2/6/20

یہ گفتارِ رندِ خود آگاہ ہے مضمون نگار: مخمور سعیدی




یہ گفتارِ رندِ خود آگاہ ہے
مخمور سعیدی
ہر زبان کی طرح اردو زبان بھی اس تہذیب و تمدن کی ترجمان رہی ہے جس نے اسے جنم دیا اور اس کی پرورش کی۔ اپنے بچپن میں یہ ان گلی کوچوں میں کھیلی جہاں مختلف نسلوں کے مختلف المزاج اور مختلف المذاق لوگوں کے یکجا ہو جانے سے کسی میلے جیسی چہل پہل کا سماں تھا۔ یہ سماجی چہل پہل ایک نئی تمدنی اور تہذیبی فضا کی تشکیل کا پیش خیمہ تھی اور اس رنگا رنگ فضا کو اپنے اظہار و اعلان کا نیا وسیلہ درکار تھا جو اردو کی صورت میں سامنے آیا۔ اردو نے اپنی ہموطن زبانوں کے علاوہ اپنی سر زمین پر کچھ نوواردبیرونی زبانوں مثلاً عربی، فارسی اور ترکی کو بھی غیر نہیں سمجھا اور ان سے بے رخی نہیں برتی۔ نتیجتاً انھوں نے بھی اسے گلے لگا لینے میں کچھ مضائقہ نہ جانا۔ اسی ماحول میں اردو سنِ شعور کو پہنچی اور ایک ایسی خوبصورت زبان کا روپ اختیار کیا کہ شیخ و برہمن ہوں، خواص ہوں یا عوام سبھی اس کی زلفِ گرہ گیر کے اسیر ہوئے ۔
یوں تو اردو شاعری کی بیشتر اصناف عربی اور فارسی کی اصنافِ سخن سے مستعار ہیں، الفاظ اور مضامین کا بڑا ذخیرہ بھی وہیں سے آیا ہے مگر اردو میں آکر ان پر مقامی رنگ چڑھ گیا اور ان کے اندر وہ شے حلول کر گئی جسے ہم ہندوستانیت کا نام دیتے ہیں۔ اردو میں کچھ ایسی شعری ہیئتوں نے بھی رواج پایا جو عربی یا فارسی میں نہیں تھیں۔ مثلاً گیت اور دوہا ہندی سے آئے؛ ماہیا پنجابی کی ودیعت ہے، نظم معرٰی ، نظم آزاد اور سانیٹ انگریزی کی دین ہیں۔ یہ سبھی تحفے اردو نے اپنی شرائط پر قبول کیے ہیں اور اس طرح اپنے چمن کی زینت ایسے گلہائے رنگ رنگ سے کی ہے جو اس کی خوش منظری کے ضامن بن گئے ہیں۔
اردو شاعری ابتدا سے مختلف النوع اعتقادات اور نظریات کی ترجمان رہی ہے لیکن اس کا غالب رجحان معاملاتِ حسن و عشق کی ترجمانی رہا ہے۔ یہ معاملات ایک خاص منزل پر پہنچ کر روحانی کیفیات کے حامل ہو جاتے ہیں جنھیں اصطلاحاً متصوفانہ کیفیات کا نام بھی دیا گیا ہے چنانچہ اردو میں متصوفانہ خیالات و احساسات کا اظہار بھی کم و بیش ہر شاعر کے کلام میں نظر آتا ہے، کہیں کم کہیں زیادہ۔ میرؔاور غالب ؔ عملاً صوفی نہیں تھے لیکن ان کے ہاں ایسے اشعار خاصی تعداد میں موجود ہیں جن کی متصوفانہ تعبیر و تشریح بہ آسانی ممکن ہے۔ خواجہ میر درد کے کلام کا تو یہ غالب رنگ ہے۔ اقبال تصوف کے قائل نہیں تھے کہ ان کے خیال میں اس سے ان کے نظریۂ خودی کی نفی ہوتی تھی لیکن کیا کوئی وثوق سے کہہ سکتا ہے کہ ان کا پورا کلام اس سے یکسر مبرّا ہے؟ غالباً نہیں۔
یہ تمہید میں نے اس لیے باندھی کہ جناب رند اکبر آبادی کے کلام کا مطالعہ کرتے ہوئے مجھے اردو شاعری بالخصوص اردو غزل کی اس زندہ اور مستحکم روایت کی موجودگی ہی کا خوشگوار احساس نہیں ہوا جو ہماری ہزار سالہ گنگا جمنی تہذیب کی پروردہ ہے بلکہ اس کی توسیع کے بھی مثبت امکانات نظر آئے۔ روایت جڑ کی طرح ہے جس سے رشتہ استوار رکھے بغیر جدت کا پودا پنپ نہیں سکتا۔ ہر اچھا شاعر اپنی شعری روایت سے نہ صرف باخبر ہوتا ہے بلکہ اس کا پارکھ بھی ہوتا ہے اور یہ باخبری اور پرکھ اس کی شاعرانہ شخصیت کو بنانے سنوارنے اور اس کی شعری حسیّت کو ابھارنے اور نکھارنے میں معاون ہوتی ہے۔
رندؔ صاحب کو شعر گوئی کا ذوق ورثے میں ملا ہے، ان کے والد مرحوم خلد آشیانی میکش اکبر آبادی کے شاعرانہ کمالات اور علمی اکتسابات سے دنیا واقف ہے۔ میکش صاحب راہِ تصوف کے سالک بھی تھے۔ گویا رند صاحب کو ان سے شاعری کا ورثہ ہی نہیں پہنچا،متصوفانہ وجدان بھی ملا۔ پھر ان کی مزید خوش بختی کہ انھیں اس عہد کے ایک صاحب ِ حال و قال صوفی اور بلند رتبہ شاعر حضرت نصیر میاں صاحب بریلوی کی قربت اور شفقت نصیب ہوئی۔ نصیر میاں صاحب کی ذات ِبا برکات میں جو صفات یکجا ہو گئی ہیں، ان کا اندازہ کچھ وہی لوگ کر سکتے ہیں جنھیں حضرت کی قد م بوسی کا شرف حاصل ہوا ہے۔
رندؔ اکبر آبادی صاحب اپنی شعری روایت ہی نہیں، تہذیبی اقدار کے بھی عارف ہیں۔ عارف کا لفظ میرے قلم سے یوں ہی نہیں نکل گیا ہے۔ رند صاحب کا ہر شعر وہ رنگ و بولیے ہوئے ہے جس سے عرفانِ ذات و کائنات کی وادیاں بہاروں کا گہوارہ اور جنتِ نظارہ بن جایا کرتی ہیں۔ حقیقت میں رنگِ مجاز کی نمود اور رنگِ مجاز سے حقیقت کا ظہور، مجھے رند صاحب کے کلام کا امتیازی وصف نظر آیا۔
رند صاحب کے اشعار میں کیف واثر نجی تجربے کی اس گرمی نے پیداکیا ہے جس سے ان کا کوئی شعر خالی نہیں۔ رسمی اور مستعار مضامین سے انھوں نے غالباً شعوری طور پر اجتناب برتا ہے یا پھر ان کی افتادِ مزاج ہی کچھ ایسی ہے کہ برتی ہوئی چیزوں کو قبول نہیں کرتی۔ اپنی تہذیبی اور شعری روایت سے مکمل آگہی لیکن اپنے جذبات و احساسات کو شعری پیکر میں ڈھالتے ہوئے اس جدت و ندرت کی تلاش، خود اپنی طبیعت جس کی جو یا ہو، رند صاحب کی وہ خصوصیت ہے جس نے ان کے کلام کو ایسی انفرادیت بخشی ہے جو اجنبیت سے مبرّاہے ۔ان کے اکثر اشعار پڑھتے ہوئے پہلا تاثر یہ ہوتا ہے کہ یہ تو سامنے کا مضمون ہے لیکن دوسرے ہی لمحے شعر کی مختلف معنوی جہتیں اپنی طرف متوجہ کر لیتی ہیں اور شاعر کے معجزۂ فن کی نمود ہونے لگتی ہے۔
رند صاحب کو غزل سے خصوصی شغف ہے اور زیرِ نظر مجموعہ غزلوں ہی پر مشتمل ہے۔ اہل ِ فکر و فن جانتے ہیں کہ غزل بڑی کا فر صنفِ سخن ہے، اسے اپنا ہمراز و دمساز بنانے کے لیے بڑی ریاضتیں کرنی پڑتی ہیں ۔ رند صاحب نے اس کا فر صنفِ سخن کو جس طرح رام کیا ہے اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ انھوں نے کتنے دن اس کے کوچے کی خاک چھانی ہوگی اور کتنی راتیں اس کے نام کا وظیفہ پڑھتے گزار دی ہوں گی۔
یوں تو رند صاحب کی ہر غزل دلکش اور ان کا ہر شعر ایک کیفیت کا حامل ہے گویا اس مجموعے کے ہر ورق کو ورقِ انتخاب کہا جا سکتا ہے لیکن جی چاہتا ہے یہاں ان کے چند شعر نقل کروں جن کے سحرنے دیر تک میرے دل و دماغ کو مسحور رکھا ، کیا عجب انھیں پڑھتے ہوئے آپ پر بھی کوئی دیر پا کیفیت طاری ہو:
آتے آتے آئے گا لطفِ حیات
درد ہی کتنا پرانا ہے ابھی
آؤ ہم دونوں چلیں اس راہ پر
متفق جس پر زمانہ ہے ابھی
یوں سجا کر جا رہا ہوں بام و در
جیسے جا کر لوٹ آنا ہے ابھی
٭
ان سے ہے امّید وابستہ ابھی
جُھٹ پُٹے میں دھوپ ہے زندہ ابھی
سب بھلا دینے پہ بھی یادش بخیر
پھانس سی ہے دل میں پیوستہ ابھی
٭
جاننا چاہتا ہوں حدِّ ادب
آپ سے کتنا فاصلہ رکّھوں
٭
کرم خوردہ سی لگے ہے مجھے اب دل کی کتاب
آؤ، لے جاؤ اسے دھوپ دکھانے کے لیے
ایک بھی لمحۂ بے فکر نہیں قسمت میں
غم بھی کافی نہ ہوئے ذہن بٹانے کے لیے
٭
پونچھ گردِ سفر نہ چہرے سے
یہ کمائی تو عمر بھر کی ہے
اتنا واضح نہ تھا کوئی منظر
روشنی یہ مری نظر کی ہے
٭
یہ بھی ہو سکتا ہے نہ آئیں
کہہ تو گئے تھے آنے کو
٭
دل کھنچا جاتا ہے آواز کے ساتھ
دیکھنا کون صدا دیتا ہے
٭
ہے غضب عشق کا پہلا ہی قدم
وہ بہکتے ہی گئے جو بہکے
٭
ہے نیند سی آنکھوں میں کہ اب آخر شب ہے
جاگے ہیں بہت ایک دل آزار کی خاطر
٭
مطمئن کیوں ہمیں سمجھ بیٹھے
شکر تو بر بنائے عادت ہے
٭
مخلصانِ غم کا کیسا قحط ہے
ان کو ہم جیسے بھی یاد آنے لگے
٭
ایک حد تک غم سے دل بہلا کیا
پھر طبیعت غم سے گھبرانے لگی
غیرارادی طور پر میں کچھ زیادہ ہی اشعار نقل کر گیا، سچ تو یہ ہے کہ جب کتاب آپ کے ہاتھوں میں ہوگی تو اپنی پسند کے اشعار پر بے اختیارانہ خود آپ کی نظر رکے گی اور ہر صفحے پر آپ نظر کی اس بے اختیاری پر سرِ تسلیم خم کریں گے۔

مخمور سعیدی 
دہلی
11؍ستمبر ، 2007

سہ ماہی ’ فکر و تحقیق، جنوری تا مارچ 2008

1/6/20

قرۃ العین حیدر کے چند افسانے مضمون نگار: افسر کاظمی




قرۃ العین حیدر کے چند افسانے
افسر کاظمی
قرۃ العین حیدر کے والدین سجاد حیدر یلدرم اور نذر حیدر اپنے وقت کے مستند قلم کاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ نذر سجاد نے بہت سے افسانے اور ناول تصنیف کیے جو خواتین میں زیادہ مقبول ہوئے۔  سجاد حیدر یلدرم نے پہلی بار اردو قارئین کو ترکی ادب سے روشناس کرایا۔ انھوں نے تر کی ناولوں اور افسانوں کو اردو قالب عطا کیا۔ پھر خود بھی کئی افسانے اور انشائیے لکھے۔ ابتدائی دور کے ادیبوں میں ان کی حیثیت ایک صاحب طرز نثر نگار کی ہے۔ انھی کے گھر میں قرۃ العین حیدر کی پیدائش 1927 میں ہوئی۔
تخلیقی ماحول میں پرورش پانے کی وجہ سے اوائل عمر سے ہی قرۃ العین حیدر میں لکھنے کا رجحان تھا۔1945 میں جب ان کی عمر 18 سال تھی  ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’’ستاروں سے آگے‘‘ منظر عام پر آیا۔ اس مجموعے میں ’’ستاروں سے آگے‘‘، ’’رقص شرر‘‘، اور ’’جہاں کا رواں ٹھہرا تھا‘‘ جیسے افسانوں نے توجہ حاصل کی۔ آج بھی جدیدافسانوں پر گفتگو کرتے وقت یہ افسانے زیر بحث آتے ہیں۔ اس مجموعے پر اظہار خیال کرتے ہوئے مشہور ناقد محمود ہاشمی نے لکھا ہے:
’’حقیقت یہ ہے کہ الفاظ اور اشیا کے درمیان ایک علامتی وحدت کو تخلیق کرنے کا رویہ قرۃ العین حیدر نے بہت پہلے اختیار کیا۔ قرۃ العین حیدر کے اس مجموعے کو ہم جدید افسانے کا نقطۂ آغاز تصور کر سکتے ہیں۔ اس مجموعے کے افسانے اردو میں پہلی باراس ریاضیاتی یا Cartesian منطق کو توڑتے ہیں جو واقعات اور کرداروں کو خطِ مستقیم میں سفر کرنے پر مجبور کرتی تھی اور جس کا مقصد بیانیہ طرز کا احوال تھا۔‘‘
                                   [اردو افسانہ روایت اور مسائل، ص۔437]
قرۃ العین حیدرکا دوسرا افسانوی مجموعہ 1954 میں ’’شیشے کے گھر‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ ان دنوں وہ پاکستان میں مقیم تھیں۔آزادی اور قیام پاکستان کو ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا۔ یہ ایک  تشکیلی اور عبوری دور تھا۔ بر صغیر کی تاریخ کا سب سے صبر آزما دور۔پرانے سانچے ٹوٹ رہے تھے اور نئے سانچے وجود پذیر ہو رہے تھے۔ بہت سارے خیالات و نظریات رخصت ہو چکے تھے اور نئے نئے میلانات اپنی جگہ بنا رہے تھے۔ایک طرف پرانی  بنیادوں کی شکست و ریخت ہو رہی تھی تو دوسری طرف کچھ نئی بنیادیں رکھی جا رہی تھیں۔ اس دوران قرۃ العین حیدرکے تین ناول بھی منظر عام پر آ چکے تھے۔ پہلا ناول ’’میرے بھی صنم خانے‘‘ 1947 میں شائع ہو گیا تھا۔ دوسرا ناول ’’سفینۂ غم دل‘‘1951 میں شائع ہوا۔ 1959 میں ان کا شاہکار ناول ’’آگ کا دریا‘‘ منظر عام پر آیا۔ اسی ناول نے اردو میں ’شعور کی رو‘، کو ایک تخلیقی حربے کی صورت میں قائم کیا۔
’’شیشے کے گھر‘‘ میں قرۃ العین حیدر کے درج ذیل افسانے شامل ہیں جنھوں نے یہ طور افسانہ نگار ان کی اہمیت کا احساس کرایا…جب طوفان گزر چکا، سر راہے، آسماں بھی ہے ستم ایجاد کیا، میں نے لاکھوں کے بول سہے، برفباری سے پہلے، کیکٹس لینڈ، یہ داغ داغ اجالا، جہاں پھول کھلتے ہیں، دجلہ بہ دجلہ ، یم بہ یم، انت بھئے رت بسنت میرو، لندن لیٹر اور جلاوطن۔
ان افسانوں میں کچھ باتیں مشترک ہیں۔ ان میں کہیں نہ کہیں تقسیم ہند اور قیام پاکستان کا موضوع واضح یا پوشیدہ طور پر موجود ہے۔ یہ افسانے سماج کے عام لوگوں کے بجائے اعلیٰ طبقے کی زندگی سے متعلق ہیں۔ ان میں لکھنؤ، مسوری، نینی تال وغیرہ مقامات پر گزارے ہوئے لمحے بار بار سامنے آتے ہیں۔ بیشتر افسانوں میں خود افسانہ نگار بھی موجود ہے۔ کہیں ’’میں‘‘ کی شکل میں اور کہیں    قرۃ العین حیدر کی شکل میں (مثال کے طور پر لندن لیٹرـ ، میں) اور کہیں ایک فرضی نام کے پردے میں۔( مثلاً ’’میں نے لاکھوں کے بول سہے‘‘، میں نین تارا کی شکل میں )۔
قرۃ العین حیدر کے ادبی مزاج کی تخلیق میں کئی عوامل کار فرما رہے۔ باپ کی تربیت ، ماں کی تحریروںسے بچپن سے ہی تعارف اور انگریزی ادب کے مطالعے نے ان کو لکھنے کی طرف مائل کیا۔ ان کے زمانے کے کچھ اور اہلِ قلم مثلاً کرشن چندر، نیاز فتح پوری اور مجنوں گورکھپوری وغیرہ نے بھی ان کو متاثر کیا۔ ’’شیشے کے گھر‘‘ کے کئی افسانے اس رومانی لب و لہجے کی نشاندہی کرتے ہیں جو ان افسانہ نگاروں کے اثرات کے نتیجے میں پیدا ہوا۔ اس سلسلے میںجب طوفان گزر چکا، سر راہے آسماں بھی ہے ستم ایجاد کیا، میں نے لاکھوں کے بول سہے ،جہاں پھول کھلتے ہیں اور برف باری سے پہلے وغیرہ افسانے پیش کیے جا سکتے ہیں۔ ان میں بھر پور رومانیت ہے جو رفتہ رفتہ قرۃ العین حیدر کے افسانوں سے کم ہوتی گئی۔ شاید اس کی وجہ مغربی ادب کے اثرات رہے ہوں۔
’’لندن لیٹر‘‘ کا آغاز بڑے غیر روایتی انداز سے ہوا ہے بلکہ اسے ایک تجربہ قراردینا چاہیے۔ اس میں لندن سے لکھے گئے ایک خط سے قبل ایک طویل بلکہ خط کے برابر تمہید دیباچے کے عنوان سے شامل ہے۔ اس کے بعد خط درج کیا گیا ہے۔ دیباچے میںہلکے پھلکے انشائیہ نما انداز میں بیرون ممالک لکھے گئے پاکستانی /ہندوستانی نامہ نگاروں کے خطوں کی پیروڈی کر کے ان کی ذہنیت اور انداز فکر کی ایک جھلک پیش کی ہے۔
اس مجموعے کا ایک اہم افسانہ ’’جلا وطن‘‘ ہے جو لگ بھگ ساٹھ صفحات پر مشتمل ہے۔اس مجموعے کے زیادہ تر افسانے طویل ہیں۔ یہ افسانہ بنیادی طور پر اس مشترکہ تہذیب و ثقافت کا المیہ ہے جو قیام پاکستان اور تقسیم ہند سے پارہ پارہ ہو گیا۔ اس کے بیسوں کرداروں میں سے چار اہم ہیں کھیم  ( کھیم وتی رائے زادہ) اس کی سہیلی کشوری (کشور آرا بیگم) کھیم کے ماموں (ڈاکٹر آفتاب رائے) اور ان کی محبوبہ( کنول رانی)۔
افسانے کا ماحول یو.پی. کے کسی قصبے کا ہے اور دور 1947 کے کچھ قبل سے لے کر آزادی کے بعد تک کا احاطہ کرتا ہے۔ اس دور کے گنگا جمنی معاشرے کی تفصیل قرۃ العین حیدر اس طرح بیان کرتی ہیں:
’’ہندو مسلمانوں میں سماجی سطح پر کوئی واضح فرق نہ تھا خصوصاً دیہاتوں اور قصبہ جات میں عورتیں زیادہ تر ساڑیاں اور ڈھیلے پائجامے پہنتیں۔ میں بیاہی لڑکیاں ہندو اور مسلمان دونوں ساڑی کے بجائے کھڑے پائچوں کا پائجامہ پہنتیں۔ ہندوؤں کے یہاں اسے ’اجار ‘ کہا جاتا ۔ مشغلوں کی تقسیم بڑی دلچسپ تھی۔ پولس کا عملہ اسّی فیصد مسلمان تھا۔ محکمۂ تعلیم میں ان کی اتنی ہی کمی تھی۔ تجارت تو خیر مسلمان بھائی نے کبھی ڈھنگ سے کرنے نہ دی۔چند پیشے مگر خاص مسلمانوں کے تھے جن کے دم سے صوبے کی مشہور صنعتیں قائم تھیں۔ لیکن خدا کے فضل سے کچھ ایسا مضبوط نظام تھا کہ سارا منافع تو بازار تک پہنچاتے پہنچاتے مڈل مین ہی مارے جاتا اور جو بھائی کے پاس بچتا تھا اس میں قرضے چکانے تھے، بیٹا کا جہیز بنانا تھا اور ہزاروں قصے تھے۔ آپ جانیے۔‘‘
                                                [شیشے کے گھر ،ص۔409]
کسی افسانے کے درمیان ایسے طویل بیانات افسانے کی رفتار کو توڑتے اور اسے قصے اور پلاٹ سے دور لے جاتے ہیں لیکن قرۃ العین حیدر اسے کس طرح افسانے کا حصہ بنا لیتی ہیں یہ بھی قابلِ غور ہے۔ اس افسانے کا اختتام کرسمس کے جلوس پر ہوتا ہے جس کے دیکھنے کو سب لوگ راستے پر کھڑے ہیں۔ یہ چاروں بھی الگ الگ یہاں موجود ہیں۔ افسانے کی اختتامی سطریں اس طرح ہیں :
’’کنول رانی‘‘ —کسی نے اندھیرے میں یک لخت پہچان کر چپکے سے پکارا۔’’ یہاں آجاؤ‘‘ اور ہمارے ساتھ کھڑے ہو کر اس خوبصورت روشنی کو دیکھو جو آسمان پر پھیل رہی ہے۔ اب کسی پچھتاوے کسی افسوس کا وقت نہیں ہے۔‘‘
’’پرانے عہدنامے منسوخ ہوئے‘‘۔ کشوری نے آہستہ سے دہرایا۔ ’’ہم اس طرح زندہ نہ رہیں گے۔ ہم یوں اپنے آپ کو مرنے نہ دیں گے۔ ہماری جلاوطنی ختم ہوئی۔ ہمارے سامنے آج کی صبح ہے مستقبل ہے، ساری دنیا کی نئی تخلیق ہے لیکن کنول کماری تم اب بھی رو رہی ہو؟‘‘
یہ بات بھی ذہن نشیں رہنی چاہیے کہ خود قرۃ العین حیدر نے دس بارہ سال کا عرصہ پاکستان میں گزارا اور ان کے لیے یہ بھی ایک قسم کی جلاوطنی تھی۔ 1960 میں وہ ہندوستان واپس آ گئیں۔ 1964 میں ان کے افسانوں کا تیسرا مجموعہ ’’پت جھڑ کی آواز‘‘ کے نام سے آیا۔ اس مجموعے کے افسانے ’’شیشے کے گھر‘‘ کے افسانوں سے کئی اعتبار سے قدرے مختلف ہیں۔ ان میں وہ موضوعاتی اور ماحولیاتی یکسانیت نہیں ہے جو’’شیشے کے گھر‘‘ کے افسانوں میں دکھائی دیتی تھی۔ افسانوں کا حجم بھی نسبتاً کم ہے۔ کردار زیادہ Bold ہیں۔ سماجی حالات میں تبدیلی کی جھلک بھی ان افسانوں میں دکھائی دیتی ہے۔ اس کی مثال میں ’’پت جھڑکی آواز‘‘ کو پیش کیا جا سکتا ہے۔
اس کہانی کی مرکزی کردار تنویر فاطمہ آزادیٔ ہند اور قیام پاکستان کے دور کی ایک پڑھی لکھی  اچھے گھرانے کی لڑکی ہے جو طبعاً آزادہے۔وہ فیشن کی دلدادہ اور سماجی بندھنوں سے بیزار ہے۔ اس زمانے میں تعلیم کے باوجود بیشتر گھرانوں میں بے پردگی معیوب سمجھی جاتی تھی۔ اس کے باوجود اس افسانے کی ہیروئن بے باکی کے ساتھ بے پردہ گھومتی ہے اور لڑکوں کے ساتھ دوستی کرتی ہے۔ پہلے اس کی دوستی خوش وقت کے ساتھ ہوئی۔ جب وہ اس کے دوست فاروق سے ملی تو فاروق کے ساتھ وقت گزرنے لگا۔ پھر یہ سلسلہ فاروق کے دوست وقار تک پہنچا۔ یہ تعلقات صرف دوستی کی حد تک نہیں رہے بلکہ جنسی روابط تک بھی پہنچے اور وہ بغیرشادی کیے وقار کے ساتھ رہنے لگی۔ ملک کی تقسیم کے بعد وہ پاکستان میں وقار کے ساتھ رہ رہی تھی اور مطمئن تھی۔ افسانہ نگار نے یہ افسانہ صیغۂ واحد متکلم میں لکھا ہے جس کے مرکزی کردار میں وہ’’میں ‘‘کی شکل میں موجود ہے۔
تقسیم ہند اور قیام پاکستان کے بعد کے حالات اور تبدیلیوں کی جھلک ’’ہاؤسنگ سوسائٹی‘‘ میں بھی ملتی ہے۔ ڈاکٹر نگہت ریحانہ خان کے لفظوں میں :
’’ہاؤسنگ سوسائٹی‘‘ میں تقسیم سے پہلے کی ہندوستانی تہذیب اور تقسیم کے بعد کی پاکستانی تہذیب و معاشرت، جو افسانہ نگار نے اپنے تقریباً دس سالہ قیام کے دوران وہاں دیکھی تھی، اس کے مختلف پہلوؤں کو ان کے حقیقی رنگ میں ظاہر کیا ہے۔ اس افسانے میں نئی جہات کی نشاندہی ملتی ہے۔ اس کا ایک کردار جمشید نئے افکار و خیالات کا اظہار کرتا ہے اور اپنی قدیم تہذیب اور جاگیر دارانہ اقدار کو یکسر فراموش کر دیتا ہے۔‘‘
                                [اردو مختصر افسانہ: فنی و تکنیکی مطالعہ، ص۔203]
اس افسانے میں جمشید خود اپنے ضمیر کی موت کا اعلان کرتا ہے۔ وہ ایک خط میں سلمیٰ کو لکھتا ہے :
’’چھوٹی بٹیا، پرسوں رات میں نے بہت سے پوشیدہ ڈھانچے اپنی الماری میں سے نکالے، ان کو جھاڑا پوچھا اور انھیں الماری میں دوبارہ مقفل کر دیا۔ میں نے اپنی لاش کا خود پوسٹ مارٹم کیا اور اسے زندگی کے مردہ خانے میں برف کی سل کے تلے دبا دیا اور آج میں وہی جمشید ہوں جس سے آپ پچھلے چار مہینے سے واقف ہیں۔ آپ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ میں ایک انتہائی ذلیل، بے رحم، خود غرض، کمینہ اور مفاد پرست انسان ہوں جس کے لیے کسی قسم کی پرانی اقدار، شرافت، اصول پرستی وغیرہ کے تصورات لا یعنی ہو چکے ہیں۔‘‘
