15/1/19

مسلم خواتین کی تعلیمی پسماندگی مضمون نگار:۔ نجمہ سلطانہ




مسلم خواتین کی تعلیمی پسماندگی


نجمہ سلطانہ

تعلیم


تعلیم انسان کے فروغ کے لیے بنیادی آلہ ہوتاہے اسی کے ذریعے انسان میں معلومات اور مہارت کا اضافہ ہوتاہے۔ 
(Education of women empowerment 2011, p104)
تعلیم کا عمل انسان کی پیدائش سے ہی شروع ہوجاتا ہے اس طرح سماج میں سیکھنے اور سکھانے کا عمل ہی تعلیم ہے۔
تعلیم کے ذریعے ہی انسانوں کو زندگی کے مسائل سمجھنے اور چیزوں کی نوعیت کو جاننے میں بڑی مدد ملتی ہے۔ تعلیم بہتر زندگی گزارنے میں کارآمد ثابت ہوتی ہے۔ تعلیم کے ذریعے انسان کا شعور بیدارہوتاہے اور وہ روشن خیال اور وسیع النظر ہوتاہے۔
تعلیم نسواں
خواتین کی ترقی سے ملک کی ترقی وابستہ ہوتی ہے کوئی بھی ملک اس وقت تک ترقی یافتہ نہیں کہلاسکتا جب تک وہاں کی خواتین تعلیم یافتہ نہیں ہوں کیونکہ خواتین ہی ملک کی بنیاد ہوتی ہیں۔ عورت نسل انسانی میں اہم رول اداکرتی ہے خواتین ہی خاندان کی دیکھ بھال اور تربیت کرتی ہیں خواتین کے وجود کو الگ کرکے ترقی کی منزلوں کو طے نہیں کیا جاسکتا اور ترقی حاصل کرنے کے لیے خواتین کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کی شدید ضرورت ہے۔
بقول پنڈت جواہر لال نہرو:
’’کسی ملک کی کارکردگی کا اندازہ اس ملک کی عورت کی حیثیت سے لگایا جاسکتاہے۔‘‘
(Discovery of India, 1946, p 42)
عورت کا ترقی یافتہ ہونا بے حدضروری ہے خواتین کوترقی کے دھارے میں لانے کے لیے عورت کو تعلیم یافتہ بنایا جائے کیوں کہ عورت سماج کا نصف حصہ ہوتی ہے اور اس نصف حصے کو بھی ترقی کے دھارے میں شامل کرنا چاہیے۔ تعلیم سے آراستہ خاتون کو خاندان میں خودمختاری ملتی ہے۔ خواتین زندگی کے مختلف میدانوں میں مردوں کے مقابلے میں پیچھے سمجھی جاتی ہیں اس کی وجہ تعلیم کی کمی ہے۔
عصر حاضر میں اتنی ترقی کے باوجود خواتین کا استحصال ہوتاہے جس میں جرم اورگناہ کی شکار کوئی ایک صنف ہوتی ہے۔
صنف
صنف سے مراد سماج کے بنائے ہوئے مخصوص کردار ہوتے ہیں جو زندگی کی ہر سطح پر عورت اورمرد میں تخصیص پیداکرتے ہیں۔ (عورت اور سماج، ص 68)
صنف کی بنیاد پر پوری دنیا میں ہر تیسری خاتون تشدد اور ظلم کاشکار ہے۔ خواتین جو سماجی تشدد کا شکار ہوتی ہیں ان میں صنفی امتیاز، بچپن کی شادی، جنین کشی، جہیز کے لیے تشدد، جبری شادی، جنسی تشدد، جنسی ہراسانی، اس کے علاوہ تعلیم حاصل کرنے میں صنفی امتیاز۔
زندگی کے ہر میدان میں خواتین کو اس صورت حال سے گزرنا پرتاہے۔ بین الاقوامی سطح پر اگر خواتین کا جائزہ لیا جائے تو دنیا میں دو تہائی کام کا بوجھ اٹھاتی ہیں۔ وہ معاشی سرگرمیوں سے ہمیشہ متاثر ہوتی ہیں، ان کے پاس مواقع کم ہوتے ہیں اور دوسرے جو وہ کام کرتی ہیں وہ شمار نہیں کیاجاتا۔اگر تعلیم نسواں کا جائزہ لیا جائے تو مردوں کے مقابلے میں خواتین کی تعلیم بہت کم ہے۔
2001 کی مردم شماری کے مطابق ہندوستان میں تعلیم کی شرح64.8% اس میں مرد75.3%اور خواتین کا تعلیمی فیصد53.7%ہے۔ ہندوستان کے تمام صوبوں میں شرح خواندگی میں جنسی تفریق موجود ہے۔‘‘
(Strastical handbook)
پرائمری سطح تک تعلیم حاصل کرنے والے جملہ افراد کی تعداد146740047ہے جس میں مرد8352450 اور 63214597 خواتین ہیں۔ خواتین کا تناسب 43.07% ہے میٹرک اوریا ثانوی سطح تک جملہ افراد 79229721 جس میں مرد51201516اور خواتین 28028205 ہیں اس میں خواتین کی شرح خواندگی 35.37%ہے۔
ہائر سکنڈری/سینئر سکنڈری تک تعلیم حاصل کرنے والے جملہ افراد کی تعداد37816215ہے اس میں مرد 24596339اور خواتین13219876ہے اس میں خواتین کا فیصد34.95%ہے گریجویشن میں خواتین کا فیصد20.88%ہے۔ (2001 مردم شماری)
پی جی میں خواتین کا تعلیمی فیصد 36.30%ہے۔ انجینئرنگ اورٹکنالوجی میں 18.65%خواتین تعلیم حاصل کررہی ہیں۔ میڈیسن کی تعلیم حاصل کرنے والی خواتین کا فیصد30.37%ہے۔ اسکول میں تعلیم حاصل کرنے والی خواتین کا تناسب43.91%ہے۔ 
2011 کی مردم شماری کے مطابق ہندوستان میں تعلیم کی شرح 74.04%ہے اس میں مردوں کا تناسب 82.14%ہے جب کہ خواتین 65.46%ہے۔ ہندوستان میں شرح خواندگی میں جنسی تفریق موجود ہے مرد و خواتین میں سب سے کم فرق ریاست کیرالا میں ہے۔ پرائمری سطح سے کم تعلیم حاصل کرنے والی خواتین کا تناسب 46.59% ہے۔مڈل کلاس تک تعلیم حاصل کرنے والی خواتین 42.02%ہیں۔ میٹرک یا ثانوی سطح تک تعلیم حاصل کرنے والی خواتین 39.80%۔ انٹرمیڈیٹ میں40.36%خواتین شامل ہیں۔ گریجویشن اور اس سے آگے کی تعلیم حاصل کرنے والی خواتین 38.32%، انجینئرنگ اور ٹکنالوجی کی سطح تک تعلیم حاصل کرنے والی خواتین28.14%اور میڈیسن کی تعلیم کرنے والوں میں39.23%۔ (2001 مردم شماری)
2001 سے 2011 کی مردم شماری میں خواتین کی شرح خواندگی میں9.24%کا اضافہ ہوا ہے۔ اس کا اثر اعداد وشمار سے ظاہر ہورہاہے۔ یہ جملہ ہندوستان کی سینسس کے حوالے سے مردو خواتین کی تعلیمی حالت کو مختصرا لکھا گیا۔ 
اقلیت:
دستور ہند کے مطابق مسلمان قوم کو بھی ترقی کے مساویانہ مواقع اور حقوق حاصل ہیں جتنے کہ اس ملک کی دوسرے شہریوں کو حاصل ہیں۔ مگر مسلمانوں کی حالت اتنے مواقع ہونے کے باوجود بھی بہت ہی افسوس ناک ہے خاص کر تعلیمی میدان میں ان کا معیار کافی حدتک گراہوا ہے اور خاص کر مسلم خواتین تو بہت ہی پسماندہ اور ترقی کے نشانے سے بہت دور ہیں۔
مسلم خواتین میں غریبی بہت زیادہ ہے۔ اور تکنیکی مہارت میں کمی ہے جس کے نتیجے میں ان کی گھر کی آمدنی بھی کم ہوتی ہے اوروہ ہنر مند بھی نہیں ہوتیں اور خاص کر مسلم خواتین حکومت کے بنائے گئے پروگرام وپالیسیز سے بالکل ناواقف ہوتی ہیں۔ ان کامحور صرف گھر تک ہی محدود رہتاہے۔ اس لیے تعلیمی پسماندگی کا تناسب دیگر طبقات سے کم ہے اس رپورٹ نے مسلمان طبقے کے بارے میں یہ انکشاف کیا کہ 25%بچے اسکول نہیں جاتے جس میں اکثریت لڑکیوں کی ہے۔ لڑکیوں میں ترک تعلیم کاتناسب لڑکوں سے زیادہ ہے۔ 12-14 سال کے جو لڑکے لڑکیاں تعلیم حاصل کررہے ہیں ان کا تناسب لڑکے55%اور لڑکیاں45%ہیں۔ ان کا تناسب عمر کے ساتھ ساتھ کم ہوتا جارہا ہے جیسے15-16 سال کے لڑکے 35%اور لڑکیاں18%تعلیم حاصل کررہی ہیں۔ (سچر کمیٹی رپورٹ)
جیسے جیسے عمر بڑھ رہی ہے ان کا تعلیمی تناسب بھی کم ہوتاجاتاہے۔ گریجویشن آرٹس کالج میں لڑکوں کا3%اور لڑکیوں3.5% اور آرٹس کالج پی جی میں لڑکوں کا 1.2% اور لڑکیوں کا 1.5%اور آئی ٹی شعبوں میں1%ہیں اور میڈیکل سائنس میں لڑکے6%اور لڑکیاں4%اور پی جی میڈیکل میں لڑکے6%اور لڑکیاں2%ہیں۔ اس کے علاوہ دینی تعلیم حاصل کرنے والوں میں 4%مسلم طبقہ تعلیم حاصل کررہاہے۔ مسلمانوں کی ابتدائے تعلیم میں شرکت کرنے والے بچوں میں 60%سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم ہیں اور 30%خانگی اسکولس میں زیر تعلیم ہیں۔‘‘ (سچر کمیٹی رپورٹ)
ہندوستان میں خواتین کی تعلیم و ترقی میں بہتری ملک کی آزادی کے بعد آئی۔ 1971 میں صرف22% ہندوستانی خواتین تعلیم یافتہ تھیں لیکن 2001 کے اختتام کے دوران ان کی شرح54.18% ہوگئی۔ ہندوستانی سماج کے بہت سے شعبوں میں خواتین کے ساتھ امتیاز بڑھتا جارہاہے۔ سروس سیکٹرمیں خواتین کی موجودگی صرف 7.6% ہے اور پارلیمنٹ میں8.0%، حالانکہ حکومت نے خواتین کو ریزرویشن فراہم کررکھاہے لیکن زیادہ تر خواتین تعلیم کی کمی کی وجہ سے اپنے حقوق سے ناواقف ہیں جس کی وجہ سے وہ معاشی طور پر کمزور پائی جاتی ہیں خاص کر مسلم خواتین میں تعلیم کی بہت زیادہ کمی ہے۔ وہ دوسرے طبقوں کی بہ نسبت بہت زیادہ مفلوک الحال ہیں اور پسماندہ زندگی گزار رہی ہیں۔ 
آج بھی خاص کر لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے میں کئی رکاوٹوں کا سامناکرنا پڑتاہے جیسے کم عمر کی شادی، گھر کے کام کی ذمہ داری کا بوجھ، چھوٹے بھائی بہن کی دیکھ بھال، صنفی امتیاز، زنانہ اسکول واساتذہ کی کمی، گھر کے قریب اسکول نہ ہونے کی وجہ سے بلوغت کے بعد گھر سے اکیلے باہر بھیجنے کے لیے رکاوٹ،والدین کی معاشی پریشانی، اور اس کے علاوہ سب سے اہم رکاوٹ والدین کی ناخواندگی وغیرہ ہیں۔
معاشی پریشانیوں کی وجہ سے بھی کئی والدین لڑکیوں کو تعلیم نہیں دلواتے، تعلیم کا خرچ ، شادی کا خرچ وہ برداشت نہیں کرسکتے، اس لیے اعلی تعلیم میں مسلم خواتین صرف1.5%ہی شامل ہیں۔
(National Commission for religious and linguistics, Vol: II)
اس کے علاوہ آبادی کازیادہ تر حصہ مزدوری پر منحصر ہے، چاہے وہ زرعی ہویا صنعتی ، پسماندہ والدین اپنی لڑکیوں کو تعلیم دلوانے کے لیے پیسہ خرچ نہیں کرسکتے۔ بعض گھرانوں کی گزر بسر ہی صرف بچوں اور خواتین کی اجرت پر ہوتی ہے، اس کے علاوہ اگر اسکول میں مخلوط تعلیم ہو تو بلوغت کے فوراً بعد لڑکی کا اسکول ترک کروا دیا جاتا ہے۔
سماجی نظریات، سماجی مسائل،صنفی امتیازکا راست اثر لڑکیوں کی تعلیم پر پڑرہاہے، اس کے علاوہ پدرسری نظام بھی مسلم خواتین کی ترقی میں رکاوٹ بناہواہے اور کم عمری کی شادی بھی ایک سنگین مسئلہ بناہواہے۔ مسلم سماج میں ہمارے ملک میں بچپن کی شادی پر امتناع عائد ہے لیکن اس کے باوجود اس قسم کے بے شمار واقعات پیش آتے ہیں۔1998 کے یونیسف کے سروے کے مطابق ہندوستان میں بچپن کی شادی کی شرح47%ہے اور 2005 کی رپورٹ میں30% بتائی گئی۔ خواتین کو تعلیم یافتہ اور خود مختار بنانے میں حکومت نے بھی بہت سے پروگرام اور پالیسیز بنائے ہیں اور اس کے علاوہ سچر کمیٹی کے انکشافات سے مسلم خواتین کی زبوں حالی کا پتہ چلتا ہے۔ اس کے بعد مشرا کمیشن رپورٹ نے بھی خاص کر مسلم خواتین کی تعلیمی اور معاشی حیثیت کا تفصیلا خاکہ پیش کیا۔ مشراکمیٹی رپورٹ نے بھی مسلم خواتین کی پسماندگی اورمعاشی طور پر مفلوک الحال بتایا ہے۔ اس سے پہلے بھی 1999 میں مسلم و یمن ان انڈیا میں سیما قاضی اس رپورٹ میں مسلم خواتین کی حیثیت کا جائزہ لیتے ہوئے ان کی سماجی، معاشی اور تعلیمی صورت حال پیش کی، مسلم خواتین کی حیثیت کو بہتر بنانے کے لیے اپنی سفارشات میں کہاکہ تعلیم ہی ایک ذریعہ ہے جس سے مسلم خواتین کی ترقی ممکن ہوسکتی ہے اور انھوں نے یہ بھی سفارش کی کہ خاص مسلم خواتین کی ترقی کے لیے پالیسیز بنائی جائیں۔
سیدہ سیدین کی رپورٹ میں 2000 میں بے آوازوں کی آواز ہندوستان میں مسلمان عورتوں کی سماجی حیثیت قومی کمیشن برائے خواتین،اس کمیشن نے سروے کرکے اپنی رپورٹ میں مسلمان عورتوں کی حیثیت کا جائزہ لیا کمیشن کے مطابق عورتوں کی ساری مصیبتوں کی وجہ تعلیم کی کمی ہے۔ تعلیم کی کمی کی وجہ سے مسلم خواتین اپنے آپ کو کم تر سمجھتی ہیں اور ان کے اندر خود اعتمادی نہیں ہوتی جس کی وجہ سے وہ نفسیاتی دباؤ کا شکار ہوجاتی ہیں، ان کی صلاحتیں ابھر کر سامنے نہیں آتیں اور پدرسری نظام نے ان کو غیراہم قراردے کر انھیں حاشیہ پر کھڑاکردیا۔
جس سماج میں عورت کو برابر کا درجہ نہیں دیاجاتا اور وہ غیر محفوظ ہوتی ہیں اور اس کو برابر کے حقوق نہیں ملتے وہ سماج اور ملک کبھی بھی ترقی نہیں کرسکتا ، ملک کو ترقی یافتہ بنانے کے لیے مسلم خواتین کو بھی اعلی تعلیم کی سہولیات میسر ہونی چاہیے اور سماجی معاشی وسیاسی حیثیت میں بہتری لانا ضروری ہے۔ تعلیم ہی واحد علاج ہے مسلم خواتین کی حیثیت کو بہتر بنانے کے لیے۔
حوالہ جات:
(1) سنسس2001
(2) سنسس 2011
(3) Shariff Abdusaleh, Socia economic hindus and Muslims 1995
(4) Education of women empowerment 2011, Dr. Anil Kumar
(5) Unequal Citizen women 2004, Ritu minon & Zoha Hasan 
(6) Syeda Saiydian hamed, My voice shall be heard of Muslim women forum 2003
(7) بے آوازوں کی آوز، سیدہ سیدین
(8) سما قاضیMuslim women in India, 1999 

