2/1/26

اردو افسانے کے بدلتے رحجانات،مضمون نگار:محمد محمود عالم

 اردو دنیا،ستمبر 2025

اردو میں افسانہ بیسویں صدی کی پہلی دہائی سے ظہور میں آیا اور بیک وقت دو متوازی رحجانات کے ساتھ آیا، یعنی ایک رومانیت اور تخیل پرستی کا رجحان اور دوسرا حقیقت پسندی اور اصلاح پسندی کا رجحان۔ ایک طرف سجاد حیدر یلدرم اور نیاز فتح پوری کے رومانوی اور تخیلی اسکول سے تعلق رکھنے والے افسانہ نگار ہیں تو دوسری طرف پریم چند اسکول کی حقیقت پسندی کا تتبع کرنے والے فنکار اور یہ سچ ہے کہ دور آغاز میں اردو افسانہ کے رومانی میلان کو بڑی مقبولیت حاصل ہوئی۔ رومانی افسانہ نگاروں نے حسن و عشق کو مرکز توجہ بنائے رکھا اور خوابوں اور ماورائی تصورات کی بنیاد پر اپنے افسانوں کا تانا بانا تیار کرتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانوں میں رومانی کیف و کشش کی فراوانی تھی، لیکن اس کے اثرات مجموعی طور پر محدود رہے۔ ’خارستان و گلستان‘ کے خالق سجاد حیدر یلدرم ’طوق آدم‘ کے خالق سلطان حیدر جوش، ’کیوپڈو سائیکی‘ کے خالق نیاز فتح پوری، ’سمن پوش‘ کے خالق محمد علی ردولوی نے اردو افسانے کے جس رومانی اسلوب کی روایت کی تشکیل کی اس میں عورت، فطرت اور حسن و محبت ہی کے عناصر کو تفوق حاصل تھا۔ ہرچند کہ سجاد حیدر یلدرم نے جو افسانے لکھے ان میں صرف داستانوی رنگ ہی نہیں بلکہ زندگی کے متعدد مسائل نے بھی جگہ پائی ہے۔ انسانی نفسیات اور جنس جیسے مسئلہ پر بھی یلدرم نے لکھنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ اس کا ذکر شمس الرحمن فاروقی کے یہاں ان لفظوں میں ہوا ہے  :

’’ان کی تاریخی اہمیت کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ انھوں نے کئی میدانوں میں اپنے نقوش چھوڑے ہیں۔ افسانے میں وہ پریم چند سے پہلے ’ادب لطیف‘کہی جانے والی نثر میں نیاز فتح پوری پر مقدم ہیں اور مزاح میں ان کا اثر پطرس کے یہاں جابجا نظر آتا ہے۔‘‘

(افسانے کی حمایت میں، ص 185و ص186)

یلدرم کی دنیا اپنے داخلی تنوع کے باوجود بہرحال رومان و محبت ہی کی دنیا رہی اور ماورائیت کے حصار سے باہر نہ آسکی اور عقلیت آشنا اور حقیقت پسندانہ نہیں بن سکی۔ اردو افسانے کا یہ خالی، مگر ضروری گوشہ جس فنکار کے قلم سے پر ہو سکا، وہ منشی پریم چند ہیں۔پریم چند نے اردو افسانہ کو عقلیت اور مقصدیت کی نئی جہت سے آشنا کیا، اپنے عہد کے ماحول و معاشرت کو بڑی کامیابی کے ساتھ افسانے میں انگیز کیا۔

 پریم چند کی روایت کو پریم چند کے عہد میں اور اس کے بعد جن افسانہ نگاروں نے آگے بڑھایا، ان میں علی عباس حسینی، راشد الخیری، اعظم کریوی، سدرشن، سہیل عظیم آبادی، حیات اللہ انصاری، اپندر ناتھ اشک، حامد اللہ انسر، عظیم بیگ چغتائی، کرشن چندر، احمد علی، راجندر سنگھ بیدی، بلونت سنگھ، اختر اورینوی، احمد ندیم قاسمی وغیرہ کے اسمائے گرامی بطور خاص اہم ہیں۔

اردو افسانے کے آغاز یہ دور کا دو متوازی رحجان ہی نہیں بلکہ ادبی و سیاسی تحریکات و میلانات کے ساتھ اس میں آنے والی فکری و فنی تبدیلیاں یہ بتانے کے لیے کافی ہیں کہ آج کا جدید افسانہ کسی حادثہ کی طرح سامنے نہیں آیا بلکہ اس نے ایک طویل اور پرپیچ سفر طے کیا ہے۔ 1930 سے پہلے اردو فن پاروں پر انگریزی کا اثر بہت نمایاں تھا۔ کئی ایک مشہور ادیب انگریزی، فرانسیسی، روسی اور ترکی ادب کے شہپاروں کو اردو کے پیکر میں ڈھال کر پیش کرنے لگے تھے۔ایسے ادیبوں میں سجاد حیدر یلدرم، جلیل احمد قدوائی، منصور علی، نیاز فتح پوری، سید بشیر الدین، خواجہ منصور حسن، عبدالمجید سالک، ظفر علی خاں اور محمد مجیب کے نام اہم ہیں۔

1932 میں اردو ادب اور خاص طور پر اردو افسانہ ایک نئے موڑ سے آشنا ہوا۔ انگریزوں کی استحصالی پالیسیوں کے نتیجے میںابھرنے والی بے چینی اور بے اطمینانی، غیر ملکی حکمرانوں سے نفرت اور غلامی کا طوق اتار پھینکنے کے عزم نے ادیبوں کے احساسات پر تاز یانے کا کام کیا۔ نتیجتاً ایک نئی تحریک ’ترقی پسند تحریک‘ کے نام سے وجود میں آئی، اس تحریک کا شعوری طور پر آغاز 1932میں ’انگارے‘ سے ہوا۔ احمد علی کے مرتبہ اس افسانوی مجموعہ کے بیشتر افسانوں میں نظریاتی اعتبار سے مارکسی ازم اور موضوعاتی اعتبار سے فرائڈ کے نظریے کے اثرات نمایاں ہیں۔

انگارے‘ کا شائع ہونا تھا کہ ادبی دنیا کے ساتھ موجودہ معاشرے میں بھی ایک ہنگامہ برپا ہوگیا۔ ’انگارے‘ کے افسانوں کا موضوع دراصل حقیقی زندگی کا جرأت مندانہ اظہار تھا۔ زندگی کی قدروں کی پامالی، رجعت پسندی، قدامت پسندی، سیاسی اور اخلاقی قدروںکی پامالی جیسے موضوعات ان افسانہ نگاروں کو بغاوت پر آمادہ کرنے کاسبب بنے فکرو خیال میں حقیقت پسندی کی شدید آنچ کے ساتھ ساتھ جنسی زندگی اور تلذذ کے جذبہ کی شمولیت کہیں کہیں اتنی بڑھ گئی کہ افسانے کی عبارتیں اور فقرے ابتذال، رکاکت اور عامیانہ پن کی صورت اختیار کر گئے اور غالباً یہی وجہ تھی کہ ’انگارے‘ کے خلاف شدید رد عمل ہوا ، حکومت وقت نے دفعہ 295 الف تعزیرات ہند کے تحت 25مارچ1933 کے سرکاری گزٹ میں ایک اعلان کے ذریعہ ’انگارے‘ کو ضبط کر لیا۔

ترقی پسند تحریک کی اس بنیاد نے جو بالواسطہ طور سے ’انگارے‘ کے ذریعے رکھی گئی تھی،رفتہ رفتہ ملک کی دوسری زبانوں کو بھی متاثر کیا، لیکن اس کا سب سے زیادہ اثراردو زبان پر پڑا۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ اس تحریک کے راہ نمائوں میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو خود اردو زبان میں لکھتے تھے۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ اردو شاعروں اور ادیبوں کا ایک پورا قافلہ اس تحریک میں شامل ہو گیا۔ یہاں تک کہ منشی پریم چند کا افسانہ ’کفن‘ جب 1935 میں شائع ہوا تو ترقی پسند افسانہ نگاروں کے لئے ایک نئی اساس بن گیا۔

اپریل1936میں ترقی پسند ادیبوں کی پہلی کانفرنس لکھنؤ میں ہوئی تو اس کی صدارت منشی پریم چند نے کی اور اپنی صدارتی تقریر میں ترقی پسند نظریے کی بڑی تفصیل سے وضاحت کی اور اس بات پر زور دیا کہ :

’’ہماری کسوٹی پر وہ ادب پورا اترے گا جس میں تفکر ہو، آزادی ہو، آزادی کاجذبہ ہو، حسن کا جوہر ہو، تعمیر کی روح ہو، زندگی کی حقیقتوں کی روشنی ہو، جو ہم میں حرکت، ہنگامہ اور بے چینی پیدا کرے، سلائے نہیں کیونکہ اب سونا موت کی علامت ہوگی۔‘‘

(رسالہ ’زمانہ‘کانپور، اپریل 1936)

پریم چند کی بھر پور کوششوں اور سجاد ظہیر اور ان کے ساتھیوں کی مسلسل تگ ودوکا نتیجہ یہ نکلا کہ بہت سے نوجوان شاعر اور ادیب اس تحریک میں شامل ہو گئے۔ ان میں کرشن چند، بیدی، مجاز و مخدوم، احتشام حسین، احمد ندیم قاسمی، کیفی اعظمی کے نام قابل ذکر ہیں۔

اس دور میں صرف مرد افسانہ نگاروں نے ہی نہیں بلکہ خواتین افسانہ نگاروں نے بھی چونکا دینے والی کہانیاں لکھیں۔عصمت چغتائی، ممتاز شیریں، قرۃ العین حیدر، ہاجرہ مسرور، خدیجہ مستور، تسنیم سلیم چھتاری، صدیقہ بیگم سیوہاروی، سرلا دیوی وغیرہ نے ترقی پسند افسانے کو خوب خوب آگے بڑھایا۔ ان میں کچھ کہانیاں بحث کا موضوع بھی بنیں کیونکہ کچھ تو بات نئی تھی، کچھ کہنے کا ڈھنگ نیا تھا۔  اس دور میں صرف روایتی طرز کی نہیں بلکہ ایسی کہانیاں بھی لکھیں جن میں پلاٹ نہیں تھے صرف کردار تھے، ایسی کہانیاں بھی تخلیق کی گئیں جو صرف چند لمحوں کے تاثر کی عکاسی کرتی تھیں۔ایک کردار کو لے کر بھی کہانیاں لکھی گئیں اور ایک چھوٹے واقعہ کی بنیاد پر بھی کہانیوں کے تانے بانے بنے گئے۔ طویل کہانیاں بھی لکھی گئیں اور منی کہانیاں بھی۔ رپور تا ژ بھی لکھے گئے اور قصبائی اور تاثراتی کہانیاں بھی تخلیق کی گئیں۔جن میں جوائس اور ورجیناوو لف سے متاثر ہوکر شعور کی روکی تکنیک اپنائی گئی۔ڈاکٹر محمد حسن نے جدید افسانے کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے :

’’نیا افسانہ زیادہ تر شہروں کی تشنج زدہ زندگی اور اس کے کرب و محرومی کی داستان ہے۔ اس انسان کی داستان جسے شوق کی بلندی اور ہمتوں کی پستی کا تجربہ ہے جس کی روح میں کرب ہے، خلا ہے،   بے نام دکھ ہے۔‘‘ (جدید اردو ادب، محمد حسن)

حصول آزادی کے ساتھ بر صغیر کی تقسیم نے بھی کئی برسوں تک اردو افسانے کو شدت سے متاثر کیا۔برصغیر کی تقسیم کے بعد رونما ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات  اور ہجرت پر لکھنے والے افسانہ نگاروں میں کرشن چندر، خوا  جہ احمد عباس، منٹو، بیدی، احمد ندیم قاسمی، بلونت سنگھ، عصمت، حیات اللہ انصاری، سہیل عظیم آبادی، عزیز احمد، انتظار حسین، کلام حیدری، خدیجہ مستور، شکیلہ اختر، جوگندرپال اور ممتاز مفتی اہم ہیں۔تقسیم ملک کے بعد کے افسانے ایک طرح سے ماضی کی یاد ہیں جہاں انسانی قدروں کی مٹنے کی داستانیں ہیں اور انسان کے ایک دم وحشی ہوجانے کی تصویریں یا ایسے کتبوں کی تحریریں جنھیںافسانہ نگاروں نے اپنے اپنے ماضی کے مقبروں پر نصب کر دیے ہیں۔

اس کے بعد علاقائی تہذیبوں کی تصویر کشی کا ایک رحجان ابھرا۔ احمد ندیم قاسمی، بلونت سنگھ اور اشفاق احمد نے پنجاب کے دیہات میں رہنے والے سیدھے سادے، لیکن بانکے لوگوں کی زندگی کی عکاسی کی ہے توانور عظیم اور سہیل عظیم آبادی نے اپنے افسانوں میں صوبہ بہار کی زندگی کے بڑے نفیس خاکے ابھارے ہیں۔ غیاث احمد نے متوسط طبقے کے مسلم گھرانوں کی بڑی حقیقی تصویریں پیش کی ہیں۔ جیلانی بانو اورواجدہ تبسم نے دکن میں رہنے والوں اور اس علاقے کی تہذیب کے بڑے خوبصورت نقش کھینچے ہیں اور اس طرح اردو افسانے نے پنجاب، بہار، دکن اور دوسرے علاقوں کو ایک دوسرے کے اتنا قریب لادیا ہے کہ ہم اردو افسانے کو قومی یک جہتی کا ترجمان کہہ سکتے ہیں۔ کچھ افسانہ نگار ایسے بھی ہیں جنھوں نے دوسری کہانیوں کے علاوہ اپنے پروفیشن کے بارے میں کچھ بہت اچھی کہانیاں لکھی ہیں۔ ان میں ممتاز مفتی اور رام لعل اہم ہیں جنھوں نے اساتذہ اور ریلوے کرم چاریوں کے احوال پر کہانیاں لکھیں۔

آزادی کے بعد اردو افسانے میں ایک اور رحجان آیا جو مخصوص تہذیبی اقدار اور جاگیر دارانہ نظام کے خاتمہ سے تعلق رکھتا ہے۔جاگیر دارانہ نظام کی زوال آمادہ قدروں سے متعلق ردعمل جن افسانہ نگاروں نے پیش کیا ان میںسہیل عظیم آبادی(الائو، بھابی جان)، قاضی عبدالستار(پیتل کا گھنٹہ)، رضو باجی، قرۃالعین حیدر(پت جھڑ کی آواز، ہائوسنگ سوسائٹی، نظارہ، درمیان )، جیلانی بانو(موم کی مریم،نروان، فصل گل جو یاد آئی) کا ذکر ناگزیر ہے۔

1960 کے بعد جدیدیت کے تحت علامتی اور تجریدی افسانہ لکھنے کا رحجان تیز ہوا۔اردو میں سب سے پہلے جن لوگوں نے علامتی افسانہ لکھنے میں دلچسپی دکھائی ان میں احمد علی کا نام سر فہرست ہے۔ ’قید خانہ‘ اور ’موت سے پہلے‘ اردو کے پہلے کامیاب افسانے ہیں جن میں علامتی فضا موجود ہے۔ کرشن چندر کے افسانے ’دو فرلانگ، لمبی سڑک‘ اور ’غالیچہ‘ اور ممتاز شیریں کے افسانے ’دیپک راگ‘ اور’میگھ ملہار‘ بھی علامتی افسانے کے اچھے نمونے کہے جا سکتے ہیں۔سعادت حسن منٹو کا افسانہ ’پھندنے‘ بھی ایک اچھا علامتی افسانہ ہے، جس میں کردار کا تجزیہ علامتوں اور استعاروں کے ذریعہ کیا گیا ہے۔ اس رحجان کو پروان چڑھانے والوں میں امجد الطاف، جمیلہ ہاشمی، صادق حسین، آمنہ ابوالحسن، بانو قدسیہ خانم مرزا، خالدہ اصغر، بلراج مین را، انتظار حسین، سریندر پرکاش، رتن سنگھ، جوگندر پال، غیاث احمد گدی، انور سجاد، کلام حیدری، اقبال مجید، منیر احمد شیخ، مشتاق اعجاز راہی، احمد دائود، سلیم احمد اہم ہیں، لیکن ادب کے چند قاریوں کو علامتی اور تجریدی کہانیاں لکھنے والوں سے شکایت رہی کہ یہ کہانیاں کہانیوں کے معیار کو برقرار نہیں رکھ پاتی ہیں، بقول طیب انصاری:

’’جدیدیت اگر رحجان ہے تو یہ رحجان ادب میں صحت مندی کی علامت نہیں ہے اور اگر تحریک ہے تو اس بات کا ثبوت کہ ہمارے فنکار انتشار ذہن کا شکار ہیں۔ جدید افسانے یا تجریدی افسانے اپنے اظہار میں نا کام ہیں اور ان کا المیہ یہ ہے کہ ان افسانوں کا کوئی قاری نہیں ہے۔‘‘

(جدید افسانہ: ہیئت اور مسائل، طیب انصاری، مشمولہ شاعر، بمبئی، افسانہ نمبر1981، ص74)

 لیکن ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی نے اپنے قاریوں کو سمجھاتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ :

’’علامتوں میں سوچنا انسان کا پہلا فکری عمل رہا ہے۔ مشاہدہ اور تجربہ سے زیادہ علامت کی بنیاد فکر اور وجدان پر ہوتی ہے کہ انسان نے تہذیب کے بچپنے سے ہی علامتوں میں سوچنا شروع کر دیا تھا، جب ادب باقاعدہ طور پر معرضِ وجود میں نہیں آیا تھا اس انداز فکر کی زندہ مثالیں اساطیر ہیں۔ مجرد خیال کو مجسم پیکر میں دیکھنے کی کوشش ہی اساطیر کی تخلیق کا سبب تھا اور علامت بھی ایسی ہی کوشش کا نتیجہ ہوا کرتی ہے۔ ‘‘

(ماہنامہ نشانات، مالیگائوں، نومبر 1974، ص7تا9)

1970-75کے بعد آنے والے افسانہ نگاروں نے اپنے فنی رویے کا دوبارہ جائزہ لیا اور متوازن راہ اختیار کی۔ افسانوں میں حسب ضرورت نئی تکنیکوں کو بھی استعمال کیا گیا اور بیانیہ افسانہ لکھنے پر زور دیا گیا۔ علامتی افسانے بھی لکھے گئے، لیکن انھیں علامتی افسانوں کو کامیابی ملی جن میںکسی نہ کسی سطح پر کہانی پن موجود تھا۔ اس دور کے افسانہ نگاروں میں سلام بن رزاق، حسین الحق، شوکت حیات، انور خاں، عبدالصمد، رضوان احمد، شفق، مشرف عالم ذوقی، پیغام آفاقی، وغیرہ کے نام اہم ہیں۔

آٹھویں دہائی سے اردو افسانہ ایک نئے دور یعنی پس جدیدیت کے دور میں داخل ہوا۔ یہ دور استحصال، معاشی ناہمواری، عدم استحکام، بے سمتی، شہروں کے پھیلائو، آبادی میں بے طرح اضافہ سے پیدا شدہ مسائل، ذہنی تنائو، کھوکھلے اقدار، غربت، فرقہ واریت کے شباب کا دور تھا، جس سے پیدا شدہ مسائل نے یکسر پورے منظر نامہ کو بدل دیا تھا، چنانچہ اس کے زیر اثر افسانے کے موضوعات میں بھی کافی تبدیلیاں ہوئیں۔ نئے افسانہ نگار عہد نو کے تقاضوں پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ آج کا فنکار موجودہ حالات سے بیزار ہے، لیکن اس میں نئی سمتوں کی تلاش کا حوصلہ ہے وہ صرف انسانی زندگی کی نفسیاتی الجھنوں اور بے چینیوںکا ذکر ہی نہیں کرتا بلکہ اس کے خلاف احتجاج بھی کرتا ہے۔ اب نیا افسانہ نگارصرف واقعات و حادثات تک محدود نہ ہو کر انسان کے اندر چھپے ہوئے ازلی و ابدی شیطان کی نشاندہی اور انسان نما شیطان کے اندر چھپی ہوئی خود غرضی، دشمنی، منافقت اور کدورت کوبھی بے نقاب کر رہا ہے اور آنے والے خطرات کی طرف بھی ہماری توجہ مبذول کرا رہا ہے۔

 ہم عصر افسانہ صحیح معنوں میں جدید افسانے سے اپنی الگ شناخت متعین کرتا ہے اور مسائل کو نئے انداز سے پیش کرتا ہے۔ ہم عصر افسانہ نگارفکر و عمل دونوں اعتبار سے آزاد ہے اور اپنے نظریات خود وضع کرتا ہے اس لیے آج کے افسانوں میں نئے تجربات اور ہیئت و تکنیک پرتوجہ دی جارہی ہے۔ اب جو کہانیاں لکھی جا رہی ہیں ان کے پڑھنے سے پتا چلتا ہے کہ یہ جدید ترکہانیاں اپنے ماحول اور معاشرے سے دوبارہ رشتہ بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ:

’’اردو افسانہ نگاروں کو حیات و کائنات کا غائر مطالعہ کر کے اپنی زندگی، مشاہدے اور بصیرت کا ثبوت فراہم کرنا ابھی باقی ہے اور یہ کام شاید کل کا افسانہ نگار کرے گا۔‘‘ (شاعر، بمبئی، ہم عصر اردو ادب نمبر1977، ص 221)

مختصر یہ کہ اردو افسانے کے لکھنے والوںکا یقینا، ایک دور تھا جب رومانویت کی فضا سے نکل کر ترقی پسند تحریک کے افق پر اُبھرے اور کئی دہائیوں تک اپنی چمک دمک دکھاتے رہے، پھر وہ وقت گزر گیا اور جدیدیت کو عروج ملا اور اس کا عروج مابعد جدیدیت کی نذر ہوا۔یہ ساری باتیں اپنی جگہ، لیکن یہ سچ ہے کہ ترقی پسندی کا آفتاب، وہ آفتاب تھا جو ڈوب گیا ، مگر شفق چھوڑ گیا۔ ردّعمل کے طور پر ہی سہی جماعت کے مقابلے میں فرد کو دکھانے کا شعور اسی سے ملا اور سانچے میں توڑ پھوڑ کرنے کے بعد، پھر اسے پرانی ہیئت پر لانے اور پلاٹ سے انحراف کے بعد پھر پلاٹ کی طرف آنے اور کہانی کی واپسی کو قبول کرنے کے حوالے سے لا محالہ طور پر ترقی پسند افسانے کے توسیعی اثرات کا یا استعارے کی زبان میں یوں کہا جائے کہ ڈوب جانے کے بعد بھی اس کے چھوڑے ہوئے شفق کے اُجالوں کا انکار نہیں ہو سکتا اور اردو افسانے کے بدلتے رحجانات اس کے اثر و نفوذ سے یکسر بیگانہ نہیں مانے جا سکتے۔ یہ چراغ سے چراغ جلنے کا عمل ہے اور ہمیں افسانے کے بدلتے میلانات کی معنویت کا معترف بناتا ہے جو آج بھی جاری ہے۔

 

Dr. Mod Mahmood Alam

At. P.O: Sigori

Patna- 801110 (Bihar)

Mob.: 8083837666

mahmood808383@gmail.com


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تازہ اشاعت

طبقۂ اولیٰ ملوک فارس،مضمون نگار:محمد صہیب

اردو دنیا،ستمبر 2025 کیومرث کل علمائے فارس اس امر پر اتفاق کر رہے ہیں کہ کیومرث ہی آدم علیہ السلام ہیں اور ان کا لڑکا منشا نامی تھا اور من...