اردو دنیا، اپریل 2025
مولانا ابوالقاسم محمدفضل رب عرشی تاجپوری ابن حکیم
مولوی شیخ امام علی اپنے عہدکے ایک ممتاز شاعر وادیب اورعالم ومصنف تھے۔ اردو و
فارسی دونوں زبانوں میں داد سخن دیتے تھے۔ فارسی کے تو نہایت ممتاز اور قادرالکلام
شاعرتھے اور اسی کمالات شعری اور مہارت فنی کے سبب وہ نظام حیدرآباددکن میر محبوب
علی خاں (1866-1911) کے دربار سے بحیثیت شاعر وابستہ ہوئے۔ پچاسی سال کی طویل
عمرپائی ۔ 1309ھ ؍1892 میںحیدرآبادمیں وفات پائی اور وہیں مدفون ہوئے۔ اناللہ
وانالیہ راجعون۔
مولاناعرشی کا مذکورہ بالاسنہ وفات درست نہیں معلوم
ہوتاہے۔ یہی سنہ وفات1309ھ ابوتراب محمدعبدالجبار خاںبراری نے بھی اپنی کتاب
’محبوب الزمن تذکرہ شعرائے دکن(ج2، ص 808 )درج کیاہے اورلکھاہے کہ’’فقیرمولف کوسنہ
وفات میں شک معلوم ہوتا ہے۔ تخمین و قیاس سے لکھا گیا ہے۔‘‘ ماہردکنیات ڈاکٹرسیدمحی
الدین قادری زور نے اپنی کتاب ’داستان ادب اردو‘ (ص: 158) میں یہی سنہ وفات قطعیت
سے لکھاہے ،لیکن یہ سنہ وفات اس لیے بھی صحیح نہیں ہے 1309)ھ1891-92) کے دوسال بعد
1894 میںنواب میرمحبوب علی خاں نے ندوۃالعلما کے اجلاس لکھنؤمیںشرکت کے لیے حکومت
حیدرآباددکن کی جانب سے جو وفد بھیجا تھا اس کے ایک رکن مولانا محمدفضل رب عرشی
بھی تھے ، چنانچہ انھوں نے 1894 کے اجلاس میں شرکت کی اورغالباً قصیدہ بھی پیش کیا۔
(محمڈن
اینگلواورینٹل کالج میگزین،علی گڑھ ، مئی 1895 ، ص184)
اس لیے 1309ھ؍1891-92 سنہ وفات قطعی طورپردرست نہیںہے۔
مولاناسیدسلیمان ندوی(1884-1953)نے لکھا ہے کہ
مولاناابوالقاسم عرشی نے کم عمری میںانتقال کیا۔(حیات شبلی،ص256)
مگر مولانا محمدفضل رب عرشی کے حیدرآبادی دوست اورصاحب
تذکرہ’ محبوب الزمن تذکرہ شعرائے دکن‘ نے لکھاہے کہ پچاسی سال کی عمرپائی۔(ج2،
ص808) ان کی رائے زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔اس لیے کہ علامہ شبلی کے ایک شاگردمولوی
مسعودعلی محوی 1889 میں علی گڑھ کالج سے تکمیل کے بعد1890 میںحکومت حیدرآباد میں
ملازم ہوئے اور آخر تک وہاں رہے۔ انھوں نے اپنی بعض تحریروںمیںمولوی فضل رب عرشی
کے علم وفضل اورشاعرانہ کمالات کا ذکرکیاہے۔ تاہم تلاش وجستجوکے باوجود ان کی تاریخ
ولادت ووفات معلوم نہ ہوسکی ۔
مولاناابوالقاسم فضل رب عرشی کاوطن ضلع اعظم گڑھ کا ایک
غیرمعروف گائوں تاج پور ہے۔اسی کی جانب نسبت سے وہ تاج پوری لکھتے تھے۔موضع تاج
پورضلع اعظم گڑھ میں شاہراہ بنارس پرموضع قلندرپور کے مغرب میںواقع ہے۔شہرسے تقریباً25؍کلومیٹر
کی مسافت ہوگی۔
مولاناعرشی کانانیہال شاہ فتح محمد قلندرؒکامدفن موضع
قلندپور ضلع اعظم گڑھ میںتھا۔ ان کی والدہ کانام اہلیت بی بی، ناناکانام شاہ
باقرعلی اورنانی کانام سموہا بی بی بنت سیدفقیرحسین تھا۔ نانی کامیکا جہانیاںپور(نزدپوروا،
سرسینا) اعظم گڑھ میںتھا۔ ان کی خالہ بھی قلندرپورہی میں تھیں۔ سلسلہ قلندریہ کے ایک
بزرگ مولوی شاہ محمد یٰسین بن حکیم شاہ راحت علی قلندرپوری ان کے خالہ زاد بھائی
تھے اورشاگرد بھی۔ انھوں نے متوسطات تک کی
کتابیںانہی مولانافضل رب عرشی سے پڑھی تھی۔ اس سے یہ واضح ہوتاہے کہ مولانا عرشی
تاجپوری ترک سکونت سے پہلے وطن میں درس
وتدریس کا سلسلہ رکھتے تھے، لیکن مولوی محمد یٰسین قلندرپوری کے علاوہ اورکون سے
طلبہ نے ان کے چشمہ فیض سے اپنی تشنگی بجھائی ،اس کاعلم نہیںہوسکا۔
مولانا عرشی کے دواور بھائی عبدالحق اور عبدالقدوس
تھے۔ایک بہن بھی تھیں، جن کانام معلوم نہیں ہوسکا۔ مولاناعرشی کی شادی شیخ لال
محمدساکن خطیب پور(ضلع اعظم گڑھ)کی صاحبزادی سے ہوئی تھی۔
مولاناعرشی اپنے وطن تاج پورضلع اعظم گڑھ میں پیدا
ہوئے۔ یہیں ان کی تعلیم و تربیت ہوئی ۔ان کے معاصرتذکرہ نگار مولوی ابوتراب محمد
عبدالجبار خاں ملکاپوری براری حیدرآبادی صدرمدرس عربی وفارسی مدرسہ اعزہ نے
لکھاہے کہ:
’’آپ
نے وطن مالوفہ میںتربیت وپرورش پائی، سن شعورکے بعدعلماء وفضلا کی خدمت میںکتب
فارسیہ وعربیہ کی تحصیل کی، ہم عصروںمیںلائق وفائق ہوئے، طبیعت میںموزونیت وجولانی
خدادادتھی، چستی وچالاکی ازحد تھی، شعرگوئی کاشوق دل میںموجزن اورسخن سنجی کاشعلہ
زن ہوا، طبیعت والاوفکررساکے زور سے کلام موزوںکرنے لگے ،کلام سنجیدہ وپسندیدہ
ہونے لگا۔‘‘
(محبوب
الزمن تذکرہ شعرائے دکن،ج2،ص805)
مولاناعرشی کے اساتذہ کانام بھی پردئہ خفامیں ہے۔ یہ بھی
معلوم نہ ہوسکاکہ اعظم گڑھ میں انھوںنے کس جگہ اورکن علماسے تحصیل علم وادب کیااورکون
کون سے علوم حاصل کیے۔ اسی طرح شعر و شاعری میں انھیں کس سے تلمذحاصل تھا اورآپ
نے کس سے اصلاح سخن لی، یہ تمام تفصیلات پردئہ رازمیںہیں۔البتہ شعر و سخن میں بڑی
مہارت رکھتے تھے اوراس کے رموز و آداب سے بخوبی واقف تھے۔
مولانافضل رب عرشی تلاش معاش میں وطن اعظم گڑھ سے نکلے
اورمہاراجہ گوالیارکے صاحب زادے کے اتالیق مقررہوئے، لیکن مزاج کی وارفتگی نے تمام
ترعزت وتکریم کے باوجود وہاں ٹھہرنے نہیںدیا۔ مولوی ابوتراب نے لکھاہے کہ:
’’چند
مدت تک مولانا ریاست گوالیار میں مقیم رہے۔ مہاراجہ کے صاحبزادے کے ادب آموز تھے۔
بڑی عزت وآبروتھی مگرآپ کوادب آموزی سے
نہایت نفرت تھی ،کیونکہ آپ کامزاج آزادگی پسند قیدوتعلق سے دوری چاہتا تھا۔ خود
ہی وہاںکاتعلق چھوڑکرنواب لائق علی خاں مختار الملک ثانی کے زمانہ میں حیدرآباد
دکن واردہوئے۔‘‘(ج2،ص806)
حیدرآباد آئے توقسمت نے یاوری نہیںکی حضور نظام
اورمدارالمہام کی شان میں قصائد لکھے مگران کے التفات سے محروم رہے۔ مولوی ابوتراب
کے بقول اس کاسبب یہ تھاکہ:
’’یہاںبعض
نے غلطی یاشاعرانہ تقابل کی وجہ سے آپ کومطعون کیاکہ آپ جو کچھ کہتے ہیںیہ آپ
کاطبع زاد نہیں ہے۔ شایدمتقدمین میںجو اس تخلص کا شاعر نامی عرشی گذراہے اس کادیوان
آپ کے ہاتھ آگیا ہے۔ آپ یہ جوجوہر افشانی کرتے ہیںاسی کی بدولت کرتے ہیں۔آپ بھی
معترض کے اعتراض سے واقف ہوئے۔‘‘
(محبوب
الذمن تذکرہ شعرئے دکن،ج2،ص806)
لیکن پھریہ ہواکہ ایک روزدربارہی میںمعترض سے ملاقات
ہوگئی۔ اس کی کیفیت صاحب محبوب الزمن نے ان الفاظ میںبیان کی ہے:
’’ایک
روزحسن اتفاق سے آپ مدارالمہام کے سلام کے لیے گئے، معترض بھی دربارمیںباریاب
تھے۔ اس وقت آپ کی شاعری کی بابت تذکرہ شروع ہوا۔ معترض نے وہی اپنی ہٹ دھرمی
شروع کی اوریہ کہاکہ اگرآپ فی البدیہہ چند اشعارہماری خواہش کے موافق سنگلاخ زمین
میںکہہ دیں توہم اپنے اعتراضات وطعن سے اعراض کریںگے اورآپ کی واقعی کی لیاقت
واستعداد کا اقرار۔ آپ نے نہایت خوشی سے اس امر کو منظور کیا اور معترض صاحب کی
(دی ہوئی) طرح پراسی وقت چنداشعارفی البدیہہ کہہ دیے۔ نواب صاحب اوراہل مجلس آپ کی
استعداد کے قائل ہوئے اورمعترض صاحب پژمردہ خاطر۔ نواب صاحب نے معترض صاحب سے
مخاطب ہوکر کہا فرمائیے اب آپ کیا کہتے ہیں۔ معترض صاحب نے نہایت ندامت کے ساتھ
آہستہ لب سے کہاکہ اس شخص کی واقعی لیاقت اس کلام کے لائق نہیں۔ضرورکوئی بیاض قدیمہ
ان کے پاس ہوگی۔‘‘(ایضاً،ج2،ص807)
مولوی ابوتراب محمدعبدالجباربراری نے معترض کا نام درج
نہیں کیا ہے۔ البتہ مولانا عرشی پراس کے اعتراضات کاجائزہ لیاہے اورلکھاہے کہ:
’’افسوس
معترض نے آپ کے معاملے میںبڑی بے انصافی کی۔ صریحاًمعترض کی زیادتی معلوم ہوتی
ہے۔ اب اس مقام پر فقیر مولف انصافاًگزارش کرتا ہے کہ معترض کا اعتراض اس قسم کا
تھا کہ لااصل لہ، کیونکہ متقدمین میں دوعرشی گذرے ہیں، ان دونوں کا کلام میرے پاس
موجودہے۔جناب عرشی صاحب ترجمہ اورایک عرشی متقدمین کے کلام میںاس قدر فرق ہے کہ
عرش وفرش ع
بہ بیں تفاوت رہ ازکجاست تا بہ کجا
متقدمین اورآپ کی طرزمیںزمین وآسمان کا فرق ہے ع
ہرگلے رارنگ وبوئے دیگر است
آپ اکثر قصائد سنگلاخ زمین میںکہتے ہیں۔ ترصیع و تسجیع
کا زیادہ لحاظ فرماتے ہیں۔متقدمین کے کلام میںیہ صفت نہیںہے۔ میراارادہ تھاکہ
متقدمین کے چند اشعاراس مقام میںنقل کروںتاکہ ہمارے کلام کی پوری پوری تصدیق
ہوجائے لیکن افسوس کہ متقدمین کے دیوان موسی ندی کی طغیانی میںنذرسیلاب ہوگئے اس
وجہ سے معذور ہوں۔‘‘ (ایضاًج2،ص:807)
ان ظالمانہ روش کی وجہ سے مولانا عرشی ایک مدت تک دربار
نظام حیدرآباد سے وابستہ اور وظیفہ حاصل نہیںکرسکے اور پریشان حال رہے، تاہم
انھوںنے صبر و شکر اور استقامت کا دامن نہیںچھوڑا، مولوی ابوتراب نے اس کی کیفیت
بھی سپردقلم کی ہے، بعدازاں نظام حیدرآباد میرمحبوب علی خاںکی جانب سے وظیفے کی
منظوری کاذکرکیاہے اورلکھاہے کہ:
’’جناب
عرشی ’صاحب ترجمہ‘ انھیں موانع وعوائق کی وجہ سے چندمدت پریشان و پراگندہ حال رہے
مگر آپ مستقل مزاج وثابت قدم تھے۔ اپنے استقلال وثبات میں ذرا بھی جنبش نہیںکی۔
نہایت ہشاش وبشاش رہے۔ یاران ہم مشرب کے
جلسوںمیںشریک ہوتے تھے۔ کبھی کسی دوست ورفیق سے شکایت نہیںکی اور نہ اپنی حالت بیان
کی۔ حبل المتین صبرکوہاتھ میںتھامے ہوئے خداپرتوکل کیے ہوئے تھے کہ اسی صبرتوکل کی
برکت سے بندگان عالی حضورپرنورنے نہایت قدردانی سے آپ کے لیے بقدر مایحتاج ڈیڑھ
سوروپیہ ماہوار کا منصب مقرر کردیا تھا۔ بہرحال عدم مطلق سے بہتر تھا، مگرآپ کی فیاضی
وسیرچشمی کے لحاظ خاص اس شہر میں یہ مقدارآپ کے لیے کافی نہیںتھی۔ آپ اسی وظیفہ
پر شاکر و قانع رہے۔‘‘(ایضاًج2،ص807-808)
مولاناعرشی کے ساتھ یہ ظلم وزیادتی محض ان کی زندگی ہی
میں نہیں روارکھی گئی بلکہ بعداز مرگ بھی یہ سلسلہ قائم رہا۔ مولاناسیدسلیمان ندوی
نے ’حیات شبلی‘ میں بیاض شبلی کے غائب ہوجانے کا جہاں ذکر کیا ہے، وہاں یہ بات بھی
لکھی ہے کہ:
’’مولاناشبلی
کی شاعری کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ وہ شروع میں فارسی میں شعر کہتے تھے، ان کے کلام
کا ابتدائی حصہ ایک بیاض میںجمع تھا، مولانا نے غازی پور میںایک جلدسازکووہ بیاض
جلدباندھنے کودی تھی اوروہ وہاںسے غائب ہوگئی، لوگوںکوغازی پور کے ایک نوجوان فارسی
شاعرابوالقاسم عرشی مرحوم پرشبہ تھا جو بعد کو حیدرآباد میں شعرا کے سلسلہ میں
منسلک ہوگئے تھے اورجوانی ہی میں وفات پائی۔ لوگ کہتے تھے کہ وہ انہی نظموں کو حیدرآباد
میںاپنے نام سے سناتے پھرتے تھے۔‘‘(حیات شبلی،ص255-56)
اس متن کے حاشیے میں سیدصاحب نے یہ وضاحت بھی کی ہے ’’یہ
روایت میںنے جناب خواجہ سید رشیدالدین صاحب (برادرنسبتی نواب سیدعلی حسن خاں،
لکھنؤ) سے سنی، جو مولانا (شبلی)کے پرانے دوست ہیں۔‘‘(حیات شبلی،حاشیہ ،ص256)
اس طرح گویایہ سرقہ کے الزام کی ذلت حیدرآباد سے ان کے
وطن اعظم گڑھ تک پہنچ گئی۔ اوپرمولوی ابوتراب براری کی تردید نقل کی جاچکی ہے اور
مجھ میں اتنی ہمت نہیںکہ مولانا سیدسلیمان ندوی کے قلم پرشبہ کرسکوں۔ البتہ یہ سنی
سنائی بے تکی روایت حیات شبلی میں شامل نہ ہوتی توبہتر تھا۔ مذکورہ اقتباس میںغازی
پور کے نوجوان فارسی شاعر کا ذکرہے، جبکہ مولاناعرشی تاج پورضلع اعظم گڑھ کے
باشندہ تھے۔ علامہ شبلی کے ہم وطن اور معاصرتھے۔ اس وقت نوجوان بھی نہیں تھے۔ غازی
پور سے ان کی کسی نسبت کا ذکر نہیں ملتا۔ مشاہیرغازی پور سے متعلق کتابیں بھی ان
کے ذکرسے خالی ہیں۔ گویا عرشی مرحوم کے متعلق نہ صرف حیدرآبادی معترض کی معلومات
درست نہیں تھیں بلکہ مولانا سیدسلیمان ندوی کی بھی معلومات تحقیق سے پرے ہے۔
مولانامحمدفضل رب عرشی کے دوقصائدناچیزکی نظر سے گذرے ہیں
اور جو اس مضمون کے آخر میں درج کیے گئے ہیں۔ ان میں’قصیدہ مدوجزر اسلامی‘ ایک
ترکیب بند اور قصیدہ منیر نوازجنگ کے چند اشعار شامل ہیں۔ علامہ شبلی کاکلام جس
وقت غائب ہوا اس وقت وہ مذکورہ حیدرآبادی شخصیات سے سرے سے ناواقف نہیں تھے
اورکوئی وجہ نہیں تھی کہ علامہ ان کا قصیدہ لکھتے۔ ایک اور بات سید صاحب نے جہاں
ابوالقاسم عرشی کا ذکر کیا ہے اس میںان کی
کم عمری میںموت کی بھی اطلاع دی ہے مگرمولانا ابوالقاسم فضل رب عرشی نے پچاسی سال
کی طویل عمر پائی۔ بہرحال یہ ان کے ساتھ صریح ظلم وزیادتی ہوئی اور شاید اسی کانتیجہ
ہے کہ تاریخ ادبیات سے ان کانام غائب ہے۔
مولاناعرشی کی شخصیت مختلف اوصاف سے عبارت تھی۔ مولوی ابوتراب نے اس پربھی تفصیل سے روشنی
ڈالی ہے اور لکھا ہے کہ:
’’آپ
خوش خلق ونیک طینت ہیں۔ صاحب مروت وپسندیدہ سیرت ہیں۔ یاران ہم مشرب وہم مذاق سے نہایت محبت واشفاق سے ملتے ہیں۔ظریف الطبع
ولطیف المزاج ہیں۔خوش تحریر و خوش تقریر ہیں، جس مجلس میں آپ ہوتے ہیں سب اہل
مجلس آپ کو رونق مجلس سمجھتے ہیں۔ حاضرین مجلس آپ کی تقریر دل پذیر سے مزہ ولطف
اٹھاتے ہیں۔ مولف فقیرکوبھی آپ سے نیازہے۔ کبھی کبھی مولوی مہدی علی خاں المخاطب
نواب محسن الملک بہادرکے (حیدرآبادکے) دولت خانہ پر ملاقات ہوئی ہے مگرآپ نے
سرسری ملاقات میں ایسا ثابت کردیا گویاہمارے مدتوں کے رفیق ہیں۔‘‘
(ایضاًج2،
ص806)
مولانا عرشی نے اردو و فارسی دونوں زبانوں میں طبع
آزمائی کی ہے۔ مگران کا اردو کلام دستیاب نہیں ہے۔ محض ان کے اردوکے دو شعرصاحب
محبوب الزمن تذکرہ شعرائے دکن نے جلد دوم میںنقل کیے ہیں ؎
خوں بار ہوگی چشم کفن ہوگا خوں میں تر
پہچاننا عدم میں مجھے اس نشان سے
میں اور نوید وصل فلک اور امید مہر
قاصد تری تو باتیں ہیں وہم و گمان سے
(
محبوب الزمن تذکرہ شعرائے دکن،ص809)
مولانافضل رب عرشی کے اصل کمالات کا میدان ان کی فارسی
شاعری ہے، لیکن ان کا فارسی کلام بھی دستیاب نہیںہے۔ محض دو قصیدے ہاتھ آئے ہیں
جنھیں اس مضمون کے آخر میں نقل کیا گیا ہے ۔
مولاناعرشی کی فارسی شاعری کے متعلق بہت کم لکھا گیا ہے
مگرجن لوگوںنے بھی قلم اٹھایا ان کے فکر و فن میںمہارت کی داددی ہے۔
وہ عالم دین تھے۔ تاریخ اسلام اورمدوجزراسلام سے بخوبی
واقف تھے۔ چنانچہ ان کا قصیدہ ’مدوجزر اسلامی‘ اس کا شاہد ہے۔ یہ قصیدہ جلسہ باغ
عامہ حیدرآباد دکن میں ایک تقریب میں اور ایک بڑے مجمع میں پڑھا گیا تھا، جس میںالگ
زنڈررسل بھی شریک تھا۔ اس کے چند ابتدائی اشعار ملاحظہ ہوں ؎
رحمت یزداں اگر خواہی کہ بینے برزمیں
چشم خود اے قوم بکشا رحمت یزداں بہ بیں
اے مسلمانان زیزداں ہر کرامی خواستید
در دکن اینک فرود آمد چو باران برزمیں
نہ غلط گفتم کہ باران بر زمیںآمد فرود
رحمت حق زاسمان نازل شد اکنوں بر زمیں
میزبانان صف زنید و دف زیند وکف زنید
کام دار دنیائے دیگر میہمانے ایں چنیں
صورت اسلام تازہ گربخواہی بنگری
سرور نصرانیاں را در مسلمانان بہ بیں
دین حق را بر جینیش زد رقم کلک قضا
سودئہ گرد و برزمیں تا در سپاس حق جبیں
(کارنامہ
عبرت،ص57)
اس قصیدے سے مولانا الطاف حسین حالی (1837- 1914) کی
مدوجزراسلام معروف بہ ’مسدس حالی‘کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ شاید مولانا عرشی کے ذہن
پربھی مولانا حالی کی مدوجزر اسلام سایہ فگن تھی۔ نام میں تو یکسانیت ہے ہی بہت سی
معلومات اور خیالات بھی مستفاد معلوم ہوتے ہیں۔ البتہ چونکہ مولانا عرشی کا قصیدہ
فارسی میں ہے اس لیے پورے قصیدے پر قندپارسی ہی کی فضا غالب ہے۔ تاہم خیالات اور
اصطلاحات میںجدت اورنیاپن ضرورمعلوم ہوتاہے۔
مولانامحمدفضل رب عرشی تاجپوری نے اسی نوع کا ایک اور
قصیدہ مختارالملک کے فرزند منیرالملک کے لیے
کہا ہے مگر وہ دستیاب نہیں ہوسکا۔ اس کے تین شعر ڈاکٹرمحی الدین قادری زور نے اپنی
کتاب’داستان ادب اردو‘ میںنقل کیے ہیں:
بدشت دیگرے تازم بکوئے دیگرے نازم
بمدح سرورے سازم وہاج درج نورانی
ملک چہرہ فلک قدر وقیمت قضا صولت
بلبہا عیسی ثانی بعارض ماہ کنعانی
فلک گوہر فلک منظر قبا وافسر منیرالملک
کہ بر خوانش کند خورشید گردوں کاسہ گردانی
اپنے محسن کااس قدرخوبصورت اعتراف اوراس کی منظرکشی
قابل دادوتحسین ہے اور اس بات کی بھی دلیل ہے کہ قندپارسی میںانھیں نہایت مہارت
ومشاقی اور درک حاصل تھا۔
مولاناعرشی کونظم کے ساتھ نثرنگاری پربھی قدرت حاصل تھی
اوروہ اردوکے ایک پختہ ادیب اوراہل قلم تھے۔ انھوں نے کئی کتب ورسائل لکھے تھے مگر
ان میںسے ایک کتاب ’کارنامہ عبرت‘ دستیاب ہوسکی، جو مطبع مفیدعام آگرہ سے 1893 میںمحمدقادرعلی
خاں کے اہتمام میں شائع ہوئی ہے۔اس کے سرورق پراس کا ایک سطری تعارف ان الفاظ میں
لکھاہوا ہے: ’’یہ مضمون تجارت وصناعت علم وہنراسلامی ایجادات اور اس کی ترقی
اورتنزل کے اسباب سے متعلق ہے۔‘‘
’کارنامہ
عبرت‘ کامختصر سا دیباچہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اس میں انتساب، وجہ تالیف اور محسن
کی شکر گزاری کی تفصیل ہے، لیکن اس دیباچے کی نثرالقاب وآداب اور غیر فطری
لوازمات کے بوجھ سے دب کر ثقیل ہوگئی ہے۔
اسی طرح پورا دیباچہ احسان مندوںکے ذکر احسانات میں
سراپاشکر و احسان بن کر ثقیل نثر کاملمع ہوگیا ہے مگرمولاناعرشی کی نثراصل کتاب میںایسی
نہیںہے بلکہ بڑی سادہ و پرکار نثرہے اور اس میںبڑی ادبیت، صفائی وسادگی اور سلاست
ہے۔ خوبصورت تشبیہات اور استعارات نے اس میںاور بھی جاذبیت پیدا کردی ہے۔ جیسا کہ
آئندہ جابجاد رج اقتباسات سے بھی ظاہر ہوگا۔
’کارنامہ
عبرت‘ کے تین اہم پہلو یا موضوعات ہیں۔ ایجاد۔ ترقی اور پھر زوال۔ انہی تینوں
پہلوئوں کو تاریخ اسلام و دیگر تواریخ سے متعدد واقعات واعداد سے اپنے موقف کی تائید
میں دلائل فراہم کیے گئے ہیں۔ بہ الفاظ دیگر مسلمانان عالم نے جوعلمی وتعلیمی
بالخصوص تجارتی ترقیاں کیں اور ترقی کے
آسمان پر پہنچے اور پھر ان کی نااہلیت نے ثریاسے زمیںپہ دے ماراکی تفصیلات قلم
بندکی ہیں۔ مولاناعرشی لکھتے ہیں:
’’مسلمانوںکی
گزشتہ اورموجودہ تجارت پربحث کرتے وقت مضمون نگار کا فرض منصبی ہے کہ تجارت کے
ابتدائی زمانہ پراول غورکرے کب اورکس سنہ میں اس نے ظہور پکڑا اور کیوں کر قدم
بقدم آگے بڑھا اور رفتہ رفتہ اس درجہ تک پہنچا کہ اپنی حیرت انگیزرفتارسے تمام
عالم پرقبضہ کرلیا، تاریخی ہزاروںصفحے الٹ جائے مگر اس کی تدریجی رفتارکااندازہ
ملناتوایک طرف یہ بھی پتہ لگنامشکل ہے کہ کس کس عہد میں اس کے باکمال موجدوں نے اس
کی ایجادیں اور نئی امت نے اس کی اصلاحیں کیں اورکن کن قالبوں اور کن کن صورتوںسے یہ
شاہد دل فریب بزم عالم میںجلوہ گرہوا۔‘‘
(کارنامہ
عبرت،ص1)
پھرمصنف مرحوم نے قرطبہ، غرناطہ، مدینۃ الزہرا، اسپین،
المیریا، جیر و تا، دمشق وغیرہ کی علمی اورتجارتی ترقیوں کا ذکر قدرے تفصیل سے کیا
ہے۔ آخر میں ہندوستان کی قدیم صنعتوںکی ترقیوں کا اجمالی احوال لکھا ہے، اس کے
بعدمصنف نے بغدادکی تجارتی وصنعتی ترقیوںکی تفصیل بیان کی ہے اورپھرعربوںکی تجارتی
تفصیلات ہیں جن کے بارے میںعام رائے ہے کہ انھوں نے بڑی بڑی تجارتی منڈیابنالی تھیں۔
ایک منفرد موضوع ہونے کے باوجود مولانا محمد فضل رب عرشی
تاجپوری نے نہایت محنت عمدگی سے داد تحقیق وتصنیف دی ہے۔ اس کتاب سے جوبات سب سے زیادہ
واضح ہوکرسامنے آتی ہے وہ یہ کہ مولاناعرشی کی تاریخ بالخصوص تاریخ اسلام پربڑی
گہری نگاہ تھی اور ان میںتاریخی واقعات سے عبرت ونصیحت کاپہلوواضح کرنے اوراس
کامرقع کھینچنے کی بھی پوری پوری اہلیت اور صلاحیت تھی۔اس کتاب کے ماخذمیںعلامہ
شبلی کی بھی بعض تصانیف شامل ہیں۔
Dr. Mohd Ilyas Al-Azmi
Darul Musannefin, Shibli Academy
Azamgarh- 276001 (UP)
Mob.: 9838573645
azmi408@gmail.com