”دیوداس“۔۔۔ ایک مطالعہ مضمون نگار: رائحہ انصار

دیوداس“۔۔۔ ایک مطالعہ
رائحہ انصار

شرت چندر کا شمار بنگالی ہی نہیں ہندوستانی ادبیات کے چند منتخب روزگار شخصیا ت میں ہوتا ہے۔ان کی پیدائش ستمبر1876 کو ضلع ہگلی بنگال میں ہوئی۔انھوں نے ادبی ذوق وراثت میں پایا۔طالب علمی کے زمانے سے ہی انھوں نے لکھنا شروع کیا۔ان کے شاہکار ناولوں میں ’دیوداس ‘، ’پرینیتا‘،’پنڈت جی‘،’دیہاتی سماج‘،’شری کانت‘،’آوارہ‘، ’برہمن کی بیٹی‘، ’راستے کی پکار‘اور’آخری سوال‘وغیرہ کا شمار ہوتا ہے۔ان کے ناولوں میں بیسویں صدی کے بنگالی معاشرے کی بہترین عکاسی ملتی ہے۔انھوں نے اپنی تخلیقات میں سماجی،سیاسی،معاشی،اور معاشرتی زندگی کے بے شمار پہلوؤں کو نمایاں کیا ہے۔موضوع گفتگو ناول ”دیوداس“میں بھی ان مسائل کو مفصل انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
دیوداس‘شرت چندر کا شاہکار ناول ہے۔یہ ناول 1917 میں منظر عام پر آیا۔اس کا ترجمہ نہ صرف ہندوستانی زبانوں بلکہ غیر ہندوستانی زبانوں میں بھی ہوا۔16 ابواب پر مشتمل یہ ناول ایک عشق کی داستان ہے جس کا اختتام المناک ہے۔اس ناول میں تین بنیادی کردار ہیں۔ دیوداس،پاروتی(پارو)اور چندرمکھی۔دیوداس اس کا مرکزی کردار ہے جس کے حرکات و سکنات آخرالذکر دونوں کرداروں کی زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔
اس ناول میں بنیادی طور پر شرت چندر نے جاگیردارانہ نظام، ذات پات،بے میل شادی اور طوائف کے مسائل کو موضوع بنایا ہے۔ دیوداس کا تعلق ایک جاگیردار خاندان سے ہے۔اس کا خاندانی رتبہ ہی اس کی محبت کے راستہ کی رکاوٹ بنتا ہے۔ناول کا قصہ کچھ یوں ہے کہ دیوداس اور پارو بچپن سے ساتھ رہتے ہیں اور پارو دیوداس سے اس وقت سے محبت کرتی ہے جب وہ محبت کے معنی سے بھی آشنا نہیں ہوتی۔دیوداس اس کی کل کائنات ہے۔وہ اس کے بغیر اپنی زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔لیکن طبقاتی سماج عاشق و معشوق کی جدائی کا سبب بنتا ہے۔پارو کی داد ی جب دیوداس کی ماں سے ان دونوں کے رشتہ کی بات کرتی ہے تو وہ کہتی ہے:
دونوں میں بہت پیار ہے،لیکن اس پیار کے لیے کیا میں لڑکی بیچنے والے خاندان سے لڑکی لا سکتی ہوں؟اور گھر کے پڑوس میں رشتہ داری چھی چھی۔
(دیوداس“شرت چندر،مترجم نرندرناتھ سوز،حاجی حنیف پرنٹرز،لاہور،ستمبر 2003،ص36)
مندجہ بالا اقتباس سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سماج میں محبت کی کیا اہمیت ہے؟ عام طور پر سماج میں محبت پر خاندانی وقار اور عظمت کو ترجیح دی جاتی ہے۔یہ طبقاتی فرق ہی پارو اور دیوداس کو ایک دوسرے سے جدا کر دیتے ہیں۔ شرت چندر نے ناول میں یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ سماجی رسم و رواج کس طرح انسان کو متاثر کرتے ہیں اور اسے اس حد تک کمزور و مضمحل کر دیتے ہیں کہ وہ اپنے فہم و فراست کو استعمال کرنے کے بجائے فرسودہ روایت کی پیروی کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
پارو کی شادی ایک عمر رسیدہ زمیندار بھون موہن سے کر دی جاتی ہے۔اس کی پہلی بیوی کا انتقال ہو چکا ہے اور اس کے بچوں کی عمربھی پارو سے زیادہ ہے۔اس طرح شرت چندر بے میل شادی کے مسئلہ کو اجاگر کرتے ہیں۔غریبی کی وجہ سے 13 سالہ معصوم پارو کو40 سالہ زمیندار کے ہاتھوں سونپ دیا جاتا ہے جو اپنے دل میں دیوداس کی پرستش کر رہی ہوتی ہے۔شادی سے قبل جب اس کی دوست منورما اس کے ہونے والے شوہر کا نام پوچھتی ہے تو پارو کہتی ہے:
۔۔۔میں تو صرف اتنا ہی جانتی ہوں کہ میرے مالک کا نام دیوداس ہے اور عمر انیس سال ہے۔“ (ایضاً،ص42)
پارو کے مذکورہ الفاظ سے اس کے جذبات عیاں ہو جاتے ہیں کہ وہ کس حد تک دیوداس سے والہانہ محبت کرتی ہے۔شادی طے ہو جانے کہ بعد بھی وہ اسے اپنا سوامی مانتی ہے۔پریم چند نے بھی اپنے ناولوں میں بے میل شادی کے مسئلے کو موضوع بنایا ہے۔ان کا ناول  ”نرملا“مکمل طور پر اس مسئلہ کو پیش کرتا ہے۔اس ناول میں بھی کم عمر نرملا کی شادی چالیس سال سے زائد عمر کے وکیل طوطارام سے کر دی جاتی ہے۔سسرال پہنچ کر ایک مدت تک اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کیا کرے کیوں کہ اب تک اسی عمر اور اسی قسم کا ایک شخص اس کا باپ تھا۔اس ناول کا اختتام نرملا کی المناک موت پر ہوتا ہے۔مرنے سے پہلے وہ اپنی بچی کو اپنی نند کے حوالے کرتے ہوئے وصیت کرتی ہے کہ:
چاہے کنواری رکھیے گا چاہے زہر دے کر مار ڈالیے گا مگر نا اہل کے گلے نہ باندھئے گا۔اتنی ہی آپ سے میری بنتی ہے۔
 )نرملا“پریم چند،کلیات پریم چند6،مرتبہ مدن گوپال،قومی کونسل براے فروغ اردو زبان،نئی دہلی،ستمبر2001،ص 171)
نرملا کے ان الفاظ کے ذریعے بے میل شادی کے المناک انجام کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔نرملا کے مطابق بے جوڑ شادی سے بہتر یہ ہے کہ لڑکیوں کو زہر دے کر مار دیا جائے۔شرت چندر اور پریم چند نے بے میل شادی کے جو مسائل پیش کیے ہیں وہ دور حاضر کا بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔آج بھی ہم اپنے ارد گرد کتنی ہی پارو اور نرملا کو دیکھتے ہیں جو اپنی خواہشات کو اپنے دل میں دفن کرکے بظاہر خوشحال زندگی گزار رہی ہیں اور ان کی آہیں ان کی خواہشات کے ساتھ ہی  ان کے سینوں میں دفن ہو چکی ہیں۔
ناول ’دیوداس‘میں شرت چندر نے طوائف کے مسئلہ کو بھی پیش کیا ہے۔وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ طوائفیں سماج کی ہی پیداوار ہوتی ہیں کیوں کہ ان کا پیشہ ان شریف اور خاندانی مردوں کی وجہ سے چلتا ہے جو اپنی تمام خطاؤں کے باوجود خود کو پاک باز سمجھتے ہیں لیکن ان عورتوں کو انسان کا بھی درجہ نہیں دینا  چاہتے۔ناول کا مرکزی کردار دیوداس چندرمکھی طوائف کے کوٹھے پر بار بار جاتا ہے مگر اسے حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے۔وہ اسے قابل نفرت سمجھتا ہے اور اس سے کہتا ہے:
۔۔۔تم نہیں جانتی چندرمکھی میں تم لوگوں سے کتنی نفرت کرتا ہوں۔میں تم سے ہمیشہ نفرت کرتا رہونگا۔لیکن اس کے باوجود بھی میں یہاں آؤں گا۔۔۔
 )دیوداس“شرت چندر،مترجم نرندرناتھ سوز،حاجی حنیف پرنٹرز،لاہور،ستمبر 2003،ص87)
مندرجہ بالا اقتباس سے ان مردوں کی متضاد ذہنیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے جو ایک طرف تو طوائفوں کو قابل نفرت سمجھتے ہیں اور دوسری طرف ان کوٹھوں کی رنگا رنگی کا سبب ان کی ہی آمد و رفت ہے۔چندرمکھی کے پیشہ ترک کرنے کے بعد بھی اسے عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا ہے۔چندرمکھی کا کردار ہمیں رسوا کے کردار’امراؤجان‘اورپریم چند کے کردار ’سمن‘کی یاد دلاتا ہے کیوں کہ پیشہ ترک کر دینے کے باوجود سماج انھیں بھی قبول نہیں کرتا ہے۔دراصل شرت چندر،رسوا اور پریم چندتینوں ہی اس نکتہ کو پیش کرتے ہیں کہ ایسی عورتیں جب ایک بار سماجی اصولوں سے بغاوت کرکے اس دائرے سے نکل جاتی ہیں تو پھر سماج دوبارہ انھیں قبول نہیں کرتا۔یہ روسیاہی ہمیشہ کے لیے ان کا مقدر بن جاتی ہے اورمعاشرے میں انھیں کبھی باعزت فرد کی حیثیت سے تسلیم نہیں کیا جاتا۔
اس ناول میں شرت چندر نے Pre marital relationship اور Extra marital relationship کو بھی موضوع بنایا ہے۔دیوداس اورپاروتی کی بچپن کی محبت Pre marital relationship ہے اور اس تعلق کی وجہ سے دیوداس اسے اپنی ملکیت سمجھتا ہے مگر طبقاتی سماج کی پابندیوں کی وجہ سے پارو سے اس کی شادی نہیں ہو پاتی۔پاروتی شادی کے بعد قانونی رشتہ Marital relationship اور غیر قانونی رشتہExtra marital relationship کے بیچ ڈولتی رہتی ہے۔لیکن یہی طبقاتی سماج دیوداس کو شراب و شباب اور چندرمکھی طوائف جوExtra marital relationship کو ظاہر کرتی ہے کی آغوش میں پناہ لینے سے نہیں روکتا اور سماجی تضاد کی انتہا یہ ہے کہ اسے سہارا دینے والی چندرمکھی کو بھی گھٹیا نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔
ناول ’دیوداس‘کا اصل حسن کردار نگاری میں ہے۔ناول میں مرکزی کردار کے ساتھ ساتھ ثانوی کردار بھی کافی متحرک ہے۔یہ کردار قاری کو اپنی طرف اس طرح متوجہ کرتے ہیں کہ ان کا نقش دیر تک ان کے ذہن پر قائم رہتا ہے۔وشنو پربھاکر شرت چندر کے کرداروں کے متعلق لکھتے ہیں کہ:
وہ آدمی کو دیوتا کی طرح نہیں بلکہ ایک انسان کے طور پر پیار کرتے ہیں۔۔۔۔ان کے کردار خصوصیت رکھتے ہوئے بھی اس دھرتی کی مٹی سے بنے گوشت پوشت کے پتلے ہیں۔
 )آوارہ مسیحا“وشنو پربھاکر،مترجم راشد سہسوانی،نیشنل بک ٹرسٹ، انڈیا، 2008،ص19)
ناول ’دیوداس‘کے کردار کا تعلق بھی عام زندگی سے ہے۔وہ کوئی دیوتا نہیں ہے بلکہ عام انسان ہے جس کے اندر خوبیوں کے ساتھ کمزوریاں بھی ہیں۔دیوداس ناول کا ایک دلچسپ کردار ہے۔وہ متعلقہ عہد کے اعلیٰ طبقے کے نوجوانوں کی نمائندگی کرتا ہے۔دیوداس بچپن سے ہی مغرور اور خود سر ہے۔وہ ایک ایسا شخص ہے جس میں نہ تو فیصلہ لینے کی قوت ہے اور نہ ہی اپنے فیصلے پر قائم رہنے کی صلاحیت۔وہ کسی کام کو کرنے سے پہلے اس پر غور و فکر نہیں کرتا ہے۔ جب اس کے والدین پارو سے اس کی شادی کرنے پر راضی نہیں ہوتے ہیں تو وہ گھر چھوڑکر چلا جاتا ہے اور پارو کو لکھتا ہے کہ:
۔۔۔ماتا جی اور پتاجی دونوں میں کوئی بھی ہماری شادی پر رضامند نہیں۔تمھارے سکھ کی خاطر انھیں دکھ دوں یہ مجھ سے نہ ہو سکے گا۔پھر ان کی مرضی کے خلاف میں کوئی بھی کام کیسے کر سکتا ہوں۔۔۔۔کوشش کرو کہ مجھے بالکل بھول جاؤ اور بھلا دو۔میں سچے دل سے دعا کرتا ہوں کہ پارو تم ہمیشہ سکھی رہو۔بس سکھی رہو۔اس کے علاوہ میں کر بھی کیاسکتا ہوں۔
(دیوداس“شرت چندر،مترجم نرندرناتھ سوز،حاجی حنیف پرنٹرز، لاہور،ستمبر 2003،ص57)
مذکورہ اقتباس کے آخری جملہ’اس کے علاوہ میں کر بھی کیا سکتا ہوں‘سے قاری کو دیوداس کے Surrendering attitude کا اندازہ ہوتا ہے۔یہاں اس کا کردار ہملیٹ(Hamlet)کے کردار کے مشابہ نظرآتا ہے جو کہ to be اورnot to be یعنی کروں یا نہ کروں کی کشمکش میں رہتا ہے۔لیکن دیوداس کو جب محبت کا احساس ہوتا ہے تو وہ پارو سے شادی کرنے کا خواہش مند ہوتا ہے لیکن پارو  انکار کر دیتی ہے۔لہٰذا وہ شراب اور طوائف کی آغوش میں پناہ لیتا ہے۔
دیوداس دنیا و مافیہا سے بیگانہ ہے۔وہ پارو سے عشق کرتا ہے اور یہ ہی اس کی کل کائنات ہے۔اس کے دل میں وصال کی خواہش ہے اور محبت کے لیے خود کو فنا کرنے کا جذبہ بھی۔بالآخر وہ اپنے معشوق سے وصال کی خواہش دل میں لیے ہوئے اس دارفانی سے کوچ کر جاتا ہے۔اس طرح وہ محبت میں ناکام عاشق کی علامت بن جاتا ہے جو مجنوں،فرہاد،رانجھا اور میہوال کی طرح ہی ایک مثالی کردار ہے۔
ناول کا دوسرا اہم کردار پاروتی ہے۔وہ دیوداس سے محبت کرتی ہے۔  لیکن جب اس کی شادی بھون چودھری سے ہو جاتی تووہ اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھاتی ہے اور اپنی خواہشات کو کسی کے سامنے ظاہر نہیں ہونے دیتی۔دیوداس کے مقابلے میں وہ کافی بہادر ہے لیکن سماجی اصول و روایت اسے کمزور کر دیتے ہیں۔وہ ایک طرف اپنے سسرال کے خاندانی رشتوں کو نبھانے کے لیے مجبور ہے اور دوسری طرف دل میں دیوداس کی پوجا کرتی ہے۔غالب کے الفاظ میں ’کعبہ میرے پیچھے ہے کلیسا میرے آگے‘کی کشمکش سے دوچار ہے۔
پاروتی کے علاوہ چندرمکھی کا کرار بھی قابل ذکر ہے۔چندرمکھی ایک طوائف ہے۔وہ دیوداس سے متاثر ہو کر اس سے محبت کرنے لگتی ہے۔وہ دیوداس کے لیے اپنا پیشہ ترک کر دیتی ہے لیکن اسے دیوداس کی محبت حاصل نہیں ہوتی ہے۔شرت چندر نے اس کے ذریعہ طوائف طبقے کی تصویر کشی کی ہے اور یہ دکھایا ہے کہ عورت کا دل کتنا نازک ہوتا ہے۔وہ اپنے اندر ایثار کا جذبہ لیے ہوئے ہوتی ہے چاہے اس کا تعلق کوٹھے سے ہی کیوں نہ ہو۔ایک چھوٹا سا واقعہ چندرمکھی کی زندگی کو تبدیل کر دیتا ہے اور وہ عیش و عشرت کو ترک کرکے ایک گاؤں میں زندگی بسر کرنے لگتی ہے۔
ناول ”دیوداس“حقیقت نگاری کا ایک عمدہ نمونہ ہے۔اس ناول میں شرت چندر سماج کے فرسودہ روایات پر سوالیہ نشان قائم کرتے ہیں کہ ذات پات کی پابندیوں کی اصل حقیقت کیاہے؟کیا ایسی پابندیاں جن میں انسان کی خوشیوں اور غموں کا خیال نہیں رکھا گیا ہو اس قابل ہیں کہ ان پر عمل کیا جائے؟یہ سماجی قاعدے قانون ہی دیوداس اور پارو کے المیہ کا سبب بنتے ہیں۔ہمارے معاشرے کے بیشتر افرادآج بھی فرسودہ رسم و رواج کا شکار ہیں۔ منمتھ ناتھ گپت ناول ”دیوداس“ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
دیوداس اور پاروتی شرت بابو کے دماغ کی اپج نہیں ہیں بلکہ وہ ہندوستان کے گھر گھر میں موجود ہیں۔اس طرح وہ ہندوستانی شادی کے ڈھول کے اندر کی پول کو  اس خوبصورتی کے ساتھ کھول دینے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
بقول نریندر ناتھ سوز:
(شرت چندر ویکتی اور ساہتیہ کار“منمتھ ناتھ گپت،نیشنل پبلیشنگ ہاؤس،دہلی، 1963،ص157(
دیوداس“بھی شرت بابوکا ایک شاہکار ناول ہے۔ جس کو پڑھنے کے بعد انسان رو اٹھتا ہے۔اور انسان یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ ہمارے سماج میں کس قدر کمزوری پائی جاتی ہے۔ناول میں دیوداس جیسے ٹھوس کردار بھی موجود ہیں اور پاروتی جیسی عورت بھی۔اس کے علاوہ پاروتی جیسے کردار نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ صدیوں سے عورت سنگ دل مرد کے ذرے ذرے کو اپنی آنکھوں کے آنسوؤں سے سینچ رہی ہے۔کاش کبھی تو اس پتھر میں زندگی کے آثار پیدا ہوں۔کبھی تو اس میں جان آجائے۔ ناول میں عورت کے دل کے پیار، درد، کسک،ممتا اور ایثار کا غلبہ ہے۔اتنا درد اور اتنی کسک ہے کہ دل دہل اٹھتا ہے۔روح چیخ اٹھتی ہے اور آنکھیں رو اٹھتی ہیں۔
(دیوداس“شرت چندر،مترجم نرندرناتھ سوز،حاجی حنیف پرنٹرز،لاہور،ستمبر 2003 ص9(
دیوداس“ ایک ایسا ناول ہے جس میں شرت چندر نے سماجی، طبقاتی اور عوامی کشمکش کو پیش کیا ہے۔یہ ناول بیک وقت جاگیردارانہ نظام، ذات پات،بے میل شادی اور طوائفوں کے مسائل کا ترجمان ہے۔شرت چندر نے اس ناول میں کرداروں کی ظاہری و باطنی کشمکش کو فطری انداز میں پیش کیا ہے۔ دیوداس،پاروتی اورچندرمکھی تینوں ہی فرض اور محبت کے درمیان ذہنی انتشار کا شکار ہیں۔یہ ناول رومانی ہونے کے ساتھ المیہ بھی ہے جہاں کبھی جذباتیت کا اظہار ہوتا ہے تو کبھی شدت پسندی کا۔یہ ایک شاہکار ناول ہے جس کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ پہلی بار 1935 میں بنگالی اور اس کے بعد مختلف ہندوستانی زبانوں میں پیش کیا گیا۔


Raiha Ansar
Research Scholar
Department Of Urdu
Aligarh Muslim University
Aligarh-202002 (UP)


ماہنامہ خواتین دنیا، فروری 2020

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں