2/1/26

غالب اور فریاد کی لے،مضمون نگار:محمد ذاکر حسین

اردو دنیا،ستمبر 2025

ادب ماضی سے متاثر ہوتا ہے، حال کی عکاسی کرتا ہے اور مستقبل کے لیے راہیں ہموار کرتا ہے۔ اسی بنا پر ادب کو معاشرے کا آئینہ کہا جاتا ہے۔ تاہم جہاں آئینہ انسان کی ظاہری شکل و شباہت کو ظاہر کرتا ہے وہیں ادب انسان کے اندرونی جذبات و احساسات کی ترجمانی کرتا ہے۔ کم و بیش تمام بڑے ادبا اور شعرا کی تخلیقات و نگارشات میں اس کے عکس نظر آتے ہیں۔ اس نظریہ سے اگر دیکھا جائے تو  انیسویں صدی کو ہندوستانی ادب کی تہذیبی اور سماجی ترقی کی صدی کہا جا سکتا ہے۔ اس صدی نے آزادی کے ساتھ سماجی اصلاح کو بھی جدوجہد کا موضوع بنایا۔ اس دور کے ادب نے کبھی معاشرے کی بیداری کے لیے اپنی قدیم ثقافت کو عقیدت کے ساتھ یاد کیا ہے تو کبھی ناگہانی حالات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ غالب نہ صرف اس صدی کے امام تھے بلکہ اُس صدی سے لے کر ادب کی رہتی دنیا تک بلا شرکتِ غیرے ادب کے امام برقرار رہیں گے۔اُن کے سلسلے میںنثار احمد فاروقی کا یہ قول حقیقت پر مبنی ہے کہ ’شاید ہندستان میں کسی اور زبان کے شاعر کو یہ امتیاز حاصل نہیں ہے کہ وہ ماضی، حال اور مستقبل پر یکساں گرفت رکھتا ہو۔‘ 1

غالب کے احوال کے تعلق سے یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان کی زندگی ہمیشہ نشیب و فراز کی شکار رہی۔ آٹھ نو برس کی عمر تک ان کی زندگی فارغ البالی اور خوش حالی کے ماحول میںضرور گزری، لیکن بعد کے ادوار مسائل و مشکلات سے پنجہ آزمائی میں گزرے۔ ایک طرف ہندستان کا سماجی اور سیاسی بحران پریشانیوں کا باعث بنا ہوا تھا، تو دوسری طرف اموات اور بدنصیبی نے غالب کی زندگی کو تناؤ سے بھر دیا تھا۔ چنانچہ سات سال کی عمر میں والد کا انتقال، تیرہ سال کی عمر میں شادی، کفالت کرنے والے چچا نصر اللہ بیگ کا سانحۂ ارتحال، سات بچوں کا بچپن ہی میںداغ مفارقت دے دینا، اکتیس سال کی عمر میںلے پالک بیٹے عارف کی جدائی، 1857 میں چھوٹے بھائی مرزا یوسف کی گولی لگنے سے موت، یہی غم کیا کم تھے کہ غالب کی زندگی میں ایک ایسا مرحلہ بھی آیا، جس نے ان کے پورے وجود کو اندر سے  ہلا کر رکھ دیا۔ یہ مرحلہ غالب کے تمام ذہنی اور معاشی مشکلات کا سبب بنا اور وہ اپنی شکست کی آواز بن کر رہ گئے۔ غالب کی زندگی میں حالانکہ ایسا کوئی سال نہیں آیا جو اچھا ہوتا لیکن انھوں نے برے حالات سے نبرد آزمائی کو کبھی ماند نہیں پڑنے دیا۔

 دانشوروں کے تعلق سے غالب کا اپنا الگ خیال تھا، جس کا اظہار انھوں نے 1825 کے اواخر میں رائے چھج مل کھتری کو لکھے اپنے خط میں کیا ہے کہ ’’ دانشوروں کا کام تو آبادیوں سے دور دامنِ کوہ میں خلوت نشینی اختیار کرنا اور شش جہت سے اہلِ دنیا پر اپنے دروازے بند کرنا، جسم کو ریاضت سے گھٹانا اور جان کو عقل و دانائی سے فروغ بخشنا ہے۔ جو شخص صاحبِ عقل و حکمت ہوگا، اس کا کام تو یہ ہونا چاہیے کہ وہ بے برگ و نوا ہوتے ہوئے گوناگوں حسرتوں کے شکنجے سے باہر آ کر شادمانی و سرخوشی کی راہ پر گام زن ہو جائے۔‘‘2  لیکن غالب کا یہ خیال ان کی عملی زندگی سے مطابقت نہیں رکھتا ہے، نہ تو انھوں نے آبادیوں سے دور دامنِ کوہ میں خلوت نشینی اختیار کی اور نہ اہلِ دنیا پر اپنے دروازے بند کئے، بلکہ شکست و فتح کی پرواہ کیے بغیر نامساعد حالات کا انھوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اُن کی زندگی کا یہ رخ خطوط کے ساتھ اُن کی شاعری میں بھی نظر آتاہے۔

عام طور پر غالب کی شاعری کو اُن کے ’خیال‘ کا عکس سمجھاجاتا ہے، اُن کے’ حال‘ کا نہیں، حالانکہ  اگر اُن کے خیال کے ساتھ ساتھ اُن کے احوال کو بھی پیش نظر رکھا جائے تو اُن کے اشعار سے روشنی حاصل کی جا سکتی ہے۔ جس طرح غالب کے خطوط کسی نہ کسی زاویے سے اُن کی زندگی پر روشنی ڈالتے ہیں اور ان خطوط میںاُس دور کے سماج اور معاشرہ میں رونما ہو چکے واقعات و حادثات کا عکس دیکھا جا سکتا ہے، اُسی طر ح غالب کے کلام میں بھی اس عکس کو تلاش کیا جا سکتا ہے۔ ان کے پنشن کے معاملے کو ہی لے لیجیے؛ نواب احمد بخش خاں کی سفارش پر انگریزوں کی طرف سے نصر اللہ بیگ خاں کے پسماندگان کا وظیفہ دس ہزار سالانہ مقرر ہوتا ہے، جسے گھٹا کرپانچ ہزار سالانہ کردیا جاتا ہے اور جس میں غالب کا حصہ ساڑھے سات سو روپیہ سالانہ متعین ہوتا ہے۔یہیں سے غالب ذہنی اور معاشی تناؤ میں گِھر جاتے ہیں۔پھر ان کی ساری تگ و دَو پنشن میں اضافہ تک محدود ہوجاتی ہے، جو اُن کی ناکامی پر ختم ہوتی ہے۔اس معاملے میں نواب احمد بخش خاں کے ناروا رویّوں اور انگریز افسران کی سرد مہریوں نے غالب کے احساسات و جذبات کو شدید طور پر مجروح کیا، جس کے اثرات اُس دور میں’ فریاد‘ پر کہے گئے اُن کے اشعار پر صاف طور سے دکھائی دیتے ہیں۔

فریاد‘جو غالب کے کلام میں’ نقش فریادی‘،3 ’گرمیِ وحشت‘4،’ لغزشِ پا‘،’ لکنتِ زباں‘5،’ مشتِ پر‘، ’خارِ آشیاں‘6 اور ’تقریبِ امتحاں‘7 کی شکل میں نظر آتا ہے، وہی ’فریاد‘ غالب کے اُس دور کی نجی زندگی کی عکاسی کرتا ہوا بھی دکھائی دیتا ہے۔قابل توجہ بات یہ ہے کہ کالی داس گپتا رضا کے مرتبہ’ دیوان غالب کامل: تاریخی ترتیب سے‘ میں 1816 اور 1826 کے درمیان ’فریاد‘ پر جو اشعار غالب نے کہے، اُن کی تعداد 31 ہے۔ 1826 کے بعد ’فریاد‘ پر صرف ایک شعر ملتا ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جب غالب پنشن کے معاملات کو نواب احمد بخش خاں کے توسط سے حل کرانا چاہتے تھے۔ قرض خواہوں کے شدید تقاضوں اور پنشن میں اضافے کی امیدنے غالب کی زندگی کو عجیب کشمکش میں ڈال رکھا تھا۔ہزار آفتوں کے احساس کی شدت میں تپتے ہوئے وہ خدا کے واسطے کا سہارا لے کر شاہ بیکساں سے فریاد پر مجبور ہو جاتے ہیں          ؎

ہزار آفت و یک جانِ بے نواے اسد

خدا کے واسطے اے شاہِ بیکساں فریاد

پنشن کے معاملے کی شروعات نواب احمد بخش خاں سے ہوئی تھی، اس لیے ’شاہ بیکساں‘ سے اس کو خطاب کیا جارہا ہے۔ ’خدا کے واسطے‘ کا قرینہ اس بات کی دلالت کر رہا ہے۔ غالب پنشن کے سلسلے میں کافی پریشان ہو گئے تھے اور سچ مانئے تو وہ بیچ چوراہے پر آگئے تھے، چونکہ انھیں ’فریادِ جرس کی تاثیر‘ کا احساس ہے اس لیے وہ اپنی فریاد نواب احمد بخش خاں کے دربار تک پہنچاتے ہیں          ؎

نالاں ہو اسد تو بھی سرِ رہ گزر پر

کہتے ہیں کہ تاثیر ہے فریادِ جرس کو

غالب اپنی فریاد نواب احمد بخش خاں کے دربار تک پہنچا تو دیتے ہیں، لیکن جلد ہی انھیں اس بات کا احساس ہو جاتا ہے کہ جاگیرداروں کی کرم فرمائی اتفاقیہ بات ہے، ورنہ عام طور پر غمگین دلوں کی فریاد اُن کی دیوار سے ٹکرا کر واپس آجاتی ہے        ؎

وفاے دلبراں ہے اتفاقی ورنہ اے ہمدم

اثر فریادِ دلہاے حزیں کا کس نے دیکھا ہے؟

پنشن کے سلسلے میں فریاد کا جو سلسلہ غالب نے نواب احمد بخش خاں کے دربار سے وابستہ کر رکھا تھا، وہ کسی طور امید افزا نہیں لگ رہا تھا۔ چنانچہ غالب پچھلی کارروائیوں پر اپنے دیدۂ تر کو یاد کرتے ہیں اور رسوائیِ دل کی پرواہ کیے بغیر فریاد کرنے پرآمادہ ہو جاتے ہیں، لیکن دل و جگر کو تشنۂ فریاد پاکر جرأتِ فریاد کا شکوہ کرتے ہوئے، اس کشمکش میں پڑجاتے ہیں کہ کس طور فریاد کا آہنگ نکالا جائے        ؎

پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا

دل جگر تشنۂ فریاد آیا

 

آہ وہ جراتِ فریاد کہاں

دل سے تنگ آکے جگر یاد آیا

 

فریاد اسد غفلتِ رسوائیِ دل سے

کس پردے میں فریاد کی آہنگ نکالوں

جب غالب نے میر امام علی کو اپنی عرضداشت کے ساتھ نواب احمد بخش خاں کی خدمت میں بھیجا تھا اور مرزا علی بخش بہادر کو سخت تاکید کی تھی کہ’’ جب یہ عرضداشت پیش ہو اور پڑھی جائے، اس وقت تمہیں بھی اس انجمن میں موجود ہونا چاہیے تاکہ تم میری نگارش کو گزارش سے تقویت بخشو اور میر امام علی کو حوصلہ ملے۔‘‘8 اُس وقت اُن کے دوست احباب نواب احمد بخش خاں سے براہ راست ملنے کا مشورہ دے رہے تھے۔ اس کا اظہار غالب نے  مرزا علی بخش بہادر کے نام لکھے اپنے خط میں کیا ہے:۔’’میرے دوست مجھ سے کہتے ہیں کہ میں نواب صاحب سے خود کیوں نہیں ملتا۔ یہ ممکن نہیں کہ نواب صاحب میری چارہ گری اور کار برآری پر آمادہ نہ ہوں۔ فی الحال جو کچھ میں کر رہا ہوں، وہ ان ادا ناشناسوں کی زباں بندی کے لیے ہے۔‘‘9 غالب نے نواب احمد بخش خاں تک اپنی فریاد پہنچانے کے لیے جن جن واسطوں کا سہارا لیا، وہ سارے ناکام ثابت ہوئے اور غالب کو یہ احساس ہو ا کہ اس معاملے میں بڑی سخت دلی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے اور کہسار میری فریاد کو گنّے کی ناتوانی کا ساز سمجھ بیٹھا ہے۔ چونکہ نواب احمد بخش خاں پنشن کے معاملے میں بڑی تنگ نظری اور سخت دلی سے کام لے رہے تھے۔ اگر ’کہسار‘سے نواب احمد بخش خاںمراد لے لی جائے جائے تو کوئی مضائقہ نہیں          ؎

زبانِ شوخ کا دل سخت ہوگا کس قدر یا رب

مری فریاد کو کہسار ساز عجز نالی ہے

اتنی کوششوں کے باوجود جب امید کی کوئی کرن نظر نہیں آئی تو اس صورت حال سے دل برداشتہ ہو کر غالب فلکِ نا انصاف سے شکوہ کرتے نظر آتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ انھیں آہ و فریاد سے چھٹکارا مل جائے۔ اس لئے وہ آہ و فریاد سے رخصت کے طلبگار دکھائی دیتے ہیں۔ اس مقام پر فریاد کے ساتھ آہ کا درد بھی شامل ہو گیا ہے         ؎

کچھ تو دے اے فلکِ نا انصاف

آہ و فریاد کی رخصت ہی سہی

پھرغالب سوالیہ انداز میں اپنے دل کو تسلی دیتے ہیں کہ عشاق کی بے حوصلگی سے کیوں ڈرتے ہو لیکن اس احساس کے ساتھ کہ موجودہ مسند نشیں  (نواب احمد بخش خاں)اتنا بے حس ہو چکاہے کہ کسی کی فریاد سے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا       ؎

کیوں ڈرتے ہو عشاق کی بے حوصلگی سے؟

یاں تو کوئی سنتا نہیں فریاد کسو کی

پنشن کے معاملے میں غالب فریاد کی آہنگ تلاش کرتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ جس طرح نالہ نَے کا پابند نہیں ہوتا، ٹھیک اسی طرح فریاد کی کوئی لَے نہیں ہوتی۔ اب اس فریاد میں آہ کے ساتھ نالہ بھی شامل ہو گیا ہے۔ ظاہر ہے تلخ تجربہ غالب کا مقدر بن گیا تھا اور اسی تلخ تجربے نے انھیں احساس دلایا کہ جس طرح نالہ بانسری کا محتاج نہیں ہوتا، اسی طرح فریاد کا کوئی مخصوص رنگ و آہنگ نہیں ہوتا۔بانسری بجاتے وقت سروں کا خاص دھیان رکھا جاتا ہے،ورنہ وہ بے سُری ہو جائے گی۔ اس کے بر عکس فریاد دل سے نکلتی ہے اور طبعی غم انگیزی سے وہ تاثر پیدا کرتی ہے جو کوئی سُر اور تال پیدا نہیں کر سکتا۔غالب،  نواب احمد بخش خاں کے حضور میں ہر طرح سے فریاد کرکے دیکھ چکے تھے، لیکن وہ کارگر ثابت نہیں ہوئی۔ تبھی انھوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ         ؎

فریاد کی کوئی لَے نہیں ہے

نالہ پابندِ نَے نہیں ہے

نواب احمد بخش خاں نے پنشن کے سلسلے میںغالب کے ساتھ جو ناروا سلوک کا مظاہرہ کیا تھا، اس سے غالب کا دل برداشتہ ہونا لازم تھا، جس کا اظہار انھوں نے مرزا علی بخش بہادر کے نام لکھے اپنے خط میں کیا ہے کہ ’’نواب صاحب نے بہت طفلِ تسلیاں دیں اور وہ انداز ستم روا رکھا جو التفات معلوم ہوتا تھا۔ اس سلوک نے مجھے گمراہ کیا۔ اب اس پر تا بکے صبر کروں اور اس ناہوت میں کب تک خوش رہوں۔‘‘10 صاف طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ نواب صاحب یہ تصور کر بیٹھے تھے کہ غالب میرے علاوہ اور کہاں جا سکتا ہے، اس کی رسائی اور کہیں نہیں ہو سکتی، کیونکہ غالب میں فریاد کی طاقت ہی نہیں رہی۔غالب اسی سوچ کا مخول اڑاتے ہوئے کہتے ہیں         ؎

واے محرومیِ تسلیم و بدا حالِ وفا

جانتا ہے کہ ہمیں طاقت فریاد نہیں؟

پنشن کا جو معاملہ نواب احمدبخش خاں کے دربار سے شروع ہوا تھا ، وہ اب انگریز حاکموں کی دہلیز تک پہنچ چکا ہے ، لیکن ان کی  دہلیز بھی سخت مٹی کی بنی ہوئی نکلی، لیکن کہتے ہیں جہاں چاہ ہے، وہاں راہ ہے۔ غالب کی در بدری اور اُن کی پریشانیاں دیکھ کر ایک انگریز افسر مسٹر انڈریو اسٹرلنگ (Andrew Sterling)  ان کا ہمدر دنکل آیا۔ غالب نے اپنے ایک فارسی خط میں اس کا ذکر کیا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ’ ’یہاں کے افسرانِ بالا میں ایک بڑا حاکم ہے گورنر جرنل کی کاؤنسل سے قریبی رشتہ ہے، داد خواہوں کے فریادناموں کو وہ اراکینِ کاؤنسل تک اور حاکمانِ کشور کے فرمانوں کو فریاد کرنے والوں تک پہنچاتا ہے۔ یہ انگریز افسر میرا ہمدرد ہے اور میرے حالِ زار پر نظر رکھتا ہے۔ جب اس نے میری فریاد کو سنا، تو میرے اوپر رحم کھایا اور کہا اگر تم نہیں جا سکتے، نہ جاؤ، صرف مقدمہ کے کاغذات دلّی بھیج دو۔ میں سوچ میں پڑ گیا کہ اب کیاہو اور کیسے ہو۔ اگر نہ ہو تو کہاں جائیں ہو تو کیونکر ہو۔‘‘11 مسٹر انڈریو اسٹرلنگ (Andrew Sterling) کی کرم فرمائی سے متاثر ہو کر غالب نے اس کی شان میں 55 بیت کا ایک قصیدہ لکھا تھا اور قصیدہ کے آخر میں اپنا حال بھی درج کیا تھا۔12 اب اس پس منظر میں یہ شعر ملاحظہ فرمائیں        ؎

تیرے بیمار پہ ہیں فریادی

وہ جو کاغذ میں دوا باندھتے ہیں

فریاد‘ سے متعلق مذکورہ بالا اشعار کو غالب کے ’خیال‘ کے ساتھ ساتھ اُن کے ’حال‘ کی روشنی میں دیکھنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ اگر غالب کے ’خیال‘ پر محمول کرتے ہوئے ان اشعار پر غور کیا جائے تو یہ ’فریاد‘ کسی ایک شخص سے ہی نہیں بلکہ بارگاہ الٰہی سے بھی منسوب ہو جاتی ہے۔ اس سے قطع نظر اگر ان اشعار کو غالب کے ’حال‘ کو پیش نظر رکھ کر اِن سے غالب کی زندگی کے نشیب و فراز کے جو عکس ابھرتے ہیں، اس کی نشاندہی کی جائے تو ان کے حال کے عین مطابق ہوگا۔ ’فریاد‘ کو پنشن کے معاملات سے جوڑ کر اس لئے بھی دیکھا جانا چاہیے کہ غالب نے خود اپنے خطوط میں پنشن سے متعلق عرضداشت کو فریاد نامہ کی توضیحات سے یاد کیا ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ’’ہر آئینہ صورت یہ ہے کہ میں نے ایک عرضداشت جو میرے بیس سالہ ماجرے پر مشتمل ہے اور میرے فریاد نامہ کی توضیحات کا حاصل ہے۔‘‘13مولوی محمد علی خاں صدر امین باندا کو اپنی روداد سناتے ہیں کہ’’مجھے اس بات پر خوشی ہے کہ میرا ’داد نامہ‘ کونسل کی سماعت و پیشی کے لائق قرار پایا۔‘‘14 ایک انگریز افسر کی ہمدردی کا ذکر کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں کہ’’ جب اس نے میری فریاد کو سنا، تو میرے اوپر رحم کھایا ۔‘‘15

یہاں یہ نکتہ بھی ذہن میں رہنا چاہیے کہ جس دور میں یہ اشعار کہے گئے اُس عہد میں حق طلبی اور مطالبے کا کوئی امکان نہیں تھا بلکہ کسی بھی چیز کی حصولیابی فریاد اور داد خواہی پرہی منحصر تھی ۔ غالب نے اس حقیقت کے پیش نظر پنشن کے معاملات کو نواب احمد بخش خاں سے لے کر انگریز کے اعلی حکام تک پہنچایا اور اس معاملے میں فریاد اور داد خواہی کی راہ اپنائی۔ کامیابی تو ملی نہیں، لیکن غالب یہ درس دے گئے کہ حالات کتنے ہی ناموافق ہوں، ان کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہونا چاہیے۔  خاص طور سے وہ معاملہ جس سے ہماری عزت اور ہمارا وقار جڑا ہوا ہو۔پنشن کا معاملہ غالب کی نظر میں صرف اضافۂ پنشن تک ہی محدود نہیں تھا بلکہ یہ ان کی عزت و آبرو اور وقار کا معاملہ بن گیا تھا، جس سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹا جا سکتا تھا۔

جہاں تک اشعار کے معانی کے اطلاق کا تعلق ہے تو شعر کے الفاظ سے جتنے بھی معانی برآمد ہو سکیں، وہ لائق اعتنا ہوتے ہیں اور یہ اس صورت میں ممکن ہوتا ہے جب اس شعر میں معنی کے امکانات کی کثرت ہو۔ مختلف زمانوں اور مختلف تناظر میں جو شعر بامعنی نظر آئے، وہی شعر بڑا کہلاتا ہے اور بڑے شعر کی خوبی بھی یہی ہے کہ وہ  ہر طور سے با معنی نظر آئے۔ اس ذیل میں شمس الرحمن فاروقی نے دو اہم باتوں کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ’’کسی شاعری کی فہم اسی وقت مکمل ہو سکتی ہے جب ہم اس شعریات سے واقف ہوں جس کی روشنی میں وہ شاعری خلق کی گئی ہے اور جس کی رو سے وہ با معنی ہوتی ہے۔‘‘16 ’ ’میں خود اس بات کا قائل ہوں کہ شعر کا ہم پر یہ حق ہے کہ ہم اس کے باریک ترین معنی تلاش کریں اور جتنے کثیر معنی شعر میں ممکن ہوں، ان کی دریافت کریں ۔‘‘17

4 مئی 1806 سے 27 جنوری 1831 تک تقریباً پچیس سال غالب کی زندگی پنشن کے معاملات میں الجھی رہی اور اسی تعلق سے وہ تین برس دلّی سے دور بھی رہے۔یہ سلسلہ یہیں نہیں رکا بلکہ 1844 تک وہ مسلسل اپیل کرتے رہے۔ یہ الگ بات ہے کہ پنشن کے سلسلے میں ابتدائی فیصلہ برقرار رہا اور اس میں کسی قسم کی ترمیم کی ضرورت بھی نہیں سمجھی گئی۔ 38سال غالب کے ذہن و دماغ پر پنشن کا قضیہ چھایا رہا۔ یہ 38 سال کس کرب میں گزرے ، اس کا اندازہ غالب کے خطوط سے لگایا جاسکتا ہے۔ان خطوط کی روشنی میں غالب کی شاعری سے بھی رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔اس 38 سال کی مدت میں زندگی کے حقائق اور سماجی اطوار سے غالب کا براہ راست سامنا ہوا۔ اسی کا ایک تلخ تجربہ فریاد کی صورت میں ان کے کلام میں رونما ہوا۔ جب غالب جیسی عظیم شخصیت کا امرا اور حکام اعلی نے پاس نہیں رکھا تو عوام کا کون پرسان حال ہوتا۔ غالب نے فریاد کے اشعار کے توسط سے اس دور کے سماج کی اسی ناہمواری کو اجاگر کیا ہے کہ چاہے جتنی عاجزی سے اپنی فریاد پیش کریں، اس کی شنوائی نہیں ہو سکتی۔ اس قسم کے اشعار سے عہد غالب کے سماج کی عکاسی ہوتی ہے۔

حواشی

1        غالب کی آپ بیتی؍ نثار احمد فاروقی، غالب انسٹی ٹیوٹ، دہلی، 1997، ص 9

2        اوراق معانی: غالب کے فارسی خطوط؍ اردو ترجمہ تنویر احمد علوی، اردو اکادمی، دہلی،1992، ص70

3        مکمل شعر ملاحظہ فرمائیں:

نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا

کاغذی ہے، پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا

4        مکمل شعر ملاحظہ فرمائیں          ؎

فریاد سے پیدا ہے، اسد گرمیِ وحشت

بتخالۂ لب ہے جرسِ آبلۂ پا

5        مکمل شعر ملاحظہ فرمائیں          ؎

بہ کامِ دل کریں، کس طرح گمرہاں، فریاد

ہوئی ہے، لغزشِ پا، لکنت زباں، فریاد!

6        مکمل شعر ملاحظہ فرمائیں         ؎

کمالِ بندگیِ گل ہے رہنِ آزادی

ز دستِ مشتِ پر و خارِ آشیاں فریاد

7        مکمل شعر ملاحظہ فرمائیں         ؎

تغافل، آئنہ دارِ خموشیِ دل ہے

ہوئی ہے محو بہ تقریبِ امتحاں فریاد

8        اوراق معانی،ص 50

9        ایضاً

10      اوراق معانی، ص 49

11      خطوط غالب کی روشنی میں غالب کی سوانح عمری؍ تنویر احمد علوی، غالب اکیڈمی، 2004، ص109

12      اوراق معانی، ص 79

13      خطوط غالب کی روشنی میں غالب کی سوانح عمری، ص 107

14        اوراق معانی، ص 80

15      خطوط غالب کی روشنی میں غالب کی سوانح عمری، ص 109

16      تفہیم غالب؍ شمس الرحمن فاروقی، غالب انسٹی ٹیوٹ، نئی دہلی، 1989، ص 15

17      ایضاً، ص 16

 

Dr. Mohd Zakir Husain

Khuda Bakhsh Library

Patna- 800004 (Bihar)

Mob.: 9199702756

zakirkbl@gmail.com


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تازہ اشاعت

طبقۂ اولیٰ ملوک فارس،مضمون نگار:محمد صہیب

اردو دنیا،ستمبر 2025 کیومرث کل علمائے فارس اس امر پر اتفاق کر رہے ہیں کہ کیومرث ہی آدم علیہ السلام ہیں اور ان کا لڑکا منشا نامی تھا اور من...