26/6/23

سری نگر میں کونسل کے کمپیوٹر سینٹرز کے اساتذہ کے لیے چہار روزہ تربیتی پروگرام

 

قومی اردو کونسل فروغِ اردو کے ساتھ نئی نسل کو تکنیکی مہارتوں سے بھی لیس کر رہی ہے: پروفیسر شیخ عقیل احمد

 نئی دہلی: قومی اردوکونسل، نئی دہلی اردو زبان کے فروغ کے ساتھ ملک کی تقریباً تمام ریاستوں کے اردو طلبہ و طالبات کو بنیادی تکنیکی مہارتوں سے بھی لیس کررہی ہے تاکہ وہ موجودہ مسابقتی دور میں اپنے اور ملک کے لیے مفید ثابت ہوسکیں۔ ان خیالات کا اظہار کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر شیخ عقیل احمد نے سری نگر میں ایک ٹریننگ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس میں جموں و کشمیر، لداخ، ہماچل پردیش و پنجاب میں کونسل کے ذریعے چل رہے کمپیوٹر سینٹرز کے ذمے داران اور فیکلٹی ممبرز شرکت کررہے ہیں۔  اس پروگرام میں انھیں کمپیوٹر کورس کے نصاب میں ہونے والی نئی تبدیلیوں سے آگاہ کیا جارہا ہے تاکہ وہ آئندہ ان کے مطابق بچوں کو تعلیم دیں۔ یہ پروگرام چہار روزہ ہے اورنائلیٹ(چنڈی گڑھ) کے ٹرینرکے ذریعے  ٹریننگ  دی جارہی ہے۔ شیخ عقیل احمد نے مذکورہ صوبوں کے ساتھ ہندوستان بھر میں اردو کونسل کے ذریعے چلنے والے چھ سو سے زائد کمپیوٹر سینٹر کے ذمے داروں اور اساتذہ سے اپیل کی کہ وہ بھارت سرکار کے ضوابط و شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنے سینٹر چلائیں تاکہ ہمیں درست نتائج حاصل ہوں۔انھوں نے کہا کہ کونسل کی جانب سے پچھلی کئی دہائیوں سے یہ کمپیوٹر سینٹر چلائے جارہے ہیں جہاں تعلیم و تربیت حاصل کرکے اب تک ہزاروں نوجوانوں نے فائدہ اٹھایا ہے اور دگر ریاستوں کے علاوہ جموں و کشمیر میں بھی ایسے نوجوانوں کی بڑی تعداد ہے جو کونسل کے کمپیوٹر سینٹر میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے مختلف شعبوں میں ملازمت کررہے ہیں یا اپنا سائبر کیفے وغیرہ چلا رہے ہیں،ایسے بہت سے نوجوان ہمارے مختلف سینٹرز میں فیکلٹی ممبر کی حیثیت سے بھی کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں چلنے والے ان سینٹروں کی وجہ سے ایک بڑا فائدہ یہ ہوا ہے کہ نوجوانوں میں بیکاری کا رجحان کم ہوا ہے اور وہ مختلف قسم کی آئی ٹی اسکلز سیکھ کر اپنی معاشی ضروریات خود پوری کر رہے ہیں ۔ شیخ عقیل نے کہا کہ چوں کہ یہاں بے روزگاری بہت زیادہ ہے اس لیے ہماری کوشش ہوگی کہ مستقبل قریب میں ہم یہاں کونسل کی مزیدایسی اسکیمیں متعارف کروائیں، جن سے اردو زبان کا بھی فروغ ہو اور مقامی نوجوانوں کو روزگار بھی فراہم ہو۔اس موقعے پر مذکورہ صوبوں کے کمپیوٹر سینٹرز کے ذمے داران، فیکلٹی ممبرز کے علاوہ کونسل کے ریسرچ آفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ، انتخاب عالم اور نائلیٹ(چنڈی گڑھ) کی اسسٹنٹ ڈائرکٹر سنیتا پوری بھی موجود رہیں۔

22/6/23

قومی اردو کونسل کے زیر اہتمام نواں عالمی یومِ یوگ منایا گیا

 





یوگ انسان کے جسم و دماغ دونوں کی صحت کے لیے ضروری: پروفیسر شیخ عقیل احمد

نئی دہلی:یوگ ہندوستان کے قدیم فلسفےواسو دیو کٹمبکم’کو بڑھاوا دیتا ہے اور یہ پوری دنیا کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی منفرد کوشش بھی ہے۔ان خیالات کا اظہار قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائرکٹر پروفیسر شیخ عقیل احمد نے سری نگر میں عالمی یومِ یوگ کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔اس سے پہلے انھوں نے کونسل کے زیر اہتمام جموں و کشمیر ،لداخ و پنجاب میں چلنے والے اَسی سے زائد کمپیوٹر سینٹرز کے اساتذہ ومقامی لوگوں کو یوگ بھی کروایا۔ انھوں نے کہا کہ یوگ کرنے نہ صرف انسان کا جسم صحت مند اور توانا رہتا ہے بلکہ اس کا ذہن و دماغ بھی مضبوط رہتا اور بہتر طریقے سے کام کرتا ہے،اسی وجہ سے ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی کہتے ہیں کہ یوگ صحت و تندرستی کے ساتھ ہماری درازیِ عمر کا بھی ذریعہ ہے۔شیخ عقیل نے کہا کہ یوگ ایک جسمانی ورزش ہے جس کی شروعات قدیم زمانے میں ہمارے ملک کے رشی منیوں نے کی تھی اور تب سے ہی یہ ہندوستان اور دنیا کے مختلف ملکوں میں مقبول رہی ہے،مگر جب سے نریندر مودی ملک کے وزیر اعظم بنے ہیں تب سے انھوں نے عالمی سطح پر اس کی مقبولیت کو بڑھانے اور پھیلانے میں غیر معمولی کردار ادا کیا ہے اور انھی کی وجہ سےہرسال 21؍جون کو پوری دنیا میں عالمی یومِ یوگ منایا جاتا ہے ،یہ یقیناً ہمارے لیے قابل فخر ہے۔ انھوں نے کہا کہ دراصل مودی جی چاہتے ہیں کہ بھارت کے لوگ چست اور تندرست رہیں تاکہ وہ ذاتی ترقی کے ساتھ ملک کی تعمیر و ترقی میں بھی کماحقہ اپنا کردار ادا کرسکیں،کیوں کہ جب وہ چست اورتوانا رہیں گے تبھی خود اپنے لیے بھی مفید ثابت ہوں گے اور ملک کے بھی کام آئیں گے، ایک کمزور اور بیمار انسان نہ اپنے کام آسکتا ہے اور نہ اپنے ملک کے کام آسکتا ہے اس لیے ہمیں اپنی جسمانی صحت پر خصوصی توجہ دینی چاہیے اور یوگ کو اپنے معمولاتِ زندگی کا حصہ بنانا چاہیے۔شیخ عقیل نے کہا کہ جموں و کشمیر میں ابھی یوگ کا چلن کم ہے مگر آج جس طرح یہاں کے لوگوں نے دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہے اس سے لگتا ہے کہ آئندہ یوگ کے تئیں لوگوں میں عمومی دلچسپی پیدا ہوگی اور ہماری بھی کوشش ہوگی کہ یہاں عالمی یومِ یوگ کو خوب دھوم دھام سے منایا جائے۔

واضح رہے کہ قومی اردو کونسل کی جانب سے پچھلے تین دنوں سے لگاتار عالمی یومِ یوگ کی مناسبت سے یوگا کا اہتمام کیا جارہا ہے۔چنانچہ 19 جون کو کونسل کے صدر دفتر میں ڈائرکٹر پروفیسر شیخ عقیل احمد نے تمام اسٹاف کو یوگا کروایا ،اسی طرح20جون کو انڈیا انٹرنیشنل سینٹر نئی دہلی میں ‘اے پی جے عبدالکلام کے سماجی و سائنسی افکار’ کے عنوان سے مسابقہ مضمون نویسی میں کامیاب ہونے والے طلبہ و طالبات کے مابین تقسیم انعامات کا پروگرام منعقد ہوا تھا، اس میں بہ طور مہمان خصوصی آرایس ایس لیڈر ڈاکٹر اندریش کمار نے شرکت کی اور انھوں نے بھی یوگا کی مشقیں کروائی تھیں جبکہ آج سری نگر میں پروفیسر شیخ عقیل احمد نے جموں و کشمیر و لداخ ، پنجاب و ہماچل پردیش کے کمپیوٹر سینٹرز کے اساتذہ مقامی لوگوں کو یوگا کروایا ہے۔ اس موقعے پر قومی اردو کونسل کے ریسرچ آفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ اور انتخاب عالم بھی موجود رہے۔

21/6/23

قومی اردو کونسل میں ہندی ورکشاپ کا انعقاد

 

قومی زبان کا تحفظ و فروغ ہم سب کی ذمے داری ہے:پروفیسر شیخ عقیل احمد
روز مرہ کی سرگرمیوں میں قومی زبان کا استعمال ضروری:جگدیش رام پوری

)قومی اردو کونسل میں ہندی ورکشاپ کا انعقاد(

نئی دہلی:سرکاری محکموں کے انتظامی امور میں ہندی زبان کے استعمال کے تعلق سے وزارت تعلیم کی ہدایات پر عمل آوری کے تعلق سے عمومی بیداری پیدا کرنے  کے لیے  قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے صدر دفتر میں آج ایک ہندی ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا ۔جس میں دفتری امور میں انگریزی کے بجائے ہندی زبان استعمال کرنے پر زور دیا گیا۔اس ورکشاپ میں بطورمقررخصوصی وزارت تعلیم کے جوائنٹ سکریٹری(محکمہ راج بھاشا) جناب جگدیش رام پَوری نے شرکت کی۔ورکشاپ کے شروع میں کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر شیخ عقیل احمد نے موقر مہمان کو گلدستہ پیش کرکے استقبال کیا اور اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ ہندی ہماری قومی زبان ہے جس کا فروغ اور تحفظ ہر ہندوستانی کی ذمے داری ہے اور جس طرح مادری زبان کے تئیں ہمارے دلوں میں عزت و احترام پایا جاتا ہے اسی طرح قومی زبان کے تئیں بھی ہمارے دل میں احساسِ احترام ہونا چاہیے۔انھوں نے اردو اور ہندی کے باہمی رشتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں زبانیں دراصل ایک ہیں،ان میں صرف رسم الخط کا فرق ہے اور اردو و ہندی دونوں زبانوں کا فروغ ایک دوسرے سے وابستہ ہے،دونوں میں سے کسی ایک کو الگ کرکے ہم دوسری زبان کا فروغ نہیں کر سکتے،اس لیے ہمیں ہندی اور اردو دونوں زبانوں کی ترقی اور ان کے تحفظ کے لیے کام کرنا چاہیے۔
مہمان مقرر جناب جگدیش رام پَوری نے اپنی گفتگو میں ہندی کے قومی زبان بننے کے قانونی سفر پر دلچسپ انداز میں روشنی ڈالی اورکہا کہ ہندی ہماری قومی زبان ہے اور اس کی حفاظت کرنا ، اسے اپنے شب وروز کے کاموں میں استعمال کرنا ہم سب کا فریضہ ہے۔انھوں نے کہا کہ ہم ہندی زبان پر تو بہت بات کرتے ہیں، مگر جب ہندی میں پڑھنے لکھنے کی باری آتی ہے تو ہم اسے اپنے لیے مناسب نہیں سمجھتے یا جھجھک محسوس کرتے ہیں، یہ آجکل کے پڑھے لکھے لوگوں کا عمومی مزاج بن گیا ہے۔حالاں کہ دنیا کے جتنے ترقی یافتہ ممالک ہیں ان کی ترقی اور کامیابی کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ ان کے یہاں تمام موضوعات کو مادری اور قومی زبان میں ہی پڑھایا اور سکھا جاتا ہے،ٹکنالوجی اور سائنس کو بھی وہ اپنی زبان میں ہی سیکھتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ہمیں بھی اپنی قومی زبان کے تئیں اسی قسم کا احساس اپنے اندر پیدا کرنے کی ضرورت ہے،تبھی قومی زبان کو اس کا صحیح مقام مل سکتا ہے۔انھوں نے کہا کہ زندگی کے کسی بھی شعبے میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے صحیح وقت پر صحیح فیصلہ لینے،صحیح سمت میں محنت اورلگن کی ضرورت ہوتی ہے تبھی ہم منزل تک پہنچ سکتے ہیں، سرکار نے قومی زبان کی ترقی اور اس کے فروغ کے لیے قانون بنادیا ہے،اس کے لیے ترجمہ اور تربیت وغیرہ کے مختلف منصوبے بھی چل رہے ہیں،مگر ان میں کامیابی تبھی ملے گی جب ہم صحیح فیصلے اور محنت و لگن کے ساتھ اپنی قومی زبان کی ترقی کا عہد لیں اور اپنی عملی و علمی سرگرمیوں کا اسے حصہ بنائیں۔آخر میں پروفیسر شیخ عقیل احمد نے مہمان مقرر  کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہمارے یہاں پہلے سے بھی دفتری کاموں میں اردو کے ساتھ ہندی زبان کا بھی استعمال ہوتا رہا ہے، مگر اب ہم سرکار کی ہدایت کے مطابق اس تعلق سے مزید سنجیدہ اقدامات کریں گے۔

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...