2/1/26

زبان کی اقسام،مضمون نگار: معین الدین

اردو دنیا،ستمبر 2025 

عام ملحوظات

 زبان، انسان کی صلاحیت نطق کا نام ہے، ابتدائے آفرینش سے ہی انسان نے زبان کو اپنے خیالات، جذبات اور احساسات کی ترسیل اور اپنی سماجی اور معاشرتی ضرورتوں کی تسکین کا ذریعہ بنایا ہے۔ زبان در اصل سماجی اور معاشی ضرورتوں ہی کی ایجاد ہے۔ زبانوں کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہی ضروریات کے پیش نظر زبان کی عہد بہ عہد ترقی ہوتی رہتی ہے لیکن ترسیل خیالات کے لیے انسان نے محض زبان ہی کا سہارا نہیں لیا بلکہ اشاروں سے بھی تبادلۂ خیال کا کام لیا ہے۔

 زبان کیسے وجود میں آئی اس کا صحیح صحیح سراغ لگانا مشکل ہے لیکن یہ اندازہ ضرور لگا یا جا سکتا ہے کہ ابتدائی انسان نے اپنی سماجی اور معاشی ضروریات اور جذباتی کیفیت کے اظہار کے لیے کچھ آوازیں نکالی ہوں گی اور جسمانی اشاروں کی مدد سے انسان کا مفہوم سمجھ لیا ہو گا۔ آگے چل کر مختلف آوازوں اور اشاروں کے معنی متعین ہو گئے ہوں گے، اس طرح تبادلۂ خیالات کے دوران زبان وجود میں آگئی ہوگی اور بعد میں بول چال کی زبان نے تحریری شکل اختیار کرلی ہوگی۔ لہٰذا ز بان کو تین قسموں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:

1.       اشاروں کی زبان

2.       آوازوں کی زبان

3.       علامتوں کی زبان

اشاروں کی زبان

اشاروں کے ذریعے ترسیل خیالات، مطالعے کا ایک دلچسپ موضوع ہے، اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کا یہ ایک ایسا ذریعہ ہے جس کا گفتگو یا تحریر سے کوئی واسطہ نہیں۔ اس میں فرد ہاتھ آنکھ یاسر کے اشاروں سے اپنے خیالات، محسوسات اور جذبات کو دوسروں تک پہنچاتا ہے لیکن دشواری یہ ہے کہ اشاروں کے مفہوم میں کبھی مالک اور کبھی قوموں کے درمیان فرق پایا جاتا ہے اس لیے وسیع پیمانے پر اس کا استعمال دشوار ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اشاروں کی زبان آواز کی زبان (تقریر) اور علامات کی زبان (تحریر) سے کم سے کم دس لاکھ برس قدیم ہے۔ عالم گیر سطح پر اس کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ اشارات کی زبان کا ذخیرہ بھی بہت وسیع ہے۔ اس کی عام طور پر تین قسمیں بتائی جاتی ہیں:

(1)     وہ اشارے جنھیں آنکھ سے دیکھا جا سکتا ہے۔ ان اشاروں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ ان میں چہرہ، ہاتھ، سر اور انگلیوں کی جنبش شامل ہے۔

(2)     اشاروں کی دوسری قسم وہ ہے جن کو کان سے سنا جاسکتا ہے جیسے چٹکی بجانا، سیٹی بجانا وغیرہ۔

(3)     وہ اشارے جن میں اظہار مطلب لمس کے ذریعے کیا جاتا ہے جیسے کہنی مارنا، ہاتھ دبانا وغیرہ لیکن ان کا استعمال بہت محدود ہے۔

اشارات کی زبان کو تقریر میں بطور ایک امدادی وسیلہ استعمال کیا جاتا ہے لیکن اس اعتبار سے اشارات کی زبان کو آواز کی زبان پر فوقیت حاصل ہے کہ ایک ہی اشارے سے پورا مفہوم ادا ہو جاتا ہے جبکہ زبان کے ذریعے اسی مفہوم کو ادا کرنے کے لیے پورا جملہ بولنا پڑتا ہے۔

 اگر مختلف ممالک میں اشارات کی زبان کا ایک سرسری جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ زمانہ قدیم میں اس کا استعمال بہت عام رہا ہے۔ قدیم یونان میں سر جھکا کر اشارہ کرنے سے ’ہاں‘ کا مفہوم ادا کیا جاتا تھا۔ ہندوستان کے بعض علاقوں میں آج بھی نیچے کی طرف سرجھکانے سے ’ہاں‘ کا اور دائیں بائیں سر ہلانے سے ’نہیں‘ کا مفہوم ادا ہوتا ہے۔ امریکہ میں ’خدا حافظ‘ کہنے کے لیے ہتھیلی کو نیچے کی جانب جھکا دیتے ہیں اور یوروپ میں ہتھیلی اوپر کر کے انگلیوں کو آگے پیچھے جنبش دے کر ’قریب‘ آنے کا اشارہ کرتے ہیں۔ جاپان اور کوریا میں تقریبا دو سو ایسے اشارات رائج ہیں جن سے محبت کے مختلف پہلوؤں کا اظہار ہوتا ہے۔ غرض ہر ملک میںاشارات کا ایک اپنا نظام ہے۔

ذو لسانی اور کثیر لسانی ماحول میں اشارات کی زبان کی بڑی اہمیت ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں جب فرانسیسی ہوا بازوں کو انگریزی زبان سکھائی جارہی تھی تو اشارات کی زبان بہت مفید ثابت ہوئی۔ بین الاقوامی اسکاؤٹ تحریک نے اشارات کا ایک اچھا خاصا نظام مرتبکر لیا ہے۔ ان اشارات کو وہ اپنی تقریبات میں استعمال کرتے ہیں اور تبادلہ خیال کا ذریعہ بناتے ہیں۔ انٹر نیشنل سول اے ویشن نے پانچوں انگلیوں کی جنبش پر مبنی اشارات کا ایک نظام مرتب کیا ہے جو مختلف لسانی گروہوں کے مابین استعمال ہوتے ہیں۔ شمالی امریکہ میں سرخ ہندی (ریڈ انڈین) قبائل کے پاس اشارات کا ایک باقاعدہ نظام موجود ہے۔ جب مختلف زبان بولنے والے گروہ ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو آپس میں اشاروں سے تبادلہ خیال کرتے ہیں۔

ہندوستان میں اشاروں کا استعمال اب بھی بہت عام ہے۔ بازار منڈی سے لے کر شعر و ادب اور رقص و سرود کی محفلوں تک اس کا استعمال ہوتا ہے۔ انگلی کو دانت تلے د با لینا، تعجب کا اظہار ہے، گردن جھکا لینا شرم کی علامت ہے، انگوٹھا دکھانا یا ٹھینگا دکھانا انکار ہے، کان پکڑنے سے بھی انکار یا تو بہ کا مفہوم لیا جاتا ہے۔ دوسروں کے سامنے چٹکی بجانا اظہار بغاوت ہے۔ اسی طرح محبت کے اظہار کے لیے بھی مختلف قسم کے اشارات ملتے ہیں۔ لیکن زیادہ منظم طریقے سے اشاروں کا استعمال ہمارے کلاسیکی ڈراموں میں ملتا ہے۔ ہندوستانی رقص و موسیقی میں ان اشارات کی باقاعدہ اصناف بندی کی گئی ہے۔ ’بھرت ناٹیم‘ میں سر کے تیرہ اور آنکھوں کے چھبیس اشارے ہیں۔ گردن کے سات، ہاتھ کے پینتیس اور جسم کے ایک سو چار اشارے ہیں۔ ان کی ترکیب اور توازن سے رقاص پوری کہانی سنا سکتا ہے۔ ہندوستانی رقص کا سب سے نمایاں پہلو ’مدرا‘ ہے یعنی ہاتھ کے اشارے۔ ہاتھ کے دل کش اشاروں سے مختلف قسم کے جذبات کی عکاسی ہوتی ہے۔

 غرض اشاروں کی زبان کی ایک انوکھی افادیت اور دلکشی ہے لیکن اس کا حلقۂ عمل بہت محدود ہے۔ اشارات بالعموم اور ہاتھ کے اشارات بالخصوص تقریر کی جگہ نہیں لے سکتے۔ ہاتھ کے اشارات میں چونکہ ہاتھ کا استعمال ہوتا ہے اس لیے ہاتھ بندھے ہوتے ہیں اور تقریر میں ہاتھ آزاد ہوتے ہیں۔ پھر یہ کہ اشارات کو سمجھنے کے لیے روشنی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر اشخاص کے درمیان کوئی چیز حائل ہو تو اشارات ترسیل کا ذریعہ نہیں بن سکتے۔ اس کے برعکس آواز کی زبان یعنی تقریر اظہار خیال کا مکمل اور بہترین ذریعہ ہے۔ اس لیے اشارات کی زبان اس کی ہمسری نہیں کرسکتی۔ اشارات کی زبان کا کمزور ترین پہلو یہ ہے کہ اس کے ذریعے مجرد تصورات نہیں پیش کیے جا سکتے۔ ایک اشارہ کئی تصورات کا حامل نہیں ہوسکتا اور نہ اشارات تحلیلی و تخلیقی فکر میں معاون ہو سکتے ہیں۔ اشارات کی زبان میں تنوع کی گنجائش بہت کم ہے، جبکہ آواز کی زبان میں ہر لمحہ جملے کے سیاق و سباق میں الفاظ کے معنی بدلتے رہتے ہیں۔

آوازوں کی زبان

گذشتہ صفحات میں یہ بات واضح کر دی گئی ہے کہ اشاروں کی زبان ہر چند کہ بعض مخصوص صورتِ حال میں اب بھی استعمال ہوتی ہے لیکن یہ گفتگو یا تحریر کی جگہ نہیں لے سکتی۔ زبان سیکھنا اکتسابی عمل ہے۔ اس پاس کے جن لوگوں سے بچے کا سابقہ پڑتا ہے، وہ عام طور پر زبان کا استعمال کرتے ہیں، اشارات کا نہیں اور چونکہ بچہ گردو پیش کے لوگوں سے ہی زبان سیکھتا ہے، اس لیے وہ انھیں آوازوں کی نقل کرتا ہے جو ماں باپ اور بھائی بہنوں سے سنتا ہے اور انھیں آوازوں کے توسط سے وہ اشخاص اور اشیاء کو پہچاننا شروع کرتا ہے۔ اس طرح وہ زبان سیکھنے کا آغاز کرتا ہے۔ وہ آوازیں سنتا ہے، نقل کرتا ہے اور اس طرح سننے اور بولنے کی ابتدائی تربیت حاصل کرتا ہے۔ پھر رفتہ رفتہ وہ تقریر کی دیگر مہارتوں پر بھی قدرت حاصل کر لیتا ہے اور اس کے اندر اس بات کی بھی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے کہ مجرد تصورات کو بیان کر سکے اورفجائی آوازوں کے ذریعے رنج، خوشی، حیرت، محبت، نفرت جیسی کیفیات کا بھی اظہار کر سکے۔ مثلاً قہقہہ، گریہ وزاری وغیرہ۔ فجائی آوازوں کے علاوہ بچہ صوتی آوازوں سے بھی آشنائی حاصل کرتا ہے جیسے ہوا چلنے کی آواز سن سن، گھڑی کی آواز ٹِک ٹِک، گھڑی کی آواز ٹِک ٹِک یا دروازہ کھٹکھٹانے کی آواز کھٹ کھٹ۔ فجائی اور صوتی آوازیں بھی لفظ کے دائرے میں آتی ہیں لیکن تیسری قسم کی آواز لفظ یا بول سے مختلف ہوتی ہے۔ لفظ یا بول کے بارے میں یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ کون سا لفظ کیونکر وجود میںا ٓیا۔

علامتو ںکی زبان (تحریر)

جب کسی آوازیا لفظ کو علامت کے ذریعے ظاہر کیا جاتا ہے تو وہ تحریر کی شکل اختیار کرلیتی ہے، لیکن تحریر میں لفظ بے جان اور جامد رہتے ہیں اور اس وقت تک بے حس رہتے ہیں جب تک بولنے والا ان میں روح نہ پھونکے۔ تحریر میں لفظ کی صورت بدلتی نہیں، لیکن جب وہی لفظ بول چال میں استعمال ہوتا ہے،تو کبھی موقع محل کے لحاظ سے اس کی صورت بدل جاتی ہے اور کبھی لب و لہجے کی تبدیلی سے اس کے مفہوم میں بھی تبدیلی آجاتی ہے۔

بولی اور زبان

کسی  زبان کی ذیلی شاخ کو بولی کہتے ہیں۔ ایک بڑے لسانی گروہ میں جو کسی بڑے علاقے میں آباد ہو، کچھ مقامی خصوصیات پیدا ہوجاتی ہیں۔ اس اختلاف کی وجہ سے ایک زبان بولنے والے مختلف بولیوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ یہ اختلافات اس صورت میں کم ہو جاتے ہیں، جب اس زبان کے بولنے والوں کو باہم میل جول کے زیادہ مواقع ملتے ہوں لیکن اگر کسی علاقے کے رہنے والوں کو نقل و حرکت کے مواقع کم میسر آئیں تو باہمی ربط کے مواقع بھی کم دستیاب ہوں گے اور اس طرح اس علاقے میں بولیوں کی تعداد زیادہ ہوگی۔ بولی عام طور پر ایک بے ڈھب کی زبان ہوتی ہے، جو نسبتاً چھوٹے علاقے کے عوام میں رائج ہوتی ہے۔ اس کی نہ تو کوئی تنظیم ہوتی ہے اور نہ ہی ضابطے اور اصول مقرر ہوتے ہیں۔ اس لیے اس کی کوئی گرامر بھی مرتب نہیں ہو پاتی۔ بولی میں تبدیلی بہت جلدی جلدی ہوتی رہتی ہے، جب کہ زبان میں تبدیلی بڑی مشکل سے آتی ہے اور بہت دیر میں اس تبدیلی کا اثر ظاہر ہو پاتا ہے لیکن بولی زبان کے مقابلے میں زیادہ ارتقا پذیر ہوتی ہے اس لیے کہ یہ زندگی کی بدلتی ہوئی ضروریات کے ساتھ بلا تکلف تبدیل ہوتی رہتی ہے۔

بولی اور زبان کی ابتدا اور نشو و نما سے متعلق اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ رینال اور میکس مولر کے خیال کے مطابق زبان کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ مختلف بولیاں جو متعد د ٹکڑیوں میں بٹی ہوئی تھیں، ایک شکل میں مجتمع ہوگئیں یعنی اس کا ارتقائی عمل انتشار سے اتحاد کی جانب ہے۔ اس کے برعکس ایک دوسرے ماہر لسانیات وہٹنے کا خیال ہے کہ زبان پہلے وجود میں آئی اور رفتہ رفتہ بولیوں میں بٹ گئی۔ اس طرح اس کا ارتقائی عمل اتحاد سے انتشار کی جانب ہے۔

مادری زبان

مادری زبان اس زبان کو کہتے ہیں جو بچے کے گھر خاندان اور ماحول میں بولی جاتی ہو۔ یہ بچے کی پہلی زبان ہوتی ہے۔ اسی کے ذریعے بچہ گرد و پیش کی دُنیا سے رابطہ قائم کرتا ہے۔ خارجی ماحول سے روشناس ہوتا ہے اور اپنے جذبات محسوسات اور خیالات کا اظہار کرتا ہے۔

 تعلیمی اعتبار سے مادری زبان اس زبان کو کہتے ہیں، جس میں بچے کو رسمی تعلیم دی جائے۔ تقریباً تمام ماہرین تعلیم اس بات سے متفق ہیں کہ بچے کی تعلیم کا بہترین ذریعہ اس کی مادری زبان ہے۔ اگر مادری زبان کے ذریعے تعلیم دی جائے تو تعلیم موثر ہوگی اور بچے کی شخصیت متوازن طریقے پر نشو و نما پائے گی۔

مادری زبان میں تعلیم کا مطالبہ

مادری زبان میں تعلیم دینے کی اہمیت سے متعلق گزشتہ تین دہوں میں کافی بحث ہوچکی ہے اوراس بات کی کافی شہادتیں موجود ہیں کہ مادری زبان کے ذریعے بہتر تعلیم ہوتی ہے۔

مادری زبان میں تعلیم دینے کا مطالبہ اس وقت زیادہ زور پکڑتا ہے، جب سماج میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں اور تعلیم کو سماجی تبدیلی اور شخصیت سازی کا ایک موثر ذریعہ تصور کیا جاتا ہے نیز لوگوں میں تہذیبی تشخص کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ اگر تعلیم کی تاریخ پر ایک سرسری نظر ڈالی جائے تو آسانی سے اس بات کا پتہ چل سکتا ہے کہ دور وسطیٰ کے یوروپ میں لاطینی زبان کے ذریعے تعلیم دی جاتی تھی۔ ہندوستان میں بھی انیسویں صدی تک سنسکرت یا فارسی ذریعہ تعلیم رہی۔ ان تمام ادوار میں تعلیم ایک مخصوص طبقے تک محدود تھی۔ اس لیے مادری زبان کے ذریعہ تعلیم دینے کا مسئلہ نہیں پیدا ہوا۔ لیکن جب آزاد ہندوستان میں تعلیم کو عام، مفت، لازمی اور سیکولر بنانے کا منصوبہ بنایا گیا تو تعلیم بذریعہ مادری زبان نے ایک مطالبے کی شکل اختیار کرلی۔ یہ حقیقت ہے کہ ہمہ گیرتعلیم کے امکانات اسی وقت روشن ہوں گے، جب تعلیم کی سہولتیں عوام کو میسر آنے لگیں۔ عوام الناس کو خواندہ بنانے کے لیے مقامی زبان کو ذریعہ تعلیم بنانا ضروری ہے۔ لہٰذا ان تمام قوموں نے جنھیں ابھی حال میں آزادی حاصل ہوئی ہے اور جنھوں نے جمہوری نظام اپنایا ہے، ذریعہ تعلیم کے مسئلے کو خصوصی اہمیتدی ہے۔

مادری زبان کے ذریعے تعلیم دینے کے حق میں جو دلیلیں پیش کی جاتی ہیں، ان کا تعلق ذہنی، جذباتی نفسیاتی، سیاسی اور سماجی پہلوؤں سے علیحدہ علیحدہ بھی ہے اور ملا جلا بھی ہے۔ یہاں محض ان پہلوؤں سے بحث کی جائے گی جن کا تعلق خصوصی طور پر درس و تدریس سے ہے۔

جدید تعلیم میں نفسیات کو ایک خصوصی مرتبہ حاصل ہے۔ چنانچہ زبان کی تعلیم میں بھی نفسیات کو ایک اہم مقام دیا گیا ہے۔ زبان آوازوں کا ایک نظام ہے جو بچے کے دماغ کو متحرک کرتا رہتا ہے۔ اس کے وسیلے سے وہ خود بخود اظہار تفہیم کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ اس طرح اس کو جو تسکین حاصل ہوتی ہے، وہ ذہنی، جذباتی اور سماجی نشوو نما کی ضمانت کرتی ہے۔ یہ منصب مادری زبان کے علاوہ کوئی دوسری زبان نہیں ادا کر سکتی۔  زبان اور خیال کا تعلق، جسم اور روح کا ہے، ایک کا دوسرے پر انحصار ہے۔ ایک کی ترقی سے دوسرے کی ترقی ہوتی ہے،اور ایک کے انحطاط سے دوسرے کا انحطاط ہوتا ہے۔

سماجی اعتبار سے مادری زبان کا مقام اور بھی بلند ہے کیونکہ مادری زبان کے ذریعے ہی بچہ اپنی تہذیب و معاشرت سے مطابقت اور رابطہ پیدا کرتا ہے۔ ایک مشترک وسیلۂ اظہار یعنی تقریر یا گفتگو گروہ کے افراد کے درمیان وسیلے کا کام کرتا ہے۔ اس کے بغیر سماجی روابط تقریبا نا ممکن ہیں۔

 تعلیمی نقطۂ نظر سے مادری زبان کی امتیازی اہمیت ہے، اس لیے کہ مادری زبان سے آموزش میں سہولت پیدا ہوتی ہے۔ مدرسے کے اندر مادری زبان کی حیثیت محض ایک مضمون کی نہیں ہوتی بلکہ مادری زبان دیگر مضامین کی تعلیم کا بھی ایک موثر ذریعہ ہے۔ کمرۂ جماعت ہو یا معمل، ورک شاپ ہو یا کتب خانہ یا کھیل کا میدان ہر جگہ مادری زبان کی ہی کار فرمائی نظر آتی ہے۔

پس مادری زبان نہ صرف تعلیم کا ایک موثر ذریعہ ہے، بلکہ مادری زبان کے ذریعے اگر تعلیم نہ دی جائے تو اظہار ذات کی صلاحیت کو صدمہ پہنچتا ہے۔ اس کے سبب تحصیل علم میں رکاوٹ ہوتی ہے اور شخصیت میں توازن پیدا نہیں ہو پاتا۔

لہٰذا درس و تدریس کا کام کرنے والوں کو اس بات سے شعوری طور پر باخبر ہونا چاہیے کہ بچوں کی نشوونما میں اور موثر تعلیم کے حصول میں مادری زبان کیا رول ادا کرتی ہے نیز دیگر مضامین سے اس کا کیا تعلق ہے اور آموزش میں یہ کس طرح معاون ہو سکتی ہے۔

 

ماخذ: اردو زبان کی تدریس، مصنف: معین الدین، پانچویں طباعت: 2011، ناشر: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تازہ اشاعت

طبقۂ اولیٰ ملوک فارس،مضمون نگار:محمد صہیب

اردو دنیا،ستمبر 2025 کیومرث کل علمائے فارس اس امر پر اتفاق کر رہے ہیں کہ کیومرث ہی آدم علیہ السلام ہیں اور ان کا لڑکا منشا نامی تھا اور من...