Najma Sultana
Ph.D Research Scholar (Dept of Women Education),
 Maulana Azad National Urdu University, Hyderabad - 500032 (Telangana)






قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

ساحر لدھیانوی : ادب اور فلم کے آئینہ میں مضمون نگار:۔ رضوانہ پروین




ساحر لدھیانوی : ادب اور فلم کے آئینہ میں

رضوانہ پروین


ساحر لدھیانوی کی ولادت8مارچ1921 کو لدھیانے کے ایک زمیندار خاندان میں ہوئی۔ ساحر کے والد کا نام فضل محمد اور والدہ کا نام سردار بیگم تھا۔ کہاجاتا ہے کہ قرآن مجید سے دیکھ کر والد نے ساحر کا نام عبد الحی رکھا تھا۔ اس لحاظ سے ساحر کا اصلی نام عبدالحی اور قلمی نام ساحر لدھیانوی ہوا۔ ساحر لدھیانو ی ایک زمیندار خاندان کے واحد چشم و چراغ ہونے کے باوجود عام انسانوں سی سادہ زندگی گزاری۔ اس کا سبب ان کے والد کا تعیش پسندانہ اور حاکمانہ مزاج تھا۔ ساحر لدھیانوی کی ابتدائی تعلیم لدھیانے میں بڑے ہی غیر محفوظ ماحول میں ہوئی۔ اپنے والد کے غیر قانونی اقدام کے تحت ساحر کی والدہ کے عدم تحفظ کا احساس جب مستحکم ہوتا گیا تو اس کا براہ راست اثر ساحر لدھیانوی کی زندگی پر پڑا۔ ساحر کی پرورش اور تعلیم اُن کی والدہ کے زیر سایہ ہوتی رہی۔ والد کی محبت و شفقت انھیں نہ ملی۔اسکول میں مولانا فیاض ہریانوی کی تربیت میں انھوں نے اردو فارسی کا علم حاصل کیا۔ پنجابی ان کی علاقائی اور مادری زبان تھی اور انگریزی زبان اسکول میں لازمی تھی۔ 
ساحر بچپن ہی سے بڑے ذہین تھے۔ چوتھی جماعت میں ہی وہ اپنے ماموں کے وسیلے سے علامہ اقبال کی بالِ جبریل مکمل پڑھ چکے تھے۔ 1937 میں میٹرک کا امتحان دینے کے بعد فرصت کے اوقات میں شعر گوئی کی جانب راغب ہوئے۔ ابتداً انھوں نے نظمیں کہیں۔ میٹرک پاس کرلینے کے بعد1938 میں ساحر گورنمنٹ کالج لدھیانہ میں منتقل ہوگئے۔اس کالج میں گزرے پانچ سال ساحر کی زندگی میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ 
کالج کے زمانے میں ہی ہندوستانی کمیونسٹ پارٹی کی طلبہ تنظیم آل انڈیا اسٹوڈنٹ فیڈریشن سے ساحر کے روابط استوار ہوچکے تھے۔ اس طرح ساحر کو اپنے احساسات و خیالات و جذبات کے اظہار کا بہترین ذریعہ مل گیا تھا۔ ساحر اپنی نو عمری میں ہی اشتراکی نقطۂ نظر سے نا صرف متاثر ہوئے بلکہ بڑھ چڑھ کر اس نقطۂ نظر کی ترسیل کی۔ اپنی نظموں اور تقریروں میں بھی۔
ساحر پہلے شاعر نہیں جن کا تعلق زمیندار خاندان سے ہو، لیکن وہ پہلے شاعر ان معنوں میں ضرور ہیں جس نے زمیندار خاندان کے چشم و چراغ ہونے کے باوجود کھرے کھوٹے انداز میں اس ماحول و معاشرت کی دھجیاں اڑائی ہوں۔
ساحر لدھیانوی یوں تو کالج کے دنوں میں نعرے لگانے اور پوسٹر لکھنے جیسے جذباتی کاموں میں پیش پیش رہتے ہی تھے لیکن 1939 سے اُن کی تحریریں باضابطہ رسائل میں شائع بھی ہونے لگی تھیں۔ اُن کی ایک نظم’شعلہ نوائی‘ 1939 میں ہفتہ وار ’افغاں‘ بمبئی میں شائع ہوئی تھی، جو کافی مقبول ہوئی۔ ساحر ابتداً اے ایچ ساحر کے نام سے لکھا کرتے تھے۔ ساحر نے اپنے لیے تخلص کا انتخاب علامہ اقبال کے لکھے ہوئے مرثیہ’مرثیہ داغ ‘کے اس شعر سے کیا:
اس چمن میں ہوں گے پیدا بلبل شیراز بھی
سیکڑوں ساحر بھی ہوں گے صاحب اعجاز بھی
اس طرح وہ چودھری عبد الحی سے ساحر لدھیانوی ہوگئے۔ ساحر نسباً اور مزاجاً پورے پنجابی تھے۔ وہ لدھیانے میں پیدا ہوئے اور زندگی کے تئیس چوبیس سال اس شہر میں گزارے۔ یہ دور ساحر کی شخصیت اور تعمیر کے لحاظ سے تشکیلی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی دیار میں انھوں نے ہوش سنبھالا، تعلیم حاصل کی، عاشقی کی، شاعر ہوئے اور عملی زندگی میں بھی قدم جمانے کے لیے جد و جہد کی۔ انسان اور شاعر کی حیثیت سے جو چھاپ پنجاب نے ساحر پر لگائی وہ انمٹ اور مستقل ثابت ہوئی۔ جس کا اظہار ساحر نے اپنی ایک نظم’’اے نئی نسل!‘‘ میں بخوبی کیا ہے:
یہیں منکر بنے روایت کے
یہیں توڑے روایت کے اصنام
یہیں نکھرا تھا ذوق نغمہ گری
یہیں اترا تھا شعر کا الہام
میں جہاں بھی رہا یہیں کا رہا
مجھ کو بھولے نہیں ہیں یہ در و بام
نام میرا جہاں جہاں پہنچا
ساتھ پہنچا ہے اس دیار کا نام
یہ نظم در اصل ساحر نے اپنی مادر علمی گورنمنٹ کالج لدھیانہ کی گولڈن جبلی تقریب کے لیے لکھی تھی۔ اس تقریب میں ساحر کو گولڈ مڈل سے بھی نوازا گیا تھا۔ درج بالا اشعار سے شاعر کی اپنی مادر علمی کے ساتھ ساتھ اُس کی والہانہ وابستگی کا اظہار ہوتا ہے۔ ان کی کامیاب اور مقبول نظم ’تاج محل‘ ہے جس کے سبب ساحر راتوں رات شاعر بن گئے۔ اس نظم کا آخری بند قابل توجہ ہے جس نے ہر کس و ناکس کی توجہ اپنی جانب کھینچی اور یہ نظم ساحر کی مقبولیت کا اولیّن زینہ بنی ملاحظہ ہو:
یہ چمن زار یہ جمنا کا کنارا یہ محل
یہ منقش درو دیوار یہ محراب یہ طاق
اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر
ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق
(تاج محل)
1944 میں ساحر لدھیانوی کا پہلا شعری مجموعہ’تلخیاں‘ شائع ہوا۔ اس مجموعے پر قومی جنگ(نیا زمانہ بمبئی) میں تبصرہ بھی شائع ہوا۔ اور بہت پذیرائی ہوئی۔ اسی زمانے میں ساحر نے ’ادب لطیف‘ کی ادارت سنبھالی۔ ادب لطیف کے اداریے اور تبصرے کی بدولت ساحر ادباء و شعرا میں کافی مقبول ہوئے اور ان کا حلقہ بڑھتا گیا۔
اکتوبر1945 میں حیدر آباد میں ترقی پسند مصنّفین کی پانچویں کل ہند کانفرنس کا انعقاد ہوا تو ساحر کو مقالہ نگار کی حیثیت سے مدعو کیا گیا۔ ساحر نے ’اُردو کی جدید انقلابی شاعری‘ پر اپنا مقالہ پیش کیا جسے بہت پسند کیا گیا اور ساتھ ہی ساتھ معتبر اور مقتدر ترقی پسندوں میں ان کا شمار ہونے لگا۔ چنانچہ کانفرنس کے اختتام پر ساحر ترقی پسند ادبا کی ایما پر لاہور کے بجائے بمبئی چلے آئے۔ بمبئی جو اُس زمانے میں ترقی پسند ادباء اور شعراء کا مستقر بنی ہوئی تھی۔ وہاں ساحر کو ذریعہ معاش کی تلاش اور فلموں سے وابستہ ہونے کاموقع ملا۔
بمبئی پہنچنے کے بعد ساحر کرشن چندر کے یہاں ٹھہرکر فلموں کے لیے جد و جہد کرتے رہے۔ قسمت نے ساتھ دیا اور بہت جلد موسیقار ایس ڈی برمن کی سفارش پر فلم ’آزادی کی راہ‘ کے لیے پہلا بریک ملا۔ اس فلم کے لیے جو نغمہ ساحرنے لکھا اُس کے بول تھے’ بدل رہی ہے یہ زندگی‘ ان کی دوسری فلم ’نوجوان‘ تھی جس کے نغمے کے بول تھے ’ٹھنڈی ہوائیں لہرا کے آئیں‘ اس کے بعد فلم بازی کا مقبول و معروف نغمہ’تدبیر سے بگڑی ہوئی تقدیر بنالے اپنے پہ بھروسہ ہے تو داؤ لگالے‘لکھا۔ اس نغمے کی کامیابی کے بعد پھرساحر نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ یہ وہ دور تھا جب ساحر فلمی نغمے لکھنے میں اس قدر منہمک ہوگئے تھے کہ اُن کے پاس تخلیق ادب کے لیے زیادہ وقت نہ تھا۔ اُن کا اہم کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے فلمی نغموں کو ایک معیار عطاکیا۔ 
اُس وقت شاعری میں آرزو لکھنوی، شکیل بدایونی، پریم دھون، مجروح سلطان پوری اور راجندر کرشن وغیرہ فلمی گانوں کو ادبی معیار کے قریب لانے کی کوشش کررہے تھے۔
بیسویں صدی کے پانچویں دہے میں ساحر نے نہ صرف عوام اور فلمی اورغیر فلمی ہستیوں کو شاعری کی عظمت کا احساس دلایا بلکہ نغمہ نگاروں کے حقوق کی بحالی کے لیے جو قابل رشک کارنامہ انجام دیے اس کے لیے نغمہ نگار ان کے منّت کش رہیں گے۔ ساحر سے قبل فلمی پوسٹر وں پر صرف موسیقار کے نام لکھنے کی روایت تھی ساحر نے اس حق تلفی کے خلاف آواز بلند کی۔ اس زمانے میں ریڈیو سے نشر ہونے والے نغموں میں صرف موسیقار اور گلوکار کا نام ہی لیاجاتا تھا بعد میں ساحر کی کوششوں سے نغمہ نویس کا نام بھی شامل کیا جانے لگا۔
ساحر لدھیانوی کی شعری تصانیف کی تعداد کل چار ہے جن میں تلخیاں، پرچھائیاں،گاتا جائے بنجارا اور آؤ کہ کوئی خواب بنیں، شامل ہیں۔
’تلخیاں‘ ساحر لدھیانوی کا پہلا شعری مجموعہ ہے جو 1944-45 میں ہی شائع ہوکر مقبول عام ہوا۔ اس کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ اس کے تیئس جائز اور ناجائز ایڈیشن شائع ہوئے۔
ساحر لدھیانوی کی نظم’پرچھائیاں‘ بین الاقوامی امن کے موضوع پر لکھی گئی ایک طویل نظم ہے۔ یہ پہلی دفعہ1955 میں کتابی صورت میں شائع ہوئی۔ اب یہ نظم ساحر کے دوسرے مجموعہ کلام’آؤ کہ کوئی خواب بنیں‘ میں مستقل طور پر شامل ہے۔
’گاتا جائے بنجارا‘ ساحر کا مشہور و مقبول فلمی نغموں کا مجموعہ ہے، جسے ساحر نے خود ترتیب دیا ہے۔ اس کی پہلی اشاعت1958 میں ہوئی۔ یہ کتاب اُردو شاعری میں پہلی مثال ہے کہ کس نغمہ نگار نے اپنے فلمی نغموں کو کتابی صورت عطا کی ہو۔ بہر حال ساحر کے چوتھے مجموعہ کلام’آؤ کہ کوئی خواب بنیں‘ کا پہلا ایڈیشن1971 میں منظر عام پر آیا اور تیسرا اور آخری ایڈیشن1979 میں شائع ہوا۔
ساحر کے یہاں جدت کا جو رجحان ہے وہ فلم ’بازی‘ میں اور نمایاں ہوا۔’جو تدبیر سے بگڑی ہوئی تقدیر بنالے‘ اور ’گجر کے گانے‘ سے مترشح ہے۔ ساحر کی فلمی شاعری کا زمانہ جاگ اٹھا ہندوستان (فلم: آزادی کی راہ پر)‘ ’ٹھنڈی ہوائیں لہرا کے آئیں‘(نوجوان1955) ہے ’لوگ عورت کو فقط جسم سمجھ لیتے ہیں‘(انصاف کا ترازو 1980) تک کم و بیش تیس سالوں پر محیط ہے۔ ان تیس برسوں میں ساحر نے کبھی بھی اپنے نظریات اور مسلک سے گریز نہیں کیا۔ بلکہ دوہے، گیت، نظم، غزل میں زندگی اور سماج سے متعلق مختلف موضوعات کو سمیٹا ہے۔
اُردو میں ساحر لدھیانوی واحد شاعر ہیں جنھوں نے اپنی شاعری میں تخلص کا استعمال کہیں نہیں کیا ہے۔ ساحر کا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے اردو شاعری، کو ایک منفرد انداز عطا کیا۔ عربی فارسی کے ادق الفاظ سے پرہیز کر آسان الفاظ کا انتخاب جس سے اُن کی شاعری خاص و عام کے لیے یکساں دلچسپی کا سامان بنی۔ زبان کی سلاست کے سبب اُن کی شاعری میں جمالیاتی حسن و نکھار پیدا ہوا۔ سادگی، رعایت لفظی، اسلوبیاتی جدّت نے اُن کی شاعری کو ایک منفردانداز عطا کیا۔
ساحر لدھیانوی ایک خوش مزاج ، خوش باش اور خوش پوش شخصیت کا نام ہے۔ خوش گفتاری اور مہمان نوازی اُن کی شخصیت کے اہم پہلو ہیں۔ وہ ایک سادہ معصوم اور بامروّت انسان تھے۔ سادگی اُن میں اس قدر تھی کہ وہ ہمیشہ سفید براق قمیص اور پتلون میں ملبوس نظر آتے تھے۔ اُن کی گاڑی کا رنگ بھی سفید ہی تھا۔ کوئی میل اُن پرچڑھی ہی نہ تھی۔
ساحر لدھیانوی اُن گنے چنے نامور شعراء میں ہیں جسے اپنی زندگی میں ہی مقبولیت حاصل ہوچکی تھی۔بہر حال ساحر کے نغموں میں جہاں ناکام محبت کا درد اور محبوب سے والہانہ محبّت کی کسک نظر آتی ہے وہیں ان کے یہاں احتجاج،تلخی،اور کڑواہٹ بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔وہ درد مند دل کے مالک تھے لہٰذاانسانیت اور انسانی حقوق کی پامالی کے سبب ان کے قلم سے وہ کڑواہٹ اور ترشی اشعار اور بعض اوقات نغمے کی صورت میں نکلیں جس سے فلمی دنیا ہی نہیں بلکہ ادب میں بھی ایک مقام و مرتبہ حاصل ہوا۔چونکہ ساحر کو دنیا میں تلخیوں کا سامنا ہوا تھا۔انھیں محبّت میں ناکامی ملی تھی۔ذات اور مذہب کے نام پر انھیں اپنی محبّت قربان کرنی پڑی اور دل پر پتھّر رکھ کر انھیں یہ کہنا پڑا ؂
چلو ایک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں
نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی 
اور کبھی سنجیدہ ہو کر زندگی کے فلسفے کو یوں بیان کرتے ہیں ؂
ایک پل کی پلک پر ہے ٹھہری ہوئی یہ دنیا
ایک پلک جھپکنے تک ہر کھیل سہانا ہے
ساحرنے نہ صرف مقبولیت بلکہ دولت بھی خوب کمائی۔ نیز بے شمار انعامات و اعزازات سے نوازے گئے۔ 1972 میں مہاراشٹر حکومت نے انھیں جسٹس آف دی پیس نامزد کیا۔ اُن کے مجموعہ کلام’آؤ کہ کوئی خواب بنیں‘ پر1972 میں اردو اکادمی مہاراشٹر اسٹیٹ لٹریری ایوارڈ سے نوازا گیا۔ جواہر لال نہرو(ہندوستان کے سابق وزیر اعظم) کی وفات پر لکھی گئی ساحر کی نظم کو ان کے مجسمے کے نیچے نصب کیاگیا۔ 1977 میں حکومت پنجاب نے ساحر کو شرومنی اُردو ساہتیہ کار قرار دیتے ہوئے گولڈ میڈل، ابھی نندن گرنتھ سرو ہال(شال) اور نقد رقم سے نوازا۔ اُن کے انتقال کے بعد پنجاب زراعتی یونیورسٹی لدھیانہ نے ایک خوبصورت پھول کا نام گُلِ ساحر رکھا۔ وفات سے قبل انھیں پدم شری ایوارڈ سے نوازاگیا تھا۔
ساحر لدھیانوی کی مقبولیت کا ایک اہم ثبوت ہے اُن کے کلام کے مجموعوں کے کئی کئی ایڈیشن شائع ہوئے اور مقبول ہوئے۔ انھیں یہ امتیاز حاصل ہے کہ اُن کی شاعری کے نہ صرف ہندوستان کی کئی زبانوں بلکہ انگریزی، فرانسیسی، چیک، روسی، فارسی و عربی جیسی بین الاقوامی زبانوں میں ترجمے کیے گئے اور مقبول ہوئے۔
بمبئی میں رہتے ہوئے ساحر لدھیانوی ادبی اور فلمی دونوں دنیا میں بے حد مقبول و معروف ہوئے۔ یہ ضرور ہے کہ زندگی کے ان ایّام میں دولت و شہرت نے بڑھ کر اُن کی قدم بوسی کی۔ لیکن وہ اپنی نجی اور خانگی زندگی سے بڑی حد تک بے زار رہے۔ اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے غور و فکر کرنے کا انھیں موقع ہی نہ ملا۔ ممکن ہے کہ اپنے والدین کے انتہائی تلخ اور ازدواجی تعلقات اور خود پچھلے ناکام معاشقوں اور تجربات کے زیر اثر ساحر گھر بسانے اور دنیا میں اپنا خاندان یا اپنی نسل چھوڑجانے کی فطری انسانی خواہش کو پورا کرنے کی طرف مائل نہ ہوئے اور یوں وہ پوری عمر مجرّد اور کنوارے ہی رہے۔
25 اکتوبر1980 کی شب میں دس بجے بمبئی کے ورسوا میں اپنے فیملی ڈاکٹر کپور کے گھر علاج کی غرض سے آئے ہوئے تھے اور وہیں دل کے دورے کا خدشہ ہوا اور انتقال کر گئے۔

Dr.Rizwana Perween
D\o Mohammad Anwar
Alamganj peerwais market maidan,
Post: Gulzarbagh, Dist: Patna-800007 (Bihar)
Email:rperween101@gmail.com







قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

14/1/19

فلمی و ادبی دنیا کی مشترکہ وراثت: ندا فاضلی مضمون نگار:۔ معصوم زہرا






فلمی و ادبی دنیا کی مشترکہ وراثت: ندا فاضلی


معصوم زہرا


اردو کے بغیر ہندوستانی فلم کی تاریخ مکمل نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ اردو واحد ایسی زبان ہے جو ہر ماحول و حالات میں خود کو ڈھالنے کی صلاحیت رکھتی ہے اگر اردو زبان میں یہ صلاحیت نہ ہوتی تو فلموں اور فلمی نغموں کے فروغ میں اردو زبان کبھی قابل قدر نہ سمجھی جاتی۔یہ حقیقت ہے کہ اردو کے استعمال کے بغیر کامیاب فلموں کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کیونکہ جب بھی فلموں کے مکالمے، کہانیاں، نغمے، تحریر کیے گئے تو اردو زبان کو ہی فوقیت حاصل رہی ۔ اردو شعرا و ادبا کی ایک طویل فہرست ہے جنھوں نے ہندوستانی فلموں کو اپنی نثری و شعری تخلیقات سے فروغ بخشا۔اگر فلموں میں فکشن کی بات کی جائے تو پریم چند ،بیدی، اور منٹوسے لے کر سلیم جاوید تک فکشن نگاروں کاایک طویل سلسلہ ہے۔ اسی طرح اگر فلموں میں نغمہ نگاروں کو پیش نظر رکھیں تو آرزو لکھنوی،مجروح سلطانپوری، راجہ مہدی علی خاں، ساحر لدھیانوی، قمر جلال آباد ی، شکیل بدایونی، کیفی اعظمی، حسرت جے پوری، شہریار، گلزار، جاوید اختر وغیرہ نے پوری اردو شاعری اور فلمی نغمہ نگاری کے ما بین بہت مستحکم رشتہ استوار کیا ہے۔ان نغمہ نگاروں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ انھوں نے بہت ہی سادہ اور عام فہم زبان میں عوام کی دلچسپی کو پیش نظر رکھتے ہوئے نغمے تحریر کیے،ان شعرا کی کاوشوں کو اتنا فروغ ملا کہ ان کے نغمے زبان زد خاص وعام اور ضرب المثل بن گئے۔
ان شعرا میں ندا فاضلی کی آواز عصر حاضر کی مقبول اور معتبر آواز ہے ان کی شاعری ذاتی تجربات کے ساتھ عوام و خواص کے بھی جذبات و احساسات کی ترجمان ہے جو ان کے شعری مجموعے لفظوں کا پل، مور ناچ، آنکھ اور خواب کے درمیان، کھویا ہوا سا کچھ، شہر تو میرے ساتھ چل، زندگی کی طرف، میں بخوبی سنائی دیتی ہے۔جن میں غزل ،نظم،دوہے،گیت،وغیرہ جیسی اصناف میں ان کے تصورات و ذاتی تجربات کی دنیا آباد ہے۔
جدید لب و لہجہ کے ممتاز شاعر اور نامور فلمی نغمہ نگار ندا فاضلی 12اکتوبر 1938 کو دہلی میں پیدا ہوئے ان کے والد میر مرتضیٰ حسن دعا اپنے عہد کے نمائندہ شاعر تھے۔ چونکہ ندافاضلی ایک ادبی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور اسی ماحول میں ان کی پرورش ہوئی یہی وجہ ہے کہ کم عمری میں ہی شاعری کا آغاز کر دیا تھا۔ ان کے شعری میلان کی محرک سور داس کی نظم ہے جو انھوں نے ایک مندر کے پاس سے گزرتے ہوئے سنی جس میں رادھا اور کرشن کی علیحدگی کا بیان تھا۔نظم سن کر ندا فاضلی بہت متأثر ہوئے اور اسی وقت بطور شاعر اپنی شناخت قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔
ندا فاضلی کا آبائی وطن جموں کشمیر تھا لیکن ان کا خاندان گوالیار آکر بس گیا تھا تقسیم ہند کے بعد فرقہ وارانہ فسادات نے کئی شہروں کو تباہ کر دیا تھا اسی دوران گوالیار بھی ہندو مسلم فساد کی زد میں تھا۔اسی سبب ندا فاضلی کے والدین نے پاکستان ہجرت کا فیصلہ کیا مگر ندا فاضلی نے ہندوستان میں ہی قیام کو ترجیح دی اس وقت ندا فاضلی وکرم یونیورسٹی اجین میں ایم۔اے(اردو) سال آخر کے طالب علم تھے ایم ۔اے کرنے کے بعد مسلسل تلاش معاش میں سر گرداں رہے کبھی کلکتہ کبھی دہلی اور کبھی راجستھان کا سفر کیا بالآخر ممبئی پہنچے۔قیام ممبئی کے ابتدائی ایام میں ندا فاضلی نے بہت عسرت، تنگدستی اور کسمپرسی کی زندگی گزاری ان دنوں وہ ہندی میگزین دھرم یگ اور ہندی ،اردو ہفتہ واراخبار ’ بلٹز‘ میں کالم لکھتے تھے اور اخبار کے دفتر میں ہی چادر بچھا کر سو جاتے تھے۔غالباً انھوں نے اسی پس منظر میں یہ شعر کہا تھا ؂
تنہا تنہا بھٹک رہا ہے انجانی سی راہوں میں
شاید اپنے ساتھ وہ اپنے شہر کو لانا بھول گیا
رفتہ رفتہ جب ادبی رسائل و اخبارات میں کلام شائع ہونے لگے تو ندا فاضلی کی شہرت بڑھتی گئی اور مزید شہرت اس وقت حاصل ہوئی جب ان کی غزل مایہ ناز گلوکار جگجیت سنگھ اور ان کی بیگم چترا نے اپنی خوبصورت آواز میں عوام تک پہنچائی۔غزل کا مطلع ہے ؂
دنیا جسے کہتے ہیں جادو کا کھلونا ہے
مل جائے تو مٹی ہے کھو جائے تو سونا ہے
یہ غزل اتنی مقبول ہوئی کہ ندا فاضلی فلمی ہدایت کاروں کی توجہ کا مرکز بن گئے۔ اسی دوران فلم ’رضیہ سلطان‘ کے اصل نغمہ نگار جاں نثاراختر کے انتقال کے بعد فلم کے ہدایت کار کمال امروہوی ایک اچھے شاعر کی تلاش میں تھے۔ ندا فاضلی کے گیت سے متاثر ہو کر انھوں نے ندافاضلی سے رابطہ کیا اور فلم کے باقی نغمے لکھنے کی ذمہ داری سونپ دی اور ہدایت دی کہ موسیقار خیام کے ساتھ مل کر ایسا نغمہ رقم کیجیے جو فلم کی شان کو دو بالا کر دے۔ اس فلم کے لیے ندا فاضلی نے دو نغمے’آئی زنجیر کی جھنکار خدا خیر کرے‘ او’ر ترا ہجر ہی مرا نصیب ہے‘ لکھے۔اور لکھنؤ سے تعلق رکھنے والے آ ل انڈیا ریڈیو کے ہوسٹ کبن مرزا کی آواز نے نغمے کے حسن کو دوبالا کر دیا۔اس فلم میں ہیما مالنی اور دھرمیندر نے اہم کردار ادا کیا اور یہی فلم ندا فاضلی کے کیریئ کے آغاز میں معاون ثابت ہوئی۔اس فلم کی کامیابی کے بعد ندا فاضلی نے بہت سی فلموں میں نغمے لکھے جن میں فلم آہستہ آہستہ، سر فروش، اس رات کی صبح نہیں، نا خدا، آپ تو ایسے نہ تھے، یاترا، سُروغیرہ قابل ذکر ہیں۔
فلم ’آہستہ آہستہ’ کا نغمہ کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا‘نے نہ صرف لاکھوں دلوں کو جیت لیا بلکہ یہ نغمہ شہرت کی اس منزل تک پہنچا کہ فلم کی مقبولیت کا سبب بن گیا۔ اس نغمہ کی موسیقی خیام نے مرتب کی اورمشہور گلوکارہ آشا بھوسلے اور بھوپیندر سنگھ نے اپنی مترنم آواز سے نغمہ کو دلکشی بخشی جو فلمی ہدایات کے ساتھ ساتھ ادبی تقاضوں کو پورا کرتا ہوا نظر آتا ہے ؂
کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا
کہیں زمیں تو کہیں آسماں نہیں ملتا
کہاں چراغ جلائیں کہاں گلاب رکھیں
چھتیں تو ملتی ہیں لیکن مکاں نہیں ملتا
جسے بھی دیکھیے وہ اپنے آپ میں گم ہے
زباں ملی ہے مگر ہم زباں نہیں ملتا
اس طرح فلم ’سرفروش‘ کا نغمہ’ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہے‘ کو جگجیت سنگھ نے اپنی آواز دی اور اس غزل نے بھی لا زوال شہرت حاصل کی اور عامر خان، نصیر الدین شاہ اور سونالی بیندرے پر فلمایا گیا ہے۔دو شعر ملاحظہ ہوں جو پورے نغمے کی جان ہیں ؂
ان سے نظریں کیا ملیں روشن فضائیں ہو گئیں
آج جانا پیار کی جادو گری کیا چیز ہے
ہم لبوں سے کہہ نہ پائے ان سے حال دل کبھی
اور وہ سمجھے نہیں یہ خامشی کیا چیز ہے
اور فلم ’آپ تو ایسے نہ تھے‘ کا نغمہ بہت دلکش و پسندیدگی کی سند بنا ہوا تھا اورمحمدرفیع کی آواز نے اس نغمہ کے حسن میں چار چاند لگا دیا، اس کا تغزلانہ اور رومانوی آہنگ اپنی مثال آپ ہے جو عام روش سے ہٹ کر ہے اور سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ادبی پیرائے میں اور عام فہم زبان میں لکھا گیا ہے۔ 
ندا فاضلی نے ادبی اور معیاری فلمی نغمے لکھے، ان لازوال شہرت یافتہ فلمی نغموں سے قطع نظر ندا فاضلی نے چند فلمیں بھی لکھیں جن میں وجے، ہر جائی اور’فلک ‘کے نام قابل ذکر ہیں ۔انھیں بڑے کمال کے موسیقار بھی ملے جن میں خیام، آر۔ڈی ۔برمن وغیرہ موسیقی کے بڑے نام ہیں۔ ندا فاضلی کے فلمی نغموں کے علاوہ کچھ غزلیں بھی مشہور زمانہ گلوکاروں نے گائی ہیں مثلاً۔لتا منگیشکر اور جگجیت سنگھ کی آواز میں اس غزل نے بہت شہرت پائی۔ چند اشعار ملاحظہ ہو ں ؂
ہر طرف ہر جگہ بے شمار آدمی
پھر بھی تنہائیوں کا شکار آدمی
صبح سے شام تک بوجھ ڈھوتا ہوا
اپنی ہی لاش کا خود مزار آدمی
زندگی کا مقدر سفر در سفر
آخری سانس تک بے قرار آدمی
شاعر شہری زندگی سے نالاں ہے۔انسان اتنا خود غرض اور مفاد پرست ہو گیا ہے کہ آج کا انسان ہزاروں لاکھوں آدمیوں کے بیچ میں تنہائی محسوس کرتا ہے۔کیونکہ شہروں میں خلوص اور انسانی رشتوں کا پاس ہی نہیں رہا۔ ریا کاری، مکاری، جھوٹ،فریب، بے حسی اتنی بڑھ چکی ہے کہ ندا فاضلی آدمی کو اپنی لاش کا مزار کہنے پر مجبور ہوگئے جو صبح سے شام تک بدن کا بوجھ لیے پھرتا ہے۔چھوٹی بحر اور سیدھے سادے اور آسان الفاظ میں بڑی ہی سادگی اور خوبصورتی سے لفظ ’آدمی‘ کو بطور ردیف پیش کر کے بے حس آدمی کی آدمیت پر گہرا طنز کیا ہے۔
تنہائی پر ندا فاضلی کی دوسری غزل جسے غلام علی نے اپنی آواز دے کرلافانی بنا دیا ہے وہ یہ ہے ؂
تنہا تنہا دکھ جھیلیں گے محفل محفل گائیں گے
جب تک آنسو پاس رہیں گے تب تک گیت سنائیں گے
یہ پوری غزل ندا فاضلی کے ذاتی تجربات کا مظہر ہے جو ممبئی جیسے شہر میں عالم تنہائی میں زندگی گزار رہے تھے۔ عالم تنہائی میں انسان کن کن حالات سے دو چار ہوتا ہے، کتنی صعوبتیں برداشت کرتا ہے ساری کیفیات کا اظہار ہمیں ندا فاضلی کی شاعری میں ملتا ہے۔ ان نغموں کے علاوہ ان کے کچھ نغمے اور اس کے گلوکاروں کے نام درج ذیل ہیں جنھوں نے فلمی دنیا کے ساتھ ساتھ ادبی دنیا میں بھی ندا فاضلی کی ایک الگ شناخت قائم کی ؂
بہت خوبصورت ہیں آنکھیں تمھاری
(جگجیت سنگھ)
بے نام سا یہ درد ٹھہر کیوں نہیں جاتا
(جگجیت سنگھ)
ہر ایک گھر میں دیا بھی جلے اناج بھی ہو
(جگجیت سنگھ)
چاند سا چہرہ رات سی زلفیں ہرنی جیسی چال
(محمد رفیع)
چاہت ندیا چاہت ساگر
(الکا یاگنک،فلم چاہت) 
ایسا ہو تو کیسا ہو
(کشور کمار ،سوپنا،فلم گہرا زخم)
گھر سے مسجد ہے بہت دور چلو یوں کر لیں
(سونو نگم، فلم تمنا)
ہر ایک راستہ سجا کے چل
( آشا بھوسلے،فلم امیر آدمی غریب آدمی)
زندگی یہ زندگی دو گھڑی کی زندگی
( لتا منگیشکر۔فلم دولت)
کس کی صدائیں مجھ کو بلائیں 
(آشا بھوسلے،کشور کمار۔فلم ریڈ روز)
تم سے مل کر زندگی کو یوں لگا
( لتا منگیشکر،فلم چور پولیس)
ندا فاضلی کی فلمی شاعری کی زبان سہل ممتنع کی بہترین مثال ہے،کہیں بھی پیچیدگی یا الجھاؤ کا احساس نہیں ہوتا۔انھوں نے جن مسائل و موضوعات کو اپنی شاعری کا محور بنایا وہ دوسرے معاصرین شعرا ء میں خال خال ہی نظر آتا ہے۔انھوں نے دور حاضر کے حقائق کو اپنی شاعری کا ترجمان بنایا جسے ہر شخص اپنی زندگی میں محسوس کر سکتا ہے۔
ندا فاضلی کی انھیں خدمات کے سلسلے میں 1998میں سا ہتیہ اکادمی ایوارڈ اور2004 میں مدھیہ پردیش حکومت نے اپنے سب سے بڑے اعزاز شکھر سمان سے بھی سرفراز کیا اور 2003 میں فلم ’ سُر ‘کی بہترین نغمہ نگاری کے لیے اسٹار اسکرین ایوارڈ،بالی ووڈ مووی ایوارڈ اور مہاراشٹر حکومت کی جانب سے میر تقی میرایوارڈ اور 2013 میں ہندوستان حکومت نے پدم شری جیسے اعزاز سے مفتخر کیا۔
8؍فروری 2016 کو فلمی و ادبی شاعری کا درخشندہ آفتاب غروب تو ہو گیا مگر اس کی روشنی شعری افق پر آج بھی جلوہ گر ہے۔

Masoom Zohra
Research Scholar, Dept of Urdu
Aligarh Muslim University
Aligarh - 202001






قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...