29/8/25

ابوالقاسم محمد فضل رب عرشی، مضمون نگار: محمد الیاس الاعظمی

 اردو دنیا، اپریل 2025

مولانا ابوالقاسم محمدفضل رب عرشی تاجپوری ابن حکیم مولوی شیخ امام علی اپنے عہدکے ایک ممتاز شاعر وادیب اورعالم ومصنف تھے۔ اردو و فارسی دونوں زبانوں میں داد سخن دیتے تھے۔ فارسی کے تو نہایت ممتاز اور قادرالکلام شاعرتھے اور اسی کمالات شعری اور مہارت فنی کے سبب وہ نظام حیدرآباددکن میر محبوب علی خاں (1866-1911) کے دربار سے بحیثیت شاعر وابستہ ہوئے۔ پچاسی سال کی طویل عمرپائی ۔ 1309ھ ؍1892 میںحیدرآبادمیں وفات پائی اور وہیں مدفون ہوئے۔ اناللہ وانالیہ راجعون۔

مولاناعرشی کا مذکورہ بالاسنہ وفات درست نہیں معلوم ہوتاہے۔ یہی سنہ وفات1309ھ ابوتراب محمدعبدالجبار خاںبراری نے بھی اپنی کتاب ’محبوب الزمن تذکرہ شعرائے دکن(ج2، ص 808 )درج کیاہے اورلکھاہے کہ’’فقیرمولف کوسنہ وفات میں شک معلوم ہوتا ہے۔ تخمین و قیاس سے لکھا گیا ہے۔‘‘ ماہردکنیات ڈاکٹرسیدمحی الدین قادری زور نے اپنی کتاب ’داستان ادب اردو‘ (ص: 158) میں یہی سنہ وفات قطعیت سے لکھاہے ،لیکن یہ سنہ وفات اس لیے بھی صحیح نہیں ہے 1309)ھ1891-92) کے دوسال بعد 1894 میںنواب میرمحبوب علی خاں نے ندوۃالعلما کے اجلاس لکھنؤمیںشرکت کے لیے حکومت حیدرآباددکن کی جانب سے جو وفد بھیجا تھا اس کے ایک رکن مولانا محمدفضل رب عرشی بھی تھے ، چنانچہ انھوں نے 1894 کے اجلاس میں شرکت کی اورغالباً قصیدہ بھی پیش کیا۔

(محمڈن اینگلواورینٹل کالج میگزین،علی گڑھ ، مئی 1895 ، ص184)

اس لیے 1309ھ؍1891-92 سنہ وفات قطعی طورپردرست نہیںہے۔

مولاناسیدسلیمان ندوی(1884-1953)نے لکھا ہے کہ مولاناابوالقاسم عرشی نے کم عمری میںانتقال کیا۔(حیات شبلی،ص256)

مگر مولانا محمدفضل رب عرشی کے حیدرآبادی دوست اورصاحب تذکرہ’ محبوب الزمن تذکرہ شعرائے دکن‘ نے لکھاہے کہ پچاسی سال کی عمرپائی۔(ج2، ص808) ان کی رائے زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔اس لیے کہ علامہ شبلی کے ایک شاگردمولوی مسعودعلی محوی 1889 میں علی گڑھ کالج سے تکمیل کے بعد1890 میںحکومت حیدرآباد میں ملازم ہوئے اور آخر تک وہاں رہے۔ انھوں نے اپنی بعض تحریروںمیںمولوی فضل رب عرشی کے علم وفضل اورشاعرانہ کمالات کا ذکرکیاہے۔ تاہم تلاش وجستجوکے باوجود ان کی تاریخ ولادت ووفات معلوم نہ ہوسکی ۔

مولاناابوالقاسم فضل رب عرشی کاوطن ضلع اعظم گڑھ کا ایک غیرمعروف گائوں تاج پور ہے۔اسی کی جانب نسبت سے وہ تاج پوری لکھتے تھے۔موضع تاج پورضلع اعظم گڑھ میں شاہراہ بنارس پرموضع قلندرپور کے مغرب میںواقع ہے۔شہرسے تقریباً25؍کلومیٹر کی مسافت ہوگی۔

مولاناعرشی کانانیہال شاہ فتح محمد قلندرؒکامدفن موضع قلندپور ضلع اعظم گڑھ میںتھا۔ ان کی والدہ کانام اہلیت بی بی، ناناکانام شاہ باقرعلی اورنانی کانام سموہا بی بی بنت سیدفقیرحسین تھا۔ نانی کامیکا جہانیاںپور(نزدپوروا، سرسینا) اعظم گڑھ میںتھا۔ ان کی خالہ بھی قلندرپورہی میں تھیں۔ سلسلہ قلندریہ کے ایک بزرگ مولوی شاہ محمد یٰسین بن حکیم شاہ راحت علی قلندرپوری ان کے خالہ زاد بھائی تھے اورشاگرد بھی۔  انھوں نے متوسطات تک کی کتابیںانہی مولانافضل رب عرشی سے پڑھی تھی۔ اس سے یہ واضح ہوتاہے کہ مولانا عرشی تاجپوری ترک سکونت  سے پہلے وطن میں درس وتدریس کا سلسلہ رکھتے تھے، لیکن مولوی محمد یٰسین قلندرپوری کے علاوہ اورکون سے طلبہ نے ان کے چشمہ فیض سے اپنی تشنگی بجھائی ،اس کاعلم نہیںہوسکا۔

مولانا عرشی کے دواور بھائی عبدالحق اور عبدالقدوس تھے۔ایک بہن بھی تھیں، جن کانام معلوم نہیں ہوسکا۔ مولاناعرشی کی شادی شیخ لال محمدساکن خطیب پور(ضلع اعظم گڑھ)کی صاحبزادی سے ہوئی تھی۔

مولاناعرشی اپنے وطن تاج پورضلع اعظم گڑھ میں پیدا ہوئے۔ یہیں ان کی تعلیم و تربیت ہوئی ۔ان کے معاصرتذکرہ نگار مولوی ابوتراب محمد عبدالجبار خاں ملکاپوری براری حیدرآبادی صدرمدرس عربی وفارسی مدرسہ اعزہ نے لکھاہے کہ:

’’آپ نے وطن مالوفہ میںتربیت وپرورش پائی، سن شعورکے بعدعلماء وفضلا کی خدمت میںکتب فارسیہ وعربیہ کی تحصیل کی، ہم عصروںمیںلائق وفائق ہوئے، طبیعت میںموزونیت وجولانی خدادادتھی، چستی وچالاکی ازحد تھی، شعرگوئی کاشوق دل میںموجزن اورسخن سنجی کاشعلہ زن ہوا، طبیعت والاوفکررساکے زور سے کلام موزوںکرنے لگے ،کلام سنجیدہ وپسندیدہ ہونے لگا۔‘‘

(محبوب الزمن تذکرہ شعرائے دکن،ج2،ص805)

مولاناعرشی کے اساتذہ کانام بھی پردئہ خفامیں ہے۔ یہ بھی معلوم نہ ہوسکاکہ اعظم گڑھ میں انھوںنے کس جگہ اورکن علماسے تحصیل علم وادب کیااورکون کون سے علوم حاصل کیے۔ اسی طرح شعر و شاعری میں انھیں کس سے تلمذحاصل تھا اورآپ نے کس سے اصلاح سخن لی، یہ تمام تفصیلات پردئہ رازمیںہیں۔البتہ شعر و سخن میں بڑی مہارت رکھتے تھے اوراس کے رموز و آداب سے بخوبی واقف تھے۔

مولانافضل رب عرشی تلاش معاش میں وطن اعظم گڑھ سے نکلے اورمہاراجہ گوالیارکے صاحب زادے کے اتالیق مقررہوئے، لیکن مزاج کی وارفتگی نے تمام ترعزت وتکریم کے باوجود وہاں ٹھہرنے نہیںدیا۔ مولوی ابوتراب نے لکھاہے کہ:

’’چند مدت تک مولانا ریاست گوالیار میں مقیم رہے۔ مہاراجہ کے صاحبزادے کے ادب آموز تھے۔ بڑی  عزت وآبروتھی مگرآپ کوادب آموزی سے نہایت نفرت تھی ،کیونکہ آپ کامزاج آزادگی پسند قیدوتعلق سے دوری چاہتا تھا۔ خود ہی وہاںکاتعلق چھوڑکرنواب لائق علی خاں مختار الملک ثانی کے زمانہ میں حیدرآباد دکن واردہوئے۔‘‘(ج2،ص806)

حیدرآباد آئے توقسمت نے یاوری نہیںکی حضور نظام اورمدارالمہام کی شان میں قصائد لکھے مگران کے التفات سے محروم رہے۔ مولوی ابوتراب کے بقول اس کاسبب یہ تھاکہ:

’’یہاںبعض نے غلطی یاشاعرانہ تقابل کی وجہ سے آپ کومطعون کیاکہ آپ جو کچھ کہتے ہیںیہ آپ کاطبع زاد نہیں ہے۔ شایدمتقدمین میںجو اس تخلص کا شاعر نامی عرشی گذراہے اس کادیوان آپ کے ہاتھ آگیا ہے۔ آپ یہ جوجوہر افشانی کرتے ہیںاسی کی بدولت کرتے ہیں۔آپ بھی معترض کے اعتراض سے واقف ہوئے۔‘‘

(محبوب الذمن تذکرہ شعرئے دکن،ج2،ص806)

لیکن پھریہ ہواکہ ایک روزدربارہی میںمعترض سے ملاقات ہوگئی۔ اس کی کیفیت صاحب محبوب الزمن نے ان الفاظ میںبیان کی ہے:

’’ایک روزحسن اتفاق سے آپ مدارالمہام کے سلام کے لیے گئے، معترض بھی دربارمیںباریاب تھے۔ اس وقت آپ کی شاعری کی بابت تذکرہ شروع ہوا۔ معترض نے وہی اپنی ہٹ دھرمی شروع کی اوریہ کہاکہ اگرآپ فی البدیہہ چند اشعارہماری خواہش کے موافق سنگلاخ زمین میںکہہ دیں توہم اپنے اعتراضات وطعن سے اعراض کریںگے اورآپ کی واقعی کی لیاقت واستعداد کا اقرار۔ آپ نے نہایت خوشی سے اس امر کو منظور کیا اور معترض صاحب کی (دی ہوئی) طرح پراسی وقت چنداشعارفی البدیہہ کہہ دیے۔ نواب صاحب اوراہل مجلس آپ کی استعداد کے قائل ہوئے اورمعترض صاحب پژمردہ خاطر۔ نواب صاحب نے معترض صاحب سے مخاطب ہوکر کہا فرمائیے اب آپ کیا کہتے ہیں۔ معترض صاحب نے نہایت ندامت کے ساتھ آہستہ لب سے کہاکہ اس شخص کی واقعی لیاقت اس کلام کے لائق نہیں۔ضرورکوئی بیاض قدیمہ ان کے پاس ہوگی۔‘‘(ایضاً،ج2،ص807)

مولوی ابوتراب محمدعبدالجباربراری نے معترض کا نام درج نہیں کیا ہے۔ البتہ مولانا عرشی پراس کے اعتراضات کاجائزہ لیاہے اورلکھاہے کہ:

’’افسوس معترض نے آپ کے معاملے میںبڑی بے انصافی کی۔ صریحاًمعترض کی زیادتی معلوم ہوتی ہے۔ اب اس مقام پر فقیر مولف انصافاًگزارش کرتا ہے کہ معترض کا اعتراض اس قسم کا تھا کہ لااصل لہ، کیونکہ متقدمین میں دوعرشی گذرے ہیں، ان دونوں کا کلام میرے پاس موجودہے۔جناب عرشی صاحب ترجمہ اورایک عرشی متقدمین کے کلام میںاس قدر فرق ہے کہ عرش وفرش  ع

بہ بیں تفاوت رہ ازکجاست تا بہ کجا

متقدمین اورآپ کی طرزمیںزمین وآسمان کا فرق ہے  ع

ہرگلے رارنگ وبوئے دیگر است

آپ اکثر قصائد سنگلاخ زمین میںکہتے ہیں۔ ترصیع و تسجیع کا زیادہ لحاظ فرماتے ہیں۔متقدمین کے کلام میںیہ صفت نہیںہے۔ میراارادہ تھاکہ متقدمین کے چند اشعاراس مقام میںنقل کروںتاکہ ہمارے کلام کی پوری پوری تصدیق ہوجائے لیکن افسوس کہ متقدمین کے دیوان موسی ندی کی طغیانی میںنذرسیلاب ہوگئے اس وجہ سے معذور ہوں۔‘‘ (ایضاًج2،ص:807)

ان ظالمانہ روش کی وجہ سے مولانا عرشی ایک مدت تک دربار نظام حیدرآباد سے وابستہ اور وظیفہ حاصل نہیںکرسکے اور پریشان حال رہے، تاہم انھوںنے صبر و شکر اور استقامت کا دامن نہیںچھوڑا، مولوی ابوتراب نے اس کی کیفیت بھی سپردقلم کی ہے، بعدازاں نظام حیدرآباد میرمحبوب علی خاںکی جانب سے وظیفے کی منظوری کاذکرکیاہے اورلکھاہے کہ:

’’جناب عرشی ’صاحب ترجمہ‘ انھیں موانع وعوائق کی وجہ سے چندمدت پریشان و پراگندہ حال رہے مگر آپ مستقل مزاج وثابت قدم تھے۔ اپنے استقلال وثبات میں ذرا بھی جنبش نہیںکی۔ نہایت ہشاش وبشاش رہے۔  یاران ہم مشرب کے جلسوںمیںشریک ہوتے تھے۔ کبھی کسی دوست ورفیق سے شکایت نہیںکی اور نہ اپنی حالت بیان کی۔ حبل المتین صبرکوہاتھ میںتھامے ہوئے خداپرتوکل کیے ہوئے تھے کہ اسی صبرتوکل کی برکت سے بندگان عالی حضورپرنورنے نہایت قدردانی سے آپ کے لیے بقدر مایحتاج ڈیڑھ سوروپیہ ماہوار کا منصب مقرر کردیا تھا۔ بہرحال عدم مطلق سے بہتر تھا، مگرآپ کی فیاضی وسیرچشمی کے لحاظ خاص اس شہر میں یہ مقدارآپ کے لیے کافی نہیںتھی۔ آپ اسی وظیفہ پر شاکر و قانع رہے۔‘‘(ایضاًج2،ص807-808)

مولاناعرشی کے ساتھ یہ ظلم وزیادتی محض ان کی زندگی ہی میں نہیں روارکھی گئی بلکہ بعداز مرگ بھی یہ سلسلہ قائم رہا۔ مولاناسیدسلیمان ندوی نے ’حیات شبلی‘ میں بیاض شبلی کے غائب ہوجانے کا جہاں ذکر کیا ہے، وہاں یہ بات بھی لکھی ہے کہ:

’’مولاناشبلی کی شاعری کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ وہ شروع میں فارسی میں شعر کہتے تھے، ان کے کلام کا ابتدائی حصہ ایک بیاض میںجمع تھا، مولانا نے غازی پور میںایک جلدسازکووہ بیاض جلدباندھنے کودی تھی اوروہ وہاںسے غائب ہوگئی، لوگوںکوغازی پور کے ایک نوجوان فارسی شاعرابوالقاسم عرشی مرحوم پرشبہ تھا جو بعد کو حیدرآباد میں شعرا کے سلسلہ میں منسلک ہوگئے تھے اورجوانی ہی میں وفات پائی۔ لوگ کہتے تھے کہ وہ انہی نظموں کو حیدرآباد میںاپنے نام سے سناتے پھرتے تھے۔‘‘(حیات شبلی،ص255-56)

اس متن کے حاشیے میں سیدصاحب نے یہ وضاحت بھی کی ہے ’’یہ روایت میںنے جناب خواجہ سید رشیدالدین صاحب (برادرنسبتی نواب سیدعلی حسن خاں، لکھنؤ) سے سنی، جو مولانا (شبلی)کے پرانے دوست ہیں۔‘‘(حیات شبلی،حاشیہ ،ص256)

اس طرح گویایہ سرقہ کے الزام کی ذلت حیدرآباد سے ان کے وطن اعظم گڑھ تک پہنچ گئی۔ اوپرمولوی ابوتراب براری کی تردید نقل کی جاچکی ہے اور مجھ میں اتنی ہمت نہیںکہ مولانا سیدسلیمان ندوی کے قلم پرشبہ کرسکوں۔ البتہ یہ سنی سنائی بے تکی روایت حیات شبلی میں شامل نہ ہوتی توبہتر تھا۔ مذکورہ اقتباس میںغازی پور کے نوجوان فارسی شاعر کا ذکرہے، جبکہ مولاناعرشی تاج پورضلع اعظم گڑھ کے باشندہ تھے۔ علامہ شبلی کے ہم وطن اور معاصرتھے۔ اس وقت نوجوان بھی نہیں تھے۔ غازی پور سے ان کی کسی نسبت کا ذکر نہیں ملتا۔ مشاہیرغازی پور سے متعلق کتابیں بھی ان کے ذکرسے خالی ہیں۔ گویا عرشی مرحوم کے متعلق نہ صرف حیدرآبادی معترض کی معلومات درست نہیں تھیں بلکہ مولانا سیدسلیمان ندوی کی بھی معلومات تحقیق سے پرے ہے۔

مولانامحمدفضل رب عرشی کے دوقصائدناچیزکی نظر سے گذرے ہیں اور جو اس مضمون کے آخر میں درج کیے گئے ہیں۔ ان میں’قصیدہ مدوجزر اسلامی‘ ایک ترکیب بند اور قصیدہ منیر نوازجنگ کے چند اشعار شامل ہیں۔ علامہ شبلی کاکلام جس وقت غائب ہوا اس وقت وہ مذکورہ حیدرآبادی شخصیات سے سرے سے ناواقف نہیں تھے اورکوئی وجہ نہیں تھی کہ علامہ ان کا قصیدہ لکھتے۔ ایک اور بات سید صاحب نے جہاں ابوالقاسم عرشی کا ذکر کیا ہے  اس میںان کی کم عمری میںموت کی بھی اطلاع دی ہے مگرمولانا ابوالقاسم فضل رب عرشی نے پچاسی سال کی طویل عمر پائی۔ بہرحال یہ ان کے ساتھ صریح ظلم وزیادتی ہوئی اور شاید اسی کانتیجہ ہے کہ تاریخ ادبیات سے ان کانام غائب ہے۔

مولاناعرشی کی شخصیت مختلف اوصاف سے عبارت  تھی۔ مولوی ابوتراب نے اس پربھی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے اور لکھا ہے کہ:

’’آپ خوش خلق ونیک طینت ہیں۔ صاحب مروت وپسندیدہ سیرت ہیں۔ یاران ہم مشرب وہم مذاق  سے نہایت محبت واشفاق سے ملتے ہیں۔ظریف الطبع ولطیف المزاج ہیں۔خوش تحریر و خوش تقریر ہیں، جس مجلس میں آپ ہوتے ہیں سب اہل مجلس آپ کو رونق مجلس سمجھتے ہیں۔ حاضرین مجلس آپ کی تقریر دل پذیر سے مزہ ولطف اٹھاتے ہیں۔ مولف فقیرکوبھی آپ سے نیازہے۔ کبھی کبھی مولوی مہدی علی خاں المخاطب نواب محسن الملک بہادرکے (حیدرآبادکے) دولت خانہ پر ملاقات ہوئی ہے مگرآپ نے سرسری ملاقات میں ایسا ثابت کردیا گویاہمارے مدتوں کے رفیق ہیں۔‘‘

(ایضاًج2، ص806)

مولانا عرشی نے اردو و فارسی دونوں زبانوں میں طبع آزمائی کی ہے۔ مگران کا اردو کلام دستیاب نہیں ہے۔ محض ان کے اردوکے دو شعرصاحب محبوب الزمن تذکرہ شعرائے دکن نے جلد دوم میںنقل کیے ہیں          ؎

خوں بار ہوگی چشم کفن ہوگا خوں میں تر

پہچاننا عدم میں مجھے اس نشان سے

میں اور نوید وصل فلک اور امید مہر

قاصد تری تو باتیں ہیں وہم و گمان سے

( محبوب الزمن تذکرہ شعرائے دکن،ص809)

مولانافضل رب عرشی کے اصل کمالات کا میدان ان کی فارسی شاعری ہے، لیکن ان کا فارسی کلام بھی دستیاب نہیںہے۔ محض دو قصیدے ہاتھ آئے ہیں جنھیں اس مضمون کے آخر میں نقل کیا گیا ہے ۔

مولاناعرشی کی فارسی شاعری کے متعلق بہت کم لکھا گیا ہے مگرجن لوگوںنے بھی قلم اٹھایا ان کے فکر و فن میںمہارت کی داددی ہے۔

وہ عالم دین تھے۔ تاریخ اسلام اورمدوجزراسلام سے بخوبی واقف تھے۔ چنانچہ ان کا قصیدہ ’مدوجزر اسلامی‘ اس کا شاہد ہے۔ یہ قصیدہ جلسہ باغ عامہ حیدرآباد دکن میں ایک تقریب میں اور ایک بڑے مجمع میں پڑھا گیا تھا، جس میںالگ زنڈررسل بھی شریک تھا۔ اس کے چند ابتدائی اشعار ملاحظہ ہوں           ؎

رحمت یزداں اگر خواہی کہ بینے برزمیں

چشم خود اے قوم بکشا رحمت یزداں بہ بیں

اے مسلمانان زیزداں ہر کرامی خواستید

در دکن اینک فرود آمد چو باران برزمیں

نہ غلط گفتم کہ باران بر زمیںآمد فرود

رحمت حق زاسمان نازل شد اکنوں بر زمیں

میزبانان صف زنید و دف زیند وکف زنید

کام دار دنیائے دیگر میہمانے ایں چنیں

صورت اسلام تازہ گربخواہی بنگری

سرور نصرانیاں را در مسلمانان بہ بیں

دین حق را بر جینیش زد رقم کلک قضا

سودئہ گرد و برزمیں تا در سپاس حق جبیں

(کارنامہ عبرت،ص57)

اس قصیدے سے مولانا الطاف حسین حالی (1837- 1914) کی مدوجزراسلام معروف بہ ’مسدس حالی‘کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ شاید مولانا عرشی کے ذہن پربھی مولانا حالی کی مدوجزر اسلام سایہ فگن تھی۔ نام میں تو یکسانیت ہے ہی بہت سی معلومات اور خیالات بھی مستفاد معلوم ہوتے ہیں۔ البتہ چونکہ مولانا عرشی کا قصیدہ فارسی میں ہے اس لیے پورے قصیدے پر قندپارسی ہی کی فضا غالب ہے۔ تاہم خیالات اور اصطلاحات میںجدت اورنیاپن ضرورمعلوم ہوتاہے۔

مولانامحمدفضل رب عرشی تاجپوری نے اسی نوع کا ایک اور قصیدہ  مختارالملک کے فرزند منیرالملک کے لیے کہا ہے مگر وہ دستیاب نہیں ہوسکا۔ اس کے تین شعر ڈاکٹرمحی الدین قادری زور نے اپنی کتاب’داستان ادب اردو‘ میںنقل کیے ہیں:

بدشت دیگرے تازم بکوئے دیگرے نازم

بمدح سرورے سازم وہاج درج نورانی

ملک چہرہ فلک قدر وقیمت قضا صولت

بلبہا عیسی ثانی بعارض ماہ کنعانی

فلک گوہر فلک منظر قبا وافسر منیرالملک

کہ بر خوانش کند خورشید گردوں کاسہ گردانی

اپنے محسن کااس قدرخوبصورت اعتراف اوراس کی منظرکشی قابل دادوتحسین ہے اور اس بات کی بھی دلیل ہے کہ قندپارسی میںانھیں نہایت مہارت ومشاقی اور درک حاصل تھا۔

مولاناعرشی کونظم کے ساتھ نثرنگاری پربھی قدرت حاصل تھی اوروہ اردوکے ایک پختہ ادیب اوراہل قلم تھے۔ انھوں نے کئی کتب ورسائل لکھے تھے مگر ان میںسے ایک کتاب ’کارنامہ عبرت‘ دستیاب ہوسکی، جو مطبع مفیدعام آگرہ سے 1893 میںمحمدقادرعلی خاں کے اہتمام میں شائع ہوئی ہے۔اس کے سرورق پراس کا ایک سطری تعارف ان الفاظ میں لکھاہوا ہے: ’’یہ مضمون تجارت وصناعت علم وہنراسلامی ایجادات اور اس کی ترقی اورتنزل کے اسباب سے متعلق ہے۔‘‘

کارنامہ عبرت‘ کامختصر سا دیباچہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اس میں انتساب، وجہ تالیف اور محسن کی شکر گزاری کی تفصیل ہے، لیکن اس دیباچے کی نثرالقاب وآداب اور غیر فطری لوازمات کے بوجھ سے دب کر ثقیل ہوگئی ہے۔

اسی طرح پورا دیباچہ احسان مندوںکے ذکر احسانات میں سراپاشکر و احسان بن کر ثقیل نثر کاملمع ہوگیا ہے مگرمولاناعرشی کی نثراصل کتاب میںایسی نہیںہے بلکہ بڑی سادہ و پرکار نثرہے اور اس میںبڑی ادبیت، صفائی وسادگی اور سلاست ہے۔ خوبصورت تشبیہات اور استعارات نے اس میںاور بھی جاذبیت پیدا کردی ہے۔ جیسا کہ آئندہ جابجاد رج اقتباسات سے بھی ظاہر ہوگا۔

کارنامہ عبرت‘ کے تین اہم پہلو یا موضوعات ہیں۔ ایجاد۔ ترقی اور پھر زوال۔ انہی تینوں پہلوئوں کو تاریخ اسلام و دیگر تواریخ سے متعدد واقعات واعداد سے اپنے موقف کی تائید میں دلائل فراہم کیے گئے ہیں۔ بہ الفاظ دیگر مسلمانان عالم نے جوعلمی وتعلیمی بالخصوص  تجارتی ترقیاں کیں اور ترقی کے آسمان پر پہنچے اور پھر ان کی نااہلیت نے ثریاسے زمیںپہ دے ماراکی تفصیلات قلم بندکی ہیں۔ مولاناعرشی لکھتے ہیں:

’’مسلمانوںکی گزشتہ اورموجودہ تجارت پربحث کرتے وقت مضمون نگار کا فرض منصبی ہے کہ تجارت کے ابتدائی زمانہ پراول غورکرے کب اورکس سنہ میں اس نے ظہور پکڑا اور کیوں کر قدم بقدم آگے بڑھا اور رفتہ رفتہ اس درجہ تک پہنچا کہ اپنی حیرت انگیزرفتارسے تمام عالم پرقبضہ کرلیا، تاریخی ہزاروںصفحے الٹ جائے مگر اس کی تدریجی رفتارکااندازہ ملناتوایک طرف یہ بھی پتہ لگنامشکل ہے کہ کس کس عہد میں اس کے باکمال موجدوں نے اس کی ایجادیں اور نئی امت نے اس کی اصلاحیں کیں اورکن کن قالبوں اور کن کن صورتوںسے یہ شاہد دل فریب بزم عالم میںجلوہ گرہوا۔‘‘

(کارنامہ عبرت،ص1)

پھرمصنف مرحوم نے قرطبہ، غرناطہ، مدینۃ الزہرا، اسپین، المیریا، جیر و تا، دمشق وغیرہ کی علمی اورتجارتی ترقیوں کا ذکر قدرے تفصیل سے کیا ہے۔ آخر میں ہندوستان کی قدیم صنعتوںکی ترقیوں کا اجمالی احوال لکھا ہے، اس کے بعدمصنف نے بغدادکی تجارتی وصنعتی ترقیوںکی تفصیل بیان کی ہے اورپھرعربوںکی تجارتی تفصیلات ہیں جن کے بارے میںعام رائے ہے کہ انھوں نے بڑی بڑی تجارتی منڈیابنالی تھیں۔

ایک منفرد موضوع ہونے کے باوجود مولانا محمد فضل رب عرشی تاجپوری نے نہایت محنت عمدگی سے داد تحقیق وتصنیف دی ہے۔ اس کتاب سے جوبات سب سے زیادہ واضح ہوکرسامنے آتی ہے وہ یہ کہ مولاناعرشی کی تاریخ بالخصوص تاریخ اسلام پربڑی گہری نگاہ تھی اور ان میںتاریخی واقعات سے عبرت ونصیحت کاپہلوواضح کرنے اوراس کامرقع کھینچنے کی بھی پوری پوری اہلیت اور صلاحیت تھی۔اس کتاب کے ماخذمیںعلامہ شبلی کی بھی بعض تصانیف شامل ہیں۔

 

 

Dr. Mohd Ilyas Al-Azmi

Darul Musannefin, Shibli Academy

Azamgarh- 276001 (UP)

Mob.: 9838573645

azmi408@gmail.com

 

20/8/25

اردو ادب میں تنقیدی نظریات، مضمون نگار: محمد خواجہ مخدوم محی الدین

 اردو دنیا، اپریل 2025


تنقید کا وجود عالم انسانی کے وجود کے ساتھ ہوا۔ تنقید کے عام معنی اچھے اور برے کی تمیز کرنے کے ہیں۔ انسان تنقید کا شعور لے کر پیدا ہوا۔ یونانیوں نے سب سے پہلے ادب اور تنقید پر روشنی ڈالی اور اس کو معراج کمال تک پہنچایا۔ تنقید کسی ادبی تخلیق میں فن پارے کی خوبیوں کو ظاہر کرنے کا ایک نظریہ ہے۔ تنقید کا اہم کام ادب کی عظمت کا صحیح اندازہ لگانا ہے۔ تنقید بھی ایک تخلیقی عمل ہے جس میں کسی بھی ادبی تخلیق سے حجابات کے پردے اٹھاکر اس کے اقدار کو متعین کرنا ہے۔ نقاد اچھائی اور برائی میں تمیز کرکے ایک نئی چیز کو جنم دیتا ہے، اس لیے اس عمل کو بھی تخلیق قرار دیا گیا ہے۔ تنقید اس تخلیقی قوت کو کہتے ہیں جو ادیب کے پیش کردہ کارناموں کو علاحدہ حیثیت سے دوبارہ پیدا کرنے اور ذہن پر وہی نقش ثبت کرنے کا کام کرتی ہے۔ اردو ادب میں رومانی تنقید، نفسیاتی تنقید، تاثراتی تنقید، جمالیاتی تنقید، مارکسی تنقید اور سائنٹفک تنقید وجود میں آئی۔

دنیا میں سب سے زیادہ حیرت انگیز اور دلچسپ تخلیق ذہن انسانی ہے جس میں سارا خیر و شر سمیٹ کر آگیا ہے۔ ادب و فنون بھی ایک چھوٹے سے ذہن کا کرشمہ ہے۔ خواہ وہ مصوری ہو یا بت تراشی فن تعمیر ہو یا موسیقی اور شاعری لیکن شعر و ادب کو ان تمام فنون پر اس لیے فوقیت ہے کہ اس میں زندگی کا احاطہ کرنے کی سکت زیادہ ہے۔ ادب فنون لطیفہ تک ہی محدود نہیں ہے۔ بلکہ ادب ہماری تہذیبی زندگی کو بھی متاثر کرتا ہے۔ ادب کی تعریف کے سلسلے میں ناقدین میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض ناقدین نے ادب کو صرف جمالیاتی انبساط ہی تک محدود رکھا۔ اسے صرف مسرت کا ذریعہ بنایا۔ ادب پر سب سے پہلے باقاعدہ اظہار مشہور فلسفی افلاطون نے کیا۔ اس نے اپنے زمانے کی تمام ضروریات سے بغاوت کی، اور حقیقت اور حسن کی تلاش میں ایک نئے فطری نظام کو جنم دیا۔ افلاطون کی نگاہ میں خیر اور سچائی ہی اصل حقیقت ہے۔ وہ ادب و شاعری میں بھی حقیقی مقصد کو پورا کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

افلاطون کا اہم شاگرد ارسطو نے اپنی کتاب ’بوطیقا‘ میں ادب و شاعری پر تفصیل سے بحث کی اور افلاطون کے نقطۂ نظر پر بحث کی۔

اس طرح ادب میں دو نظریے پیدا ہوگئے ’ادب برائے ادب‘، ’ادب برائے زندگی‘۔ ڈاکٹر سید محمد عبداللہ نے کہا ہے :

’’ادب ایک فن لطیف ہے جس کا موضوع زندگی ہے‘‘۔ اس کا مقصد اظہار، ترجمانی و تنقید ہے۔ اس کا سرچشمہ تحریک احساس ہے۔ اس کا معاون اظہار خیال اور قوت متغیرہ ہے اور اس کے خارجی روپ و حسین ہیئت اور وہ خوبصورت پیرایہ ہائے اظہار ہیں جو لفظوں کی مدد سے تحریک کی صورت اختیارکرتے ہیں۔

اس فن لطیف میں الفاظ مرکزی حیثیت رکھتے ہیں اور یہی چیز اس کو باقی فنون لطیفہ سے جدا کرتی ہے ورنہ شدت تاثر اور تخیل کی مصوری اور تخلیق و اختراع کا عمل دوسرے فنون میں بھی ہے۔‘‘

(بحوالہ : ’مباحث‘از ڈاکٹر سید محمد عبداللہ، ص 22)

ادب دراصل زندگی اور تہذیب کا عکاس ہوتا ہے۔ وہ خارجی حقیقتوں کو داخلی آئینے میں پیش کرتا ہے۔ ادب انسانی زندگی کی ایک ایسی تصویر ہے جس میں انسانی جذبات اور احساسات کے علاوہ مشاہدات و تجربات بھی نظر آتے ہیں۔ ’ادب برائے زندگی‘ کا تصور کارل مارکس کے نظریے سے پیدا ہوا۔

ادب زندگی کی صحیح ترجمانی کرتا ہے۔ ادب کو زندگی کی ترجمانی کرنی چاہیے۔ ادب زندگی کا ترجمان اور نقال ہوتا ہے۔

ادب زندگی اور اس کے تجربات کو سمجھنے کا شعور رکھتا ہے۔ بہترین ادب کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اجتماعی خواہشات کی تکمیل کرے۔ ٹین نے کہا ہے کہ :

’’ادب نسل، ماحول، وقت سے مل کر وجود میں آتا ہے۔ ادب کی اس تصریح پر غور کرنے سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ ادب سماج، ماحول، زندگی، تہذیب اور معاشرت کا عکاس اور ترجمان ہوتا ہے اور اگر کسی تخلیق میں یہ صفات نہیں رہیں تو اس کو بہترین ادب میں شمار کرنا صحیح نہ ہوگا۔‘‘

(بحوالہ :Litrature for a age of Science Hymen and Kelen Spalding-P-10)

ادب کو زندگی کی حقیقتوں کے ساتھ ہی پرکھا جاسکتا ہے اس لیے کہ اس کا زندگی سے ایک نہ ٹوٹنے والا رشتہ ہوتا ہے۔ اس زمانے کا ادب زوال پذیر ہوتا ہے، جب وہ زندگی کی حقیقتوں سے دور ہوجاتا ہے۔ اردو ادب میں نئے رجحانات کی ابتدا انیسویں صدی کے آخری حصّے اور بیسویں صدی کے اوائل میں ہوگئی تھی۔ انیسویں صدی کے آخر میں جس کی وجہ سے ہندوستان ایک نئی کشمکش میں مبتلا تھا۔ اور وہ تھی اس کی تہذیب اور روایات کی کشمکش۔ نئی زبان، نئی تہذیب اور نئی باتوں کو قبول یا رد کرنے کا مسئلہ۔ اس کے ساتھ ہی متوسط طبقے کی حالت دن بہ دن خراب ہوتی جارہی تھی جس کے لیے سرسید، حالی، مولانا محمد حسین آزاد، شبلی اور ذکاء اللہ وغیرہ نے نئی باتوں کو اپنانے کی تحریک شروع کی۔ انھوں نے اپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعے نئے علوم اور نئی تہذیب کی حمایت کی اور تعلیم کی اہمیت پر زور دے کر بیداری پھیلانے کی کوشش کی۔

ادب میں ہمیشہ مختلف نظریات سرگرم رہے۔ ادب ہمیشہ نظریات کا پابند رہا۔ افلاطون سے لے کر ہیگل تک فرائیڈ اور مارکس تک ادب کسی نہ کسی صورت میں نظریات کا پابند رہا ہے۔ افلاطون اور ارسطو نے جب کائنات اور فنون لطیفہ کو نقل کیا تو دوسرے لوگوں نے صرف شخصیات کا آئینہ، تنقید حیات یا زندگی کا ترجمان کہا تو اپنی نظریات کے تحت ادب کو پیش کرتے رہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ادب کو کسی نظریہ یا فلسفہ کا غلام بنادیا جائے۔ ایسی صورت میں اس کا حسن محدود ہوجائے گا۔ اس کی تخلیق کے لیے ایک آزاد اور کھلی فضا کی ضرورت ہے جہاں اس کے تخیل کی پرواز نہ روکی جائے۔ ادب کو کسی فلسفہ کا غلام بنادینے میں اس کی ادبیت اور افادیت دونوں مجروح ہوتے ہیں۔

ادب کو زندگی کے مسائل سے علاحدہ نہیں کیا جاسکتا۔ زندگی اس کے مطالبات اور اس کی حقیقتوں سے آنکھ بند کرکے بہترین ادب کی تخلیق ممکن نہیں چونکہ ہر ادیب یا فنکار کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنی تخلیق کو بہتر سے بہتر بنائے۔ علما نے ادب کی تعریف کرتے ہوئے اسے تفسیر حیات کا نام دیا ہے اور تفسیر بغیر تنقیدی شعور کے ممکن نہیں۔ اس لیے تخلیق کے ساتھ ہی تنقید کا عمل بھی شروع ہوجاتا ہے۔ تنقیدی شعور کے بغیر نہ تو اعلیٰ ادب تخلیق ہوسکتا ہے اور نہ فنی تخلیق کی قدروں کا تعین ممکن ہے اس لیے اعلیٰ ادب کی تخلیق اور ادب کی پرکھ کے لیے تنقید لازمی ہے۔ تنقید کا وجود عالم انسانی کے وجود کے ساتھ ہوا۔ تنقید کے عام معنی اچھے اور برے میں تمیز کرنے کے ہیں۔ جب زمین پر انسان کا وجود ہوا تو اس نے بعض درختوں، پودوں، موسموں، ہواؤں اور پھولوں پھلوں کے سلسلے میں اپنی پسند اور ناپسندی کا اظہار کیا، اور کڑوے اور تلخ پھلوں سے اس کا منہ بدمزہ ہوا، اور اس نے اسے خواب سمجھا ہوگا۔ دوپہر کی گرمی کو دور کرنے کے لیے تناور درختوں کا سہارا لیا۔اس لیے اسے پسند کیا۔ پھولوں کی خوشبو نے اسے معطر کیا تو اسے مسرت محسوس ہوئی۔ کانٹوں نے اسے تکلیف پہنچائی تو ان پر غصہ آیا۔ غرض اس طرح اس نے اچھے اور برے میں تمیز کرنا سیکھا۔ یہیں سے اس کے ذہن میں تنقیدی شعور ہوا اس وقت نہ تو کوئی زبان تھی نہ کوئی تہذیب اس لیے ہم اتنا کہہ سکتے ہیں کہ انسان تنقید کا شعور لے کر پیدا ہوا اور جسے تہذیب کے سورج کی گرمی اور روشنی زمین کو سنوارتی اور بناتی گئی۔ ویسے ویسے تنقید کا شعور بھی ارتقا کی منزلیں طے کرتا رہا اور جب تہذیب نے ایک جامہ پہن لیا اور انسان اپنے احساسات کی ترجمانی اپنی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے بات چیت کرنا شروع کی تو تنقید نے ایک شکل اختیارکرنا شروع کی۔

اگر ہم قدیم زمانے کے ادب پر غور کریں تو ہم دیکھتے ہیں کہ یونانی ادب دنیا کاقدیم ترین ادب ہے۔ یونانی قوم نے اس زمانے میں علم و فن اور تہذیب و تمدن میں اپنی معراج کو پالیا تھا۔ جب دنیا جہالت میں تھی، یونان میں علم و حکمت بام عروج پر تھی۔ تنقید اور اس کا معیار بھی سب سے پہلے یونانی ادب میں ملتا ہے اور تنقید کا پہلا اشارہ یونان کے قدیم ترین شاعر ’ہومر‘ کے ہاں ملتا ہے اس نے اپنی تصنیف ’اوڈیسی‘ میں لکھا ہے کہ :

’’اس مقدس مطرب ’ڈیموڈوکس‘ کو بلاؤ کیونکہ خدا نے اسے جیسی گانے کی صلاحیت دی ہے کسی اور کو نہیں دی اس لیے کہ جسے اس کا دل چاہے اس طرح گا کر انسانوں کو خوش کرے۔‘‘(بحوالہ : بوطیقا، ص 3، تمہید)

یونانیوں نے سب سے پہلے ادب و تنقید پر روشنی ڈالی اور اس کو معراج کمال تک پہنچایا۔ پروفیسر بوچر نے افلاطون کی تنقیدی بصیرت کی داد دی، اور افلاطون نے سب سے پہلے فلسفیانہ تنقید پر روشنی ڈالی اور اس کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس نے لکھا  :

’’افلاطون کے مطالعے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس نے وسیع اور فلسفیانہ تنقید کا سنگ بنیاد رکھا جو علم و ادب کی روح ہے۔‘‘ (بحوالہ : روح تنقید، ڈاکٹر زور،ص 160)

تنقید پر ارسطو کی کتاب ’بوطیقا‘ سب سے پہلی کتاب ہے۔ اس کتاب سے نہ صرف تنقیدی رجحانات کا پتہ چلتا ہے بلکہ اصول نقد پر بھی روشنی پڑتی ہے۔ عزیز احمد نے بوطیقا کی تمہید میں لکھا :

’’جہاں تک خالص تنقید کا تعلق ہے معلم اول کا یہ شاہکار دنیا بھر میں بے مثل ہے۔‘‘

(بحوالہ : بوطیقا ارسطو مترجمہ عزیز احمد، ص 32)

ارسطو نے ادبی فن پاروں کو پرکھنے کے لیے جو اصول معین کیے وہ بے پناہ تنقیدی صلاحیت کا ثبوت ہے رزمیہ المیہ اور طربیہ پر اس نے جس طرح بحث کی ہے وہ تنقید کا بہت بڑا شاہکارہے۔ ارسطو نے پہلی بار المیہ و طربیہ شاعری پر تنقیدی بحث کی، یہ المیہ کو اس لیے پسند کرتا ہے کہ اس سے اخلاق کا درس ہے۔ اس طرح تنقید یونان میں پہلی بار باقاعدہ شکل میں آئی۔

عربی ادب کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ اسلام سے پہلے بھی جب تہذیب و تمدن نام کی کوئی چیز کا وجود نہ تھا۔ بہترین شاعری کے نمونے ملتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ انھوں نے اصول اور قاعدہ بھی مقرر کیے تھے جس کی بنا پر وہ اچھی اور بری شاعری میں فرق کرتے تھے۔وہ شاعری میں طرز بیان کو سب سے زیادہ ترجیح دیتے۔ ابن رشیق نے اپنی کتاب ’کتاب العمدہ‘ میں جدت اور طرز اور ندرت بیان پر سب سے زیادہ زور دیا ہے۔

’’ادائے ندرت معنی کیلئے نئے انداز نکالنا اور ایک ایک بات کو کئی کئی طرح ادا کرنا شاعرانہ کمال ہے۔‘‘

(اردو تنقید کی تاریخ، مسیح الزماں، ص 10)

اس زمانے میں تنقید کا باقاعدہ وجود نہ تھا لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کچھ اصول نقد موجود تھے۔ مثلاً ابن خلدون نے تنقید کے اس طریقے کو ضروری سمجھا اور لکھا ہے :

’’جب اشعار نظم کرلیں اور فراغت مل جائے تو خود اپنے اشعار پر ناقدانہ نظر ڈالنی چاہیے۔‘‘

(مقدمہ ابن خلدون، ص591)

ایرانی نقادوں نے شاعری کو صرف احساسات کی ترجمانی اور جذبات کی شدت بیان کرنے کا ایک ذریعہ ہی نہیں سمجھا بلکہ انداز بیان کو بہت زیادہ اہمیت دی۔ ایران کی ابتدائی شاعری میں عروض و ظاہری خوبیوں کو شروع ہی سے زیادہ اہمیت حاصل رہی:

’’شمس قیس رازی نے اس بات سے بحث کی کہ شاعری اور تنقید الگ الگ چیزیں ہیں اس لیے کوئی ضروری نہیں کہ اچھا شاعر اور اچھا نقاد یا اچھا نقاد اچھا شاعر بھی ہو۔‘‘

(شمس قیس رازی کتاب العجم بحوالہ اردو تنقید کی تاریخ مصنف مسیح الزماں)

اس نے پہلی بار تنقید کو فن کی حیثیت سے محسوس کیا۔  سنسکرت ادب بھی دنیا کے قدیم ادب میں شمار ہوتا ہے۔ جس طرح تمام زبانوں میں زبان کی ابتدا شاعری سے ہوئی اسی طرح سنسکرت میں بھی اس کے ابتدائی نقوش شاعری کی صورت میں ملتے ہیں۔ جس طرح تنقید کی باقاعدہ ابتداء ارسطو کی کتاب ’بوطیقا‘ سے ہوئی اس طرح سنسکرت میں بھی تنقیدی شعور کا اندازہ ناٹیہ شاستر سے ہوتا ہے۔اس زمانے میں تنقید میں فن بلاغت، علم بیان معانی اور علم بدیع پر بہت زیادہ زور دیا گیا۔ سنسکرت میں شاعری کے تقریباً وہی اصول نظر آتے ہیں جو یونانی ادب میں نظر آتے ہیں۔ ساہتیہ درپن میں وشواناتھ نے شاعری کی تعریف میں لکھا :

’’وہ کلام جس سے لذت حاصل ہو یعنی جذبات اور لذت کا ہونا شعر کے لیے ضروری قرار دیا گیا۔‘‘

(ساہتیہ درپن از :وشواناتھ، ترجمہ سالک رام شاستری، ص13)

اس کے علاوہ بھاؤ کو سنسکرت شاعری میں بہت اہم قرار دیا۔ شاعری کے مقصد کے لیے سنسکرت میں بعض شعرا نے اپنے خیالات کا اظہار کیا جس سے ان کے تنقیدی شعور پر روشنی پڑتی ہے۔ مثلاً سنسکرت کے مشہور عالم ممٹ نے لکھا ہے :’’شبد ارتھو کا ولیم‘‘یعنی لفظ و معانی ہی شاعری ہے اس لیے لفظ کبھی معانی سے جدا نہیں ہوتا اس طرح ناٹیہ شاستر کے مصنف بھرت نے بہتر شاعری کے لیے سب سے زیادہ اہم رسوں کو بنایا ہے۔

مغربی ادب کا تنقیدی شعور ایک طویل عرصہ تک ارسطو کے بنائے ہوئے تنقیدی اصولوں سے بہت زیادہ متاثر رہا۔ جس کی تحریک ارسطو کی کتاب ’بوطیقا‘ سے ہوئی۔ تنقید کے ارتقاء کی تاریخ میں اٹھارویں صدی کے وسط سے انیسویں صدی کی تیسری دہائی کا زمانہ بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اس میں تنقید کے تمام بنیادی مسائل سامنے آئے جوکہ آج بھی نظر آتے ہیں۔ اس زمانے میں تنقید کا ایک ایک اہم رجحان نو کلاسکیت سے شروع ہوا جس نے تنقید میں ایک اہم باب کا اضافہ کیا۔ یہ تحریک اٹلی اور فرانس میں سولہویں صدی میں شروع ہوئی۔ یہ تحریک کلاسکیت تحریک سے وراثت میں آئی۔ اس تنقید میں نئے رجحانات کو قبول کیا گیا۔ جوکہ بعد میں رومانی کی شکل میں نمایاں ہوئی۔ نو کلاسکیت تنقید کے عام اصول شائستگی یا ظاہری آرائش عام روایات اور اصول ہیں۔ نو کلاسیکی کے نظریہ کی بنیاد Imitation of Nature پر ہے۔

نوکلاسیکی تنقید کی ارتقا میں جان ڈرائڈن کو اہمیت ہے۔ ڈرائڈن پہلا شاعر ہے جس نے اپنی تحریروں میں نوکلاسکیت کے اصول پیش کیے اس میں شاعری طنز و مزاح ڈرامہ پر تنقیدی مضامین لکھے۔ مختلف اصناف کے ذریعے نوکلاسکیت کے نظریے کو پیش کیا۔ویلک نو کلاسکیت تنقید کا نمائندہ تھا۔

کلاسیکی حقیقت پسندی کے بعد تنقید میں رومانی تحریک کی ابتداء ہوئی۔ یہ ایک رومانی تحریک تھی۔ اس نے تمام پرانے روایات سے بغاوت کی اور ادب کے اصولوں کو ازسرنو ترتیب دیا۔

رومانیت کی بنیاد تصوریت اور ماورائیت پر ہے۔ اسی لیے اس میں میانہ روی کی گنجائش نہیں ہے۔ رومانوی ادیبوں کے یہاں جذباتی انتہا پسندی ہے ان کا احساس بہت شدید اور تصور بہت بلند ہے۔ ہیگل کے فلسفے نے رومانیت کے راستے کو ہموار کرنے میں بڑی مدد دی اس لیے کہ اس کے یہاں بھی تصوریت اور ماورائیت کی بہتاب ہے۔ شوپنہار کا فلسفہ جمالیات اور فلسفہ غم بھی رومانی تصور ہے۔

تنقید میں رومانی تحریک جرمن سے شروع ہوئی تھی جو بہت جلد انگلستان اور فرانس میں پہنچی۔ اس تحریک کو عام کرنے میں ٹین (Taine) اور سینٹ بیو نے سب سے زیادہ کام کیا۔

تنقیدی رجحانات عام طور پر حالات اور واقعات کے تحت بدلتے رہتے ہیں۔ رومانی تنقید سے جدید تنقید کی ابتداء ہوئی اس لیے کہ اس زمانے میں تنقید میں فلسفیانہ نفسیاتی اور جمالیاتی تنقید پر زور دیا گیا۔ بعض لوگوں نے کسی بھی فن پارے کا معیار اس سے حاصل ہونے والی ذہنی سکون پر رکھا۔ تو بعض نے اس کی سماجی اہمیت پر زور دیا۔ کچھ لوگوں نے سائنٹفک کی ابتداء کی تو کچھ لوگوں نے ادب میں فنی خصوصیات جمع کرکے جمالیات تنقید کی بنیاد ڈالی۔ سائنٹفک تنقید ادیب او فنکار کے تمام پہلوؤں سے بحث کرتی ہے اس میں اس زمانے کے سماجی حالات اور خیالات کا گہرا عکس دکھائی دیتا ہے۔

سائنٹفک کے ابتدائی نقوش ٹین کے یہاں ملتے ہیں۔ حالات و نظریات کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ تنقید کی راہیں بھی بدلتی گئیں۔ کچھ لوگوں نے ادب کے مطالعہ میں تاریخ کی اہمیت پر زور دے کر تاریخی تنقید کی ابتداء کی جس کے تحت سیاسی و عمرانی اثرات کا بھی مطالعہ کیا۔ اس طرح نفسیاتی اور سوانحی تنقید کا بھی وجود ہوا۔ انیسویں صدی میں تنقید میں بہت سے نئے رجحانات آنے لگے۔ سائنٹفک تنقید نے جن باتوں پر اپنی بنیاد رکھی انہی سے تنقید کی ایک نئی شاخ جمالیاتی تنقید بھی نکلی جس میں جمالیاتی اقدار پر زور دیا:

’’مجنوں گورکھپوری کا بیان ہے جمالیات فلسفہ ہے حسن و فن کاری کا۔‘‘

(تاریخ جمالیات،مجنوں گورکھپوری، ص12)

جمالیاتی تنقید کے اولین نقادوں میں والٹر پیٹر کا نام لیا جاتا ہے۔

تنقید کے اس نظریے میں مسرت اور حسن کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ جمالیاتی نقاد کسی بھی فنی تخلیق میں سب سے زیادہ یہ دیکھتا ہے کہ وہ کہاں تک حظ پہنچاتی ہے۔ جمالیاتی تنقید سے ایک شاخ تاثراتی تنقید کی نکلی۔ جمالیاتی تنقید میں جب حد درجہ داخلیت پیدا ہوجاتی ہے تو تاثراتی تنقید بن جاتی ہے۔ تاثراتی تنقید میں صرف ان باتوں پر نگاہ رکھی جاتی ہے کہ کسی بھی ادبی تخلیق کے مطالعے کے وقت ذہن پر کونسا وجدانی اثر طاری ہوتا ہے۔ وہی تاثر اس تخلیق کے اقدار کو متعین کرتا ہے۔

امریکی نقاد اسپنگارن جس نے تاثراتی تنقید کو تخلیقی تنقید کا نام دیا ہے۔ والٹر پیٹر اور آسکر واٹلڈ اسی دبستان کے علمبرداروں میں سے ہے تاثراتی تنقید میں صرف یہ دیکھا جاتا ہے کسی تخلیق کے مطالعے سے نقاد کے ذہن پر کیا اثر پڑتا ہے۔

جدید دور میں ادب میں سماجی نقطۂ نظر پر زور دیا گیا ہے۔ نقاد یہ دیکھتا ہے کہ ادبی تخلیقات میں فنکار نے کس زاویہ سے سماجی مسائل پر روشنی ڈالی۔ اس کا انداز فکر کیا ہے۔ وہ کس طبقے کی ترجمانی کرتا ہے۔ اس طرح تنقید کا سلسلہ معاشیات، نفسیات، سیاسیات اور دوسرے علوم سے مل گیا۔ تنقید کا کام ادب کی ترجمانی کرنا ہے اور اس کے محاسن اور اقدار کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ جدید تنقید میں ایک باقاعدہ اسکول مارکسی نقادوں کا ملتا ہے جس نے ادب اور سماج کے بارے میں اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔ مارکسی ناقدین کا خیال ہے کہ ادب کی تخلیق کے لیے دوسرے علوم کا سہارا لینا ضروری ہے۔ ادب زندگی پر اثرانداز ہوتا ہے۔ سماجی مارکسی تنقید کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے ادب اور زندگی کے متعلق اس کی افادیت پر زور دیا ہے۔

جدید تنقید نگاری میں نفسیاتی تنقید کا ایک اہم رجحان ملتا ہے جس کی باقاعدہ ابتدا فرائڈ سے ہوتی ہے اس نظریے کے تحت سب سے زیادہ زور فرد پر دیا جاتا ہے اور ادب کو خالق کی نفسیاتی الجھنوں اور تشنگیوں کی تصویر بنایا جاتا ہے۔ جدید نفسیات کی مقبولیت فرائڈ کی تحریروں خصوصاً اس کے فلسفے تحلیل نفسی سے ہوتا ہے۔ فرائڈ نے خواب کی تعبیر و تشریح کی اور بتایا کہ خواب کی طرح ادب بھی ہماری ناکامیوں کی تسکین کا ذریعہ ہے۔ نفسیاتی فلسفیانہ،ادبی اور سماجی تحریکوں کا اثر عالمگیر صورت میں ظاہر ہوا ان اور تحریکات نے مشرق اور خصوصیت سے ہندوستانی ادب کو بھی متاثر کیا۔ ہندوستانی سماج کے تنقیدی نظریات میں اس قسم کے تحریکات نظر آتے ہیں۔ ’’سرسید نے سب سے پہلے فکر کو ایک سائنسی نقطۂ نظر دیا اور چیزوں کو پرکھنے کے لیے تنقیدی نظریہ عطا کیا۔ یہ سرسید ہی کی دین تھی کہ تنقیدی شعور نے صدیوں کی راہ ایک جست میں طے کرلی۔ ہم دیکھتے ہیںکہ تنقید ایک دم تذکروں سے نکل کر آب حیات کے دائرے میں آگئی۔ یہ بہت بڑی ترقی تھی۔ دوسرے تذکروں کے مقابلے میں ’’آب حیات‘‘ میں باقاعدہ تنقیدی رجحان اور اصول ملتے ہیں۔ آزاد کا اصول تمثیلی ضروری ہے۔

لیکن انھوں نے اپنے خاص انداز میں شاعری کا تجزیہ کرکے ادبی پرکھ کا ایک نیا طریقہ اور معیار متعین کیا۔ اس ضمن میں آب حیات کے علاوہ نیرنگ خیالات کا مقدمہ بھی کافی اہمیت رکھتا ہے جس میں بدلتے ہوئے حالات کا شعور ملتا ہے اور ان حالات کے پیش نظر نئی ادبی روایتوں کی تدوین کا جذبہ کارفرما نظر آتا ہے۔ آب حیات کے بعد مقدمہ شعر و شاعری اس سے زیادہ اہم قدم تھا چوںکہ انیسویں صدی کے آخری نصف حصّے میں ہندوستان میں بہت سی نئی چیزیں آئیں بلکہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اس زمانے میں پورا نظام حیات بدل گیا۔ اس لیے تنقیدی شعور اور ادبیات میں تبدیلی کا ہونا لازمی تھا جو نئے تنقیدی شعور کی نشاندہی کرتی ہیں۔

اردو ادب میں ابتدائی تنقیدی اشارے تذکروں میں ملتے ہیں۔ تذکروں میں ان تنقیدی اشاروں کی بڑی اہمیت ہے۔ دراصل ہماری جدید تنقید کی بنیاد ہی اشارے ہیں۔ تذکرہ نگار جس شاعر کا ذکر کرتا ہے اس کے کلام پر خود ہی رائے دیتا ہے۔ تنقیدی شعور کا یہ سلسلہ شعرا کے کلام سے تذکروں تک پہنچتا ہے۔ اسے تنقیدی شعور کی ابتدا کا زمانہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ تنقیدی شعور کی بہت سی مثالیں شاعروں کے کلام تقریضوں اور خطوط میں مل جاتے ہیں۔ تذکروں کے فوراً بعد آب حیات کا نام آتا ہے۔ اگر تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو سب سے پہلے جدید تنقیدی خیالات کا اظہار آزاد ہی نے کیا۔ آب حیات میں شاعری کے مختلف موضوعات پر بحث کی۔ اس میں شعرا کے کلام پر تنقید و تبصرہ بھی ملتا ہے۔ آب حیات کی تنقید غیر جانبدارانہ نہیں ہے۔ پھر بھی اسے تنقید سے خارج نہیں کیا جاسکتا۔ آب حیات کو ہم صرف تذکرہ نہیں کہہ سکتے کیوںکہ اس میں اور دوسرے تذکروں کے انداز میں خاصا فرق ہے۔ آب حیات دراصل ہماری پہلی ادبی تاریخ ہے جس میں تذکرے کی خصوصیت اور تنقید بھی ہے۔

مغربی اثرات میں آزاد، حالی، سرسید اور شبلی نے سب کو متاثر کیا۔ یہاں اردو تنقید تعریف و توصیف کے دائرے سے نکل کر سماجی اور نفسیاتی تجزیے کے حدود میں داخل ہوئی۔ ادب میں زندگی اور مقصدیت کا وجود عمل میں آیا۔ جس نے تنقید کو نئے اور زندہ اصول دیے ہیئت اور اسلوب کے ساتھ مواد اور موضوع پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ اس طرح اردو ادب میں رومانی تنقید، نفسیاتی تنقید، تاثراتی تنقید، جمالیاتی تنقید، مارکسی تنقید اور سائنٹفک تنقید وجود میں آئی۔

اردو میں جمالیاتی و تاثراتی تنقید

جمالیاتی تنقید کا مقصد ادبی فن پاروں میں مسرت و حسن کے اجزا کو تلاش کرتا ہے۔ چونکہ جمالیات فنون لطیفہ کے بارے میں اظہار خیال کرتی ہے اس لیے اس کو فلسفہ فن کہا گیا ہے۔ ادب ایک ایسا فن ہے جس کا کام تخلیق حسن ہے جوکہ دائمی مسرت کا باعث ہوتا ہے اس لیے فنکار کی طرح نقاد بھی اس تخلیق کی ٹکنک میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اردو میں جب ہم جمالیاتی تنقید کی تلاش کرتے ہیں تو ہمیں مختلف نقادوں کے یہاں ایسے رجحانات اور اشارے مل جاتے ہیں جو اردو میں جمالیاتی تنقید و تاثراتی تنقید کی شکل میں ملتی ہے۔ ان نقادوں میں آزاد، شبلی، مہدی افادی، سجاد انصاری، عبدالرحمن بجنوری، اثر لکھنوی، مجنوں گورکھپوری، رشید احمد صدیقی، نیاز فتح پوری اور حسن عسکری کے نام اہم ہیں۔

سائنٹفک تنقید

انیسویں صدی کے درمیان ہی میں ٹین کے تاریخی نظریے کے ساتھ سماجی نظریہ پیدا ہوا جس کی ابتدا مارکسی اور ہیگل نے کی۔ حقیقت میں سماجی رجحان ٹین کے نظریۂ نسل زمانہ اور ماحول پر زور دینے سے شروع ہوا۔

جدید سماجی نظریہ اٹھارویں صدی سے شروع ہوتا ہے۔ مارکسی تنقید کی ابتدا مارکس سے شروع ہوتی ہے۔ ادب انسان کے خیالات و جذبات کے اظہار کا نام ہے اور اس کے خیالات اور جذبات بنیادی تجربات پر ہوتی ہے۔ جب ہم ادب کے لیے یہ بات کہتے ہیں تو اس کا سلسلہ زندگی اور اس کی مادی حالت میں مل جاتا ہے۔ ادب اور فن کا ارتقا خلا میں وجود رکھنے والا خود مختار عمل نہیں ہے ایسی تخلیقات ان ہی روایات اور سماجی ماحول سے وابستہ ہوتی ہے جن میں وہ سانس لیتا ہے۔ جن حالات سے اس کی زندگی دوچار ہوتی ہے۔ ادب کو زندگی کا آئینہ کہا گیا ہے۔ فنکار اپنے طبقہ اور زمانہ کا عکاس ہوتا ہے۔ مارکسی تنقید نہ تو فنی صنعت گری کے خلاف ہے نہ جمالیاتی احساسات اور نہ حسن کے خلاف بہتر مارکسی تنقید ایک اچھے فن پارے میں احساسات کی رفعت جمالیات و تاثرات اور فنی اقدار کے شعور کو بھی دیکھتی ہے۔ جب ہم ان تمام پہلوؤں کو پیش نظر رکھ کر ادبی تخلیق کی پرکھ کرتے ہیں تو وہ صحیح معنوں میں سائنٹفک تنقید بن جاتی ہے۔ سائنٹفک تنقید کے نقادوں میں سب سے اہم نام حالی کا ملتا ہے۔ حالی نے ادب اور سماج کا رشتہ جوڑنے کی کوشش کی۔

انھوں نے سب سے زیادہ مغرب کا اثر قبول کیا۔ ان کے تنقیدی شعور میں وہ پختگی نظر آتی ہے جو اس دور کے دوسرے نقادوں کے یہاں نظر نہیں آتی۔ تاثراتی اور سائنٹفک نقادوں میں اہم نام اختر حسین رائے پوری، سجاد ظہیر، احتشام حسین، اختر انصاری، سردارجعفری، ممتاز حسین، جسارت بریلوی، ظ۔ انصاری، محمد حسن اور قمر رئیس کے ہیں۔

 

Dr. Mohd Khwaja Makhdoom Mohiuddin

Asst. Professor/ Incharge Head Dept of Urdu

Dr. B R Ambedkar Open University

Hyderabad- 500033 (Telangana)

Mob.: 9849402769

maqdoom_siasat@yahoo.com 

تازہ اشاعت

ابوالقاسم محمد فضل رب عرشی، مضمون نگار: محمد الیاس الاعظمی

  اردو دنیا، اپریل 2025 مولانا ابوالقاسم محمدفضل رب عرشی تاجپوری ابن حکیم مولوی شیخ امام علی اپنے عہدکے ایک ممتاز شاعر وادیب اورعالم ومصنف ت...