یہ گفتارِ رندِ خود آگاہ ہے مضمون نگار: مخمور سعیدی




یہ گفتارِ رندِ خود آگاہ ہے
مخمور سعیدی
ہر زبان کی طرح اردو زبان بھی اس تہذیب و تمدن کی ترجمان رہی ہے جس نے اسے جنم دیا اور اس کی پرورش کی۔ اپنے بچپن میں یہ ان گلی کوچوں میں کھیلی جہاں مختلف نسلوں کے مختلف المزاج اور مختلف المذاق لوگوں کے یکجا ہو جانے سے کسی میلے جیسی چہل پہل کا سماں تھا۔ یہ سماجی چہل پہل ایک نئی تمدنی اور تہذیبی فضا کی تشکیل کا پیش خیمہ تھی اور اس رنگا رنگ فضا کو اپنے اظہار و اعلان کا نیا وسیلہ درکار تھا جو اردو کی صورت میں سامنے آیا۔ اردو نے اپنی ہموطن زبانوں کے علاوہ اپنی سر زمین پر کچھ نوواردبیرونی زبانوں مثلاً عربی، فارسی اور ترکی کو بھی غیر نہیں سمجھا اور ان سے بے رخی نہیں برتی۔ نتیجتاً انھوں نے بھی اسے گلے لگا لینے میں کچھ مضائقہ نہ جانا۔ اسی ماحول میں اردو سنِ شعور کو پہنچی اور ایک ایسی خوبصورت زبان کا روپ اختیار کیا کہ شیخ و برہمن ہوں، خواص ہوں یا عوام سبھی اس کی زلفِ گرہ گیر کے اسیر ہوئے ۔
یوں تو اردو شاعری کی بیشتر اصناف عربی اور فارسی کی اصنافِ سخن سے مستعار ہیں، الفاظ اور مضامین کا بڑا ذخیرہ بھی وہیں سے آیا ہے مگر اردو میں آکر ان پر مقامی رنگ چڑھ گیا اور ان کے اندر وہ شے حلول کر گئی جسے ہم ہندوستانیت کا نام دیتے ہیں۔ اردو میں کچھ ایسی شعری ہیئتوں نے بھی رواج پایا جو عربی یا فارسی میں نہیں تھیں۔ مثلاً گیت اور دوہا ہندی سے آئے؛ ماہیا پنجابی کی ودیعت ہے، نظم معرٰی ، نظم آزاد اور سانیٹ انگریزی کی دین ہیں۔ یہ سبھی تحفے اردو نے اپنی شرائط پر قبول کیے ہیں اور اس طرح اپنے چمن کی زینت ایسے گلہائے رنگ رنگ سے کی ہے جو اس کی خوش منظری کے ضامن بن گئے ہیں۔
اردو شاعری ابتدا سے مختلف النوع اعتقادات اور نظریات کی ترجمان رہی ہے لیکن اس کا غالب رجحان معاملاتِ حسن و عشق کی ترجمانی رہا ہے۔ یہ معاملات ایک خاص منزل پر پہنچ کر روحانی کیفیات کے حامل ہو جاتے ہیں جنھیں اصطلاحاً متصوفانہ کیفیات کا نام بھی دیا گیا ہے چنانچہ اردو میں متصوفانہ خیالات و احساسات کا اظہار بھی کم و بیش ہر شاعر کے کلام میں نظر آتا ہے، کہیں کم کہیں زیادہ۔ میرؔاور غالب ؔ عملاً صوفی نہیں تھے لیکن ان کے ہاں ایسے اشعار خاصی تعداد میں موجود ہیں جن کی متصوفانہ تعبیر و تشریح بہ آسانی ممکن ہے۔ خواجہ میر درد کے کلام کا تو یہ غالب رنگ ہے۔ اقبال تصوف کے قائل نہیں تھے کہ ان کے خیال میں اس سے ان کے نظریۂ خودی کی نفی ہوتی تھی لیکن کیا کوئی وثوق سے کہہ سکتا ہے کہ ان کا پورا کلام اس سے یکسر مبرّا ہے؟ غالباً نہیں۔
یہ تمہید میں نے اس لیے باندھی کہ جناب رند اکبر آبادی کے کلام کا مطالعہ کرتے ہوئے مجھے اردو شاعری بالخصوص اردو غزل کی اس زندہ اور مستحکم روایت کی موجودگی ہی کا خوشگوار احساس نہیں ہوا جو ہماری ہزار سالہ گنگا جمنی تہذیب کی پروردہ ہے بلکہ اس کی توسیع کے بھی مثبت امکانات نظر آئے۔ روایت جڑ کی طرح ہے جس سے رشتہ استوار رکھے بغیر جدت کا پودا پنپ نہیں سکتا۔ ہر اچھا شاعر اپنی شعری روایت سے نہ صرف باخبر ہوتا ہے بلکہ اس کا پارکھ بھی ہوتا ہے اور یہ باخبری اور پرکھ اس کی شاعرانہ شخصیت کو بنانے سنوارنے اور اس کی شعری حسیّت کو ابھارنے اور نکھارنے میں معاون ہوتی ہے۔
رندؔ صاحب کو شعر گوئی کا ذوق ورثے میں ملا ہے، ان کے والد مرحوم خلد آشیانی میکش اکبر آبادی کے شاعرانہ کمالات اور علمی اکتسابات سے دنیا واقف ہے۔ میکش صاحب راہِ تصوف کے سالک بھی تھے۔ گویا رند صاحب کو ان سے شاعری کا ورثہ ہی نہیں پہنچا،متصوفانہ وجدان بھی ملا۔ پھر ان کی مزید خوش بختی کہ انھیں اس عہد کے ایک صاحب ِ حال و قال صوفی اور بلند رتبہ شاعر حضرت نصیر میاں صاحب بریلوی کی قربت اور شفقت نصیب ہوئی۔ نصیر میاں صاحب کی ذات ِبا برکات میں جو صفات یکجا ہو گئی ہیں، ان کا اندازہ کچھ وہی لوگ کر سکتے ہیں جنھیں حضرت کی قد م بوسی کا شرف حاصل ہوا ہے۔
رندؔ اکبر آبادی صاحب اپنی شعری روایت ہی نہیں، تہذیبی اقدار کے بھی عارف ہیں۔ عارف کا لفظ میرے قلم سے یوں ہی نہیں نکل گیا ہے۔ رند صاحب کا ہر شعر وہ رنگ و بولیے ہوئے ہے جس سے عرفانِ ذات و کائنات کی وادیاں بہاروں کا گہوارہ اور جنتِ نظارہ بن جایا کرتی ہیں۔ حقیقت میں رنگِ مجاز کی نمود اور رنگِ مجاز سے حقیقت کا ظہور، مجھے رند صاحب کے کلام کا امتیازی وصف نظر آیا۔
رند صاحب کے اشعار میں کیف واثر نجی تجربے کی اس گرمی نے پیداکیا ہے جس سے ان کا کوئی شعر خالی نہیں۔ رسمی اور مستعار مضامین سے انھوں نے غالباً شعوری طور پر اجتناب برتا ہے یا پھر ان کی افتادِ مزاج ہی کچھ ایسی ہے کہ برتی ہوئی چیزوں کو قبول نہیں کرتی۔ اپنی تہذیبی اور شعری روایت سے مکمل آگہی لیکن اپنے جذبات و احساسات کو شعری پیکر میں ڈھالتے ہوئے اس جدت و ندرت کی تلاش، خود اپنی طبیعت جس کی جو یا ہو، رند صاحب کی وہ خصوصیت ہے جس نے ان کے کلام کو ایسی انفرادیت بخشی ہے جو اجنبیت سے مبرّاہے ۔ان کے اکثر اشعار پڑھتے ہوئے پہلا تاثر یہ ہوتا ہے کہ یہ تو سامنے کا مضمون ہے لیکن دوسرے ہی لمحے شعر کی مختلف معنوی جہتیں اپنی طرف متوجہ کر لیتی ہیں اور شاعر کے معجزۂ فن کی نمود ہونے لگتی ہے۔
رند صاحب کو غزل سے خصوصی شغف ہے اور زیرِ نظر مجموعہ غزلوں ہی پر مشتمل ہے۔ اہل ِ فکر و فن جانتے ہیں کہ غزل بڑی کا فر صنفِ سخن ہے، اسے اپنا ہمراز و دمساز بنانے کے لیے بڑی ریاضتیں کرنی پڑتی ہیں ۔ رند صاحب نے اس کا فر صنفِ سخن کو جس طرح رام کیا ہے اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ انھوں نے کتنے دن اس کے کوچے کی خاک چھانی ہوگی اور کتنی راتیں اس کے نام کا وظیفہ پڑھتے گزار دی ہوں گی۔
یوں تو رند صاحب کی ہر غزل دلکش اور ان کا ہر شعر ایک کیفیت کا حامل ہے گویا اس مجموعے کے ہر ورق کو ورقِ انتخاب کہا جا سکتا ہے لیکن جی چاہتا ہے یہاں ان کے چند شعر نقل کروں جن کے سحرنے دیر تک میرے دل و دماغ کو مسحور رکھا ، کیا عجب انھیں پڑھتے ہوئے آپ پر بھی کوئی دیر پا کیفیت طاری ہو:
آتے آتے آئے گا لطفِ حیات
درد ہی کتنا پرانا ہے ابھی
آؤ ہم دونوں چلیں اس راہ پر
متفق جس پر زمانہ ہے ابھی
یوں سجا کر جا رہا ہوں بام و در
جیسے جا کر لوٹ آنا ہے ابھی
٭
ان سے ہے امّید وابستہ ابھی
جُھٹ پُٹے میں دھوپ ہے زندہ ابھی
سب بھلا دینے پہ بھی یادش بخیر
پھانس سی ہے دل میں پیوستہ ابھی
٭
جاننا چاہتا ہوں حدِّ ادب
آپ سے کتنا فاصلہ رکّھوں
٭
کرم خوردہ سی لگے ہے مجھے اب دل کی کتاب
آؤ، لے جاؤ اسے دھوپ دکھانے کے لیے
ایک بھی لمحۂ بے فکر نہیں قسمت میں
غم بھی کافی نہ ہوئے ذہن بٹانے کے لیے
٭
پونچھ گردِ سفر نہ چہرے سے
یہ کمائی تو عمر بھر کی ہے
اتنا واضح نہ تھا کوئی منظر
روشنی یہ مری نظر کی ہے
٭
یہ بھی ہو سکتا ہے نہ آئیں
کہہ تو گئے تھے آنے کو
٭
دل کھنچا جاتا ہے آواز کے ساتھ
دیکھنا کون صدا دیتا ہے
٭
ہے غضب عشق کا پہلا ہی قدم
وہ بہکتے ہی گئے جو بہکے
٭
ہے نیند سی آنکھوں میں کہ اب آخر شب ہے
جاگے ہیں بہت ایک دل آزار کی خاطر
٭
مطمئن کیوں ہمیں سمجھ بیٹھے
شکر تو بر بنائے عادت ہے
٭
مخلصانِ غم کا کیسا قحط ہے
ان کو ہم جیسے بھی یاد آنے لگے
٭
ایک حد تک غم سے دل بہلا کیا
پھر طبیعت غم سے گھبرانے لگی
غیرارادی طور پر میں کچھ زیادہ ہی اشعار نقل کر گیا، سچ تو یہ ہے کہ جب کتاب آپ کے ہاتھوں میں ہوگی تو اپنی پسند کے اشعار پر بے اختیارانہ خود آپ کی نظر رکے گی اور ہر صفحے پر آپ نظر کی اس بے اختیاری پر سرِ تسلیم خم کریں گے۔

مخمور سعیدی 
دہلی
11؍ستمبر ، 2007

سہ ماہی ’ فکر و تحقیق، جنوری تا مارچ 2008

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں