7/1/26

مصنوعی ذہانت کی افادیت اور اردو زبان و ادب کا فروغ،مضمون نگار: محمد شمیم اختر

 اردو دنیا،اکتوبر 2025


مصنوعی ذہانت جیسا کہ نام سے ظاہر ہے انسانوں کے ہاتھوں تیارکردہ سوجھ بوجھ اور مسئلے حل کرنے کی صلاحیت ہے یعنی انسان کے ہاتھوں تیار کردہ ایسی عقل یا فہم جو مشینوں اور کمپیوٹر سسٹم میں پیدا کی جائے تاکہ وہ انسان کی طرح سوچ سکیں اور فیصلے کر سکیں۔ دوسرے الفاظ میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کمپیوٹر سائنس کی وہ شاخ ہے جس کا مقصد ایسی مشینیں تیار کرنا ہے جو انسانوں کی طرح سوچ سکیں، سمجھ سکیں، سیکھ سکیں اور مسائل کا حل تلاش کر سکیں۔ مصنوعی ذہانت کا دائرہ صرف خودکار حساب کتاب یا ڈیٹا پروسیسنگ تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا اصل ہدف انسانی دماغ کے تجزیاتی، تخلیقی، فہم و ادراک اور فیصلہ سازی کی صلاحیتوں کی نقل تیار کرنا ہے۔

مصنوعی ذہانت محض ایک ٹیکنالوجی نہیں بلکہ ایک ایسا نظریہ اور عملی نظام ہے جس میں ریاضی، منطق، شماریات، نفسیات، لسانیات اور کمپیوٹر سائنس کے مختلف پہلوؤں کو یکجا کیا گیا ہے۔ اس کی ایجاد نے جہاں زندگی کے مختلف شعبوں میں دلچسپی اور حیرت انگیزی کے عناصر نمایاں کیے ہیں وہیں تعلیم کے شعبے میں بھی اس کا استعمال ناگزیرہوتا جارہا ہے۔ AI  پر مبنی ایسی بہت ساری ایپس ہیں جو طالب علموں کو سیکھنے کا طریقہ اور مختلف زبانوں میں مواد کو آسانی سے پڑھنے کی سہولت فراہم کرتی ہیں۔ یہ بڑی مقدار میں معلومات کو تیزی سے پروسیس کرتی ہیں اور اس کے ساتھ ہی روبوٹکس، اسپیس ریسرچ اور بایوٹیکنالوجی میں تحقیق کے نئے دروازے کھولتی ہیں۔

اسی طرح زبان کے لیے بھی مصنوعی ذہانت کا استعمال اب لازمی ہوتا جا رہا ہے۔ کہتے ہیں کہ زبان کسی بھی قوم کی تہذیب، ثقافت، تاریخ اور فکری ورثے کی آئینہ دار ہوتی ہے اور اردو زبان تو برصغیر کی مشترکہ تہذیب اور ادبی روایات کا گہرا عکس پیش کرتی ہے۔ مگر بدلتے وقت کے ساتھ، اس ڈیجیٹل دور میں زبانوں کی بقا اور فروغ جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہونے پرمنحصر کرتا ہے۔ اس تناظر میں مصنوعی ذہانت ایک ایسا ذریعہ بن کر ابھری ہے جو اردو کی ترویج و اشاعت کے لیے نہ صرف مواقع فراہم کر سکتی ہے بلکہ اسے عالمی سطح پر نئی زندگی بھی دے سکتی ہے۔ یہ اردوادب کو تخلیق، تحقیق، ترویج اور ترجمے کے نئے امکانات سے ہم کنار کر سکتی ہے۔ ماہرین کا تو کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت اردو زبان کے فروغ میں ایک انقلابی کردار ادا کر سکتی ہے بس شرط یہ ہے کہ ہم اس ٹیکنالوجی کو محض صارف کے طور پر نہیں بلکہ تخلیق کار اوراسے فروغ دینے والے کے طور پر استعمال کریں۔

اردو زبان کی ترقی و ترویج میں مصنوعی ذہانت کا کردارکئی پہلوؤں سے نمایاں ہے۔ ان میں ادبی مواد کی تخلیق میں مدد، تحقیق اور مطالعہ میں آسانی، خودکار ترجمہ اور لسانی رابطہ، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل اشاعت اور اردو کی تدریس میں جدید سہولیات وغیرہ شامل ہیں۔

مصنوعی ذہانت کی بدولت اردو رسم الخط، تلفظ اور معنی کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مؤثر طریقے سے منتقل کرنا ممکن ہے۔ AI پر مبنی نیچرل لنگویج پروسیسنگ یعنی   NLP  ماڈلز اردو کی تحریر کو شناخت، ترجمہ اور صوتی صورت میں تبدیل کر سکتے ہیں، جس سے اردو مواد کو عالمی سطح پر انٹرنیٹ صارفین تک پہنچایا جا سکتا ہے، سرچ انجنز میں اردو کی نمائندگی بڑھ سکتی ہے اوراردو بولنے والے باآسانی موبائل اور کمپیوٹر پر اپنی زبان میں کام کر سکتے ہیں۔

مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹولز کہانی، نظم، مضمون اور ڈرامہ وغیرہ لکھنے میں مصنف کو خیال اور ڈھانچہ فراہم کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ لکھنے والوں کے لیے موضوعات کے نئے زاویے اور خیالات مہیا کرسکتے ہیں۔ یہ ادب کے اسلوب کی نقل کر کے نئی تخلیقات پیش کرسکتی ہے اور اس طرح یہ سہولت نئے لکھنے والوں کو تحریک دے سکتی ہے اور اردو ادب کو نئے موضوعات سے مالا مال کر سکتی ہے اور نتیجتاً اس سے اردو مواد کی تخلیق میں بے پناہ اضافہ ہو سکتا ہے۔

مصنوعی ذہانت کے ذریعے اردو کے قدیم اور نایاب مخطوطات کو ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کر کے ان پر تحقیق آسان کی جا سکتی ہے۔ اس کی مدد سے ہزاروں صفحات پر مشتمل کتابوں میں مطلوبہ حوالہ یا شعر فوری طور پرتلاش کیا جا سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے کسی ناول، کہانی یا شاعری کے اسلوب، موضوعات اور لفظیات کا آسانی سے تجزیہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ نقادوں اور محققین کے لیے ایک نیا زاویہ بھی فراہم کرسکتی ہے۔

اسی طرح گوگل ٹرانسلیٹ، چیٹ جی پی ٹی جیسے پلیٹ فارمز پہلے ہی اردو کے ترجمے میں مصنوعی ذہانت  کا استعمال کر رہے ہیں۔ مستقبل میں زیادہ ترقی یافتہ AI ماڈلز کے ذریعے اردو سے دیگر زبانوں میں اور دیگر زبانوں سے اردو میں فوری اور درست ترجمہ ممکن ہو سکے گا۔ عالمی سطح پر اردو ادب، صحافت اور تعلیمی مواد کی رسائی بڑھے گی۔ مختلف زبانوں کے درمیان لسانی رکاوٹیں کم ہوں گی اور اردو عالمی مکالمے کا حصہ بن پائے گی۔ اس کے علاوہ اس کے ذریعے مختلف  شعرا کے کلام کو دنیا بھر کے قارئین تک پہنچایا جا سکتا ہے۔

مصنوعی ذہانت سے اردو زبان میں  Speech- to-Text اور Text-to-Speech  ٹیکنالوجی بھی بہتر ہو رہی ہے۔ اس کے ذریعے نابینا یا کمزور بصارت والے افراد کے لیے آواز کے ذریعے اردو مواد تک رسائی آسان ہو سکتی ہے یعنی نابینا افراد کے لیے اردو ادب کو آواز کی شکل میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ قاری اپنی آواز میں بات کرے گا اور AI اسے خودکار طریقے سے تحریر میں تبدیل کر دے گا۔ آن لائن لیکچرز، لیکچرز کے نوٹس اور آڈیو بکس کی خودکار تیاری، مختلف لہجوں اور بولیوں کو ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کرنے جیسے اقدامات میں مصنوعی ذہانت سے کافی مدد مل سکتی ہے۔

مصنوعی ذہانت کے ذریعے اردو رسم الخط، خوشخطی اور پرانے مخطوطات کو ڈیجیٹائز کر کے نایاب کتب اور تاریخی دستاویزات کو بھی محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ قدیم اردو مواد یا دھندلے متن کو  نئے قاری کے لیے پڑھنے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ خطاطی کے نئے ڈیزائن تخلیق کیے جا سکتے ہیں جو ڈیجیٹل آرٹ اور گرافکس میں استعمال ہوسکتے ہیں۔

مصنوعی ذہانت اردو لغت اور ذخیرۂ الفاظ کے لیے ایک انقلابی ٹیکنالوجی ہے۔ یہ نہ صرف موجودہ الفاظ کو بہتر طور پر محفوظ اور منظم کر سکتی ہے بلکہ نئے الفاظ کی تخلیق، قدیم الفاظ کی بازیافت اور الفاظ کے درست تلفظ کو عام کرنے میں بھی مددگار ہے۔ یوں اردو زبان کا دامن مزید وسیع اور ترقی یافتہ ہوتا چلا جائے گا۔ مصنوعی ذہانت پر مبنی یہ نظام لاکھوں اردو متن یعنی کتب، مضامین، اخبارات، سوشل میڈیا پوسٹس وغیرہ کا تجزیہ کر کے نئے الفاظ اور ان کے مختلف استعمالات سامنے لاسکتا ہے۔ ان الفاظ کو خودکار طور پر لغت میں شامل کر کے ایک زندہ اور ترقی پذیر لغت تیار کی جا سکتی ہے۔ ایک ہی لفظ کے مختلف معانی ہو سکتے ہیں، جیسے ’علم‘ کا مطلب سائنس بھی ہوتا ہے اور آگاہی، معلومات، واقفیت اورعرفان بھی۔ AI متن کے سیاق و سباق کے مطابق یہ بتا سکتا ہے کہ یہاں لفظ کا کون سا مطلب درست ہے۔

مصنوعی ذہانت پر مبنی ایپلی کیشنز اور اسمارٹ ٹیچنگ ٹولز اردو زبان سیکھنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایسے انٹرایکٹو چیٹ بوٹس تیار کئے جا سکتے ہیں جو طلبا سے اردو میں مکالمہ کریں۔ تلفظ کی درستگی کے لیے صوتی تجزیہ کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ذاتی نوعیت کا نصاب تیار کیا جا سکتا ہے جو طالب علم سیکھنے کی رفتار اور ضرورت کے مطابق ہو۔

مصنوعی ذہانت پر مبنی ریڈنگ ایپس اور ای بکس اور آڈیو بکس نئی نسل کو اردو ادب کی طرف مائل کر سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر اردو شاعری اور اردو نثر کو زیادہ آسانی سے فروغ دیا جا سکتا ہے۔  خودکار سب ٹائٹلز اور ہیش ٹیگ تجزیہ کے ذریعے یہ مواد کی رسائی کووسعت بخشتی ہے۔ اس کے علاوہ ویڈیوز، بلاگز اور پوڈکاسٹس کو دنیا بھر میں پہنچاتی ہے۔

آج اسکول اور کالج وغیرہ میں چیٹ جی پی ٹی اور دوسری اے آٗئی ٹیکنالوجی کا بڑے پیمانے پر استعمال ہو رہا ہے۔ روزنامہ انقلاب میں ستمبر 2024 میں شائع اُسید اشہر کے مضمون، مصنوعی ذہانت کے طلبہ پر 7 مثبت اور 7 منفی اثرات کے مطابق ’’متعدد سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ کم و بیش 44 فیصد طلبہ پروجیکٹ یا کسی اہم سبق کی تیاری میں چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کرتے ہیں۔‘‘  وہ لکھتے ہیں، ’’ اے آئی کی مدد سے ہر طالب علم اپنی مخصوص ضروریات کے مطابق تعلیمی مواد تیار کرسکتا ہے۔ اے آئی اس لحاظ سے بھی کارآمد ہے کہ اگر کوئی طالب علم بہت زیادہ ذہین نہیں ہے تو یہ ٹیکنالوجی اس کے سیکھنے کے حساب سے تعلیمی مشمولات تیار کرسکتی ہے۔ طلبہ کی زندگی میں اے آئی ایک اچھا آپشن بن کر ابھر رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اے آئی کی مدد سے تمام طلبہ پڑھائی کے راستے میں چیلنجز کو عبور کرتے ہوئے اور سیکھنے کی راہ میں پیچھے رہے بغیر آگے بڑھ سکتے ہیں۔   اے آئی کے استعمال کی وجہ سے طلبہ کے سیکھنے کا تجربہ بھی دلچسپ بن سکتا ہے مگر طلبہ کو ذہن نشین رہے کہ جس طرح ہر چیز کے فائدے ہوتے ہیں، اسی طرح نقصانات بھی ہوتے ہیں۔‘‘

اب تو سپریم کورٹ میں بھی مختلف زبانوں کے ترجمے کے لیے مصنوعی ذہانت کی خدمات لی جارہی ہیں۔ حکومت کی پالیسیوں، پروگراموں، پیش رفتوں اور حصولیابیوں کے سلسلے میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو اطلاعات کی ترسیل کے عمل میں مصروف حکومت ہند کی کلیدی ایجنسی، پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی) میں 25 جولائی 2025 کو شائع ایک خبر کے مطابق کیس مینجمنٹ میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور مشین لرننگ (ایم ایل) پر مبنی آلات کو نصب کیا جا رہا ہے جن کا استعمال آئینی بنچ کے معاملات میں زبانی دلائل نقل کرنے میں ہورہا ہے۔ عدالت عظمی انگریزی زبان سے 18 ہندوستانی زبانوں یعنی آسامی، بنگالی، گارو، گجراتی، ہندی، کنڑ، کشمیری، کھاسی، کونکنی، ملیالی، مراٹھی، نیپالی، اوڑیا، پنجابی، سنتھالی، تمل، تیلگو اور اردو میں فیصلوں کے ترجمے میں نیشنل انفارمیٹکس سینٹر (این آئی سی) کے ساتھ قریبی ہم آہنگی میں ان کا استعمال کررہی ہے۔ اے آئی اور ایم ایل پر مبنی ٹولز (آلات) کا استعمال سپریم کورٹ آف انڈیا کے ذریعے فیصلہ سازی کے عمل میں کیا جا رہا ہے۔ خبر کے مطابق مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹول، سپریم کورٹ پورٹل اسسٹنس ان کورٹ ایفیشنسی (ایس یو پی اے سی ای) جس کا مقصد مقدمات کی شناخت کے علاوہ نظیروں کی بہتر تلاش کے ساتھ مقدمات کے حقیقی میٹرکس کو سمجھنے کے لیے ایک ماڈیول تیار کرنا ترقی کے تجرباتی مرحلے میں ہے۔

 اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے بھی مصنوعی ذہانت کو انقلابی قدم قرار دیا ہے اور کہا  ہے کہ اس کی انقلابی صلاحیتوں سے کام لے کر پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت ہماری دنیا اور زندگیوں کو تبدیل کر رہی ہے اور اس سے پائیدار ترقی کے حصول کی سمت میں اقدامات کی رفتار تیز کی جا سکتی ہے۔

مصنوعی ذہانت کے جہاں بہت سارے فائدے ہیں تو وہیں اس کے استعمال کے ممکنہ خطرات اور چیلنجز بھی موجود ہیں۔ زبان و ادب کے حوالے سے اس کا سب سے بڑا خطرہ لکھنے والوں کی تخلیقی صلاحیت کے متاثر ہونے کا ہے۔ ہر مصنف کا اپنا تخلیقی انداز ہوتا ہے، مصنوعی ذہانت کے استعمال سے وہ انفرادیت اور جدت ختم ہو سکتی ہے۔ تاہم اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں ہوگا کہ مصنوعی ذہانت کے تمام تر فوائد اور نقصانات کو پیش نظر رکھ کے اگر ہم اس کے مثبت پہلوؤں سے فائدہ اٹھائیں تو اردو زبان نہ صرف ڈیجیٹل دنیا میں ایک نمایاں مقام حاصل کرے گی بلکہ عالمی سطح پر اپنی ہمہ گیریت اور ادبی حسن کے ساتھ زیادہ مؤثر انداز میں متعارف ہو سکے گی۔ اس طرح مستقبل کا اردو ادب وہ ہوگا جس میں انسانی تخلیقی شعور اور مصنوعی ذہانت کی سائنسی بصیرت مل کر ایک نئی ادبی جہت کو جنم دیں گے۔

 

Dr. Md. Shamim Akhter

Jogabai Extension,

Jamia Nagar, Okhla

New Delhi - 110025

Mail id: shamimshah2@gmail.com

Mobile: 9711252848

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...