عہداکبری میں علوم و فنون اور تہذیب و ثقافت کی صورتِ حال مضمون نگار: محمد مبارک حسین

 


ہندوستان ایک قدیم تہذیبی ملک ہے جو ہزارہا سال کے تمدنی آثار رکھتا ہے۔ یہاں اہل عرب کی آمد اسلام سے بہت قبل سے جاری ہے اور ہندوستان کے لوگ بھی عرب اور وسط ایشیا کے ملکوں میں صدیوں سے آناجانا کر رہے ہیں۔ موجودہ ہندوستانیوں کے خون میں جس طرح بیرون ملک سے آنے والوں کا خون شامل ہے، اسی طرح دوسرے ممالک میں بھی ہندوستانیوں کی آمد ورفت اور اختلاط کے سبب وہاں کی مٹی میں ہندوستانی مٹی کی سوندھی مہک شامل ہوچکی ہے۔ ہندوستان میں بسنے والے سبھی مذاہب کے لوگوں نے ایک دوسرے کے مذہب کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے ایک دوسرے کی مذہبی کتابوںکو پڑھا ہے، ان کے تراجم کیے ہیںاور اشاعت کی ہے۔ محمود غزنوی کی فوج کے ساتھ آنے والے فلسفی و مؤرخ ابوریحان البیرونی نے ’کتاب الہند ‘ لکھ کر ہندوستانی تہذیب وتمدن اور یہاں کے علوم وفنون سے دنیاکو آگاہ کرنے کا پہلا کام کیا تھا۔ حالانکہ اسی دور میں بغداد کے عباسی خلفا بھی ہندوستانی کتابوں کے تراجم کرا رہے تھے اور انھوں نے ہندوستان کے علم نجوم وطب سے استفادے کی کوشش کی تھی۔ پروفیسر حکیم سید ظل الرحمن رقم طراز ہیں:

’’عربوں نے بلاد روم کی فتح کے وقت وہاں کے علوم و معارف اور کتابوں کے ساتھ وہ حشر نہیں کیا، جو ہسپانیوں نے فتح اندلس کے وقت، یا تاتاریوں نے بغداداور وسط ایشیا کے دوسرے اسلامی ملکوںکی تاراجی کے بعد عربی کتابوں کے ساتھ کیا۔ چنانچہ ہارون رشید (786-808) کے زمانے میں عموریہ اور انقرہ کی فتح کے بعد جب کتابوں کے ذخیرے ہاتھ آئے تو عربوں نے ان کی پوری حفاظت کی۔ طب، فلسفہ اور فلکیات کی نادر اور نفیس کتابیں بغداد لائی گئیں۔ یوحنا بن ماسویہ (وفات 243ھ/857) جیسے وحید عصر کی تولیت میں ان کتابوں کو دیا۔ اس نے ان کے تراجم کے اہتمامات کیے، اور متوکل کے عہد تک اس کی خدمت کا سلسلہ جاری رہا۔ ہارون کے زمانے میں ہندوستانی طبیب منکہ نے سنسکرت سے فارسی اور عربی میں ترجمے کیے۔ اسی طرح ابن دھن جو بیمارستان برامکہ سے وابستہ تھا متعدد کتابوں کا مترجم ہے۔ ‘‘ 

( طبی تقدمے، ص، 137، پروفیسر سید ظل الرحمن، مسلم یونیور سٹی پریس، علی گڑھ2000)

ہندوستان میںمغل حکمراں جلال الدین محمد اکبر کو علم پروری کے لیے جاناجاتاہے مگر اس نے علمی کتابیں کم اور آرٹ کی کتابوں کی طرف زیادہ توجہ دی تھی۔ اکبر نے مہابھارت کا ترجمہ ’رزم نامہ‘ کے نام سے کرایاتھا۔ یہ قدیم  داستان کوروؤں اور پانڈوؤں کے درمیان کی لڑائی ہے، جو پشتہاپشت سے عوامی زبان پر رائج ہے اور یہ جنگ ضرب المثل کے طور پر بیان کی جاتی ہے۔ جنگ کے دوران شری کرشن نے ارجن کی رتھ بانی کی خدمت انجام دی تھی اور اس بیچ انھوں نے انھیں بہت سی نصیحتیں کی تھیں جن کا مجموعہ ’بھگوت گیتا‘ ہے اس کتاب کا فارسی ترجمہ فیضی نے کیا تھا۔ مہابھارت کو ایک مقدس کتاب مانا جاتا ہے اور اکبر چونکہ مذہبی رواداری کا قائل تھا۔ لہذا اس نے اس کتاب کا ترجمہ کرایا ہوگا۔ اس نے جن کتابوں کے تراجم سنسکرت سے فارسی میں کرائے تھے ان میں مہابھارت، رامائن اور اپنیشد،سنگھاسن بتیسی، حیات الحیوان، اتھروید، انجیل، لیلا وتی، کلیلہ ودمنہ، تاریخ کشمیر، تزک بابری، معجم البلدان، جامع رشیدی، بحرالاثمار، ہربنس، بھی شامل تھیں۔اس سلسلے میں شیخ محمد اکرام تحریر کرتے ہیں:

’’اکبر نے ادبیات کی سرپرستی کی، سنسکرت، عربی، ترکی، یونانی سے فارسی میں کتابیں ترجمہ کرائیں، سنسکرت سے جو کتابیں ترجمہ ہوئیں، ان میں رامائن، مہابھارت، بھاگوت گیتا،اتھروید اور ریاضی کی کتاب لیلا وتی مشہور ہیں۔‘‘

(رود کوثر، ص164، شیخ محمد اکرام، تاج کمپنی ترکمان گیٹ، دہلی 2004)

اکبر کے دربار میں رباعیات بھی خوب لکھی گئیں مگر اس دور میں غزل کا رنگ زیادہ چڑھا۔باکمال اساتذہ کی تقلید،تکمیل فن کی خاطر کی جاتی تھی۔چنانچہ غزل ہو یا قصیدہ با کمال شعرا کے یہاں ان کے پیش رو اساتذہ کے رنگ میں اس قسم کی تقلید کے بہت سے نمونے ملیں گے،نظیری اور فیضی دونوں کے کلام میں گذشتہ اساتذہ کے رنگ بھی ملتے ہیں۔ان میں جوش بیان بھی ہے اور مضامین کی طرفگی بھی،استعارات کی جدت بھی،تشبیہات کی لطافت بھی،شوخی بھی،ندرت بھی،نئی نئی ترکبیں بھی،مضمون آفرینی بھی جن سے اس دور کے تغزل میں بڑی تابناکی پیدا ہو گئی۔یہ دونوں اساتذۂ فن تھے، اس لیے ان میں یہ ساری خوبیاں آسانی سے مل جائیں گی لیکن اس کے علاوہ اس دور کے دوسرے شعرا کے کلام میں بھی بہت ساری خوبیاں ملتی ہیں۔مجموعی طور سے اس دور کی غزلیں صاف،سلیس اور دلنشیں انداز میں لکھی گئی ہیں۔ اس دور میں تاریخ گوئی کا بھی رواج عام تھا،رفیعی معمائی نے ایک رباعی کہی تھی جس سے 26 تاریخیں نکلتی ہیں، خواجہ حسین مروی نے شہزادہ سلیم کی ولادت کے موقع پر ایک طویل قصیدہ کہا جس کے پہلے مصرع سے اکبر کی تاریخ جلوس اور دوسرے مصرع سے سلیم کی تاریخ ولادت نکلتی ہے۔

اس عہد میں بات بات پر قطعۂ تاریخ کہے جاتے تھے۔ولادت،شادی بیاہ، وفات، فتح، سفر، کتاب کی تالیف کے موقع پر پھڑکتی ہوئی تاریخ کہہ کر ادبی دنیا میں برابر داد طلب کی جاتی رہی۔ نیز یہ عہد فارسی زبان و ادب کے لیے ایک ایسا عہد گزرا ہے جہاں قلم و سخن کا ذکر اگر مختصراً بھی کیا جائے تو ایک ذخیرہ تیار ہو جائے گا۔

ہندوستان کی تاریخ میں عہداکبری کئی اعتبار سے نہایت اہم دور کہلاتا ہے۔ انھوںنے اپنے جانشینوں کے لیے علوم وفنون کی وسیع پیمانے پر سرپرستی کی اور وہ روایات قائم کیں جنھوں نے مغلیہ تہذیب وتمّدن کو آب وتاب بخشی۔ اکبر کے دربار  میں عبدالقادر بدایونی، فیضی، ابوالفضل اور نظام الدین جیسے اہل علم رہتے تھے۔ اس بادشاہ کا دور حکومت ہندوستان میں فارسی ادب کی ترقی کا دور تھا مگر اسی کے ساتھ اس زمانے میں سنسکرت کے فروغ کے لیے بھی کام ہوا۔ ’آئین اکبری‘ میںاکبر کے راج دربار کے 59 شعرا کے نام ملتے ہیں، ان کے علاوہ سنسکرت کے علما بھی تھے اور بہت سے علماء فارسی و سنسکرت دونوں زبانوں میں مہارت رکھتے تھے۔ اکبر کے زمانے میں ہی عبدالرحیم  خانخاناں بھی تھا جو سنسکرت کا بڑا عالم اور اہل علم کی سرپرستی کرتا تھا۔ وہ ہندی کے معروف شاعروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ہندی کے مشہور شاعر راجہ بیربل، مان سنگھ، بھگوان داس وغیرہ اکبر کے دربار سے وابستہ تھے۔ تلسی داس اور سور داس مغل  دور کے دو ایسے عالم تھے جو اپنی تخلیقات سے ہندی ادب کی تاریخ میں امر ہوگئے۔

اکبربادشاہ کے زمانے میں جتنا متنوع علمی وادبی کام ہوا وہ کسی اور عہد میں نہیں ہوا۔ علم وادب کے علاوہ مصوری،خطّاطی اور دوسرے فنون میں اس زمانے میں اتنی ترقی ہوئی کہ اس کو بجا طور پر دور متوسط کا سنہرا زمانہ قرار دیا جا سکتا ہے۔اکبرنے نہ صرف فن مصوری کو اختیار کیا بلکہ اسے ایک مستقل ادارے میں تبدیل کردیا۔ اور اس نے ایرانی مصوروں کے اردگردفن کاروں کا ایک نیا گروہ تیار کرلیا جو انھیں فنکاروں کے ترتیب یافتہ تھے جن کے ذریعے اکبر نے مصوری کے ایک اسکول کی بناڈالی جس میں ’حمزہ نامہ‘کی تصویریں بنانے کا کام شروع ہوا۔ حمزہ نامہ کے بارے میں ابوالفضل نے لکھا ہے :

’’ داستان امیر حمزہ بارہ جلدوں میں تقسیم کی گئی تھی، اس کتاب میں ایک ہزار چارسوحیرت انگیز تصویریں بنائی گئیں، جن سے ناظرین استعجاب میں مبتلا ہوگئے۔  ‘‘

(آئین اکبری، جلداوّل، ص195، شیخ ابوالفضل، ( بتصحیح سر سید احمد خان ) سر سید اکیڈمی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی2005)

 اکبر کے زمانے میں جو نقاش کام کررہے تھے ان میں زیادہ تر کشمیری، گجراتی اور پنجابی ہندو تھے جو اپنے علاقائی اور موروثی رسم ورواج ساتھ لائے تھے، چنانچہ ملک کے مختلف طرز جو ملک کے مختلف حصوں میں مثلاً مالوہ، گجرات، راجستھان، گوالیار اور کشمیر میں پنپ رہے تھے۔ اب اکبر کے اسکول میں بنائی گئی تصویروں میں جھلکنا شروع ہوگئے۔اکبر کے اسکول کے مصوروں نے اپنا الگ ہی طرز اپنایا ہواتھا جس میں سب سے زیادہ مشہور بساون ہے جس کا طرز فارسی طرز،رسوم اور رنگوں سے بالکل ہی الگ تھا۔ ابوالفضل بساون کی تعریف میں رقمطراز ہے :

’’بساون در طراحی وچھرہ کشای ورنگ آمیزی مانند نگاری ودیگر کار ھای این فن یگانہ زمان شد وبساون ازدیدہ وران شناسا او را بر دسونت ترجیح دھند۔  ‘‘ ( ایضاً، ص194)

اکبر کے عہد کا سب سے مشہور یاد گار شہر فتح پور سیکری ہے جس کی تعمیرات کی تکمیل میں پورے 15 برس صرف ہوئے، اس محل کی دیواروں پر جو نقاشی ملتی ہے وہ ایرانی اور ہندوستانی نقاشوں نے مل کر کی جس سے اس محل کی سجاوٹ ظاہر ہوتی ہے۔معروف مؤرخ ابوالفضل جو بادشاہ اکبر کے بہت قریب تھا اپنی کتاب آئین اکبری میں بادشاہ کی نقاشی سے لگاؤ کی تعریف ان الفاظ میں کرتاہے۔

’’خدیو عالم از آغاز آگھی بدین کا ردل نھاد ورواج ورونق آن طلبگار شد‘‘(ایضاً، ص83)

اکبر کے عہد میں ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کو بہت ترقی ملی خاص طور پر اس کے عہد میں موسیقی کو ہندو مسلم اتحاد کا ایک اہم ذریعہ تصور کیا جاتا تھا۔اس زمانے میں ہندوستانی موسیقی کے ان نظری اصولوں کو بخوبی سمجھاجانے لگا جن کا ذکر سنسکرت تحریروں میںموجود ہے۔ابوالفضل نے آئین ِ اکبری میں ان اصولوں کو اختصار کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اس نے موسیقی کے 36 استادوں کے نام دیے ہیں جو اکبر کی ملازمت میں تھے، ان میں مغنی اور سازندے دونوں شامل ہیں۔ ان میں سب سے اہم نام ’تان سین‘کا ہے۔

عہد اکبری میں منجملہ دیگر علوم وفنون کے فنون لطیفہ بھی بام عروج پر پہنچے ہوئے تھے آج بھی بہت سی عمارتیں اس کی فنکارانہ عظمت کا ثبوت دیتی ہیں اور اس کی عظیم الشان ومستحکم شہنشاہی پر شاہد ہیں۔

اکبر غیر متعصب بادشاہ تھا، اس کی شروع سے یہی کوشش رہی کہ وہ ہندو اور مسلمانوں کے درمیان قدیم نفاق اور حسد کو مٹاکر ایک قوم کی شکل دے۔ اپنی اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے اس نے ہر ممکن کوشش کی۔ اکبر نے سابق مسلم حکمرانوں کے برخلاف اپنی رعایا کے ساتھ ہمدردی اور انسانیت کا سلوک کیا۔ اکبر کو یہاں کی ہر چیز سے محبت تھی، وہ ہندوستان کو اپنا ملک اور یہاں کے لوگوں کو اپنا دوست سمجھتاتھا، جذبۂ ملی اس کے اندر کوٹ کوٹ کر بھرا ہواتھا اور یہی جذبہ وہ اپنی رعایا میں پیدا کرنا چاہتاتھا۔  اس جذبے کو پیدا کرنے کے لیے اس نے ہندوؤں کے ساتھ میل جول بڑھایا، ان کے خاندانوں میں شادیاں کرکے ان کے ساتھ ازدواجی رشتے قائم کیے۔ اکبر نے صرف خود ہی راجپوت شہزادیوں سے شادی نہیں کی۔ بلکہ اپنے بیٹے سلیم کی شادی بھی راجپوت خاندان میں کی، اس طرح اس نے ہندو اورمسلمانوں کے درمیان رشتے ناطے قائم کرنے کی ایک نئی راہ کھولی، انھیںا پنے دربار میں اعلیٰ مناصب عطا کیے اور ان کے ساتھ ویسا ہی سلوک کیا جیسا کہ دیگر امرا کے ساتھ کرتا تھا۔

اکبر نے صرف ہندو راجپوتوں کو اپنا دوست نہیں بنایا بلکہ ان کے رسم ورواج اور ان کے تہواروں مثلاً ہولی، دیوالی، دسہرہ، رکشا بندھن، بیساکھی وغیرہ کو بھی اپنے دربار کی تقریبات کا حصّہ بنایا۔ ان تہواروں کو وہ اتنی ہی شان وشوکت سے مناتا جتنی دھوم دھام سے وہ عید الفطر، عید الاضحی اور نوروز مناتاتھا۔ دربار میں ان جشنوں کے منعقد ہونے کی وجہ سے ہندو امرا کے درمیان برابری اور دوستی پیدا ہوگئی۔ جب مسلم ہندوؤں کے تہوار میں شریک ہونے لگے تو ہندو بھی مسلمانوں کی عیدوں میں شامل ہونے لگے اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔

اس کے علاوہ اکبر نے معاشرے میں پھیلی ہوئی دیگربرائیوں کو دور کرنے کی بھی فکر کی۔ قدیم زمانے سے ہندوستانی معاشرے میں چند نازیبا اور ظالمانہ رسم ورواج رائج تھے جن پر یہاں کی عوام عمل پیرا تھی۔ اکبر کو اپنی رعایا کی بھلائی کی بڑی فکر تھی۔ لہٰذا اس نے ان ظالمانہ رواجوں کے خلاف سخت قوانین عائد کیے۔ اکبر نے سب سے پہلے ہندوؤں کی قدیم رسم ’ستی‘ کے خلاف آواز بلند کی اور حکم نافذ کیا کہ کسی بھی عورت کو اس کی مرضی کے بغیر ستی ہونے پر مجبور نہ کیا جائے۔

اکبر کا عہد علوم وفنون کی ترقی کا عظیم الشان دور ہے، تہذیب وثقافت میں ہم آہنگی، مساوات و برابری کی اہمیت پر زور دیاجاتاتھا، اکبر مذہبی رواداری اور ہندو مسلم اتحاد کا علمبردار ہونے کے ساتھ علوم وفنون کی سرپرستی اور تہذیب و ثقافت کی یکسانیت کا داعی تھا۔ بلاشبہ انہی خصوصیات نے اسے تاریخ کے اوراق میں اکبر اعظم کا خطاب دلایا ہے۔

کتابیات

.1        منتخب التواریخ،جلد دوم و سوم،  ملا عبدالقادر بدایونی، مترجم علیم اشرف خان، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی2012

.2         مغلیہ سلطنت کا عروج وزوال: آر، پی، ترپاٹھی، مترجم، ریاض احمد،  قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی

.3         ادبیات فارسی میں ہندوؤں کا حصّہ:  ڈاکٹر سید عبداللہ،( باہتمام انیس احمد) انجمن ترقی اردو نئی دہلی،1992

.4         آئین اکبری شیخ، ابوالفضل، ( بتصحیح سر سید احمد خان ) سر سید اکادمی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی2005

.5         تاریخ ہندوستان، پروفیسر وید ویاس (مترجم سید عبدالقادر) نوجیون پریس میکلیگن روڈ، لاہور

.6         ہندوستان پر مغلیہ حکومت۔مفتی شوکت علی فہمی، دین دنیا پبلشنگ کمپنی، دہلی

.7         ہندوستان شاہان مغلیہ کے عہد میں: مولانا سید محمد میاں صاحب، مکتبہ برہان، اردو بازار جامع مسجد دہلی

.8         بزم تیموریہ، جلد اوّل، سید صباح الدین عبدالرحمن۔ دارالمصنّفین شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ، یوپی، ہند،276001


 Dr. Mohd Mubarak Husain

Dept of Persian, Aligarh Muslim University

Aligarh- 202001 (UP)

 

 

 

 

 

 



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں