30/1/23

تدوین متن: روایت اور مسائل، عبدالباری قاسمی


تلخیص

تدوین تحقیق کا بہت ہی اہم شعبہ ہے،اس کے لغوی معنی جمع کرنا، مرتب کرنا اور تالیف کرنا وغیرہ آتے ہیں، اصطلاح میں کسی بھی اہم متن کو  مصنف کی  منشا اور مقصود کے مطابق تحقیق و تخریج، تحشیہ، تعلیق اور مقدمہ سے مزین کرکے اور تحریفات و الحاقات اور سرقہ وغیرہ سے متون کو پاک و صاف کرکے منظر عام پر لانے کا نام تدوین ہے۔

اردو میں اسے تدوین کے ساتھ ساتھ متنی تنقید اور ترتیب متن بھی کہا جاتا ہے اور انگریزی میںاسے textual criticism بھی کہتے ہیں۔ اگر عالمی سطح پر تدوین کی روایت کا جائزہ لیں تو اسے چار زمروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ یونانی اور لاطینی نسخوں کی تدوین،سنسکرت نسخوں کی تدوین، انگریزی کی قدیم کتابوں کی تدوین اور عربی، فارسی اور اردو نسخوں کی تدوین۔  اول الذکر یعنی یونانی اور لاطینی میں اس کی روایت کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتاہے کہ ہومر، ایلیڈ اور اوڈیسی وغیرہ اور ان کے ساتھ قدیم ڈراموں کی تدوین اس کے ابتدائی نقوش ہیں، جبکہ سنسکرت میں وید،پران،رامائن اور مہابھارت وغیرہ کو اولین تدوین کہا جا سکتا ہے۔

انگریزی زبان میں چاسر اور شیکسپیئر وغیرہ کی ادبی کتابیں تدوین کے اولین نمونے ہیں۔جہاں تک آخری زمرے کا تعلق ہے یعنی عربی،فارسی اور اردو تو عام طور پر لوگوں نے اس حوالے سے لکھا ہے کہ سب سے آخر میں ان زبانوں میں تدوین کی شروعات ہوئی اور کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ مغرب کے اصولوں کو ہی سامنے رکھ کر عربی میں بھی تدوین کا سلسلہ شروع ہوا،اگرچہ قدیم تدوینی نمونے ان زبانوں میں دریافت نہیں؛مگر قرآن اور احادیث وغیرہ کی جو تدوین ہوئی ہے یہیں سے تدوین کے عمدہ اصول و ضوابط دریافت ہوئے ہیں، اس قدر معتبر اور مستند تدوین ہمیں کسی اور زبان میں نہیں ملتی۔ رہا اردو کا تعلق تو یہاں بھی ایک طویل زمانے سے تدوین کا سلسلہ جاری ہے اورابتداسے لے کر اب تک تدوین کے بہت سے عمدہ نمونے ہمارے سامنے آچکے ہیں۔باضابطہ اردو میں تدوین کے نقوش کا جائزہ لیں تو سر سید احمد خاں اور ان کے رفقا کے یہاں اس کے ابتدائی نقوش ملتے ہیں،اس کے بعد باضابطہ تدوین کی بنیاد حافظ محمود شیرانی اور امتیاز علی خاں عرشی وغیرہ نے رکھی۔

تدوین کے اصول و ضوابط کی اگر بات کریں تو سب سے پہلے دہلی یونیورسٹی نے مخطوطہ شناسی کا شعبہ قائم کیا تھا یہیں سے اصول و ضوابط کے حوالے سے خواجہ احمدفاروقی اور دیگر محققین کے مضامین آنے لگے اور بعد میں ڈاکٹر خلیق انجم نے متنی تنقید کے نام سے مبسوط کتاب لکھی۔

اس زمانے سے لے کر آج تک بڑی تعداد میں تدوین کے نمونے سامنے آئے اور آرہے ہیں۔ اسی فن کی دین ہے کہ سولہویں اور سترہویں صدی تک کی کتابیں آج ہمارے سامنے ہیں۔

کلیدی الفاظ

تدوین، متن، متنی تنقید، تخریج، تحشیہ، تعلیق، اختلاف نسخ، الحاقیات،گلشن ہند، مجموعۂ نغز، تذکرہ ٔ شعرا، تذکرہ ٔ شعرا ئے اردو، تذکرہ مسرت افزا،خلاصہ ٔ تذکرۃ الاکابر،قطعات دلدار،سفرآشوب قلق،کلام شاد، مثنوی راجہ کلیان سنگھ عاشق،مخطوطات،مخطوطہ شناسی،دستورالفصاحت،نامانوس،سرقہ،

تدوین عربی زبان کا لفظ ہے باب تفعیل کا مصدر ہے، اس کا مادہ د، و، ن ہے۔ عربی میں اس کے معنی جمع کرنا مرتب کرنا اور تالیف کرنا وغیرہ ہیں۔ عربی کی مشہور لغت مصباح اللغات میں اس کی تعریف ان الفاظ میں درج ہے’دون الدیوان، ترتیب دینا، رجسٹر میں نام لکھنا۔1؎ صاحب نور اللغات نے ان الفاظ میں تعریف کی ہے تدوین (مونث) جمع کرنا مرتب کرنا 2؎

مشہور انگریزی لغت’آکسفورڈ ڈکشنری ‘میں اس کی وضاحت  اس طرح کی گئی ہے کہ ’’عالمانہ تحقیق و تدوین اس لیے کی جاتی ہے کہ کسی تحریر،مخطوطہ یا طبع شدہ کام کو کاتب کی غلطیوں یا ملاوٹ سے پاک کیا جا سکے تاکہ تحریر مصنف کی منشا کے مطابق ہو جائے۔‘‘

اصطلاحی تعریفاصطلاح میں کسی بھی اہم متن کو مصنف کی منشا اور مقصود کے مطابق تحقیق وتخریج،تحشیہ، تعلیق اور مقدمہ سے مزین کر کے منظر عام پر لانے کا نام ہے۔پروفیسر سیدمحمد ہاشم نے اس کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے متن کو اس کوشش کے ساتھ از سر نو مرتب کرنا کہ یہ ہرلحاظ سے وہی متن ہے جو اس کے مصنف نے پیش کیا تھا، ترتیب یا تدوین متن کہلاتا ہے۔ 3؎

اردو میں تدوین متن کی اصطلاحیں

 اردو میں تدوین متن کے لیے محققین متعدد اصطلاحات استعمال کرتے ہیں جیسے ترتیب، تالیف، تدوین اورمتنی تنقید وغیرہ۔ ترتیب مختلف تحریروں کو ایک جگہ جمع کرنے کا نام ہے، یہاں مرتب کو متن کی صحت سے کوئی مطلب نہیں ہوتا۔ تالیف اپنی یا دوسرے کی تحقیقات یا مضامین وغیرہ کو مرتب کرنے کا نام ہے۔ تدوین ایسا تحقیقی عمل ہے جہاں مشمولات کو کیف مااتفق مرتب نہیں کر سکتے بلکہ منشائے مصنف کو بروئے کار لانا ہوتا ہے، اس اعتبار سے یہ ادبی تحقیق کی اہم شاخ ہے۔

ڈاکٹر خلیق انجم نے ’متنی تنقید‘ کے نام سے کتاب بھی لکھی اور اس فن کا نام بھی انھوں نے ’متنی تنقید‘ رکھا۔ یہ انگر یز ی اصطلاح textual critism  کا ترجمہ ہے اور اہم بات یہ ہے کہ مشہور انگریزی مصنف کاترے کی انگریزی کتاب ہے   Introduction to Textual Critism An۔کاتر ے کی یہ کتاب سنسکرت اورمتون وغیرہ کی تصحیح اور انگریزی روایت پرمنحصر ہے۔ مندرجہ بالا زبانوں میں کاترے کی تحریر کے مطابق مدون متن کو متن میں اصلاح کاحق بھی ہے، وہ ضرورت کے مطابق متن کی تصحیح کرسکتا ہے، مگر اردو میں جو تدوین کا سلسلہ ہے وہ عربی و فارسی کے راستے سے آیا ہے، یہاں مدون کو اصلاح اور درستگی کا کوئی حق نہیں، اسے متن کو اسی شکل میں پیش کرنا ہے جیسا کہ مصنف کی منشا ہے ورنہ الحاق یا سرقہ وغیرہ کے زمرے میں شامل ہو جائے گا۔عربی اور فارسی کے لحا ظ سے اردو میں ’ تدوین متن‘ کی اصطلاح زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے۔ڈاکٹر تنویر احمد علوی نے اپنی مشہور کتاب ’اصول تحقیق و ترتیب متن‘ میں ’ترتیب متن‘ کی اصطلاح استعمال کی ہے،یہ اصطلاح بھی مناسب ہے مگر ترتیب کا لفظ اردو میں انتخاب کی جگہ بھی خوب استعمال ہوتا ہے جیسے غزلوں،نظموں اور افسانوں وغیرہ کے انتخاب کو بھی ترتیب سے موسوم کیا جاتا ہے۔

متن

عربی زبان کا لفظ ہے، لغت میں اس کے متعدد معانی بیان کیے گئے ہیں۔ جیسے سخت اونچی زمین، مضبوط، پیٹ، پشت، لحاف وغیرہ کا وہ حصہ جو درمیان میں ہوتا ہے۔ کتاب کی وہ عبارت جس کی تشریح کی جائے۔ مشہور لغت ’فرہنگ آصفیہ‘ میں بھی اسی طرح کے معانی بیان کیے گئے ہیں ’’متن (ع)اسم مذکر (پشت)پیٹھ،مضبوط،استوار،مستحکم،سخت اور اونچی زمین،مجازاً کتاب کی اصل عبارت جس کی شرح کی جائے،وہ عبارت جو کتاب کے بیچ میں ہو،بیچ، درمیانی، وسط، درمیانی حصہ جیسے دوشالے کامتن، کتاب کامتن( بہ فتح تائے مثنات ) پڑھنا غلط ہے۔‘ 4؎

اصطلاح میں متن سے مراد وہ عبارت ہے جسے پڑھنا اور سمجھنا آسان ہو۔ عام طور پر تاریخی اہمیت کی حامل وہ عبارتیں مراد لی جاتی ہیں جنھیں ترتیب دینے کے مقصد سے دریافت کیا گیا ہو۔ ڈاکٹر تنویر احمد علوی نے اپنی مشہور کتاب’اصول تحقیق وتر تیب متن‘ میں متن کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے متنText کسی ایسی تحریر اور نقوش تحریر کو کہتے ہیں جن کی قرأت یا معنوی تفہیم ممکن ہو۔ ‘‘5؎

ڈاکٹر تنویر احمد علوی کی تعریف سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ سینہ بہ سینہ منتقل ہونے والی چیزیں متن میں شامل نہیں۔

ڈاکٹرخلیق انجم نے اپنی کتاب ’متنی تنقید‘ میں اس تعلق سے تفصیلی گفتگو کی ہے۔ ان کی تعریف میں چھ اہم نکات ہیں جن کی رو سے ہرتحریرشدہ بامعنی عبارت متن ہے خوا ہ نظم ہو یا نثر، قدیم ہو یا جدید۔ نکات حسب ذیل ہیں

1       متن کے لیے ضروری ہے کہ وہ تحریری ہو۔

2       متن ایسی تحریر ہے جوکاغذ پرمطبوعہ یا غیر مطبوعہ مختلف دھات کے ٹکڑوں، مٹی یا لکڑی کی بنائی ہوئی لوحوں، پتوں، پتھروں یا چھڑوں اور چٹانوں وغیرہ کسی بھی چیز پر ہو سکتی ہے۔

3       متن نظم بھی ہوسکتا ہے اور نثربھی۔

4       متن ہزاروں سال قدیم بھی ہوسکتا ہے اور ہمارے عہد کے کسی مصنف کی تحریربھی، اس کے لیے وقت کی کوئی قید نہیں۔

5       ہزاروں صفحوں پر پھیلی ہوئی ہو یا ایک صفحے کی مختصرسی تحریر، دونوں متن ہو سکتے ہیں۔

6       متن کے لیے ضروری ہے کہ بامعنی ہو اور اگر سیکڑوں برس کے عرصے میں نقل درنقل کی وجہ سے متن مسخ ہو گیا ہو تو اس کے اصل الفاظ کا تعین کیا جا سکے۔ 6؎

 تدوین متن

 لغت میں تدوین متن کو جوڑ نا، اکھٹا کرنا، مرتب کرنا وغیرہ کو کہتے ہیں۔

اصطلاح میں مصنف کی منشا یاانشا کے مطابق متن کو مرتب و مدون کرنا، تدوین متن کہلاتا ہے۔ اس میں مدون کی حتی المقدور کوشش ہوتی ہے کہ فن پارے کو اسی اندازسے منظر عام پر لایا جائے، جو مصنف نے پیش کیا تھا۔ قدیم متون عام طور پرمخطوطات وغیرہ کی شکل میں ہوتے ہیں، ان کو سمجھنے کے لیے زمانہ، قلم، کاغذ، املا، رسم الخط اور عہد کی تاریخ وغیرہ کا بھی علم ضروری ہے۔ اگر مدون ان چیزوں کو جانتا ہے تبھی وہ مآخذ ومراجع آسانی سے تلاش کرسکتا ہے اور ایک اچھا متن مدون و مرتب کر کے قارئین کے سامنے پیش کر سکتا ہے۔

 تدوین و تحقیق کا رشتہ اور اہمیت

تدوین تحقیق کی ایک کڑی اورشاخ ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ مصنف کی منشا اور انشا کے مطابق صحیح متن مرتب کیا جائے۔ ادبی تحقیق کا اصل دارو مدار متون کی صحیح تدوین پر ہی ہے۔اس اعتبار سے اس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے اور اس کا تعلق تحقیق سے مزید گہرا ہو جاتا ہے۔

 اگر تدوین متن کا فریضہ نہ انجام دیا جائے تو ہم متون کوتغیر و تبدل اور الحاق وسرقہ وغیرہ سے پاک نہیں کر سکتے اور اس کے بغیر زبان و ادب کی تاریخ بھی نامکمل ہے۔ اس سلسلے میں رشید حسن خاں نے اپنے خیالات کا اظہار کر تے ہوئے لکھا ہے کہ ’حقائق کی بازیافت، صداقت کی تلاش، حقائق کا تعین اور ان سے نتائج کا استخراج ادبی تحقیق کا مقصود ہے یا ہونا چاہیے،تدوین یعنی متن کی تصحیح و ترتیب اس سے الگ ایک چیز ہے جس کے اپنے مسائل و مطالبات ہیں تحقیق اورتدوین بجائے خود دو مستقل موضوع ہیں، ہاں ضرور ہے کہ ان کی حدیں کہیں کہیں مل جاتی ہیں۔ تحقیق کا لفظ عام طور سے ان دونوں پرحاوی سمجھا جاتارہا ہے مگر یہ اچھا خاصا خلط مبحث ہے۔‘ 7؎

 تحقیق نام ہی ہے تلاش وجستجو کا جب تک ہم قدیم مخطوطات کو تلاش نہ کریں، تدوین کاعمل انجام نہیں دیا جا سکتا۔ تدوین متن کے باب میں فراہمی متن، تصحیح متن، تحقیق متن، تنقیدمتن اور توضیح متن کی بہت اہمیت ہے۔

 تدوین متن کے بنیادی مراحل و مراتب

 متن کی تدوین وتر تیب کے چند بنیادی اور اہم مراحل ہیں، جن کو بروئے کار لا کر ہی تدوین متن کا فریضہ اچھے انداز میں انجام دیا جا سکتا ہے

1       صحت متن اور صحیح املا کے مطابق ترتیب کی ہرممکن کوشش کی جائے۔

2       ممکنہ حد تک متن سے اغلاط و تحریفات کو دور کیا جائے۔

3       متن سے الحاقیات و غیر کو ختم کیا جائے۔

4       مجمل حوالہ جات کی تشریح کی جائے۔

5       متن کے مباحث سے متعلق ضروری استدراکات

6       غیر معروف اشخاص، کتب اور مقامات سے متعلق حواشی و تعلیقات

7       مصطلحات، مشکل اور غیر مانوس الفاظ کی فرہنگ سازی

8       آیات قرآنی، احادیث، اشعار، اقوال اور اقتباسات وغیرہ کی تخر یج

9       نا قابل استفادہ اور ناقابل قرأت متون کو پڑھنے کے قابل بنانا

10     سہوکی نشاندہی خواہ مصنف کی ہو یا کسی اور کی۔

11     الفاظ متروکہ کی نشاندہی اور ان کے معانی کو بیان کرنا۔

12     رسم الخط کی تبدیلی کی نشاندہی

یہ ایسی چیزیں ہیں،جن کا جاننا ہرمدن ومرتب کے لیے ضروری ہے۔ اس لیے کہ ان مراحل سے گزرے بغیر تدوین کافریضہ انجام نہیں دیا جاسکتا۔

تدوین متن کے اصول اور طریقہ کار

تدوین متن کے دواصول ہیں ایک عام اور دوسرا خاص۔ پہلی قسم کاتعلق ہرطرح کے متن سے ہے خواہ وہ کسی بھی طرح کے متن کومدون و مرتب کر رہا ہومگر دوسری قسم کاتعلق خاص موضوع یامخصوص مخطوطہ وغیر ہ سے ہے۔

 تدوین متن کے عام اصول

1       نسخوں کی تعداد اور ان کے مقامات کا علم مدون متن کو یہ معلوم ہونا چاہے کہ جس مخطوطے یا کتاب کی تدوین کر رہا ہے، اس کے کتنے نسخے ہیں اور کہاں کہاں موجود ہیں۔

2       نسخوں کا انتخاب جہاں مختلف اور متعد دنسخے ہوتے ہیں وہاں مدون کو ایک یا چندنسخوں کو منتخب کرناپڑتا ہے، البتہ وہ کیسے نسخوں کو منتخب کرے گا اس کے بھی اصول و ضوابط ہیں۔

3       تقابل و موازنہ

4       حواشی کا التزام مدون اختلاف نسخ اور دیگر اہم چیزیں جومتن میں شامل نہیں کر سکتے انھیں حاشیے میں درج کرے تا کہ قاری کو سمجھنے میں دشواری نہ ہو۔

5       فرہنگ سازی اس میں مدون مشکل الفاظ و اصطلاحات کی تشریح بھی کرتا ہے اور غیر مانوس الفاظ، تلمیحات اور متروک الاستعمال الفاظ وغیرہ کی تشریح کرتا ہے۔

 تدوین متن کے خاص اصول

متن کا تعلق نثر اور شعر دونوں سے ہو سکتا ہے۔ مدون جس چیز کی تدوین کررہا ہے، اس کے کیا تقا ضے اور کیا اصول ہیں، انھیں جاننا ضروری ہے۔

 اگر کوئی شعری متن مدون کررہا ہے تو اسے شعر کی جملہ اصناف کا علم ہونا چاہیے۔ اگر نثری کتاب ہے تو اس کا تعلق جس صنف سے بھی ہواس سے واقفیت کے ساتھ ساتھ عہد بہ عہد املا کی تبدیلی، الفاظ کی تبدیلی اور رائج شدہ املا اور الفاظ سے متعلق عمدہ معلومات ہونی چاہیے۔

  تدوین متن کی روایت اردو میں تدوین متن کی روایت عربی اور فارسی کے راستے پہنچی ہے اور جن اصول و ضوابط کو پیش نظر رکھ کر علمائے کرام اور محدثین نے تدوین کا فریضہ انجام دیا تھا وہی اصول و ضوابط اردو تدوین و تحقیق کے لیے بھی مشعل راہ بنائے گئے،اگر مطلقا تدوین کے آغاز و ارتقا کی بات کریں تو بہت وثوق سے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ تدوین متن کی ابتدا قرآن کریم کی تدوین سے ہوئی،قرآن پاک کا نزول چوں کہ وقفہ دروقفہ ہوا اس لیے کاتبین وحی صحابہ کرام مختلف اشیا پر اسے تحریر کرتے رہے اور ساتھ ساتھ اسے حفظ بھی کرتے رہے باضابطہ تدوین قرآن کا کارنامہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں انجام دیا گیا،اس کے بعد حضرت عمر فاروق نے ایک سال کے عرصے میں اسے پایہ تکمیل تک پہنچا دیا،حضرت عثمان غنی کے دور میں اختلاف قرأت بہت زیادہ تھا اس وجہ سے کتابی صورت میں جمع کرنے کا کام مکمل کیا گیا۔حضرت عثمان کے حکم سے حضرت حفصہ کے صحیفوں سے قرآن کریم نقل کرنے کا سلسلہ شروع ہوا اور تدوین کا عمل انجام دیا گیا۔

تدوین حدیث حدیث کی تدوین کے لیے محدثین اور علما نے جو اصول و ضوابط مرتب کیے ان سے مضبوط اور مستحکم اصول طے کرنا ممکن نہیں،ایک ایک حدیث کی صحت کو جاننے کے لیے کئی کئی سو میل تک سفر کیا،ان کا طریقہ کار تھا کہ جب تک آخری چشم دید راوی تک نہیں پہنچ جاتے کسی روایت کو بیان نہیں کرتے تھے اسی وجہ سے فن اسماء الرجال کا بھی وجود ہوا،حضور اکرمؐ کی زندگی میں ہی دس ہزار سے زائد احادیث کی تدوین و ترتیب ہو چکی تھی اس کے بعد صحابہ کرام نے اس سلسلے کو آگے بڑھایا،پھر تابعین اور تبع تابعین وغیرہ نے۔محدثین نے صحاح،سنن،معاجم،مراسل،امالی اور عوالی وغیرہ کے نام سے بڑی تعداد میں احادیث کے مجموعے تیار کیے۔صرف مسند کے نام سے تقریبا 96مجموعے تیار کیے گئے۔

عربی میں تدوین متن عربی میں تدوین متن کی روایت قدیم ہے،فن اصول حدیث اور فن اسماء الرجال سے عربی تدوین نے بہت کچھ استفادہ کیا ہے مگر اسے باضابطہ فن بنانے میں مستشرقین کا کردار ہے۔ گرچہ محدثین اور مستشرقین کے راستے بالکل الگ ہیں،مستشرقین کا تعلق قدیم لاطینی نسخوں سے ہے جبکہ محدثین کا احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے باوجودباضابطہ اصول تدوین متن کی تعیین میں مستشرقین نے اہم کردار ادا کیا ہے،اس موضوع پر روشنی ڈالتے ہوئے پروفیسر نعمان خان لکھتے ہیں ’’ عربی متون کی تدوین کے اصول و ضوابط پر سب سے پہلا کام جرمن مستشرق برگسٹراسر (Bergstrasser) کے وہ لکچرس ہیں جو انھوں نے قاہرہ یونیورسٹی کی آرٹس فیکلٹی میں 1931میں ایم،اے کے طلبہ کو دیے۔ان لکچرس کو ڈاکٹر محمد حمدی بکری نے 1969 میں دارالکتاب قاہرہ سے شائع کیا۔اس کو دوبارہ 1995 میں شائع کیا گیا ‘‘8؎۔عربی میں تدوین متن کو فروغ دینے میں ڈاکٹر محمد حمدی بکری،ڈاکٹر محمد مندور،عبدالسلام محمد ہارون اور ڈاکٹر ابراہیم بیومی مدکور،علامہ عبدالعزیز میمنی،ڈاکٹر محمد بدرالدین علوی، ڈاکٹر عبدالمعید خان اور امتیاز علی خاں عرشی وغیرہ نے اہم کردار ادا کیا۔ہندوستان میں دائرۃ المعارف عثمانیہ حیدرآباد کا بھی عربی تدوین کے باب میں اہم کردار رہا ہے۔

فارسی میں تدوین متن اردو میں تدوین کی روایت فارسی کے واسطے سے پہنچی ہے اس لیے تدوین کے فارسی پس منظر کو بھی سمجھنا ضروری ہے ایران میں علامہ عبدالوہاب قزوینی،علی اکبر دہخدا،استاد معین، ڈاکٹر نفیسی،مجتبی مینوی،بدیع الزماں فروز انفر،اور عبدالعظیم قریب وغیرہ نے تدوین متن کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا،عربی کی طرح فارسی میں بھی ہندوستان میں تدوینی کارنامے انجام دیے گئے،اس سلسلے میں پروفیسر شریف حسین قاسمی رقمطراز ہیں ’’ ہندوستان میں فارسی قدیم متون کی ایک قاعدے کے مطابق جسے آج ہم علمی نہیں کہہ سکتے،تدوین کے اولین نقوش شاہ جہاں کے دور حکومت میں نظر آتے ہیں اور غالباً فارسی متون کی تدوین کی تاریخ اسی دور سے شروع ہوتی ہے اس ضمن میں ایک نام عبداللطیف عباسی متوفی ( 1048ھ یا 1049ھ)کا لیا جا سکتا ہے۔انھوں نے چند خطی نسخوں کی بنیاد پر سنائی کی حدیقۃ الحقیقہ اور مولانا روم کی مثنوی مرتب کی۔ عباسی کی مرتبہ مثنوی معنوی کا نام ’نسخہ ٔ ناسخہ مثنوی ‘ ہے۔‘‘9؎

اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عباسی نے کس قدراہم کارنامہ انجام دیا۔عباسی نے تدوین کا جدید طریقہ اختیار کیا اسی سلسلے کو سرسید نے آئین اکبری اور تاریخ فیروز شاہی وغیرہ کو مدون کرکے آگے بڑھایا۔بعد میں حافظ محمود شیرانی،پروفیسر نذیر احمد،قاضی عبدالودود،امتیاز علی عرشی،امیر حسن عابدی اور پروفیسر شریف حسین قاسمی وغیرہ نے اہم کارنامے انجام دیے۔

اردو میں تدوین متن اردو میں تدوین متن کے باضابطہ آغاز کی بات کریں تو اس کے ابتدائی نقوش سرسید کے یہاں دیکھنے کوملتے ہیںالبتہ سرسید نے جو تدوینی کارنامہ انجام دیا اس کا تعلق فارسی سے ہے اردو کے پہلے باضابطہ مدون متن علامہ شبلی نعمانی ہیں۔انھوں نے مرزا علی خاں لطف کے مشہور تذکرہ ’گلشن ہند‘ کو 1906  میں مرتب کرکے شائع کیا۔یہ اردو میں تدوین متن کا پہلا کارنامہ ہے۔چونکہ گلشن ہند کی تدوین کے وقت شبلی کے پیش نظر ایک ہی نسخہ تھا اس لیے تقابل و موازنہ یہاں ممکن نہیں تھا اس کے باوجود شبلی نے حاشیے میں مبہم عبارتوں کی وضاحت کی ہے اس کے علاوہ جہاں جہاں ضرورت محسوس ہوئی ہے املا بھی درست کیا ہے،گلشن ہند میں شبلی کے حواشی کی تعداد تقریبا 42 ہے،شبلی نے گلشن ہند کی کس طرح ترتیب و تدوین کی اس کا تعارف کراتے ہوئے ڈاکٹر محمد الیاس اعظمی لکھتے ہیں:

 ’’ گلشن ہند کی تصحیح و تدوین میں علامہ شبلی نعمانی نے کن اصولوں کو پیش نظر رکھا تھا،اس کی انھوں نے کہیں وضاحت نہیں کی ہے،ان کے قلم سے جو حواشی وضاحتی نوٹ ہیں،ان سے طریقۂ تصحیح و تدوین کا اندازہ کسی قدر ضرورہوتا ہے اوران کی بنیاد پر کہا جاسکتاہے کہ علامہ شبلی نے اپنے ہی تحقیقی و تدوینی اصولوں سے بڑی حد تک کام لیا ہے،انھوں نے اصل سے تحقیق و مراجعت بھی کی ہے اور وضاحتی و تشریحی نوٹ بھی لکھے ہیں بعض اضافے بھی کیے ہیں،املا کی تصحیح بھی کی ہے اس کے علاوہ مفید علمی و تنقیدی حواشی بھی لکھے ہیں،ان ہی پانچ بنیادی امور سے تذکرہ گلشن ہند مزین ہوکر طبع و اشاعت کی منزل سے گزرا۔‘‘10 ؎

علامہ شبلی نعمانی کے بعد اس فن کو فروغ دینے میں مولوی عبدالحق نے اہم کارنامہ انجام دیا ہے، مولوی عبدالحق نے بڑی تعداد میں مخطوطات اور قلمی نسخوں کو مدون کرکے شائع کیا،خاص طور پر قدیم دکنی متون اور مخطوطات اور شعرائے اردو کے نایاب تذکروں کو دریافت کرکے ان کی تدوین کا جو کارنامہ بابائے اردو نے انجام دیا وہ بے مثال ہے۔مولوی عبدالحق کی مرتبہ کتابوں میں نکات الشعرا میر تقی میر،تذکرہ ریختہ گویاں سید فتح علی حسینی گردیزی،مخزن نکات قیام الدین قائم،چمنستان شعرا لچھمی نرائن شفیق،گل عجائب اسد علی خاں تمنا،عقد ثریا،ریاض الفصحا  اور تذکرہ ہندی غلام ہمدانی مصحفی،مخزن شعرا قاضی نورالدین حسن خاں رضوی فائق،قطب مشتری،سب رس ملا وجہی،گلشن عشق ملا نصرتی، معراج العاشقین بندہ نواز گیسو دراز،دیوان اثر،مثنوی خواب و خیال خواجہ سید محمد اثر،دیوان تاباں میر عبدالحی تاباں،رانی کیتکی کی کہانی سید محمد انشا دہلوی اور باغ و بہار میر امن وغیرہ شامل ہیں۔ ان کی تعداد سے ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بابائے اردو نے کس محنت اور جاں فشانی سے کام کیا ہے۔

مولوی عبدالحق کے بعد حافظ محمود شیرانی نے تدوین و ترتیب کے سلسلے کو آگے بڑھایا،حافظ شیرانی کی شہرت ’پنجاب میں اردو‘ کتاب اور نظریہ کی وجہ سے ہوئی۔حافظ محمود شیرانی نے سائنٹفک انداز سے تحقیقی کارنامہ انجام دے کر اہل اردو کے لیے ایک نئی روایت قائم کی اور جس دلجمعی سے تحقیق و تدوین میں گراں قدر خدمات انجام دی وہ لاجواب ہے۔حافظ شیرانی کا سب سے گراں قدر تدوینی کارنامہ ’مجموعۂ  نغز ‘ حکیم ابوالقاسم میر قدرت اللہ قاسم کا تذکرہ ہے،قدرت اللہ قاسم نے اسے 1221ھ میں مکمل کیا۔جلد اول اور جلد دوم 812 صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں 693شعرا کا تذکرہ ہے،اس عہد کے دیگر تذکروں کی طرح یہ بھی فارسی زبان میں ہے۔حافظ محمود شیرانی نے اس تذکرہ کو 1933 میں  34صفحات پر مشتمل مبسوط اور مدلل مقدمہ کے ساتھ پنجاب یونیورسٹی لاہور سے شائع کیا ۔اس تذکرہ کی تدوین کے وقت حافظ شیرانی کے پاس دو نسخے تھے۔پہلا نسخہ تو مخطوطہ کی شکل میں مولانا حسین آزاد کی ذاتی لائبریری سے دستیاب ہوا جبکہ دوسرا نسخہ انڈیا آفس لائبریری لندن سے،دوسرے نسخے کی مدد سے کرم خوردگی کی وجہ سے جو نامکمل حروف تھے اس کمی کو دور کیا،مجموعہ نغز کی تدوین کی بنیاد کس مخطوطہ پر ہے اس کی وضاحت خود حافظ شیرانی نے اس طرح کی ہے ’’ جس مخطوطہ پر مطبوعہ متن مبنی ہے وہ مجموعہ کتب مولانا محمد حسین آزاد سے تعلق رکھتا ہے ‘‘ 11؎

یہ نسخہ حافظ شیرانی کو بوسیدگی کی حالت میں دریافت ہوا تھا اس کی وضاحت اس طرح کرتے ہیں

 ’’ نسخہ ہذا مجھ کو نہایت خستہ حالت میں ملا ہے اول تو مصنف کی تحریر میں نقاط کا بہت کم التزام ہے اور اس لیے اس کی نقل لینا آسان کام نہیں تھا،متن کی تصحیح میں ہر ممکن ذریعہ سے کام لیا گیا ہے تاہم کئی مقام اب بھی صاف نہیں ہوئے،دوسرے کثرت سے کرم خوردہ ہونے کے علاوہ جس کا اثر عبارت متن پر بھی عامل ہے،متعدد اوراق کا کچھ کچھ حصہ ڈیڑھ ڈیڑھ دو دو انچ کے دور میں ضائع ہو چکا ہے ‘‘ 12؎

اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حافظ شیرانی نے یہ کارنامہ کس قدر محنت اور عرق ریزی سے کیا ہے،حافظ شیرانی نے صحت متن کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔پروفیسر حنیف نقوی اس سلسلے میں رقم طراز ہیں

 ’’ترتیب کی دوسری خوبیوں سے قطع نظر یہ خصوصیت بہ طور خاص قابل ذکر ہے کہ متن میں حتی الامکان مولف کے مخصوص املا کو برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ ایک عالم کو اہل قلم کے خصائص املا و انشا معلوم رہیں اور اردو الفاظ کا مخصوص تلفظ جس طرح سے وہ بولے جا رہے تھے ہم پر روشن ہو جاتے ‘‘ 13؎

مخطوطے کا تعارف کراتے ہوئے حافظ شیرانی نے مخطوطے کے اوراق کی تعداد 397اور فی صفحہ سترہ سطروں کا ذکرکیا ہے،مقدمہ میں اس بات کی بھی نشاندہی کی ہے کہ مخطوطہ سرخ اور سیاہ روشنائی سے تحریر کردہ ہے اور خط نستعلیق رواں شکستہ مائل ہے۔شیرانی نے اسے مصنف کے ہاتھ کا لکھا بتایا ہے، جگہ جگہ تصرفات بھی موجود ہیں مگر ترقیم موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے کاتب اور تاریخ کتابت کا اندازہ نہیں ہوتا۔شیرانی نے تصرفات کی19 مثالیں درج کی ہے۔مرتب نے اس عہد میں کون سے الفاظ کس طرح لکھے جاتے تھے اس کی بھی نشاندہی کی ہے جیسے جھونپڑا کو جھوپڑا،ہونٹوں کو ہوٹوں،آنگن کو آگن وغیرہ۔

اسی تذکرے میں شیرانی نے وضاحت کی کہ’ آب حیات ‘ مجموعۂ نغز سے ماخوذ ہے۔ آزاد کے علاوہ اسپرنگر، گارساں دتاسی وغیرہ نے بھی اس سے استفادہ کیا ہے۔اس تعلق سے حافظ شیرانی مقدمہ میں لکھتے ہیں

 ’’ مولانا نے اگرچہ ہر موقع پر اس تالیف سے استفادہ کا اظہار نہیں کیا ہے تاہم وثوق کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ ’آب حیات‘ کا ایک بڑا حصہ اس تذکرہ سے ماخوذ ہے‘‘14؎

مجموعہ نغز کی تدوین میں حافظ شیرانی نے تین بنیادی خوبیوں کا التزام کیا ہے،ضائع شدہ عبارتوں کو قلابین میں درج کرکے نسخے کو مکمل کیا کہیں کہیں قیاسی اضافے کرکے قوسین میں درج کیا ہے،ورنہ پڑھنا مشکل ہو جاتا، اگر قلابین کی عبارت کو حذف کر دیا جائے تو ایک سطر بھی پڑھنا مشکل ہے۔ دوسری خوبی یہ کہ شیرانی نے ثابت کر دیا کہ آب حیات کا ماخذ مجموعۂ نغز ہے اس سے پہلے لوگوں کو اس کا علم نہیں تھا،تیسری خوبی یہ کہ دیگر تذکروں کی مدد سے شیرانی نے مجموعۂ  نغز کے مصنف کے حالات زندگی کو یکجا کر دیا۔شیرانی کی یہ کاوش تدوین متن کا عمدہ نمونہ ہے۔

حافظ شیرانی نے’خالق باری‘بھی مرتب کی اور اس کے مصنف کو بھی دریافت کیا مگر ان دونوں کتابوں کی تدوین میں تعلیقات کو شامل نہیں کیا گیا ہے جس کی وجہ سے یہ روایت ساز نہیں بن سکے۔مشہور مدون رشید حسن خان نے کمیوں کی نشاندہی بھی کی ہے۔

محی الدین قادری زور کا بھی اردو کے اہم محققین اور مدونین میں شمار ہوتا ہے۔زور محقق کے ساتھ ساتھ ماہر لسانیات،مخطوطہ شناس اور اچھے ناقد بھی ہیں زور کے تدوینی کارناموں میں ’اردو شہ پارے‘، ’کلیات قلی قطب شاہ‘اور ’گلزار ابراہیم مع گلشن ہند‘ وغیرہ شامل ہیں۔

محی الدین زور کا سب سے اہم کارنامہ کلیات قلی قطب شاہ کی تدوین ہے،ان کی کوششوں کی وجہ سے کم از کم قلی قطب شاہ کا کلام منظر عام پر آ گیا ورنہ ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔یہ الگ  با ت ہے کہ اس کام میں تدوین کے اصولوں کو کس حد تک بروئے کار لایا گیا ہے،مشہور مدون رشید حسن خاں نے زور کے تدوینی کام پر اعتراضات کیے ہیں اور الزام عائد کیا ہے کہ ان کا کام تدوین کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔

اردو تحقیق میں حافظ محمود شیرانی کی روایت کو آگے بڑھانے والے عظیم محقق قاضی عبدالودود ہیں انھیں اردو تحقیق کا معلم ثانی بھی کہاجاتا ہے،قاضی عبدالودود ایک اچھے مدون بھی تھے متعدد کتابیں تدوین کیں جیسے تذکرۂ شعرا مصنفہ ابن امین اللہ طوفان،تذکرۂ  شعرا ئے اردو از میر حسن،تذکرہ مسرت افزا، خلاصۂ تذکرۃ الاکابر،قطعات دلدار،سفرآشوب قلق،کلام شاد،مثنوی راجہ کلیان سنگھ عاشق وغیرہ مگر قاضی صاحب تدوین پر دسترس کے باوجود تدوین کے باب میں تحقیق کی طرح کارنامہ انجام نہیں دے سکے۔

رشید حسن خاں قاضی صاحب کی تدوینی خدمات کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں

’’تدوین جن شرائط کا مطالبہ کرتی ہے،وہ سب قاضی صاحب میں بدرجہ ٔ اتم پائی جاتی ہیں،قدیم زبان،متعلقات،قواعد و زبان وغیرہ پر ان کو قابل رشک دسترس حاصل تھی لیکن تدوین جس ضبط و نظم کا مطالبہ کرتی ہے ان کا مزاج اس سے میل نہیں کھاتا تھا وہ متفرق کام اعلیٰ پیمانے پر انجام دیا کرتے تھے،منصوبہ بندی کے ساتھ کوئی مفصل اور مربوط کام کرنا یعنی کسی بڑے کینوس پر مربوط نقش کی تشکیل ان کا مزاج ا س سے ہم آہنگ نہیں ہو پاتا تھا۔بہت سے ٹکڑوں میں منقسم کام کو وہ خوب کیا کرتے تھے ان کی اس افتاد طبع نے تدوین کے دائرہ میں انھیں کوئی بڑا کام نہیں کرنے دیا۔ان کی جو حیثیت تحقیق میں ہے،تدوین میں وہ حیثیت پیدا نہ ہوسکی اور اس سے تدوین کی روایت کو نقصان پہنچا ‘‘ 15؎

امتیاز علی عرشی کا بھی شمار اردو کے ممتاز مدونین میں ہوتا ہے،امتیاز علی عرشی کو تدوین متون سے خاص شغف تھا،ان کا سب سے مثالی کارنامہ ’مکاتیب غالب ‘ کی تدوین ہے،امتیاز علی عرشی اصول تدوین سے اچھی طرح آشنا تھے،اختلاف نسخ کا بھی علم اچھا تھا،عربی،فارسی اور اردو زبانوں کے ساتھ ادبیات کی تاریخ پر بھی گہری نگاہ تھی اس کا فائدہ انھیں تدوینی کام میں ملا۔ان کے اہم تدوینی کارناموں میں مکاتیب غالب،دستور الفصاحت،دیوان غالب نسخۂ عرشی،سلک گوہر،کہانی رانی کیتکی کی اور تاریخ محمدی وغیرہ ہیں۔مگر سب سے اہم تدوینی کارنامہ مکاتیب غالب،دستورالفصاحت اور دیوان غالب ہے اور خاص بات یہ ہے کہ ان تینوں کے موضوعات مختلف ہیں،مکاتیب غالب کا تعلق خطوط سے ہے،دستورالفصاحت کا شعرائے اردو کے تذکرے سے اور دیوان غالب کا شاعر کے کلام سے ہے۔

 امتیاز علی عرشی کا سب سے پہلا تدوینی کارنامہ ’مکاتیب غالب ‘ ہے اسے مدون کرکے 1937میں شائع کیا۔اس میں غالب کے وہ خطوط شامل ہیں جو انھوں نے فردوس مکانی نواب یوسف علی خاں ناظم اور ان کے جانشین خلد آشیانی نواب کلب علی خاں کے نام تحریر کیے تھے،امتیاز علی عرشی نے تفصیلی مقدمہ اور حواشی کے ساتھ اسے شائع کیا ہے 1937 سے 1969تک اس کے چھ ایڈیشن شائع ہوئے، پہلے ایڈیشن میں 320 صفحات تھے جبکہ آخری میں 600صفحات،مختلف ایڈیشنوں میں عنوانات،خطوط اور حواشی میں کچھ نہ کچھ تبدیلیاں آتی رہی ہیں،پہلے ایڈیشن میں نواب یوسف کے نام بیالیس خطوط تھے جبکہ آخری چوالیس،اسی طرح کلب علی خاں کے نام پہلے میں 65تھے اور آخری میں 73،آخری ایڈیشن میں سید محمد عباس علی خاں کے نام بھی ایک خط ہے اور منشی سیل چند کے نام سات خطوط۔مولانا امتیاز علی عرشی کی عادت ہے کہ موضوع کی مناسبت سے اپنی مدونہ کتاب میں تفصیلی مقدمہ تحریر کرتے ہیں اور تصحیح متن کے ساتھ ضرورت کے مطابق حواشی بھی درج کرتے ہیں،مکاتیب غالب میں مکتوب نگار کا تعارف اور غالب کے خطوط کی ترتیب کے سلسلے میں گفتگو کی ہے،ساتھ ساتھ مجموعۂ خطوط کا مرتبہ بھی متعین کیا ہے،جہاں سے نیا خط شروع ہوتا ہے تو مکتوب الیہ کا تعارف حاشیے میں کراتے ہیں اور خطوط میں جن شخصیات کا ذکر ہوتا ہے حاشیے میں ان شخصیات کا بھی تعارف کراتے ہیں،اجمالی واقعات اور حادثات وغیرہ کا بھی ذکر کرتے ہیں،موقع و محل کی مناسبت سے جا بہ جا جوابی خطوط سے بھی اقتباسات نقل کرتے ہیں اسی طرح متن میں جہاں بھی نامانوس الفاظ آتے ہیں اس کی تشریح کرتے ہیں، سرگزشت غالب کے عنوان سے مقدمہ میں غالب کے احوال و کوائف کو داخلی شہادتوں سے بیان کیے ہیں۔طباعت خطوط کے ضمن میں عرشی نے عود ہندی، اردوئے معلی  اور مکاتیب غالب کے متعلق دلچسپ معلومات درج کیے ہیں۔

دستورالفصاحت بھی امتیاز علی عرشی کی اہم مدونہ کتابوں میں شامل ہے اس کے مصنف حکیم سید احمد علی خاں یکتا ہیں،اس کا سنہ تصنیف 1230ھ مطابق 1815 کے قریب ہے،یہ کتاب اردو زبان کی صرف و نحو،معانی و بیان،عروض و قافیہ وغیرہ پر مشتمل ہے،کتاب فارسی زبان میں ہے۔پہلے باب میں ان فارسی قواعد کو بیان کیا گیا ہے جن سے واقفیت اردو کے طلبا کے لیے ضروری ہے،دوسرے باب میں اردو زبان کے قواعد،تیسرے باب میں اردو صرف و نحو کے مباحث،چوتھے باب میں عروض و قافیہ اور پانچویں باب میں فن بدیع کو بیان کیا گیا ہے،آخر میں ’در تذکرۃ الشعرا ‘ کے عنوان سے خاتمہ ہے،اس میں ان شعرا کے احوال اور منتخب کلام کو بیان کیا گیا ہے جن کے اشعار دستورالفصاحت میں بطور حوالہ پیش کیے گئے ہیں،امتیاز علی خاں عرشی نے اسے 1943 میں رامپور سے شائع کیا۔اس کتاب کے مقدمہ میں عرشی نے اردو اور فارسی کے 57مطبوعہ و غیر مطبوعہ تذکروں کی فہرست دی ہے اس کے علاوہ کتب خانۂ شاہ اودھ اور برٹش میوزیم کے مخطوطات کی بھی فہرست درج کی ہے۔دستورالفصاحت کے مقدمہ میں عرشی نے مصنف کے حالات زندگی بیان کیے ہیں اس کے بعد تذکروں کی تاریخ پر مفصل گفتگو کی ہے اور ساتھ ساتھ تقدم زمانی کی بھی تعیین کی ہے اور متن میں جہاں بھی کسی شاعر کا ذکر آتا ہے اس کا تعارف بھی حاشیے میں کراتے ہیں ساتھ ساتھ اس کا ذکر کس کس تذکرہ میں آیاہے سب کو بیان کرتے ہیں۔عرشی نے قلمی نسخے کی کیفیت اس انداز سے بیان کی ہے، سائز،ضخامت،اول و آخر زائد اوراق،صفحے میں سطروںکی تعداد،نسخے کے کاتبوں کی تعداد،متن کی روشنائی،اوراق کی کیفیت،کرم خوردگی کی کیفیت وغیرہ۔

 امتیاز علی عرشی کا تیسرا سب سے اہم تدوینی کارنامہ دیوان غالب ہے،اسے امتیاز علی عرشی نے 1958 میں مرتب و مدون کرکے عالمانہ مقدمہ کے ساتھ شائع کیا،یہ مقدمہ 120 صفحات پر مشتمل ہے اوراس میں 59ذیلی عنوانات قائم کیے گئے ہیں،غالب کی شخصیت اور شاعری پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔اور اس میں دلچسپ پہلو یہ ہے کہ غالب کے حالات زندگی غالب کی ہی تحریروں کی روشنی میں بیان کیے ہیں اسی طرح غالب کے نزدیک شعر کے معائب و محاسن کیا کیا ہیںانھیں بھی خطوط سے ہی اخذ کیا ہے اور 17اقتباسات محاسن پر اور 11اقتباسات معائب شعر پر نقل کیے ہیں۔

دیوان غالب کی تدوین کا یہ طریقہ عرشی نے اپنایا کہ پہلے غالب کی شخصیت پر روشنی ڈالی اس کے بعد تدوین کے اصول اورطریقہ کار کی وضاحت کی پھر نسخوں کی مکمل کیفیت،مآخذ کی تاریخی ترتیب پر گفتگو اور نسخوں کے اختلافات کو حاشیے میں بیان کیا ہے۔اس کے علاوہ جہاں بھی غالب نے اپنے اشعار کی خود تشریح کی ہے اسے حاشیے میں درج کیا ہے، غالب کے اردو اور فارسی کے ہم مضمون اشعار کو بھی متعارف کرایا ہے،کلام کو تاریخی ترتیب کے مطابق درج کیا ہے،متن میں جہاں بھی کسی شخصیت کا ذکر آیا ہے اس کا بھی تعارف کرایا ہے۔اشخاص،مقامات اور کتب و رسائل وغیرہ کے اشاریے مرتب کیے ہیں،یہی وجہ ہے کہ دیوان غالب (نسخہ عرشی)کو فن تدوین کا عروج سمجھا جاتا ہے۔

اس اعتبار سے کہہ سکتے ہیں کہ مولانا امتیاز علی خاں عرشی نے تدوین کے تمام پہلووں کو پیش نظررکھ کر منشائے مصنف کے مطابق تدوین کا فریضہ انجام دیا ہے۔عرشی اردو،فارسی اور عربی تینوں زبانوں پر عبوررکھتے تھے اس کا بھی فائدہ انھیں خوب ملا۔

پروفیسر سیدہ جعفر امتیاز علی خاں عرشی کی تدوینی وتحقیقی خدمات کو بیان کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ

’’ امتیاز علی خاں عرشی کا امتیاز یہ ہے کہ انھوں نے اردو ادب کو تحقیق کے آداب و رموز سے آشنا کیا،ان کی تدوین تحقیق کے تازہ واردان کی رہبری اور رہنمائی کرتی اور انھیں اس فن کے اصولوں سے آگاہ کرتی ہے۔بہت سی کتابوں کو جو نقش طاق نسیاں ہو چکی تھیں،عرشی نے نئی زندگی عطا کی اور تدوین کو اعتبار بخشا۔‘‘16؎

سید مسعود حسن رضوی ادیب بھی اردو کے اہم مدون و محقق ہیں رضوی صاحب کے تدوینی کارناموں میں کئی کلاسیکی متون شامل ہیں جیسے فیض میر کی تدوین،اس کی دریافت کا سہرا بھی سید مسعود حسن رضوی ادیب کے سر ہے۔اس کے علاوہ ’مجالس رنگین، فسانۂ عبرت،دیوان فائز، تذکرۂ نادر، اندرسبھا، تذکرۂ گلشن سخن،روح انیس،شاہکار انیس اور رزم نامۂ انیس وغیرہ بھی اہم تدوینی کارنامے ہیں۔

سید مسعودحسن رضوی ادیب کا اہم تدوینی کارنامہ دیوان فائز کی تدوین ہے،اسے مسعود حسن رضوی ادیب نے تدوین متن کے جدید اصولوں کے مطابق مرتب کیا اور بہت اچھے انداز میں فائز کو متعارف کرایا،رشید حسن خاں دیوان فائز کی تدوین کو عمدہ کارنامہ بتاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ

 ’’ اس سے بہتر (گلشن سخن) دیوان فائز کی تدوین ہے۔یہ کتاب پہلی بار 1946 میں شائع ہوئی تھی۔قاضی عبدالودود نے اس پر خاصا مفصل تبصرہ کیا تھا۔1965 میں نظر ثانی کے بعد دوسرا ایڈیشن شائع ہوا،جو مندرجات کے لحاظ سے پہلے ایڈیشن سے بہتر ہے،انھوں نے تدوین کے بعض اور بھی کام کیے ہیں،مگر ان میں سے کوئی بھی ’اندرسبھا‘ کو نہیں پہنچتا۔’اندرسبھا ‘ کی تدوین تو خیر بڑا کام ہے،ان کے دوسرے کام ’دیوان فائز‘ کی تدوین کی برابری بھی نہیں کر پاتے۔‘‘17؎

مالک رام بھی تدوین متن کے باب میں محتاج تعارف نہیں ہیں،مالک رام کے تدوینی کارناموں میں ذکر غالب،دیوان غالب،گل رعنا،کربل کتھا،خطوط غالب، غبار خاطر،تذکرہ،خطبات آزاد اور خطوط ابوالکلام آزادوغیرہ شامل ہیں۔

 مالک رام کے نمایاں کارناموں میں سے ایک غبار خاطر کی تدوین ہے،مالک رام نے بیس صفحات پر مشتمل تفصیلی مقدمہ تحریر کیا ہے،یہ پانچ حصوں میں منقسم ہے،پہلے حصے میں مالک رام نے ہندوستان کے اس عہد کا ذکر کیا ہے جب ہندوستان چھوڑدو تحریک زور و شور سے چل رہی تھی،اس حصے میں مولانا حبیب الرحمن خاں شروانی کے بھی حالات زندگی شامل ہیں،دوسرے حصے میں غبار خاطر کی اہمیت و افادیت کو بیان کیا ہے،تیسرے حصے میں مولانا آزاد کا مختصر تعارف،خاندانی پس منظر اور تعلیم و تربیت وغیرہ کو بیان کیا ہے،چوتھے حصے میں غبار خاطر کی ترتیب و تدوین اور اس کی اشاعت وغیرہ میں جو دشواریاں پیش آئیں انھیں بیان کیا ہے۔پانچویں اور آخری حصے میں املا،کتابت اور قواعد وغیرہ کے متعلق گفتگو کی ہے۔حاشیے میں تخریج اشعار،اشخاص و اماکن کی نشاندہی،آیات اور احادیث کی تخریج  اور متن میں مذکور کتابوں کے ناموں کی وضاحت کے ساتھ ساتھ اختلاف متن اور تصحیح متن کا بھی التزام کیا ہے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کس قدر محنت سے مالک رام نے یہ کارنامہ انجام دیا ہے۔ضیاء الدین اصلاحی لکھتے ہیں

 ’’اس کی ترتیب و تدوین اور تحشیہ کا کام مالک رام صاحب نے جس خوبی سے انجام دیا ہے،اس سے بہتر انجام دیا جانا مشکل تھا۔انھوں نے متن میں وارد اردو،فارسی اور عربی اشعار،آیات قرآنی اور دوسرے اقوال و منقولات کی تخریج محنت شاقہ سے کی ہے۔جن مصنفین اور کتابوں کے نام آئے ہیں ان کے متعلق بقدر ضرورت معلومات تحریر کرنے کے علاوہ مزید معلومات کے لیے اصل مراجع بھی بتا دیے ہیں،مولانا نے اشعار میں جو تصرف کیا ہے،ان کی نشاندہی کی ہے اور ان سے نقل میں جو مسامحت ہوئی ہے ان کی اور بعض دوسری فروگزاشتوں کی تصحیح بھی کی ہے ۔‘‘18؎

پروفیسر نورالحسن ہاشمی نے بھی تدوین کے باب میں اہم کارنامے انجام دیے ہیں،کلیات ولی، ایک نادر روزنامچہ،بکٹ کہانی،مثنوی سراپاسوز،طوطی نامہ،کلیات حسر ت دہلوی،تذکرۂ مشاہیر سندیلہ، فسانہ اعجاز، دیوان مبتلا، انتخاب سب رس اورنوطرز مرصع وغیرہ اہم تدوینی کارنامے ہیں۔فہرست سے ہی ان کی تدوینی خدمات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے تدوینی کارنامے کس قدر اہم ہیں۔

امتیاز علی عرشی نے تحقیق و تدوین میں جو روایت قائم کی تھی اس کو فروغ دینے میں رشید حسن خان کا اہم کردار ہے۔پروفیسر گیان چند جین نے رشید حسن خان کو ’خدائے تدوین ‘ کا خطاب دیا ہے۔ تحقیق کے باب میں رشید حسن خان قاضی عبدالودود سے متاثرہیں اور وہی راستہ منتخب کرتے ہیں جبکہ تدوین کے میدان میں امتیاز علی عرشی کو اپنا پیروکار بناتے ہیں۔متعدد اہم کلاسیکی متون کو آراستہ کرکے اہم کارنامہ انجام دیا۔ ان کی مدونہ کتابوں میں باغ و بہار، فسانۂ عجائب،مثنوی سحرالبیان، گلزار نسیم، مثنویات شوق، انتخاب کلام ناسخ،انتخاب سودا،انتخاب مراثی انیس و دبیر،انتخاب خواجہ میر درد،انتخاب نظیراکبرآبادی، انتخاب شبلی اور زٹل نامہ وغیرہ۔پروفیسر گیان چند جین رشید حسن خان کے متعلق لکھتے ہیں’’ میں انھیں پیغمبر تدوین کہنے پر قانع نہیں انھیں خدائے تدوین کہوں گا گو کہ اس پر کتنے زعما چین بہ جبیں ہوں‘‘19؎۔ صحت متن،اختلاف نسخ،زبان و قواعد،املا،عہد کی زبان،تاریخ اور لسانی باریکیوں پر اچھی نگاہ تھی۔یہی چیزیں تدوین کی بنیاد بنتی ہیں اورا ن کو بروئے کار لاکر ہی اچھا تدوینی کارنامہ انجام دیا جاسکتا ہے۔

ڈاکٹر صابر علی سیوانی رشید حسن خان کے تدوینی کارناموں کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ

’’ رشید حسن خان کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے جن کلاسکی متون کی تدوین کی،اس میں تدوین متن کے اصولوں کی مکمل طور پر پیروی کی۔مقدمہ لکھا،حواشی تحریر کیے،صحت متن کا کام کیا،تعلیقات پیش کیں،اشاریے بنائے اور فرہنگ مرتب کی اور سب سے اہم بات یہ کہ انھوں نے تمام متون کی تدوین میں منشائے مصنف کو پیش کرنے کی حتی المقدور کوشش کی اور یہ ثابت کردکھایا کہ متون کی تدوین سائنٹفک انداز سے کیسے کی جاتی ہے۔ان متون پر اعراب نگاری کا بھی فریضہ انجام دیا۔مذکورہ متون کی جدید علمی اصولوں کے مطابق اس انداز سے تدوین کی کہ انھیں خدائے تدوین کا رتبہ حاصل ہو گیا ۔‘‘20؎

اہم مدونین میں پروفیسر عبدالقادرسروی کا بھی شمار ہوتا ہے،ان کے تدوینی کارناموں میں کلیات سراج،پھول بن،قصہ ٔ بے نظیر،مراۃ الاسرار،مہتاب سخن اور بوستان خیال وغیرہ ہے۔

اسی طرح پروفیسر نذیر احمد نے کتاب نورس اور پرت نامہ مدون کرکے تدوین متن کے باب میں اہم کارنامہ پیش کیا،تنقید و تحقیق دونوں لحاظ سے ان کی یہ کتابیں اہمیت کی حامل ہیں۔پروفیسر نذیر احمد کا سب سے اہم کارنامہ کتاب نورس کی تدوین ہے،یہ ابراہیم عادل شاہ کے 56گیتوں اور 17دوہوں کا مجموعہ ہے،متعدد نسخوں سے تقابل و موازنہ کے بعدمستند متن مع ترجمہ تیار کرکے پروفیسر نذیر احمدنے 1955 میں لکھنؤ سے شائع کیا۔کتاب نو رس کی تدوین میں پروفیسر نذیر احمد نے سخت اور مشکل الفاظ کی صحیح قرأت کا التزام کیا ہے،دوران تدوین جابہ جا متن میں اہتمام سے اعراب لگایا ہے،اختلافات نسخ کو حاشیے میں درج کیا ہے،اس کے علاوہ عام فہم انداز میں ترجمہ بھی کیا ہے تاکہ سمجھنے میں دشواری نہ ہو،آخر میں فرہنگ کو بھی شامل کیا ہے۔

ماہر لسانیات پروفیسر مسعود حسین خان کا بھی تدوین متن کے باب میں اہم مقام ہے،بکٹ کہانی،قصہ مہر افروز دلبر،ابراہیم نامہ،پرت نامہ وغیرہ ان کے اہم تدوینی کارنامے ہیں۔پروفیسر مسعود حسین کے تدوینی کارناموں میں قصہ مہر افروز دلبر کو کافی اہمیت حاصل ہے،انھوں نے اس کتاب کو جدید اصول تدوین اور سائنٹفک طریقے سے مرتب کیا ہے،چوں کہ مسعود حسین خاں ماہر لسانیات تھے اس لیے انھوں نے اس کی تدوین میں بھی لسانی مطالعے کو کافی اہمیت دی ہے اور صوتی خصوصیات وغیرہ پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔مقدمہ کے آخر میں مخطوطے کی کیفیت،رنگ،سائز،تقطیع کے اوراق اور سطر وغیرہ کو بیان کیا ہے۔

پروفیسر سیدہ جعفر کاشمار دکنی ادب کی تحقیق و تدوین میں نمایاں ہے،کلیات قلی قطب شاہ کی تدوین ان کا اہم کارنامہ ہے۔ان کے تدوینی کارناموں میں من سمجھاون،دکنی رباعیاں،سکھ انجن،یادگار مہدی، دکنی نثرکا انتخاب،یوسف زلیخا،چندربدن ومہیار،مثنوی گلدستہ اور نوسرہار وغیرہ شامل ہیں۔

خلیق انجم کا بھی شمار اہم متنی تنقید نگاروں میںہوتا ہے،تدوین متن کے حوالہ سے خلیق انجم کی کتاب ’متنی تنقید ‘ کافی اہمیت کی حامل ہے۔ خلیق انجم نے غالب کے مکمل خطوط کو پہلی بارتاریخ وار چارجلدوں میں مرتب کیا،کمال احمد صدیقی خلیق انجم کے متعلق لکھتے ہیں

 ’ ڈاکٹر خلیق انجم سودا اور مظہر جان جاناں اور متنی تنقید جیسے وقیع کام کے لیے جانے جاتے ہیں لیکن اب جو ’ خطوط غالب‘ انھوں نے مرتب کیے ہیں،انھیں پڑھنے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ متن کی تدوین جیسی انھوں نے کی ہے پہلے خطوط غالب کے سلسلے میں کبھی نہیں ہوئی تھی۔اردو میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا کام ہے۔انھوں نے قینچی سے نہیں ذہن سے کام لیا ہے۔پہلی جلد کا مقدمہ ایک مستقل تصنیف کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر اس سے زیاد ہ نہیں تو اتنا ہی اہم کام حواشی کا ہے۔ایک ایک لفظ مختلف نسخوں کے تقابلی مطالعے میں چیک کیا گیا ہے جو واقعی دیدہ ریزی کا کام ہے ۔‘‘21؎

اس کے علاوہ پروفیسر مختارالدین احمد، خواجہ احمد فاروقی، ڈاکٹر جمیل جالبی، پروفیسر حنیف نقوی، پروفیسر نثار احمد فاروقی،سید محمد حیدرآباد،محمد اکبرالدین صدیقی، ڈاکٹر حفیظ قتیل، پروفیسر ظفر احمد صدیقی اور  پروفیسر عبدالحق وغیرہ نے بھی اہم تدوینی کارنامے انجام دیے ہیں۔

تدوین متن کے مسائل

تدوین متن کے مختلف مسائل ہیں معیاری،غیر محرف اور تصحیح شدہ متن کی تدوین کے لیے مدون کا مصنف کے نظریات و خیالات سے اچھی واقفیت ضروری ہے،صحیح قرأت ضروری ہے اگر مدون صحیح سے نہیں پڑھ پائے گا تو متن کی بھی صحیح تدوین نہیں ہو سکتی،رموز املا سے اچھی وقفیت ضروری ہے،رسم الخط کی تبدیلیوں سے واقفیت ضروری ہے،رسم الخط کی وجہ سے بہت سے لوگ متون کی قرأت نہیں کر پاتے،صحیح تفہیم کے لیے صحیح قرأت بھی ضروری ہے اور جب اچھی طرح نہیں سمجھ پائے گا تو مصنف کی منشا کا فوت ہونا لازم ہے۔قدیم اور جدید املا کے نہ ہونے کی وجہ سے بھی بہت سی خامیاں سامنے آتی ہیں۔اعراب بالحروف پر بھی گرفت ہونی چاہیے پہلے اس کا چلن بہت زیادہ تھا اکثر متون میں اس کی ضرورت پڑتی ہے۔روشنائی اور کاغذ وغیرہ کا بھی علم ہونا چاہیے تاکہ اس سے متون کی قدامت وغیرہ کا اندازہ لگایا جاسکے۔تذکیر و تانیث،واحد جمع،صرف و نحو،مصادر و مآخذ اور جملوں کی ساخت و ترکیب وغیرہ کا بھی علم ہونا چاہیے۔

تاریخ گوئی کے فن سے بھی مناسبت ہونی چاہیے عام طور پر قدیم متون میں مصنف کا کوئی جملہ، مصرع، یا لفظ ہوتا ہے جس سے تاریخ تصنیف وغیرہ کا علم ہوتا ہے تو مدون اس کی مدد سے صحیح تاریخ تصنیف تک پہنچ سکتا ہے۔

مدون میں تخریج کی صلاحیت بھی ضروری ہے تاکہ وہ اس کی مدد سے متن میں موجود شعر، قول، حدیث،یا قرآن کی آیت وغیرہ کی نشاندہی کرسکے اور اس کے ماخذ تک پہنچ سکے۔

اس کے علاوہ بھی بہت سے مسائل ہیں۔آج لوگ چند صفحے کا مقدمہ یا پیش لفظ لکھ کر کوئی بھی قدیم شائع شدہ کتاب منظر عام پر لے آتے ہیں اوراسے تدوین کا نام دے دیتے  ہیں حالانکہ تدوین متن بہت باریک فن ہے، رشید حسن خان نے تو اسے تحقیق سے آگے کی چیز کہا ہے۔


حوالہ جات

  1.        مصباح اللغات، مولانا عبدالحفیظ بلیاوی، مکتبہ بر ہان، اردو بازار جامع مسجد دہلی، 2002،ص257
  2.        نوراللغات، مولوی نور الحسن، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان،نئی دہلی،1998،ص 237/2
  3.        تحقیق و تدوین،سیدمحمد ہاشم، مکتبہ جامع لمیٹڈ، جامعہ نگر نئی دہلی،1978 ص14
  4.        فرہنگ آصفیہ، خان صاحب،مولوی سید احمد دہلوی،ترقی اردو بیورو، نئی دہلی،1990ص2037
  5.        اصول تحقیق وتر تیب متن، ڈاکٹر تنویر احمد علوی، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی، 2013، ص23
  6.        متنی تنقید،ڈاکٹر خلیق انجم، انجمن ترقی اردو ہند، دہلی،2006،ص 20
  7.        ادبی تحقیق مسائل اور تجزیہ، رشید حسن خاں، اتر پردیش اردواکادمی لکھنؤ،1990،ص 121
  8.        مضمون عربی متن کی تدوین،اصول و مسائل،مشمولہ رضا لائبریری جنرل،شمارہ 20-21،2010، ص 46
  9.        مضمون قدیم فارسی متن کی تدوین مسائل و حل،مشمولہ رضا لائبریری جرنل،رامپور،شمارہ 20-21،2010، ص 33
  10.      تذکرہ گلشن ہند اور علامہ شبلی نعمانی،ڈاکٹر الیاس اعظمی،مشمولہ مضمون ہماری زبان،انجمن ترقی اردو ہند،نئی دہلی 22 تا 28جنوری 2005
  11.      مجموعہ نغز مرتبہ حافظ شیرانی،نیشنل اکادمی دریاگنج،دہلی،صیو
  12.      ایضا،صیو
  13.      شعرائے اردو کے تذکے،حنیف نقوی،نسیم بکڈپو لکھنؤ،1976،ص 780
  14.       دیباچہ مجموعہ نغز،محمود شیرانی،ترقی اردو بورڈ دہلی،1973،صلذا
  15.       تدوین تحقیق روایت،رشید حسن خاں،ایس اے پبلی کیشنز،دہلی،1999،ص179
  16.      تاریخ ادب اردو،جلد سوم سیدہ جعفر،ہاشم نگر،حیدرآباد،2002،ص166
  17.      تدوین تحقیق روایت،رشید حسن خاں،ایس اے پبلی کیشنز،دہلی،199،ص182
  18.      مضمون مالک رام کی تصنیفات و تالیفات،ضیاء الدین اصلاحی،ماہنامہ آجکل مالک رام نمبر،اپریل 1994,، ص12
  19.      ماہ نامہ کتاب نمانئی دہلی،رشید حسن خان نمبر،2002،ص74
  20.      تدوین متن کی روایت آزادی کے بعد،ڈاکٹر صابر علی سیوانی،ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس دہلی،2021،ص697
  21.      مضمون خطوط غالب مرتبہ خلیق انجم کی روشنی میں،کمال احمد صدیقی،کتاب نما خصوصی شمارہ،ڈاکٹر خلیق انجم شخصیت اور ادبی خدمات،مکتبہ جامعہ،نئی دہلی،1991,ص27


Abdul Bari

C-145/1, Ground Floor

Tayyab Lanne, Shaheen Bagh

New Delhi - 110025

Mob.: 9871523432


27/1/23

قومی اردو کونسل میں 74ویں یوم جمہوریہ کے موقعے پر تقریب پرچم کشائی

 


ہندوستانی جمہوریت کا تحفظ تمام شہریوں کی مشترکہ ذمےداری: پروفیسر شیخ عقیل احمد

 نئی دہلی: آج کا دن یعنی یوم جمہوریہ ہمارے ملک کے لیے تاریخی اہمیت کا حامل ہے کیوں کہ آج ہی کے دن دستور ہند کا نفاذ عمل میں آیا تھا ۔ یہ بات قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر شیخ عقیل احمد نے آج یہاں 74 ویں یوم جمہوریہ کے موقع پر پرچم کشائی کی تقریب کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستانی  جمہوریت میں ملک کے ہرشہری کومساوی اختیارات و حقوق حاصل ہیں، ساتھ ہی ہم سب پر یکساں ذمے داری بھی عائد ہوتی ہے کہ جمہوریت کا ہر ممکن تحفظ کریں۔ انھوں نے کہا کہ آج کے دن ملک کے تمام باشندوں کو یہ عہد کرنا چاہیے کہ وہ ہندوستان کو ایک مثالی جمہوری ملک بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے اور وطن عزیز کی تعمیر و ترقی کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارا ملک ساری دنیا میں ایک عظیم جمہوری ملک کے طورپرجانا جاتا ہے جس میں بے پناہ تہذیبی و ثقافتی تنوع ہے، تہذیبی و مذہبی رنگارنگی ہندوستان کی خوب صورتی ہے جسے برقرار رکھنا ہم سب پر لازم ہے ۔

ڈاکٹر عقیل احمد نے مزید کہا کہ اردو زبان سے بھی جمہوریت کا گہرا تعلق ہے۔ جمہوری افکار و اقدار کے فروغ اور اشاعت میں اردو صحافت و شاعری نے جوخدمات انجام دی ہیں وہ ناقابل فراموش ہیں۔ اردو کے جمہوری مزاج نے ملک کی سالمیت اوریکجہتی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ آج بھی اردو زبان اپنی اس ڈگر پر قائم ہے اور ملک کی جمہوری روح کی حفاظت میں پیش پیش ہے۔

قبل ازاں قومی اردو کونسل کے صدردفترمیں پرچم کشائی کی تقریب کا انعقاد تزک واحتشام کے ساتھ کیا گیا۔ کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر شیخ عقیل احمد نے پرچم کشائی کی۔کونسل کےعملے نے قومی ترانہ گایا اورترنگے کو سلامی دی۔


ہندوستان کا میزائل مین: ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام

 


ابوالفاخر زین العابدین عبدالکلام (15 اکتوبر، 1931،  27 جولائی، 2015) کی پیدائش سابقہ مدراس ریاست کے شہر رامیشورم میں ایک متوسط طبقے کے تامل خاندان میں ہوئی تھی۔ ان کے والد زین العابدین کی نہ تو زیادہ رسمی تعلیم تھی اور نہ ہی وہ صاحب ثروت تھے، لیکن وہ روح کی پاکیزگی اور فطری سخاوت کے دھنی تھے۔ ڈاکٹر کلام اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے اور معمولی شکل و شباہت کے تھے۔  وہ اپنے  جس آبائی گھر میں رہتے تھے، وہ 18 صدی کے وسط میں بنایا گیا تھا۔ مشہور شیو مندر، جس نے رامیشورم کو  زائرین  کے لیے مقدس شہر بنا دیا ہے، ان کے گھر سے تقریباً 10 منٹ کی دوری پر ہے۔ اس علاقے میں زیادہ تر مسلمانوں کے گھر  تھے، لیکن وہاں کچھ ہندو خاندان بھی رہتے تھے جو اپنے مسلمان پڑوسیوں کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی بسر کرتے تھے۔

انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم رامیشورم پنچایت ابتدائی اسکول سے حاصل کی اور پھر راما ناتھا پورم شہر کے شوارٹز ہائی اسکول میں داخلہ لے لیا۔ جب انھوں نے شوارٹز میں اپنی تعلیم مکمل کر لی تو وہ خود اعتمادی سے پر اور کامیابی کے لیے پرعزم  ہوچکے تھے۔1950 میں انھوں نے انٹرمیڈیٹ کے امتحان کے لیے سینٹ جوزف کالج، تریچی میں داخلہ لیا۔ وہیں انھیں انگریزی ادب  سے شغف ہوا اور کلاسیکی ادب پڑھنا شروع کیا۔ یہی وہ وقت تھا جب ان کو فزکس میں بڑی دلچسپی پیدا ہوئی۔ جب انھوں نے سینٹ جوزف کالج میں بی ایس سی میں داخلہ لیا تھا تب وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے کسی اور متبادل سے واقف تھے اور نہ ہی ان کو سائنس کے طالب علم کے لیے دستیاب کیریئر کے مواقع کے بارے میں  خاص معلومات تھی۔ فزکس میں بی ایس سی کرنے کے بعد انھیں احساس ہوا کہ فزکس ان کا موضوع نہیں ہے۔ وہ اب اپنے خوابوں کی تعبیر کے لیے انجینئرنگ میں جانا چاہتے تھے۔ اسی لیے انھوں نے مدراس انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی (MIT) میں ایروناٹیکل انجینئرنگ میں داخلہ لے لیا۔

ایک سائنسدان کے طورپر ڈاکٹر کلام کا کیریئر

 MIT سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد، عبدالکلام ایک ٹرینی کے طور پر ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (HAL)، بنگلور  سے وابستہ ہو گئے۔ وہاں انھوں نے ایک ٹیم  ممبر کے طور پر انجن کی اوور ہالنگ پر کام کیا۔ انھوں نے باضابطہ طور پر 1958 سے ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (DRDO)  میں کام کرنا شروع کیا اور 1963 میں انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (ISRO) میں شمولیت اختیار کر لی۔ ڈاکٹر کلام نے ہندوستان کی پہلی دیسی سیٹلائٹ لانچ وہیکل (SLV-III) تیار کرنے میں پروجیکٹ ڈائریکٹر کی حیثیت سے اہم کردار ادا کیا جس نے روہنی سٹیلائٹ کو کامیابی کے ساتھ زمین کے مدار میں جولائی 1980 میں داخل کر کے ہندوستان کو خلائی کلب کا ایک خصوصی رکن بنا دیا۔ وہ اسرو کے لانچ وہیکل پروگرام، خاص طور پر پی ایس ایل وی کنفیگریشن کے ارتقا کے روح رواں تھے۔ ISRO میں دو دہائیوں تک کام کرنے اور لانچ وہیکل ٹکنالوجیوں میں مہارت حاصل کرنے کے بعد، ڈاکٹر کلام نے انٹیگریٹڈ گائیڈڈ میزائل ڈیولپمنٹ پروگرام (IGMDP) کے چیف ایگزیکٹو کے طور پر ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن میں دیسی گائیڈڈ میزائل تیار کرنے کی ذمے داری سنبھالی۔  AGNI اور PRITHVI  میزائلوں کی ترقی اور آپریشنلائزیشن اور متعدد اداروں کی نیٹ ورکنگ کے ذریعے اہم ٹکنالوجیوں میں قومی صلاحیت پیدا کرنے کا سہرا بھی انھیں کے سر جاتا ہے۔ وہ جولائی 1992 سے دسمبر 1999 تک وزیر دفاع کے سائنسی مشیر اور دفاعی تحقیق اور ترقی کے محکمہ کے سیکرٹری رہے۔ اس عرصے کے دوران انھوں نے ایٹمی توانائی کے محکمہ کے ساتھ مل کر اسٹریٹجک میزائل سسٹم اور پوکھرن-II جوہری تجربات کی قیادت کی جس نے  ہندوستان کو ایٹمی ہتھیاروں کا حامل ملک بنا دیا۔ انھوں نے متعدد ترقیاتی کاموں اور مشن پراجیکٹوں جیسے ہلکے جنگی طیاروں کو آگے بڑھا کر دفاعی نظام میں خود انحصاری پر زور دیا۔ اس طرح وہ بیلسٹک میزائل اور لانچ وہیکل ٹکنالوجی کی ترقی میں اپنے غیر معمولی کام کے لیے ’ہندوستان کے میزائل مین‘ کے طور پر معروف ہوئے۔

ٹکنالوجی انفارمیشن، فورکاسٹنگ اینڈ اسیسمنٹ کونسل (TIFAC) کے چیئرمین کی حیثیت سے اور ایک نامور سائنسدان کے طور پر، انھوں نے 500 ماہرین کی مدد سے ٹکنالوجی وژن 2020تیار کرنے کے لیے ملک کی قیادت کی جس میں ہندوستان کو ترقی پذیر ملک سے ایک ترقی یافتہ ملک میں تبدیل کرنے کا روڈ میپ دیا گیاتھا۔ ڈاکٹر کلام نے نومبر 1999 سے نومبر 2001 تک حکومت ہند کے پرنسپل سائنٹیفک ایڈوائزر کے طور پر خدمات انجام دی اور کئی ترقیاتی ایپلی کیشنوں کے لیے پالیسیوں، حکمت عملیوں اور مشینوں کو تیار کرنے کی ذمے دار ی نبھائی۔ ڈاکٹر کلام کابینہ کی سائنٹفک ایڈوائزری کمیٹی (SAC -C) کے چیئرمین، سابق آفیشیو اور انڈیا ملینیم مشن 2020 کے بھی سرخیل تھے۔ ڈاکٹر کلام نے نومبر 2001 سے انا یونیورسٹی، چنئی میں پروفیسر، ٹکنالوجی اور سماجی تبدیلی کی حیثیت سے تعلیمی سرگرمیاں شروع کیں اور تدریسی اور تحقیقی کاموں میں شامل رہے۔ 

عہدہ ٔ  صدارت

ڈاکٹر کلام 25 جولائی 2002 کو ہندوستان کے 11ویں صدر بنے اور 25 جولائی 2007 تک اس عہدہ پر فائزرہے۔

 اے پی جے عبدالکلام کی غیر سیاسی شخصیت نے ان کی پہچان ’عوامی صدر‘ کی بنا دی تھی۔ ہندوستان کے صدر کے اعلیٰ مقام پر فائز ہونے کے باوجود، ڈاکٹر کلام نے ہمیشہ سادگی اور عاجز ی کی زندگی گزاری اور اپنے ساتھ کام کرنے والے تمام لوگوں کے ساتھ خلوص وپیار اور گرمجوشی سے پیش آتے رہے۔

صدر جمہوریہ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام اپنے ہم وطنوں سے مطالبہ کرتے تھے کہ وہ ہندوستان کو ایک ’ترقی یافتہ قوم‘ میں تبدیل کرنے کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کی طرف پوری توجہ دیں۔ 25 جولائی 2002 کو نئی دہلی میں پارلیمنٹ کے سینٹرل ہال میں صدر جمہوریہ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنی تقریر میں ڈاکٹر کلام نے کہا تھا، ’’اب ہمیں ملک میں ایک تحریک کی ضرورت ہے۔ اس تحریک کے لیے لوگوں کے ذہنوں کو متحرک کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ ہم اس کے لیے کام کریں گے۔ ہم ایک ترقی یافتہ قوم کے طور پر نہیں ابھر سکتے اگر ہم  وقت کی رفتار کے ساتھ چلنا نہیں سیکھیں گے۔‘‘

یوم آزادی  2002 کے موقع پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے،  صدر جمہوریہ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام نے کہا تھا، ’’آزادی کے بعد، ہندوستان نے زراعت اور خوراک کی پیداوار، توانائی، صحت کی دیکھ بھال، تعلیم اور سائنس و ٹکنالوجی کے مختلف شعبوں میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ خاص طور پر ہم نے فارماسیوٹیکل، انفارمیشن ٹکنالوجی، ماس میڈیا اور کمیونیکیشن، اسپیس، دفاع اور نیوکلیئر سائنس کے شعبوں میں بین الاقوامی سطح پراپنی شناخت بنائی ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا، ’’پہلے وژن کی طرح، جس نے ہمارے لوگوں کومتحد کرکے آزادی کے حصول کے لیے ایک تحریک پیدا کی تھی، ہمیں ایک دوسرے وژن کی ضرورت ہے، جو ہمارے معاشرے کے تمام طبقات کو ایک مشترکہ مقصد کے لیے متحد کرے۔ ہماری قوم کا دوسرا وژن زراعت اور فوڈ پروسیسنگ، تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال، بنیادی ڈھانچے کی ترقی بشمول پاور، انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹکنالوجیز اور دیگر اہم ٹکنالوجیوں کے شعبوں میں بیک وقت مربوط کارروائیوں کے ذریعے اسے موجودہ ترقی پذیر ملک سے ایک ترقی یافتہ قوم میں تبدیل کرنا ہے۔ اس عظیم تر وژن کا مقصد غربت، ناخواندگی اور بے روزگاری کو ختم کرنا ہے۔ جب ہمارے ملک کے لوگوں کے اذہان اس وژن کی طرف متحد ہوں گے توایک بہت بڑی طاقت ابھرے گی جو ایک ارب لوگوں کی خوشحال زندگی کا باعث بنے گی۔ قوم کا یہ وژن اختلافات اور چھوٹی سوچ سے پیدا ہونے والے تنازعات کو بھی ختم کرے گا۔‘‘

24 جولائی، 2007 کو، قوم کے نام شکریے کا  خطاب  کرتے ہوئے، صدر جمہوریہ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام نے کہا، ''دہلی کے راشٹرپتی بھون میں اور ہر ریاست اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں اپنی بات چیت کے دوران اور ساتھ ہی اپنی آن لائن خطاب کے ذریعے، میرے پاس آپ کے ساتھ ساجھا کرنے کے لیے بہت سے منفرد تجربات ہیں جن میں پہلا تجربہ ترقی کی رفتار کو تیز کرنا ہے تاکہ نوجوانوں کی خواہشات کو پورا کر سکیں، دیہات کو بااختیار بناسکیں اور مسابقت کے لیے دیہی بنیادی اہلیت کو متحرک کرسکیں۔ دوسرا  فصل کی پیداوار کے لیے  بہتر  بیج مہیا کرانا ہے  تاکہ  زرعی ترقی کو یقینی بنایا جاسکے اور تیسراملک کا دفاع ہے۔

ایوارڈ اور اعزازات

ڈاکٹر کلام 30 یونیورسٹیوں اور اداروں سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری حاصل کرنے کا منفرد اعزاز رکھنے والے ہندوستان کے نامور سائنسداں ہیں۔ انھیں شہری ایوارڈپدمابھوشن (1981)، پدماوبھوشن (1990) اور اعلیٰ ترین شہری اعزاز بھارت رتن (1997) سے بھی  نوازا گیا۔ وہ کئی دوسرے ایوارڈوں کے وصول کنندہ اور کئی پیشہ ور اداروں کے فیلو بھی رہے۔

کتابیں اور شاعری

ان کی ادبی خدمات میں ڈاکٹر کلام کی چار کتابیں"Wings of Fire", "India 2020 - A Vision for the New Millennium", "My journey", "Ignited Minds - Unleashing the power within India"   ہندوستانی گھروں اور بیرون ملک ہندوستانی شہریوں میں اپنا اہم مقام بنا چکی ہیں۔ ان کتابوں کا متعدد ہندوستانی زبانوں میں ترجمہ بھی ہو چکا ہے۔

Wings of Fire یہ کتاب ہندوستان کے عام لوگوں کے لیے لکھی گئی ہے جن سے ڈاکٹر کلام کو بے پناہ انسیت اور محبت ہے۔ ان کا عام لوگوں سے جو گہرا رشتہ اور تعلق ہے وہ خودڈاکٹر کلام کی سادگی اور فطری روحانیت کا مظہر ہے۔ اس کتاب کے ذریعے وہ ہندوستان کے کروڑوں عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ کبھی بھی خود کو چھوٹا یا بے بس محسوس نہ کریں ''ہم سب اپنے اندر ایک الوہی آگ کے ساتھ پیدا ہوئے ہیں۔ ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ ہم اس آگ کو ہوا دیں اور دنیا کو اس کی چمک سے بھر دیں۔‘‘ درحقیقت یہ کتاب ڈاکٹر کلام کی زندگی کا  مختصر خاکہ پیش کرتی ہے۔

India 2020 - A Vision for the New Millennium  یہ کتاب مضبوطی سے اس خیال کو پیش کرتی ہے کہ ہندوستانی عوام موجودہ غربت سے اوپر اٹھ سکتے ہیں اور اپنی بہتر صحت، تعلیم اور خود اعتمادی کی خوبیوں سے ملک میں زیادہ پیداواری حصہ ڈال سکتے ہیں۔ ہندوستان کے پاس کافی تکنیکی طاقت آ سکتی ہے، جو اس کی اسٹریٹجک، اقتصادی اور تجارتی ترقی کے لیے بہت اہم ہے۔ اس میں ان چند ایکشن پلان کے عناصر کا انکشاف بھی کیا گیا ہے، جو ملک کے بہت سے نوجوانوں کے لیے مشن بن سکتے ہیں۔

Ignited Minds - Unleashing the power within India  قومیں لوگوں سے بنتی ہیں اور ان کی کوششوں سے ایک ملک وہ سب کچھ حاصل کر سکتا ہے جو وہ حاصل کرنا چاہتاہے۔ ہندوستان کے لوگوں اور خاص طور پر یہاں کے نوجوانوں کو تحریک دینا اس کتاب کا مرکزی موضوع ہے، جو ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی ابتدائی دو کتابوں، وِنگس آف فائر اور انڈیا 2020 اے وژن فار دی نیو ملینیم میں اٹھائے گئے خیالات کے تسلسل کو جاری رکھتی ہے۔ یہ کتاب بالخصوص نوجوان نسلوں کو اپنی طرف مائل کرتی ہے جو ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے میں اہم رول اداکرسکتے ہیں۔

Envisioning an Empowered Nation ملک کے تمام حصوں کے طلبا اور نوجوانوں کے ساتھ بات چیت اور انا یونیورسٹی کے انجینئرنگ کے طلبا اور دیگر یونیورسٹیوں، کالجوں اور اسکولوں کے طلبا کو دیے گئے لیکچروں کے نتیجے میں یہ کتاب تیار ہوئی ہے۔ اس لیے یہ کتاب ہندوستان کے نوجوانوں اور طلبہ برادری کو وقف ہے۔

The Life Tree ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام نے خلائی تحقیق اور دفاعی ٹکنالوجی میں ہمارے ملک کی ترقی میں انمول کردار ادا کیا ہے۔ تاہم وہ نہ صرف ایک نامور سائنسدان تھے بلکہ ایک حساس اور فکر انگیز شاعر بھی تھے۔ سائنسی ذہانت اور شاعرانہ صلاحیتوں کا یہ سنگم واقعی منفرد ہے۔ اس کتاب میں شامل نظمیں ڈاکٹر کلام کی ہندوستان اور اس کی کثیر جہتی ثقافت سے گہری محبت کو آشکار کرتی ہیں۔معبود حقیقی اور مادر وطن سے ان کی عقیدت کے ساتھ ساتھ ان کی انسان دوستی بھی ان اشعار میں منفرد انداز میں ظاہر ہوئی ہے۔          

ڈاکٹر کلام کی دیگر کتابوں میں My Journey, Developments in Fluid Mechanics and Space Technology, The Luminous Sparks, Mission India, Children Ask Kalam, Guiding Souls, Indomitable Spirit, Inspiring Thoughts    وغیرہ شامل ہیں۔

خود اعتمادی کی وراثت  (Legacy of self-belief) ڈاکٹر کلام مقصد کی وضاحت، اپنے اہداف کو حاصل کرنے کی ایک نادر صلاحیت اور غیر معمولی استقامت کی خصوصیات  سے پر تھے۔ وہ کسی بحران سے دوچار ہونے سے کبھی نہیں ڈرتے تھے اور آخری دم تک مسائل کو سمجھنے اور ان کو حل کرنے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔

نوجوان ذہنوں کو متحرک کرنے کا جذبہ  (Passion to ignite the young minds)  ڈاکٹر کلام کو ہمارے ملک کے لاکھوں نوجوانوں اور طلبا کی تعلیمی اور علمی ترقی کے لیے ایک محرک ماناجاتا ہے۔ بچوں کے متحرک ذہنوں کی طاقت کوآشکار کرنا ان کا خواب تھا۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ ملک کو ’ترقی پذیر سے ترقی یافتہ‘ بنانے کے لیے بچوں کی مکمل شمولیت ایک لازمی شرط ہے۔ ان کے خیال میں متحرک ذہنوں کی طاقت کسی بھی دوسری طاقت سے عظیم ترہے۔ وہ بچوں کو موجودہ سطحوں سے بہت اوپر  پہنچنے اور اعلی کامیابی حاصل کرنے کی خواہش سے بھر دینا چاہتے تھے۔ ڈاکٹر کلام نوجوانوں کو اونچے خواب بننے کا  مشورہ دیا کرتے تھے کیونکہ خواب،  خیالات میں منتقل ہوتے ہیں اور خیالات عمل کے لیے محرک بنتے ہیں۔ راشٹرپتی بھون میں ان کے قیام کے دوران، لوگ ڈاکٹر کلام سے آسانی سے مل سکتے تھے اور ان سے بات چیت کر سکتے تھے۔ وہ بچوں کے خطوط کا جواب انتہائی دلچسپی کے ساتھ دیا کرتے تھے۔

خلائی اور دفاعی شعبوں میں ’آتم نر بھربھارت‘ کے بنیادگزار (Laying foundations of 'Atma Nirbharta' in space and defence sectors) ڈاکٹر کلام نے ہندوستان کے دفاعی اور خلائی نظام کو خود کفیل بنانے میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ ان کے وژن پر آگے بڑھتے ہوئے، حکومت ہند نے پچھلے کچھ برسوں میں 'میک ان انڈیا' پروگرام کے تحت کئی پالیسی اقدامات کیے ہیں اور ملک میں دیسی ڈیزائن، ترقی اور دفاعی آلات کی تیاری کی حوصلہ افزائی کے لیے اصلاحات کی ہیں۔ ان اقدامات میں دفاعی حصول کے طریقہ کار (Defence Acquisition Procedure-2020) کے تحت گھریلو ذرائع سے سرمائے کی اشیا کی خریداری کو ترجیح دینا؛ صنعت کی قیادت میں ڈیزائن اور ترقی کے لیے 18 بڑے دفاعی پلیٹ فارموں کا اعلان؛ طویل مدت کے لیے صنعتی لائسنسنگ کے عمل کو آسان بنانا؛ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کی پالیسی کو آزادانہ بنانا جو خودکار راستے کے تحت 74فیصد ایف ڈی آئی کی اجازت دیتا ہے؛ دو دفاعی صنعتی راہداریوں کا قیام؛ ا سٹارٹ اپس اور مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (MSMEs) پر مشتمل ڈیفنس ایکسیلنس  اسکیم کے لیے اختراعات کا آغاز (iDEX)  وغیرہ شامل ہیں۔

زندگی کے تمام شعبوں میں ہندوستان کو مکمل طور پر آتم نر بھر بنانے کے لیے، حکومت ہند نے 12.05.2020 کو ’آتم نر بھر بھارت ابھیان‘ کا اعلان کیاتھا اور ملک کو خود کفیل بنانے اور مقامی مینوفیکچرنگ پر توجہ مرکوز کرنے کے مقصد سے 20 لاکھ کروڑ روپے کے ایک خصوصی اقتصادی پیکج کا اعلان کیاتھا۔ یہ ملک کو عالمی سپلائی چین میں سخت مقابلے کے لیے تیار کرنے، کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کرنے، MSMEs کو بااختیار بنانے، FDI سمیت سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور میک ان انڈیا کی پالیسیوں کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ یہ پیکیج کئی طویل مدتی اسکیموں/پروگراموں پر مشتمل ہے جن کا مقصد ملک کو آتم نربھر بنانا ہے۔ ان اسکیموں/پروگراموں کو مختلف وزارتوں/محکموں کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے۔

دفاعی شعبے میں آتم نر بھربھارت کو بڑا فروغ دیتے ہوئے، 3 اکتوبر، 2022 کو ایئر فورس اسٹیشن، جودھپور، راجستھان میں منعقدہ ایک تقریب میں ہندوستانی فضائیہ میں باضابطہ مقامی طور پر تیار کردہ لائٹ کامبیٹ ہیلی کاپٹر (LCH) کو شامل کیا گیا۔ ایل سی ایچ کو 143 ہیلی کاپٹر یونٹ میں شامل کیا گیا اور اس کا نام ’پرچنڈ‘ رکھا گیا۔ LCH کو ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (HAL) نے تیار کیا ہے۔ یہ ایک جدید ترین جنگی ہیلی کاپٹر ہے، جو بنیادی طور پر اونچے علاقوں میں تعیناتی کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ایل سی ایچ دنیا کا واحد ایسا اٹیک ہیلی کاپٹر ہے جو ہتھیاروں اور ایندھن کے کافی بوجھ کے ساتھ 5000 میٹر کی بلندی پر لینڈ اور ٹیک آف کر سکتا ہے۔    

بچوں کے صدر بچے اے پی جے عبدالکلام کو اپنا آئیڈیل مانتے ہیں اور وہ بھی بچوں کے درمیان  وقت گزارنا پسند کرتے تھے۔ ڈاکٹر کلام نے ایک بہتر ہندوستان کی تعمیر کے لیے نوجوانوں کو متحرک کرنے کا نعرہ دیا تھا۔ وہ ایک ماہر سائنسداں تھے اور نوجوان ذہنوں کوسائنس کے اسٹریم میں جانے کی ترغیب دیتے تھے۔ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام نے ایک بار کہا تھا، ''جب میں اسکول کے بچوں اور نوجوانوں سے بات چیت کرتا ہوں، جہاں بھی جاتا ہوں، ایک سوال اکثر آتا ہے۔ وہ مجھ سے پوچھتے ہیں ''ہمارے رول ماڈل کون ہیں؟'' روشن خیال شہریوں کے طور پر زندگی گزارنے کے لیے والدین اور اساتذہ کو بچوں کے لیے مثالی کردار بننا ہوگا۔ بچے مختلف شعبوں میں قومی سطح پر رول ماڈل تلاش کرتے ہیں۔ ہمارے ملک کی ہر ریاست میں ماضی کی ایسی متعدد ہستیاں موجود ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم موجودہ عہد سے مزید رول ماڈل بنائیں۔

ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام بطور استاذ ڈاکٹر کلام، اپنی متعدد لافانی کامیابیوں کے باوجود، ہمیشہ ایک استاذ کے طور پر یاد کیا جانا پسند کرتے تھے۔سوئے اتفاق دیکھیے کہ وہ ایک استاد کے طور پر آئی آئی ایم، شیلانگ میں ایک اجتماع سے خطاب کر رہے تھے کہ انھوں نے 27 جولائی، 2015 کی شام کو آخری سانس لی۔ ڈاکٹر کلام کے الفاظ میں اگر کسی ملک کو بدعنوانی سے پاک اور خوبصورت ذہنوں کا ملک بننا ہے تو تین اہم سماجی ارکان ہیں جو یہ کام کر سکتے ہیں۔ و ہ ہیں ماں،باپ اور استاذ۔ ڈاکٹر کلام کے مطابق، استاذ طالب علم کو خود مختار سیکھنے والا بناتا ہے۔ معاشرے اور قومی تعمیر میں استاذ کا اہم کردار ہوتا ہے۔ ڈاکٹر کلام کا خیال تھا کہ حقیقی تعلیم وہ ہے جو انسان کو سوچنے پر مجبور کرے کہ 'میں کیا کر سکتا ہوں' چاہے وہ بچے ہوں، اساتذہ ہوں یا سیاسی قائدین ہوں۔ ان کا خیال تھا کہ اساتذہ کسی بھی ملک کا عظیم اثاثہ ہوتے ہیں اور اساتذہ ہمارے لاکھوں بچوں کی زندگی بدل سکتے ہیں اور معاشرے کو متحرک بنا سکتے ہیں۔

ڈاکٹر کلام کا اکیسویں صدی میں تعلیم کا ماڈل ڈاکٹر کلام نے ہندوستان کے لیے اکیسویں صدی کا تعلیمی ماڈل بھی تجویز کیا تھا۔ ان کے مطابق ایک اچھا تعلیمی ماڈل نصاب کے اچھے معیار پر مبنی ہونا چاہیے اور پورا تعلیمی نظام صلاحیت سازی کے پروگرام پر مبنی ہونا چاہیے۔ یہ پروگرام مندرجہ ذیل پانچ اجزا پر مشتمل ہے

  •         تحقیق اور تفتیش
  •         تخلیقی صلاحیت اور جدت
  •         اخلاقی قیادت
  •         کاروبار ی فروغ
  •         سپر ٹکنالوجی استعمال کرنے کی صلاحیت

ڈاکٹر کلام کے مطابق اکیسویں صدی علم اور معلومات کے بہتر انتظام وانصرام کی صدی ہے۔ اس میں ادارے اور اساتذہ، طلبا کو زندگی کا راستہ تلاش کرنے کی سہولت اور ہنر فراہم کرتے ہیں۔ ہمارے آس پاس موجود معلومات کی مقدار بہت زیادہ ہے اس لیے ان کی نیٹ ورکنگ ضروری ہے۔ جب معلومات کی نیٹ ورکنگ ہوتی ہے تو معلومات کی طاقت اور افادیت بڑھ جاتی ہے۔ اکیسویں صدی میں علم کا نظم و نسق ایک فرد کی صلاحیت سے باہر ہے اور اسے فرد کے دائرے سے نکل کر نیٹ ورک گروپس میں منتقل ہونا چاہیے۔ طلبا کو یہ سیکھنا چاہیے کہ علم کو اجتماعی طور پر کیسے منظم کرنا ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020بھی انھیں بنیادی عناصر پر مبنی ہے۔

ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی وراثت کو فروغ دینے والی میموریل اور تنظیمیں

اے پی جے عبدالکلام میموریل ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی وراثت کو ہر ہندوستانی کے دل میں زندہ رکھنے کے لیے 30 جولائی، 2016 کو نئی دہلی کے دلی ہاٹ میں کلام میموریل کا افتتاح کیا گیا تھا۔ یہ میموریل ڈاکٹر کلام کے لیے ہماری لازوال محبت کا بین ثبوت ہے۔  ہندوستان کے ہر بچے کے لیے وقف، یہ میموریل سیاحوں، خاص طور پر نوجوان ذہنوں کو متاثر کرتی رہتی ہے۔

ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام میموریل، رامیشورم 27 جولائی، 2015 کو شیلانگ میں ان کے اچانک انتقال کے بعد، ڈاکٹر کلام کو 30 جولائی، 2015 کو پی کرمبو، رامیشورم میں سپرد خاک کیا گیا۔ تدفین کے مقام پر ایک میموریل تعمیر کی گئی ہے۔ میموریل کے اندر، منتخب تصاویر، پینٹنگ اور میزائلوں کے چھوٹے ماڈل وغیرہ کو دیکھاجا سکتا ہے۔ یہ میموریل رامیشورم سے محض ایک کلومیٹر کی دوری پر ہے۔

عبدالکلام انٹرنیشنل فاؤنڈیشن (AKIF) ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام انٹرنیشنل فاؤنڈیشن کا آغاز 11 اکتوبر، 2015 کو ہاؤس آف کلام نے ان کی یاد میں کیا تھا۔ یہ فاؤنڈیشن ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کے نظریات کو آگے بڑھانے کے لیے کام کرتی ہے۔ AKIF کی بنیاد ان کے بڑے بھائی اور خاندان کے لوگوںنے ڈاکٹر عبدالکلام کے ساتھیوں کے تعاون سے رکھی تھی۔ اپنی زندگی کے آخری دنوں میں، ڈاکٹر کلام اپنے ساتھیوں اور خاندان کے افراد کے ساتھ مل کر ایک ایسی تنظیم قائم کرنے پر غور کر رہے تھے جہاں ان کا وژن حقیقت کا روپ لے سکے۔ زندگی نے ان کو یہ موقع نہیں دیا لیکن ان کے خاندان کے لوگوں اور ساتھیوں نے ان کی اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے انتھک محنت کرنے کا فیصلہ کیا اور اسی کے نتیجے میں AKIF کی بنیاد رکھی گئی۔

عبدالکلام وژن انڈیا موومنٹ ہاؤس آف کلام نے عبدالکلام کے وژن انڈیا موومنٹ کے آغاز کا بھی اعلان کیا، جو سابق صدر ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک قومی تحریک ہے۔ اس کا آغاز 4 ستمبر،2015 کو ہوا تھا۔ اس کا صدر دفتر نئی دہلی میں ہے۔ عبدالکلام  وژن انڈیا موومنٹ کا مقصد ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کے وژن اور مشن کو آگے بڑھانا اور طلبا، نوجوانوں، عوام اور حکومتوں کے ساتھ زمینی سطح پر کام کرنا ہے۔

ڈاکٹر اے پی جے عبد الکلام پریرنا ا ستھل ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام پریرنا استھل کا افتتاح 15 اکتوبر، 2021 کو بھارت رتن ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی 90 ویں یوم پیدائش کے موقع پر نیول سائنس اینڈ ٹکنالوجی لیبارٹری (NSTL)، وشاکھاپٹنم میں کیا گیا۔ NSTL  ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آر ڈی او) کی اہم نیول ریسرچ لیبارٹری ہے۔

اہم کامیابیاں

  •         ڈاکٹر کلام کی قیادت میں’ اگنی‘ اور’ پرتھوی‘ میزائلوں کی کامیابیوں کے بعد ہندوستان ایک بڑی فوجی طاقت بن گیا۔
  •         انھوںنے ISRO  میں دیسی سیٹلائٹ لانچ وہیکل کی ترقی کے لیے پروجیکٹ ڈائریکٹر کے طور پر 10 سال سے زیادہ طویل محنت کی تھی جس کے نتیجہ میں بالآخر  ہمارے ملک کو دیسی سیٹلائٹ لانچ وہیکل (SLV) ملاجو ہماری اہم سائنسی ترقیوں میں سے ایک ہے۔
  •         انھوں نے سوماراجو کے ساتھ ایک کم قیمت والی کورونری اسٹینٹ تیار کیا جس کو ''کلام راجو اسٹینٹ'' نام دیا گیا۔
  •         1998 میں، پوکھرن-II ٹیسٹوں نے ہندوستان کی جوہری صلاحیت کو مزید مستحکم کیا۔ ڈاکٹر کلام نے اس منصوبے میں اہم کردار ادا کیا۔
  •         کلام اور سوما راجو کی جوڑی نے 2012 میں دیہی اور کم قابل رسائی علاقوں میں صحت کی دیکھ بھال کے بہتر انتظام کے لیے ایک  ٹیبلٹ کمپیوٹر ڈیزائن کیا۔

ڈاکٹر کلام کی بایوپکچر

15 اکتوبر 2021 کو ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام  کے 90 ویں یوم پیدائش پر فلمز ڈویژن، وزارت اطلاعات و نشریات نے،ان کی زندگی اور کارناموں پر مبنی ایک بایو پک ’پیپلز پریزیڈنٹ‘ کی اسٹریمنگ اپنی ویب سائٹ اور یوٹیوب چینل  https://www.youtube. com/FilmsDivision  پر کی۔ اس کی ہدایت کاری پنکج ویاس نے کی ہے۔ یہ دستاویزی فلم ان کے شاندار کیریئر کے بہت سے اہم سنگ میلوں پر روشنی ڈالتی ہے۔


Dr. Jahangeer Ahmad

Researcher, PIB Research Unit

Soochna Bhawan, CGO Complex

Lodhi Road

New Delhi - 110003

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...