2/1/26

’امرائو جان ادا‘ اور مشترکہ تہذیبی عناصر،مضمون نگار:ساجد ذکی فہمی

اردو دنیا،ستمبر 2025

بحیثیت ناول نگار  مرزا محمد ہادی رسوا (1857۔ 21اکتوبر 1931)کا شمار ان مصنّفین میں ہوتا ہے جنھوں نے ناول کی تاریخ میں انقلاب برپا کرنے کا کارنامہ انجام دیا۔ وہ بیک وقت ناول نگار، شاعر، مترجم، ریاضی داںہونے کے ساتھ ساتھ علم طب، علم کیمیا، علم ہیئت، منطق اور علم نجوم میں بھی درک رکھتے تھے۔ اس مختصر مضمون میں ہمیں ان کی جملہ تصانیف و تخلیقات یا علوم و فنون سے سروکار نہیں بلکہ ان کے شہرۂ آفاق ناول ’امرائو جان ادا‘ میں موجود مشترکہ تہذیبی عناصر کا جائزہ لینا مقصود ہے۔

مرزا رسوا کی علمیت اور ان کی تخلیقی ذہانت سے انکار ممکن نہیں۔ وہ نہایت ذہین و فطین شخصیت کے مالک تھے۔ انھیں زبان پر مہارت حاصل تھی۔ ’امرائو جان ادا‘  (1899) کے علاوہ انھوں نے چار طبع زاد ناول ’افشائے راز‘، ’شریف زادہ‘ ، ’ذات شریف‘ اور ’خونی شہزادہ‘ تحریر کیے، لیکن جو شہرت اور مقبولیت ’امرائو جان ادا‘ کے حصے میں آئی وہ ان کے دیگر ناولوں کو نصیب نہ ہوسکی۔ ناول میں رسوا نے ایک طوائف کی زندگی کو مرکز بنا کر لکھنوی تہذیب کی عکاسی اس انداز سے کی ہے کہ یہ شہر جیتا جاگتا اور سانس لیتا ہوا ہمارے سامنے آجاتا ہے۔ بالفاظ دیگر ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ خانم جان کا کوٹھا ایسا مرکز ہے جہاں شریف النفس، رذیل، نواب، ڈاکو، بوڑھے، جوان، کم سن، مولوی حتیٰ کہ باپ اور بیٹے بھی اپنا کردار ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ دوسری جانب رسوا نے  ناول میں لکھنؤ کی معاشرت ، سماجی زندگی، تہذیب، ثقافت، رسم و رواج، رہن سہن اور نشست و برخاست وغیرہ کا بھی پورا نقشہ کھینچ کر رکھ دیا ہے۔

اس عہد کے تاریخی و تہذیبی حالات پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ دلّی کی تباہی کے بعد اہل فن کی نگاہ میں لکھنؤ ہی علم و ادب کا مرکز ٹھہرا، لہٰذا  باکمالوں اور اہل فن نے دلّی سے نکل کر لکھنؤ کی راہ لی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لکھنؤ ہر فن کے استاد کا مرکز بن گیا۔ علاوہ ازیں حکومت کی سرپرستی اور دولت کی فراوانی نے لکھنؤ کو تہذیبی اور مذہبی اعتبار سے کافی ثروت مند بنا دیا تھا۔ لوگ بے فکری کی زندگی گزار رہے تھے۔ مغل حکومت سے علیحدہ ہونے کے بعد لکھنؤ والوں نے دہلوی تہذیب سے الگ اپنی ایک تہذیب یا ثقافت کو فروغ دینے کی کوشش کی۔ خواہ وہ آداب مجلس اور نشست و برخاست کے طریقے ہوں یا طعام و لباس اور پوشاک و زیورات کے۔ دوسری جانب نوابان اودھ برعکس مغلوں کے اثنا عشری کے پابند تھے۔ لہٰذا مذہبی معاملات میں انھوں نے جس تصرف سے کام لیا وہ خود شیعیت کی تاریخ میں معدوم دکھائی دیتی ہیں۔ ان تمام باتوں نے مل کر لکھنؤ کی تہذیب و ثقافت میں ایسی چمک اور جاذبیت پیدا کردی تھی جو اس سے قبل ہندوستان میں کبھی دیکھی نہیں گئی۔ رسوا کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے ’امرائو جان ادا‘ میں اس مشترکہ تہذیب کا ایسا مرقع پیش کیا ہے جو اس سے پہلے ہمیں رتن ناتھ سرشار کے ’فسانۂ آزاد‘میں دکھائی دیتا ہے۔ محمد حسن اس ضمن میں رقم طراز ہیں:

’’سرشار کے فسانۂ آزاد کے طرز پر مرزا محمد ہادی رسوا امرائو جان ادا کی کہانی کو لکھنوی تہذیب کے پس منظر میں سجاتے ہیں۔ پھر لکھنوی تہذیب کا بھی وہ دور جو اقدار کی تبدیلیوں سے دو چار تھا۔ امرائو جان ادا اس پس منظر کا ایک لازمی جز ہے۔ ڈاکوئوںکی شورہ پشتی، پرانے نوابوں کی طوائف نوازیاں، عشق و عاشقی کے چرچے اور سب سے بڑھ کر اس دور کی معاشرت کی جیتی جاگتی تصویریں امرائو جان ادا میں ہر صفحے میں بکھری ہوئی ہیں۔ یہ جادو ایسا موثر ہے کہ سرشار کے فسانۂ آزاد کے بعد امرائو جان ادا کو لکھنؤ کی تہذیبی زندگی کا سب سے کامیاب مرقع کہا جاسکتا ہے۔‘‘1

ناول کے آغاز میں مشاعرے کا ایک منظر پیش کیا گیا ہے۔ یہ بات ہم سبھی جانتے ہیں کہ مشاعرہ ہماری مشترکہ تہذیب کا ایک اہم جز رہا ہے۔ ہندوستان بالخصوص دلّی اور لکھنؤ میں بادشاہ، نواب، امرا اور رئوسااس کا خاص اہتمام کیا کرتے تھے۔ دلّی کی تباہی کے بعد لکھنؤ چونکہ مرجع خلائق بنا ہوا تھا اس لیے شعرا جوق در جوق لکھنؤ کی طرف پیش قدمی کر رہے تھے۔ ناول میں منشی احمد حسین صاحب جو اطراف دلّی سے آکر لکھنؤ میں آباد ہوئے تھے، اپنے کمرے میں اکثر شعری نشستوں کا اہتمام کیا کرتے تھے۔ یہاں احباب اپنے اشعار سناتے اور داد و تحسین وصول کرتے۔ مشاعروں میں داد دینے کاطریقہ بالکل روایتی ہوا کرتا تھا۔ آج بھی لوگ اسی طرز پر قائم ہیں۔ مثال کے طور پر امرائو جان ایک غزل پڑھتی ہیں جس پر حاضرین داد دیتے ہیں۔ داد دینے کے لیے جن الفاظ کا سہارا لیا گیا ہے وہ ملاحظہ فرمائیں:

’’حضار جلسہ:واہ واسبحان اللہ کیا کہنا۔

رسوا: کیا شعر کہا ہے۔

خان صاحب:یہ بھی خوب کہا۔

احباب:  غزل از مطلع تا مقطع ایک رنگ ہے۔

آغا صاحب :نشست الفاظ توملاحظہ ہو۔

پنڈت صاحب: کیا دُر فشانی کی ہے۔‘‘  2

مندرجہ بالا اقتباس میں جس طرح شعر کی تعریف کی گئی ہے اس سے شعر کی خوبی یا خامی کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ یہ اور اس قسم کے الفاظ مشاعرے کی تہذیب کا حصہ ہیں۔دوسری اہم بات یہ کہ ابتدا سے ہی مشاعروں میں حصہ لینے والے ہندو اور مسلمان دونوں ہوا کرتے تھے۔ مذہبی اعتبار سے شعرا میں تخصیص نہیں برتی جاتی تھی۔ ہندو اپنی شاعری میں قرآنی تعلیمات اور تلمیحات کا بے جھجک ذکر کرتے تو مسلمان بھی ہندوئوں کے عقائد اور ان کی رسومیات کا برملا اظہار کیا کرتے تھے۔منشی احمد حسین صاحب کے کمرے میں منعقد ہونے والے اس مشاعرے میں بھی ایک پنڈت جی موجود ہیں۔ ان کی موجودگی ہندوستان کی اس مشترکہ تہذیب کی طرف اشارہ کرتی ہے جو ہندوئوں اور مسلمانوں کے درمیان صدیوں کے میل جول سے پیدا ہوئی تھی۔

شعر و شاعری کے ساتھ گیت سنگیت بھی ہماری گنگا جمنی تہذیب کی پہچان رہے ہیں۔ امیر خسرو، سورداس، تان سین اور ان جیسے نہ جانے کتنے اشخاص کے نام لیے جاسکتے ہیں جنھوں نے اس فن کو ترقی دینے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ مغلوں کے عہد میں اس فن نے کافی ترقی کی۔ نوابانِ اودھ بھی فن موسیقی سے گہرا شغف رکھتے تھے۔ لکھنؤ میں جب دولت کی فراوانی کی وجہ سے زنان بازاری کا زور بڑھا اور ہر گلی کوچے سے ناچنے اور گانے کی صدائیں بلند ہونا شروع ہوئیں تو لوگ اس فن کی طرف زیادہ سرعت کے ساتھ متوجہ ہوئے۔ طوائفوں کے کوٹھے میں چونکہ ناچ گانے کا خاص اہتمام کیا جاتا تھا۔ اس لیے طوائفوں کا اس فن میں کامل ہونا ضروری خیال کیا گیا۔ ناول میں خانم جو کوٹھے کی نائکہ ہے وہ بھی اس فن میں مہارت  رکھتی ہیں۔ایک جگہ غلط درس دینے پر سنگیت کے استاد کی کس طرح گرفت کرتی ہیں ملاحظہ فرمائیں:

’’ایک دن ایسا اتفاق ہوا کہ میں (امرائو جان) سوہا گا رہی ہوں ۔ خانم بھی موجود ہیں میں نے استاد جی سے پوچھا، گندھار اس میں کومل ہے یا ات کومل۔

استاد جی:  ات کومل

خانم:  خاں صاحب ماشاء اللہ یہ میرے سامنے؟

استاد:ک یوں؟

خانم:  اور پھر آپ مجھی سے پوچھتے ہیں کیوں۔ سوہا میں گندھار ات کومل ہے؟ بھلا آپ تو کہیے۔

استاد:  کہنے لگے۔ گندھار کومل لگا گئے۔

خانم:  بس آپ ہی قائل ہوجیے۔ خود آپ کومل کہیں اور چھوکری کو بہکاتے ہیں یا مجھے کستے ہیں؟ خاں صاحب میں کچھ عطائی نہیں۔ خاک چاٹ کے کہتی ہوں گلے سے نہ ادا ہو مگر ان کانوں نے کیا نہیں سنا۔ میں بھی ایسے ویسے گھرانے کی شاگرد نہیں ہوں۔ ‘‘ 3

مندرجہ بالا اقتباس میں جس قسم کے گیت ، سُر یا تال کی بات ہو رہی ہے وہ خالص ہندوستانی تہذیب کے مظہر ہیں۔

امرائو جان ادا میں رسوا نے طوائفوں کے بہت سے رواج و رسومیات کا ذکر کیا ہے۔ ان ہی میں سے ایک رسم کو ’مسّی‘ کہا جاتا ہے۔ یہ رسم اس وقت ادا کی جاتی ہے جب کوئی طوائف ناچ، گانے، سُر اور تال غرض کہ ہر اعتبار سے کامل ہوجاتی تھی۔ اس رسم کے ادا کیے جانے کے بعد اس طوائف کو کسی مرد کے ساتھ منسلک کر کے اس کا کمرہ علیحدہ کردیا جاتا۔ یعنی اب اس کے کمرے میں باقاعدگی کے ساتھ مردوں کا آنا جانا شروع ہوجاتا تھا۔ اس رسم کی ادائیگی کے وقت ناچ گانے، کھانے پکانے اور تحفے تحائف بھی پیش کرنے کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ طوائفوں میں اس رسم کو بڑی دھوم دھام سے منانے کا رواج تھا۔ خانم کی بیٹی بسم اللہ جان کی جب مسّی ہوئی اس وقت کا ایک منظر امرائو جان کی زبانی ملاحظہ فرمائیں:

’’بسم اللہ کی مسّی بڑے دھوم سے ہوئی۔۔۔۔۔۔ دلارام کی بارہ دری اس جلسے کے لیے سجائی گئی تھی۔ اندر سے باہر تک روشنی تھی شہر کی رنڈیاں، ڈوم ڈھاڑی، کشمیری بھانڈ سب تو تھے ہی، دور دور سے ڈیرہ دار طوائفیں بلائی گئی تھیں۔ بڑے بڑے نامی گویے دلی تک سے آئے تھے۔ سات دن سات رات گانے بجانے کی صحبت رہی۔‘‘ 4

مذکورہ اقتباس میں ’مسّی‘ تو خالص ہندوستانی رسم ہے ہی اس کے ساتھ بارہ دری کا لفظ بھی ہمیں اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ بارہ دری دراصل لکھنوی ثقافت کی پہچان ہے۔ لکھنؤ میں چھوٹی بڑی کئی بارہ دریاں موجود تھیں۔ یہ ایک ہال کی مانند ہوا کرتی تھیں۔ اس میں بارہ دروازے ہوتے تھے۔ اسی مناسبت سے اسے بارہ دری کہا جاتا تھا۔ گرمیوں کے موسم میں ان بارہ دریوں میں لوگ آرام بھی کیا کرتے تھے۔ علاوہ ازیں مختلف قسم کے جلسے اور مذہبی رسومات کے لیے بھی ان بارہ دریوں کو استعمال کیا جاتا تھا۔ ان بارہ دریوں کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ اس میں مذہبی تفاوت کا کوئی دخل نہیں تھا۔

کسی ملک یا خطے کی تہذیب، تمدن اور ثقافت کو سمجھنے کے لیے لباس وزیورات سے صرف نظر کرنا ممکن نہیں۔ ابتدا سے ہی ہندوستانی عورتوں میں خواہ وہ مسلمان ہوں یا ہندو، زیورات کے استعمال کا رواج کثرت سے رہا ہے۔ مانگ کا ٹیکا، گلے کا ہار، کان کی بالی، ناک کی نتھیا، چوڑی، کنگن، کمر بند، انگوٹھی، دستانہ، پائل ، گھنگرو یا پازیب وغیرہ ہندو اور مسلمان دونوں اپنی حیثیت کے مطابق استعمال کرتے آئے ہیں۔ دولت کی فراوانی کی وجہ سے لکھنؤ والوں نے لباس اور زیوارات کے استعمال میں مزید مرصع سازی سے کام لیا۔ رسوا ایک جگہ خانم جان کا حلیہ بیان کرتے ہوئے لباس اور زیورات کا ذکر اس طرح کرتے ہیں۔

’’۔۔۔۔۔ کیا شاندار بڑھیا تھی۔۔۔۔۔ ایسی بھاری بھرکم جامہ زیب عورت دیکھی نہ سنی۔۔۔۔۔ململ کا دوپٹہ سفید کیسا باریک چنا ہوا کہ شاید و باید، اودے مشروع کا پئجامہ بڑے بڑے پائنچے، ہاتھوں میں موٹے موٹے سونے کے کڑے کلائیوں میں پھنسے ہوئے، کانوں میں سادی دو انتیاں لاکھ لاکھ بنائو دیتی تھیں۔ ‘‘ 5

اب ایک اقتباس میں مولوی صاحب کا حلیہ ملاحظہ فرمائیں:

’’۔۔۔ مولوی صاحب کا نورانی چہرہ سفید کترواں داڑھی۔ صوفیانہ لباس، ہاتھ میں عمدہ فیروزے اور عقیق کی انگوٹھیاں، خاک پاک کی تسبیح، اس میں سجدہ گاہ بندھی ہوئی، ہرولی کی جریب، چاندی کی شام بہت ہی نفیس۔ ڈیڑھ خمّہ حقہ۔ افیون کی ڈبیہ پیالی۔‘‘ 6

درج بالا اقتباس میں مولوی صاحب کا جس طرح حلیہ بیان کیا گیا ہے وہ بھی خاص لکھنوی تہذیب کی دین ہے۔ اس کے علاوہ خاک پاک کی تسبیح اور اس میں سجدہ گاہ کا بندھا ہونا ان کے شیعہ عقائد کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ پچھلے صفحات میں عرض کیا گیا تھا کہ لکھنؤ میں شیعیت کا غلبہ تھا اور رسوا خود بھی شیعہ تھے اس لیے ’’امرائو جان ادا‘‘ میں ہمیں جگہ جگہ ان عقائد اور رسومات کا ذکر ملتا ہے جو براہ راست شیعہ عقائد سے تعلق رکھتے ہیں۔ افیون کی ڈبیہ سے رسوا یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ جب مولوی حضرات تک افیون کے عادی تھے تو عوام الناس کا ذکر ہی کیا۔

زیورات اور لباس کے علاوہ کھانے پینے کی اشیا سے بھی کسی ملک کی ثقافت کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ مغل جب ہندوستان میں وارد ہوئے اور یہاں بود و باش اختیار کی تو مقامی لوگ ان نئے پکوانوں سے آشنا ہوئے جو وہ اپنے ساتھ لے کر آئے تھے۔ اسی طرح یہاں کھائی اور بنائی جانے والی چیزوں نے بھی مغلوں کو متاثر کیا۔ اس میل جول کا نتیجہ یہ ہوا کہ مختلف قسم کے نئے پکوانوں کا تجربہ کیا گیا۔ لکھنؤ والوں نے دسترخوان پر سجائی جانے والی اشیا میں جس جدت طرازی اور مرصع سازی سے کام لیا تاریخ میں اس کی مثال اگر نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہے۔ دراصل اس کے پیچھے دلّی کی تہذیب سے خود کو بہتر اورمنفرد ثابت کرنے کا عمل کارفرما تھا۔ عبدالحلیم شرر نے اپنی کتاب ’گذشتہ لکھنؤ‘ میں اس پر تفصیلی بحث کی ہے۔ رسوا نے اس ناول میں ایک جگہ دستراخوان پر چنے گئے انواع و اقسام کے کھانوں کا ذکر اس طرح کیا ہے:

’’دسترخوان پر کئی قسم کے کھانے پلائو، بورانی، مزعفر، متنجن، سفیدہ ، شیربرنج، باقر خانیاں، کئی طرح کے سالن، کباب، اچار، مربّے، مٹھائیاں، دہی، بالائی، غرض کے ہر قسم کی نعمت موجود تھی۔‘‘ 7

اس قسم کے کھانوں کا ذکر رسوا نے کئی جگہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ ناول میں بہت سے برتنوں کے استعمال کو بھی دکھایا گیا ہے۔ مثال کے طور پر کنول، پیچوان، پان دان، پیک دان، سلپچی، تسلہ، رکاب اور لوٹا وغیرہ۔ ان سے بھی مشترکہ تہذیبی وراثت پر روشنی پڑتی ہے۔

عرب جب ہندوستان میں وارد ہوئے تو ان کے یہاں ایک سے زائد شادیوں کا رواج تھا۔ اس کے برعکس ہندوئوں کے یہاں شادی ایک ہی بار کی جاتی تھی۔ ان کا عقیدہ تھا کہ یہ شادی سات جنموں تک برقرار رہے گی۔ یعنی کسی صورت بھی شوہر اور بیوی کو علیحدہ نہیں کیا جاسکتا۔ یہی وجہ تھی کہ ہندوئوں کے یہاں شادی کے وقت پرکرتی کو گواہ بنایا جاتا ہے۔ ہندوئوں کے ساتھ طویل مدت تک رہنے کی وجہ سے مسلمانوں کے اندر بھی یہ چیزیں آہستہ آہستہ سرایت کرگئیں۔ مذہبی اعتبار سے اگرچہ مسلمانوں میں ایک سے زائد شادیوں کی اجازت باقی رہی لیکن سماجی طورپر اسے بُرا سمجھا جانے لگا۔ یہی وجہ تھی کہ ہندوئوں کی طرح مسلمان عورتیں بھی شوہر یا اپنے سسرال کے ہاتھوں ہزارہاتکالیف برداشت کرنے کے بعد بھی علیحدگی اختیار کرنا گوارا نہیں کرتیں۔ آپ اسے بھلے ہی ان کی شریف النفسی سے تعبیر کریں لیکن یہ ہماری مشترکہ تہذیبی وراثت کا نتیجہ ہے۔ رسوا ایسے ہی تعلیم یافتہ اور مہذب گھرانے کی عورتوں کا نقشہ کھینچتے ہوئے امرائو جان ادا کی زبانی کہلواتے ہیں:

’’۔۔۔ کیا تمھیں اتنی سمجھ نہیں ہے کہ وہ بے چاریاں جو تمام عمر چاردیواریوں میں قیدرہتی ہیں ، ہزارہا قسم کی مصیبتیں اٹھاتی ہیں۔ اچھے وقت کے تو سب ساتھی ہوتے ہیں مگر برے وقت میں بے چاریاں ساتھ دیتی ہیں۔

۔۔۔گھر کی عورت کیسی ہی خوبصورت، خوب سیرت اور خوش سلیقہ کیوں نہ ہو، بے وقوف مرد بازاریوں پر جو ان سے صورت اور دوسری صفتوں میں بدرجہا بدتر ہیں، فریفتہ ہو کر انھیں عارضی طورسے یا مدت العمر کے لیے ترک کردیتے ہیں۔ اس لیے ان کو گمان کیا بلکہ یقین ہے کہ یہ کسی نہ کسی قسم کا جادو ٹونا ایسا کردیتی ہیں جس سے مرد کی عقل میں فتور آجاتا ہے۔ یہ بھی ان کی ایک قسم کی نیکی ہے اس لیے کہ وہ اس حال میں اپنے مردوں کو الزام نہیں دیتیں بلکہ بدکار عورتوں کو ہی مجرم ٹھہراتی ہیں۔ اس سے زیادہ ان کی محبت کی اور کیا دلیل ہوسکتی ہے۔‘‘  8

درج بالا اقتباس میں عورتوں کے جذبۂ ایثار اور محبت کی جو بات کی گئی ہے وہ برصغیر کی عورتوں کے لیے ہی مخصوص ہے۔ ہندوئوں کے یہاں پتی چونکہ پرمیشور کا درجہ رکھتا ہے اس لیے اس کے خلاف کچھ کہنا یا اس کو لعن طعن کرنا ہندو عورتوں کے لیے زیبا نہیں۔ اس قسم کے واقعات ناولوں کے علاوہ خود ہمارے سماج میں بھی دیکھنے کو مل جاتے ہیں جہاں بیوی سب کچھ جانتے ہوئے بھی خاموشی اختیار کیے رہتی ہے۔ یہ رویہ ہندوئوں اور مسلمانوں دونوں کے یہاں یکساں طور پر دکھائی دیتا ہے۔ صدیوں تک ساتھ رہنے کی وجہ سے دونوں کے بہت سے عقائد اس طرح گھل مل گئے ہیں کہ اب ان کو الگ الگ خانوں میں بانٹنا ممکن نہیں۔

لکھنؤ کا ذکر آئے اور میلوں ٹھلوں کی بات نہ ہو تو لکھنؤ کا پورا نقشہ ابھر کر سامنے آہی نہیں سکتا۔ محرم اور چہلم کے جلوس، میلوں ٹھیلوں کا منظر، خوانچے والوں کی پکار، اوباش قسم کے لڑکوں کی دھما چوکڑی، انواع و اقسام کے کھانے، کرتب بازیاں، مختلف قسم کی پالیاں اور نہ جانے کتنی ہی چیزیں  تھیں جنھوں نے لکھنؤ کو قابل دید بنا رکھا تھا ۔ سرشار نے ’فسانۂ آزاد‘ میں اور عبدالحلیم شرر نے ’گذشتہ لکھنؤ‘ میں ان تمام چیزوں کو مفصل بیان کیا ہے۔ رسوا نے بھی اپنے ناولوں میں لکھنؤ کے میلوں اور محرم و چہلم کا ذکر بڑے پُرتپاک انداز میں کیا ہے۔ عیش باغ کا میلہ جو نہایت دھوم دھام سے منایا جاتا تھا اس کا ذکر کرتے ہوئے ایک جگہ لکھتے ہیں:

’’میلے میں وہ بھیڑیں تھیں کہ اگر تھالی پھینکو تو سر ہی سر جائے۔ جابجا کھلونے والوں ، مٹھائی والوں کی دکانیں ، خوانچہ والے، میوہ فروش، ہار والے، تنبولی، ساقنیں غرض کہ جو کچھ میلوں میں ہوتا ہے سب کچھ تھا۔۔۔۔۔۔ ایک صاحب ہیں کہ وہ اپنے تنزیب کے انگرکھے اور اودی صدری ، نکہ دار ٹوپی، چست گھٹنے اور مخملی چڑھویں جوتے پر اترائے ہوئے چلے جاتے ہیں۔ کوئی صاحب ہیں صندلی رنگا ہوا دوپٹہ سر سے آڑا باندھے ہوئے رنڈیوں کو گھور تے پھرتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔ ایک صاحب سات آٹھ برس کی لڑکی کو سرخ کپڑے پہنا کے لائے ہیں۔ کندھے پر چڑھائے ہوئے ہیں۔ ناک میں ننھی سی نتھنی ہے، اونچی چوٹی گندھی ہوئی ، لال شالباف کا موباف پڑا ہے، ہاتھوں میں چاندی کی چوڑیاں ہیں۔ معصوم کے دونوں ہاتھ زور سے پکڑے ہیں۔ کلائیاں دکھی جاتی ہیں۔ کوئی چوڑیاں اتار نہ لے۔

لیجیے دوسرے صاحب ایک اور ان کے یار غار بھی ساتھ ہیں۔ فرمایشی گالیاں چل رہی ہیں۔۔۔۔۔۔ معمولی گالی گلوج کے بعد ملاقات سلام بندگی، مزاج پرسی بے تکلف دوستوں میں ہوا کرتی ہے۔ اے پان تو کھلوا، لطف تو یہ کہ آپ مسلمان یار ہندو۔‘‘ 9

اس اقتباس میں تنزیب کے انگرکھے، اودی صدری، نکہ دار ٹوپی، مخملی چڑھویں جوتے، دوستوں میں بے تکلف گالیاں اور پان کا کثرت سے استعمال ہندوستانی تہذیب کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں۔ مندرجہ بالا اقتباس میں جو منظر بیان کیا گیا ہے اس میں ہندوئوں اور مسلمانوں کے درمیان کوئی تخصیص دکھائی نہیں دیتی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے جلسے جلوس اور میلوں ٹھیلوں میں برابر شریک ہواکرتے تھے۔ رسوا نے بھی اس جانب اشارہ کیا ہے کہ پان کھانے والا مسلمان تو پان کھلانے والا ہندو۔ یعنی یہاں کوئی بھید بھائو اور مذہبی رشہ کشی نہ تھی۔

مختصر یہ کہ مرزا محمد ہادی رسوا نے اپنے ناول ’امرائو جان ادا‘ میں خانم جان کے کوٹھے کو مرکز بنا کر اودھ کی مشترکہ تہذیب کی بہترین عکاسی کی ہے۔ لکھنؤ کے محرم، چہلم، میلے ٹھیلے، تیج تہوار، بازار، مختلف قسم کے لباس اور زیورات، انواع و اقسام کے کھانے، رسم و رواج اور عقائد و رسومات، شرفا کی گفتگو، طوائفوں کا ناز و انداز، رذیلوں کی ہنگامہ آرائی، ڈاکوئوں کی شورہ پشتی، مصاحبوں کی عیاری اور بانکوں کے عشق وغیرہ کا مفصل ذکر اس ناول میں موجود ہے۔ علاوہ ازیں امرائو جان اور رام دئی کی دوستی یا منشی احمد حسین صاحب کے گھر مشاعرے میں پنڈت جی، آغا صاحب، رسوا اور امرائو جان میں بے تکلفی کا منظر ہماری مشترکہ تہذیبی وراثت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یہ ضرور ہے کہ رسوا نے ’امرائو جان ادا‘ میں اودھ کی تہذیب کی عکاسی کی ہے لیکن بغور اس تہذیب کا مطالعہ کریں تو اندازہ ہوگا کہ یہ بھی دراصل ہماری مشترکہ تہذیبی روایت کا ہی حصہ ہے۔ اس اعتبار سے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ رسوا نے ناول ’امراؤ جان ادا‘ میں اودھ کے زیر سایہ پورے ہندوستان کی مشترکہ تہذیب و ثقافت کی عکاسی کی ہے اور اس میں وہ پوری طرح کامیاب دکھائی دیتے ہیں۔

حواشی

1        امرائو جان ادا، مرزا محمد ہادی رسوا، تعارف: محمد حسن، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، دہلی، 1997

2          امرائو جان ادا، مرزا محمد ہادی رسوا، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، دہلی، 1997، ص20 اور 22

3          ایضاً، 1997، ص 60

4          ایضاً، ص 72

5          ایضاً، ص 54

6          ایضاً، ص 63

7          ایضاً، ص 188

8          ایضاً، ص224

9        ایضاً، ص 138-39

 

Dr. Sajid Zaki Fahmi

Assistant Professor, Department of Urdu

Hiralal Bhakat College, Nalhati

Birbhum (West Bengal)

Mob.: 9990121625

sajidzakifahmi@gmail.com


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تازہ اشاعت

طبقۂ اولیٰ ملوک فارس،مضمون نگار:محمد صہیب

اردو دنیا،ستمبر 2025 کیومرث کل علمائے فارس اس امر پر اتفاق کر رہے ہیں کہ کیومرث ہی آدم علیہ السلام ہیں اور ان کا لڑکا منشا نامی تھا اور من...