اردو دنیا،ستمبر 2025
آزادی
کے بعد سے ہندوستان میں تعلیمی اصلاحات کا ایک طویل سفر جاری ہے، جس کی حالیہ کڑی
قومی تعلیمی پالیسی 2020 ہے۔ اس پالیسی کے مطابق، ہر بچے میں ابتدائی سطح پر زبان،
خواندگی اور عددی مہارتوں کا فروغ نہ صرف تعلیمی ترقی کا پہلا زینہ ہے، بلکہ
مستقبل کی تعلیم کا بنیادی ستون بھی ہے۔تعلیمی پالیسی 2020کے نکتے 2.1 میں واضح کیا
گیا ہے کہ تمام طلبا کے لیے پڑھنے، لکھنے اور بنیادی عددی مہارتوں کا حصول نہایت
ضروری ہے، جو آ گے کی تعلیم اور زندگی بھر سیکھنے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ تاہم،
مختلف قومی و غیر سرکاری مطالعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ابتدائی جماعتوں
کے طلبا کی ایک بڑی تعداد اب تک بنیادی خواندگی اور حساب دانی سے محروم ہے۔پالیسی
کے نکتے 2.2 میں اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے 2025 تک درجہ سوم تک کے تمام طلبا میں
بنیادی خواندگی اور عددی مہارتوں کے حصول کو نظام تعلیم کی ’اعلیٰ ترین ترجیح‘
قرار دیا گیا ہے۔ اس ضمن میں پالیسی کے نفاذ کے لیے ایک ہمہ گیر تعلیمی ڈھانچے اور
مربوط تدریسی حکمت عملی کی ضرورت کو اجاگر کیا گیا ہے، جس کی عملی شکل قومی درسیات
کا خاکہ برائے بنیادی سطح (NCF-FS,2025)کی
صورت میں سامنے آئی ہے۔قومی درسیات کاخاکہ برائے بنیادی سطح کا باب چہارم جس کا
عنوان ''تدریسات'' ہے، خواندگی اور عددی تعلیم کی تدریسی حکمت عملیوں، خصوصاً زبان
کی تدریس کے لیے واضح رہنما خطوط فراہم کرتا ہے۔ نکتے 4.5 اور ذیلی نکتے 4.5.1 میں
ابھرتی ہوئی خواندگی کے فروغ، اس کی تدریس کی مختلف طرزرسائیاں، اور غیرمانوس
زبانوں کی تدریس جیسے موضوعات پر مفصل رہنمائی موجود ہے۔ یہ رہنما خطوط نہ صرف تعلیمی
منصوبہ بندی کی بنیاد فراہم کرتے ہیں بلکہ اساتذہ کو زبان و خواندگی کی تدریس میں
بچوں کی عمر اور سیاق و سباق کے مطابق بہتر فیصلے لینے میں مدد دیتے ہیں۔
اس
ضمن میںقومی تعلیمی پالیسی 2020 کے نکتے 3.1 کے تحت، این سی ای آر ٹی کو ہدایت دی
گئی تھی کہ وہ 8 سال تک کی عمر کے بچوں کے لیے بچپن کی تعلیم کا ایک جامع قومی درسی
خاکہ تیار کرے۔ اس خاکہ میں مقامی روایات، لوک ادب، کہانیاں، نظمیں، کھیل، اور
فنونِ لطیفہ پر مبنی سرگرمیوں کو مرکزی حیثیت دی جائے، تاکہ تدریس بچوں کے جذباتی،
لسانی، اور فکری ارتقا کے مطابق ہوسکے۔یہ مقالہ، قومی درسیات کاخاکہ برائے بنیادی
سطح کے انھیں خطوط، خصوصاً باب چہارم کے تجزیے پر مبنی ہے۔ اس میں ابھرتی ہوئی
خواندگی کے نظریہ، تدریسی حکمت عملیوں، تدریسی طرز رسائیوں کے مختلف ماڈلز، اور
زبان کے اساتذہ کے لیے درکار عملی رہنمائی کو موضوعِ بحث بنایا گیا ہے۔ مقالہ کا
مقصد اردو زبان و خواندگی کی تدریس کے دائرے میں تحقیق و عمل کا ایک مضبوط ربط پیدا
کرنا ہے، تاکہ اردوزبان کے اساتذہ موجودہ درسیاتی خطوط کو بہتر طور پر سمجھتے ہوئے
مؤثر اور بامقصد تدریسی تجربات ترتیب دے سکیں۔
زبان
اور خواندگی کی تدریس: قومی درسیات کا خاکہ برائے بنیادی سطح 2022 کا باب چہارم،
بالخصوص نکتے 4.5.1، زبان اور خواندگی کی تدریس کے تناظر میں ابتدائی جماعتوں میں
جاری تعلیمی رویوں کا تنقیدی جائزہ پیش کرتا ہے۔ اس میں اعتراف کیا گیا ہے کہ
موجودہ تدریسی عمل میں زبان کی تدریس محض حروفِ تہجی اور ماتراؤں کی مشق، خوشخطی،
اور اجتماعی تکرار تک محدود ہو چکی ہے۔ نتیجتاً، بچوں کو مفہوم پر مبنی سرگرمیوں
اور تخلیقی اظہار کے مواقع بہت کم حاصل ہوتے ہیں، جو کہ زبان سیکھنے کے فطری عمل
کے برعکس ہے۔قومی درسیاتی خاکہ برائے بنیادی سطح 2022اس تحدید کو ختم کرتے ہوئے ایک
جامع اور بامعنی تدریسی نقطہ نظر اپنانے کی سفارش کرتا ہے جس میں زبان اور خواندگی
کی تعلیم کو صرف کوڈنگ یا ڈیکوڈنگ (حروف یا الفاظ کو پہچاننے) تک محدود نہ رکھا
جائے بلکہ اسے بچوں کی فکری و تخلیقی صلاحیتوں کو ابھارنے کے لیے ایک ذریعہ سمجھا
جائے۔
ابھرتی
ہوئی خواندگی کا تصور:زبان اور خواندگی کی تدریس کے حوالے سے ’ابھرتی ہوئی خواندگی‘کا
تصور ایک بنیادی ستون کے طور پر ابھرتا ہے۔ قومی درسیاتی خاکہ برائے بنیادی سطح
2022 نکتے 4.5.1.1 میں اس کی وضاحت کرتے ہوئے بیان کیا گیا ہے کہ یہ وہ مہارتیں،
علم اور رویے ہیں جو بچے روایتی طور پر روانی سے پڑھنے اور لکھنے سے قبل خود بخود
سیکھنے لگتے ہیں۔ ان میں نہ صرف صوتی آگاہی، علامتی فہم اور تصویری قرأت شامل
ہوتی ہے، بلکہ وہ ابتدائی تحریری اظہار، جیسے تصاویر بنانا یا آزادانہ لکیریں کھینچنا،
کے ذریعے بھی شامل ہوتے ہیں۔ یہ مرحلہ اس وقت زیادہ مؤثر ہوتا ہے جب بچوں کو
طباعت سے بھرپور ماحول(print rich environment) میں رکھا جائے، جہاں وہ تحریری مواد کو روزمرہ زندگی کا حصہ سمجھنے لگیں۔
طباعتی
آگاہی اور تصویری خواندگی:ابھرتی ہوئی خواندگی میں طباعتی آگاہی
(Print Awareness) ایک کلیدی عنصر ہے۔ اس سے مراداس بات
کی فہم ہے کہ تحریری متن کس طرح معنی رکھتا ہے، کس مقصد سے استعمال ہوتا ہے، اور
کتابوں یا متن کے ساتھ تعامل کی کون سی روایات ہیں۔ بچے ابتدائی عمر سے ہی مختلف
طباعتی اشکال کو تصویروں کے طور پر پہچاننا شروع کرتے ہیں، جیسے؛ لیبل، سائن بورڈ،
یا کتاب کی سرخیاں وغیرہ۔ یہی رجحان آگے چل کر رمز کشائی (Decoding) اور مفہوم سازی (Making meaning) کی
بنیاد بنتا ہے۔
تحریری
اظہار اور ذاتی فہم:تحریری اظہار کے ابتدائی مراحل میں بچے تصویریں بناتے، لکیریں کھینچتے، یا اپنے تجربات کو علامتی
انداز میں ظاہر کرتے ہیں۔ ان کی تحریر ان کی گفتگو، مشاہدے، اور فرضی کھیل سے
مربوط ہوتی ہے۔ وہ آزادانہ طریقے سے ہجّے بنانے لگتے ہیں( جیسے ؛بلی کو ماؤں اور
کتے کو ددّت)جو زبان کی ساختی فہم کی ابتدائی علامت ہے۔ یہ فطری عمل، اگر استاد کی
رہنمائی اور ترغیب کے ساتھ جاری رکھا جائے، تو زبان کی پائیدار بنیاد رکھتا ہے۔
تدریسی
حکمت عملی کی تشکیل: قومی درسیاتی خاکہ برائے بنیادی سطح 2022اس بات پر زور دیتا
ہے کہ ابتدائی جماعتوں (خصوصاً جماعت 1 اور 2) میں زبان و خواندگی کی تدریس کو
نصابی خاکے میں ساختی طور پر شامل کیا جائے تاکہ 3 سے 8 سال کی عمر کے بچوں کے
لسانی تجربات، دلچسپیوں اور فطری میلانات کی بنیاد پر تدریس کی جا سکے۔ اس میں؛
مفہوم پر مرکوز تدریس،بچوں کی زبان میں کتابوں کا استعمال، زبانی زبان کی ترقی کو
اہمیت دینا، بچوں کو تخلیقی تحریر کی ترغیب دینا،کہانیوں، نظموں، لوک گیتوں، اور
تصویری مواد کا انضمام وغیرہ پہلوؤں پر زور
دیا گیا ہے۔
تجزیاتی
بصیرت:زبان و خواندگی کی تدریس کا روایتی طریقہ، جس میں صرف صوتی اجزاء، لکھائی،
اور تکرار پر زور دیا جاتا تھا، اب مؤثر نہیں سمجھا جاتا۔ اس کے مقابلے میں جدید
تحقیق اس بات پر زور دیتی ہے کہ بچوں کو بامعنی اور سیاقی ماحول فراہم کیا جائے
جہاں وہ زبان کو بطور اظہار اور تفہیم کے آلہ کے طور پر استعمال کر سکیں۔ بچوں کی
ابتدائی زبان، ان کی گھریلو بولیاں اور مقامی ثقافتی سرمائے کو بھی تدریسی منصوبہ
بندی کا حصہ بنانا ضروری ہے۔
ابھرتی
ہوئی خواندگی کی تدریس کی حکمت عملیاں: قومی درسیات کا خاکہ برائے بنیادی
سطح(2022)زبان اور خواندگی کی ابتدائی تعلیم کو ایک کلیدی حیثیت دیتا ہے، جس کا
مقصد ایسے تدریسی طریقوں کو فروغ دینا ہے جو نہ صرف بچوں کے زبان و بیان کی صلاحیتوں
کو ابھارتے ہیں بلکہ ان کی علمی بنیاد کو بھی مستحکم کرتے ہیں۔ نکتہ 4.5.1.2 (صفحہ
109) اور نکتہ 4.5.1.3 (صفحہ 110) میں بیان کی گئی ابھرتی ہوئی خواندگی کی تدریسی
حکمت عملیوں اور اجزاء کو ایک مکمل اور مربوط فریم ورک کے طور پر دیکھا جا سکتا
ہے، جو ابتدائی سطح پر بچوں کی زبان و خواندگی کی نشوونما میں معاون ہیں۔یہ حکمت
عملیاں درج ذیل ہیں؛
1. فعالیت، مشاہدہ اور اظہار: ابھرتی ہوئی خواندگی کے فروغ کے لیے مجوزہ حکمت عملیاں اس نظریہ پر مبنی ہیں کہ بچے سیکھنے کے عمل میں فعال شرکت کے ذریعے زیادہ بہتر طور پر زبان سیکھتے ہیں۔ بچوں کو کہانیوں کی کتابوں، بلند آواز سے مطالعہ، اور ’پڑھنے کا دکھاوا‘ جیسے طریقوں سے مشغول کرنا، نہ صرف ان کی دلچسپی میں اضافہ کرتا ہے بلکہ سمعی، بصری اور جذباتی سطح پر بھی سیکھنے کے عمل کومستحکم کرتا ہے۔ اسی طرح، بچوں کو ڈرائنگ، بے ربط لکیریں کھینچنے، اور سلیٹ یا کاپی پر اپنی سوچ کا اظہار کرنے کی حوصلہ افزائی، اظہارِ ذات اور تجزیاتی فکر کو بالیدگی عطا کرتی ہے۔
2. طباعتی ماحول کی تشکیل: ثقافتی مناسبت سے بصری ادراک کے ذریعے تعلیمی فضا کو طباعتی وسائل سے بھرپور بنانا چاہیے۔جیسے بڑی تصویری کتابیں، نظموں کے پوسٹرز، اور بچوں کے رسائل وغیرہ،ایسا تعلیمی ماحول فراہم کرتے ہیں جو بصری حواس کو متحرک کرتا ہے۔ اس قسم کے ماحول میں بچے طباعت کے مختلف طریقوں سے روشناس ہوتے ہیں، جو بعد ازاں رمز کشائی اور فہم کے عمل کو آسان بناتے ہیں۔ 'ریڈنگ کارنر' اوررائٹنگ کارنر'کی تشکیل، خود سے مطالعہ اور اظہارِ تحریر کی فضا مہیا کراتے ہیں، جو خود مختار آموزش کی بنیاد ہے۔
3. ابتدائی زبان اور خواندگی کے اجزا: ابتدائی خواندگی کی تدریس محض حروف کی شناخت تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اسے ایک ارتقائی اور فطری انداز میں ترتیب دیا جانا چاہیے۔ اس تناظر میں، ابھرتی ہوئی خواندگی کی مہارتیںجیسے؛ طباعت کا شعور، لوگوگرافک پڑھنا، تصویری مطالعہ بچوں میں حروف اور الفاظ کے تصورات کو بہتر انداز میں قائم کرتے ہیں۔ ان ابتدائی مہارتوں کی مدد سے بچے زبان کو ’یاد‘کرنے کے بجائے ’محسوس‘ کرنا سیکھتے ہیں۔
4. صوتیاتی اور سمعی بیداری :صوتی آگاہی، بچوں میں زبان کی صوتی ساخت کو سمجھنے کی بنیادی صلاحیت فراہم کرتی ہے جس سے زبان کی تفہیم میں وسعت آتی ہے۔ یہ صلاحیت اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب بچے جملوں، الفاظ اور حروف کو سماعت کے ذریعے شناخت کرنے لگتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی رمز کشائی کی مہارت، یعنی حروف و آواز کے باہمی تعلق کو سمجھنے کی صلاحیت، بچوں کو لکھی ہوئی زبان کو آواز کے قالب میں ڈھالنے میں مدد دیتی ہے۔
5. فہم، روانی اور تحریر:فہم، روانی اور تحریر اعلیٰ خواندگی کی بنیادیں ہیں۔تحریری متن سے فہم اخذ کرنا، تنقیدی انداز میں سوچنا، اور روانی کے ساتھ پڑھنا وہ صلاحیتیں ہیں جو خواندگی کو اعلیٰ سطح پر لے جاتی ہیں۔ ان میں درست، خودکار اور بااظہار مطالعہ، اور خیالات کی منظم انداز میں تحریر شامل ہے۔ تحریری صلاحیتوں کی تربیت کے بغیر خواندگی کا عمل ادھورا ہے۔ اس کے ساتھ مطالعے کی عادت اور ادب کے لیے قدردانی پیدا کرنا خواندگی کو پائیدار بنیاد فراہم کرتا ہے۔
اس
طرح زبان اور خواندگی کی تدریس کو ابھرتی ہوئی خواندگی کے تناظر میں دیکھنا آج کی
اہم ضرورت ہے۔ اردو میڈیم اسکولوں اور اردو زبان کے اساتذہ کے لیے یہ موقع ہے کہ
وہ بچوں کی زبان کے ابتدائی تجربات کو قدر کی نگاہ سے دیکھیں اور سمعی، بصری اور
تخلیقی سرگرمیوں کو تدریسی لائحہ عمل کا جزوِ لازم بنائیں۔ بچوں کو زبانی زبان،
طباعت کے فہم، اور صوتیاتی شعور کی طرف راغب کرنا ایک ایسا عمل ہے جو زبان کے فطری
حصول کو آسان بناتا ہے۔ قومی درسیات کا خاکہ برائے بنیادی سطح 2022 اس ضمن میں ایک
بصیرت افروز رہنما ہے، جس کی روشنی میں اردو میڈیم اساتذہ ابتدائی تعلیم کے میدان
میں نئی راہیں متعین کر سکتے ہیں۔
خواندگی
کی تدریس کی طرزِ رسائیاں: قومی درسیات کا خاکہ برائے بنیادی تعلیم 2022کے مطابق،
زبان اور خواندگی کی تدریس کو مؤثر بنانے کے لیے ایک متوازن، جامع اور منظم تدریسی نقطہ نظر کی ضرورت ہے۔ خاکہ کے باب
4.5.1.4 (صفحہ 111) میں اس امر پر زور دیا
گیا ہے کہ زبان کی تدریس کے مختلف اجزاء؛بشمول سننا، بولنا، پڑھنا اور لکھناکو مربوط اور متوازن طریقے
سے اپنایا جائے۔ اس حکمتِ عملی کو متوازن خواندگی کی طرزِ رسائی
(Balanced Literacy Approach) کہا جاتا ہے۔یہ طرزِ رسائی
ایک طرف جہاں رمز کشائی اور الفاظ کی شناخت کی مہارتوں کو فروغ دیتی ہے، وہیں دوسری
جانب زبان کی فہم اور اظہار پر بھی توجہ مرکوز کرتی ہے۔ اس طرح، خواندگی کی تدریس
صرف تکنیکی مہارتوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کا دائرۂ کار ادراک، مفہوم سازی
اور تخلیق تک پھیل جاتا ہے۔ خاکہ میں متوازن خواندگی کی تدریس کے لیے درج ذیل
حکمتِ عملیوں کا بیان کیا گیا ہے؛
1. زبانی زبان کی نشوونما: زبان کی ابتدائی تعلیم میں زبانی اظہار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ بچوں کو کہانیاں سنانے، تصویری مکالمے، آزاد گفتگو اور کردار ادا کرنے جیسی سرگرمیوں کے ذریعے زبان کے استعمال کا موقع فراہم کیا جانا چاہیے۔ یہ سرگرمیاں نہ صرف زبان کے فہم کو بہتر بناتی ہیں بلکہ بچوں کے تخیل اور اظہاری صلاحیت کو بھی نکھارتی ہیں۔
2. رمز کشائی اور صوتی آگہی: رمز کشائی کی تعلیم، حروف اور آواز کے تعلق پر مبنی ہوتی ہے اور یہ بچوں میں زبان کی ساختی سمجھ پیدا کرتی ہے۔ صوتیاتی آگاہی کی مشقیں، جیسے کہ آوازوں کی شناخت (شروعاتی، درمیانی، آخری) اور حروف و آواز کے باہمی ربط، اس تدریسی عمل کا لازمی جزو ہیں۔ ہندوستانی سیاق میں، حروف کی ترتیب اور صوتیاتی خصوصیات کو مدنظر رکھ کر تدریس کو مقامی رسم الخط کے مطابق ڈھالنا بھی اہم ہے۔
3. مطالعہ کی حکمتِ عملیاں: مطالعے کی تدریس میں چار مختلف سطحیں شامل کی گئی ہیں؛
i. بلند خوانی: استاد کی طرف سے بچوں کے ادب کو بلند آواز میں پڑھ کر سنانا۔
ii. مشترکہ مطالعہ: استاد اور بچے مل کر پڑھتے ہیں، جہاں متن بڑی چھپائی میں ہو۔
iii. ہدایت یافتہ مطالعہ: استاد بچوں کو مخصوص متن پڑھنے کی ترغیب دیتا ہے اور ضرورت کے مطابق رہنمائی کرتا ہے۔
iv. آزاد مطالعہ: بچوں کو خود یا ساتھی کے ساتھ خاموشی سے پڑھنے کی آزادی دی جاتی ہے تاکہ مطالعہ ایک دلچسپ عادت بن سکے۔
4. تحریری حکمتِ عملیاں:تحریری تعلیم بھی چار تدریسی مراحل پر مبنی ہے:
i. نمونہ بند تحریر: استاد خود لکھنے کا مظاہرہ کرتا ہے۔
ii. مشترکہ تحریر: استاد اور بچے مل کر جملوں کوتشکیل دیتے ہیں۔
iii. ہدایت یافتہ تحریر: استاد رہنمائی کے ساتھ بچوں کو لکھنے کی ذمہ داری دیتا ہے۔
iv. آزاد تحریر: بچے خود نظم، کہانی یا دیگر تحریری مواد لکھتے ہیں۔
خواندگی
کی تدریس کا چار بلاک ماڈل:قومی درسیات کا خاکہ برائے بنیادی سطح 2022 کے نکتے
4.5.1.5، صفحہ 114 کے مطابق، خواندگی کی تعلیم کو چار اجزاء میں تقسیم کیا گیا ہے،
جنہیں ''چار بلاک ماڈل'' کے طور پر جانا جاتا ہے۔یہ بلاکس یومیہ تدریس میں باقاعدہ
ترتیب سے شامل کیے جانے چاہئیں تاکہ زبان و خواندگی کی نشوونما ہمہ جہت انداز میں
ہو۔
چار
بلاکس ماڈل
زبانی
زبان کی نشوونما
صوتی
شعور پر مبنی سرگرمیاں
تجربات
کا تبادلہ
حروف
کی پہچان
کہانی
سنانا
آواز
اور علامت کا تعلق
ڈراما
اور کردار ادا کرنا
خود
مرکوز لکھائی (حروف اور الفاظ کی)
حروف اور الفاظ کی پڑھائی
پڑھنا
لکھنا
بلند
آواز میں پڑھنا
نمونہ
بند تحریر
مشترکہ
مطالعہ
مشترکہ
تحریر
ہدایت
یافتہ مطالعہ
ہدایت
یافتہ تحریر
خود
مختار مطالعہ
خودمختار
تحریر
تفریقی
تدریس اور معاون اقدامات:درجہ اول اور دوم میں، ان بچوں کو جو خواندگی کی ابتدائی
مہارتیں بروقت حاصل نہ کر پائیں، اضافی وقت اور معاون تدریسی اقدامات کی ضرورت ہوگی۔
ان کے لیے تفریقی تدریس (Differentiated Instructions) کی حکمتِ عملی کو اپنایا جانا ضروری ہے، جو ہر بچے کی انفرادی
ضرورت کے مطابق سرگرمیوں اور مواد میں تغیر کی اجازت دیتی ہے۔زبان اور خواندگی کی
تدریس کے لیے متوازن اور مربوط نقطہ نظر نہ صرف تدریسی اثرپذیری کو بڑھاتا ہے بلکہ
ابتدائی تعلیم میں ہر بچے کی زبان دانی اور تفہیم کی بنیاد بھی مستحکم کرتا ہے۔قومی
درسیات کا خاکہ برائے بنیادی سطح 2022 کے چار بلاک ماڈل اور تحقیق پر مبنی رہنما
خطوط ہمیں ایک ایسا فریم ورک مہیا کرتے ہیں جو مختلف تدریسی سیاق و سباق میں بھی
مؤثر انداز میں اپنایا جا سکتا ہے۔
غیر
مانوس زبان کی تدریس کے لیے کچھ حکمت عملیاں:قومی درسیات کا خاکہ برائے بنیادی سطح
2022، نکتے 4.5.1.6، صفحہ 115میں بیان کیا گیا ہے کہ تعلیم کی ابتدائی سطح پر،
ہندوستان جیسے کثیر لسانی معاشرے میں اساتذہ کو اکثر ایسے بچوں سے سابقہ پڑتا ہے
جو تدریسی زبان سے مانوس نہیں ہوتے۔ اس تناظر میں، قومی درسیات کا خاکہ برائے بنیادی
سطح 2022اساتذہ کے لیے واضح رہنما خطوط فراہم کرتا ہے تاکہ وہ غیر مانوس زبان میں
تدریس کو بامعنی، تفہیم پذیر اور مؤثر بنا سکیں۔
یہ
صورت حال بچوں کے لیے لسانی طور پر مشکل ہو سکتی ہے، خاص طور پر جب گھر کی زبان
اور اسکول کی زبان میں فاصلہ زیادہ ہو۔ اس لیے اساتذہ کو غیر مانوس زبان کی تدریس
کے لیے خاص حکمتِ عملیاں اپنانے کی ضرورت ہے جو زبان سیکھنے کو ایک فطری، تفریحی
اور دباؤ سے پاک ماحول کی تخلیق کریں۔یہ ماحول بچوں میں اعتماد، دلچسپی اور تجسس
کو فروغ دیتا ہے، جو زبان سیکھنے کے لیے کلیدی عوامل ہیں۔غیر مانوس زبان کی تدریس
کے لیے حکمت عملیوں کا مقصد محض زبان سکھانا نہیں بلکہ ایسا ماحول فراہم کرنا ہے
جو بچوں کی فطری سیکھنے کی صلاحیت کو متحرک کرے۔ قومی درسیات کا خاکہ برائے بنیادی
تعلیم 2022 ہمیں یہ باور کراتا ہے کہ تدریس کی کامیابی استاد کی زبان، رویے، وسائل
اور طرزِ تدریس پر منحصر ہے۔ اساتذہ اور
اردو زبان کے معلمین کے لیے یہ خاص طور پر اہم ہے کہ وہ ایسی حکمت عملیوں کو اپنائیں
جو نہ صرف لسانی رکاوٹوں کو دور کریں بلکہ بچوں کو باوقار، متحرک اور بامعنی انداز
میں سیکھنے کے مواقع فراہم کریں۔ ذیل میں ان حکمت عملیوں کی مختصروضاحت کی جا رہی
ہے؛
1. تفریحی، تعاملی اور جسمانی سرگرمیوں پر مبنی تدریس:ابتدائی مراحل میں ایسی سرگرمیاں اپنائی جائیں جو بچوں کو زبان کے ساتھ جسمانی طور پر مربوط کرتی ہوں۔ مثال کے طور پر؛
* مکمل جسمانی
ردعمل(Total Physical Response): ایسے الفاظ یا
جملے بولے جائیں جن کے ساتھ بچے جسمانی حرکت کے ذریعے مفہوم اخذ کر سکیں، مثلاً
'کودو'! کہتے وقت حقیقتاً کودنا۔
* زبانی اور ابلاغی
مشقیں: مثلاً تصویری کہانیاں، کردار نگاری، مکالماتی کھیل،بچوں کی روزمرہ زندگی سے
جڑے سادہ جملے اور ہدایت پر مبنی جملے: جیسے’دروازہ بند کرو‘، ’باہر دیکھو‘
* زبان کی آہستہ
آہستہ افزائش: توسیعی مکالمے، نئے الفاظ کا تعارف اور ان کا استعمال۔
ان
سرگرمیوں کے ذریعے زبان کا سیکھنا فطری انداز اختیار کرتا ہے جو بچوں کے اعتماد کو
تقویت دیتا ہے۔
2. قابلِ فہم اور بامعنی مواد کی فراہمی:غیر مانوس زبان کی تدریس میں بنیادی نکتہ یہ ہے کہ زبان بچوں کی تفہیم کی سطح کے مطابق ہو۔ اس کے لیے استاد سادہ اور آہستہ زبان استعمال کرے۔بات چیت کو حرکات، اشاروں، تصویری وسائل، اور بچوں کی مادری زبان سے منتخب الفاظ کے ذریعے تقویت دی جائے۔ایسی کہانیاں یا سرگرمیاں استعمال کی جائیں جو بچوں کے سیاق و سباق سے قریبی تعلق رکھتی ہوں تاکہ مفہوم اخذ کرنا آسان ہو۔یہ طریقہ سکھائی جانے والی زبان کو 'قابلِ فہم مواد' میں تبدیل کر دیتا ہے، جو زبان سیکھنے کے جدید نظریات کی بنیاد ہے۔
3. بامقصد اور سچی زندگی سے جڑی زبان کا استعمال:بچوں کو زبان سیکھنے کے لیے ایسے سیاق و سباق دیے جائیں جو نہ کہ صرف کتابی اور صرفی و نحوی درستگی پر مبنی ہوںبلکہ جو معنی خیز اور حقیقی ہوں، اس کے لیے:
* ابلاغی مشن جیسے
’کھیل کے قوانین سمجھانا‘ یا ’کسی کام کی وضاحت کرنا‘ اپنائے جائیں۔
* بچوں کو ترغیب دی
جائے کہ وہ زبان کو صرف امتحانی درستگی کے لیے ہی نہیں بلکہ اظہار، اشتراک اور
مکالمے کے لیے استعمال کریں۔
یہ
طریقہ زبان سیکھنے کے عمل کو فطری، مقصدی اور قابلِ رسائی بناتا ہے۔
4. زبان سے بھرپور ماحول کی تشکیل:زبان سے بھرپور ماحول بچوں کو بتدریج زبان میں روانی کی طرف لے جاتا ہے۔ایک ایسی جماعتی فضا تشکیل دی جائے جہاں بچے غیر مانوس زبان کو مختلف طریقوں سے سنیں، دیکھیں اور استعمال کریں۔ مثلاً؛روزمرہ گفتگو میں زبان کا استعمال،تصویری اور تحریری مواد کی فراہمی،چھوٹے اشعار، لوک کہانیاں، ترانے اورباہمی گفتگو کے مواقع، وغیرہ۔
5. دباؤ سے پاک، معاون اور حوصلہ افزا ماحول:زبان سیکھنے کا عمل اس وقت زیادہ مؤثر ہوتا ہے جب بچے خود کو محفوظ، آزاد اور حوصلہ افزا ماحول میں محسوس کریں۔اس لیے؛
* غیر مانوس زبان
میں روانی کی فوری توقع نہ رکھی جائے؛
* رسمی جانچ یا
فوری درستگی سے اجتناب برتا جائے؛
* غلطیوں کو سیکھنے
کا موقع سمجھا جائے، نہ کہ ناکامی؛
* استاد دوستانہ،
معاون اور تشویق انگیز رویہ اختیار کریں۔
خلاصہ:زبان
اور خواندگی کی تدریس تعلیم کے بنیادی مرحلہ کی اساس ہے، جس پر بچے کی سیکھنے،
سوچنے، اظہار کرنے اور سماجی تعلق قائم کرنے کی ساری صلاحیتوں کی تعمیر ہوتی ہے۔
ہندوستان جیسے کثیر لسانی سماج میں، جہاں بچے مختلف زبانوں، ثقافتوں اور لسانی پس
منظر سے آتے ہیں، وہاں زبان کی تدریس صرف لسانی مہارت کی منتقلی کا عمل نہیں بلکہ
ایک کثیر جہتی اور حساس تدریسی چیلنج بھی ہے۔قومی درسیات کا خاکہ برائے بنیادی تعلیم
2022 یہ واضح کرتا ہے کہ زبان محض الفاظ یا جملوں کا مجموعہ نہیں بلکہ سوچ، معاشرت
اور تشخص کی نمائندہ ہوتی ہے۔خاکہ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے زبان کو بچے کی فطری
سیکھنے کی بنیاد مانتا ہے اور اس کے فروغ کے لیے سمعی، بصری، جسمانی اور سماجی
سرگرمیوں کو لازمی قرار دیتا ہے۔خاکہ میں ایک اہم بحث خواندگی کے ارتقائی مراحل پر
مرکوز ہے، جہاں بچے کی زبان کے ساتھ تدریجی طور پر اس کی رسم الخط، حروف شناسی،
صوتیات، اور بامعنی مطالعے کی مہارتیں استوار ہوتی ہیں۔ خاکہ میں واضح کیا گیا ہے
کہ ابتدائی تعلیم میں اگر خواندگی کو غیر فطری یا مصنوعی انداز میں پیش کیا جائے تو
یہ بچے کی تخلیقی قوت کو دبا سکتا ہے۔ لہٰذا، خواندگی کی تدریس کو زبان کے قدرتی
استعمال کے ساتھ مربوط کرنے کی ضرورت ہے۔خاکہ میں کثیر لسانی تدریسی ماحول کی اہمیت
پر روشنی ڈالی گئی ہے، جو ہندوستانی سیاق میں انتہائی ضروری ہے۔ مادری زبان، مقامی
زبان اور اسکولی زبان کے درمیان ربط و مطابقت پر زور دیا گیا ہے تاکہ بچے کو سیکھنے
میں لسانی دشواریاں پیش نہ آئیں۔ اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ اساتذہ کو کثیر
لسانی تدریسی حکمت عملیوں کو اپنانا چاہیے، جن میں ترجمہ، کوڈ سوئچنگ، اور بین
المتنی گفتگو شامل ہوں۔ایک اہم نکتہ غیر مانوس زبان کی تدریس سے متعلق ہے، جہاں
استاد کو ان بچوں کے ساتھ کام کرنا ہوتا ہے جو تدریسی زبان سے ناآشنا ہوتے ہیں۔
اس چیلنج کا مؤثر حل ٹی پی آر، تصویری کہانی، سادہ ہدایات، اور قابلِ فہم مواد
کے استعمال میں پوشیدہ ہے۔ بچوں کو زبان کی دنیا سے آہستہ آہستہ روشناس کرانے کے
لیے دباؤ سے پاک، محفوظ اور دوستانہ ماحول مہیا کرنا ضروری ہے۔یہ خاکہ زبان کے
اساتذہ کے لیے ایک رہنما دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔ اساتذہ کے لیے یہ جاننا ضروری
ہے کہ وہ زبان کومحض ایک مضمون کے طور پر نہیں بلکہ بچے کی علمی، تخلیقی اور سماجی
ترقی کے وسیلے کے طور پر برتیں۔ خاکہ اس ضمن میں نظری اور عملی دونوں سطحوں پر
رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
کتابیات/حوالہ جات
*National Curriculum Framework (School
Education) 2023-NCERT, New Delhi.
*National Curriculum Framework for
Foundational Stage 2022-NCERT, New Delhi
* قومی تعلیمی پالیسی
2020، وزارت برائے فروغ انسانی وسائل حکومت ہند، اردو ترجمہ، شعبہ نشر و اشاعت
امارات شرعیہ پھلواری شریف، بہار
* بھارت کا آئین،
قومی کونسل برائے فروغِ زبان اردو،نئی دہلی، 2010
* نجم السحر،
صابرہ سعید، تدریس اردو، پریمئر پبلشنگ ہائوس، حیدرآباد، 2006
* محی الدین قادر ی
زور، تدریس اردو، یونیک بک میڈیا، شرینگر، 2006
Dr. Afaque Nadeem Khan
Associate Professor, Department of Educational
Studies
Faculty of Education, Jamia Millia Islamia
New Delhi-110025
Mob.: 9981995549
akhan28@jmi.ac.in

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں