23/1/18

مضمون۔ اتساہتِ بیکل از امتیاز رومی


اتساہتِ بیکل
اتساہ سے لبریز بیکل نے جب ’نغمہ و ترنم‘ کا راگ الاپا اورکومل مکھڑے نے بیکل گیت سنائے تب گاؤں کے باسیوں کو یقین ہوگیا کہ ”اپنی دھرتی چاند کا درپن“ ہے۔ ’لہکے بگیا مہکے گیت‘کے ذریعے انھوں نے ہندی میں ’وجے بگل‘ بجایا۔ ”مٹی، ریت اور چٹان‘ سے اپنی شاعری کا خمیر تیار کرنے والے بیکل نے ’رنگ ہزاروں خوشبو ایک ‘سے اردو شاعری کو معطر کردیا۔ جب ’پروائیاں‘ چلیں تو اس کی سوندھی سوندھی خوشبوکھیتوں اورکھلیانوں میں تحلیل ہوکر ’موتی اگے دھان کے کھیت‘کی صورت میں دیہات کو نایاب تحفہ دے گئی۔توشۂ عقبیٰ، تحفۂ بطحا، نغمۂ بیکل، موجِ تسنیم، جام ِگل، نشاط ِزندگی اور نور کی برکھا وغیرہ ان کے اخروی سرمائے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ بیکل نے دین و دنیا میں بیک وقت سرخروئی حاصل کی۔ تاہم ان کی بد نصیبی یہ رہی کہ ان کے جیتے جی ناقدین نے ان پر توجہ نہ دی۔ نیز وہ اس کے خواہاں بھی نہیں رہے۔  نام ونمود اور ادبی سیاست سے کوسوں دور رہے۔ ”میں توایک کسان ہوں۔ محنت اور لگن سے ادب کی دھرتی پر کشت قلم سے شعری فصل اگاتارہاہوں،یہ کبھی بھی نہیں سوچاکہ بازار ِنقد وتبصرہ میں کس بھاؤ میری گاڑھی کمائی جائے گی“1 خیر غالب جیسا عظیم شاعر بھی اپنی زندگی میں اس سے محروم رہا۔  لمبے عرصے تک نظیر اکبرآبادی کو تو قابل التفات ہی نہیں گرداناگیالیکن جب وقت کا غبار ہٹا تو یہ دونوں شاعری کی دنیا  میں موضوعاتی واسلوبیاتی سرخیل ٹھہرے۔

لودھی محمد شفیع خان 1928 کو  رمواپور، اترولہ تحصیل ضلع بلرام پورکے ایک زمین دار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام لودھی محمد جعفرخان اوروالدہ کابسم اللہ بی بی تھا۔ بچپن سے ہی شعر وشاعری سے شغف تھا۔ سوشلسٹ تحریک سے جڑنے کی پاداش میں انھیں جیل بھی جانا پڑا۔ محمد شفیع خان 1945 میں جب وارث پیا کی درگاہ  دیوا  گئے توشاہ حافظ پیارے میاں نے کہا ”بیدم گیا بیکل آیا“ اسی وقت سے انھوں نے خود کو بیکل وارثی سے موسوم کرلیا۔  1952کوگونڈہ میں ایک انتخابی پروگرام ہوا جس میں جواہر لعل نہرونے شرکت کی تھی۔ اس موقع پر بیکل وارثی نے اپنی نظم ’کسان بھارت کا‘ پیش کی تو نہرو جی نے کہا ”یہ ہمارا اتساہی شاعر ہے“۔ اس کے بعد سے ہی وہ بیکل ’اتساہی‘ ہوگئے۔ نہروجی کا کہاصد فی صد صحیح نکلا۔ ملک و ملت کے تئیں جو ان کا اتساہ اور جذبہ تھا ،وہ مرتے دم تک قائم رہا۔1976 میں بیکل اتساہی پدم شری ہوگئے۔  1986 میں کانگریس نے ان کی خدمات کودیکھتے ہوئے انھیں راجیہ سبھا کی رکنیت دی۔  2015 میں انھیں یوپی کے سب سے بڑےایوارڈ ’یش بھارتی‘سے نوازاگیا۔ 3؍دسمبر 2016 کو بیکل اتساہی نے سب کو بیکل چھوڑدیا۔

 بیکل ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔گنگاجمنی تہذیب کے روشن مینار تھے۔ وضع قطع میں صوفی مشرب اور حافظ ملت کے مرید خاص تھے۔ مذہب ومسلک کی سرحد سے بے نیاز ہندستانی تہذیب وثقافت اور ہم آہنگی کے حسین سنگم تھے۔ ان کا مزاج قلندرانہ تھا۔ دوستی سب سے تھی مگر بیر کسی سے نہ تھا۔ زمین دار گھرانے سے تعلق ہونے کے باوجود مزدوروں اورکسانوں سے حد درجہ لگاؤ تھا۔ درد مند دل سوز وگداز سے پر تھا۔ اردو کے دو عظیم شاعر اصغر گونڈوی اور جگر مرادآبادی سے گہری وابستگی تھی۔ ان کی صحبت نے ان کے فکر وفن کو جلا ضرور بخشی تاہم تقلید سے محفوظ رہے۔ آٹھویں جماعت سے  ہی جگر اور اصغرکی صحبت میسر تھی۔ 1944 میں انھوں نے اپنا پہلا کلام اصغر گونڈوی کو سنایا جس کا مطلع تھا:
نظاروں کے لیے ویرانہ جب آباد ہوتاہے                      جنوں میں اشتیاق دید بے بنیاد ہوتا ہے

بیکل اتساہی قدیم روایات کے امین اورجدید اقدار کے حامل تھے۔ تقریباً سات دہائی تک آسمانِ شعر وسخن پر جلوہ فگن رہے۔  اس دوران بے شمار غزلیں، نظمیں، نعتیں، دوہے اور گیتیں کہیں۔ ایک درجن سے زائد ان کے شعری مجموعے شائع ہوئے۔ انھوں نے اپنی طویل عمر میں اردو کی تین بڑی تحریکات ورجحانات کے وجودو عدم کو دیکھا۔ ان کے سامنے بہت سی تحریکیں عدم کو سدھار گئیں لیکن اس کے باوجود انھوں نے خود کو ان سے وابستہ کیا اور نہ ہی متاثر ہوئے۔ البتہ استفادہ ضرور کیا۔ بیکل کے ذہن وفکر نے ہمیشہ اردو کا راگ الاپا۔ اپنی شاعری کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں اس کی عظمت رفتہ بحال کرنے کی کوشش کی۔ جنگ آزادی اور قومی یک جہتی میں اردو کی شراکت کوواضح کیا:
گھرا طوفان میں جب بھی وطن، آوازدی میں نے                           ہوئی انسانیت جب بے کفن، آواز دی میں نے
میں اردو ہوں، مجھی سے عظمت فصل بہاراں ہے                            خزاں نے رخ کیا سوئے چمن، آوازدی میں نے

بیکل کے شعری سفر کے ہونٹوں پربے پناہ تجربوں کاتبسم اور کڑواہٹ نظر آتی ہے۔ چونکہ انھوں نے غلامی کی زندگی، آزادی کی جد وجہد اورپھر آزاد ہندوستان کوبہت قریب سے دیکھا تھا۔ انگریزوں، زمین داروں اور ساہوکاروں کا ظلم بھی محسوس کیا تھا۔ اس لیے ان کی شاعری کسانوں، مظلوموں اور مزدوروں کا نقیب بن کر ان میں ہمت وحوصلے کا دیپ جلاتی رہی۔ جب وہ ایوان بالا میں پہنچے تو وہاں بھی ان کی فریاد رسی کی۔ بیکل نے بلاتفریق مذہب وملت کسانوں اوربے کسوں کی مسیحائی کی۔ ان کی بے جان آواز میں روح پھونک دی۔ ان کی ٹوٹی پھوٹی اوربے ہنگم آواز کو سر تال دے کرنغمۂ سرمدی بنادیا۔ اس طرح ان کی شاعری میں پورا ہندوستان جاگزیں ہوگیا۔ بیکل کی شاعری میں تخیل وتفکر کے مابین ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ فن امیجری بھی منتہائے کمال پر ہے۔ اردوکے ساتھ ہندی کے سبک الفاظ اس طرح مدغم ہیں کہ ان میں ایک طرح کی شیرینی پیدا ہوگئی ہے۔ فراق گورکھپوری رقم طراز ہیں:
بیکل کے وہاں جن الفاظ کا تصرف ہے اس میں علامات کی بہتات کم اورخیال کا بہاؤ زیادہ ہے۔ ان کے فکر وفن میں کچھ اس طرح کی وابستگی ہے کہ کلام میں ہندی اور اردو کے حسین سنگم سے یکجہتی کا رنگ پھوٹ نکلا ہے۔ بیکل کی غزلوں میں بھی زندگی اور کائنات کے تمام محرکات موجود ہیں۔زندگی اورسماج کے نازک رشتوں کے بنیادی اورافادی پہلوؤں کی تفسیر ہے۔فن کے نئے معیار کی جمالیاتی اورفکری قدروں کے احساس میں جذباتی اور ذہنی عناصر کی رنگ آمیزی ہے۔ نئے عنوان، ندرت اور ہیئت کے حسین تجربوں کی فنی حیثیت کا تعین ہے۔ روایتی قدروں کے صالح عناصر کو اس رنگ سے استعمال کیا ہے کہ شعری شعور میں افادی پہلو اورتفہیم کی جلوہ گری معلوم ہوتی ہے۔ رومان اورفکر کے دونوں پہلوؤں کوآئینہ بنا کر زندگی کے خوش رنگ خاکے بنائے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ پہلے شاعر ہیں کہ جس نے فن امیجری کو صحیح طورپر معنی صرف کیا ہے۔ ابہام کو ایک نئی جہت سے روشناس کیا۔ فرسودہ طلسم کو توڑ دیا۔ تمثیلی اعجاز کا حسین راستہ تراشا، موسیقیت اورجمالیاتی پہلوؤں پر توجہ دی۔ اگر ان کا کلام رہ گزار شاداب کہاجائے تو ان کے گیت اور غزلیں رہ گزار حیات میں منزل نو کے امین بن سکتے ہیں۔“2

بیکل نے شاعری کی تمام اصناف پر طبع آزمائی کی۔ تاہم وہ بنیادی طور پر نظموں اور گیتوں کے شاعر ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ان کی غزلیں بھی بہت دل کش ہیں۔ انھوں نے غزل کے حسن وعشق اور تقاضے کا لحاظ رکھتے ہوئے عصر حاضر کے مطالبات کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔ زمانے کی نیرنگیوں اور نت نئے مسائل نے غزل میں حسن وعشق کے ساتھ ساتھ ان مسائل کو بھی سمونے کی کوشش کی جن سے غزل کا دائرہ وسیع ہوا۔ بیکل نے اردو غزل کی رائج لفظیات سے انحراف کرکے ایک نیا رنگ وآہنگ بخشا۔ غزل کی نازکی اور شائستگی کو برقرار رکھتے ہوئے انھوں نے زبان کی سطح پر بھی تجربہ کیا۔ عربی وفارسی الفاظ کی جگہ خالص ہندی کے سبک وشیریں الفاظ کو شعوری طور پر استعمال کیا اور انھیں ہندی تہذیب سے ہم آہنگ کرکے دوآتشہ بنادیا۔ ”بیکل صاحب نے اپنی غزلوں اورگیتوںمیں صنف غزل کی رائج لفظیات کے بجائے عوامی کہاوتوں اور لوک روایت سے لفظیات اور ترکیب کشید کی ہیں، ان کو بیکل صاحب کی انفرادیت کے طور پر دیکھاجاسکتا ہے اورخود غزل کے نئے لہجے کی پہچان کے طور پر بھی“۔3 بیکل نے غزل کو گیت کا رنگ وروپ دے کر اسے ایک دیہی حسن بخشا ہے۔ انھوں نے ہندی الفاظ کے استعمال سے اشعار میں حسن اور نغمگی دونوں پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان دونوں کو دوقالب اور ایک جان قرار دیا ہے اور اردوکے ساتھ ہورہی نا انصافی پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ذیل کے اشعار دیکھیں:
ان دونوں کی ایک ہی ماں ہے دو قالب ہیں ایک ہی جاں ہے                             پھر بھی اردوکو ہندی کی لوگ کہیں سوتیلی ہے
میری زباں ہردل کی زباں ہے، کومل کومل حسن  بیاں  ہے                               برسوں تک  یہ خسرو  کی انگنائی  میں کھیلی  ہے
اس کا لہجہ چنچل چنچل  روپ  کا  درپن  جیوت کی جھل جھل                               میری  غزل کی بحر نہ دیکھو، یہ تو میر کی چیلی ہے
آگئیں یاد کٹھور کی بتیاں  برسے  نین  دھڑک گئیں چھتیاں                               پردیسی اب بھیج دے پتیاں برہن آج اکیلی ہے
                                                                            طنز  کی  تیغ  مجھی  پر سبھی  کھینچے  ہوں  گے
آپ  جب اورمرے  اور نگیچے ہوں گے

بیکل اتساہی چوںکہ گاؤں کےاس ماحول کے پروردہ ہیں جہاں کبیر، تلسی، جائسی اورنظیر اکبرآبادی کی نظمیں لوگوں کی زبان زد تھیں۔ اٹھتے بیٹھے سوتے جاگتے ان کی شاعری کانوں میں رس گھول جاتی۔ چناں چہ ان کی نظمیں، دوہے اور کویتائیں بیکل کی سائیکی کا حصہ بن گئیں، جو لاشعوری طورپر شعری سفر میں ان کے لیے مشعل راہ ثابت ہوئیں اور وہ ان ہی کی ڈگر پر چل نکلے۔ نظیر نے اردو شاعری کے موضوعات میں جو سیندھ لگائی تھی بیکل بھی اسی راہ سے اندر داخل ہوگئے۔ نظیر کے تعلق سے احتشام حسین کا یہ جملہ’ ’نظیر درحقیقت ایک اہم قومی شاعر اورمبلغ انسانیت کے پیامبر ہیں“۔4 بیکل پر بھی ہوبہو صادق آتا ہے۔ ان دونوں نے حب الوطنی، قومی یک جہتی، ہندستانی دیومالائی اور اساطیری عناصر کو کثرت سے موضوع سخن بنایا اور اردو شاعری کو تصویر گنگ وجمن کا آئینہ دار بنایا۔ مناظر فطرت، قومی ہم آہنگی، ہولی، دیوالی، رام، کرشن، نانک وغیرہ پر ان دونوں نے خوب نظمیں کہیں۔ بیکل کی ایک نظم ’دلی‘ہے جس میں دلی کی پوری تاریخ وتہذیب سمٹ آئی ہے۔ اس کے علاوہ ہریانہ اوراترپردیش کو بھی انھوں نے اپنی نظموں میں بسادیاہے۔

ہندستان کی تہذیبی وثقافتی، سماجی اور لسانی روح تو گاؤں میں بستی ہے۔ جہاں کی صبح وشام میں مسجد کی اذانیں اور مندروں کے گھنٹے صاف سنائی دیتے ہیں۔ مختلف قسم کے رسم ورواج، گیت اور راگ راگنیا دیکھنے اور سننے کو ملتی ہیں۔ کھیتوں میں لہلہاتی فصلیں، باغیچوں میں تناور درخت اور ندی تالاب فطرت کی چغلی کھاتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود بہت سے شعراکو ان میں حسن نظر نہیں آتا۔ وہ ان سے نظریں چراکر نکل جاتے ہیں۔ اس کی وجہ شاید نقادوں کی سرد مہری رہی ہے۔ چوں کہ اس طرح کے موضوعات برتنے والے شعرا کو عوامی یا بازاری کہہ کر انھیں ادب میں کوئی مقام نہیں دیاجاتا۔ اس لیے شعوری طور پر وہ ان موضوعات سے صرف نظر کر لیتے ہیں۔ تاہم بیکل کی حساس طبیعت نے نام ونمودکی پرواہ کیے بغیر ان بے جان موضوعات کو از سرِ نو زندہ کرنے کا بیڑااُٹھایا۔اس کے لیے انھوں نے غزل کے علاوہ نظموں اور گیتوں کا سہارا لیا اور اردو زبان کو کسانوں، کھیتوں، کھلیانوں اور جھوپڑیوں میں بسادیا۔

یہ شہر کے باسی کیا جانیں کیا روپ ہے گاؤں کے پنگھٹ کا                               کیا عشق ہے لاج کی الہڑ کا کیا حسن ہے موہ کے نٹ کھٹ کا
شرمائی  سی  ماتھے  کی  بندیا   اٹھلائی   سی  پاؤں کی پائیلیا                  السائی سی آنکھوں میں  نیندیا بے سدھ وہ سرکنا گھونگٹ کا
بیکل دیہی جمالیات کے شاعر ہیں۔ جو کھیت کھلیان، رسم ورواج اور لوک کہاوتوں کو شعری پیکر میں ڈھالتے چلے جاتے ہیں۔ ان کے یہاں گاؤں کا تصور اتنا گہراہے کہ ان کی شاعری میں یہ لفظ ایک الگ حسن پیدا کردیتا ہے۔گاؤں کی کہاوتیں جیسے داہنی آنکھ کا پھڑکنا نیک شگون مانا جاتاہے، اس کو کتنی خوبصورتی سے باندھاہے:
رات بھر گاؤں دل کا سلگتا رہا، زندگی آسروں میں دہکتی رہی     چاند بیٹھا منڈیروں پہ گلتا رہا چاندنی چھپروں سے ٹپکتی رہی
راہ  میں  آنے  والے   کی بیٹھی  ہوئی  عمر  کا  لمحہ  لمحہ  پگھلتا  رہا                            ڈاکیہ  تار  پڑھ  کر  سناتا  رہا،  دا ہنی آنکھ بیکل پھڑکتی رہی

حد تویہ ہے کہ کھیتوں، کھلیانوں اور کسانوں کے اس شاعر پر ترقی پسند نقادوں نے بھی توجہ نہیں کی۔ حالاں کہ بقول سجاد ظہیر اور علی سردار جعفری ”ترقی پسندی کے جوکا م ترقی پسندوں کوکرنا چاہیے، وہ بیکل اتساہی نے بہت پہلے کر دکھایا۔ جس میں مزدوروں کسانوں کی آواز اردو زبان کے پرچم تلے اٹھائی ہے“5۔  ان کا منشور ہی دبے کچلے لوگوں، مزدوروں اور کسانوں کی آواز بننا تھا۔ یہ اشعار دیکھیں:
اب تو گیہوں نہ دھان بوتے  ہیں                    اپنی قسمت کسان بوتے ہیں
گاؤں کی کھیتیاں اجاڑ کے ہم                      شہر  جاکر  مکان  بوتے  ہیں
فصل   تحصیل   کاٹ  لیتی  ہے                    ہم مسلسل لگان  بوتے  ہیں

بلاشبہہ مشاعرہ اردو زبان کی توسیع کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ بستی بستی قریہ قریہ ناخواندہ عوام تک اردو زبان کی شیرینی پھیلانے میں اس کا اہم رول ہے۔ بیکل نے بھی مشاعروں کے ذریعے عوام کے دلوں میں اس کی شیرینی اور حلاوت کو رچانے بسانے کا کام کیا۔  بدلے میں انھیں مشاعرے کا شاعر قراردے کر نقادوں نے صرفِ نظر کرلیا۔ ”ان حضرات نے یہ نہیں سوچاکہ اردوزبان کی توسیع واشاعت کی ارتقائی منزلوں میں مشاعروں کوذریعہ بنا کرغیراردوداں حلقوں تک اردو کو پہنچانے میں اوراردوکا دل دادہ بنانے میں جو محنت اورمشقت کی ہے کیا کلاسیکل، جدیدیت مابعد جدیدیت، تجریدیت، ساختیات و ترقی پسند لوگوں نے یہ کام کیاہے؟“۔ 6 تاہم ان کی یہ بدنصیبی کہیے یا خوش نصیبی کہ انھوں نے خود کوادبی سیاست سے دور رکھا اورنقادوں کی خوشامد نہیں کی۔ جس کے سبب ادب میں انھیں وہ مقام نہ ملا جس کے وہ حق دار تھے۔ انھوں نے اخلاص کے ساتھ اردو زبان گاؤںکی روح میں بسایا۔ اردو شاعری کی لفظیات میں ہندی، اودھی اور برج الفاظ کا اضافہ کیا۔ ہندستانی لوک روایت سے استفادہ کرکے گیتوں کو جدید رنگ وآہنگ بخشا۔ چناں چہ یہ کہنا بجا ہے کہ انھوں نے گیتوں کے دم توڑتے ہوئے سامراٹ کو استحکام بخشا۔ اس حوالے سے ڈاکٹر ظ ۔انصاری لکھتے ہیں:
بیکل کی زنبیل میںاودھی اوربرج کے گیتوں کا، دوہوں اور چوپائیوں کا، بھوجپوری، پدو، کبیتاں کا ایسا رنگ برنگا خزانہ ہے کہ اللہ دے اوربندہ لے۔ وہ ان کی طلب میں گاں گاں نہیں پھرے، اسے پیشہ نہیں بنایا، پبلسٹی نہیں کی، یہ گیت ان کی طلب صادق دیکھ کر خود ہی آئے، زنبیل بھرتے گئے۔ بیکل غزلوں کو لوک گیتوں کی، گیت کو غزلوںکی چاشنی دے کر ایساآمیزہ تیار کرتے ہیں جوزود ہضم بھی ہواورپرکیف بھی۔7

بیکل نے اپنے مجموعے ’موتی اگے دھان کے کھیت‘ میں ارباب نقدونظر کے سامنے یہ سوال قائم کیاہے کہ اردو شاعری کے نصاب میں تمام اصناف سخن شامل ہیں تاہم نعت اور گیت کو اس میں شامل کیوں نہیں کیا گیا۔  حالاں کہ یہ بھی اردو شاعری کی اہم اصناف ہیں۔ چناں چہ ارباب ادب کو اس پرغور کرنے کی ضرورت ہے۔

بیکل نے اپنی پوری زندگی اردو شاعری کی آبیاری میں گزاردی اورکسانوں کی سر میں تال ملاکران کے اندر اتساہ پیدا کیا۔ غزل کے شہر میں گیتوں کا گاؤں بسانے، گاؤں والوں کے من میں غزل کارس گھولنے، کھیتوں، کھلیانوں اور پگڈنڈیوں سے اردو شاعری کو آشنا کرانے اور انجمن انجمن گنگنانے والا ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگیا۔
بیکل ترا  پگ پگ نام یہاں، اتساہی ترے سب کام یہاں
تری بھور یہاں تری شام یہاں پھر کاہے پھرے بھٹکا بھٹکا

حواشی
(1) بیکل اتساہی۔ مٹی، ریت، چٹان، ص 17 ہریانہ اردو اکادمی، 1992
(2)فراق گورکھپوری، مٹی ریت چٹان، ص 11,12 ہریانہ اردو اکادمی 1992
(3)پروفیسر ابوالکلام قاسمی۔مقدمہ ’موتی اُگے دھان کے کھیت‘،بیکل اتساہی، ص 10،کاک آفسیٹ پرنٹرس دہلی،2002
(4)سید احتشام حسین۔ ذوق ادب اور شعور،ص144، اترپردیش اردو اکادمی لکھنو،2014
(5) بیکل اتساہی، موتی اگے دھان کے کھیت، ص8 کاک آفسیٹ پریس دہلی 2002
(6) ایضاص7-8
(7) بیکل اتساہی، رنگ ہزاروںخوشبوایک،ص 11-12، اردواکادمی دہلی، 1989

Imteyaz Rumi, Room No.: 34, Mahi Hostel, JNU, New Delhi - 110067

20/12/17

تبصرہ: غواصی(مونوگراف) مبصر: ارشاد قمر


تبصرہ: غواصی (مونوگراف)

غواصی کا شمار گولکنڈہ کے سربرآوردہ اور ممتاز شعرا میں ہوتا ہے۔ انھوں نے مختلف اصناف سخن میں طبع آزمائی کرکے اپنی شعری صلاحیتوں اور ادبی توانائیوں کا مظاہرہ کرکے شعراےدکن میں اپنا ایک منفرد مقام بنایا۔ غواصی کی شہرت ان کی معروف و مشہور مثنویوں، سیف الملوک و بدیع الجمال اور طوطی نامہ وغیرہ کے سبب ہوئی۔ اس کے ساتھ ہی وہ ایک اعلیٰ درجے کے غزل گو بھی تھے۔ علاوہ ازیں انھوں نے چند قصائد و مراثی اور رباعیاں بھی تحریر کیں۔ غواصی کی غزلوں میں ہندستانی معاشرت کا عکس نظر آتا ہے۔ عورت کے زیورات و ملبوسات اور مجموعی طور پر اس کی زندگی کے احوال کو غواصی نے عمدگی سے پیش کیا ہے۔ غواصی نے اپنی تشبیہات اور استعارات کو اپنے کلام میں برتا جس سے ان کے کلام میں چاشنی پیدا ہوگئی۔

قومی کونسل کے زیراہتمام بہت ہی اہم اور نادر علمی، ادبی اور سماجی شخصیات کے مونوگراف شائع ہوکر منظرعام پر آچکے ہیں۔ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے غواصی کا مونوگراف شائع کیا گیا ہے جسے محترمہ سیدہ جعفر نے تیار کیا ہے۔ مصنفہ نے اسے کئی عناوین میں تقسیم کرکے غواصی کے تمام حالات کو قلم بند کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ اس کے تحت شخصیت اور سوانح، غواصی کی شعری کاوشیں، تنقیدی جائزہ اور انتخاب کلام اہم ہیں۔

اس مونوگراف کے پہلے باب میں غواصی کی شخصیت اور سوانح سے متعلق ان تمام گوشوں کو اجاگر کیا گیا جن کی وجہ سے غواصی اردو ادب، خاص طورسے دکنی ادب میں اپنی شناخت رکھتے ہیں۔ ساتھ ہی غواصی کے ہم عصروں کی مختصر مگر کارآمد معلومات بھی شامل ہے۔

دوسرے باب میں غواصی کی شعری کاوشوں کاتحقیقی و تنقیدی جائزہ پیش کیا گیا ہے اور ان کے کلام کی خوبیوں اور خامیوں پر ایک محققانہ اور ناقدانہ تجزیہ پیش کیا گیا۔ تیسرے باب میں مجموعی طور سے ان کے کلام کا ایک عمومی جائزہ لیا گیا ہے جس میں ان کی مثنویاں مینوستونتی، سیف الملوک و بدیع الجمال، طوطی نامہ اور غواصی کی غزلوں، قصائد، رباعی وغیرہ پر بڑی عالمانہ اور بصیرت افروز باتیں کی گئی ہیں۔

اس مختصر سے مونوگراف میں غواصی کی تمام خدمات کا مفصل جائزہ ممکن نہیں تھا لیکن اس کے باوجود مصنفہ تمام پہلوؤں پر روشنی ڈالنے میں کامیاب رہی ہیں اور انھوں نے اس بات کا خاص خیال رکھا ہے کہ ان کی زندگی کا کوئی پہلو اچھوتا نہ رہ جائے۔

آخر میں غواصی کی مثنویوں، قصائد، غزل اور رباعی وغیرہ کے اشعار بطور نمونہ پیش کیے۔ ان اشعار کا اگر تجزیہ و تعارف پیش کیا جاتا تو معلومات میں مزید اضافہ ہوتا لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ اس کے باوجود مونوگراف کی معنویت اپنی جگہ مسلم ہے جسے اردو ادب میں قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے اور حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔

محترمہ نے بڑی محنت و لگن سے غواصی کا سوانحی خاکہ اور ان کی خدمات کا جائزہ پیش کیا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی کئی کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ انھوں نے گیان چند جین کے اشتراک سے ’تاریخ ادب اردو‘ ابتدا سے 1700 تک بھی لکھی ہے جسے قومی کونسل نے شائع کیا ہے۔ اس کے علاوہ من سمجھاون، یوسف زلیخا، تنقید اور اندازِ نظر اور فراق گورکھپوری وغیرہ پر ان کی ترتیب و تصنیف منظرعام پر آچکی ہیں۔ سیدہ جعفر جامعہ عثمانیہ حیدر آباد اور سنٹرل یونیورسٹی آف حیدرآباد میں پروفیسر اور صدر شعبہ کے فرائض بھی انجام دے چکی ہیں۔ وہ ایک وسیع المطالعہ اور صاحب اسلوب ادیبہ تھیں۔اس طرح غواصی (مونوگراف) ہر اعتبار سے ایک کامیاب مونوگراف ہے۔ 

کتاب :  غواصی (مونوگراف)
مصنفہ:    سیدہ جعفر
صفحات:  140
قیمت: 82 روپے
سنہ اشاعت: 2016
ناشر: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی

مبصر: ارشاد قمر،نئی دہلی 

11/12/17

تبصرہ: کلیاتِ سلیم واحد سلیم از مغیث احمد علیگ



تبصرہ
کلیاتِ سلیم واحد سیلم
مغیث احمد علیگ
یوں تو ترقی پسند شاعروں کی ایک لمبی فہرست ہےلیکن وہ شعرا  جو اپنی سرگرمی اور فعالیت کی وجہ سے نہ صرف مشہور ہوئے بلکہ اہل اقتدار کی آمریت کے سامنے آہنی چٹان بن کر کھڑے ہونے کی جرأت کی اور ان کے عتاب کا شکار بھی ہوئے ان ہی عظیم شخصیات میں سے ایک نام ڈاکٹر سلیم واحد سلیم کا ہے، افسوس ہے کہ ہم عام آدمی تو دور، ادب نواز حلقہ بھی اپنے پیش روؤں سے بے اعتنائی کا شکار ہے۔ ڈاکٹر سلیم واحد سلیم کا نام اگرچہ نیا نہیں مگر ادبی حلقوں نے انھیں اس طرح فراموش کردیا جیسے ہمارے لیے کوئی نیا نام ہو۔
کلیات سلیم واحد‘ ڈاکٹر سلیم واحد سلیم کی آزاد و پابند نظموں اور موضوعاتی غزلوں، قطعات، متفرقات، فارسی کلام اوررباعیات خیام کا ’خیام نو‘ کے نام سے منظوم اردو ترجمے کا مجموعہ ہے جس میں عمرخیام کی رباعیوں کو بڑی مہارت سے اردو کی منظوم لڑی میں پرویاگیا ہے۔

یہ کتاب جہاں شاعر مرحوم کے انقلابی ذہن کی عکاس ہے، وہیں ان کے تخلیقی و علمی کمالات کی ترجمان بھی ہے، جسے شاعر مرحوم کے صاحبزادے اور عہد حاضر کے معروف شاعر مسلم سلیم نے ترتیب دےکر ایک فرزند ارجمند اور لائق سپوت ہونے کا ثبوت دیا ہے۔اس کلیات کا آغاز ’مدح سرور کونین‘ سے ہوتا ہے:
بزم امکاں میں ہے ہر سمت اجالا تجھ سے                   رونق محفل ہستی ہے دوبالا تجھ سے

کتاب کے ہر مصرعے سے ادبیت ٹپکتی ہے، حتی کہ نظموں اور موضوعاتی غزلوں کے عنوان میں بھی ادبیت کی چاشنی نظر آتی ہے جیسے دختران چین، دیوانے کی بڑ، اندھا سفر، نافرستادہ جواب، بے وفا کی وفا، تار نفس، بولتی ہوئی آنکھیں، لاشعور، یاد لاحاصل، فتح سحر ہونے تک، الہام سے خود تک، شکست یاس، نوائے فراق، خدایان جمہور کا فرمان، آہنی عزم، خود فراموشی، حرف ہاے گفتنی، تیرونشتر، روداد غم، جلوہ زار، عرفان حال، طوفان درد، کوشش پیہم، صبح شام الم، احساسات کیف و سرور وغیرہ۔

اس کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس میں عمرخیام کی تقریباً  176 رباعیات کا منظوم اردو ترجمہ موجود ہے جو اپنے آپ میں ایک غیرمعمولی کارنامہ ہے۔ خیام کی رباعیات پر بہت کام ہواہے، دنیابھر میں اس کے بہت سے تراجم ہوئے، اردو میں بھی اس کے کئی منظوم و منثور تراجم ہوئے ہیں، لیکن ڈاکٹر مرحوم کے ترجمے میں جو بات ہے وہ اردو کے بہت کم ہی تراجم میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ بحرطویل میں لکھے گئے اس منظوم ترجمہ میں معانی کی مفصل ادائیگی، لفظیات کی روح تک رسائی اور نغمگی پائی جاتی ہے جو انھیں دیگر مترجمین سے ممتاز کرتا ہے۔

رباعیات کے اس ترجمہ کے بارے میں پروفیسر افتخار احمد لکھتے ہیں:
تجزیاتی نقطۂ نظر سے اسلوب کی شگفتہ کاری اپنے موضوع کو سربلندی اور ارتقائی پرواز بخشتی چلی جاتی ہے جس میں ایک قسم کی کشش اور جاذبیت پنہاں ہے۔ الفاظ کا مناسب چناؤ موضوع کو واضح کرتا چلاجاتاہے اور اس کی گرہیں خود بخود یکے بعد دیگرے کھلتی چلی جاتی ہیں۔ ہم کسی الجھن یا مبہم استادیت کے شکار نہیں ہوپاتے کہ خود شاعر کی پختہ کاری اور فنی چابکدستی نے موضوع کو بڑی عمدگی سے نبھایاہے جو اس کی شاعرانہ عظمت اور فنی شعور کا غماز ہے۔آپ بھی ان کے تراجم کے چند نمونے    ملاحظہ کریں:
آمد سحری ندا ز میخانہ ما        کہ اے رند خراباتی و دیوانہ ما
برخیز و پرکنید پیمانہ ز می      زان پیش کہ پرکنند پیمانہ ما

یعنی ایک صبح ہمارے میخانے سے آواز آئی کہ اے رند خراباتی اور میرے مستانے اٹھ اور اپنے پیمانے کوجام سے بھرلے قبل اس کے کہ ہمارا پیمانہ بھردیا جائے۔ اب ذرا اس کا منظوم ترجمہ ملاحظہ کریں:
جب رات گئی تو وقت سحر، گونجی یہ صدا میخانے میں
کیا رند میں کوئی جان نہیں، کیا ہوش نہیں دیوانے میں

اٹھ جام کو بھر اور جھوم کے پی، ہے سرپہ وہ وقت نازک بھی
جب موت کی مے چپکے سے بھرے، بے رحم قضا پیمانے میں

اسی طرح خیام کی دوسری رباعی ملاحظہ کریں:
گرمی نہ خوری طعنہ مزن مستان را
گردست دھد توبہ کنم یزدان را
تو فخر بدین کنی کہ من می نخورم
صد کار کنی کہ می غلام است آن را

            اس شعر کا مختصر مفہوم یہ ہے کہ اگرتم شراب نوشی نہیں کرتے تو مستوں کو طعن و تشنیع کا شکار نہ بناو، اگر موقع مل جائے تو میں بھی توبہ کرنے کو تیار ہوں، تمھیں اس بات پر فخر ہے کہ میں شراب نہیں پیتا، جب کہ سیکڑوں ایسے کام ہیں جس کا شراب غلام ہے(یعنی جو شراب نوشی سے بھی بدتر ہیں)۔ اب ذرا ڈاکٹر موصوف کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:
تقوی کے تفاخر رہنے دے اور زعم نہ بادہ پینے کا
اپنا بھی ارادہ رہتا ہے توبہ کے جہاں میں جینے کا
اے خون بشر کے متوالے، بے رحم غلام حرص و ہوس
یہ بادہ کشی تو رستہ ہے معصوم خوشی کے دفینے کا

کتاب کا سرورق سادہ ہونے کے باوجود پرکشش ہے، پروف ریڈنگ کی خامیاں تقریباً 'نا' کے برابر ہیں، منجملہ خصوصیات اور محتویات کو دیکھ کر یہ بات بجا طور پر کہی جاسکتی ہے کہ یہ کتاب بشمول اردوو فارسی کے طلبا و اساتذہ کے لیے علم بخش ہے۔ 

کتاب:     کلیاتِ سلیم واحد سلیم
مرتبہ:    مسلم سلیم
صفحات:    432
قیمت:      150 روپے
ناشر: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی

مبصر: مغیث احمد علیگ ، جامعہ نگر، نئی دہلی

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...