17/8/21

اردو افسانوں میں ہندو اساطیر - مضمون نگار- ابوبکرعباد

 



اساطیر کی دنیا، فکشن کی دنیا کی طرح ہی بے حد وسیع، حیرت ناک،سحرانگیز، دلکش ،پیچیدہ اور متنوع ہے۔ یہ ایک ایسی دنیا ہے جس میں بوالعجبی بھی ہے، بوقلمونی بھی کہ اس دنیا میں علم سے زیادہ عقیدے کی کارفرمائی ہوتی ہے، یقین پر گمان کو فوقیت حاصل ہوتی ہے ، عقل پر عشق کو ترجیح دی جاتی ہے اور منطق کے مقابلے  میں ممکنات کا سکہ چلتا ہے۔ اساطیری واقعات اور کردار ابتدائی انسانی زندگی کی طرز،ضرورت، اس کے تخیل،تصور، عقیدت، نفسیات اور جغرافیائی حالات کی پیداوار ہیں۔ہر ملک، مذہب اورقوموں کی اپنی اساطیری حکایات و روایات ہیں، جن میںان کے فن ، عقیدے اور فلسفے نے اولین شکلوں میں اپنا اظہار کیا۔اساطیری کردار بالعموم دیوی، دیوتا، فوق الفطرت ہستی،مذہبی ،تاریخی ، نیم تاریخی ،تخیلی، یا روایتی ہیرو(بشمول ہر نوع کے جاندار) ہیں جو بہر طور عام انسانوں یا جانداروں سے مختلف اور عظیم تر ہوتے ہیں ۔تمام اساطیری کرداروں کی کوئی نہ کوئی کہانی ہوتی ہے ، یاکہانیوں میںیہ مخصوص کردارکی حیثیت رکھتے ہیں۔یہ اساطیر، یا دیومالائیںاپنے علاقے، مذاہب اور تہذیب و تمدن کے لوگوں کے علم،عقیدے ، فکر اور رجحان کی غماز ہوتی ہیں۔ان کے قصوںمیں تحیر ، تجسس،رزم، بزم اور عیاری کی دلکشی کے علاوہ علم وفضل اور شجاعت و سخاوت کی بھی داد دی جاتی ہے۔ اس کے بیانیے میں غلوکا غلبہ، ناقابل یقین صداقت اور پر اسراراور غیر منطقی واقعات کی بھرمار ہوتی ہے ۔ ساتھ ہی حیرت انگیز مہمات اور فنی جمالیات کا فشار رنگ ہمارے مختلف جذبات و احساسات کو بیدار، مہمیز،گدازاور آسودہ کرتا ہے ، ان کے تزکیے اورتطہیر کا سامان بہم پہنچاتا ہے۔

اساطیری کرداروں، داستانوں اور کارناموں کا سب سے بڑا،  اہم اور قابل ذکر ذخیرہ یونان کی سرزمین کو کہنا چاہیے۔ روم، مصر،چین اور جاپان وغیرہ کی بھی اپنی حیثیت مسلم ہے لیکن ہمارے ہندوستانی دیو مالائی (اساطیری) کرداروںاور کہانیوں کے عجائب خانے بھی ان تہذیبوں سے دل کشی،تجسس ،تحیر اور ثروت مندی میں کسی طور کم نہیں ہیں۔

ہم ہندوستانیوں کے پاس عالمی پیمانے کی کہانیاں بھلے ہی بہت زیادہ نہ ہوں،لیکن محض ان اساطیری کردار وں کی تعداد؛جنھیں بھگوان یا دیوی،دیوتاؤں کی حیثیت حاصل ہے، بہت زیادہ ہے۔ ظاہر ہے ان میں سے ہم نے بہتوں کو فراموش کر دیا ہے،بہت سے ہمارے مقدس صحیفوں مثلاً گیتا، رامائن،وید اور جاتک کتھاؤں کے اتھاہ سمندر میں بند ہیں اور متعدد کرداروں اور قصوں سے ہم ’رامائن‘ اور’ مہابھارت‘ جیسے ٹی۔وی سیریلز اوردیو مالائی فلموں کے ذریعے واقف ہوچکے ہیں۔ عالمی اور علاقائی شعروادب نے بھی ان کرداروں کو بڑی فراخدلی سے اپنے صفحۂ قرطاس میں جگہ دی ہے۔سو، دوسری زبانوں کے ادبیات کی طرح اردو شاعری، اردوفکشن بالخصوص افسانوں میں انھیں کثرت سے مرکزی حوالہ بنایا گیا، انھیں فن کے قالب میں ڈھالا گیا،علامت ، استعارے اور تمثیل کے بطور پیش کیا گیا ، ان کی تشکیل جدید کی گئی اور ان سب کی اپنے عہد سے مطابقتیں پیداکرنے کی کوششیں کی گئیں۔اس عمل سے جہاں ایک طرف اردو افسانے کا فنی کینوس وسیع ہوا، موضوع میں تنوع، فکر میں گہرائی اور پیچیدگی آئی اور بیانیے میں رمز، کشش اور تہہ داری پیدا ہوئی تو دوسری طرف اساطیری کردار تخلیقی ذہنوں میں ازسرنو دریافت ہوئے اور عقیدے سے الگ ہوکر ان کی ادبی جہتیں تلاش کی گئیں۔ اس طرح یہ کردار قدیم زمانے اور عقیدے سے ہم آہنگ ہوتے ہوئے افسانے کے توسط سے جدیدذہن اور حال کی زندگی کا حصہ بنتے گئے۔

شاعری کے مقابلے اردو فکشن کی دنیا میں اساطیر، یااساطیری کرداروں کی آمد ذرا بعد میں ہوئی۔گوکہ داستانوں میں یہ کردار علامتی، تمثیلی یا بدلے ہوئے ناموں کے ساتھ پہلے سے موجود تھے۔ اردو ناولوں میں بھی ان کا استعمال سلیقے سے ہوتا آیا ہے ، لیکن فی الوقت گفتگو محض افسانوں کے حوالے سے ہے ۔ سو،مختصر افسانوں میں ہندو اساطیر کو جن افسانہ نگاروں نے حاوی رجحان کے طور پر یا زندگی کی مخصوص صورت حال کی نمائندگی کے طور پربرتا ہے ان میں راجندر سنگھ بیدی، ممتاز شیریں ، انتظار حسین، سلام بن رزاق اور جوگندرپال وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔یوں بیشتر افسانہ نگاروں نے اسطورہ کو کسی نہ کسی حوالے سے اپنے افسانوں کا حصہ بنایاہے۔بعض افسانہ نگاروں نے اساطیر ی کرداروں کو اپنے عہد سے ہم آہنگ کرکے افسانے میں پیش کیا ہے ، بعض نے واقعات کو نئے پس منظر میں رکھ کر اور کرداروں کو معاصر صورت حال میں ڈھال کرانھیں نئے اوتار کا روپ دیا ہے تو کچھ نے علامت اور استعارے کی صورت استعمال کیا ہے۔ اساطیری ناموں کو کرداری صفات،کنایے اورتلازمے کے طور پرافسانوں میں لانے کی مثالیں کثرت سے اور کافی پہلے سے موجود ہیں، مثلاً اعظم کریوی کے افسانے ’مایا‘ میں پاروتی اور رادھا وغیرہ کے صفاتی کردارموجود ہیں۔

یہ درست ہے کہ مختصر افسانوں کی حد تک اسطور کواسما یا صفات کی منزل سے آگے بڑھ کر پہلے پہل راجندر سنگھ بیدی نے اپنے افسانے ’گرہن‘ میں بنیادی ساخت کے طور پر استعمال کیا۔لیکن یہ بات قطعاًدرست نہیں ہے کہ بیدی کے افسانوں میں اسطورکی دریافت سب سے پہلے پروفیسر گوپی چند نارنگ نے کی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ جس زمانے میں ہمارے بعض ناقدین بیدی سے بے اعتنائی برت رہے تھے ، ان کی زبان پر اعتراض کر رہے تھے،غیر ملکی افسانوں کے چربے کا الزام عائد کر رہے تھے اور ان کے نقائص گِنواکرا فسانے کی خامیوں میں شمار کر رہے تھے،اس زمانے میں سرور صاحب پہلے شخص تھے جنھوں نے معترضین کوافسانے اور شاعری کی زبان کے فرق سے نا بلد بتاتے ہوئے بیدی کی زبان کا دفاع کیا تھا،انھیں اہم افسانہ نگار کی حیثیت سے باضابطہ متعارف کرایاتھا۔ اور یہ بھی کہ آل احمد سرور نے ہی سب سے پہلے بیدی کے یہاں دیومالا اور اساطیر کومرکزی حوالے کی حیثیت سے دریافت کیا تھا۔ سرور صاحب کے مضمون ’’بیدی کی افسانہ نگاری:صرف ایک سگریٹ کی روشنی میں‘‘ سے یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیے:

’’ان (بیدی)کے یہاں شروع سے جذبات کی تیزی و تندی کے بجائے خیالات اور واقعات وتجربات کی ایک دھیمی لہر ملتی ہے جس کے پیچھے ایک گہرا فلسفیانہ احساس ہے مگر بیدی فلسفہ یا سیاست نہیں بگھارتے۔ ــــــــ۔۔۔۔۔پریم چند کی آدرشی حقیقت نگاری جو کرشن چندر کے یہاں ایک رومانی حقیقت نگاری نظر آتی ہے، بیدی کے یہاں ایک ایسی حقیقت نگاری بن جاتی ہے جو اسطور اور دیو مالا کے سیالوں کی وجہ سے حقیقت سے کچھ بڑی اور پھیلی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ ‘‘

 (مشمولہ، فکر روشن،ایجوکیشنل بک ہائوس، علی گڑھ، 1995 ص191)

 شاید یہاں اس حقیقت کے اعادے کی ضرورت نہیں ہے کہ بیدی کے افسانوں کا قرار واقعی اور سنجیدگی کے ساتھ جائزہ سب سے پہلے سرور صاحب نے ہی لیا تھا۔بعد میں ناقدوں نے بیدی کے دوسرے افسانوں مثلاً ’اپنے دکھ مجھے دے دو‘،’ببل‘، ’بھولا‘ اور ناولٹ ’ایک چادر میلی سی میںہندوستانی اساطیرکے تعلق سے بوجھل مضامین لکھے ۔گوکہ اہم ڈرامہ نگار اور ناقد ریوتی سرن شرما کا خیال تھا کہ بیدی ہندو دیومالا کو صحیح طریقے سے سمجھ نہیں سکے تھے ۔

حیرت نہ کیجیے کہ اسما، صفات، علامت ،  استعارے اور حوالے سے قطع نظرہندوستانی اسطور کو اردو افسانے میں باضابطہ اور مکمل طور پرسب سے پہلے ممتاز شیریں نے پیش کیا ہے۔اور غالباً ممتاز شیریںاردو کی پہلی افسانہ نگار ہیںجن کے یہاں تقریباً پچاس یونانی، ایرانی،عربی اور ہندوستانی اساطیری کرداروں کے نام آئے ہیں۔ان کے سہ ابعادی طویل مختصر افسانے ’میگھ ملہار‘ کے دو حصے جو بذات خود الگ افسانوں کی حیثیت رکھتے ہیں؛ ایک ’نیل کمل‘ اور دوسرا ’سرسوتی ‘ خالص ہندواسطور پر مبنی ہیں۔ دونوں افسانوں میں حسن اورموسیقی کی دیوی سرسوتی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔افسانہ ’نیل کمل‘ میں سنگیت کی روح کو چھو لینے والا ایک فنکار جب پر سکون چاندنی رات میں اپنے ستار کی مدھر تان چھیڑتا ہے تو اس کی لے پر روپ اور سنگیت کی دیوی سرسوتی ناچ اٹھتی ہے اور فنکارکو فن کی دیوی کا حسین ترین انسانی روپ نظرآتاہے۔

’’پاؤں اتنے پیارے، اتنے سندر، اتنے پاکیزہ اور شفاف جیسے تازہ کھلے ہوئے، جھیل میں نہاتے ہوئے کنول، نیل کنول… بہت ہی سندر لانبے بال جو گھٹنوں تک لہرا رہے تھے۔ منور چہرہ، گول اور بیضوی کا امتزاج، گول ٹھوڑی میں ننھا سا گڑھا، بھرے بھرے رخسار، گہری نشیلی آنکھیں، چاند سی پیشانی پر دمکتا ہوا ٹیکہ اور سرکے گرد ایک عجیب سی پر اسرار روشنی کا ہالہ، نیلی ساری میں لپٹا ہوا متناسب جسم۔ نازک کلائیوں پر موتیا کے گجرے، موتیا کی لڑیوں میں لپٹی ہوئی بانہیں۔ موتیا کی لڑیوں میں لپٹی ہوئی بانہوں کا لہرائو، بدن کے ہر ہر عضو میں بلا کی لچک۔۔۔۔۔۔۔۔

(میگھ ملہار۔ مشمولہ سویرا،ا لاہور، شمارہ91تا 12، ص56)

نیل کنول‘ کا موضوع موسیقار کا داخلی کرب ہے جو اس کے جذبۂ عقیدت، پرستش اور تخلیقی عمل سے متعلق ہے۔ پورا افسانہ حسن اور موسیقی کی دیوی سرسوتی کی ہندو دیو مالا پر مرکوز ہے۔ یہاں ممتاز شیریں نے پلاٹ اور کردار نگاری کے روایتی طریقے سے انحراف کرتے ہوئے شاعرانہ حسن بیان کے ساتھ فنکار کے سوز و گداز کی اس کیفیت اور دیوی سرسوتی کے حسن کو بیان کیا ہے جس میں فنکار اپنی ذات سے نکل کر ابدیت کی حدود میں داخل ہوتا ہے۔

اسی طرح افسانہ ’سرسوتی‘ کا مرکزی کردار اپنے گاؤں کی ایک لڑکی رادھا کا عاشق شیام نام کا ایک نوعمر فنکار ہے جو نام نہاد سنیاسی سورداس کے دھوکے میں آکر حسن اور کلا کی دیوی سرسوتی کو انسانی روپ میں لاکر قید کروانے میں نا دانستہ طور پر اس سنیاسی سورداس کا آلۂ کار بن جاتا ہے۔ لیکن شیام کو جب اپنی غلطی اور گناہ کا احساس ہوتا ہے تو وہ ہوس پرست جادوگر سورداس کے چنگل سے مقدس دیوی کو آزاد کرانے کا عزم کر کے اس کی تلاش میں نگری نگری مارا پھرتا ہے۔ کافی عرصے بعد شیام کی ملاقات گھنے جنگلوں میں ایک خوبصورت دوشیزہ سے ہوتی ہے جو اسے مہمان کی حیثیت سے اپنی کٹیا میں ٹھہراتی ہے۔ شیام کے پوچھنے پر وہ اپنے بارے میں بتاتی ہے:

’’تم باور نہیں کروگے پردیسی، میں اپنے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتی اپنی پچھلی زندگی کے بارے میں کچھ بھی نہیں۔ مجھے صرف یہ بتایا گیا ہے کہ میں بدیسہ میں سرسوتی کے مندر کے کھنڈروں کے پاس بیہوش پائی گئی۔ اور یہ سنیاسی مجھے اٹھا کر یہاں لے آیا۔ تب سے میں یہیں رہتی ہوں۔‘‘

جنگل میں تنہا رہنے والی یہ خوبصورت دوشیزہ دراصل حسن اور موسیقی کی دیوی سرسوتی ہے جو ایک رات شیام کی بانسری کی دھن پر آکاش سے انسانی روپ میں اس کے سامنے آگئی تھی اور تب بہروپیا سنیاسی سورداس دیوی کو اپنے منتروں کے ذریعے قید کر کے یہاں اٹھا لایا تھا۔ بہروپیے نے اپنے منتروں کے زور سے دیوی کو قید تو کر لیا تھا لیکن بعد میں اسے بہت پچھتاوا ہوتا ہے اور وہ اپنے کیے کا توڑ معلوم کرنے کے لیے نگر نگر کی خاک چھانتا ہے اور بالآخر اسے وہ مقدس پانی مل جاتا ہے جس کے چھڑکنے سے دیوی اپنی اصلی حالت میں آسکتی ہے لیکن اس میں اتنی ہمت نہیں کہ دیوی کو آزاد کرنے کے لیے وہ اپنی جان قربان کر دے ۔کیوںکہ جو کوئی اس مقدس پانی کو دیوی کے انسانی روپ یعنی دوشیزہ پر چھڑکے گا وہ پتھر بن جائے گا۔چنانچے شیام اپنی جان کی قربانی دے کر دیوی سرسوتی پر مقدس پانی چھڑک کر اسے عیار سنیاسی کے جنگل سے آزاد کراتا اور خود پتھر میں تبدیل ہوجاتاہے۔ ’’سرسوتی‘‘ کے پلاٹ کی بنیاد ہندو دیومالا پر ہے۔ اس میں شیام اور رادھے کی معصوم اور پوتر محبت کی داستان کے علاوہ بہروپیے سورداس کی ہوس اور فریب کی بھی کہانی ہے جو اچاریہ پورنا بردھن کی زبانی سنائی گئی ہے۔ پوری کہانی میں رمزیت ،رومان اور عقیدت کی فضا چھائی ہوئی ہے، اور فن اور فنکار پر فوکس کے باوجود محبت اور عقیدت کا موضوع غالب ہے ،جو اپنے دھیمے پن اور لطافت کی وجہ سے انتہائی اثر انگیز ہے۔ 

اپنے ایک اور افسانے ’کفارہ‘ میںبھی ممتاز شیریں نے کئی ایک اساطیری کردار کو شامل کیا ہے ۔اس افسانے میں ممتاز شیریں نے قدیم دیو مالائوں کو اپنے عصر سے ملانے یا کہیے انھیں موجودہ صورت حال سے تطبیق دینے کی جو کوشش کی ہے اس میں وہ بہت حد تک کامیاب ہیں۔ اس افسانے میں نیم بے ہوشی کی حالت میں مرکزی کردار کاتخیل یا اس کی روح مختلف مذاہب اور تہذیبوں کے سفر پر نکلی ہوئی ہے۔ اس دورانیے میں وہ شیو جی، ناقص الخلقت بونے جسے شیو جی نے انگوٹھی بخش دی تھی،راجہ سوریہ ورمن،راج ہنسوں کی شہزادی اور مہاتما بدھ کی زیارت کرتی ہے۔ ایک چھوٹا سا اقتباس ملاحظہ کیجیے:

’’نٹ راجہ دیوانہ واراپنا وحشیانہ موت کا ناچ ناچتا رہا۔اور پھر اپنی ایک ٹانگ رقص کے انداز میں فضا میں معلق کیے ہوئے دوسری ٹانگ پر کھڑا ہوگیا۔اس کا پیر انسان کی گردن پر تھا اور انسانی زندگی اس کے پیروں کے نیچے دم توڑ رہی تھی۔ہندوستانی نٹ راجہ شیوا کے زیادہ شفیق کمبوڈین پیکر میں ڈھل گیا ۔اس کے موٹے ہونٹوں پر ایک مہربان بلکہ ہوسناک تبسم تھا۔اس کے سر پر بالوں کی جٹائیں بل کھاتے ہوئے سانپوں کی طرح لپٹی ہوئی تھیں،جن پر نصف چاند کا ہالہ سجا ہوا تھا۔شیوا تخریب کا دیوتا تھا اس لیے تعمیرکا بھی دیوتا تھا کیونکہ موت ہی کی کوکھ سے زندگی نکلتی ہے۔‘‘

(کفارہ، مشمولہ سوغات،  بنگلور، ستمبر 1992، ص431-32) 

کفارہ‘ کی تعمیر، خیال کا ارتقا اور اس کی تکمیل بڑے فنکارانہ طریقے سے ہوئی ہے۔ یوں تو افسانے میں بظاہر تین دن کا وقت ہے جسے ایک رات بلکہ چند گھنٹوں میں سمیٹا گیا ہے لیکن افسانہ نگار کی خوبی یہ ہے کہ اس نے حال کو معلق کر کے تلمیحات و اساطیر کے ذریعے ماضی کی بازآفرینی کے عمل میں صدیوں کے وقت کو پھلانگنے کا ایسا کامیاب تجربہ کیا ہے جس کی مثال اردو افسانے کی تکنیک میں بہت کم ملتی ہے۔ شیریں کے تقسیم ملک کے موضوع پر لکھے افسانے ’بھارت ناٹیہ‘ میں بھی شیو، پاروتی اور گنیش جی کی تمثیل ہے۔

ہمارے عہد کے افسانہ نگارسلام بن رزاق نے بھی اپنے افسانوں میں ہندی اساطیر کا بڑا ہی عمدہ استعمال کیا ہے ۔اس حوالے سے ان کی تین کہانیاں بہت ہی اہم ، خوبصورت اور جدید عہد سے مطابقت رکھتی ہیں۔ ایک ’آج کا شرون کمار‘دوسری ’یک لویہ ‘ اور تیسری کہانی ’یک لویہ کا انگوٹھا‘۔ ’یک لویہ‘ کا آغاز اس طرح ہوتا ہے:

’’ہرنیہ دھنش بھیل اپنے اکلوتے لڑکے یک لویہ کو ساتھ لیے جنگل، بیابان، ندی، نالے،پہاڑ ،  وادیاں طے کرتا ، ہفتے ، مہینوں کی صعوبتیں جھیلتااندر پرستھ پہنچ گیا۔‘‘ در اصل ہرنیہ دھنش بھیل اپنے بیٹے کی اس ضد سے مجبور ہوکر شہر آیا تھاکہ وہ اسے گرودرونا چاریہ سے ملوادیںتاکہ وہ ان سے تیراندازی کی شکچھا لے سکے۔ جب یہ لوگ رنانگن کے دوار پر پہنچنے کے بعد پہرے دار کے پوچھے جانے پرآنے کی وجہ بتاتے ہیں تو ان سے دوار پال کہتا ہے:

’’چپ کر دشٹ! ایک پشاچ ہوکر مہاگرو درونا چاریہ کے درسن کرنا چاہتا ہے۔جانتا ہے تونے اپنی اپوتر زبان سے مہاگرو کا نام لے کرایک گھور پاپ کیا ہے۔اس پاپ کے بدلے تیرے منھ میں دس انگل لوہے کی سلاخ گرم کر کے گھسیڑی جا سکتی ہے۔‘‘

بہر حال حقارت اور ذلت سہتے دونوںباپ بیٹوں کی ملاقات گرو جی سے ہوجاتی ہے۔ گرو جی اسے بتاتے ہیں کہ دھنر ودّیا کیول کشتری کماروں کو سکھائی جاتی ہے ۔ بھیل کو اس ودیا کے سیکھنے کے جرم میں پران دنڈ دیا جاسکتا ہے۔ لیکن وہ یہ کہہ کر انھیں واپس بھیج دیتے ہیں کہ’’ یہ ہمارے نی یموں کے ورودّھ ہے۔ پرنتو تمھیں آشیرواد دیتے ہیں۔‘‘افسانے کے دوسرے حصے کا آغاز یوں ہوتا ہے :’’پھر یہ ہوا کہ ساڑھے تین ہزار برس کے بعدیک لویہ نے ایک غریب مزدور کے گھر میں جنم لیا۔اس مزدور کا نام بھی ہرنیہ دھنش تھا۔ یک لویہ جب پانچ برس کا ہوا توہرنیہ دھنش نے اسے ایک میونسپل اسکول میں داخل کیا۔‘‘ وہ محنت سے پڑھتا رہا ۔ اس کی خواہش تھی کہ بڑا ہوکر ڈاکٹر بنے سو، ہائر سکنڈری میں اس نے ٹاپ کیا ۔اب اس کا باپ اسے لے کر ایک میڈیکل کالج میں جاتا ہے۔ اتفاق سے گرو درونا چاریہ ہی کا لج کے پرنسپل تھے۔ گروجی اس سے کہتے ہیں۔’’ہرنیہ آج بھی ہم مجبور ہیں۔‘‘ ہرنیہ اسے بتاتا ہے کہ : ’’سرکار چھوٹا منھ بڑی بات۔اُس بکھت ہمارا جنم شدروں میں ہوا تھا۔مگر آج تو ہم شدر نہیں ہیں۔‘‘گروجی کہتے ہیں: ’’یہی تو گڑ بڑ ہے ہرنیہ،! زمانہ بدل چکاہے۔ تم آج بھی شدر یا ہریجن ہوتے تومیں آنکھیں بند کرکے یک لویہ کوبی ۔سی کوٹے میں سیٹ دے دیتا۔مگر اب اڑچن یہی ہے کہ تم شدر نہیں ہو۔‘‘

’’یک لویہ کا انگوٹھا ‘‘میں یک لویہ ۔دلت گھرانے میں جنم لیتا ہے ۔ شہر میںرہ کر پڑھتا ہے ۔اوربالآخر سناتن میڈیکل کالج کے ٹیسٹ اگزام میں کامیاب ہوجاتا ہے۔اس بار بھی کالج کے پرنسپل گرو درونا چاریہ ہیں۔ لیکن وہ یک لویہ کوبی،سی (Backward Class)کوٹے میں ایڈمیشن لینے سے روک نہیں پاتے۔ کورس پورا ہونے کے بعد گرو درونا چاریہ یک لویہ کواپنے آفس میں بلاکر کہتے ہیں:

’’یہ ایک وڈمبنا ہے کہ اتہاس نے ہمیں پھر اسی استھان پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ہم ہزاروں ورش پہلے کھڑے تھے۔ اس سناتن پرمپرا کے انوسار جس نے ہمیں گرو ششیہ کے رشتے میں باندھ دیا ہے۔ ہم تم سے وہی گرو دکشنا طلب کرتے ہیں جو تم نے پچھلے جنم میں ہمیں بھینٹ کی تھی۔‘‘

 در اصل درونا چاریہ نے گرو دکشنا کا پانسہ اس لیے پھینکا تھا کہ یک لویہ دیا کی بھیک مانگے اورگروجی ترس کھاکراسے بخشش دیں۔ اس طرح یک لویہ عمر بھرخجالت اور احسان مندی کے دکھ میں مبتلا رہے اور گروجی کی پُرغرور انا آسودہ ہوتی رہے۔ درونا چاریہ یک لوّیہ کے فن کو نہیں اس کی خود اعتمادی، خودداری اور عزم و حوصلے کو ناکارہ بنانا چاہتے تھے۔لیکن پانسہ الٹا پڑا۔یک لویہ نے اپنے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ کر گروجی کو بھینٹ کر دیا۔ اس واقعے کے بعد یک لویہ غائب ہوجاتا ہے۔ گروجی کو ہمہ وقت یہ بات پریشان کرتی ہے کہ آخر یک لویہ چلا کہاں گیا۔پھرمطمئن ہوجاتے ہیں کہ یک لویہ اب کوئی آپریشن ، یا کسی طرح کی سرجری کرنے کے لائق نہیں رہ گیا ،سو خود کشی کرلی ہوگی یا کوئی اور کام کرتا ہوگا۔لیکن دس برس بعدایک صبح درونا چاریہ ہکا بکا رہ جاتے ہیں جب ان کا ملازم ایک وزیٹنگ کارڈ انھیں دیتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ صاحب آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔کارڈ پر لکھا تھا :ڈاکٹر یک لویہ ہرنیہ دھنش،فزیشین اینڈسرجن۔ پتہ لندن کاتھااور اس پر کئی ایک ڈگریاں لکھی ہوئی تھیں۔یک لویہ بتاتا ہے کہ کل ہونے والی کانفرنس میں اسے ایک اوپن ہارٹ سرجری ڈمانسٹریشن کے لیے بلایا گیا ہے، جسے تمام چینلز لائیو کاسٹ کریں گے۔درونا چاریہ حیرت سے پوچھتے ہیں’’بٹ ہاؤ اٹ از پاسبل؟‘‘یک لویہ جواب دیتا ہے:’’سر!آپ نے سناتن پرمپرا کے انوسار گرودکشنا میں مجھ سے سیدھے ہاتھ کا انگوٹھا مانگا تھا۔سو میں نے دے دیا۔ مگر آپ کو معلوم نہیں کہ میں یساری (لیفٹسٹ) ہوں۔ میں اپنے سارے کام بائیں ہاتھ سے کرتا ہوں۔حتیٰ کہ سرجری بھی۔‘‘

سلام بن رزاق کے افسانے ’ایک اور شرون کمار ‘ میں بھی یک لویہ کی طرح ہی ایک محنتی، جوان اور فرمانبردار ہندو دیومالائی کردارشرون کی زندگی کا نیا اوتار ہے۔اس افسانے میں بھی اس قدیم کردار کو جدیدعہد کی صورت حال سے بڑی خوبصورتی کے ساتھ نبرد آزما دکھایاگیا ہے۔افسانے کا آغاز اس طرح ہوتا ہے:

’’راجہ دشرتھ کے ہاتھوں شرون کمار کی موت کی خبرجنگل کی آگ کی طرح دیش بھر میں پھیل گئی۔لوگ شرون کمار کی سعادت مندی، خدمت گزاری اور فرمانبرداری  پر عش عش کر اٹھے۔اور اس کی جواں مرگی کو یاد کرکرکے افسوس کرنے لگے۔۔۔۔۔۔۔۔اتفاق سے انھی دنوں پاس کی ایک بستی میں ایک اور شرون کما ررہتا تھا۔ اس کے ماتا پتا بھی ضعیف اور اندھے تھے۔۔۔۔۔البتہ اس کے ماتا پتا نے بہت پہلے اس کی شادی کردی تھی اور اب وہ ایک عدد بیوی کا شوہر اور چار عدد بچوں کاباپ تھا۔اس کی ایک بیوہ بہن بھی تھی۔جو اپنے شوہر کے ناوقت انتقال کے بعد سسرال والوں کے ظلم سے تنگ آکر بچوں کے ساتھ اس کے گھر آ ٹکی تھی۔وہ ایک ذمے دار فرد کی طرح سب کی کفالت کررہاتھا۔‘‘

شرون کمار گھر والوں کی ضرورتیں پوری کرنے میں اپنا خون پسینہ ایک کرتا ہے،انھیں آرام پہنچانے کی خاطر جان توڑ محنت کرتا ہے،لوگوں کی گھڑکیا سہتا ہے، گالیاں سنتا ہے، ذلتیں اٹھاتا ہے اور اتنا سب کچھ کرنے کے بعد بھی ماں ، باپ، بہن، بیوی اور بچوںکی طنز میں ڈوبی باتیں سنتا ہے۔اس کے ماں باپ اسے مجبور کرتے ہیں کہ وہ ا نھیں بھی کاشی دھام لے جاکر گنگا اشنان کروائے۔ اس ضد میں اس کی بیوی، بہن اور بچے بھی ساتھ ہوجاتے ہیں۔وہ ایک گاڑی بنا کرسب کو اس میں بٹھاتا ہے اور بیل کی جگہ خود اس میں جت کر سفر پر روانہ ہوجاتا ہے اور پھر ندی، نالے، جنگل ، بیابان پار کرتا، آندھی، طوفان سے جوجھتا، موسموں کے تیور سہتا، رات ،دن سفر کرتا کاشی کی طرف بڑھتا جاتا ہے۔آخر وہ سریوندی کے جنگل میں اس برگد تک کے نیچے سب کو بٹھا تا ہے جہاں سورگیہ شرون نے اپنے ماتا پتا کو بٹھایا تھا۔ اور پھر وہ گھڑا لے ندی سے پانی لینے جاتاہے۔ جاتے ہوئے وہ سوچتاہے:’’کتنا اچھا ہو اگر آج کی رات بھی راجہ دشرتھ شکار کے لیے آئے ہوں اور آج بھی وہ غلطی سے تیر چلادیں اور تیر سیدھا میرے سینے میں پیوست ہوجائے ۔اور میں اس بوجھل، شکستہ اور اس ناقابل برداشت زندگی کے بوجھ سے نجات پاجاؤں۔‘‘ لیکن نہ راجہ دشرتھ آتے ہیں ، نہ ان کا تیر آتا ہے۔

تسلیم کرنا چاہیے کہ اردو میں سب سے زیادہ اساطیری کہانیاں لکھنے والے فکشن نگار کانام انتظارحسین ہے۔ انتظار حسین نے اسلامی اساطیر کے ساتھ بودھ جاتک اور ہندو دیومالا کرداروںسے بھی اردو افسانے کو ثروت مندبنایا ہے۔اسے دلکشی، وسعت اور فکر انگیزی بخشی ہے۔ کچھوے، پتے، واپس، رات،دیوار، آخری آدمی،کشتی اور نرناری جیسے افسانے اس کی عمدہ مثالیں ہیں۔ ہندو دیومالائی کرداروں میں انھوں نے سیتا، رام، وشنو، منو،اور مہابھارت کے کئی اور کرداروں کو اپنے افسانوں میں سمویا ہے۔جوگندر پال کے بعض افسانوں میں بھی اساطیری واقعے خمیر کی صورت موجود ہیں۔انھوں نے اپنے افسانے ’عفریت‘ میں رام لیلا کے پس منظر میں راون کے کردار کودہشت گردی کا خوبصورت استعارہ بنایا ہے۔اسی طرح اردو کے دوسرے افسانہ نگاروں نے سیتا، رام، درگا، گنیش، راجہ کنس، رادھا، یشودھا،شری کرشن جی،ارجن، لکشمی اور متعدد ہندو اساطیر کو اپنے افسانوی کرافٹ میں ڈھالاہے۔یہی اردو زبان و ادب کی وسیع المشربی ہے،گنگا جمنی تہذیب کی علمبرداری ہے اوریہاں کے مذاہب و عقائد اور یہاں کی روایات سے محبت کی علامت ہے،ان سب کا زندہ ثبوت اور واضح دلیل ہے۔

 

Abu Bakar Abbad

Dept of Urdu

Delhi University

Delhi - 110007

Mob.: 9810532735

Email.: bakarabbad@yahoo.co.in

 



16/8/21

حکیم آغا جان عیش دہلوی کی غزل گوئی - مضمون نگار: نوشاد منظر

 


حکیم آغا جان عیش کا تعلق اس مغل خاندان سے تھا جو عہد شاہی میں نواح بخارہ سے ہجرت کرکے ہندوستان آیا۔ پہلے اس کا قیام کشمیر میں ہوا پھر روزگار کی تلاش وجستجو انھیں دہلی کی جانب کھینچ لائی۔ عیش دہلوی کے دادا حکیم خواجہ عبدالشکوراپنے زمانے کے مشہور طبیب تھے۔ یہی وجہ ہے کہ دہلی آمد پر ان کا پرتپاک خیرمقدم ہوا اور بہت جلد ان کا شمار اہل ثروت میں ہونے لگا۔

عیش کی پیدائش 1192ھ بمطابق 1779 میں دہلی کے قریب ہوئی۔ چونکہ ان کی ابتدائی زندگی کے تعلق سے کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں مگر ان کے ایک معاصر محمد ارتضیٰ خان شیدا دہلوی نے اپنی تالیف ’مراۃ الاشباہ‘ میںکچھ اشارے کیے ہیں اور یہی اشارے ان کی ابتدائی زندگی کے بارے میں معلومات فراہم کرسکتے ہیں۔ چونکہ عیش کے دادا اور والد نے مال و دولت اور بڑی جائیداد حاصل کی تھی،اس لیے اس بنیاد پر یہ قیاس لگایا جاسکتا ہے کہ عیش کی پرورش اس زمانے کے مسلم معاشرے کی رسم کے مطابق گھر پر ہوئی ہوگی۔ ’’آب حیات‘‘ میں مولانا محمد حسین آزاد نے عیش کو ’’زیور علم اور لباس کمال سے آراستہ‘‘ بتایا ہے۔ وہ فن طب میں بھی ماہر تھے۔ اس بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ عیش دہلوی نے نہ صرف مروجہ رواج کے مطابق عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی ہوگی بلکہ دیگر علوم بھی حاصل کیا ہوگا۔

عیش کی شاعری

عیش دہلوی نے یوں تو قصائد بھی لکھے ہیں مگر میں ان کی غزلیہ شاعری پر گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔انھوںنے شاعری کی ابتدا کب کی اس سلسلے میںمکمل خاموشی ہے۔ ’کلیات عیش‘ کی مرتبہ ڈاکٹر حبیبہ بانو نے بھی اس حوالے سے کوئی ٹھوس بات نہیں کی ہے۔وہ لکھتی ہیں:

’’عیش نے شاعری کب شروع کی اور اس کے کیا محرکات تھے، اس کے بارے میں ہمیں کوئی معلومات حاصل نہیں لیکن اس کی ابتدا جب بھی ہوئی ہو، انھوںنے زمانے کے دستور کے مطابق رحمت اﷲ مجرم اکبر آبادی کا تلمذ اختیار کیا۔‘‘ 

(کلیات عیش دہلوی، مرتبہ حبیبہ بانو، ص63)

عیش دہلوی نے اپنی شاعری کے ابتدائی زمانے میں مشاعروں میں شرکت کی۔ محمد حسین آزاد نے دو مشاعروں کا ذکر کیاہے۔ محمدحسین آزاد نے لکھا ہے کہ ایک مشاعرے میں وہ اور عیش دونوں شریک تھے۔ مولوی باقر بھی وہیں موجود تھے، عیش دہلوی نے اپنا ایک شعر سنایا          ؎

اے شمع صبح ہوتی ہے روتی ہے کس لیے

تھوڑی سی رہ گئی ہے اسے بھی گزار دے

اب اسے اتفاق ہی سمجھا جائے گا کہ اسی مضمون پر ایک شعر محمد حسین آزاد کا بھی تھا۔ وہ ادب اور پاس ولحاظ کی وجہ سے اپنے اس شعر کو سنانا نہیں چاہتے تھے مگر ان کے والد مولوی محمد باقر نے کہا کہ چونکہ یہ مضمون نہ پہلے عیش نے باندھا تھا اور نہ ہی آزاد نے اس لیے طبیعت اور فکر کے میلان کے اندازے کی خاطر وہ شعر ضرور سنائیں۔ محمد حسین آزاد کا شعر تھا          ؎

اے شمع! تیری عمر طبیعی ہے ایک رات

رو کر گزار یا اسے ہنس کر گزار دے

محمد حسین آزاد نے ایک اور مشاعرے کا ذکر کیا ہے، جس میں عیش دہلوی اور غالب موجود تھے۔ اس مشاعرے کی روداد محمد حسین آزاد بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’اہل ظرافت بھی اپنی نوک جھونک سے چوکتے نہ تھے۔ چنانچہ ایک دفعہ مرزا (غالب) بھی مشاعرہ میں تشریف لے گئے۔ حکیم آغا جان عیش ایک خوش طبع، شگفتہ مزاج شخص تھے۔ انھوںنے غزل طرحی میں یہ قطعہ پڑھا          ؎

اگر اپنا کہا تم آپ ہی سمجھے تو کیا سمجھے

مزا کہنے کا جب ہے اک کہے  اور دوسرا سمجھے

کلام میر سمجھے اور زبان میرزا سمجھے

مگر ان کا کہا یہ آپ سمجھیں یا خدا سمجھے

(بحوالہ کلیات عیش، ص71)

عہدغالب اور ذوق میں کسی شاعر کا یہ انداز اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ عیش اپنے عہد کے اہم شعرا میں سے ایک تھے۔ ورنہ کسی معمولی شاعر کی غالب کے کلام پر اعتراض کرنے کی کیا مجال۔

عیش دہلوی نے اپنی پوری زندگی دہلی میں گزاری مگر ان کی شاعری پر لکھنوی اثرات واضح طور پر نظر آتے ہیں۔ ان کی شاعری میں داخلیت کے ساتھ ساتھ خارجیت کے نمونے بھی موجود ہیں مگر ان کی شاعری کا بڑا حصہ خارجیت پر مبنی ہے۔ یہی نہیں محاورہ بندی، رعایت لفظی، جدت قافیہ اور دہلی کی ٹھیٹ زبان کو بھی ان کی شاعری میں نشان زد کیا جاسکتا ہے۔

کہے ہے عشق میں ناصح کہ ہے ضرر دل کا

جو واقعی ہے ضرر یہ ہے تو ضرر کیاہے

تو راہِ عشق کے صدموں سے مت ڈرا واعظ!

جو سرفروش ہیں اس رہ میں ان کو ڈر کیا ہے

ڈاکٹر حبیبہ بانو نے عیش دہلوی کی زبان اور شاعری پر گفتگو کرتے ہوئے لکھا ہے:

’’عیش کا یہ دعویٰ ہے کہ ان کے کلام میں ’طرز سخن میر کی بو‘ ہے، ٹھیک نہیں۔ نہ اسلوب بیان کے لحاظ سے، نہ کیفیت کے پہلو سے، وہ کسی طرح میر کے تتبع نہیں کہے جاسکتے۔ ہاں یہ ٹھیک ہے کہ ان کی زبان بہت صاف ہے۔ اس میں بالعموم وہ ثقالت بھی نہیں جو اس عہد کے بیشتر شعرا کا طرئہ امتیاز ہے اور تو اور زبان کے معاملے میں انھوںنے شاہ نصیر کی بھی پیروی نہیں کی، حالانکہ وہ نصیر کو سب سے بڑا شاعر تسلیم کرتے تھے۔ بیشتر عیش کی زبان ٹھیٹ اردو زبان ہے۔ فارسی، عربی کی بوجھل ترکیبوں سے پاک جیسی وہ بولی جاتی ہے۔‘‘(کلیات عیش دہلوی، حبیبہ بانو، ص76)

چند اشعار دیکھیے       ؎

میں نے کچھ اور کہا اس نے سنا اور سے اور

تھا سوال اور جواب اس نے دیا اور سے اور

کس منہ سے ہم کریں گے بھلا یار کا گلہ

ہم کو تو عیش! شکوۂ اغیار بھی نہیں

بدلتا ہے یہ ہر دم رنگ کیا کیا

دکھاتا ہے فلک نیرنگ کیا کیا

اس قسم کے بہت سے اشعارہیں جن میں عیش دہلوی کی زبان دانی واضح طور پر نظر آتی ہے۔ ان کی زبان سلیس اور سادہ ہے اور بقول حبیبہ بانو یہی رنگ ان کی پہچان بھی ہے اور ان کے معاصرین کے یہاں یہ سادگی نظر نہیں آتی ہے۔گرچہ عیش دہلوی کے یہاں لکھنوی رنگ حاوی ہے مگر ان کے بعض اشعار سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہ دہلی کے مقابلے لکھنؤ کی زبان کو دوئم درجے کی زبان تسلیم کرتے تھے۔ بلکہ وہ تو ناسخ اور آتش کو بھی ذوق، ظفراور اپنی زبان دانی کے آگے ہیچ تصور کرتے تھے۔

ناسخ و آتش سے کہہ دو کوئی تم نے بھلا

طرز عیش و حضرت ذوق و ظفر پائی کہاں!

عیش دہلوی کی شاعری کا مطالعہ کرتے ہوئے ہمیں یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہ محاورے پر قدرت رکھتے تھے۔ بلکہ کئی اشعار ایسے ہیں جنھیں پڑھتے ہوئے یہ احساس ہوتا ہے کہ انھوںنے محاوروں کو جوں کا توں استعمال کرلیا ہے۔ چند اشعار دیکھیے      ؎

مثل ہے جو کہ چھوٹا منہ بڑی بات اس جگہ سچ ہے

یہ منہ پایا ہے کس نے نام لے جو تیری عظمت کا

عیش! زلف اُس رخ پہ چھٹتی ہے تو ہو جاتی ہے شام

اور اٹھتی ہے تو ہو جاتا ہے تڑکا نور کا

کہا جو رحم مرے حال پر ذرا کھائو

تو ہنس کے بولے کہ چلتے بنو ہوا کھائو

عیش دہلوی کی شاعری میں خارجیت ضرور ملتی ہے مگر یہ بھی سچ ہے کہ ان کی شاعری کا ایک حصہ ایسے اشعار پر مبنی ہے جس میں اخلاقی تعلیمات کو عام کرنے پر توجہ صرف کی گئی ہے۔ چونکہ عیش دہلوی خود بھی مذہبی آدمی تھے لہٰذا ان کی شاعری میں مذہبی تعلیمات کا پایا جانا تعجب کی بات نہیں۔ ان کے کئی اشعار میں بزرگوں سے ان کی محبت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ عیش کے کلام میں مذہبی اور اخلاقی پہلوئوں کا ذکر جابجا نظر آتا ہے        ؎

عیش سب اپنی برائی ہے نہیں کوئی برا

سب بھلے ہیں یہ اگر آپ ہے انساں اچھا

مروت جس کو کہتے ہیں وہ شرط آدمیت ہے

جہاں میں چاہیے ہے پاس ہو انساں کو انساں کا

عیش دہلوی نے اپنے معاصر عہد پر بھی خامہ فرسائی کی ہے۔ دہلی کی تباہی کو انھوں نے بہت قریب سے دیکھا تھا۔ 1857 کی ناکام بغاوت پر اس عہد کے کئی شعرا وادبا نے اپنے خیالات ظاہر کیے ہیں۔ خطوط غالب میں بھی اس کی جھلک ملتی ہے۔ فتح کی امید اور شکست خوردہ معاشرے کا ذکر عیش دہلوی کی شاعری میں بھی موجود ہے         ؎    

کیا جانے اہل دہلی سے کیا بات ہوگئی

جو دہلی ایسی مورد آفات ہوگئی

ہر شب شب برأت تھی ہر روز روز عید

یا اب وہ جا محل مخافات ہوگئی

عیش دہلوی کا خیال ہے کہ 1857 کے بعد دہلی کی شان نہ صرف خاک میں مل گئی بلکہ اب اس کا نام ونشان بھی مٹ گیا، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہر مکان زمین دوز ہوگیا ہے۔ وہ دہلی جہاں کی ہر شب اپنی رونق کی وجہ سے شب برأت اور عید معلوم ہوتی تھی آج نہ صرف ویران ہے بلکہ یہاں ڈر اور خوف کا بسیرا ہے۔

عیش کی شاعری کے کئی پہلو ہیں۔ انھوںنے لکھنؤ اسکول کی پیروی کرتے ہوئے رعایت لفظی کا استعمال کیا حالانکہ اہل دہلی اس کو پسند نہیں کرتے تھے۔ وہ محاوروں کے استعمال کو تو پسند کرتے تھے مگر رعایت لفظی کی بدنما شکل کوانھوں نے پسند نہیں کیا۔ عیش دہلوی کے یہاں رعایت لفظی کی مثال دیکھیے      ؎

اس نے زخموں پہ کی نمک پاشی

ہم سے حق نمک ادا نہ ہوا

ہاتھ کو پہلے تو اپنے کھینچ لے

پھر جدھر چاہے تو لمبے پیر کر

عیش دہلوی کے کلام کو پڑھتے ہوئے دو تین باتیں بالخصوص متوجہ کرتی ہیں۔ اول ان کے اشعار میں جمع الجمع کے ایسے الفاظ ہیں جو شاید ہی کسی دوسرے شاعر نے استعمال کیے ہوں۔ عیش دہلوی جیسا شاعر جسے اپنی زبان دانی پر نہ صرف فخر ہو بلکہ وہ خود کو آتش اور ناسخ سے اہم بتاتا ہو وہ اس طرح جمع الجمع کا استعمال کرے گا۔ چند اشعار دیکھیے جن میں یہ الفاظ نہ صرف کھٹکتے ہیں بلکہ مناسب بھی معلوم نہیں ہوتے          ؎

ساتھ اغیاروں کو لے لے کر پھرا کون بھلا

یہ سرا پہلے کدھر سے کہو شر کا نکلا

وہ نگاہیں کہ جو دل چھنتے تھے زہادوں کے

اور پابند وہ دل کرتے تھے آزادوں کے

اور وہ کرلیتے تھے قابو میں دل عبادوں کے

بید کی طرح سے دل کانپے تھے جلادوں کے

ان اشعار میں اغیاروں، زہادوں اور عبادوں کی ترکیب غلط ہے اور جمع الجمع کا یہ طریقہ نامناسب معلوم ہوتا ہے۔ اسی طرح ان کے ایسے اشعار بھی ہیں جن میں تذکیر وتانیث کو مروجہ اصول کے برخلاف استعمال کیا گیا ہے        ؎

دیکھنا چاہیے لیلیٰ کو بچشم مجنوں

پوچھنا چاہیے بلبل سے چبھن غنچے کا

میں تو کہتا تھا وہ آویں گے وہ کہتا تھا نہیں

مجھ میں اور دل میں یہی رات کو تکرار رہا

ظاہر ہے چبھن اور تکرار مونث استعمال ہوتے ہیں مگر عیش دہلوی نے انھیں مذکر استعمال کیا ہے جو کہ مناسب نہیں۔

عیش دہلوی کے یہاں تعلّی کے اشعار بھی ملتے ہیں۔وہ ایک طرف جہاں خود کو ذوق اور ظفر کا ہم پلہ قرار دیتے ہیں وہیں اپنی زبان دانی پر فخر کرتے ہوئے آتش و ناسخ کو کمتر بھی ثابت کرتے ہیں۔ وہ یہیں نہیں رکتے بلکہ اپنی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں    ؎

عیش! سن یہ شعر روح میر بولی قبر میں

اے جزاک اﷲ زباں سحر آفریں اتنی تو ہے

عیش دہلوی کے یہاں عشق کی مختلف کیفیات کا ذکر بھی ملتا ہے۔ ان کے یہاں عشق کا روایتی تصور ضرور ہے مگر اس میں بھی ان کی انفرادیت نظر آتی ہے:

نہیں عاشق ہوئے گر تم تو رنگت زرد پھر کیوں ہے

نہیں گر دل لگی صاحب تو دل درد پھر کیوں ہے

نہ ہوش جان نہ پروائے تن نہ نیند نہ بھوک

جہاں میں عشق بتاں کا غرض مآل یہ ہے

جلتے جل جاویں مگر شمع کی مانند کبھی!

اُف بھی کرتے نہیں دم عشق کا بھرنے والے

عیش دہلوی اور ان کے معاصر شعرا نے عشقیہ موضوعات کو پیش کرنے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی باوجود اس کے محبوب کے سراپے کو بیان کرنے میں ایک طرح کی دوری ہی بنائی اور شاید اس کی بڑی وجہ عشق میں وصال اور وصال کی کیفیت سے ناآشنائی تھی۔ مگر عیش دہلوی کی شاعری کو پڑھتے ہوئے ہمیں ایسے اشعار بآسانی مل جاتے ہیں جن میں محبوب کے حسن کے ساتھ ساتھ اس کے سراپے کو بیان کیا گیا ہے         ؎

دیکھ کر اس بہار خوبی کو

ہوگیا گل کا رنگ و بو کم ہے

مزہ ملے ہے جنھیں قتل بے گناہوں سے

خدا بچائے ان آفت بھری نگاہوں سے

محبوب کے ناز و ادا کو عیش نے یوں بیان کیا ہے     ؎

وعدہ آنے کا کیا تھا کل تو کچھ تسکین تھی

وہ نہ آئے آج درد دل میں پھر شدت سی ہے

عیش دہلوی کے یہاں ایسے اشعار بھی ہیں جن میں دنیا کی بے ثباتی کو پیش کیا گیا ہے، جو لوگ مال و دولت پر غرور کرتے ہیں ان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے عیش دہلوی کہتے ہیں کہ یہ مال و دولت فنا ہونے والی چیز ہے۔

سمجھ لے دولت دنیا کوئی دم ہی فنا ہوگی

نہ ہونا اس پر نازاں یہاں اﷲ ہی اﷲ ہے

حقیقت کچھ نہیں دنیا کی دنیا چند روزہ ہے

نہ ہو اس کے لیے حیراں یہاں اﷲ ہی اﷲ ہے

اردو کے بیشتر شعرا نے تلمیحات کا استعمال کیا ہے۔ غالب کی تلمیحات پر مبنی کتابیں بھی شائع ہوچکی ہیں۔ عیش دہلوی کے یہاں بھی تلمیحات کا ذکر ملتا ہے     ؎

کیوں زلیخا یوسف کنعاں کو زنداں چاہیے

چاہیے اس کے لیے یہ جس کو ناداں چاہیے

عیش دہلوی نے انسانیت، امن اور یکجہتی کو اپنی شاعری کے ذریعے فروغ دینے کی کوشش کی ہے۔ ان کے بعض اشعار میں اس کی جھلک صاف طور پر نظر آتی ہے۔ میردرد کا ایک شعر سنیے          ؎

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو

ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کرو بیاں

اب عیش دہلوی کا شعر دیکھیے      ؎

چاہنے کے واسطے بھی کوئی انسان چاہیے

تم بھی ایسے ہو کہ جو تم کو مری جاں چاہیے

اتحاد کی اہمیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں          ؎

دیکھتے ہیں عیش جو کثرت میں وحدت کا ظہور

ان کے یکساں جلوئہ دیر و حرم آنکھوں میں ہے

عیش دہلوی کے یہاں ناسازگار حالات میں بھی جینے کا حوصلہ ملتا ہے      ؎

اس کجروی چرخ سے تو ہوکے تنگ دل

گھبرانہ عیش دیکھ خدا کار ساز ہے

بہرحال عیش دہلوی کے دو دیوان منظر عام پر آئے۔ حبیبہ بانو کی فراہم کردہ معلومات کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان کے پہلے دیوان کے دو قلمی نسخے بھی موجود ہیں جو انڈیا آفس لائبریری لندن اور بنارس ہندو یونیورسٹی کے کتب خانے میں موجود ہیں، اس کے علاوہ انتخاب بھی ہے۔ دوسرے دیوان کا ایک نسخہ ہے جو لاہور میوزیم میں موجود ہے۔ حالانکہ حبیبہ بانو نے یہ لکھا ہے کہ لاہور کے نسخے پر یہ جملہ درج ہے کہ ’’ اس دیوان کا اصلی نسخہ حکیم آغا جان عیش کے خاندان میں موجود ہے۔ اس کی یہ نقل ہے‘‘ مگر باوجود تلاش وجستجو کے عیش دہلوی کے خاندان والوں کا حال معلوم نہ ہوسکا۔ حبیبہ بانو نے نہایت تفصیل کے ساتھ ان دونوں دیوان کی تفصیلات درج کی ہیں۔ عیش دہلوی کا جائزہ لیتے ہوئے ڈاکٹر حبیبہ بانو نے نہایت اہم بات کہی ہے۔ وہ لکھتی ہیں۔

’’بے شک ہم انھیں تغزل اور معاملات حسن وعشق کے پہلو سے کوئی غیرمعمولی اہمیت نہیں دے سکتے لیکن زبان کے ارتقائی سفر میں اسے بیانیہ صلاحیت اور وسعت عطا کرنے میں ان کی خدمات بھولنے کی چیز نہیں۔ افسوس کہ ان کے متعدد دوسرے معاشروں کی طرح ان کا دیوان بھی آج تک شائع نہیں ہوا تھا۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہوئی کہ غدر کے باعث ملک کی سیاسی حالت میں عظیم انقلاب آگیا اور اس کے فوراً بعد یہاں غیر ملکی تسلط مستقل طور پر قائم ہوگیا۔ انگریزی تعلیم کے زیر اثر رنگ سخن بھی بدل گیا اور ہم پرانے سخنوروں کی طرف سے کچھ غافل اور بیگانہ سے ہوگئے۔ شکر ہے کہ حالات نے پھر پلٹا کھایا ہے اور ہم اپنے مدفون خزانوں کو کھود نکالنے اور انھیں دنیا کے سامنے رکھنے کی قدروقیمت سے واقف ہی نہیں ہوئے بلکہ ان پر فخر بھی کرنے لگے ہیں۔‘‘

اب اسے اتفاق کہیے یا وقت کی ستم ظریفی کہ اپنے عہد کا ممتاز شاعر اور صاحب دیوان آغا جان عیش دہلوی کو نئی نسل نے بالکل بھلا دیا ہے۔ مجھے یہ کہنے میں تامل نہیں کہ بہت سے اہل علم بھی عیش دہلوی کی شاعری تو دور نام اور عہد سے بھی واقف نہیں ہوں گے۔ بعض لوگ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ان کی شاعری اس کمال کو نہیں پہنچتی کہ زمانہ انھیں یاد رکھے مگر ہمیں دو باتیں یاد رکھنی چاہیے اول عیش دہلوی کی شاعری کا دائرہ وسیع تر نہ سہی پھیلا ہوا ضرور ہے۔ دوسری بات غالب کے معاصر کے طور پر بھی ان کا ذکر نہ کرنا ان کے ساتھ ناانصافی ہے۔


Dr. Naushad Manzar

A-33/2, Johri Farm

Gali No.: 6, Jamia Nagar

New Delhi - 110025

Mob.: 9718951750

 

ماہنامہ  اردو دنیا، جولائی 2021

 

 

 

 

 

 

 

 

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...