کلاسیکی اردو غزل اور اکبر الٰہ آبادی مضمون نگار: احمد محفوظ




کلاسیکی اردو غزل اور اکبر الٰہ آبادی
احمد محفوظ
اس میں کوئی شک نہیں کہ اکبر الہٰ آبادی (1846 تا1921) ہمارے سب سے بڑے طنز و مزاح نگار شاعر ہیں۔ چنانچہ ان کی اصل شہرت اور مقبولیت کا بنیادی حوالہ بھی ان کا طنزیہ اور مزاحیہ انداز و اسلوب ہی قرار پاتا ہے۔ اس انداز شعر گوئی کو اکبر نے جس عہد میں اختیار کیا وہ کلاسیکی طرز کے اواخر اور جدید طرز کے اوائل کا زمانہ تھا۔ انھوں نے جس طرزِ خاص میں اپنے غیر معمولی کمالات کا اظہار کیا وہ اس وقت بھی انھی سے مخصوص تھا اور آج بھی اس طرز میں ان کا کوئی ہمسر نظر نہیں آتا۔ مختصر یہ کہ اکبر نے طنزیہ اور مزاحیہ شاعری کو معراج کمال تک پہنچا دیا۔
اکبر الٰہ آبادی کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے عموماً مذکورہ بالا باتیں کہی جاتی ہیں اور یہ باتیں بڑی حد تک صحیح بھی ہیں لیکن ان باتوں کی تہہ میں جو بنیادی اور عام خیال نظر آتا ہے وہ یہی ہے کہ اکبر اصلاً طنز و مزاح نگار ہیں اور یہ بھی کہ اس میدان میں ان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ یہ تصور اکبر کی حقیقی قدر و قیمت کو سمجھنے میں ایک حد تک ضرور مانع رہا ہے۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ان کی شاعری کا بڑا حصہ ایسا ہے جس میں افکار و خیالات اور مخصوص قسم کے تصورات کی ایسی دنیا آباد ہے جو ہمیں نہ صرف غور و فکر پر مائل کرتی ہے بلکہ قدیم اور جدید زمانے کے ایسے حقائق سے پردہ اٹھاتی ہے کہ ہم ان مناظر کے مختلف پہلوؤں سے نظر ہٹانے کی ہمت نہیں کر پاتے۔ اس طرح اکبر کے شعری کمالات اور فنکارانہ خصوصیات ہماری نظروں سے عموماً اوجھل رہ جاتی ہیں۔ شاید مخصوص افکار و تصورات کی حامل شاعری کے ساتھ عموماً ایسا ہی ہوتا رہا ہے۔ چنانچہ اس سلسلے میں علامہ اقبال کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے۔ اقبال کے مختلف افکار اور فلسفیانہ خیالات کے بارے میں جتنی گفتگو ہوئی ہے اور ہوتی رہتی ہے اس کے مقابلے میں ان کے فنکارانہ امتیازات اور شعری خوبیوں کے بارے میں بہت کم باتیں ہوئی ہیں۔ اقبال کا مصلحانہ مزاج ان پر اس قدر حاوی تھا کہ وہ جوش میں یہ بھی کہہ بیٹھے کہ شاعری میرا اصل مقصد نہیں ہے۔ لیکن جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں، اس باب میں ان کا قول و فعل ایک دوسرے سے حد درجہ متناقض ہے۔ بہر حال اقبال والا ہی معاملہ اس سلسلے میں عموماً اکبر کے ساتھ بھی دکھائی دیتا ہے۔
اس میں شاید ہی کسی کو کلام ہو کہ اکبر اپنے شعری مزاج اور میلان ِطبع کے لحاظ سے پکے کلاسیکی شاعر ہیں۔ اس کا ایک ثبوت تو یہی ہے کہ انھوں نے اگرچہ نظمیں اور قطعات بھی بہت کہے ہیں لیکن ان کی مجموعی شاعری کا سب سے بڑا حصہ غزلوں پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ رباعیات کا معتدبہ حصہ اس پر مستزاد ہے۔ فنی نقطۂ نگاہ سے اکبر خاص کر اپنی غزلوں میں پوری طرح کلاسیکی طرز کے مالک نظر آتے ہیں۔ ان کے یہاں غزل کی کلاسیکی رسومیات کے ساتھ ساتھ وہ فنی طریقۂ کار بھی حد درجہ نمایاں ہیں جو عموماً کلاسیکی غزل گو شعرا کے یہاں دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اکبر کے معاصرین میں حالی بھی کلاسیکی طرز کے اہم غزل گویوں میں ہیں اور اپنی جدید طرز فکر کی حامل شاعری بالخصوص نظموں کی بنیاد پر بے حد اہم جدید شاعر بھی ٹھہرتے ہیں۔ اگر صرف غزلوں ہی کے پیش نظر دیکھا جائے تو اکبر کے امتیازات کی کیا کیا بنیادیں ہیں ؟ اس سلسلے میں پہلی بات تو یہ عرض کرنی ہے کہ یہاں حالی کی مثال پیش کر کے اکبر سے ان کا موازنہ اور تقابل مقصود نہیں ہے بلکہ اس امر کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ ایک ہی وقت میں دونوں شعرا کلاسیکی طرز کی حامل غزلیں کہہ رہے تھے اور اپنے مخصوص افکار و تصورات کے سبب جدید طرز احساس کی بھی نمائندگی کر رہے تھے۔ تاہم ان کی غزلیں الگ الگ رنگ کا اظہار کرتی ہیں۔ دوسری بات یہ کہ حالی اپنی غزلوں میں روایتی مضامین کی پاسداری روایتی اصول شعر کے ساتھ کرتے ہیں جب کہ اکبر کے یہاں غزل روایتی ہوتے ہوئے بھی کچھ نئی طرح کی معلوم ہوتی ہے۔ یہ نیاپن محض اس سبب سے نہیں ہے کہ انھوں نے غزلوں میں ایسی لفظیات داخل کیں جو ان سے پہلے نظر نہیں آئیں بلکہ اس کے اور بھی اسباب ہیں جن کا اجمالی  ذکر آگے آتا ہے۔
اکبر کی غزلیہ شاعری کے حقیقی ادراک کے لیے ضروری ہے کہ ہم پہلے کلاسیکی تصور غزل کے بنیادی پہلوؤں کو پیش نظر رکھیں۔ اس سلسلے میں یہ عرض کرنا نا مناسب نہ ہوگا کہ کلاسیکی غزل کے بارے میں عام اور رائج تصورات غزل کی صحیح تفہیم اور حقیقی تعین قدر کی راہ میں حائل رہے ہیں اور اس کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتے۔ ان تصورات کی حامل کچھ مشہور باتیں حسب ذیل ہیں۔ یہاں غزل سے عموماً کلاسیکی غزل ہی مراد لیا گیا ہے : 
                (1)         غزل عشقیہ خیالات کا اظہار کرتی ہے ۔
                (2)         غزل کا لہجہ نہایت نرم اور سوز و گداز سے مملو ہوتا ہے۔
                (3)         غزل میں شاعر خود اپنے جذبات و احساسات کا بیان کرتا ہے۔
                (4)         اسی لیے غزل داخلی اور قلبی واردات کے اظہار پر اصرار کرتی ہے۔
                (5)         سچی غزل وہی ہے جس میں حد درجہ غنائیت ہو اور جس میں نرم و ملائم الفاظ کا استعمال کیا گیا ہو۔
                (6)         شاعر پر جو کچھ گذرتی ہے چونکہ اسی کا اظہار وہ غزل میں کرتا ہے اس لیے وہ اپنی شاعری کے
                                تئیں مخلص سمجھا جاتا ہے۔
مذکورہ بالا باتیں اس قدر مشہور و معروف ہیں کہ ان کے بارے میں مزید کسی وضاحت یا تشریح  کی ضرورت نہیں ہے لیکن اسی کے ساتھ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ ہے کہ یہ باتیں غزل بالخصوص کلاسیکی غزل کو سمجھنے اور سمجھانے میں نہ صرف یہ کہ ہماری مدد نہیں کرتیں بلکہ عموماً گمراہی کا سبب بنتی ہیں۔ اگر انھی باتوں کو اول و آخر درست سمجھ لیا جائے جیسا کہ عام طور سے سمجھا گیا ہے تو ہمیں اپنے سرمایۂ غزل کے بہت بڑے حصے سے ہاتھ دھونا پڑے گا، کیونکہ ان باتوں کی رو سے وہ غزل کے زمرے میں داخل ہی نہ ہوں گے۔
اوپر جن باتوں کا ذکرکیا گیا ان میں سے یہاں صرف پہلی بات کی طرف توجہ کرتے ہیں یعنی یہ کہ غزل عشقیہ خیالات اور عشقیہ جذبات و احساسات کا اظہار کرتی ہے۔ اس بات کے ثبوت میں اس صورت حال کو پیش کیا جا سکتا ہے کہ جب آج بھی غزل سنائی جاتی ہے اور شاعر شعر پڑھ رہا ہوتا ہے تو کسی شعر سے پہلے کہتا ہے کہ غزل یا خاص غزل کا شعر ملاحظہ کریں ۔ یہ شعر لازماًعشقیہ مضمون کا حامل ہوتا ہے۔ اب آپ خود بتائیں کہ اس مثال سے کیا ظاہر ہوتا ہے۔ یہی کہ شاعر نے اگر پانچ یا سات اشعار پر مشتمل غزل پڑھی اور ان میں ایک یا دو شعر کو خاص غزل کا شعر کہہ کر سنایا تو کیا اس کا مطلب یہ نہیں ہوا کہ باقی اشعار خاص غزل کے نہ تھے یا ان میں غزلیت نہیں تھی۔ ظاہرہے یہ بات اسی لیے کہی گئی کیوں کہ عموماً یہ سمجھ لیا گیا کہ حقیقی غزل وہی ہے جس میں نام نہاد خالص عشقیہ جذبات و احساسات یا عشق سے متعلق معاملات کا بیان کیا جائے۔ اس سلسلے میں اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ غزل اگرچہ بنیادی طور پر عشقیہ شاعری ہے اور اس کے مضامین کا بہت بڑا حصہ عشقیہ خیالات، جذبات اور احساسات پر مبنی ہے لیکن اپنے موضوع کے لحاظ سے غزل صرف عشق تک محدود نہیں، اس میں حیات و کائنات اور انسان سے متعلق کوئی بھی بات بیان کی جا سکتی ہے۔ اس شرط کے ساتھ کہ غزل کے فنی اصولوں کی پابندی کرتے ہوئے محض دو مصرعوں میں اس کا بیان کیا جائے۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ صنفی لحاظ سے اختصار کے باوجود غزل اپنے موضوعات میں دیگر تمام اصناف سے زیادہ وسعت رکھتی ہے۔ چنانچہ کلاسیکی غزل گویوں کے یہاں قدم قدم پر اس کی مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ ہم ایسے اشعار کثرت سے نکال سکتے ہیں جن کا عشقیہ مضامین سے دور کا بھی واسطہ نہیں لیکن ہیں وہ غزل کے نمائندہ اشعار۔ مثلاً یہ اشعار دیکھیے :
رب کہیں جنگلوں میں ملتے ہیں
حضرت خضرؑ مر گئے شاید
میر
نہیں ہے مرجع آدم اگر خاک
کدھر جاتا ہے قدّ خم ہمارا
میر
پہنچا جو آپ کو تو میں پہنچا خدا کے تئیں
معلوم اب ہوا کہ بہت میں بھی دور تھا
میر
عیال و مال نے روکا ہے دم کو آنکھوں میں
یہ ٹک ہٹیں تو ملے راستہ مسافر کو
مصحفی
پہنچے کیا گوشہ نشینوں کو ضرر دشمن سے
آتشِ سنگ کو کچھ خوف نہیں پانی کا
ناسخ
زندگی زندہ دلی کا ہے نام
مردہ دل کیا خاک جیا کرتے ہیں
ناسخ
اکبر الہٰ آبادی اس حقیقت سے خوب واقف تھے کہ غزل کے موضوعات کی دنیا بہت وسیع و عریض ہے۔ چنانچہ انھوں نے غزل میں ایسے مضامین پر مبنی اشعار وافر تعداد میں کہے ہیں جنھیں عام طور سے لوگ غزل سے باہرکے مضامین کہیںگے۔ اکبر کے یہ اشعار دیکھیے : 
جب مانتے ہو تم کہ خدا بھی ہے کوئی چیز
پھر کیوں نہیں کہتے کہ دعا بھی ہے کوئی چیز
شکر ہے راہ ترقی میں اگر بڑھتے ہو
یہ تو بتلاؤ کہ قرآں بھی کبھی پڑھتے ہو
شیخ صاحب کا تعصب ہے جو فرماتے ہیں
اونٹ موجود ہے پھر ریل پہ کیوں چڑھتے ہو
دین کو سیکھ کے دنیا کے کرشمے دیکھو
مذہبی درس الف بے ہو علی گڑھ تے ہو
ایمان بیچنے پہ ہیں اب سب تلے ہوئے
لیکن خرید ہو جو علی گڑھ کے بھاؤ سے
امید حور میں مسلم تو ہو گیا ہوں میں
خدا ہی ہے کہ جو مجھ سے یہ پنجگانہ چلے
اہل عدم نہ پوچھو کچھ ہم سے حال دنیا
رہ آئے ہم بھی دو دن اک میہماں سرا ہے
غزلوں میں موضوعات کی وسعت اور تنوع کے ساتھ ساتھ نئے انداز بیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اکبر نے اپنے ایک مقطع میں کہا کہ :
کیوں کر نہ شعراکبر آئے پسند سب کو
یہ رنگ ہی نیا ہے کوچہ ہی دوسرا ہے
یہ نیا رنگ اکبر نے غزل کے حقیقی ادراک اور اپنے مخصوس طرز بیان کے ذریعے ہی حاصل کیا ہے۔ ان کے مخصوص طرز بیان میں ان خاص لفظیات کا بڑا دخل ہے جو اکبر سے مخصوص ہیں۔ یہاں میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ اکبر اگر طنز نگار نہ ہوتے تو بھی ان کی غزلیں حصہ درجہ لائق توجہ قرار پاتیں۔ کیوں کہ ان غزلوں میں ہمیں وہ سب کچھ نظر آتا ہے جو کلاسیکی غزل میں ہم دیکھتے ہیں۔ علاوہ ازیں اکبر کا خاص انداز و اسلوب اور لفظیات کی سطح پر غیر معمولی جدت پسندی نے ان غزلوں کو بالکل نئے رنگ و آہنگ سے ہمکنار کر دیا ہے۔ اس طرح یہ رنگ و آہنگ صرف اکبر سے مخصوص ہوگیا ہے۔
جہاں تک غزل میں عشقیہ مضامین کا تعلق ہے تو ہمیں کلاسیکی شعرا کے یہاں یہ مضامین حد درجہ تنوع اور وسعت کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ ان کے یہاں عشق کے مضامین کا بیان محض اس طرح نہیں ہوا ہے کہ اس سے داخلی جذبات و احساس کا ہی اندازہ ہو بلکہ ان مضامین کو مختلف لہجے اور پہلو کے ساتھ باندھا گیا ہے۔ ان میں سے ایک پہلو شوخی و ظرافت اور خوش طبعی کا بھی ہے۔ اس پہلو کو اکبر نے اپنی غزلوں میں نہایت خوبی اور مہارت کے ساتھ پیش کیا ہے۔ پہلے اس فن میں یہاں کچھ اشعار کلاسیکی شعرا کے دیکھیے، بالخصوص میر کے یہ اشعار ملاحظہ ہوں :
میں جو نرمی کی تو دونا سر چڑھا وہ بد معاش
کھانے ہی کو دوڑتا ہے اب مجھے حلوا سمجھ
لگا آگ، پانی کو دوڑے ہے تو
یہ گرمی تری اس شرارت کے بعد
باچھیں پھٹ پھٹ گئی ہیں گھگھیاتے
بے اثر ہو گئی دعا افسوس
ہنستے ہی ہنستے مار کھا تھے جو ہم ظریفِ
ہے یار بھی ہمارا قیامت ستم ظریف
مر مر گئے نظر کر اس کے برہنہ تن میں
کپڑے اتارے ان نے سر کھینچا ہم کفن میں
اب مصحفی کو سنیے :
شوخ چشموں کے جو ہوتا ہے مقابل کوئی شخص
گھور گھور اس کو یہ نظروں میں ہی کھا جاتے ہیں
یہ وہ کوچہ ہے جہاں گالیاں کھانے والے
سیکڑوں سنتے ہیں اور لاکھوں سنا جاتے ہیں
سینے پہ میرے ہر دم رکھتے ہیں ہاتھ خوباں
دل لے چکے پھر اس میں کیا یہ ٹٹولتے ہیں
اس کے کوچے میں پکارے گا اگر مجھ کو رقیب
میں بھی عیار ہوں آواز بدل جاؤں گا
ظاہر ہے یہ ایسے اشعار ہیں جو عشقیہ مضامین پر مبنی ہیں لیکن ان میں داخلی کیفیات اور سوز و گداز کے بجائے خوش طبعی، چھیڑ چھاڑ اور اپنے اوپر ہنسنے کا انداز صاف نمایاں ہے۔ چونکہ اکبر کے مزاج کو اس پہلو سے خاص مناسبت تھی اس لیے انھوں نے اس رنگ کو خوب چمکایا ہے۔ اکبر خوب جانتے تھے کہ غزل میں یہ اسلوب لطف پیدا کرنے کا ایک بڑا وسیلہ ہے۔ لہٰذا انھوں نے اس اسلوب کو خوب خوب استعمال کیا اور اپنے مخصوص رنگ میں اسے نہایت کامیابی کے ساتھ برتا ہے۔ اب اکبر کے یہ اشعار ملاحظہ کریں :
کبھی جو ہوتی ہے تکرار غیر سے ہم سے
تو دل سے ہوتے ہو در پردہ تم اسی کی طرف
افلاک تو اس عہد میں ثابت ہوئے معدوم
اب کیا کہوں جاتی ہے مری آہ کہاں تک
مل گیا شرع سے شراب کا رنگ
خوب بدلا غرض جناب کا رنگ
چل دیے شیخ صبح سے پہلے
اڑ چلا تھا ذرا خضاب کا رنگ
حضرت ہوش ہیں گو دل کے وفادار رفیق
آپ کی یاد جو آتی ہے تو چل دیتے ہیں
کفر کی رغبت بھی ہے دل میں بتوں کی چاہ بھی
کہتے جاتے ہیں مگر منھ سے معاذ اللہ بھی
ان اشعار کا حاوی لہجہ خوش طبعی اور ظرافت کا ہے۔ اکبر نے اپنی غزلوں میں اس لہجے کو بڑی خوبی اور توانائی کے ساتھ برتا ہے۔
کلاسیکی غزل کی روشنی میں اکبر کی غزلوں کو بہت سے اور پہلوؤں سے بھی دیکھا جا سکتا ہے، لیکن تنگیِ وقت کا تقاضا انھیں بیان کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ ان پہلوؤں پر آئندہ پھر گفتگو ہوگی۔

پتہ:
احمد محفوظ
Deptt. of Urdu
Jamia Millia Islamia
Jamia Nagar, Okhla,
New Delhi-110025
سہ ماہی ’ فکر و تحقیق، جنوری تا مارچ 2009

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں