اردو کے معاصر غیرمسلم شعرا و ادبا مضمون نگار:۔ خان حسنیین عاقب





اردو کے معاصر غیرمسلم شعرا و ادبا
خان حسنیین عاقب

ناظر کاکوروی کہتے ہیں،’’یہ امر مسلّم ہے کہ ہماری زبان جو شیخ و برہمن کی مشترکہ ملکیت ہے، اس کی عزت افزائی ہمایوں کے عہد سے شروع ہوئی اور اکبری دور کے آتے ہی اس نے ایسی متحدہ صورت اختیار کرلی کہ اگر کسی بزم میں عرفی و نظیری سرگرمِ سخن نظر آتے تھے تو تلسی داس اور سورداس کی نغمہ سنجیاں بھی گرمی پیدا کررہی تھیں۔ اردو ادب اس محبت کے سایہ میں نشو و نما پاتا رہا حتیٰ کہ ہندوستان کی سیاسی بساط کا نقشہ بدلا لیکن باوجود اس انتشار کے شیخ و برہمن کا مسئلہ کہیں بھی رونما نہ ہوسکا۔ اور اگر غالب کے خدنگِ نظر نے میر مہدی کو گھائل کیا تو مرزا گوپال تفتہ بھی اس سے بچ کر نہ نکل سکے۔‘‘ 
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جس سے انکار کسی صورت ممکن نہیں کہ اردوصرف اور صرف مسلمانوں کی زبان نہ کبھی تھی ، نہ ہے اور نہ ہوسکتی ہے۔ کوئی مذہبی صحیفہ کسی مخصوص زبان میں ہوسکتا ہے لیکن اس مذہب کے ماننے والوں پر یہ قید نہیں ہوتی کہ وہ صرف اسی زبان میں بات چیت کریں، ادب تخلیق کریں جس زبان میں ان کا مذہبی صحیفہ ناز ل ہوا ہے۔ اسی لیے عربی دنیا بھر کے مسلمانوں کی مادری زبان نہیں ہوسکتی اور نہ ہی سنسکرت دنیا بھر کے ہندوؤں کی مادری زبان۔ کسی زبان پر کسی مذہب کی اجارہ داری نہیں ہوتی اور نہ ہی اس زبان کو مذہب کا لیبل لگاکر بازار میں اس کی تخصیص کی جاسکتی ہے۔ کسی زبان کے پھلنے پھولنے کی اولین شرط بھی یہی ہوتی ہے کہ اسے قبولیتِ عام حاصل ہو۔ اردو کو قبولیتِ عام حاصل ہوئی، اس کی وجہ محض یہی تھی کہ یہ صرف مسلمانوں کی زبان کے طور پروجود میں نہیں آئی ۔ بلکہ ہندوستان کے رابطے کی زبان یعنیLingua franca کے طور پر متعارف و مقبول ہوئی۔ ایک سوال یہ بھی ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ پھر وہ کون سے عوامل تھے جن کی بنیاد پر یہ تاثر عام ہوا کہ اردو مسلمانوں کی زبان ہے؟ اس کا ایک تاریخی اور منطقی جواب بھی ہمیں ناظر کاکوروی کی کتاب ’اردو کے ہندی ادیب‘ سے پتہ چلتا ہے۔ وہ کہتے ہیں،’’ اس میں شک نہیں کہ اردو ادب کی ترقی و تہذیب کے سلسلہ میں مسلمانوں کے کارنامے زیادہ روشن ہیں جس کی وجہ وہ شاہی پشت پناہی تھی جو فرمانروایانِ ما سبق کے دورِ ہمایوں میں اردو زبان کو نصیب ہوئی لیکن یہ کھُلی ہوئی بے انصافی ہوگی اگر کوئی ناواقف یہ کہہ اٹھے کہ ہمارے برادرانِ وطن نے اس زبان کی ترقی اور ترویج میں کوئی نمایاں حصہ نہیں لیا۔‘‘
ماضی میں بھی مسلمان مورخین نے ہندو شعرا و ادبا کے کمالات کو بلند آہنگی اور کشادہ دلی کے ساتھ سراہا ہے۔ اور ان کے جواہر پاروں کی قدر و عزت کی ہے۔ کیا اردو کے داستانی ادب میں کوئی پنڈت رتن ناتھ سرشار کی معرکہ آرا تصنیف ’فسانۂ آزاد‘ کو بھول سکتا ہے؟ کیا کوئی پنڈت دیا شنکر نسیم کی مثنوی ’گلزارِ نسیم‘ سے صرفِ نظر کرسکتا ہے؟ کیااردو زبان و ادب کی ترقی و ترویج میں منشی نول کشور کی خدمات کو فراموش کیا جاسکتا ہے؟ کیا مالک رام کا کوئی بدل ہوسکتا ہے؟ اردو شاعری ہو یا نثر، تنقید ہو یا تحقیق، طنز مزاح ہو یا تقدیسی ادب، ہر شعبۂ ادب میں غیر مسلم قلمکار، اردو کے ہر محاذ پر شامل رہے ہیں۔ ایک اجمالی اور مختصر نظر ڈالتے ہیں پس منظر پر۔ اہلِ ذوق زمانی و مکانی تقدیم و تاخیر کے پہلو سے صرفِ نظر فرمائیں۔
بیسویں صدی سے قبل: 
بیسویں صدی سے قبل دو تین سو برس کے عرصے پر محیط عہد میں مسلم شعراء و ادیبوں کے ساتھ ساتھ سیکڑوں غیرمسلم شعراء و ادیب بھی اردو زبان و ادب کی آبیاری میں مصروف تھے۔ میرکے عہد اور ان کے بعد کے عہد میں بھی بہت سے برادرانِ وطن کی خدمات قابلِ ذکر ہیں جن میں ٹیک چند بہار، راجہ رام نرائن موزوں جن کے مشہورِ زمانہ شعر کا مصرعۂ ثانی ضرب المثل بن چکا ہے۔ 
غزالاں تم تو واقف ہو، کہو مجنوں کے مرنے کی 
دِوانہ مرگیا، آخر کو ویرانے پہ کیا گزری 
مادھو رام جوہر فرخ آبادی جن کے یہ اشعارضرب المثل بن چکے ہیں ؂
بھانپ ہی لیں گے اشارہ سرِ محفل جو کِیا 
تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں 
یا پھر یہ شعر ؂
اب عطر بھی مَلو تو تکلف کی بو کہاں
وہ دن ہوا ہوئے کہ پسینہ گُلاب تھا
سروپ سنگھ دیوانہ، رتن ناتھ سرشار، دیا شنکر نسیم، جوالا پرساد برق، منشی میوا لال عاجز کَیاوی، شیو نرائن چودھری عارف عظیم آبادی، رائے اسیری پرساد عطا عظیم آبادی، رائے سنگھ عاقل، دوارکا پرساد اُفق، گھاسی رام خوشدل، چمنستانِ شعرا کے مولف لچھمی نارائن شفیق جنھوں نے میر تقی میر کی کتاب نکات الشعرا کی طرز پر چمنستانِ شعرا تالیف کی ، درگا سہائے سُرور جہاں آبادی،غالب کے شاگردوں میں ہرگوپال تفتہ کا نام کون نہیں جانتا؟ علامہ اقبال کے دوستوں میں سردار جُگندر سنگھ کے نام سے کون واقف نہیں ہے؟ 
آزادی سے قبل اوربعد : 
اردو شعرا و ادبا کی ایک نسل ایسی بھی گزری جو آزادی سے قبل بھی فعال تھی اور آزادی کے حصول کے بعد بھی فعال رہی۔ اس نسل کے شعرا و ادبا میں رگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری جن کے سیکڑوں اشعار زبان زدِ عام ہیں جن میں میری پسند کا شعر ہے 
طبیعت اپنی گھبراتی ہے جب سنسان راتوں میں
ہم ایسے میں تری یادوں کی چادر تان لیتے ہیں
کنور مہندر سنگھ بیدی سحر جن کا مشہور شعر ہے ؂
عشق ہوجائے کسی سے ، کوئی چارہ تو نہیں
صرف مسلم کا محمدﷺ پہ اجارہ تو نہیں
ایک چادر میلی سی والے راجندر سنگھ بیدی، رامانند ساگر، پنڈت برج نارائن دتا تریہ کیفی، گوپی ناتھ امن، گلشن نندہ، گیان سنگھ شاطر، ڈاکٹر اوم پرکاش راز علامی، امر چند قیس جالندھری، جگت موہن لال رواں جن کا شعر ہے ؂
کچھ پودے اُگتے تو ہیں کسی اور زمیں پرلیکن
پھل پھول دیتے اور اپنی بہاریں دکھاتے ہیں کہیں اَور
ابوالفصاحت پنڈت لبھورام جوش ملسیانی، بال مُکند عرش ملسیانی، علامہ سحر عشق آبادی،دامودر ذکی حیدر آبادی، رائے جانکی پرساد، ’شمع ہر رنگ میں جلتی ہے ‘ کے مصنف باگا ریڈی، ’تیرِ نیم کش ‘ اور ’ذرا مسکراؤ‘ کے مصنف مزاح نگار بھارت چند کھنّہ، کنھیا لا ل کپور، اوپندر ناتھ اشک، جمنا داس اختر، رام لعل، گُردیال سنگھ عارف،مشہور دوہا نگار بھگوان داس اعجاز، دیویندر ستیارتھی، پنڈت میلا رام وفا، دلیپ سنگھ، شانتی رنجن بھٹاچاریہ، کنول پرشاد کنول، ’گزشتہ حیدرآباد‘ کے مصنف محبوب نارائن، بشیشر ناتھ صوفیؔ جن کا شعر ہے ؂
اِدھر تکرار اُلفت کی، اُدھر جھگڑا وفاؤں کا
جو رنجش پڑگئی باہم، بڑی مشکل سے نکلے گی 
راج بہادر گَوڑ، بشیشر پرساد منور، لال چند پرارتھی، بھگوان داس شعلہ،بھگوان داس اعجاز، پنڈت لبھو رام جو ش ملسیانی،رنبیر سنگھ، نوین چاؤلہ، فکر تونسوی، رام کرشن مضطر ، جگن ناتھ آزاد، بلونت سنگھ، امرتا پریتم، ماہیہ نگارہمت رائے شرما، ہائی کورٹ کے جج جسٹس آنند نرائن مُلا جن کا شعر مشہورِ زمانہ ہے اور قوالوں نیز غزل گائیکوں نے اسے گا گاکر مزید پھیلادیا ہے ؂
وہ کون ہیں جنھیں توبہ کی مل گئی فرصت 
یہاں گناہ بھی کرنے کو زندگی کم ہے
گوپی ناتھ امن دہلوی، تلوک چند محروم، چکبست، کالی داس گپتا رضا، جگن ناتھ آزاد، کرشن چندر، منشی پریم چند، سرکشن پرساد شاد، نَول کشور پریس والے منشی نول کشور، مالک رام،سدرشن کوشل، کاہن سنگھ جمال، نریش چندر ساتھی، ساحر ہوشیار پوری، ستیہ نند شاکر، کرشنا کماری شبنم، ایس۔ آر ۔ رتن، ابھے راج سنگھ شاد، آزاد گُلاٹی، جگت موہن لال رواں ، راجندر من چندہ بانی، نریش کمار شاد جن کا شعر ہے ؂
عقل سے صرف ذہن روشن تھا
عشق نے دل میں روشنی کی ہے
راج نرائن راز، راجیش کمار اوجؔ ، ست نام سنگھ خمار، سریش چندر شوق، سریندر پنڈت سوز، کنول نور پوری، منوہر شرما ساغر پالم پوری، ہر بھگوان شاد، وغیرہ وغیرہ۔ بہت سے نام ایسے ہیں جو فی الوقت حافظے کی گرفت میں نہیں آرہے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جن کی پرورش خالص اردو کے ماحول میں ہوئی۔
اسی ماحول میں ان کا ذوق اور ان کی دلچسپیاں پروان چڑھیں۔ تقسیم ہند کے سانحے کے بعد بھی ان شعراء و ادباء کی سرگرمیاں جاری رہیں اور وہ اپنی فکر کے مطابق خدمات انجام دیتے رہے۔ ان ناموں میں بہت سے نام ایسے ہیں جو ابھی ابھی ہم سے رخصت ہوئے ہیں۔ بمشکل چندبرس گزرے ہوں گے جب اردو والے ان غیر مسلم محبانِ اردو کی رفاقت سے محروم ہوگئے۔ لیکن یہ لوگ اردو ادب میں اپنی خدمات کے انمٹ نقوش چھوڑ گئے۔
موجودہ غیر مسلم شعراء و ادیب: 
موجودہ دور میں جو لوگ ہمارے درمیان موجود ہیں اور ہنوز اردو زبان و ادب کی ترویج و ترقی میں فعال ہیں ان کی خدمات پر ایک اجمالی نظر ڈالتے ہیں۔ تمام لوگوں کا ذکر تو ممکن نہیں ہے البتہ جو نام بہ آسانی دستیاب ہوسکے ہیں ہم انھیں یہاں درج کررہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بس، اتنے ہی لوگ ہیں اور دیگر ناموں کو ہم تسلیم نہیں کرتے۔ بلکہ یہ ہماری کم علمی یا پھرہماری رسائی کی حد کہ ہمارا علم یا ہمارے وسائل دیگر ناموں کو درج کرنے سے قاصر رہے۔ بہر حال، یہ بھی ایک کوشش ہی ہے۔ موجودہ دور میں جو برادرانِ وطن بڑے اخلاص کے ساتھ اردو کی خدمت انجام دے رہے ہیں ان میں پریم وار برٹنی، عزیز پریہار، ستیہ پال آنند،جناب شباب للت جن کا شعر ہے 
اپنے مقسوم کی روٹیاں کھاتا ہے شباب
آپ کا دست نِگر ہو یہ ضروری تو نہیں 
کرشن کمار طورجو ہماچل پردیش کی راجدھانی شملہ سے اردو سہ ماہی’ سرسبز‘ برسوں سے نکال کر اردو کی آبیاری کررہے ہیں۔ سلکشنا انجم، سریش چندر شوق، مشہور افسانہ نگار دیپک بُدکی، کشمیری لال ذاکر، نریندر لوتھر، اندرا شبنم اندو، آشا پربھات، بلراج مین را، ڈاکٹر کیول دھیر،بلراج کومل، پرکاش پنڈت، جتیندر بِلّو، عاشقِ اردونوّے سالہ نند کشور وِکرم ، راجندر سنگھ رہبر، اودیش رانی حیدر آبادی، بی۔ایس۔جین جوہر، مہندر پرتاپ چاند، شین۔ کاف ۔ نظام، راجیش ریڈی، اتل اجنبی جنھوں نے کہا ؂
جب غزل میر کی پڑھتا ہے پڑوسی میرا
اک نمی سی مری دیوار میں آجاتی ہے
دپتی مشرا، ڈاکٹر مہندر اگروال، راجیش آنند اسیر، راجیش عنبر، طفیل چترویدی، ادھو مہاجن بسمل،چرن سنگھ بشر، سیما گُپتا، روچا صبا، ڈاکٹر لکشمن شرما واحد، نلنی وبھا ناز، رام پنڈت، ڈاکٹر گنیش گائیکواڑ آغاز بلڈانوی، گلزار، ساگر ترپاٹھی، ناول نگار اور افسانہ نگارآنند لہر، افسانہ نگار بلراج بخشی، شاعر اور ہندی ماہنامہ ’نئی غزل ‘ کے مدیرڈاکٹر مہندر کمار اگروال، آر پی شرما مہرِش ، ڈاکٹرچندوسی وغیرہ چند اہم نام ہیں۔ ان دِنوں بزرگ شاعر جناب تلک راج پارس خالص اردو نعتیں تخلیق کررہے ہیں۔ بحیثیت ایک نقاد اور محقق، گوپی چند نارنگ کی خدمات سے پہلوتہی نہیں کی جاسکتی۔ داغ کے تلامذہ کے وارث جناب پنڈت آنند موہن زُتشی گلزار دہلوی ہنوز ہمارے بیچ موجود ہیں۔موقع ہے تو گلزار دہلوی کے بارے میں قرۃ العین حیدر کی رائے بھی سُن لیجیے۔
وہ کہتی ہیں،یونان، مصر و روما، سب مٹ گئے جہاں سے... لیکن ہندوستان میں گُپت سامراجیہ سے لے کر عہدِ مغلیہ تک سارے ادوار محض ایک زبان اور ایک کلچر میں ابھی تک موجود ہیں، اس زبان و تہذیب کا نام ہے اردو... ایک ادبی مورخ کے لیے یہ بات قابلِ ذکر اور اہم ہے کہ اس تہذیب کے وارث اور نام لیوا دورِ حاضر میں بھی شامل ہیں اور وہ اپنے وِرثے کی اہمیت کا شدید احساس رکھتے ہیں۔ انہی وارثوں میں ایک اہم نام گلزار دہلوی کا جو شاعر بن شاعر ، علم اور اہلِ دانش ہی نہیں بلکہ ایک ادبی اور مجلسی تمدن و شائستگی کا دوسرا نام ہے۔‘ 
جو نام میں نے درج کیے ہیں ان میں سے اکثر اردو زبان اور تہذیب کے پروردہ ہیں اور وہ اردو زبان جانتے بھی ہیں۔ لیکن ان کے علاوہ آج کے دیگر بہت سے غیر مسلم شعرا و ادبا اردو کی ترویج کے لیے سنجیدہ اور کار آمد ہیں۔
بہرحال، اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ دور میں بھی کئی غیر مسلم برادرانِ وطن کو اردو کے نام کی نسبت حاصل ہے۔ اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ آج بھی گوپال متل جی کا ادارہ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی ، اردو کی ترویج میں اپنا کردار ادا کررہا ہے۔آج بھی سنجیو صراف ، ریختہ ڈاٹ کام نامی نہایت مقبول اور مصدقہ ویب سائٹ کے توسط سے اردو کی ڈیجیٹل ترویج اور ارتقا میں بے بہا خدمات انجام دے رہے ہیں۔ علاوہ ازیں اِن دنوں چند نوجوانوں نے اردو اور ہندی کے مشترکہ پلیٹ فارم سے ایک ڈیجیٹل گروپ تیار کیا ہے جس کا نام انہوں نے ’ہِر دو‘ یعنی ہندی اور اردو کا سنگم رکھا ہے۔ ان برادرانِ وطن کے دِلوں میں بے شک اردو زبان اور اردو تہذیب کی محبت سمندر کی لہروں کی طرح موجزن ہے۔ انہی ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی اور دیگر تمام مذاہب کے محبانِ اردو کی وجہ سے بیکراں تیرگی کے باوجود یہ قندیلِ اردو ہنوز ہمارے اطراف ایک پاکیزہ روشنی بکھیر رہی ہے۔ میں آنند نرائن مُلا کے اس شعر پر اس مقالے کو ختم کرنا زیادہ مناسب خیال کرتا ہوں ؂ 
ملاّ بنادیا ہے اسے بھی مُحاذِ جنگ
اِک صلح کا پیام تھی اردو زباں کبھی

Khan Hasnain Aqib
Allama Iqbal Teachers Colony
Mominpura, Washim Road
Poosad - (MS)







قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں