اکبر کی شاعری میں عورت کا تصور مضمون نگار: صغریٰ مہدی




اکبر کی شاعری میں عورت کا تصور

صغریٰ مہدی
ہندوستان میں جدید خیالات کی آمد نے سماج میں عورت کی طرف لوگوں کو متوجہ کیا اور عورتوں کی تعلیم اور آزادی کی مختلف تحریکیں شروع ہوئیں۔ سماج میں ان کی ابتر حالت کے خلاف آوازیں اٹھنے لگیں۔ انگریزوں کے تسلط کے بعد ہندوستانی مسلمانوں کا جہاں تک تعلق ہے، وہ دو طبقوں میں بٹ گئے تھے۔ ایک طبقے کا کہنا تھا کہ ایک طویل عرصے تک انگریزوں کی سیاسی محکومی ہمارا مقدر اور ملک کی ضرورت بھی ہے، اس لیے ہماری بہتری اسی میں ہے کہ ہم انگریزوں کی تہذیبی بر تری مان لیں۔ مغربی تہذیب، جس کو وہ جدید تہذیب کے مترادف سمجھتے تھے، اس کو اختیار کریں اور ترقی کی راہ پر گامزن ہوں۔ اس خیال کے سب سے بڑے حامی سر سید اور حالی تھے۔ سر سید کی تحریک انھی خیالات کی اشاعت کے لیے شروع ہوئی تھی اور دوسرا طبقہ اس بات پر مصر تھا کہ مسلمانوں کو اپنے اندر اخلاقی اور مذہبی قوت پیدا کر کے غیر قوم کی محکومیت سے نجات حاصل کرنا چاہیے، اپنے مذہب،اپنی تہذیب کی قدر کرنا چاہیے اور حاکم قوم کی اندھا دھند تقلید ہمارے لیے نقصان دہ ہے۔ اکبر اور اقبال اسی طبقے کے ہم خیال تھے۔
اسی لیے جب عورتوں، خاص طور سے مسلمان عورتوں کی تعلیم و ترقی کی بات شروع ہوئی تو اس کا مطلب بھی یہی تھا کہ عورتوں کی ترقی کے معنی ہیں انگریز خواتین کی طرزِ زندگی ہندوستانی عورتیں بھی اختیار کریں۔ منہ کھول کر کلبوں میں ناچیں، سا یہ پہنیں اور حکام کی خوشنودی حاصل کریں۔ عورتوں کی اس آزادی کے خلاف سر سید بھی تھے، حالی بھی، اقبال بھی اور اکبر بھی۔ عورتوں کی اس آزادی کی مخالفت بھی اکبر کے اس نظریے کے تحت تھی کہ ہم کو اپنی شناخت کھو کر غیر قوم سے مرعوب ہوکر ان کی ہر بات میں اندھی تقلید نہیں کرنی چاہیے۔ اکبر نے اپنی شاعری میں مزاحیہ اور سنجیدہ انداز میں اس اندھی تقلید اور مرعوبیت کے خلاف آواز اٹھائی، مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ اکبر کا نام عورت کی تعلیم و ترقی کے مخالفین میں سر فہرست رکھا گیا۔ اس کا بہت چرچا ہوا، یہاں تک کہ اقبال کے اس موضوع پر مزاحیہ اشعار کو اکبر سے منسوب کر دیا گیا۔ پی.ایچ.ڈی. کے مقالوں میں بھی۔
اکبر کا کہنا ہے کہ :
پردہ اٹھ جانے سے اخلاقی ترقی قوم کی
جو سمجھتے ہیں، یقینا عقل سے فارغ ہیں وہ
سن چکا ہوں یہ کہ کچھ بوڑھے بھی ہیں اس میں شریک
یہ اگر سچ ہے تو بے شک پیرِ نابالغ ہیں وہ
یہ اکبر ہی نہیں علامہ اقبال بھی کہہ رہے ہیں :
شیخ صاحب بھی تو پردے کے کوئی حامی نہیں
مفت میں کالج کے لڑکے ان سے بدظن ہو گئے
وعظ  میں فرما دیا کل آپ نے یہ صاف صاف
پردہ آخر کس سے ہو جب مرد ہی زن ہو گئے
اکبر کہتے ہیں :
حامدہ چمکی نہ تھی انگلش سے جب بیگانہ تھی
اب ہے شمعِ انجمن، پہلے چراغ خانہ تھی
اقبال تشویش ظاہر کرتے ہیں:
لڑکیاں پڑھ رہی ہیں انگریزی
قوم نے ڈھونڈ لی فلاح کی راہ
رَوِش مغربی ہے مد نظر
وضعِ مشرق کو جانتے ہیں گناہ
سر سید عورتوں کی تعلیم اور آزادی کے خلاف تھے، جس کا اظہار انھوں نے اپنی تحریروں اور تقریروں میں بارہا کیا ہے اور اس کے مختلف جواز دیے ہیں۔ چاہے وہ انگلستان کی لیڈیوں کی شائستگی ، علمیت اور کارکردگی کی کتنی ہی تعریف کریں مگر ہندوستانی عورتوںکے بارے میں ان کا یہ خیال تھا، جس کا اظہار انھوں نے گرداس پورم میں کیا۔ 1884 میں جب گرداس پور گئے تو خواتین پنجاب نے ان کو ایڈریس دیا اور قوم کے تئیں ان کی خدمات کو سراہا تو سر سید نے جواب میں کہا:
 ’’میری یہ خواہش نہیں ہے کہ تم ان مقدس کتابوں کے بدلے جو تمھاری نانیاں ، دادیاں پڑھتی ہیں، اس زمانہ کی مروجہ نا مبارک کتابوں کا پڑھنا اختیار کرو جو اس زمانے میں پھیلتی جاتی ہیں۔ مردوں کو جو تمھارے لیے روٹی کما کر لانے والے ہیں، زمانے کی ضرورت کے سامنے کچھ ہی علم یا زبان سیکھنے اور کسی نئی چال چلنے کی ضرورت پیش آتی ہو، مگر ان تبدیلیوں سے جو ضرورت تعلیم کے متعلق تم کو پہلے تھی، اس میں تبدیلی نہیں ہوئی۔‘‘
[داستانِ تاریخِ اردو، حامد حسن قادری، 307]
حالی کا جہاں تک تعلق ہے، وہ عورتوں کی سماجی حالت کو بہتر بنانے کے حق میں تھے۔ وہ سر سید کے اس خیال سے بھی متفق نہیں تھے کہ ’’لڑکوں کی تعلیم لڑکیوں کی تعلیم کی جڑ ہے۔‘‘ (داستانِ تاریخِ اردو، حامد حسن قادری،307 ) ان کا کہنا تھا کہ لڑکیاں جب تک تعلیم یافتہ نہیں ہوں گی ، قوم ترقی نہیں کر سکتی، مگر وہ بھی ’مغربی مس‘ کی تقلید کے خلاف تھے۔
اکبر بھی اس بات پر سراسیمہ تھے:
پردہ توڑا آپ نے اس بت کو آیا کر دیا
خود پری تھی، آپ نے پریوں کا سایہ کر دیا
ان سے بیوی نے فقط اسکول کی ہی بات کی
یہ نہ بتلایا کہاں رکھی ہے روٹی رات کی
اکبرکو ترقی کے غلط تصور پر اعتراض تھا، جس کو وہ ’کاغذی ترقیِ نیشن‘ کہتے تھے اور اس صورت حال سے پریشان تھے۔
قومی ترقیوں کی زمانے میں دھوم ہے
مردا نے سے زیادہ زنانے میں دھوم ہے
اکبر ہندوستانی عورت کو مغربی مس کی تقلید سے بچانا چاہتے ہیں اور وہ اس کوشش میں مردوں کو یہ باور کرانے لگے ہیں کہ مشرقی عورت میں مغربی عورت کے مقابلے میں زیادہ سیکس اپیل ہے، چاہے اس کا تعلق ایک خاص طبقے سے ہی ہو:
ہر چند کہ ہے مس کا لونڈر بھی بہت خوب
بیگم کا مگر عطرِ حنا اور ہی کچھ ہے
سایے کی بھی سَن سَن ہوس انگیز ہے لیکن
اس شوخ کے گھنگھرو کی صدا اور ہی کچھ ہے
اکبر نے اپنی پوری قوت یہ باور کرانے میں صرف کر دی کہ عورتوں کی یہ ترقی اور تعلیم ہر طرح سے قوم کے لیے مضر ہے، مگر وقت کے ساتھ انھیں اس کا احساس ہونے لگا کہ اب وہ سانچا جو مشرقی عورت کے لیے مردوں نے بنایا تھا پرانا ہو گیا اور اب زمانے کا تقاضا کچھ اور ہے:
نئی تہذیب، نئی راہ، نیا رنگِ جہاں
دورِ گردوں کی کوئی کرتا کہاں تک تردید
بحث میں آہی گیا فلسفۂ شرم و حجاب
زہرہ ممبر ہوئیں، ووٹر تھے جنابِ خورشید
شیخ صاحب ہی کا ہے بزم میں کیا رعب و وقار
کہ خواتین کی پبلک میں ہو وقعت کی امید
نعرے تحقیر کے یاروں کے ہوئے اس پہ بلند
لڑکیاں بول اٹھیں خود بہ طریقِ تائید
خود تو گٹ پٹ کے لیے جان دیے دیتے ہو
ہم پہ تاکید ہے پڑھ بیٹھ کے قرآن مجید
اور وہ یہ بھی جان گئے تھے:
جناب حضرت اکبر ہیں حامیِ پردہ
مگر وہ کب تک ان کی رباعیاں کب تک
وہ عورتوں کے تیور بھی دیکھ رہے تھے:
غریب اکبر نے بحث پردے کی کی بہت کچھ مگر ہوا کیا
نقاب الٹ ہی دی اس نے، کہہ کر کہ کر ہی لے گا مرا موا کیا
اس لیے اب وہ اس ’غیرتِ قومی‘ کا ذکر بھی نہیں کرتے جس سے وہ عورتوں کو بے پردہ دیکھ کر زمین میں گڑ جاتے تھے، بلکہ اس پر صبر کر لیتے ہیں:
پھاڑے مغرب نقابِ نسواں

مشرق نے آنکھ اپنی سی لی
اور
دورِ تہذیب میں پریوں کا ہوا دور نقاب
اب بھی ہم چاک گریباں کو سیے لیتے ہیں
یہی نہیں، وہ یہ مصالحت بھی کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں:
فرض عورت پر نہیں ہے چار دیواری کی قید
ہو اگر ضبطِ نظر اور خود داری کی قید
یہی نہیں، وہ یہ بھی سمجھتے ہیں:
اب رہی تعلیم، کون اس امر کا مفتوں نہیں
بیبیوں پر مغربی سانچا مگر موزوں نہیں
تعلیم لڑکیوں کی ضروری تو ہے مگر
خاتونِ خانہ ہوں، وہ سبھا کی پری نہ ہوں
یا
دو اسے شوہر و اطفال کی خاطر تعلیم
قوم کے واسطے تعلیم نہ دو عورت کو
وہ اس پر متفق ہیں کہ ’’سب سے بڑی ضرورت اور قومی دلیل تعلیم نسواں کی یہ ہے کہ جب ہم مردوں کو مغربی تعلیم دے کر نئے سانچے میں ڈھال رہے ہیں تو اشد ضرورت ہے کہ لڑکیوں کا بھی ایک سیٹ تیار ہو۔‘‘ (خط بنام ایڈیٹر’’ الناظر ‘‘غیر مطبوعہ ،اردو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، ممبئی) ۔ جب شیخ عبد اللہ کے ساتھ سجاد حیدر یلدرم نے عورتوں کی تعلیم کے لیے مہم چلائی تھی تو انھوں نے بھی یہی دلیل دی تھی۔
اکبر ایڈیٹر ’’الناظر ‘‘ہی کو ایک خط میں اپنے مخصوص انداز میں لکھتے ہیں، ’’تعلیم نسواں کا میں کیوں کر مخالف ہو سکتا ہوں کہ بغیر تعلیم کے معشوقانہ انداز ممکن نہیں۔ میں تو شاعر آدمی ہوں، اس قدر تعلیم چاہتا ہوں کہ شعر گوئی کا سلیقہ پیدا ہو جائے۔ سبز پری اگر یہ مصرعہ نہ کہہ سکتی:
معمور ہوں شوخی سے، شرارت سے بھری ہوں
دھانی مری پوشاک ہے، میں سبز پری ہوں
تو گلفام پر کیا کم بختی تھی کہ وہ اس پر مرتا اور راجہ اندر کی سختیاں جھیلتا۔ جو عاشقانہ طبیعت کے نہ ہوں ان کو بھی تعلیم یافتہ بی بی ضروری ہے جو گھر کا حساب لکھ سکے، لڑکوں کی نگرانی کر سکے، مگر مذہبی بھی تعلیم ضروری ہے۔‘‘ (غیر مطبوعہ خط، اردو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ، ممبئی) انھوں نے تعلیم نسواں کے موضوع پر ایک نظم بھی لکھی ہے جس میں عورتوں کی تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالی ہے، اور اس کی تشریح کی ہے کہ ہندوستانی عورتوں کو کس طرح کی تعلیم حاصل کرنی چاہیے۔ مگر آخر میں وہ ہندوستانی عورت کو اس سے آگاہ کرتے ہیں:
مشرق کی چال ڈھال کا معمول اور ہے
مغرب کے نازو رقص کا اسکول اور ہے
اس لیے وہ اسے نصیحت کرتے ہیں:
پڑھ لکھ کے اپنے گھر ہی میں دیوی بنی رہو
مولوی ممتاز علی عورتوں کی تعلیم کے سخت حامی تھے۔ وہ ایک رسالہ ’تہذیب نسواں‘ نکالتے تھے۔ انھوں نے اکبر کو لکھا کہ آپ اپنی شاعری میں عورتوں کی تعلیم اور آزادی کی مخالفت کرتے ہیں، تو اکبر نے انھیں جواب دیا، ’’میں تعلیم نسواں کا ہرگز مخالف نہیں ہوں، جن شعروں کا آپ نے حوالہ دیا ہے وہ میری پرانی نظمیں ہیں۔ میں نے پبلک کے خیالات کو موزوں کر دیا ہے ۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ شعر انقلاب روکنے کے لیے نہیں یادگارِ انقلاب ہیں۔‘‘
(رقعاتِ اکبر ، مرتبہ محمد نصیر ہمایوں، ص13]
وہ اس بات کو شعر میں اس طرح کہتے ہیں:
شعرِاکبر کو سمجھ لو یادگارِ انقلاب
یہ اسے معلوم ہے، ٹلتی نہیں آئی ہوئی
ایک دوسرے خط میں مولوی ممتاز علی کو لکھتے ہیں، ’’ میں کیا اور میرے شعر کیا۔ شعر اقافیہ پیمائی کیا ہی کرتے ہیں۔ دنیا کے قوانین شعر سے نہیں چلتے۔ زمانے کا رنگ اور زمانے کی ضرورتیں فیصلہ کر دیتی ہیں اور اس وقت بھی کر رہی ہیں۔‘‘ (رقعاتِ اکبر، مرتبہ نصیر ہمایوں، ص13) وہ یہ محسوس کر رہے تھے کہ ایک تہذیب کی بساط پلٹ رہی ہے اور نئی تہذیب اس کی جگہ لے رہی ہے:
یہ موجودہ طریقے راہیِ ملکِ عدم ہوں گے
نئی تہذیب ہوگی اور نئے ساماں بہم ہوں گے
نہ خاتونوں میں رہ جائے گی پردے کی یہ پابندی
نہ گھونگھٹ اس طرح سے حاجبِ روئے صنم ہوں گے
اکبر نے زمانے کی اس ضرورت کو بہت خوشی سے تو نہیں ، مگر قبول کر لیا تھا کہ آزادیِ نسواں محض انگریزوں کی تقلید کا شاخسانہ نہیں ہے، بلکہ واقعی خواتین کی سماجی حالت کو بدلنا چاہیے۔ مگر اکبر اور اکبر ہی کیا، اس زمانے کے سب مصلحین عورت کی زندگی کا محور گھر اور گھریلو ذمے داریاں، شوہر اور بچوں کی خدمت سمجھتے ہیں، چاہے سر سید ہوں، چاہے نذیر احمد، چاہے تعلیم نسواں کے علم بردار حالی ہوں۔ اس زمانے کے تناظر میں عورت کے اس تصور کو ترقی پسند ہی سمجھنا چاہیے۔


پتہ:
صغریٰ مہدی
Abid Villa,
Gulmohar Avenue
Jamia Nagar, New Delhi-110025
سہ ماہی ’ فکر و تحقیق، جنوری تا مارچ 2009

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں