8/5/18

مضمون: ’’زاہدہ خاتون شروانیہ کے تخلیقی وجود سے مکالمہ‘‘




ڈاکٹر نعمان قیصر

انیسویں صد ی کے اوائل میں جن شاعرات نے اردو کی نظمیہ شاعری میں کمال حاصل کیا، ان میں ایک نمایاں نام ز۔خ۔ ش۔ یعنی زاہدہ خاتون شروانیہ کا نام بھی شامل ہے۔ انھوں نے غزلیں بھی کہیں اور نثرکو بھی اپنے اظہار کا وسیلہ بنایا،لیکن ان کے تخلیقی وفور کا احساس ان کی نظمیہ شاعری میں نمایاں ہے۔ان کا تاریخی اور تہذیبی شعور انتہائی بالیدہ ہے۔ان کو اسلامی اقداروروایات سے دلی لگاؤ ہے،جس کا احساس ان کی نظموں کی قرأ ت سے ہوتا ہے۔ان کے یہاں مضامین کا تنوع بھی ہے،عصری حسیت اور عصری مسائل وموضوعات سے ہم آہنگی بھی ان کی نظموں میں نظر آتی ہے۔ان کی نظمیہ شاعری میں نسائی حسیت کا بھر پور اظہار بھی ملتاہے۔ زاہدہ خاتون شروانیہ غالباً اردو کی پہلی شاعرہ ہیں جو اپنی مثبت فکر اور منفردطرز اداکی وجہ سے اتنی نمایاں ہیں کہ انھیں نہ تو نظرانداز کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی سرسری ذکر کرکے گزراجاسکتا ہے۔انیسویں صدی کی ابتداء میں ان کی تاریخی نظموں نے بے انتہا مقبولیت حاصل کی۔انیسہ ہارون شروانی کے لفظوں میں’ دنیائے ادب میں انھوں نے تہلکہ مچادیاتھا۔پردۂ خفا میں رہنے کے باوجودوہ اپنی نغمہ باریوں سے عالم کومسحور و متحیر کرتی رہیں۔‘

ز۔ خ۔ ش۔کا اصل نام زاہدہ خاتون شروانیہ ہے، لیکن رسائل وجرائد میں ز خ ش کے نام سے ہی ان کی تخلیقات منظر عام پر آئیں اور ادبی دنیا میں بھی وہ اپنے اسی مخفف نام سے جانی جاتی ہیں۔ان کاشاعری کا ذوق فطری تھا۔ دس برس کی عمر سے ہی انھوں نے اشعار کہنا شروع کردیاتھا اور اس وقت کے معیاری رسائل وجرائد ’زمیندار ‘ لاہور ’خاتون ‘ علی گڑھ ’تہذیب نسواں،اخبار النساء، شریف بی بی،نظام المشائخ،کہکشاں ’لاہور‘ اور ’ستارۂ صبح ‘ وغیرہ میں ان کی شعری اورنثری کاوشیں اشاعت پذیر ہوئیں۔انھوں نے شاعری میں پہلے ’گل ‘ اور بعد میں ’نزہت ‘ تخلص اختیار کیا۔ان کے گھر کا ماحول علمی اور ادبی تھا۔ہوش سنبھالتے ہی ز۔خ۔ ش۔ کا گھر کے ادبی ماحول سے متاثرہونا فطری تھا۔ان کی بڑی بہن احمدی بیگم اور چھوٹا بھائی احمد اللہ خان کو بھی شعروادب سے خاص دلچسپی تھی۔شاعری میں احمدی بیگم ’نکہت ‘ تخلص کرتی تھیں جبکہ احمد اللہ خان کا تخلص ’حیران ‘تھا۔ز خ ش کے والد نواب مزمل اللہ خاں شروانی، سرسیداحمد خان کے افکارونظریات سے نہ صرف متفق تھے بلکہ وہ صحیح معنوں میں سرسیدکے متبعین میں سے تھے اور ان کے تعلیمی مشن کے فروغ میں عملی طورپر دلچسپی بھی لیتے تھے۔نواب مزل اللہ خان بھی شعروداب کا کڑھا ہوا ذوق رکھتے تھے اور فارسی میں اشعاربھی کہتے تھے۔ اس وقت کے فارسی کے معروف شاعر آغا کمال الدین سنجر سے آپ مشورۂ سخن کرتے تھے۔

8دسمبر 1894میں بھیکم پور،علی گڑھ (اتر پردیش ) میں زاہدہ خاتون شروانیہ کی ولادت ہوئی اور زندگی کی بہت کم بہاریں دیکھنے کے بعد محض 27سال کی عمر میں 2فروری 1922کو ان کا انتقال ہوگیا۔ان کے ادبی کارنامے کی مدت صرف سترہ سال پر محیط ہے۔لیکن سترہ برس کی قلیل مدت میں انھوں نے جو ادبی اور تخلیقی سرمایہ چھوڑا ہے، اس کے مطالعے سے ان کی افتاد طبع اور ان کی تخلیقی اٹھان کا اندازہ ہوتا ہے۔’آئینہ حرم ‘ اور ’فردوس تخیل ‘ ان کے مجموعہ کلام ہیں۔ ’رویائے صادقہ ‘ کے نام سے انھوں نے ایک مثنوی بھی تحریر کی ہے۔ ’دیوان نزہت ‘ (نزہت الخیال )کے نام سے ان کا دیوان بھی منظر عام پر آیا۔’قید فرنگ، گنج شہیداں، اضغاث احلام، عالم نسواں میں انقلاب، بہنوں سے دودو باتیں،مہذب بہنوں سے خطاب، اور چیست یاران طریقت،بعد ازیں تدبیر ما! آئینہ حرم، تصادم رواج وشرع،دام فریب،قدوم میمنت ملزوم،اور ثمر کا شجر کا خطاب‘ان کی مشہور نظمیں ہیں۔‘ز خ ش کی نظمیہ شاعری روایتی اسلوب کی پابند ضرور ہے لیکن اس میں مضامین کی رنگارنگی بھی ہے،اس میں عصری مسائل وموضوعات کی جلوہ گری بھی نظر آتی ہے۔
تعلیم کا فقدان اور دقیانوسی خیالات کے عام ہونے کی وجہ سے انیسویں صدی میں شعروادب سے خواتین کی دلچسپی معیوب تصور کی جاتی تھی،جبکہ اخبارات ومیگزین میں ان کے نام کی اشاعت ناپسندیدگی پرمحمول کی جاتی تھی۔میرے خیال سے اسی لیے زاہدہ خاتون شروانیہ نے اپنی تخلیقات کی اشاعت کے لیے مخفف نام( ز۔ خ۔ ش۔) کا سہارا لیا۔اس زمانے میں تعلیم نسواں کا رجحان عام نہیں تھا۔والدین اپنی بچیوں کے لیے گھریلوتعلیم کو ہی کافی سمجھتے تھے۔لیکن ز خ ش کے والد نواب مزمل اللہ خاں ایک تعلیم یافتہ اور روشن خیال انسان تھے اور وہ تعلیم کی اہمیت وافادیت سے بھی واقف تھے۔اسی لیے انھوں نے اپنی بچیوں کی تعلیم وتربیت میں خصوصی دلچسپی لی۔زخ ش کے لیے فارسی کی تدریس کے لیے ایران سے ترک وطن کر کے آنے والی باکمال شاعرہ فرخندہ بیگم طہرانیہ کی خدمات حاصل کی گئیں،جبکہ صرف ونحو،حساب اور فقہ کی تعلیم مولوی محمد اسرائیل سے حاصل کی اورعربی کی اعلیٰ تعلیم کے لیے مولوی سید احمد ولایتی جیسے متبحر عالم کا انتخاب کیا گیا۔ 
انتہائی کم عمر پانے کے باوجود ز۔خ۔ش نے نظمیہ شاعری کا جو قیمتی اثاثہ اپنے پیچھے چھوڑا ہے وہ کسی کارنامے سے کم نہیں ہے۔ان کی وقیع شعری خدمات کو جمیل الدین عالی نے کرامت سے تعبیر کیا ہے،وہ لکھتے ہیں۔ ’اس دور جہالت کی ماری ہوئی حیرت انگیز خاتون نے صرف 28 برس کی عمر پائی اور اتنا کچھ لکھ گئی۔یہ شاعرہ قدرت کی ایک کرامت کہی جاسکتی ہے۔(اور میں معجزہ کہتے کہتے رک گیا ہوں )سچ تو یہ ہے کہ اس کے والد نواب سرمزمل اللہ خاں شروانی (علی گڑھ کے حوالے سے ہندوستان کی بہت مشہور شخصیت)نے گھر میں ہی ان کی اعلیٰ تعلیم کاانتظام کر رکھا تھا۔
’آئینہ حرم‘ زاہدہ خاتون شروانیہ کا اولین شعری مجموعہ ہے،جو1931میں دارالاشاعت پنجاب، لاہور سے شائع ہوا۔یہ ان کی مختصر نظموں کا مجموعہ ہے۔ 39صفحات پر مشتمل اس مجموعے میں ایک حمد کے علاوہ 9نظمیں ہیں۔ اس مجموعے کی تمام نظموں میں قوم کی اصلاح اوراس کی بہتری کا جذبہ کارفرما ہے۔مجموعے کی بیشتر نظمیں خطابیہ آہنگ لیے ہوئے ہے۔مجموعے کاانتساب خاص طورپر پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔انتساب میں قوم وملت کے تئیں شاعرہ کی دردمندی کوبھی محسوس کیا جاسکتا ہے۔زاہدہ خاتون نے مجموعے کی نظموں کو آنسوؤں کی لڑی سے تعبیر کیا ہے۔ملاحظہ کریں۔ ’’یہ آنسوؤں کی لڑی،یہ دردکی تڑپ، یہ سوزش کی آہ،ہاں ایک فریادی کااسترحام،ایک ناشاد کی نوحہ گری،ایک زخمی کی چیخ،یعنی کتاب آئینہ حرم،اسلام کے اس سچے شیدائی،تعلیم نسواں کے اس زبردست حامی کے نام نامی منسوب ومعنون کی جاتی ہے جس کا فیضان تربیت اس مجموعہ پریشان خیالی کی تسوید وتنشید کا معنوی سبب ہے اور جس کی قومی محبت وراثتی اثر ونسلی خصوصیت کے طورپر خاکسار مصنفہ کی رگ وپے میں سرایت کیے ہوئے ہے۔‘‘انتساب کا ایک ایک لفظ رقت آمیز و درد انگیزہے،جسے پڑھ کر قاری کے لوح دل پر دردوغم کی وہی لہریں مرتسم ہوتی ہیں جس سے شاعرہ کا ربطِ خاص رہا ہے۔
’فردوس تخیل ‘زاہدہ خاتون کا دوسرا شعری مجموعہ ہے، جو 1941 میں دارالاشاعت لاہور سے شائع ہوا۔ اس میں انھوں نے اپنی نظموں کو تین ادوار میں تقسیم کیا ہے۔ مجموعے میں ایک طویل غزل بھی شامل ہے لیکن اس میں بھی نظم کی کیفیت نمایاں ہے۔ ایک مسلسل خیال ہے جوپوری غزل میں رواں ہے۔رومانی تصور یہاں بھی عنقا ہے۔ پوری غزل میں سنجیدگی کا پہلو نمایاں ہے،اس کا لہجہ بھی غزل کے لہجے سے میل نہیں کھاتا،چونکہ زاہدہ خاتون کی طبیعت اوران کے مزاج میں متانت ہے جو غزل کے رومانی تصورسے میل نہیں کھاتی۔ان کی تخلیقات میں اقبال کے اثرات نمایاں ہیں۔وہ اقبال کی فکر سے بہت متاثر ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ دونوں کا مقصدایک ہے۔ زاہدہ خاتون کے اشعارمیں معنی ومفہوم کی سطح پر وہی گہرائی اور گیرائی ہے جس سے اقبال کی شاعری کے دروبام روشن ہیں۔موضوع اور مفہوم کی سطح پر مماثلت اور یکسانیت کی وجہ سے ان کے اشعار پر کلام اقبال کاالتباس ہوتا ہے۔
ترقی پسند تحریک کا قیام 1936میں عمل میں آیا،لیکن اس کی تاسیس سے برسوں قبل زاہدہ خاتون شروانیہ اپنی شاعری میں عوامی جذبات واحساسات اور ترقی پسند نظریات کی ترجمانی کررہی تھیں۔ان کی ایک طویل غز ل ہے جس میں مزدوروں اور محنت کش طبقوں کی حمایت وتائید کے ساتھ ساتھ استحصالی قوتوں اور ظالمانہ نظام کے خلاف ان کا مزاحمتی رویہ اور احتجاجی آہنگ محسوس کیا جاسکتا ہے۔ البتہ اس میں وہ گھن گرج نہیں ہے جس سے ترقی پسندوں کاشعری سرمایہ مملو ہے۔ایک واضح مقصدکی ترسیل اورخاص نظریے کی تشہیرکے باوجود ان کی غزل پرنعرے بازی کاالزام عائد نہیں کیا جاسکتا۔ غزل کے چند اشعار ملاحظہ کریں ؂
شاہد ارض کرے کیوں یہ دعائے مزدور 
بہر زینت ہے وہ محتاج بقائے مزدور
دیکھ کر حسن مکاں کی صفت عقل مکیں 
آہ! نکلی نہ کسی لب سے ثنائے مزدور
کارخانے میں جو بارود کا بم آکے پھٹا 
جل گیا پیکر بے جرم وخطائے مزدور 
غلہ ڈھونے سے پسینے میں نہائے سوبار 
جب ہوا ایک پارۂ ناں روزہ کشائے مزدور
کلبۂ برف دسمبر میں ہے سر کے اوپر 
فرش آتش ہے مئی میں تہہ پائے مزدور
مذکورہ اشعار میں زاہدہ خاتون کے ترقی پسند نظر یات بدرجہ اتم محسوس کیے جاسکتے ہیں۔مزدوروں کی زبوں حالی اور امرا کے استحصالی رویے سے شاعرہ کبیدہ خاطر ہے۔ حالات کی ستم ظریفی شاعرہ کے حساس دل کو ملول ضرور کرتی ہے،لیکن امیدوں وآرزوؤں کی قندیل کو وہ اپنے دل میں بجھنے نہیں دیتی۔انھیں آنے والے کل پر امید ہی نہیں یقین بھی ہے مایوسی کے بادل چھٹیں گے اور حالات بہتر ہوں گے۔ان کا یہ ماننا ہے کہ دشوار راہوں کا سفر مشکل ضرور ہوتا ہے،لیکن عزم جوان ہو اورحوصلہ بلند ہو تو مشکلیں بھی آسان ہوجاتی ہیں۔اشعار ملاحظہ کریں ؂ 
سناہے ہم نے دورِ عیش وعشرت آنے والا ہے
ہوئی کافور ظلمت اب اجالا ہی اجالا ہے 
یہ دونوں لفظ و معنی کی طرح ملزوم ولازم ہیں
یہ گل،وہ شاخ،یہ جاں،وہ بدن،یہ مے، وہ پیالا ہے
نہ سمجھو دل کو تم بے غم،نہ سمجھو غم کو معمولی
ہمارا درد بے پایاں، ہمارا زخم آلا ہے 
زاہدہ خاتون شروانیہ نے قطعات ورباعیات کے علاوہ اساتذہ میں غالب اور اقبال کے کلام کی تضمین بھی کی ہے۔تضمین نگاری میں بھی انھوں نے فنی حرمت کا پاس ولحاظ رکھا ہے۔ان کے اشعار حسن معنی اور حسن اظہار دونوں اعتبارسے چونکاتے ہیں۔
کلام غالب کی تضمین:
درد الفت یونہی تھا رگ رگ میں ساری ہائے ہائے 
کیوں لگایا پھر وفا کا زخم کاری ہائے ہائے 
دنیا میں زحمت کش دنیا کوئی دن اور
ہے طوعاً وکرہاً مجھے جینا کوئی دن اور
تھا صبرو سکوں تم کو بھی زیبا کوئی دن اور
تنہا گئے کیوں اب رہو تنہا کوئی دن اور 
ز۔خ۔ش۔اپنے عہد کے حالات کی خاموش ناظر نہیں رہیں۔انہو ں نے اپنی شاعری،خطوط اور مضامین میں اپنے عہد کے سیاسی حالات،سماجی محرکات اورقومی اورملی انتشار کو قلم بند کیا ہے۔انھوں نے طویل اور موضوعاتی نظمیں بھی کہی ہیں۔ان کے یہاں موضوع کی سطح پر جدت اور ندرت تو نہیں ہے، لیکن ان کی تخلیقات میں ان کے جذبۂ صادق،ان کے نازک احساس اور ان کی ملی درد مندی کوضرور محسوس کیا جاسکتا ہے۔ان کی نظموں میں تاریخی شواہد بھی ہیں اور جمالیاتی احساس بھی۔وہ ہمیشہ مشرقی تہذیب کے فروغ کے لیے کوشاں رہیں۔ان کے انتقال پر تعزیتی نوٹ کے تحت ’تہذیب نسواں ‘ کے ایڈیٹر مولوی ممتاز علی نے اپنے تاثرات کااظہار ان الفاظ میں کیا۔’مرحومہ کی بے وقت موت سے تہذیب نسواں کو بے حد صدمہ پہنچا ہے۔وہ اپنی صنف کے لیے درد بھرا دل رکھتی تھیں اور اس درد کو تہذیب کے ذریعے ظاہر کرتی تھیں۔‘
مصور غم علامہ راشدالخیری نے رسالہ ’عصمت ‘ میں زخ ش کی بے وقت موت پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ان کا دل قومی دردوغم سے لبریز تھا۔ ’ز خ ش اس پائے کی عورت تھی کہ آج مسلمانوں میں اس کی نظیر مشکل سے ملے گی۔علاوہ ذاتی قابلیت جو ان کے مضامین میں نظم ونثر سے ظاہر ہوتی ہے،ان کا دل قومی درد سے لبریز تھا۔‘حکیم الامت شاعر مشرق علامہ اقبال نے نواب مزمل اللہ خان کو زخ ش کے انتقال پر تعزیتی خط میں ان کی شعری اور تخلیقی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ’اگر یہ طبعی عمر کو پاتیں تو میری ہم پلہ شاعرہ ہوتیں۔ ان کے استاذ مولوی یعقوب علی جو ایک معمر بزرگ اور اعلیٰ درجے کے انشا پرداز تھے۔انھوں نے زخ ش کی فنی پختگی کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے ’صرف سترہ برس کی عمر میں ان کے کلام میں پختگی اور فکر میں وسعت پیدا ہوچکی تھی۔‘
ز خ ش کوترجمہ نگاری میں بھی مہارت تھی۔اس میدان میں بھی ان کی صلاحیت کو اہلِ نظر نے نہ صرف تسلیم کیا ہے بلکہ اس باب میں ان کی کدوکاوش کو استحسان کی نظرسے بھی دیکھا ہے۔آخری ایام میں انھوں نے فرانسیسی مصنف پیر لوتی (Pier Loti) کے ناول ڈیزان شانتے (Desenchantees) کے فارسی ترجمے ’پری رویان ناکام‘ کا اردو ترجمہ کیا۔
ایک عرصے تک ز خ ش ادبی دنیا میں معمہ بنی رہیں، اس لیے ایک عرصے تک ان کے فکروفن پر کسی نے توجہ نہیں دی۔لیکن جب زمانے کا ورق پلٹا،تو ان کی تخلیقی اور فنی ہنرمندیوں کا اعتراف بھی کیا گیا۔’ز خ ش کی حیات وشاعری کا تحقیقی وتنقیدی جائزہ ‘ کے عنوان سے سب سے پہلے انیس فاطمہ نے ڈاکٹر اسلم فرخی کی نگرانی میں کراچی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی۔ان کی پھوپھی زاد بہن انیسہ خاتون شروانیہ نے ’حیات ز خ ش ‘ کے نام سے ایک کتاب تصنیف کی،جو اعجاز پرنٹنگ پریس چھتہ بازار حیدر آباد (دکن ) سے 1940میں شائع ہوئی۔’اس میں نقطۂ راز‘ کے عنوان سے شان الحق حقی نے ایک طویل مقالہ لکھا۔’زخ ش طاق نسیاں کا ایک روشن چراغ ‘ کے عنوان سے مدیحہ خانم شروانی نے ادبی ماہنامہ’آج کل‘ دہلی، اپریل 1996میں ایک مضمون قلم بند کیا۔صاحب طرزادیب اورمعروف انشائیہ نگار خواجہ حسن نظامی کی بیگم لیلیٰ خواجہ بانو سے ز خ ش کی طویل خط وکتابت رہی۔ان مکاتیب میں ز خ ش کی پسند وناپسند کے علاوہ قوم وملت کے تئیں ان کی ہمدردی،خلوص اوران کے دلی اضطراب کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔
زخ ش کے سینے میں ایک دردمند دل تھا جو ملت کی بہتری کے لیے دھڑکتا تھا۔قوم کے درد پر وہ تڑپ اٹھتیں،اور اس کے ازالے کی تدبیر وں پر غورو فکر کرتی۔ ترکی میں خلافت عثمانیہ کے زوال سے پوری قوم ایک ذہنی اضطراب میں مبتلا تھی۔حددرجہ حساس طبیعت رکھنے والی زخ ش بھلا اس قومی اور ملی سانحے سے خود کو بھلا کیسے دور رکھتی۔ڈاکٹر فاطمہ حسن اس حوالے سے لکھتی ہیں۔’’زاہدہ خاتون خود بھی غیر معمولی سیاسی اور سماجی شعور رکھتی تھیں اور اردگرد کے حالات سے شدیدمتاثر ہوتی تھیں۔ان کی زود رنج طبیعت دنیا کے تمام انسان خصوصاً مسلمانوں کے دکھ کو اس طرح محسوس کرتی تھی کہ وہ ان کا ذاتی غم بن جاتا۔خصوصاً ترکی کے حالات نے اس وقت برصغیر کے تمام مسلمانوں کو مضطرب کیا ہوا تھا۔زاہدہ خاتون اپنے اضطراب کااظہار شاعری اور مضامین میں کرتی رہیں۔‘‘
زخ ش کا تعلق علی گڑھ سے ہے۔یہ ایک قدیم شہر ہے،اس کی تاریخ کی کڑی ابراہیم لودھی سے ملتی ہے۔ اس کے آباد ہونے کی تاریخ پر ڈاکٹر انیس فاطمہ کچھ اس طرح روشنی ڈالتی ہیں۔’لودھی خاندان کے اعلیٰ فرمانروا ابراہیم لودھی نے عیسیٰ خاں شروانی کو آگرے کا حاکم مقرر کیااور عمر خاں کے منجھلے فرزند محمد خاں شروانی کو کول کی حکومت سپر د کی۔کول آنے پر محمد خاں نے محسوس کیا کہ شہر کا پرانا قلعہ اب اس قابل نہیں رہا کہ اس سے ایسے اہم علاقے کی حفاظت ہوسکے اور اس چاروں اطرف آبادی کے پھیل جانے کی وجہ سے استحکام کی بجائے انتشار پیدا ہوگیا ہے۔چنانچہ اس نے 1554 میں ایک بڑا اور مستحکم قلعہ شہر سے دو میل شمال کی طرف تعمیر کیا اور اس کانام محمد گڑھ رکھا۔یہی وہ علاقہ ہے جس کا نام مغلوں کے آخری عہد میں ثابت خاں نے ثابت گڑھ رکھا اور جس کی وجہ سے صرف شہر کول بلکہ پورا نوا ح علی گڑھ کہلایا۔‘
ہندوستان میں شروانی خاندان کاشمار ہمیشہ سے معزز اور باوقار خاندان میں ہوتا رہا ہے،چونکہ منصب اور امارت کے ساتھ ساتھ علم وادب میں بھی اس خاندان کے افراد پیش پیش رہے ہیں۔مولوی حبیب الرحمن خاں نواب صدر یار جنگ کا تعلق اسی شروانی خاندان سے ہے۔ ان کی علمیت ولیاقت سے بیشتر لوگ واقف ہیں۔ انھوں نے متعدد کتابیں تصنیف وتالیف کیں،وہ ’الندوہ ‘ کے مدیر بھی رہے۔نظام دکن نے ان کی ملی خدمات،علمی استعداد اور انتظامی صلاحیتوں کے اعتراف میں انھیں 1918میں صدرالصدور کے عہدے پر فائز کیا اور 1922 میں نواب صدر یار جنگ کے خطاب سے سرفراز کیا۔ حبیب الرحمن خاں شروانی کو جامعہ عثمانیہ حیدرآباد کے اولین وائس چانسلر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ انھیں مولانا ابوالکلام آزاد کی قربت بھی حاصل رہی، ایام اسیری کے دوران مولانا آزاد نے ان کو جو خطوط لکھے،وہ ’غبار خاطر ‘ کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہیں اور وہ اردو میں ادب العالیہ کا درجہ رکھتے ہیں۔
زخ ش کے والد نواب مزمل اللہ خاں کا شمار بھی شروانی خاندان کے سرکردہ افراد میں ہوتا ہے۔نواب مزمل اللہ خاں ذاتی حوالے سے بھی معروف اور ممتاز شخصیت کے مالک تھے۔1820 میں بھیکم پور علی گڑھ میں پیدا ہوئے۔ سرسید کاقائم کردہ ادارہ’ محمڈن اینگلو اورینٹل کالج میں عربی،فارسی اور انگریزی کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔سرسید سے قربت کی وجہ سے مسلمانوں کی تعلیمی ترقی میں حصہ لیااور 1886 میں ایم اے او کالج کے ٹرسٹی منتخب ہوئے۔ 1910 سے 1913 تک کالج کے سکریٹری کے طورپر خدمات انجام دیں،جبکہ 1918 میں آپ کو بورڈ آف ٹرسٹیز کا نائب صدر مقرر کیا گیا۔1904 میں انھیں ’خان بہادر‘ 1910 میں ’نواب ‘اور پھر ’سر ‘ کے خطاب سے نوازا گیا۔زندگی بھر قومی اور ملی خدمات انجام دینے کے بعد 28ستمبر 1938کو اپنی جان،جان آفریں کے سپر کردی۔
ز خ ش کی والدہ حجازی بیگم کا تعلق بھی ایک صاحب ثروت اور متمول خاندان سے تھا۔علی گڑھ کے مضافات میں واقع بوڑھ گاؤں کے رئیس حاجی کریم اللہ کی وہ صاحبزادی اور عنایت اللہ خاں کی نواسی تھیں۔محمد عنایت اللہ خاں رشتے میں مزمل اللہ خاں کے حقیقی چچا بھی تھے۔حجازی بیگم ان کی عم زاد بہن تھیں۔محمد عنایت اللہ خاں خود بھی علم دوست انسان تھے اور سرسید کے قریبی حلقۂ احباب میں تھے اور ان کی اعانت میں پیش پیش رہتے۔یونیورسٹی میں ان کی بہت سی یاد گاریں ہیں۔پکی بیرک کے کئی کمروں کے علاوہ اسٹریچی ہال میں ان کے نام کی تختی نصب ہے۔ کالج میں ایک بڑا کنواں اور ایک فوارہ ان کی یاد گار ہے۔


Dr. Noman Qaisar
C-66, First Floor, Back Side 
Shaheen Bagh, Okhla
New Delhi - 110025
Mob.: 8130646324



   اگر آپ رسالے کا آن لائن مطالعہ کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے لنک پر کلک کیجیے:۔



قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

27/4/18




یہ کتاب کونسل کی موبائل ایپای کتابپربھی  دستیاب ہے،جسے ’پلے اسٹور‘ کی مدد سے موبائل پر انسٹال کر کے بآسانی پڑھا جاسکتا ہے ۔


صرف تمہارے لیے
مصنف: سمتیندرا ناڈِگ، مترجم:ماہر منصور
صفحات: 139، قیمت: 85 روپے، سنہ اشاعت: 2017
ناشر: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی
مبصر: ماہ نور، ایف 33، شاہین باغ، جامعہ نگر، نئی دہلی
زیرتبصرہ کتاب کنڑ زبان کے مشہور و مقبول شاعر اور انگریزی زبان کے پروفیسر ڈاکٹر سُمتیندر اناڈگ کی خودنوشت منظوم سوانح حیات ’دام پیتا گیتا‘ ہے، جس کا راست منظوم اردو ترجمہ ’صرف تمہارے لیے‘ ماہر منصور نے کیا ہے جسے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان دہلی نے شائع کیا ہے۔
بظاہر یہ ایک ترجمہ ہے لیکن دراصل یہ ایک کان ہے، واقعات کی، اقوالِ مشاہیر کی اور ان کے منبع و مخرج کی اور یہ ایک جیتی جاگتی مثال ہے ان کے روز و شب میں واقع ہونے والے خوشگوار و ناخوشگوار واقعات کی، جس کا مصنف/ شاعر نے کھلے دل سے اعتراف بھی کیا ہے۔ اس طویل منظوم سوانح میں استعارے، تکنیک اور کچھ سطریں رگ وید، اپنیشد، رامائن، مہابھارت، ہندوستانی یوگا، شاستر اور سنسکرت سے مستعار لی گئی ہیں۔
اس سوانح کی سب سے منفر د خصوصیت یہ ہے کہ ا س کا ایک ایک لفظ صداقت پر مبنی ہے اور ایک اچھی غزل کے ہر لفظ کی طرح جاندار،رسیلا اور بولتا ہوا ہے۔
عرض مترجم کے تحت ماہر منصور کے دعوے کی میں تصدیق کرتی ہوں جس میں وہ کہتے ہیں کہ ان کی نظر سے گزری ہوئی سوانح عمریوں میں کنڑ کے صاحب طرز مشہور شاعر پروفیسرسُمتیندر اناڈگ کی یہ سوانح عمری ’دام پیتا گیتا‘ منفرد خصوصیت کی حامل ہے۔ جس میں دلچسپ، غیرمعمولی واقعات زندگی کو ناڈگ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ وہ کسی سرحد میں محدود نہ رہ کر ساری دنیا پر چھاجانے کے لیے کافی ہے۔
مترجم یہ بھی عرض کرتے ہیں کہ جب انھیں اس ترجمے کی ذمہ داری دی گئی تو انھوں نے اسے خوشی خوشی قبول کیا اور جب اس سوانح کے چند اقتباسات مشہور شاعر، ادیب اور مترجم آنجہانی بلراج کومل (دہلی) کی موجودگی میں خود سمتیندرا ناڈگ کی زبانی نے تو اسی وقت ناڈگ صاحب نے اس کے ترجمے کی اجازت دی۔
اس منظوم سوانح کی مقبولیت کااندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اب تک انگریزی، مراٹھی، بنگالی، تمل، تلگو، ہندی اور ملیالم وغیرہ زبانوں میں بھی اس کے ترجمے شائع ہوچکے ہیں۔
قبل اس کے کہ کتاب پر گفتگو کی جائے مختصراً تعارف اس کنڑ کے عظیم شاعر کا کرا دینا مناسب ہے۔
ڈاکٹر سمتیندرا ناڈگ ریاست کرناٹک کے ضلع چکمگلور کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں اس وقت پیدا ہوئے جب جنگ آزادی شباب پر تھی اور ملک میں آزادی حقیقت بننے ہی والی تھی، ایسے ماحول میں کنڑ زبان سے تعلیمی سفر شروع کرکے ناڈگ نے امریکہ کی ٹمپل یونیورسٹی سے ایم اے کی ڈگری بھی حاصل کی اور 1960 میں جدید شاعر کی حیثیت سے اپنی ایک منفرد پہچان بنائی۔ عرض مترجم کے بعد کتاب میں حرف آغاز  ہے جو دراصل کتاب کا پہلا باب ہے، حرف آغاز کے تحت ناڈگ نے اس وقت کے مشہور شعرا و دانشور کی فرمائش کے نتیجے میں اپنی ازدواجی زندگی پر مبنی ایک نغمہ پیش کیا ہے جسے شجاعت کے گیت سے بھی تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ کتاب کا پہلا باب ’جانِ من‘ ہے اور نام سے ہی ظاہر ہے کہ اس میں بیان اس سکھی کا ہے جو ان کی سب سے قریبی دوست تھیں جسے شاعر اپنی شریک حیات بتاتے ہیں۔ ’جانِ من‘ کے تحت شاعر نے اپنی ازدواجی زندگی کی تاریخ ہی نقل کی ہے۔ اگلے باب میں شاعر اپنے بچپن کے حالات پر آئینہ دکھاتا نظر آتا ہے جس میں بچپن کے واقعات اور گاؤں کے وہ مناظر شاعری میں قید کیے ہیں جو پڑھنے سے ایک عینی مشاہدہ کرنے کی طرح محسوس ہوتا ہے۔ چونکہ یہ پوری تصنیف ایک سوانح ہے لہٰذا اس میں ان پہلوؤں سے بھی گفتگو کی گئی ہے جب شاعر پہلی بار اپنی بیوی سے ملاقات کرتا ہے یا جب وہ ایک عیسائی لڑکی سے ناکام محبت کی داستان پیش کرتا ہے پھر اگلے ہی پل وہ اپنی شادی اور ہنی مون کا ذکر کرتا ہے اور اپنے وہ منصوبے بھی بیان کرتا ہے جس میں وہ ایک تعلیمی ادراہ قائم کرنے کا خواب بھی دیکھتا ہے۔ الغرض بچے کی پیدائش، بیوی کا حسن سلوک ہر ایک عنوان کو شاعر نے اپنا موضوعِ شاعری بنایا ہے۔
لیکن سب سے اہم ہے مترجم ماہر منصور کی باریک بینی اور ترجمے کی فنی مہارت جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ واقعی اس کو شاعرنے آزاد نظم کے انداز میں اردو میں ہی ساری گفتگو کی ہے۔ دوران مطالعہ مجھے کہیں بھی یہ احساس نہیں ہوا کہ یہ کسی اور زبان سے ترجمہ ہے۔ ایک نظم بطور مثال پیش کرتا ہوں:
گاندھی جی کا جس دن قتل ہوا، وہ تو خیر اپنی جگہ
پر، اسی دن سے اپنے ضمیر کوٹٹولنا، میرا معمول بن گیا
انھوں نے اپنے ملک کی خاطر/اپنی ازدواجی زندگی کی خوشیوں کو قربان کردیا
اور کستوری جیسی کستوربا کی زندگی کو کھنگال کر/دیش کی نذر کردیا
سچ کہنے میں جھجک کیسی؟/شرمانا بھی نہیں چاہیے
مگر ایسا راستہ، پہاڑوں سے ہوکر آتا ہے/پیر پھسلا، تو گیا پاتال میں
اور میرے پاؤں لڑکھڑانے لگتے ہیں، جب بلندی سے نیچے دیکھتا ہوں
اپنی شریکِ حیات کے لیے ایک جگہ لکھتے ہیں:
اپنی ذات کے آگے بڑھنے کا واحد راستہ تخلیق ہے
تم نے میری تخلیق کی اور میں نے تمہاری/اپنی تنہائیوں کو کھوکر
ہم دونوں/ایک جان دو قالب ہوگئے
مجھے قوی امید ہے کہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کی یہ پیش کش اردو حلقے میں خوب پذیرائی حاصل کرے گی، ویسے سوانح عمری کی اثر انگیزی باذوق قارئین کی محتاج ہوتی ہے اور یہ ایک ایسی سوانح ہے جس کے مطالعے سے دنیا کے گھنے جنگلات کے ساتھ ساتھ انسانی خوشبو بھی محسوس کی جائے گی۔


یہ تبصرہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے رسالے ’’اردو دنیا‘‘ کے   مارچ کے شمارے میں شائع ہوا تھا۔  رسالے کا آن لائن مطالعہ کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے لنک پر کلک کیجیے:۔



مکمل کتاب کے مطالعے  کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کریں:

قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

26/4/18

مسلم خواتین کی تعلیمی پسماندگی



نجمہ سلطان

تعلیم

تعلیم انسان کے فروغ کے لیے بنیادی آلہ ہوتاہے اسی کے ذریعے انسان میں معلومات اور مہارت کا اضافہ ہوتاہے۔ 
(Education of women empowerment 2011, p104)
تعلیم کا عمل انسان کی پیدائش سے ہی شروع ہوجاتا ہے اس طرح سماج میں سیکھنے اور سکھانے کا عمل ہی تعلیم ہے۔
تعلیم کے ذریعے ہی انسانوں کو زندگی کے مسائل سمجھنے اور چیزوں کی نوعیت کو جاننے میں بڑی مدد ملتی ہے۔ تعلیم بہتر زندگی گزارنے میں کارآمد ثابت ہوتی ہے۔ تعلیم کے ذریعے انسان کا شعور بیدارہوتاہے اور وہ روشن خیال اور وسیع النظر ہوتاہے۔

تعلیم نسواں
خواتین کی ترقی سے ملک کی ترقی وابستہ ہوتی ہے کوئی بھی ملک اس وقت تک ترقی یافتہ نہیں کہلاسکتا جب تک وہاں کی خواتین تعلیم یافتہ نہیں ہوں کیونکہ خواتین ہی ملک کی بنیاد ہوتی ہیں۔ عورت نسل انسانی میں اہم رول اداکرتی ہے خواتین ہی خاندان کی دیکھ بھال اور تربیت کرتی ہیں خواتین کے وجود کو الگ کرکے ترقی کی منزلوں کو طے نہیں کیا جاسکتا اور ترقی حاصل کرنے کے لیے خواتین کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کی شدید ضرورت ہے۔
بقول پنڈت جواہر لال نہرو:
’’کسی ملک کی کارکردگی کا اندازہ اس ملک کی عورت کی حیثیت سے لگایا جاسکتاہے۔‘‘
(Discovery of India, 1946, p 42)
عورت کا ترقی یافتہ ہونا بے حدضروری ہے خواتین کوترقی کے دھارے میں لانے کے لیے عورت کو تعلیم یافتہ بنایا جائے کیوں کہ عورت سماج کا نصف حصہ ہوتی ہے اور اس نصف حصے کو بھی ترقی کے دھارے میں شامل کرنا چاہیے۔ تعلیم سے آراستہ خاتون کو خاندان میں خودمختاری ملتی ہے۔ خواتین زندگی کے مختلف میدانوں میں مردوں کے مقابلے میں پیچھے سمجھی جاتی ہیں اس کی وجہ تعلیم کی کمی ہے۔
عصر حاضر میں اتنی ترقی کے باوجود خواتین کا استحصال ہوتاہے جس میں جرم اورگناہ کی شکار کوئی ایک صنف ہوتی ہے۔
صنف
صنف سے مراد سماج کے بنائے ہوئے مخصوص کردار ہوتے ہیں جو زندگی کی ہر سطح پر عورت اورمرد میں تخصیص پیداکرتے ہیں۔ (عورت اور سماج، ص 68)
صنف کی بنیاد پر پوری دنیا میں ہر تیسری خاتون تشدد اور ظلم کاشکار ہے۔ خواتین جو سماجی تشدد کا شکار ہوتی ہیں ان میں صنفی امتیاز، بچپن کی شادی، جنین کشی، جہیز کے لیے تشدد، جبری شادی، جنسی تشدد، جنسی ہراسانی، اس کے علاوہ تعلیم حاصل کرنے میں صنفی امتیاز۔
زندگی کے ہر میدان میں خواتین کو اس صورت حال سے گزرنا پرتاہے۔ بین الاقوامی سطح پر اگر خواتین کا جائزہ لیا جائے تو دنیا میں دو تہائی کام کا بوجھ اٹھاتی ہیں۔ وہ معاشی سرگرمیوں سے ہمیشہ متاثر ہوتی ہیں، ان کے پاس مواقع کم ہوتے ہیں اور دوسرے جو وہ کام کرتی ہیں وہ شمار نہیں کیاجاتا۔اگر تعلیم نسواں کا جائزہ لیا جائے تو مردوں کے مقابلے میں خواتین کی تعلیم بہت کم ہے۔
2001 کی مردم شماری کے مطابق ہندوستان میں تعلیم کی شرح64.8% اس میں مرد75.3%اور خواتین کا تعلیمی فیصد53.7%ہے۔ ہندوستان کے تمام صوبوں میں شرح خواندگی میں جنسی تفریق موجود ہے۔‘‘
(Strastical handbook)
پرائمری سطح تک تعلیم حاصل کرنے والے جملہ افراد کی تعداد146740047ہے جس میں مرد8352450 اور 63214597 خواتین ہیں۔ خواتین کا تناسب 43.07% ہے میٹرک اوریا ثانوی سطح تک جملہ افراد 79229721 جس میں مرد51201516اور خواتین 28028205 ہیں اس میں خواتین کی شرح خواندگی 35.37%ہے۔
ہائر سکنڈری/سینئر سکنڈری تک تعلیم حاصل کرنے والے جملہ افراد کی تعداد37816215ہے اس میں مرد 24596339اور خواتین13219876ہے اس میں خواتین کا فیصد34.95%ہے گریجویشن میں خواتین کا فیصد20.88%ہے۔ (2001 مردم شماری)
پی جی میں خواتین کا تعلیمی فیصد 36.30%ہے۔ انجینئرنگ اورٹکنالوجی میں 18.65%خواتین تعلیم حاصل کررہی ہیں۔ میڈیسن کی تعلیم حاصل کرنے والی خواتین کا فیصد30.37%ہے۔ اسکول میں تعلیم حاصل کرنے والی خواتین کا تناسب43.91%ہے۔ 
2011 کی مردم شماری کے مطابق ہندوستان میں تعلیم کی شرح 74.04%ہے اس میں مردوں کا تناسب 82.14%ہے جب کہ خواتین 65.46%ہے۔ ہندوستان میں شرح خواندگی میں جنسی تفریق موجود ہے مرد و خواتین میں سب سے کم فرق ریاست کیرالا میں ہے۔ پرائمری سطح سے کم تعلیم حاصل کرنے والی خواتین کا تناسب 46.59% ہے۔مڈل کلاس تک تعلیم حاصل کرنے والی خواتین 42.02%ہیں۔ میٹرک یا ثانوی سطح تک تعلیم حاصل کرنے والی خواتین 39.80%۔ انٹرمیڈیٹ میں40.36%خواتین شامل ہیں۔ گریجویشن اور اس سے آگے کی تعلیم حاصل کرنے والی خواتین 38.32%، انجینئرنگ اور ٹکنالوجی کی سطح تک تعلیم حاصل کرنے والی خواتین28.14%اور میڈیسن کی تعلیم کرنے والوں میں39.23%۔ (2001 مردم شماری)
2001 سے 2011 کی مردم شماری میں خواتین کی شرح خواندگی میں9.24%کا اضافہ ہوا ہے۔ اس کا اثر اعداد وشمار سے ظاہر ہورہاہے۔ یہ جملہ ہندوستان کی سینسس کے حوالے سے مردو خواتین کی تعلیمی حالت کو مختصرا لکھا گیا۔ 
اقلیت
دستور ہند کے مطابق مسلمان قوم کو بھی ترقی کے مساویانہ مواقع اور حقوق حاصل ہیں جتنے کہ اس ملک کی دوسرے شہریوں کو حاصل ہیں۔ مگر مسلمانوں کی حالت اتنے مواقع ہونے کے باوجود بھی بہت ہی افسوس ناک ہے خاص کر تعلیمی میدان میں ان کا معیار کافی حدتک گراہوا ہے اور خاص کر مسلم خواتین تو بہت ہی پسماندہ اور ترقی کے نشانے سے بہت دور ہیں۔
مسلم خواتین میں غریبی بہت زیادہ ہے۔ اور تکنیکی مہارت میں کمی ہے جس کے نتیجے میں ان کی گھر کی آمدنی بھی کم ہوتی ہے اوروہ ہنر مند بھی نہیں ہوتیں اور خاص کر مسلم خواتین حکومت کے بنائے گئے پروگرام وپالیسیز سے بالکل ناواقف ہوتی ہیں۔ ان کامحور صرف گھر تک ہی محدود رہتاہے۔ اس لیے تعلیمی پسماندگی کا تناسب دیگر طبقات سے کم ہے اس رپورٹ نے مسلمان طبقے کے بارے میں یہ انکشاف کیا کہ 25%بچے اسکول نہیں جاتے جس میں اکثریت لڑکیوں کی ہے۔ لڑکیوں میں ترک تعلیم کاتناسب لڑکوں سے زیادہ ہے۔ 12-14 سال کے جو لڑکے لڑکیاں تعلیم حاصل کررہے ہیں ان کا تناسب لڑکے55%اور لڑکیاں45%ہیں۔ ان کا تناسب عمر کے ساتھ ساتھ کم ہوتا جارہا ہے جیسے15-16 سال کے لڑکے 35%اور لڑکیاں18%تعلیم حاصل کررہی ہیں۔ (سچر کمیٹی رپورٹ)
جیسے جیسے عمر بڑھ رہی ہے ان کا تعلیمی تناسب بھی کم ہوتاجاتاہے۔ گریجویشن آرٹس کالج میں لڑکوں کا3%اور لڑکیوں3.5% اور آرٹس کالج پی جی میں لڑکوں کا 1.2% اور لڑکیوں کا 1.5%اور آئی ٹی شعبوں میں1%ہیں اور میڈیکل سائنس میں لڑکے6%اور لڑکیاں4%اور پی جی میڈیکل میں لڑکے6%اور لڑکیاں2%ہیں۔ اس کے علاوہ دینی تعلیم حاصل کرنے والوں میں 4%مسلم طبقہ تعلیم حاصل کررہاہے۔ مسلمانوں کی ابتدائے تعلیم میں شرکت کرنے والے بچوں میں 60%سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم ہیں اور 30%خانگی اسکولس میں زیر تعلیم ہیں۔‘‘ (سچر کمیٹی رپورٹ)
ہندوستان میں خواتین کی تعلیم و ترقی میں بہتری ملک کی آزادی کے بعد آئی۔ 1971 میں صرف22% ہندوستانی خواتین تعلیم یافتہ تھیں لیکن 2001 کے اختتام کے دوران ان کی شرح54.18% ہوگئی۔ ہندوستانی سماج کے بہت سے شعبوں میں خواتین کے ساتھ امتیاز بڑھتا جارہاہے۔ سروس سیکٹرمیں خواتین کی موجودگی صرف 7.6% ہے اور پارلیمنٹ میں8.0%، حالانکہ حکومت نے خواتین کو ریزرویشن فراہم کررکھاہے لیکن زیادہ تر خواتین تعلیم کی کمی کی وجہ سے اپنے حقوق سے ناواقف ہیں جس کی وجہ سے وہ معاشی طور پر کمزور پائی جاتی ہیں خاص کر مسلم خواتین میں تعلیم کی بہت زیادہ کمی ہے۔ وہ دوسرے طبقوں کی بہ نسبت بہت زیادہ مفلوک الحال ہیں اور پسماندہ زندگی گزار رہی ہیں۔ 
آج بھی خاص کر لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے میں کئی رکاوٹوں کا سامناکرنا پڑتاہے جیسے کم عمر کی شادی، گھر کے کام کی ذمہ داری کا بوجھ، چھوٹے بھائی بہن کی دیکھ بھال، صنفی امتیاز، زنانہ اسکول واساتذہ کی کمی، گھر کے قریب اسکول نہ ہونے کی وجہ سے بلوغت کے بعد گھر سے اکیلے باہر بھیجنے کے لیے رکاوٹ،والدین کی معاشی پریشانی، اور اس کے علاوہ سب سے اہم رکاوٹ والدین کی ناخواندگی وغیرہ ہیں۔
معاشی پریشانیوں کی وجہ سے بھی کئی والدین لڑکیوں کو تعلیم نہیں دلواتے، تعلیم کا خرچ ، شادی کا خرچ وہ برداشت نہیں کرسکتے، اس لیے اعلی تعلیم میں مسلم خواتین صرف1.5%ہی شامل ہیں۔
(National Commission for religious and linguistics, Vol: II)
اس کے علاوہ آبادی کازیادہ تر حصہ مزدوری پر منحصر ہے، چاہے وہ زرعی ہویا صنعتی ، پسماندہ والدین اپنی لڑکیوں کو تعلیم دلوانے کے لیے پیسہ خرچ نہیں کرسکتے۔ بعض گھرانوں کی گزر بسر ہی صرف بچوں اور خواتین کی اجرت پر ہوتی ہے، اس کے علاوہ اگر اسکول میں مخلوط تعلیم ہو تو بلوغت کے فوراً بعد لڑکی کا اسکول ترک کروا دیا جاتا ہے۔
سماجی نظریات، سماجی مسائل،صنفی امتیازکا راست اثر لڑکیوں کی تعلیم پر پڑرہاہے، اس کے علاوہ پدرسری نظام بھی مسلم خواتین کی ترقی میں رکاوٹ بناہواہے اور کم عمری کی شادی بھی ایک سنگین مسئلہ بناہواہے۔ مسلم سماج میں ہمارے ملک میں بچپن کی شادی پر امتناع عائد ہے لیکن اس کے باوجود اس قسم کے بے شمار واقعات پیش آتے ہیں۔1998 کے یونیسف کے سروے کے مطابق ہندوستان میں بچپن کی شادی کی شرح47%ہے اور 2005 کی رپورٹ میں30% بتائی گئی۔ خواتین کو تعلیم یافتہ اور خود مختار بنانے میں حکومت نے بھی بہت سے پروگرام اور پالیسیز بنائے ہیں اور اس کے علاوہ سچر کمیٹی کے انکشافات سے مسلم خواتین کی زبوں حالی کا پتہ چلتا ہے۔ اس کے بعد مشرا کمیشن رپورٹ نے بھی خاص کر مسلم خواتین کی تعلیمی اور معاشی حیثیت کا تفصیلا خاکہ پیش کیا۔ مشراکمیٹی رپورٹ نے بھی مسلم خواتین کی پسماندگی اورمعاشی طور پر مفلوک الحال بتایا ہے۔ اس سے پہلے بھی 1999 میں مسلم و یمن ان انڈیا میں سیما قاضی اس رپورٹ میں مسلم خواتین کی حیثیت کا جائزہ لیتے ہوئے ان کی سماجی، معاشی اور تعلیمی صورت حال پیش کی، مسلم خواتین کی حیثیت کو بہتر بنانے کے لیے اپنی سفارشات میں کہاکہ تعلیم ہی ایک ذریعہ ہے جس سے مسلم خواتین کی ترقی ممکن ہوسکتی ہے اور انھوں نے یہ بھی سفارش کی کہ خاص مسلم خواتین کی ترقی کے لیے پالیسیز بنائی جائیں۔
سیدہ سیدین کی رپورٹ میں 2000 میں بے آوازوں کی آواز ہندوستان میں مسلمان عورتوں کی سماجی حیثیت قومی کمیشن برائے خواتین،اس کمیشن نے سروے کرکے اپنی رپورٹ میں مسلمان عورتوں کی حیثیت کا جائزہ لیا کمیشن کے مطابق عورتوں کی ساری مصیبتوں کی وجہ تعلیم کی کمی ہے۔ تعلیم کی کمی کی وجہ سے مسلم خواتین اپنے آپ کو کم تر سمجھتی ہیں اور ان کے اندر خود اعتمادی نہیں ہوتی جس کی وجہ سے وہ نفسیاتی دباؤ کا شکار ہوجاتی ہیں، ان کی صلاحتیں ابھر کر سامنے نہیں آتیں اور پدرسری نظام نے ان کو غیراہم قراردے کر انھیں حاشیہ پر کھڑاکردیا۔
جس سماج میں عورت کو برابر کا درجہ نہیں دیاجاتا اور وہ غیر محفوظ ہوتی ہیں اور اس کو برابر کے حقوق نہیں ملتے وہ سماج اور ملک کبھی بھی ترقی نہیں کرسکتا ، ملک کو ترقی یافتہ بنانے کے لیے مسلم خواتین کو بھی اعلی تعلیم کی سہولیات میسر ہونی چاہیے اور سماجی معاشی وسیاسی حیثیت میں بہتری لانا ضروری ہے۔ تعلیم ہی واحد علاج ہے مسلم خواتین کی حیثیت کو بہتر بنانے کے لیے۔
حوالہ جات
(1) سنسس2001
(2) سنسس 2011
(3) Shariff Abdusaleh, Socia economic hindus and Muslims 1995
(4) Education of women empowerment 2011, Dr. Anil Kumar
(5) Unequal Citizen women 2004, Ritu minon & Zoha Hasan 
(6) Syeda Saiydian hamed, My voice shall be heard of Muslim women forum 2003
(7) بے آوازوں کی آوز، سیدہ سیدین
(8) سما قاضیMuslim women in India, 1999 
n
Najma Sultana
Ph.D Research Scholar (Dept of Women Education), Maulana Azad National Urdu University, Hyderabad - 500032 (Telangana)


یہ مضمون قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے رسالے ’’اردو دنیا‘‘ کے   مارچ کے شمارے میں شائع ہوا تھا۔ اگر آپ رسالے کا آن لائن مطالعہ کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے لنک پر کلک کیجیے:۔


قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...