اردو دنیا،ستمبر 2025
کیومرث
کل علمائے فارس اس امر پر اتفاق کر
رہے ہیں کہ کیومرث ہی آدم علیہ السلام ہیں اور ان کا لڑکا منشا نامی تھا اور منشا
کا سیامک اور سیامک سے افروال پیدا ہوا اور سیامک کے افروال کے علاوہ چار لڑکے اور
چار لڑکیاں اور تھیں، لیکن کیومرث کا نسلی سلسلہ صرف افروال سے چلا اور باقیوں کے
اعقاب منقطع ہوگئے، جن کا کچھ پتہ نہیں چلتا۔ افروال بن سیامک کی صلب سے اوشہنک بیشداد
(ہوشنگ) پیدا ہوا۔ افروال کیومرث کے ملک کا وارث ہوا اور اس نے اقالیم سبعہ پر
حکومت کی۔
طبری بہ روایت ابن کلبی کہتا ہے کہ
اوشہنک بن عامر ]عابر1[ ابن شالخ ہے اور پھر وہی کہتا ہے کہ اہل فارس کا یہ دعویٰ
اور خیال ہے کہ اوشہنک دو سو برس بعد آدم علیہ السلام کے ہوا اور نوح علیہ السلام
بعد آدم علیہ السلام کے دو سو برس بعد ]کذا[ ہوئے۔ اسی بنا پر اہل فارس نے اوشہنک
اور نوح کو ایک شخص قرار دیا ہے لیکن اس نے ]طبری نے[ اس سے اختلاف اور اس کا
انکار کیا ہے کیونکہ اوشہنک کی شہرت اس غلط واقعے کے مخالف ہے۔
بعض علمائے فارس یہ کہتے ہیں کہ
اوشہنک پیشداد مہلائل ہے اور اس کا باپ افروال قینان ہے اور سیامک انوش اور منشا شیث2
اور کیومرث آدم علیہ السلام ہیں۔
بعض علمائے فارس یہ بیان کرتے ہیں کہ
کیومرث کومر بن یافث بن نوحؑ کو کہتے ہیں۔ یہ نہایت معمر اور مُسن تھا، اپنے باپ
سے علاحدہ ہوکر جبل دنباوند (ملک طبرستان) میں آکر مقیم ہوا اور اس کا مالک بن بیٹھا۔
بعد ازاں فارس پر قبضہ حاصل کیااور ایک عظیم الشان بادشاہ ہوا، اس نے بہ حالت حیات
اپنے لڑکوں کو اطراف وجوانب کی طرف بھیجا اور انھوں نے بابل کو لے لیا۔ کیومرث ہی
نے سب سے پہلے شہر اور قلعے بنوائے اور گھوڑوں کو سواری کے لیے پسند کیا۔ یہ آدم
کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے، اس نے لوگوں کو اس امر پر آمادہ کیا کہ وہ اس کو اس
نام سے پکاریں۔ اہل فارس اس کے لڑکے ماذاے کی اولاد سے ہیں۔ ابتدائے زمانہ سے اسی
کی اولاد کی کیانیہ اور کسرویہ میں حکومت رہی تا آنکہ حکومت فارس کا خاتمہ ہوا۔
ہوشنگ
اہل فارس یہ روایت کرتے ہیں کہ اوشہنک
ہی مہلایل ہے اور اس نے ہند پر قبضہ حاصل کیا تھا اس کے بعد طہمورث بن انوجہان بن
انکہد بن اسکہد بن اوشہنک بادشاہ ہوا۔ بعضوں نے بجائے اسکہد کے فیشداد لکھ دیا ہے اور درحقیقت یہ کل اسما عجمی ہیں،
اسی وجہ سے اور نیز اصولاً روایت منقطع ہونے کے سبب سے ہم ان کی صحت کے ذمہ دار نہیں
ہیں۔
طہمورث
ابن کلبی لکھتا ہے کہ طہمورث3 بابل کا
پہلا بادشاہ ہے اور اس نے ہفت اقلیم پر
حکومت کی اور یہ نہایت نیک طینتی سے حکومت کرتا تھا اور منصف تھا۔ اسی کے 10 4جلوس
میں بیوراسپ ظاہر ہوا اور اس نے مذہب صابیہ کی بنیاد ڈالی۔
جمشید
علمائے فارس کہتے ہیں کہ طہمورث کے
بعد جمشید5 تخت نشین ہوا۔ اس کے معنی ہیں: شجاع یاشعاع شمس۔ یہ طہمورث کا حقیقی
بھائی تھا، یہ بھی ہفت اقلیم کا بادشاہ
تھا اور نہایت نیک سیرت اور عادل تھا۔ پھر بعد چندے ظالم اور جابر ہوگیا، اس کی
موت سے ایک برس پہلے بیوراسپ نے اس پر خروج کیا اور گرفتار کر کے آرے سے چیر ڈالا
اور بعضے یہ کہتے ہیں کہ جمشید نے خدائی کا دعویٰ کیا تھا، اس وجہ سے پہلے اس پر
اس کے بھائی استو6نے خروج کیا لیکن ناکامیاب رہا، تب بیوراسپ اٹھا اور اس نے جمشید
کی حکومت کا قلع قمع کر دیا اور سات سو برس تک حکومت کرتا رہا۔ ابن کلبی نے بھی ایسا
ہی لکھا ہے۔
ضحاک
طبری کہتا ہے کہ بیوراسپ7 کو ازدہاک
کہتے ہیں، جس کو عرب ضحاک کے نام سے موسوم کرتے ہیں، یہ وہی شخص ہے جس کا ذکر
ابونواس شاعر کے اس شعر میں ہے ؎
وکان منا الضحاک تعبدہ الـ
جامل و الجن فی محاربہا
(ضحاک ہم میں سے تھا، جس کی عبادت اونٹ والے
(یعنی رؤسا) اور جن (یعنی بدوی) اپنی محرابوں میں کرتے تھے۔)8
اور پھر طبری ہی روایت کرتا ہے کہ عجم
کا یہ خیال ہے کہ جمشید نے اپنی بہن کا عقد اپنے خاندان میں سے کسی کے ساتھ کر دیا
تھااور اس کو یمن کا حاکم مقرر کیا تھا، اس سے ضحاک پیدا ہوا، چنانچہ اہل یمن ضحاک
کا نسب یوں بیان کرتے ہیں :’’ضحاک بن علوان بن عبیدہ بن عویج۔‘‘ اس نے اپنے بھائی
سنان بن علوان کو مصر کا بادشاہ کر کے بھیجا تھا، جو ابراہیم علیہ السلام کا فرعون
تھا، اور اہل فارس ضحاک کا نسب اس طرح لکھتے ہیں: ’’بیوراسپ (ضحاک) بن رتیکان بن ویدوشتک
بن فارس بن افروال۔‘‘ اور بعضے اس کی مخالفت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس نے ہفت اقلیم پر بادشاہت کی، یہ ساحر اور کافر
تھا، اس نے اپنے باپ کو مار ڈالا اور یہ اکثر بابل میں رہتا تھا۔
ہشام کی روایت ہے کہ ضحاک کے بعد جمشید
بادشاہ ہوا، یہی ابراہیم علیہ السلام کا نمرود ہے اور اہل فارس کا نواں بادشاہ ہے،
جبل دنباوند میں پیدا ہوا تھا۔
ضحاک نہایت مستعد اور بہادر تھا، جب
اس نے ہند پر فوج کشی کی اور خود لڑائی پر گیا تو افریدون نے اس کے زمانۂ عدم
موجودگی میں اس کے ملک پر قبضہ کر لیا اور بہ وقت مراجعت ضحاک اور افریدون میں
لڑائی ہوئی۔ ضحاک کا ادبار9 آگیا تھا، وہ ان لڑائیوں میں افریدون کے ہاتھ گرفتار
ہوکر جبل دنباوند میں قید کر دیا گیا اور اس کی گرفتاری اور اس پر فتح یابی کے دن
کو عید کا دن مقرر کیا، لیکن اہل فارس یہ بیان کرتے ہیں کہ شاہی خاندان جس میں
حکومت چلی آ رہی تھی وہ اوشہنک اور جمشید کا تھا اور ضحاک یعنی بیوراسپ نے ان پر
خروج کیا اور فتح یاب ہوا۔ اس نے بابل آباد کیا اور نبطیوں سے اپنی فوج تیار کی
اور اہل عالم پر بہ زور سحر غالب آیا۔
افریدون
اصفہان کا ایک شخص عالی (کابی حداد)
نامی اس کی مخالفت پر اٹھ کھڑا ہوا، اس کے ہاتھ میں ایک نیزہ تھا، جس پر اس نے
جراب لٹکا کر جھنڈا10 بنایا اور لوگوں کو ضحاک کے برخلاف ابھار کر اس سے لڑا، جب
ضحاک میدان جنگ سے بھاگا تو اس کی رائے سے بنی جمشید میں سے افریدون کو تخت نشین کیا۔
افریدون نے تخت پر بیٹھتے ہی ضحاک کا تعاقب کیا اور اس کو گرفتار کر کے قتل کر
ڈالا۔
افریدون زمانۂ نوح علیہ السلام میں
تھا، شاید اسی وجہ سے یہ کہا جاتا ہے کہ افریدون ہی نوح علیہ السلام تھے۔ لیکن تحقیق
یہ ہے، جس کو ہشام بن کلبی نے نسابین فارس سے نقل کیا ہے کہ افریدون جمشید کی
اولاد سے ہے، ان دونوں میں نو پشتوں کا فرق ہے، اس نے دو سو برس سلطنت کی اور ضحاک
کی کل مظالم اور غصب کی ہوئی چیزیں ان کے مالکوں کو واپس کر دیں۔
اولاد افریدون اور تقسیم سلطنت
افریدون نے اپنی حالت حیات ہی میں ملک
کو اپنے تین لڑکوں میں تقسیم کر دیا۔ بڑے لڑکے سرم (سلم) کو روم، شام اور مغرب دیا،
طوج (تور) کو ترک اور چین دیا، ایرج کو عراق، ہند اور حجاز دیا11۔ افریدون کے مرنے
کے بعد سرم (سلم) اور طوج (تور) نے مل کر ایرج کو لڑکر مار ڈالا اور اس کے ملک کو
آپس میں تقسیم کر لیا۔ اہل فارس یہ خیال کرتے ہیں کہ افریدون اور اس کے اوپر کی دس
پشتیں ’’اشکیان‘‘ کے لقب سے یاد کی جاتی تھیں۔ بیان کیا جاتا ہے کہ ایرج کے دو بیٹے
وندان اور اسطوبہ اور ایک لڑکی خورک نامی تھی، جو ]وندان اور اسطوبہ[ بعد مرگ افریدون
اپنے باپ ایرج کے ساتھ مارے گئے، اسی روایت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ افریدون نے
پانچ سو برس حکومت کی اور اسی نے ثمود اور نبط کے آثار سواد سے محو کیے۔
’کَے‘
لقب کی ابتدا
ابتداً اسی ]افریدون[ نے اپنے کو’کَے‘
کے لقب سے ملقب کیا اور کَے افریدون کے نام سے مشہور ہوا۔ ’کَے‘ کے معنی ہیں تنزیہ
(یعنی مخلص اور متصل روحانیات سے) اور بعضوں نے اس کے معنی اور بھی بہت کچھ بیان کیے
ہیں۔
منوشہر
چند دنوں کے بعد منوشہر (منوچہر) بن
منشحر بن ایرج نے زور پکڑا، یہ افریدون کی نسل سے تھا، اس کی ماں اسحاق علیہ
السلام کی اولاد سے تھی، اس نے سن شعور کو پہنچ کر اپنے چچوں ]چچاؤں[ سے لڑائی کی
اور ان کو مار کر بادشاہ بن بیٹھا اور بابل کو اپنا دارالحکومت بنایا۔ فارس کو دین
ابراہیمی کی طرف مائل کیا۔
پھر افراسیاب بادشاہ ترک نے اس پر
چڑھائی کی اور بابل کو اس سے چھین لیا اور طبرستان تک اس کا تعاقب کرتا چلا گیا۔
جب طبرستان بھی منوشہر (منوچہر) کو پناہ نہ دے سکا تو وہ طبرستان چھوڑ کر عراق کی
طرف چلا گیا اور افراسیاب نے طبرستان پر قبضہ کر لیا۔
افراسیاب
افراسیاب کی نسبت یہ کہا جاتا ہے کہ یہ
طوج (تور) بن افریدون کی نسل سے تھا، جس وقت منوشہر نے طوج (تور) کو قتل کیا اور
اس کے خاندان پر تباہی آئی اس وقت یہ چھپ کر بلاد ترک میں چلا گیا اور وہیں اس نے
نشو ونما پائی اور انھیں کے ملک سے خروج کیا؛ اسی وجہ سے افراسیاب ان کی طرف منسوب
کیا جاتا ہے۔ طبری کہتا ہے کہ جب منوشہر بن منشحور مر گیا تو افراسیاب بن اشک بن
رستم بن ترک نے بابل پر قبضہ کر لیا اور مملکت فارس کو تہ وبالا کر دیا۔
زومر
اس کے بعد زومر (زوایازاب) بن طہمارست
(طہماسپ) اور بہ روایت دیگر راسپ بن طہمارست نے افراسیاب پر خروج کیا۔ زومر بن
طہمارست نو واسطے سے منوچہر کی طرف نسباً منسوب کیا جاتا ہے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ
طہمارست اپنے باپ سے علاحدہ ہو کر بلاد ترک میں چلا گیا تھا اور وہیں اس نے عقد کر
لیا تھا، جس سے زومر پیدا ہوا اور سن شعور کو پہنچ کر افراسیاب کی مخالفت پر اٹھا
اور لڑ کر اس کو سلطنت فارس سے نکال دیا اور افراسیاب ترکستان کو چلا گیا۔ زومر نے
اس فتح یابی کے دن کو ’عید مہرجان‘ کے نام سے مشہور کیا۔
منوشہر کے مرنے کے بارہ برس کے بعد
زومر کا فارس پر قبضہ اور تسلط ہوا۔ یہ نہایت نیک سیرت، صلح پسند اور امن دوست
تھا۔ اس نے بابل کی بگڑی ہوئی حالت اور افراسیاب کی خراب کی ہوئی آبادی کو ازسر نو
بارونق بنایا، اس نے سواد میں نہر زاب نکالی اور اس کے کنارے پر شہر بسایا اور اس
کا نام ’زواہی‘ رکھا، ہر طرح کے درخت، پھول، پھل کے لگائے، طرح طرح کے کھانے ایجاد
کیے، غنیمت کو اہل لشکر پر تقسیم کیا۔
کرشاسپ
کرشاسپ12 (گرشاسپ) طوج بن افریدون کی
اولاد سے اور بہ روایت دیگر اولاد منوشہر سے ہے اور اس کا نائب تھا۔ اہل فارس میں یہ
ایک عظیم الشان شخص گذرا ہے، لیکن بادشاہ نہیں ہوا اور بادشاہت زومر بن طہمارست
کرتا تھا۔ زومر اپنی حکومت کے تیسرے سال مر گیا۔ اس کے زمانے میں بنی اسرائیل تیہ
سے نکلے تھے اور یوشع نے اریحا کو فتح کیا تھا۔ اس کے مرنے کے بعد ملوک فارس کے
دوسرے طبقے کی حکومت کا سلسلہ چلا جن کا پہلا بادشاہ کیقباد ہے۔ بیان کیا جاتا ہے
کہ اس طبقے کا زمانۂ حکومت دوہزار چار سو ستر برس رہا، جیسا کہ بیہقی اور اصفہانی
نے تحریر کیا ہے، اور ان کے بادشاہوں میں سے صرف انہی نو بادشاہوں کو ذکر کیا ہے
جن کو طبری نے لکھا ہے۔ واللہ وارث الارض ومن علیہا۔ ]اللہ تعالیٰ زمین اور اس پر
بسنے والوں کا مالک ہے۔[
حواشی و ماخذ
1 عربی نسخوں میں ’عابَر‘ ہے۔ دارالفکر
2:182، دارالکتب العلمیہ2:178۔ ]م۔ص[
2 امام غزالیؒ لکھتے ہیں کہ آدم علیہ السلام نے شیث علیہ السلام کو امورِ دین
کا والی مقرر کیا تھا اور کیومرث کو دنیاوی حکومت کا افسر بنایا تھا۔ واللہ
اعلم۔ ]مترجم[
3 طہمورث نہایت نیک مزاج تھا، یہ اپنے دادا کی چال چلا، روزہ رکھنے کا حکم دیا،
فارسی میں کتابت کی اور امرِ الٰہی کا
پٖابند تھا، چالیس برس بعد مرگیا۔
]مترجم[
4 عربی متون میں ’1جلوس‘ ہے۔ دارالفکر
2:183، دارالکتب العلمیہ 2:178 ۔ ]م۔ص[
5 جمشید نے ریشم کیڑوں سے نکالا، کاتب
اور دربان مقرر کیے، نوروز کو عید کا دن ٹھہرایا۔
]مترجم[
6 دارالفکر
183:2/دارالکتب العلمیہ178:2کے نسخوں میں ’استویر‘ ہے۔ ]م۔ص[
7 بیوراسپ جمشید کا عامل تھا، اس نے اپنے زمانۂ حکومت میں ٹیکس، محصول مغنی،
ملاحی نکالے، سولی دینا، ہاتھ پاؤں کا کاٹنا اسی کی ایجاد ہے۔ اس نے ہزار برس
حکومت کی۔ اس کے اواخرِ عہدِ حکومت میں ابراہیم علیہ السلام تھے۔ سواد پر نمرود اس
کا عامل تھا۔ ]مترجم[
8 اصل نسخے میں شعر کا ترجمہ حاشیے میں ہے۔
]م۔ص[
9 ادبار = بدنصیبی، نحوست، شکست وغیرہ۔ ]م۔ص[
10 اس جھنڈے کو ’دُرَفش کاویان‘ کہتے ہیں،
اہلِ فارس اس کی بہت تعظیم کرتے تھے۔ جنگ قادسیہ میں یہ جھنڈا مسلمانوں نے چھین لیا
تھا۔ ]مترجم[
11 پیش نظر عربی
نسخوں میں افریدون کے لڑکوں کے درمیان تقسیمِ سلطنت سے متعلق عبارت یہ ہے :
فکانت الروم وناحیۃ المغرب لسرم، والترک والصین والعراق لإیرج... (روم اور
اطرافِ مغرب سرم کے حصے میں آئے اور ترک، چین اور عراق ایرج کو ملے...) نسخۂ
دارالفکر 184:2، نسخۂ دارالکتب العلمیہ179:2۔
اس موقع پر مترجم علاّم نے اردو میں جو مفہوم ومعنی پیش کیا ہے وہ عربی عبارت سے
بالکل مختلف ہے۔ مترجم نے لکھا ہے کہ ’طوج کو ترک اور چین دیا گیا‘ جب کہ عربی متن
اس سلسلے میں بالکل خاموش ہے کہ طوج کے حصے میں کیا آیا۔ اسی طرح مترجم کے مطابق ایرج
کو عراق کے علاوہ ہند اور حجاز بھی دیے گئے، اس کی بھی صراحت نہیں ہے۔ بہرحال حاشیے
میں جو عربی عبارت نقل کی گئی ہے اس کے مطابق ترجمہ نہیں ہے۔ غالباً مترجم نے کسی
دوسرے ماخذ سے یہاں اضافہ کیا ہے۔ ]م۔ص[
12 کرشاسپ کی نسبت بعض مورخین لکھتے ہیں کہ
یہ زوا کا نائب تھا اور بابل میں رہتا تھا، اس نے بغاوت کرکے اس سے ملک نکال لیا یا
تقسیم کرلیا، بیس برس تک حاکم رہا۔ [مترجم]
ماخذ: تاریخ ابن خلدون (جلد دوم)،
مصنف: عبدالرحمن ابن خلدون، مترجم: حکیم احمد حسین عثمانی الہ آبادی، مرتب: محمد
صہیب، پہلی اشاعت: 2018، ناشر: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں