب یہ صرف تحریری یا رسمی زبان نہیں رہی، بلکہ آواز، لہجے، چہرے کے تاثرات اور بصری انداز کا حصہ بن چکی ہے۔لکھنؤ کی تہذیبی اردو، حیدرآباد کا مخصوص لب و لہجہ، پٹنہ کی سادہ بیانی اور بے ساختہ انداز، یا ممبئی کی تیز رفتار شہری بولی..... یہ سب سوشل میڈیا پر ایک ساتھ جلوہ گر ہو کر اردو کی وسعت وتنوع کو اجاگر کرتے ہیں۔ ان شہروں کی زبان میں نہ صرف الفاظ کا فرق ہے بلکہ اظہار کا ایک مخصوص مزاج بھی ہے جو اب ویڈیوز اور آڈیو پیغامات کے ذریعے پوری دنیا تک پہنچ رہا ہے۔گویاسوشل میڈیا نے زبان کو رسمی اور روایتی انداز سے الگ، زندہ اور متحرک بنادیا ہے۔ اب اردو صرف بولی نہیں جاتی، بلکہ دیکھی اور سنی بھی جاتی ہے۔

ادب کی دنیا میں اسلوب کی حیثیت روح کی ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا نے اردو کے اسلوب کو نئی لَے، نیا آہنگ، اور نیا زاویہ عطا کیا ہے۔ روایتی اسلوب جہاں تشبیہات، استعارات، اور صنائع بدائع سے آراستہ ہوتا تھا، وہیں موجودہ اسلوب میں سادگی، براہِ راست اظہار، طنز و مزاح، اور عوامی لہجہ غالب آ چکا ہے۔ مختصر جملے، جذباتی علامات، اور روزمرہ محاورات اب اردو کے اسلوب کا جزوِ لاینفک بن چکے ہیں۔

سوشل میڈیا نے اردو زبان کو صرف تحریری سطح پر نہیں بلکہ جذباتی اور صوتی اظہار کے ایک نئے دور میں داخل کر دیا ہے۔ اب الفاظ کے ساتھ ساتھ علامات، وقفے، آوازوں کی نمائندہ تحریریں بھی اردو اظہار کا حصہ بن چکے ہیں۔ صارفین جملے کی ساخت کو اس طرح ترتیب دیتے ہیں کہ وہ محض معلوماتی نہ رہیں، بلکہ ایک جذبہ، ایک کیفیت، اور ایک تجربہ بن جائیں۔

مثال کے طور پر جب کوئی لکھتا ہے: ’’تم یاد بہت آتے ہو...‘‘  یا ’’کیا بات ہے!!‘‘، تو’’... ‘‘ اور ’’!!‘‘ جیسی علامات محض رسم الخط نہیں بلکہ جذبات کا اظہار بن جاتی ہیں۔ ان کے بغیر جملہ شاید سادہ اور سپاٹ محسوس ہو، مگر ان کی موجودگی جملے کو زندگی اوراظہار کی شدت عطا کرتی ہے۔ 

اسی طرح''uff''، ''haye، ''ufff''

''arey wah'' جیسے الفاظ لکھنے والے کے احساسات کو قاری تک صوتی انداز میں منتقل کرتے ہیں، گویا زبان بولی نہیں جا رہی، بلکہ سنائی دے رہی ہے۔

یہ تمام عناصر اس بات کی دلیل ہیں کہ اردو زبان اب محض الفاظ تک محدود نہیں رہی۔ سوشل میڈیا نے اسے ایک ہمہ گیر، جذباتی اور بصری اظہار میں ڈھال دیا ہے، جہاں زبان صرف لکھی نہیں جاتی بلکہ محسوس کی جاتی ہے۔

سوشل میڈیا پر اردو کا سب سے زیادہ نمایاں ہوتا ہوا رومن رسم الخط ہے جس کا چلن بڑھتا جارہا ہے۔ اگرچہ اس سے زبان کا دائرہ وسیع ہوا ہے، مگر ساتھ ہی یہ اردو کے اصل رسم الخط کے لیے خطرے کی گھنٹی بھی ہے۔ رومن اردو صوتی اور فوری اظہار کو آسان بناتی ہے، مگر یہ املا، معنیٰ اور لسانیات میں ابہام پیدا کرتی ہے۔

زبان کی ساخت جب جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل میڈیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوتی ہے تو اس میں اختصار، سہولت، اور رفتار جیسے عناصر در آتے ہیں۔ اردو زبان بھی اس تبدیلی سے مستثنیٰ نہیں رہی اور اردو میں بھی یہی مظاہر دیکھنے کو ملے۔ روایتی جملے کی ترکیب، فعل و فاعل کی ترتیب، اور نحوی اصول اکثر مختصر، برقی اور اظہاریت پسند اسالیب کے تابع ہو چکے ہیں۔ اس تبدیلی کا سب سے واضح اظہار سوشل میڈیا، میسجنگ ایپس اور انٹرنیٹ کی زبان میں نظر آتا ہے۔ جیسے:

''?Kya haal Hai''

''?tum kab aaoge''

''?kyun pareshan ho''

''?main busy hoon''

آج کل اردو بولنے اور لکھنے والے سہولت اور جلدبازی کو ترجیح دیتے ہیں، خاص طور پر نوجوان نسل جو ٹیکنالوجی کے تیز رفتار دور میں پروان چڑھی ہے۔یہ انداز اب نہ صرف روزمرہ کی زبان میں رائج ہے بلکہ مکمل خیالات اور احساسات کے مؤثر اظہار کا ذریعہ بھی بن چکا ہے۔ یہ جملے اپنی سادگی اور مختصرہونے کی وجہ سے فوری افہام و تفہیم فراہم کرتے ہیں، جو خاص طور پر آن لائن گفتگو میں بے حد کارآمد ثابت ہوتے ہیں۔

یہ جملے اب نہ صرف عام ہو چکے ہیں بلکہ مکمل فکری اظہار کا ذریعہ بن چکے ہیں۔ جملوں میں economy of language کا رجحان بڑھا ہے، یعنی کم الفاظ میں زیادہ اظہار۔ اس کے نتیجے میں بعض اوقات جملوں کا روایتی حسن مجروح ہوتا ہے، مگر نئی تاثیر پیدا ہوتی ہے۔

اس تبدیلی کے چند پہلو زبان کے روایتی حسن سے مختلف ضرور ہیں۔ مختصر جملے، کہیں کہیں نحوی قواعد کی خلاف ورزی کرتے نظر آتے ہیں، اور بعض اوقات ادبی اور فنی خوبصورتی کا وہ اثر نہیں رہتا جو کلاسیکی اردو میں پایا جاتا تھا۔ لیکن اس کے بدلے میں ایک نئی زبان کی تاثیر اور رفتار پیدا ہوتی ہے، جو سماجی روابط اور معلومات کے تبادلے کو تیز اور مؤثر بناتی ہے۔ اس میں اظہار کی طاقت تو ہے ہی، ساتھ ہی یہ زبان آسان اور عوامی ہو جاتی ہے، جس سے اس کی رسائی وسیع ہوتی ہے۔

مزید برآں، اس زبان میں ٹرانسلٹریشن یعنی اردو کے الفاظ کو رومن حروف میں لکھنے کا رواج بھی بڑھا ہے، جو ڈیجیٹل ٹائپنگ میں سہولت کے ساتھ ساتھ نوجوانوں میں مقبولیت کا باعث بنا ہے۔ اس طرح کے جملے زبان کے ارتقاء کی نمائندگی کرتے ہیں جو زبان کو زندگی بخشنے کے لیے نئے اصول اور اسلوب اپنا رہے ہیں۔

اس پورے عمل میں ایک تخلیقی تسلسل نظر آتا ہے، جہاں زبان اپنی جڑوں سے جڑے رہتے ہوئے بدلتے ہوئے ماحول اور معاشرتی رویوں کے مطابق خود کو ڈھال رہی ہے۔ یہ ارتقائی عمل محض تبدیلی نہیں بلکہ ایک تخلیقی تسلسل ہے جو اردو کو نئی نسل سے جوڑتا ہے اور اسے زمانے کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کرتا ہے۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ اردو زبان کا یہ ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجی سے متاثر چہرہ، زبان کی فہم، اظہار اور تیز تر مواصلات کے تقاضوں کو پورا کرنے کی کوشش ہے۔ یہ زبان کو نہ صرف زندہ اور فعال رکھتا ہے بلکہ اسے وسیع تر مخاطبین تک پہنچانے کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔ اس جدت کے باوجود، ضروری ہے کہ ہم زبان کی تہذیبی و ادبی قدر کو بھی سمجھیں اور اس کے تخلیقی توازن کو برقرار رکھیں تاکہ اردو کی خوبصورتی اور معیار متاثر نہ ہو۔

اس تناظر میں، زبان کی یہ نئی ساخت اور اظہار کے انداز اگرچہ روایتی اصولوں سے کچھ حد تک ہٹ کر ہیں، مگر یہ اردو زبان کی بقا، وسعت، اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگی کا ایک لازمی حصہ ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ روایتی اردو کو چھوڑ دیا جائے بلکہ دونوں انداز میں توازن قائم رکھا جائے تاکہ اردو ایک زندہ، مؤثر، اور عالمی زبان کے طور پر ترقی کرے۔

آن لائن رسائل،واٹس ایپ اور فیس بک گروپس، اردو بلاگز، پوڈکاسٹ، اور ڈیجیٹل مباحثے، مشاعرے اب اردو ادب کا حصہ بن چکے ہیں۔ یہ نئے ذرائع ادب کی جمالیاتی وسعت، تجرباتی تنوع، اور قارئین کی شمولیت کو بڑھا رہے ہیں۔ ایک وقت تھا جب مشاعرہ سننا یا افسانہ پڑھنا صرف کتاب یا مجلس کے ذریعے ممکن تھا، مگر اب ہر سوشل میڈیا  استعمال کرنے والا بیک وقت سامع بھی ہے، قاری بھی، اور بعض اوقات خود تخلیق کار بھی۔اس طرح ادب کا منظرنامہ محض کتابوں کی دنیا تک محدود نہیں رہا، بلکہ اب یہ موبائل کی اسکرین پر بھی زندہ و متحرک ہے۔

ڈیجیٹل طور پر اردو لکھنے والوں کو مختلف رجحانات میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: قدیم روایتی اسلوب پر قائم افراد، صرف رومن اردو استعمال کرنے والے، ہائبرڈ (اردو + انگریزی/ہندی) لکھنے والے، اور طنز و مزاح سے بھرپور انداز based-meme  انداز اپنانے والے۔ ان سب رجحانات نے اردو کو ایک کثیر لسانی، کثیر اسلوبی اورکثیر تہذیبی اظہار میں بدل دیا ہے۔ہر طبقے کا اظہار مختلف ہے مگر جڑیں اردو زبان سے جڑی ہیں۔

اس منظرنامے میں کچھ پہلو ایسے بھی ہیں جو باعثِ تشویش ہیں، جیسے اردو رسم الخط کا تدریجی زوال، زبان کا ساختیاتی و اسلوبیاتی سطح پر انتشار، معیارِ زبان کے تعین کا فقدان اور تفریح و ادب کے درمیان تحدیدی روایات کا خاتمہ۔گویا نسل نو کو اردو محاورات، ضرب الامثال اور کلاسیکی ادب سے وہ برقرار نہیں رہی۔ جو ماضی میں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان پہلوؤں سے اردو زبان کی لسانی شناخت اور علمی وقار پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ اساتذہ، ادیب، محققین اور زبان شناس  اس تناظر میں ایک منظم حکمتِ عملی اپنائیں تاکہ زبان کا یہ ارتقائی سفر صرف سطحی نہ رہے بلکہ فکری و تہذیبی اعتبار سے بھی مستحکم ہو۔

اس کے برخلاف، سوشل میڈیا نے کئی مثبت امکانات بھی پیدا کیے ہیں جیسے عالمی سطح پر اردو کے فروغ کی نئی راہیں کھلی ہیں، ہر فرد کو اظہار کی آزادی اور مواقع میسر آئے ہیں، اور نئے طرزِ اظہار، اصناف اور اسالیب کی تشکیل نے اردو زبان کو زیادہ ہمہ گیر بنا دیا ہے۔ اس کے ذریعے اردو ایک عالمی تہذیبی مکالمے کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ اردو زبان کا دائرہ اثر اب محض برِصغیر کے ممالک— ہندوستان،پاکستان اور بنگلہ دیش—تک محدود نہیں رہا، بلکہ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ نے اسے ایک عالمی زبان کے طور پر متعارف کرایا ہے۔ وہ زبان جو کبھی صرف دہلی، لکھنؤ، لاہور یا حیدرآباد دکن کے علمی و ادبی حلقوں میں زندہ تھی، آج وہی زبان خلیجی ممالک، یوروپ، شمالی امریکا، افریقہ، ترکی، اور وسط ایشیائی ریاستوں میں نہ صرف سمجھی جاتی ہے بلکہ بولی، لکھی اور سنی بھی جا رہی ہے۔

سوشل میڈیا نے زبان کی جغرافیائی سرحدوں کو ختم کر دیا ہے۔ آج ایک نوجوان اگر یوکرین، ترکی یا کینیڈا میں بیٹھ کر اردو زبان میں کوئی ٹویٹ کرے، تو وہ لمحوں میں دہلی، لندن، دبئی، یا نیویارک میں پذیرائی حاصل کر لیتا ہے۔ ویڈیوز، آڈیوز، میمز، اور انسٹاگرام ریلز اردو زبان کو ایک ایسی لچک دے رہے ہیں جس کی بدولت یہ زبان صرف قومی اظہار نہیں بلکہ ایک عالمی ثقافتی مظہر بنتی جا رہی ہے۔

خلیج میں کام کرنے والے برصغیر کے لاکھوں محنت کش ہوں، یا یورپ و امریکا میں مقیم اردو بولنے والے طلبا، اساتذہ، فنکار اور مصنّفین —سب نے اپنی ثقافت اور زبان کو زندہ رکھنے کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لیا ہے۔ ان کی بدولت اردو اب محض ایک ’روایتی‘  زبان نہیں بلکہ ایک ''عالمی برانڈ'' بن چکی ہے، جو لندن کے اردو اخبار سے لے کر کینیڈا کے اردو پوڈکاسٹ تک ہر جگہ موجود ہے۔

یہ وسعت صرف تحریری اظہار تک محدود نہیں، بلکہ اردو کی سمعی و بصری موجودگی بھی دنیا بھر میں محسوس کی جا رہی ہے۔ یوٹیوب پر اردو ولاگرز، انسٹاگرام پر اردو شاعری کی ویڈیوز، اور فیس بک پر اردو مزاحیہ کلپس— یہ سب اردو کو ایک نئی زندگی دے رہے ہیں۔ جہاں پہلے اردو کی شناخت صرف ادب یا شاعری تک محدود تھی، اب وہ سیاست، مزاح، تعلیم، اور مذہبی جیسے متنوع موضوعات پر بھی ڈیجیٹل سطح پر موجود ہے۔

یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ سوشل میڈیا نے اردو زبان کو عالمی منظرنامے پر ایک نئی شناخت دی ہے۔ اب اردو صرف ایک ’قومی‘ زبان نہیں، بلکہ ایک بین الاقوامی ثقافتی آواز ہے۔ ایک ایسی آواز لکھنؤ کی گلیوں سے لے کر لندن کے کیفے، اور دہلی کی یونیورسٹیوں سے لے کر دبئی کے دفاتر تک سنائی دیتی ہے۔

اردو کا یہ نیا عالمی چہرہ نہ صرف اس کی اہمیت کو بڑھاتا ہے بلکہ اس کے مستقبل کے امکانات کو بھی روشن بناتا ہے۔ اب اردو سیکھنے، بولنے اور سمجھنے والے صرف برصغیر کے باشندے نہیں، بلکہ دنیا بھر کے وہ لوگ ہیں جو اردو کے ذریعے ایک جذباتی، تہذیبی اور ادبی رشتہ قائم کرنا چاہتے ہیں۔ سوشل میڈیا نے اردو کو نہ صرف زندہ رکھا ہے بلکہ اسے ایک ہمہ گیر عالمی زبان بنا دیا ہے، جو وقت کے ساتھ مزید پھیلتی جا رہی ہے۔

غرض یہ کہ اردو زبان کا یہ ڈیجیٹل روپ اس کے فکری، ادبی اور تہذیبی تسلسل کا ایک زندہ اور متحرک اظہار ہے، جو نہ صرف زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے بلکہ نئی نسل کے تخلیقی ذوق سے بھی جڑا ہوا ہے۔ سوشل میڈیا نے اردو کو محض ایک روایتی زبان کے درجے سے نکال کر ایک عالمی، کثیرالمتن اور بصری و سمعی اظہار میں تبدیل کر دیا ہے۔ اب اردو صرف لکھی یا بولی نہیں جاتی، بلکہ دیکھی، سنی اور محسوس کی جاتی ہے۔ اس ڈیجیٹل منظرنامے میں لہجے، تلفظ، ایموجی، صوتی تاثرات اور علامتی طریقۂ اظہار سب مل کر اردو کو ایک نئی اور نسبتاً تازہ جہت فراہم کرتے ہیں۔

یہ ارتقا کوئی وقتی یا سطحی تبدیلی نہیں بلکہ ایک گہرا تخلیقی تسلسل ہے، جو اردو کو صرف محفوظ نہیں کر رہا بلکہ اسے وسعت بھی دے رہا ہے۔ مختلف خطوں، ثقافتوں اور طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد جب سوشل میڈیا پر اردو کے ذریعے اظہارخیال کرتے ہیں، تو وہ زبان کے دائرہ اثر کو عالمی سطح پر پھیلاتے ہیں۔

سوشل میڈیا اگرچہ زبان کی ساخت، معیار اور روایت کے لیے کچھ چیلنجز پیدا کرتا ہے، لیکن یہی وہ پلیٹ فارم ہے جو اردو کو نئی وسعت، نئی توانائی اور نئے مخاطبین عطا کرتا ہے۔ ہاں مگر، اگر ہم اس تبدیلی کو تنقیدی شعور، ادبی بصیرت اور لسانی حکمت کے ساتھ سمجھیں، تو اردو ایک نئی عالمی اور عصری زبان کے طور پر ابھر سکتی ہے— ایسی زبان جو روایت سے جڑی ہو، مگر جدیدیت سے آشنا بھی ہو۔

حوالہ جات

1        شمس الرحمن فاروقی، ’اردو کا ابتدائی زمانہ‘، دہلی، 1999

2        وزیر آغا، ’ نئے تناظر‘، انجمن ترقی اردو،  دہلی،1979

3        گوپی چند نارنگ، ’ساختیات، پس ساختیات اور مشرقی شعریات‘،  مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، دہلی، 2004

4        ڈاکٹر گیان چند جین، لسانی مطالعے،  قومی کونسل برائے فروغ زبان، نئی دہلی 2023

5        پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین، ’سوشل میڈیا اور اردو زبان‘، مضمون، ریختہ

6        شان الحق حقی، اردو زبان کی رومن املا،اردو نامہ، بابت اپریل تا جون 1960

7        ڈاکٹر سہیل بخاری،اردو کی کہانی،لاہور،1975

8        ہارون خان شروانی، اردو رسم خط اور طباعت

9نصابی کتب جرنلزم اینڈ ماس کمیونیکشن مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآبادSturtevant, Linguistic change,Chicago,1961(بحوالہ لسانی مطالعے)

10      Irfan Khan,. ''Digital Urdu: The Evolution of Script and Style in the Age of Social Media'', International Journal of Linguistic Studies, Vol. 12, No. 3, 2022.

11      Nishat Shaheen. ''Language Mixing in Urdu Social Media Communication'', Journal of Language and Society, 2021

 

Md. Asif Raza

Maulana Azad National Urud University

Sambhal Campus

 Sambhal (UP)

Mob.: 9808767659

noorimiyan92@gmail.com


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تازہ اشاعت

ابواللیث جاوید کے افسانوں کے امتیازات،مضمون نگار:آصف سلیم

  اردو دنیا،اکتوبر 2025 معاصر افسانوی منظرنامے میں ابواللیث جاوید منفرد اور جداگانہ طرزِ تحریر کی بدولت ایک الگ شناخت رکھتے ہیں۔ 1970 کے قری...