اردو دنیا،ستمبر 2025
غزل اردو ادب کی وہ لطیف ترین صنفِ شاعری ہے جس میں جذبات، احساسات، اور فکری کیفیات کو نہایت اختصار، سادگی اور لطافت سے پیش کیا جاتا ہے۔ یہ صنف اپنی پیدائش سے ہی انسان کے داخلی جذبات، عشق کے تجربات، ہجر و وصال کی کیفیات اور روحانی وجدان کی عکاسی کرتی رہی ہے۔ ہر عہد کی غزل اس عہد کے انسان کی فکر اور تہذیبی شعور کی نمائندہ ہوتی ہے، اس لیے غزل کے فکری نظام میں وقت کے ساتھ تبدیلیاں رونما ہوتی رہی ہیں۔ ان تبدیلیوں میں سب سے نمایاں فرق کلاسیکی اور جدید غزل میں اقدار (Values) کی معنوی تبدیلی کا ہے۔
کلاسیکی اردو غزل میں اقدار کا محور ہمیشہ محبوب کی ذات رہی ہے۔ یہ محبوب کوئی عام انسانی کردار نہیں بلکہ ایک مافوق الفطرت، ناقابلِ رسائی اور تقدیس کا پیکر ہوتا تھا۔ عاشق کی تمام تر فکری و جذباتی توانائی محبوب کی طرف مرتکز ہوتی تھی۔ اس کا درد، اس کی خواہش، اس کی رضا اور اس کا انکار، سب کچھ محبوب سے مشروط ہوتا تھا۔یارکی موجودگی عاشق کی روحانی معراج کا ذریعہ بنتی تھی، اور اس کے تصور سے ہی غزل کی جمالیاتی اور فکری دنیا تشکیل پاتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ کلاسیکی شعرا کی غزلیں محبوب کے تصور اور اس کی رمزیت سے بھرپور ہیں۔ اس معشوق کی محبت ایک طرح سے عشقِ مجازی کے پیرائے میں عشقِ حقیقی کی سی معنویت رکھتی تھی۔ بہرحال کلاسیکی غزل میں جن اقدار کو بنیاد بنایا گیا، وہ زیادہ تر عشق مجازی، صوفیانہ رمزیت، وفا، ہجر، فنا فی المحبوب، روحانی تسلیم و رضا، شائستگی اور تہذیبی ضبط جیسے عناصر پر مشتمل تھیں۔ محبوب کا تصور ایک مافوق الفطرت، ناقابلِ رسائی اور مقدس ہستی کے طور پر ابھرتا تھا۔ عشق کو ایک آزمائش، ایک باطنی سفر، اور انسانی ذات کی تکمیل کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔اس دور کی غزلوں میں ہم ایک دکھی، شکستہ اور درد میں ڈوبا عاشق دیکھتے ہیں، جو محبوب کے قدموں میں فنا ہو جانے کو سعادت سمجھتا ہے۔ میرکا ایک مشہور شعر ہے ؎
جب کہ پہلو سے یار اٹھتا ہے
درد بے اختیار اٹھتا ہے
(میر)
یہاں عشق، انکارِ ذات اور مکمل سپردگی کا نام ہے۔ ایسی غزل میں جو اقدار سامنے آتی ہیں، وہ تسلیم و رضا، ضبط، حیا، فقر، اور خلوص کی ہوتی ہیں۔ یہی اقدار ولی، درد، سودا، اور غالب جیسے شعرا کی غزل کو تہذیبی سرمایہ بناتی ہیں۔ ان شعراکی تخلیقات نے غزل کو محض عشقیہ واردات سے آگے بڑھا کر ایک فکری، سماجی اور تہذیبی اظہار کا ذریعہ بنایا ہے۔ خاص طور پر غالب کی غزل کلاسیکی اقدار کو جدید فکری تناظر میں پیش کرتی ہے۔جس سے شاعری میں شعور کی بیداری، فلسفیانہ تفکر اور خود آگاہی کے پہلو نمایاں نظر آتے ہیں۔غالب کی غزل کلاسیکی اقدار کے ساتھ ساتھ عقل و شعور، فلسفہ اور خود آگاہی کے نئے زاویے بھی پیش کرتی ہے۔ ان کی شاعری میں ایک داخلی سوال اٹھتا ہے، لیکن یہ سوال عشق کی روشنی میں کیا جاتا ہے، جو اس عہد کی ایک قابلِ قبول قدر تھی۔ غالب کہتے ہیں ؎
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
(غالب)
یہاں شاعر کی داخلی کشمکش، اس کی خواہشات کی شدت اور ناکامی کا شعور موجود ہے، لیکن اس شعور کے پیچھے اب بھی ایک تہذیبی وقار اور غم کی شائستگی قائم ہے۔اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ کلاسیکی غزل معاشرتی ڈھانچے، تہذیبی شعور اور اخلاقی نظام کے دائرے میں لکھی جاتی تھی۔ اس میں تخیل کی پرواز ضرور ہوتی تھی، لیکن وہ ہمیشہ ایک باوقار تہذیبی نظام کے اندر رہ کر چلتی تھی۔ الفاظ کی ترتیب، استعاروں کی نزاکت، تشبیہوں کی لطافت، اور غم کی شائستگی — یہ سب کلاسیکی غزل کی جمالیات کا حصہ تھے۔ محبوب کا دراصل ایک رمزیاتی پیکر تھا، جو شاعر کے اندرونی روحانی تجربے اور سماجی تہذیبی شعور دونوں کا آئینہ دار تھا۔ جیسا کہ تنویر احمد علوی نے لکھا ہے:
’’ کلاسیکی شاعری اجتماعی شعور سے بھی عبارت ہے اور تاریخ و روایت کا سلسلہ اسی سے جڑا ہوا ہے، اور اس میں وہ ذہن بھی شریک ہے جو تاریخ کی تخلیق ہے اور وہ ذہن بھی جس نے علاقائی وحدتوں سے اپنے لیے سوچ کا سامان تیار کیا۔‘‘1
غزل کا یہی کلاسیکی سانچا بیسویں صدی میں آ کر مکمل طور پر تبدیل ہو جاتا ہے۔ سیاسی، سماجی، اور تہذیبی منظرنامے میں ایسی انقلابی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جو نہ صرف انسان کی روزمرہ زندگی بلکہ اس کی داخلی نفسیات، احساسات اور جذباتی نظام کو بھی متاثر کرتی ہیں۔ نوآبادیاتی سیاست، تحریکِ آزادی، تقسیمِ ہند کا سانحہ، صنعتی انقلاب، شہری زندگی کی بھیڑ میں تنہائی، فرد کی اجنبیت، طبقاتی تصادم، شناخت کا بحران، مذہبی انتہا پسندی، اور اخلاقی زوال — یہ وہ عناصر ہیں جنھوں نے اردو شاعری، بالخصوص غزل کی ساخت، لہجہ، اور معنوی نظام کو بدل کر رکھ دیا ہے۔اس نئے شعری احساس اور بدلتے ہوئے فکری رویے کا عکس ہمیں غالب، فراق، علی سردار جعفری، ن۔م۔راشد، میراجی، عادل منصوری، ظفر گورکھپوری اور بلراج کومل جیسے شعرا کے کلام میں نظر آتا ہے، جہاں محبت اب ایک مجرد جذبہ نہیں رہتی بلکہ سماجی، سیاسی اور انسانی تناظرات میں ڈھل کر ایک وسیع تر معنویت اختیار کر جاتی ہے۔ فراق کا یہ شعر اس بدلتے ہوئے رجحان کی ایک روشن مثال ہے ؎
امید و یاس وفا و جفا فراق و وصال
مسائل عشق کے ان کے سوا کچھ اور بھی ہیں
(فراق)
یہی تبدیلی غزل کی موضوعاتی وحدت کوبھی متاثر کرتی ہے۔اب محبوب محض ایک مقدس اور ماورائی ہستی نہیں رہا، نہ ہی وہ کوئی ایسا خوابیدہ وجود ہے جو صرف پیکرِ حسن ہو۔ جدید غزل میں محبوب کبھی ایک زندہ انسان ہوتا ہے، جو اپنی کمزوریوں، الجھنوں، شکستگیوں اور خامیوں کے ساتھ جیتا ہے، اور کبھی نظام، سماج، یا خود شاعر کی ذات کا استعارہ بن جاتا ہے۔ محبوب اب ایک آسمانی حقیقت نہیں بلکہ ایک زمینی مسئلہ ہے۔ اس میں تقدیس کی جگہ مایوسی، بے چینی، انکار اور بغاوت نے لے لی ہے۔ساحر لدھیانوی، کیفی اعظمی، خلیل الرحمن، شاذ تمکنت، جذبی، مجروح، مظہر امام، ساحر، جاں نثار اور دیگر جدید شعراکی غزل میں محبوب اکثر ایسا کردار ہوتا ہے جو شاعر کے داخلی کرب کو کسی بڑی اجتماعی سچائی سے جوڑنے کا ذریعہ بن جاتا ہے ؎
بھلا ہوا کہ کوئی اور مل گیا تم سا
وگرنہ ہم بھی کسی دن تمہیں بھلا دیتے
(خلیل الرحمن)
مرا ضمیر بہت ہے مجھے سزا کے لیے
تو دوست ہے تو نصیحت نہ کر خدا کے لیے
(شاذ)
جاگ اے نسیم خند ۂ گلشن قریب ہے
اٹھ اے شکستہ حال نشیمن قریب ہے
(جذبی)
دیکھ زنداں سے پرے رنگ چمن جوش بہار
رقص کرنا ہے تو پھر پاؤں کی زنجیر نہ دیکھ
(مجروح)
یہ تبدیلی ہمیں اس بات کا شعور دیتی ہے کہ غزل محض ایک شعری صنف نہیں، بلکہ یہ ہر دور کے انسان کی تہذیبی، فکری اور جذباتی حالت کا اظہاریہ بھی ہے۔ جس طرح زمانہ بدلتا ہے، ویسے ہی غزل کی قدریں، اس کے استعارے، اس کے موضوعات اور اس کا لہجہ بھی بدلتا ہے۔ جدید غزل کے شاعر کا محبوب دراصل وہی ہے جو معاشرتی، تہذیبی، سیاسی اور داخلی بحرانوں سے نبردآزما ہے۔ اس تبدیلی نے اردو غزل کو محض لفظی حسن کا آئینہ نہیں رہنے دیا، بلکہ اسے فکری اور سماجی حقیقتوں کا بھی آئینہ دار بنا دیاہے۔ جدید دور میں بدلتے ہوئے عشق کے رویے کے متعلق خلیل الرحمن اعظمی لکھتے ہیں:
’ ’موجودہ دور میں عشق کا تصور بہت حد تک بدل گیا ہے۔ زندگی کی بھاگ دوڑاور تیز رفتاری کی بنا پر اس جذبے میں بہت حد تک تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ سب سے پہلے تو وہ جذبہ عشق ہی مفقود ہو گیا جس سے عاشق محبوب پر اپنا دل و جان نچھاور کر دیتا ہے۔ اب ہمارے معاشرے میں حسن و عشق کا تصو بدل چکا ہے۔ اس کے آداب کچھ سے کچھ ہو گئے ہیں۔ ہاں اس میں ارضیت آگئی ہے۔ جو کہ ایک سچے عشق کی پہچان ہے۔‘‘ 2
جدید غزل میں اقدار کی معنوی تبدیلی کا عمل محض محبوب کے تصور تک محدود نہیں بلکہ یہ تبدیلی غزل کے اسلوب، زبان، ساخت اور اظہار کی تکنیک تک جا پہنچتی ہے۔ استعارہ اب صرف جمالیاتی مقصد نہیں رکھتا بلکہ طنز، احتجاج، علامت اور تجرید کا ایک وسیلہ بن جاتا ہے۔ شاعری اب جمالیات کی پناہ گاہ نہیں بلکہ تجربات کی آگ میں جلتا ہوا ایک احتجاجی اعلان ہے۔چنانچہ اگر کلاسیکی غزل ’محبوب پر فنا‘کا فلسفہ پیش کرتی ہے تو جدید غزل ’فرد کی بقا‘ اور ’نظام پر سوال‘ کا شعور بیدار کرتی ہے۔ ان دونوں کے درمیان جو تبدیلی ہے، وہ دراصل ایک مکمل فکری اور تہذیبی سفر کی روداد ہے — جو اردو شاعری کی معنویت کو مسلسل وسعت دے رہا ہے۔ جدید شعرا کی غزلوں میںیہ تبدیلی انتہائی شدت کے ساتھ نمایاں ہوتی ہے۔ ان کے یہاں اقدار کا زوال صرف انکار تک محدود نہیں بلکہ شدید طنز، بغاوت اور افسوس میں ڈھل جاتا ہے:
ستون دار پہ رکھتے چلو سروں کے چراغ
جہاں تلک یہ ستم کی سیاہ رات چلے
(مجروح)
تو کہاں ہے تجھ سے اک نسبت تھی میری ذات کو
کب سے پلکوں پر اٹھائے پھر رہا ہوں رات کو
(کیفی اعظمی)
ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلاف
جنگ گر لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہی
(ساحر)
یہ ایک ایسی دنیا کا بیان ہے جہاں نہ رشتے محفوظ ہیں، نہ اخلاقی اصول باقی، نہ اعتماد، نہ محبت۔ یہاں شاعر کا تجربہ فرد کی اس دنیا سے تعلق رکھتا ہے جہاں اقدار بکھر چکی ہیں، اور وجود ایک اذیت بن چکا ہے۔ جدید دور کی غزلیں کرب کو درد اور خامشی میں ڈھالتی ہیں۔ ان شعراکے یہاں اقدار کا زوال ہنگامہ خیز بغاوت نہیں بلکہ ایک خاموش ماتم کی شکل اختیار کرتا ہے:
دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا
وہ تری یاد تھی اب یاد آیا
(ناصرکاظمی)
یہاں ’یاد‘ ایک نئی قدر ہے، جو ماضی کی ایک چھوٹی سی باقیات کے طور پر انسان کے اندر سانس لے رہی ہے۔ جدید غزل میں یاد، تنہائی، بے یقینی، اجنبیت، شکست، اور احتجاج وہ اقدار ہیں جو کلاسیکی اقدار کی جگہ لے چکی ہیں۔ فرد اب مرکز میں آ چکا ہے۔ وہ فرد جو شکست خوردہ ہے، جس کا نظام پر اعتماد نہیں، جس کا محبوب دھند میں ہے، اور جس کی خواہشات اب ادھوری اور منتشر ہیں۔ یہ فرد داخلی کرب، سیاسی بے بسی، تہذیبی اضمحلال اور سماجی انتشار سے دوچار ہے۔ وہ اپنی تنہائی کا جشن نہیں مناتا، بلکہ اس میں جیتا ہے۔وحید اختر نے اس سلسلے میں بڑی عمدہ بات کہی ہے:
’’ اس دور نے زخم خوردہ اقدار کے زیر سایا زخم خوردہ شخصیتیں پیدا کیںجو شدید احساس تنہائی کا شکار ہیں۔ ہر روح کے ہا تھ میں اس کا اپنے زخموں کا اعمال نامہ ہے اور دار وگیر عرصہ حشر میں نفسی نفسی کا وہ غل ہے کہ کوئی کسی کی جزا کو نہیں پہنچتا۔ سب ایک ہی غم کے اسیر ہیں، سب کے درمیان درد کا ایک ہی رشتہ ہے، پھر بھی سب کس قدر تنہاں ہیں! جدید ادب اسی انفرادی اور جتماعی احساس تنہائی کی داستان ہے۔‘‘3
جدید غزل میں نسائی شعور کی بیداری بھی اقدار کی معنوی تبدیلی کا ایک بڑا حوالہ ہے۔ کلاسیکی غزل میں عورت کا تصور محبوبہ کی صورت میں مرد شاعر کی نگاہ سے بنتا ہے، جب کہ جدید غزل میں عورت خود بولتی ہے، خود اپنا دکھ، اپنی شناخت، اور اپنی آزادی کی بات کرتی ہے۔خواتین شعرا کی شاعری میں عورت ایک خود شناس ہستی کے طور پر سامنے آتی ہے:
نغمہ و شعر و زباں اہل سیاست کے قتیل
پوری تہذیب کے مٹنے کے نشاں دیکھے ہیں
اقدار ہوس و شور و منافق نظری
جن کا شیوہ رہا وہ پیر مغاں دیکھے ہیں
جلتے بام و در و دیوار سلگتے ہوئے شہر
جن سے پتھرا گئیں آنکھیں وہ سماں دیکھے ہیں
(ساجدہ زیدی)
ساجدہ زیدی کے یہ اشعار ایک گہرے دکھ اور کرب کا اظہار ہیں جو اس عورت کی زبان بن کر ابھرے ہیں جس نے اپنے اردد گرد تہذیب کے بکھرتے ہوئے نقش دیکھے ہیں۔ وہ عورت جو محبت اور اقدار کی امین تھی، آج اہل سیاست کے شور، شر، اور زہر آلود زبان سے خائف ہے۔ جنھیں رہنمائی کا منصب حاصل تھا وہ بھی ہوس اور منافقت کے پجاری نکلے۔ اس طرح جدید شاعرات نے بھی زماں اور مکاں کی حدود سے نکل کر خود کو سماج کا فرد مان کر حالات کا جائزہ لیا ہے۔ دکھوں کی داستان کو غم زمانہ میں ڈھال کرپیش کرنا سیکھا ہے۔
جدید غزل کا بڑا امتیاز یہ ہے کہ وہ اقدار کو مسلمات کی حیثیت سے نہیں دیکھتی بلکہ ان پر سوال اٹھاتی ہے، چنانچہ اب وفا، عشق، سچائی، یا انسانیت جیسے الفاظ کو محض بیان نہیں کیا جاتا بلکہ ان پر سوال اٹھایا جاتا ہے کہ کیا یہ اقدار اب بھی باقی ہیں یا محض سماجی دھوکہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جدید غزل میں طنز، تمثیل، علامت، تجرید اور انکار کی شعری زبان زیادہ نظر آتی ہے۔اس تبدیلی کو اگر فکری لحاظ سے دیکھا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ کلاسیکی غزل ایک منظم، مرتب، اور مانوس دنیا کی نمائندہ تھی، جب کہ جدید غزل ایک بے ترتیب، بکھری ہوئی اور اجنبی دنیا کی عکاسی کرتی ہے۔ دونوں کی دنیا الگ ہے، لہٰذا ان کی اقدار بھی مختلف ہیں۔ ایک طرف محبوب مرکز ہے، تو دوسری طرف فرد کی ٹوٹ پھوٹ۔ ایک طرف تسلیم و رضا ہے، دوسری طرف بغاوت اور سوال۔گوپی چند نارنگ اس فرق کو یوں بیان کرتے ہیں :
’’جدید غزل میں نہ صرف مضامین بدلے ہیں، بلکہ غزل کی داخلی کائنات کا نظام بھی بدل چکا ہے، اب غزل کا شاعر خود مرکز بن چکا ہے اور خارجی دنیا کو اپنی داخلی روشنی سے پرکھتا ہے۔‘‘ 4
اس بنیاد پرہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کلاسیکی اور جدید غزل میں اقدار کی معنوی تبدیلی محض اسلوب یا موضوعات کی سطحی تبدیلی نہیں بلکہ تہذیبی، فکری اور داخلی شعور کی گہرائیوں سے جڑا ایک ہمہ گیر سفر ہے۔ کلاسیکی غزل ایک ایسے عہد کی نمائندہ ہے جہاں محبت، وفا، ہجر و وصال، تقدیر، تصوف، اور خود سپردگی جیسے عناصر غزل کے مرکزی مضامین ہیں۔ اس میں محبوب ایک مقدس اور ماورائی ہستی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور شاعر کی ذات تسلیم، صبر اور قربانی کا پیکر بن کر ابھرتی ہے۔ کلاسیکی اقدار میں حسن کی پرستش، تقدیر پر ایمان اور روایتی اصولوں کی پاسداری نمایاں ہے۔
اس کے بر عکس جدید غزل انکار، سوال اور جستجو کی غزل ہے۔ یہاں محبوب کوئی آسمانی وجود نہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی ہستی ہے جس سے محبت کے ساتھ ساتھ سوال بھی کیے جاتے ہیں۔ شاعر صرف عاشق یا صوفی نہیں بلکہ ایک حساس انسان ہے جو سماجی، سیاسی، وجودی و نفسیاتی مسائل سے ٹکراتا ہے۔ وہ اقدار جو کبھی غیر متزلزل سمجھی جاتی تھیں جدید شاعر ان پر سوال اٹھاتا ہے اور ان کی معنویت کو نئے سیاق و سباق میں پرکھتا ہے۔
یہ معنوی تبدیلی اصل میں اردو غزل کے ارتقائی سفر کی غماز ہے۔ کلاسیکی غزل جہاں تسلیم کا استعارہ ہے وہیں جدید غزل تلاش اور احتجاج کی علامت ہے۔ ایک طرف روایت کا جمال ہے تو دوسری طرف انفرادیت کا کرب۔ یہ دو انتہائیں مل کر اردو غزل کو ایک ایسی جہت عطا کرتی ہیں جو اسے ہر دور میں زندہ، متحرک اور معنویت سے بھر پوررکھے گی۔ غزل کا یہی فکری سفر اسے محض ایک صنف سخن نہیں بلکہ تہذیبی شعور کی علامت بنا دیتا ہے۔
حواشی
.1 تنویر احمد علوی، کلاسیکی اردو شاعری کے روایتی ادارے، کردار اور علامتیں، شاہد پبلی کیشنز، نئی دہلی، 2006، ص11
.2 مظہر احمد، جدید شاعری اور خلیل الرحمن اعظمی، شبانہ پبلی کیشنز، دہلی 1989،ص78
.3 وحید اختر، تعارف، اسم اعظم: حاصل سیر جہاں، کلیات شہر یار، انڈین بک ہاؤس علی گڑھ،2001، ص2
.4 گوپی چند نارنگ، جدیدیت کے بعد، انجمن ترقی اردو (ہند)، نئی 1990،ص211
Irfan Ai Bashar
58/2, Subhash Nagar, Utraula
Distt.: Balrampur- 271604 (UP)
Mob.: 9792512148
irfan.ahmad.khan13@gmail.com

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں