5/1/26

تصویری صحافت،حقیقت کی خاموش زبان،مضمون نگار:عبدالرزاق

 اردو دنیا،ستمبر 2025

تصویروں اور انسان کا رشتہ بہت پرانا ہے۔تاریخ بتاتی ہے کہ انسان نے تصویریں بنانا، لکھنے یا بولنے سے بھی پہلے سیکھا۔ وہ تصویریں اس لیے بناتا تھا تاکہ اپنے خیالات دوسروں تک پہنچا سکے، کیونکہ خیالات اکثر ہمارے دماغ میں تصویروں کی شکل میں آتے ہیں۔ ہم زبان کا استعمال انہی خیالات کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں، اگر ہم اپنے خیالات کو دوسروں تک نہ پہنچائیں تو وہ صرف ہمارے ذہن تک محدود رہتے ہیں اور کوئی دوسرا انھیں سمجھ نہیں پاتا۔زبان، دراصل مختلف نشانیوں یا علامتوں کا ایک مجموعہ ہے، جو انسان نے اپنے احساسات، جذبات اور تجربات دوسروں تک پہنچانے کے لیے بنائیں۔ جیسے جیسے معاشرہ ترقی کرتا گیا، لوگوں کا ایک دوسرے پر زیادہ انحصار ہونے لگا، تو ان نشانیوں میں اضافہ ہوتا گیا اور یہ الفاظ بن گئے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی سمجھ میں آ گیا کہ کون سا لفظ کس جذبے یا احساس کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی کو زبان سیکھنا کہتے ہیں۔جب انسان کو اپنی باتیں، جذبات اور تجربات کو محفوظ رکھنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو اس نے ان نشانیوں کو لکھنا شروع کیا۔لیکن اس سے بھی پہلے، انسان نے اشیا کی تصویریں بنانا سیکھا۔ وہ چیزیں جو وہ روز دیکھتا تھاجیسے درخت، دریا، پہاڑ، چاند، سورج، جانور اور پرندوں کی تصویریں بنانا انسان کے لیے آسان اور قدرتی عمل تھا۔اسی لیے ہمیں پرانی تہذیبوں  کے آثار میں ان چیزوں کی تصویریں ملتی ہیں، جیسے گائے، بیل، گھوڑے، کتے، پھول، چاند اور سورج وغیرہ۔ ان سب سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان نے لفظوں کو لکھنے سے بہت پہلے تصویروں کے ذریعے اپنی بات بیان کرنا شروع کر دی تھی۔اس بارے میں سب سے پرانے ثبوت فرانس میں ایک غار کی دیواروں پر ملے ہیں، جہاں کچھ جانوروں، پھولوں اور درختوں کی تصویریں کندہ ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ تصویریں ہزاروں سال پرانی ہیں۔ان غاروں میں رہنے والے لوگ ان تصویروں کے ذریعے وقت کا حساب رکھتے تھے، کیونکہ ان کے پاس نہ گھڑیاں تھیں اور نہ ہی کیلنڈر۔وہ یہ دیکھ کر اندازہ لگاتے تھے کہ کون سا موسم ہے جیسے برفباری کے بعد کون سے جانور نظر آتے ہیں، یا موسم بدلنے پر کون سے پودے اور پرندے نظر آنے لگتے ہیں۔وہ جو کچھ دیکھتے، اسے دیواروں اور پتھروں پر نقش کر دیتے، تاکہ آنے والے دنوں میں بھی ان تجربات کو یاد رکھا جا سکے۔

انسان کو تصویریں بنانے کی خواہش کی قدرتی صلاحیت ہمیشہ سے رہی ہے۔ آج بھی اگر ہم کسی ایسے بچے کو جو پڑھنا لکھنا نہیں جانتا، چاک، پینسل یا رنگ دے دیں، تو وہ بھی کچھ نہ کچھ تصویریں بنانا شروع کر دیتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ تصویر بنانا اصل میں ذہن میں موجود کسی منظر یا چیز کو کسی سطح پر جیسے کاغذ، پتھر یا دیوار پر اتارنے کا عمل ہے۔اس کے لیے کسی خاص تعلیم یا زبان سیکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی، جیسا کہ الفاظ لکھنے کے لیے ضروری ہے۔یہ بات ہمیں دیہاتوں یا دور دراز کے علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی روزمرہ زندگی سے بھی پتہ چلتی ہے، جہاں آج بھی بچے، عورتیں اور مرد اپنے گھروں کی دیواروں یا برتنوں پر جانوروں، پرندوں اور پھولوں کی تصویریں اور نقش و نگار بناتے ہیں۔یہ ان کی فطری تخلیقی صلاحیت کا اظہار ہے۔لیکن جب انسانی معاشرہ ترقی کرتا گیا اور مہذب دنیا نے کاموں کی تقسیم شروع کی تو تصویریں بنانے کا کام بھی مخصوص لوگوں کے حوالے کر دیا گیا۔وقت کے ساتھ ساتھ مختلف پیشے وجود میں آتے گئے۔کوئی کھیتی باڑی کرنے لگا، کوئی لوہار بن گیا، کوئی مکان بنانے لگا،  اور کسی نے عبادت کا کام سنبھال لیا۔اسی طرح، جو لوگ کسی چیز کو دیکھ کر آسانی سے اس کی تصویر بنا سکتے تھے، وہ تصویریں بنانے لگے۔یوں رفتہ رفتہ ’آرٹسٹ‘ یا فنکار وجود میں آیا، جو آج کے دور میں تصویر اور فن کا ماہر مانا جاتا ہے۔

تصویری صحافت (Photo Journalism) صحافت کی ایک ایسی شاخ ہے جس میں تصاویر کو خبر کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ تصاویر خبری، تحقیقی، تجزیاتی یا تاثراتی نوعیت کی ہو سکتی ہیں۔ ان کا مقصد محض خوبصورتی دکھانا نہیں بلکہ خبر کو بصری شکل میں پیش کرنا ہوتا ہے تاکہ قاری یا ناظر محض تصویر دیکھ کر پوری کہانی سمجھ سکے۔

خبروں کو تصویروں کے ذریعے پہنچانے کا آغاز سب سے پہلے 1842 میں انگلینڈ کے ’الیسٹریٹڈ لندن نیوز‘  نامی اخبار نے کیا تھا۔ اس کے بعد امریکہ میں بھی تصویری اخبارات اور رسائل چھپنے لگے۔ 1839 میں ولیم ہنری فاکس نے ایک طریقہ ایجاد کیا جس سے منفی (نیگیٹو) سے مثبت (پازیٹو) یعنی اصلی تصویر بنانا آسان ہو گیا۔ لیکن اس وقت تصویریں ویسے کی ویسی چھاپنے کے لیے ’ہاف ٹون‘ طریقہ کافی دیر بعد عام ہوا۔ یہ ایسا طریقہ تھا جس سے تصویریں آسانی اور سستے میں چھپنے لگیں۔امریکہ میں ایک شخص ہینری جے نیوٹن کی مشہور تصویر ’جھونپڑیوں کا شہر‘ 4 مارچ 1880 کو ’نیویارک گرافک‘ اخبار میں چھپی، جو کہ اس نئے طریقے سے چھپی ہوئی پہلی تصویر تھی۔ لیکن فوٹو جرنلزم کو اصل اہمیت تب ملی جب امریکہ-اسپین جنگ، پہلی جنگ عظیم، اور اسپین کی خانہ جنگی جیسے واقعات ہوئے۔ ان جنگوں کے دوران کچھ مشہور فوٹوگرافر جیسے میتھیو بریڈی، جمی ہیئر، جے سی ہیمنٹ اور رابرٹ کاپا نے ایسی شاندار تصویریں کھینچیں جو آنے والی نسلوں کے لیے تاریخ بن گئیں۔

ابتدائی دور میں اخباروں سے وابستہ فوٹوگرافروں نے اس شعبے کو بہت بڑھایا۔ مگر 20ویں صدی کے تیسرے عشرے میں فوٹو جرنلزم کو بدنامی بھی ملی۔ کچھ اخبارات جیسے ’ڈیلی گرافک‘، ’ڈیلی مرر‘ اور ’ڈیلی نیوز‘ نے جھوٹی تصویریں چھاپیں، یعنی ایسی تصویریں جو مختلف فوٹوز کو جوڑ کر بنائی گئی تھیں۔ ایسے عمل کو آج کے دور میں قبول نہیں کیا جاتا کیونکہ تصویر کو لوگ سچ مانتے ہیں، اور یہی بات فوٹو جرنلزم کو طاقت دیتی ہے۔مثال کے طور پر، ایک تصویر نے امریکی صدر ابراہم لنکن کو 1860 میں الیکشن جتوانے میں بہت مدد دی۔ یہ تصویر فوٹوگرافر میتھیو بریڈی نے کھینچی تھی۔ اس وقت لنکن کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ دیہاتی اور جاہل شخص ہے، لیکن اس ایک تصویر نے سب باتوں کا جواب دے دیا۔ ایک اور تصویر جس میں میری لینڈ کے سینیٹر ملارڈ ٹائڈنگز کو ایک کمیونسٹ لیڈر کے ساتھ دوستانہ بات کرتے دکھایا گیا تھا، وہ بھی جھوٹی (کمپوزٹ) تصویر تھی، اور اس تصویر کی وجہ سے وہ الیکشن ہار گئے۔یہ بات عام ہو گئی کہ کیمرا جو دکھاتا ہے، وہ حقیقت ہے، اور فوٹوگرافر خود ایک گواہ ہوتا ہے۔ اس وجہ سے اچھی اور سچی تصویروں کی مانگ اخبارات اور رسالوں میں بڑھنے لگی، جس کی وجہ سے فوٹو تقسیم کرنے والے ادارے (سندیکیٹ) بننے لگے۔  امریکہ نے اس میں سب سے پہلے قدم اٹھایا۔ ’نیویارک ٹائمز‘ کا ’وائلڈ ورلڈ‘، ’ہرسٹ انٹرنیشنل نیوز فوٹوز‘، ’اے سی ایم ای‘ اور ’یو پی‘ جیسے ادارے 20ویں صدی کے شروع میں قائم ہوئے۔ 1926 میں ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ نے نیوز سروس شروع کی اور 1935 میں فوٹو سروس بھی۔ تھوڑے ہی وقت بعد ریڈیو سروس بھی شروع ہوئی۔ آج ہمیں سادہ اور رنگین دونوں تصویروں کے لیے ٹیلی گراف اور ریڈیو کے ذریعے سہولت حاصل ہے۔

فوٹو جرنلزم صرف فوٹوگرافی کی ترقی کی وجہ سے اس مقام تک نہیں پہنچی، بلکہ پرنٹنگ اور نقل بنانے کی ٹیکنالوجی نے بھی اس میں اہم کردار ادا کیا۔ 1880 میں جھونپڑیوں کا شہر والی تصویر ’ہاف ٹون‘ طریقے سے پہلی بار چھپی، جسے بعد میں بہتر بنایا گیا۔ آج جو ’کراس لائن اسکرین‘ کا طریقہ ہے، وہ فریڈرک یوگین آئکس اور لیوی برادران کی کوششوں سے ممکن ہوا۔کسی بھی چھپی تصویر کا معیار اس کی پرنٹنگ، کاغذ، سیاہی وغیرہ پر منحصر ہوتا ہے۔ فوٹو جرنلزم میں صرف کیمرے کی نہیں بلکہ اسے چلانے والے شخص کی بھی بڑی اہمیت ہے۔ یا تو وہ فطری صلاحیت کے ساتھ پیدا ہوتا ہے، یا اسے کیمرے، لینس، زوم، اور دوسرے آلات کے استعمال کی مکمل تربیت دی جاتی ہے تاکہ وہ اچھے اور سچے فوٹو پیش کر سکے۔

ایک فوٹوگرافر کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ کس زاویے (Angle) اور کس نظریے سے کس قسم کے کیمرے اور فلم کا استعمال کرنا ہے۔ اُس میں یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ وہ کسی بھی منظر کا صحیح اور فیصلہ کن لمحہ (Decisive Moment) پکڑ سکے۔ خبروں کے لیے تصویریں لیتے وقت اندازہ لگانا، یعنی پہلے سے سوچ لینا کہ کیا ہونے والا ہے، یہ سب سے اہم بات ہے۔ایک اچھا فوٹوگرافر صرف کیمرے کا بٹن دبانے والا نہیں ہوتا، بلکہ اُس میں اتنی سمجھ اور اندرونی بصیرت (Insight) ہونی چاہیے کہ وہ جو کچھ خود دیکھتا ہے، وہی کچھ تصویروں کے ذریعے دوسروں کو بھی دکھا سکے۔ وہ تبھی یہ سب کر سکتا ہے جب اُس میں ایک فنکار کی مہارت ہو اور ایک ماہر کاریگر کی خوبیاں بھی ہوں۔ حالانکہ کیمرے کی کچھ اپنی حدود ہوتی ہیں، لیکن اگر کوئی شخص کیمرہ چلانے کے فن میں ماہر ہو تو وہ ان حدود کو بھی پار کر سکتا ہے۔ جس طرح ایک مصور (Painter) اپنے برش، رنگ اور موضوع کو سوچ سمجھ کر منتخب کرتا ہے، ویسے ہی ایک فوٹوگرافر بھی حالات، مناظر اور موضوعات کو اپنے نظریے سے چنتا ہے اور ان کے لیے مناسب آلات استعمال کرتا ہے۔انسان کی آنکھ بہت کچھ دیکھتی ہے، اور وہ روشنی، سایہ اور رنگوں کے ذریعے ہر منظر کا مطلب الگ انداز سے سمجھتی ہے۔ اس لیے کیمرہ چلانے کے ہنر کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ فوٹوگرافر کی نظر بہترین منظر پر جا کر ٹھہرے۔اگر آپ کے پاس کتنا ہی مہنگا اور جدید کیمرہ ہو، لیکن اگر آپ کی نظر (یعنی آپ کی آنکھ) تیز، جذباتی اور زندگی سے بھرپور لمحے کو پہچاننے میں ناکام ہے، تو آپ فوٹوگرافر تو بن سکتے ہیں، لیکن ایک اعلیٰ درجے کے فوٹو صحافی (Photo Journalist)نہیں بن سکتے۔

آج کی دنیا میں ایک فوٹو صحافی  (Photo Journalist) کی بہت اہم ذمہ داری ہے۔ امریکہ کے سابق صدر آئزن ہاور نے ایک بار کہا تھا کہ ''دنیا کے مختلف ملکوں کے لوگوں کے درمیان میل جول اور ہم آہنگی پیدا کرنے میں فوٹو جرنلسٹ کا بڑا کردار ہوتا ہے۔ ’’تصویروں کی زبان دنیا کی تمام زبانوں میں سب سے آسان سمجھی جاتی ہے۔تصویریں سچ کو ویسا ہی دکھا دیتی ہیں جیسا وہ ہے۔لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ کسی بھی قیمت پر ایک فوٹو جرنلسٹ کو جھوٹی یا گمراہ کن تصویریں نہیں دینی چاہئیں۔ ایسے فوٹو بھی نہیں دینے چاہئیں جو سماجی یا سیاسی مسائل کو ہوا دے سکتے ہوں یا انتشار پیدا کرنے کا باعث بن سکتے ہوں۔

ایک فوٹو صحافی کو چاہیے کہ وہ اپنا کام خاموشی سے اور بغیر کسی دکھاوے کے کرے۔ اگر وہ تصاویر لیتے وقت بہت زیادہ نمایاں ہو جائے یا حرکت کرے، تو اس سے اصل حالات میں بگاڑ آ سکتا ہے۔میں نے کچھ فوٹوگرافروں کو دیکھا ہے جو مظاہرہ کرنے والوں کو نعرے لگانے کے لیے اکساتے ہیں تاکہ تصویریں زیادہ جوشیلی یا ڈرامائی لگیں۔لیکن ایسے موقعوں پر فوٹو صحافی کو اپنی ذمہ داری کو سمجھنا چاہیے اور ایسی حرکتوں سے بچنا چاہیے، کیونکہ اس کا کام صرف حقیقت کو دکھانا ہے، نہ کہ اسے بدلنا یا بڑھا چڑھا کر پیش کرنا۔میرا مطلب یہ نہیں ہے کہ فوٹو صحافی کو تصویریں لینے کے لیے کبھی بھی کوئی خاص انتظام یا تھوڑا سا ڈرامائی انداز اختیار نہیں کرنا چاہیے، لیکن جو کچھ بھی کیا جائے، وہ سماج (معاشرے) کی بھلائی کے لیے ہونا چاہیے۔ مشہور تصویری صحافی نول جیسوال ایک جگہ لکھتے ہیں کہ:

’’1939 میں جب بہار میں قحط پڑا تھا، تو میں ایک ایسے جنگل سے گزر رہا تھا جہاں سڑکیں نہیں تھیں۔مجھے ایک سماجی کارکن نے بتایا کہ راستے سے کچھ دو تین میل اندر ایک خاندان اپنے بوڑھے رشتہ دار کو بھوکا مرنے کے لیے جھونپڑی میں چھوڑ کر چلا گیا ہے۔جب میں وہاں پہنچا، تو دیکھا کہ وہ کمزور سا بوڑھا آدمی اندھیری جھونپڑی کے ایک کونے میں پڑا تھا۔ اندھیرے کی وجہ سے تصویر لینا ممکن نہیں تھا۔تب میں نے سماجی کارکنوں کی مدد سے اس بوڑھے کو جھونپڑی کے باہر دھوپ میں آنگن میں لا کر لٹا دیا، جہاں اس کے بچوں نے مہوے کے کچھ پھول اس کے کھانے کے لیے رکھے تھے۔میں نے اس منظر کی تصویر لی، جسے کئی اخبارات نے خوشی سے شائع کیا۔‘‘

(پوٹو پترکارتا،نول جیسوال،ص 122)

خاص بات یہ تھی کہ انگلینڈ کے ایک اخبار نے اس تصویر کو اشتہار کے طور پر استعمال کیا تاکہ عوام سے قحط زدگان کی مدد کے لیے چندہ اکٹھا کیا جا سکے اور ان کی مدد کی جا سکے۔

لہٰذا اگر کسی خبر یا منظر کو مؤثر بنانے کے لیے اس طرح کی تخلیقی کوشش کی جائے، اور اس کا مقصد اچھا ہو، تو اسے غیر اخلاقی نہیں کہا جا سکتا۔چاہے فوٹو جرنلسٹ کسی روزنامے سے وابستہ ہو یا ہفتہ وار اخبار سے، وہ اپنے کام کے ذریعے ایک صحافی یا کالم نگار کی طرح اپنی جگہ بنا لیتا ہے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ واقعے کی جگہ پر خود موجود ہوتا ہے۔پروفیسر مہدی حسن لکھتے ہیں کہ:

’’ایک اخباری فوٹوگرافر میں ایک رپورٹر ہی کی طرح خبر کو سونگھنے اور محسوس کرنے کی اہلیت ہونی چاہیے۔ بلکہ فوٹوگرافر کو اپنے کام میں اتنا ماہر اور تیز ہونا چاہیے کہ کوئی ایسا موقع آتے ہی وہ فوری طور پر عمل کر سکے۔ رپورٹر تو کسی واقعہ کو اپنی یادداشت کے سہارے تحریر کر سکتا ہے لیکن فوٹو گرافر نے اگر کوئی خاص لمحہ ضائع کر دیا تو وہ دوبارہ لوٹ کر نہیں آئے گا۔‘‘

(تصویری صحافت،پروفیسر مہدی حسن)

 اخباری فوٹوگرافر محض ایک کیمرہ تھامے شخص نہیں ہوتا، بلکہ وہ ایک باشعور مشاہد اور فعال صحافی بھی ہوتا ہے۔ جیسا کہ کہا گیا ہے: ’’ایک اخباری فوٹوگرافر میں ایک رپورٹر ہی کی طرح خبر کو سونگھنے اور محسوس کرنے کی اہلیت ہونی چاہیے۔‘‘  اس کا مطلب یہ ہے کہ فوٹوگرافر کو بھی اس واقعے کی تہہ تک پہنچنے، اس کی معنویت کو سمجھنے اور اس کے حساس پہلوؤں کو محسوس کرنے کی اتنی ہی صلاحیت ہونی چاہیے جتنی ایک رپورٹر میں ہوتی ہے۔ تاہم، ایک فوٹوگرافر کی ذمہ داری اس لحاظ سے زیادہ نازک ہو جاتی ہے کہ اس کے پاس کسی منظر کو محفوظ کرنے کے لیے صرف ایک لمحہ ہوتا ہے۔ رپورٹر بعد میں بھی واقعے کو یاد کر کے، لکھ کر یا تحقیق کے ذریعے اپنا کام مکمل کر سکتا ہے، لیکن اگر فوٹوگرافر سے وہ ایک خاص لمحہ چھوٹ گیا تو وہ لمحہ دوبارہ نہیں آئے گا۔ ایک اچھی تصویر صرف تکنیکی مہارت سے نہیں بنتی بلکہ اس کے لیے ’دیکھنے والی آنکھ‘ اور ’سوچنے والاذہن‘ بھی  ضروری ہے۔ کیمرہ تو محض ایک آلہ ہے، لیکن وہ تصویر جو دل کو چھو جائے یا کوئی داستان سنا جائے، صرف وہی فوٹوگرافر کھینچ سکتا ہے جو لمحے کی اہمیت کو پہچان کر فوراً ردِعمل دے۔ اس لیے فوٹو جرنلزم صرف ایک فن نہیں بلکہ لمحوں کو زندہ رکھنے کی وہ صلاحیت ہے جو ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔وہ ایک جگہ اور لکھتے ہیں کہ:

’’اخباری فوٹو گرافر کے لیے بھی تصویروں میں غیر جانبداری کا مظاہرہ کرنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ اخباری رپورٹر یا کسی دوسرے اخبار نویس کے لیے ضروری ہے۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا کہ فوٹو گرافر کے لیے رپورٹ سے زیادہ ضروری ہے کہ وہ اپنا کام غیر جانبداری اور پیشہ ورانہ دیانت داری سے سرانجام دے اس لیے کہ تصویر پر لوگوں کو تحریر سے زیادہ اعتماد ہوتا ہے مثل مشہور ہے کہ’’آنکھوں دیکھی کانوں سنی سے زیادہ معتبر ہوتی ہے‘‘، تصویر کسی بھی اخبار رسالے، کتاب اشتہار یا پمفلٹ کے قاری کے لیے کسی وقوعے کا آنکھوں دیکھا حال ہوتی ہے۔ لہٰذا کوشش یہ کرنی چاہیے کہ تصویر ایسے زاویے اور اس انداز سے نہ بنائی جائے جو لوگوں کو غلط فہمی میں مبتلا کر دے، اس کے علاوہ کیمرہ ٹرک یا ڈارک روم تکنیک'' سے تصویر میں جوڑ توڑ کرنا یا کسی واقعہ کو غلط رنگ میں پیش کرنا انتہائی بد دیانتی پرمبنی ہے۔‘‘

(تصویری صحافت،پروفیسر مہدی حسن)

فوٹو جرنلزم ایک ایسا شعبہ ہے جو نہ صرف خبروں کو بصری انداز میں پیش کرتا ہے بلکہ دیکھنے والے کے ذہن پر گہرے نقوش چھوڑتا ہے۔ تصویر صرف ایک فریم نہیں ہوتی بلکہ وہ ایک لمحے کی سچائی، ایک واقعے کی گہرائی اور کئی جذبات کی ترجمانی کرتی ہے۔ ایسے میں فوٹو جرنلسٹ کی سب سے بڑی ذمہ داری سچ کو بغیر کسی تحریف کے پیش کرنا ہے، اور یہ تب ہی ممکن ہے جب اس کے کام میں غیر جانبداری اور دیانتداری کا پہلو نمایاں ہو۔غیر جانبداری کا مطلب یہ ہے کہ فوٹوگرافر ذاتی، سیاسی یا مذہبی تعصبات سے بالاتر ہو کر صرف حقیقت کو کیمرے کی آنکھ سے قید کرے۔ وہ کسی خاص نظریے کی تائید یا مخالفت کے لیے تصویر نہ کھینچے بلکہ جو کچھ ہو رہا ہے، اُسے ویسا ہی دکھائے جیسا وہ ہے۔

اسی طرح دیانتداری کا تقاضا یہ ہے کہ فوٹوگرافر تصویر کو ایڈیٹنگ یا تکنیکی چالاکی کے ذریعے مسخ نہ کرے۔ فوٹو جرنلسٹ کا کردار دراصل ایک گواہ کا ہوتا ہے ایسا گواہ جو زبان سے نہیں بلکہ کیمرے سے گواہی دیتا ہے۔ اس گواہی میں اگر سچائی، توازن اور غیر جانبداری نہ ہو تو پھر صحافت محض پروپیگنڈہ بن جاتی ہے۔ دیانتدار فوٹوگرافر وہی ہوتا ہے جو ذاتی فائدے، شہرت یا نظریاتی مفاد کے لیے سچ کو قربان نہ کرے۔یہ بھی ضروری ہے کہ فوٹوگرافر اپنے ذاتی جذبات پر قابو رکھتے ہوئے مظلوم و ظالم دونوں کے چہرے دکھا سکے۔ کیونکہ صحافت کا مقصد انصاف دلانا نہیں بلکہ حقیقت کو بے نقاب کرنا ہے، انصاف تو قارئین، ناظرین اور تاریخ کو کرنا ہے۔آخر میں، ایک سچی اور غیر جانبدار تصویر وقت کے سینے پر وہ نقش چھوڑتی ہے جو برسوں تک لوگوں کے ذہنوں میں زندہ رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فوٹو جرنلسٹ کا کیمرہ ایک مقدس امانت ہے، جسے ایمانداری اور غیر جانبداری سے استعمال کرنا اس کے پیشے کا اولین تقاضا ہے۔

 

Abdul Razzaque

Dept of Urdu

Delhi University

Delhi- 110007

Mob.: 8574614504

abdul.rij!gmail.com



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تازہ اشاعت

ا ردو دنیا،اکتوبر 2025