یہ صرف جمشید کی نہیں اس دور میں دولت کے حصول کو اپنا ایمان بنا لینے والے ہزاروں لوگوں کا اقبالی بیان ہے جنھوں نے اپنی تمام تہذیبی، روحانی اور انسانی اقدار کو اپنے ہاتھوں قعِر فراموشی میں دفن کر دیا تھا۔
قرۃ العین حیدر کے افسانوں کا چوتھا مجموعہ ’’روشنی کی رفتار‘‘ 1982 میں شائع ہوا۔ اس مجموعے میں کل اٹھارہ افسانے ہیں جن میں سے بیشتربہت مشہور ہوئے۔ ویسے زیادہ تر افسانے جن سے بحیثیت افسانہ نگار قرۃ العین حیدر کی پہچان قائم ہوئی ہے، اسی مجموعے میں شامل ہیں۔ مثال کے طور پر۔’’ آوارہ‘‘،’’ ملفوظات‘‘، ’’حاجی گل‘‘، ’’بابا بیکتا شی‘‘،’’فوٹو گرافر‘‘، ’’حسب نسب‘‘، ’’نظارہ درمیاںہے‘‘ ،’’ یہ غازی یہ تیرے پر اسرار بندے‘‘، ’’سینٹ فلور آف جارجیا کے اعتراف ‘‘،  ’’روشنی کی رفتار‘‘ وغیرہ۔
یہ تمام افسانے اپنی خاص انفرادیت رکھتے ہیں اور انھی سے قرۃ العین حیدر کا اسلوب متعین ہوا ہے۔ ’’ملفوظات‘‘، ’’حاجی گل‘‘، ’’بابا بیکتا شی‘‘ اور’’ سینٹ فلور آف جارجیا کے اعتراف‘‘ کے کردار ماضی سے عہد حاضر تک کا سفر کرتے ہیں۔ پھر اپنے اپنے زمانوں میں لوٹ جاتے ہیں۔ اسی عمل میں دونوں ادوار کا ایک تقابلی تجزیہ بھی سامنے آ جاتا ہے۔ کچھ چیزیں اسی تسلسل میں اب تک باقی ہیں۔ وقت بدل گیا ہے لیکن وقت کا کردار نہیں بدلا ہے یہ کیفیت ’’روشنی کی رفتار‘‘ میں اپنے عروج پر ہے۔ ان افسانوں میں افسانہ نگار نے زماں و مکاں کی حدود کو توڑنے کی کوشش کی ہے۔ ’’روشنی کی رفتار‘‘میں ایک افسانہ ’’فقیروں کی پہاڑی‘‘ ہے۔ اس افسانے میں ایک ایسی پہاڑی کا منظر پیش کیا گیا ہے جو زائرین اور فقیروں سے آباد ہے یہ منظر خود قرۃ العین حیدرکے الفاظ میں دیکھیے:
’’پہاڑی پر ہر وضع کا اپاہج موجود تھا، اندھے، لنگڑے، لولے، گنجے اور ایسے بھکاری اور بھکارنیںجن کے محض دھڑ ہی سالم تھے، چٹانوں پر آڑے ترچھے لیٹے صدا ئیں لگائیں رہے تھے۔ لمبے چونچ والے آنکھوں میں سرمہ لگائے، ہزار دانہ تسبیح پھراتے قلندر، مجذوب، بھنگ کے نشے میں مگن سادھو۔ فقیروں کی یہ عظیم الشان کامن ویلتھ یقینا لرزہ خیز اور حیرت انگیز تھی۔ یاتریوں کی قطاروں میں سندھی تاجر، اور جارجٹ نائلون کی ساڑیوں میں ملبوس ان کی خواتین، ٹرانسسٹر سنبھالے بانکے چھیلے لڑکے، بوہرے، خوجے، پارسی، گجراتی، مرہٹے، پنجابی ، ہندو اور مسلمان سب ہی رواں دواں ہانپتے کانپتے، بھکاریوں کے سامنے سکّے پھینکتے، چوٹی کی طرف چڑھنے میں منہمک تھے۔ ‘‘
                                                [روشنی کی رفتار، ص۔ 125]
مجموعی طور پر قرۃ العین حیدر کا افسانوی مزاج ثقالت پسند ہے۔ یہ کہنا تو شاید غلط ہوگا کہ وہ اپنے افسانوں کو قصداً بوجھل کرتی ہیں لیکن ان کے مطالعے کی وسعت اور حاصل شدہ ساری معلومات کو پیش کر دینے کی خواہش کے نتیجے کے طور پر ایسا غالباً غیر ارادی طور پر ہو جاتا ہے لیکن جہاں بھی انھوں نے اس پر قابو پا لیا ہے وہ افسانے شاہکار ہو گئے ہیں۔
قرۃ العین حیدر کے بیشتر کردار عموماً اونچے طبقوں کے ہوتے ہیں۔ اور ان کے ارد گرد وہ فضا ہوتی ہے جس سے ہر قاری مانوس نہیں ہوتا ،پڑھنے والوں کو ایک اجنبیت کا احساس ہوتا ہے۔ پھر بھی ہندوستان کی مٹتی ہوئی گنگا جمنی تہذیب کے پس منظر میں انھوں نے جتنے افسانے لکھے ہیں وہ باشعور قارئین کے دل کو چھو جاتے ہیں۔ ترقی پسندی ان پر کبھی حاوی نہیں ہوئی نہ ہی ترقی پسند ادیبوں نے کبھی ان کو قبول کیا لیکن ان کے افسانوں میں جہاں جہاں حالات کے شکار، وقت کے مارے اور سماجی جبریت سے ٹوٹے ہوئے لوگوں کا ذکر آتا ہے وہاں یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ افسانہ نگار نے دور سے ان کے حالات کی عکاسی نہیں کی ہے بلکہ ان کے دکھ میں شریک بھی ہے۔
در اصل قرۃ العین حیدر کا پورا افسانوی سرمایہ ایک مخصوص قسم کی انفرادیت کے زیر اثر ہے۔ یہ فکری اسلوب اور طرز بیان نہ ان سے قبل کسی کا تھا نہ ان کے بعد کسی نے اس کو اپنایا۔


پتہ:
Afsar kazmi
Flat No.6, M. Khan Colony
Azad Nagar,
Jamshedpur, Pin-83211
سہ ماہی ’ فکر و تحقیق، جنوری تا مارچ 2008


قرۃ العین حیدر— تخلیق اور نیا ویژن مضمون نگار: دیویندر اسرّ



قرۃ العین حیدر تخلیق اور نیا ویژن
دیویندر اسرّ
’’آخر کار وہ خوبصورت ویژن دکھلائی پڑتا ہے۔ ارے تم کدھر نکل آئے۔ زندگی کی طرف واپس جاؤ۔ انقلاب اور موت کی تندرو آندھیوں کے سامنے کمزور پتوں کی طرح بھاگتے ہوئے انسان ہماری طرف لوٹو... اس ویژن کی طرف۔‘‘
                                                          [قرۃ العین حیدر]
موجودہ دور میں انسان اقدار کے جس زوال اور تہذیب کے خلفشار سے گزر رہا ہے قرۃ العین حیدر کی تخلیقات نہ صرف فردوس گم گشتہ کی داستانیں رقم کرتی ہیں بلکہ جنت موعودہ کے ویژن کی طرف اشارہ بھی کرتی ہیں جس کے بغیر ہمارے عہد کا امکان روحانی خلا اور وجودی تنہائی میں معلق ہو کر رہ گیا ہے۔ وہ مسلسل یہ سوال اٹھاتی ہیں کہ کیا تبدیلی کے عمل، اس کے اجزائے ترکیبی، اس کی رفتار اور سمت کے ادراک کے بغیر یہ ممکن ہے کہ ہم گم شدہ جنت کو پھر سے حاصل کر سکیں۔ شاید یہی باعث ہے کہ  قرۃ العین حیدر کی تحریروں میں جلاوطنی اور بے گھری کچھ اس طرح حاوی ہے کہ ہم اس بات کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ وہ تہذیب کے زوال کی نوحہ خواں نہیں بلکہ تبدیلی کے عمل کو سمجھنے پر زور دے رہی ہیں۔ زیر نظر مضمون میں میں اس کٹھن ڈگر کی طرف توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں جس پر چل کر ہی ہم زندگی اور ویژن کی جانب لوٹ سکتے ہیں۔
تہذیب کا المیہ:
ہماری بے معنی ہونے کی جدید صورت حال انسان کی بنیادی اقدار کے زوال کے باعث پیدا ہوئی ہے۔ ہمارا اپنی قریبی دنیا سے کوئی ذاتی رشتہ نہیں رہ گیا۔ بقول زاہد حسن آج دنیا میری گرفت سے پھسل رہی ہے / میں ایک مسلسل روحانی عذاب میں مبتلا ہوں۔ تہذیب کا المیہ صرف یہ نہیں کہ جس تہذیب میں ہماری پرورش ہوئی ہے وہ اوراق پارینہ بن کر رہ گئی ہے بلکہ یہ ہے کہ وہ خواب بھی ختم ہو گئے ہیں جس کے بغیر نوعِ انسانی زندگی بخش ویژن سے محروم ہو گئی ہے۔’’ہاؤسنگ سوسائٹی ‘‘میں   جمشید بھائی سلمیٰ مرزا کو اپنے خط میں لکھتا ہے:
’’آپ کو معلوم ہو چکا ہوگا دنیا بڑی ذلیل جگہ ہے۔ میں بھی دنیا کا ایک فرد ہوں۔ آپ کے بھائی نے دنیا سے سمجھوتہ کرنے سے انکار کر دیا ہے اور اس کی سزا بھگت رہا ہے۔ مجھے یقین ہے اور امید ہے کہ بہت جلد اسے معلوم ہو جائے گا یا شاید معلوم ہو چکا ہو کہ اس کے تجزیے، اس کی انتہا پسندی اور آئیڈ یلزم قطعاً غلط ہیں۔ آپ نے اپنے حالات اور اپنی مجبوریوں کے تحت میرے ذریعے دنیا سے ایک حد تک سمجھوتہ کر لیا ہے۔ جس طرح ثریا نے میرے ذریعے دنیاسے سمجھوتہ کر کے سورج کے نیچے اپنی جگہ بنالی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ قطعی فیصلہ کرنے سے قبل اسے شدید ذہنی کشکمش کا سامنا کرنا پڑا ہوگا۔ مگر اسے معلوم ہو چکا ہے اور آپ بھی دیکھ چکی ہیں کہ آج کی دنیا ایک بہت عظیم الشان بلیک مارکیٹ ہے جس میں ذہنوں ، دماغوں، دلوں اور روحوں کی اعلیٰ پیمانے پر خرید و فروخت ہو گئی ہے۔ بڑے بڑے فن کار، دانشور، عینیت پسند، خدا پرست میں نے اس چور بازار میںبکتے دیکھے ہیں۔ میں خود ان کی خرید وفروخت کرتا ہوں‘‘۔
’’میں یہ سب باتیں اس لیے لکھ رہا ہوں کہ آپ ذہنی طور پر بڑی ہو جائیں۔ اور زندگی کی طرف سے کسی قسم کے مزید الوژن اور خوش فہمیاں آپ کے دل میں باقی نہ رہیں۔ ورنہ آپ کو مرتے دم تک مزید صدمے اٹھانے پڑیں گے۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ زندگی سے خوف زدہ ہونا چھوڑ دیں اور زندگی کے مکرو فریب اور ریاکاری اور کمینے پن کا الٹی ہتھیاروں سے مقابلہ کریں۔ دنیا میں زیادہ تر انسان جنگل کے درندے ہیں اور ہمیں جنگل کے قانون کا ساتھ دینا ہے۔ مجھے اچھی طرح معلوم تھا کہ آپ موجودہ ملازمت سے کس قدر دہشت زدہ تھیں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ زندگی کی دہشت پر جلد از جلد قابو پالیں۔‘‘
اس اقتباس پر مزید تبصرہ کی ضرورت نہیں۔ ان سطروںکو پڑھتے ہوئے مجھے اسّی سے زائد برس قبل شائع ہوتی ٹی.ایس.ایلیٹ کی طویل نظم ’’دی ویسٹ لینڈ‘‘ کی یاد آ رہی ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم بھی تہذیب کی بنجر زمین میں داخل ہو چکے ہیں یا ہو رہے ہیں۔ مستقبل کے بارے میں کوئی پیشین گوئی نہیں کی جا سکتی لیکن زاہد حسن کی نظم کے اگلے حصے کو دہرایا جا سکتا ہے۔
 ’’سوچتا ہوں/جس سیارے کی جانب سفر کر رہا ہوں / اس کے آگے دھند، دھوئیں اور غبار کا ایک دبینر پردہ پڑا ہوا ہے۔‘‘

جلاوطنی کا المیہ :
’’پھر اس نے کہا :دراصل سیتا میر چندانی تم مجھے بے حدغیر جذباتی سمجھتی ہو۔ مگر جلاوطنی کا مسئلہ مجھے بھی بے حد پریشان کر تا ہے۔ مغربی برلن میں، ہانگ کانگ میں ہر جگہ میں نے پناہ گزینوں کو دیکھا ہے۔ امریکن شہروں میں، مشرقی یوروپ سے بھاگتے ہوئے لوگوں سے ملا ہوں۔ جارڈن میں میں نے فلسطین کے مہاجروں کی حالت دیکھی ہے۔ اور کہیں جو بات بات پر تم سے الجھتا ہوں اور تمھاری ہر بات مذاق میں ٹالنا چاہتا ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم ایک ایسے دور میں زندہ ہیں جس میں چالیس کروڑ انسانوں کی نفسیات یکسر بدل گئی ہے۔ ان کے خیالات، نظریے، جذبات ، ردعمل…‘‘
                                                     [سیتا ہرن، میں عرفان]
’’آفتاب بہادر تم کو پتہ ہے کہ میری کیسی جلاوطنی کی زندگی ہے۔ ذہنی طمانیت اور مکمل مسرت کی دنیا جو ہو سکتی ہے اس سے دیس نکالا جو مجھے ملا ہے اسے بھی اتنا عرصہ ہو گیا ہے کہ اب کہیں اپنے متعلق سوچ ہی نہیں سکتی۔‘‘
                                                 [جلاوطن ،میں کنول کماری]
جلاوطنی محض زمین سے نہیں ہوتی ذہن سے بھی ہوتی ہے۔ قرۃ العین حیدر کی تحریریں ہمیںاس زمینی اور ذہنی جلاوطنی سے آشنا کرتی ہیں جو عہدِ حاضر کے امکان کی مشیت بن چکی ہیں۔ ٹکراؤ محض ملکی اور غیر ملکی تہذیبوں کے مابین ہی نہیں ہوتا بلکہ ایک ہی ملک میں دو مختلف تہذیبوں یا ایک ہی تہذیب کے تغیر میں بھی ہوتا ہے۔
تہذیب جب بدلتی ہے تو اقدار بھی بدل جاتی ہیں اور انسان کے ذہن میں تلاطم برپا ہو جاتا ہے۔ قرۃ العین حیدر نے حقیقت کے ادراک کو یکسر بدل دیا ہے جس کے باعث ترقی پسند حقیقت نگاری بے معنی ہو کر رہ گئی ہے۔ انھوں نے حقیقت کے تصور کو نئے معنی اور سیاق و سباق عطا کیے ہیں۔ شاید انھوں نے وقت کا نیا تصور پیش کیا ہے۔ اسی لیے ہمیں ماضی، روایت ،تاریخ، جڑوں کی تلاش اور تشخص کے مسائل پر نئے انداز سے سوچنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے :
’’وقت کے پیٹرن میں طلعت جہان بیٹھی تھی وہی طلعت اسی پیٹرن میں ایک جگہ اور موجود تھی اور دونوں لفظوں کے درمیان برسوں کا فاصلہ تھا۔ اوہ اس فاصلہ پر انسان صرف آگے کی طرف چل سکتا ہے، آگے اور آگے۔ پیچھے جانا ممکن نہ تھا، گوہزاروں طلعتیں ان گنت ٹکڑوں میں ایک ہی چہرے کے مختلف عکس نظر آتے ہیں۔‘‘
                                                            [آگ کا دریا]
انسانوں کے مابین فاصلے کتنے بھی بڑھتے جائیں، لیکن زندگی کے ہر موڑ پر ایک طلعت بیٹھی ہوئی مل جائے گی، کیا ہم ایک ہی چہرے کے مختلف عکس نہیں۔ اس سوال کا جواب ہی انسان کے مستقبل کی ضمانت ہے۔
یادیں:
یہ صحیح ہے کہ ماضی کے مرگھٹ پر مستقبل کی تعمیر نہیں ہو سکتی۔ تسلسل اور تواتر تاریخ کا ہی نہیں زندگی کا بھی مسئلہ ہے۔ کبھی میلان کند یرانے کہا تھا کہ جبر کے خلاف جد و جہد در حقیقت یادوں کے فنا کے خلاف جہاد ہے۔ ایک فسطائی نظام کی سب سے بڑے خواہش یہ ہوتی ہے کہ وہ کس طرح انسان کی یادوں کو مٹا دے۔ کیونکہ اسے مٹا کر ہی وہ اپنے فریب و مکر کے جال کو پھیلا سکتا ہے ۔قرۃ العین حیدر کی تخلیقات قارئین کو اجتماعی نسیان کے خطرے سے مسلسل آگاہ کرتی رہتی ہیں۔ شاید اسی لیے انھوں نے گھر اور وطن کے تصور پر گہرائی سے غور کیا ہے۔ وہ بار بار نوعِ انسانی کے اجتماعی لاشعور کی جانب لوٹتی ہیں، ازلی      گھر کی جانب: 
’’یہ ہندوستان کیا تھا اس کا شعوری طور پر اس نے کبھی تجزیہ نہیں کیا۔ بچپن سے وہ ہندوستان کا عادی تھا جہاں اس کے پر کھے آٹھ سو سال سے پیدا ہوتے آئے تھے۔ ہندوستان بستی ضلع کا وہ مٹھ تھا جہاں میں اپنے بابا کے ساتھ گیا تھا۔ ہندوستان اٹاوہ کی کائی آلودہ درگاہ تھی… ہندوستان قدیر ڈرائیور کی ماں تھی، ہندوستان بوڑھا حاجی بشارت حسین خانساماں تھا… یہ ماتا کے سامنے ہاتھ جوڑنے والا مسلمان بوڑھا ہندوستان تھا، اس کے علاوہ اس کی ماں اور خالائیں اور گھر کی دوسری بیبیاں ہندوستان تھیں۔ ان کی آپس کی بول چال، محاورے، گیت، رسمیں اور پرانی کہانیاںجو مغلانیاںسناتی تھیں... ہندو پرانوں اور دیو مالا کے قصے، مسلمان اولیا کے قصے... یہ سب کمال کی ذہنی بیک گراؤنڈ تھی۔‘‘
                                                           [آگ کا دریا]
لیکن جوں جوں نئی نسلیں جوان ہوتی جائیں گی، ہندوستان کا تصور مٹتا چلا جائے گا۔ آگ کا دریا میں کمال اپنے بابا سے پوچھتا ہے:’’کربلا ہجرت کی جیے گا یا پا کستان؟ میں یہیں رہوں گا۔ انھوں نے اطمینان سے جواب دیا۔‘‘ اس پر کمال کا یہ رد عمل: ’’... میں اپنے والد کا نقطۂ نظر سمجھتا ہوں۔ مجھے صرف اس کا افسوس ہے کہ اس سر زمین میں ان کی جڑیں اتنی گہری ہیں کہ ترک وطن کر کے سندھ اور بلوچستان کو اپنا ملک کیسے سمجھیں؟ بابا بوڑھے آدمی ہیں۔‘‘
تقسیم کا المیہ :
تقسیم کے المیے اور انسان کے بکھراؤ، ذہنی اور زمینی کے بارے میں نہ جانے کتنی کہانیاں اور ناول لکھے گئے ہیں لیکن جو مقبولیت ’’آگ کا دریا‘‘ کو ملی شاید ہی کسی دوسرے ناول کو ملی ہو :
’’سات دنوں میں صدیوں کا سفر ختم ہو گیا۔ ہندوستان کا تصور بکھر گیا۔ اگر بکھراؤ کی مختلف صورتوں کو کسی ایک تاریخی سانحے کے حوالے سے دیکھنا ہو تو وہ ہے تقسیم……
یہ تقسیم شدہ دنیا ہے۔ ملک ، انسان، نظریے، روحیں، ایمان، ضمیر، ہر شے تلواروں سے کاٹ کاٹ کر تقسیم کر دی گئی ہے۔ یہاں ہر طرف سرحدیں ہیں۔ تقسیم شدہ دنیا میں ہم ایک دوسرے سے سرحدوں پر ہی مل سکتے ہیں۔‘‘
                                        [’’آگ کا دریا‘‘، گو تم روشن آرا سے]
’’افسانہ ’’جلاوطن ‘‘میں کشوری کے یہ الفاظ ہمیں اکثر یاد آتے ہیں۔’’ہم اپنے بد قسمت ملک کی وہ نوجوان نسل ہیں جو یوروپ کی جنگ اور اپنے سیاسی انتشار کے زمانے میں پروان چڑھی۔ اسی خانہ جنگی کے دور نے اس کی ذہنی تربیت کی اور اب اس ہولناک سرد لڑائی کے محاذ پر اسے اپنے اور دنیا کے مستقبل کا تعین کرنا ہے۔‘‘
ہومی بھا بھا نے اپنی کتاب ’’دی لوکیشن آف کلچر ‘‘میں اس حقیقت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے ... ہم ان لوگوں میں سے بہتوںنے تاریخ کی سزا بھگتی ہے۔ غلامی، غلبہ، بکھراؤ (Diaspora) بے مکانی، زندہ رہتے اور سوچنے کے دیر پا سبق سیکھتے ہیں۔‘‘
قرۃ العین حیدر کی تحریر یں ہمیں یہ سبق بار بار از بر کراتی ہیں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ جو لوگ ان کی تحریریں پڑھتے ہیں وہ بھی شاید یہ ’دیرپا سبق‘ نہیں سیکھتے۔ ہم اس امر کو فراموش کر دیتے ہیں کہ ہم سب اپنے ماحول، اپنے ماضی، اپنے تہذیبی ورثے، یادوں اور اجتماعی لاشعور کے پالے ہوئے ہیں۔ ہمارا کردار اور ہماری شخصیت، ایک سنجیدہ جامد ٹھہرا ہوا، لمحہ یا نقطہ نہیں بلکہ مسلسل رواں دواں ندی ہے جس پر پل باندھنے کی ضرورت ہے تاکہ جو کشتیاں موجود بھی ہیں ان کو جلانے کی۔ گم شدہ یادوں، نا آسودہ حسرتوں، ناکام تمناؤں، شکستہ آرزوؤں اور پامال امیدوں کے مرگھٹ سے پرے، ذاتی محرومیوں اور اجتماعی شکست و ریخت سے گزرتے ہوئے ہمیں گردش رنگ چمن کا شعور حاصل کرنا ہوگا اور سننی ہوگی پت جھڑ کی آواز ...
                                             [گردش رنگ چمن، پت جھڑ کی آواز]
میں نے اپنے کالج کے زمانے میں قرۃ العین حیدر کی کتاب’’ ستاروں سے آگے‘‘ پڑھی تھی اور تمام ترقی پسند نوجوانوں کی مانند اسے بالائی طبقے کی ایک بگڑی ہوئی لڑکی کے افسانے سمجھ کر رد کر دیا تھا لیکن ہمیں کیا معلوم تھا کہ یہ پوم پوم ڈارلنگ ایک دن ہمیں’’ آگ کا دریا ‘‘میں ڈوب کے جانے کے لیے مجبور کر دے گی۔ کبھی آسولڈ اشپنگلر، نے مغرب کے زوال کی خبر دی تھی اور کہا تھا :
’’ہر تہذیب کی زندگی میں ایک ایسا مقام آتا ہے جب اس کے اندر کی سب چیزیں ٹوٹنے لگتی ہیں۔ داخلی نشو و نما بند ہو جاتی ہے اور تہذیب کے تحفظ کے لیے خارجی ترقی ہی ایک راستہ رہ جاتا ہے۔‘‘
جب فرانز کا فکا نے اپنا ناول ’’دی ٹرائسل‘‘ اپنے دوستوں کو پڑھ کر سنایا تو وہ ہنس دیے تھے۔ آج بھی شاید کچھ لوگوں کو قرۃ العین حیدر کی صوفیوں کی پیروی ایک پسماندہ سوچ نظر آئے لیکن ہمیں اس عہد کے ان لوگوں کی بات بھی سننی پڑے گی جو روحانیت کو ایک پسماندہ فکر نہیں سمجھتے۔ مغرب میں بھی وہ لوگ جو ٹیکنا لوجی کو یکسر ترک نہیں کر سکتے اب اسے روحانی تجربے کے دائرے میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔’’بدھ ایشور کا اوتار، ڈجی ٹل کمپیوٹر کے سرکٹس یا سائیکل ٹرانس میشن کے گیرز میں اتنے ہی آرام سے بسیرا کرتا ہے جتنے آرام سے وہ کسی پربت یا کسی پھول کی پتیوں پر بسیرا کرتا ہے۔‘‘ Rohat Pirzigi Zen and the Art of Motor Cycle Maintenance (1934) سعادت حسن منٹو جیسے حقیقت نگار نے بھی یہ محسوس کیا: ’’روحانیت یقینا ‘‘ کوئی چیز ہے... انسان کا جو مرتبہ ہے اگر ان کو ذہن نشین ہو جائے گا تو میں سمجھتا ہوں اپنی لغزشوں سے آگاہ ہو جائیں گے اور روحانی غسل سے شفایاب ہو ں گے۔‘‘اس لیے خارجی ترقی ہی انسان کے تحفظ کا ایک ہی راستہ نہیں ہے، راستے اور بھی ہیں۔
آخر میں
قرۃ العین حیدر نے ہمارے سامنے اتنے را ستے وا کر دیے ہیں کہ کئی بار ہمیں سوچنا پڑتا ہے کہ کس راستے پر چل کر ہم منزلِ مقصود پر پہنچ سکتے ہیں۔ شاید یہ ہماری وجود ی مشیت ہے— انتخاب کی آزادی اور ذمے داری اور آزادی کا بوجھ۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس کے بغیر انسان عہدِ حاضر کی رزمِ خیرو شر کے روبرو کامیاب ہو کر سرخرو ہو سکتا ہے۔ شاید اس کے لیے اس ویژن کی ضرورت ہے جس کی جانب قرۃ العین حیدر کی تخلیقات اشارہ کرتی ہیں اور جس کی جانب ہمیں لوٹنا ہوگا۔

پتہ:
دیویندر اسرّ
B-3/153, janakpuri
New Delhi - 110058

سہ ماہی ’ فکر و تحقیق، جنوری تا مارچ 2008

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...