وانمباڑی کتاب میلے کا چوتھا دن :اردو زبان میں طریقۂ تدریس اور جدید تعلیمی نظریات پر خصوصی لیکچرز ، مزاحیہ نشست کا انعقاد


 وانمباڑی: وانمباڑی قومی اردو کتاب میلے کے چوتھے دن بھی شہر و مضافات سے شائقین زبان و ادب ن جوش و خروش کے ساتھ اس میلے میں شرکت کرکے کتابوں کی خریداری کی ، ساتھ ہی اردو زبان کے طریقۂ تدریس اور جدید تعلیمی نظریات پر منعقدہ خصوصی لیکچرز سے بھی مستفید ہوئے۔ پہلا لیکچر اردو زبان میں طریقۂ تدریس کے موضوع پر اعظم کیمپس پونے کے انجینئر محمد شکیل نے دیا، جس میں انھوں نے اردو میڈیم اسکولوں کے طریقۂ تدریس میں جدت اور تبدیلی لانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ طریقۂ تدریس میں تبدیلی لاکر ہی ہمیں اچھا نتیجہ حاصل ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت ہندوستان بھر میں مہاراشٹر کے اردو اسکولوں نے جدید تر تدریسی طریقے کو اپنایا ہے، جس کا فائدہ ہمارے طلبہ اٹھا رہے ہیں اور ریاستی و  قومی سطح پر مختلف مسابقتی امتحانات میں اعلی نمبرات سے کامیابی حاصل کر رہے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ تدریس کے سلسلے میں موضوع کو سامنے رکھ کر اپنی مادری اور روزمرہ کی زبان میں پڑھانا چاہیے، اس میں زبان کو بطور ذریعۂ ترسیل استعمال کرنا چاہیے ،  فصاحت و بلاغت یا ادبی اسلوب میں پڑھانا ضروری نہیں ہے، ایسی زبان استعمال کرنی چاہیے جو طلبہ کو آسانی سے سمجھ میں آجائے۔ 

نیو کالج چنئی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سدید ازہر فلاحی نے فن تعلیم و تربیت کے جدید نظریات پر گفتگو کرتے ہوئے مختلف جدید و قدیم سائنٹفک تدریسی نظریات پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ تعلیم و تعلم در اصل ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، یعنی پڑھانا سیکھنے سے پہلے پڑھنا ضروری ہے، بچے کو کیسے اچھی طرح سکھایا جا سکتا ہے اس کا علم اگر استاذ کو ہو تو اس کی تدریس نتیجہ خیز اور مفید ہوسکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ نسل ٹیکنوہولک نسل ہے، جس کا جدید ٹکنالوجی سے رات دن کا واسطہ ہے، لہذا ہمیں انھیں پڑھانے کے لیے جدید ذرائع تدریس کو اختیار کرنا ضروری ہوگا۔ انھوں نے عمر کے مختلف مراحل میں انسان کے اخذ و اکتساب کی صلاحیت کے اختلاف و تنوع پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ ایک استاذ کے لیے طلبہ کی ذہنی و تفہیمی صلاحیتوں کا ادراک ہونا چاہیے تاکہ وہ کماحقہ اپنی تدریسی ذمےداری ادا کرسکیں ۔ 

جناب غنی ازہر جنرل سکریٹری وانمباڑی مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ فن تدریس کے جدید نظریات سے آگاہی اور اس کے  کارگر حصے کو اپنانا آج کی اہم ترین ضرورت ہے۔ تدریس ایک مستقل فن ہے، جسے اساتذہ کو سیکھنا چاہیے اور اسی کے مطابق نئی نسل کو تعلیم دینا چاہیے۔ 

دوسرے سیشن میں اسلامیہ کالج وانمباڑی جناب ایل ایم منیر احمد کی صدارت میں جناب ستار فیضی کڑپہ اور ان کے رفقا کی مزاحیہ نشست ہوئی ، جس سے سامعین لطف اندوز ہوئے۔ 

 


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں