5/1/26

قدیم تہذیبوں میں طبی اخلاقیات کا تصور،مضمون نگار: حکیم فخر عالم

 اردو دنیا،ستمبر 2025

  ہمورابی کے طبی ضوابط

سب سے پہلے تمدن سے آشنا ہونے والے دنیا کے خطوں میں ایک نہایت قابل ذکر نام بابل کاہے۔ یہاںکے حکمرانوںمیںہمورابی چھٹابادشاہ تھا، اس کا زمانہ حکومت 1750۔1792ق م کا ہے۔ یہ بابلی بادشاہوں میں ضابطۂ قوانین کے حوالہ سے خاص شہرت رکھتا ہے۔ اس کے عہد کا یہ بڑا کارنامہ ہے کہ اس نے ہر شعبۂ حیات کے لیے قوانین وضع کیے اور ان کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنایا۔

ہمورابی نے آ ہنی اور سنگی ستونوں پر شاہی فرمان کی صورت میں قوانین کندہ کروا کے شہر کے مختلف حصوں میں نصب کروائے تاکہ لوگ انھیں پڑھ کر عمل پیرا ہوں۔  ہمورابی کے ان قوانین میں شہریوں کے حقوق اور ملکی نظام کی روشنی میں حدود و قیود کا تذکرہ ہے۔ ان کے آثار فرانس کے میوزیم میں محفوظ ہیں۔ ان میں 280 ضابطوں کا ذکر ہے، ان قوانین میں طب کے بعض ضوابط بھی ملتے ہیں۔ اب تک کے دستیاب حوالوں میں یہ دنیا کے قدیم ترین طبی ضابطے ہیں۔1

ضابطہ نمبر215سے 225تک کا تعلق طبی پیشہ سے ہے، اس میں خاص طور پر طبیب کی فیس، اس کی ذمہ داریوں اور کوتاہی کی صورت میں عائد جرمانوں کا تذکرہ ہے، طبیب کی فیس کے سلسلے میں یہ بات اہم ہے کہ یہ مریض کی سماجی حیثیت کے لحاظ سے متعین کی گئی تھی، یہ ضوابط درج ذیل ہیں:2

.215   اگرڈاکٹر کسی آزاد شہری کے کسی شدید زخم کا علاج دھات کے چاقو سے کرے اور اس آزاد شہری کو تندرست کردے یا کسی آزاد شہری کی آنکھ کے ڈھیلے پر دھات کے چاقو سے عمل جراحی کرے اور اس کی آنکھ بنادے تو وہ اسے دس شیکل چاندی فیس دے۔

.216   اگر وہ مریض کسی عامی کا بیٹا تھا تو اسے پانچ شیکل چاندی فیس دی جائے۔

.217   اگر وہ مریض غلام تھا تو غلام کا مالک ڈاکٹر کو دو شیکل چاندی ادا کرے۔

.218   اگر کوئی ڈاکٹر کسی شخص کے کسی شدید زخم کا علاج دھات کے چاقو سے کرے، جس سے اس شخص کی موت ہوجائے یا چاقو سے کسی شخص کے ڈھیلے پر عمل جراحی کرے اور اس سے اس شخص کی آنکھ بیکار ہوجائے تو اس ڈاکٹر کے ہاتھ کاٹ ڈالے جائیں۔

.219   اگر کوئی ڈاکٹر کسی عامی کے غلام کے کسی جدید زخم کا علاج دھات کے چاقو سے کرے، جس سے اس غلام کی موت واقع ہوجائے تو وہ غلام کی جگہ غلام دے۔

.220   اگر وہ اس غلام کے ڈھیلے میں چاقو سے شگاف دے، جس سے اس کی آنکھ بیکار ہوجائے تو وہ اس غلام کی قیمت کے نصف کے برابر چاندی ادا کرے۔

.221   اگر کوئی ڈاکٹر کسی آزاد شہری کی ٹوٹی ہوئی ہڈی جوڑ دے یا اس کا سڑا ہوا گوشت ٹھیک کردے تو مریض ڈاکٹر کوپانچ شیکل چاندی فیس ادا کرے۔

.222   اگر وہ مریض کسی کا غلام ہے تو غلام کا مالک ڈاکٹر کو دو شیکل چاندی فیس دے۔

.223   اگر بیلوں اور گدھوں کا معالج (سالوتری) کسی بیل یا گدھے کے شدید مرض کا علاج کرے اور اسے ٹھیک کردے تو بیل یا گدھے کا مالک سالوتری کو 4/1شیکل چاندی فیس ادا کرے۔

.224   اگر وہ بیل یا گدھے کے شدید زخم کا علاج کرے اور اس سے جانور مرجائے تو سولوتری جانور کی قیمت کا ایک چوتھائی بیل یا گدھے کے مالک کو ادا کرے۔

بقراط کی وصیت

طبیب کے لیے مطلوب اوصاف و خصائل پر مشتمل بقراط نے ’ترتیب الطب‘ کے نام سے ایک وصیت لکھی تھی۔ اس کا متن درج ذیل ہے:

’’طب کے طالب علم کو اپنی ذات میں آزاد اور مزاج میں عمدہ ہونا چاہیے۔ کم عمر ہو، قدوقامت معتدل اور اعضا متناسب ہوں۔ فہم و ادراک بہتر، گفتگو عمدہ، اصابتِ رائے کا مالک، عفیف، پاکدامن اور بہادر ہو، زرپرست نہ ہو، غصہ کے وقت نفس پر قابو رکھتا ہو، غصہ حد سے زیادہ نہ کرتا ہو۔ بلید اور کند ذہن نہ ہو۔ مریض کا غم گسار ہوا ور اس کے حق میں مشفق ہو۔ تلخ کلامی اور بدزبانی کو برداشت کرتا ہو، کیوں کہ کچھ لوگ ہمارے سامنے ایسے بھی آئے ہیں جو برسام اور سوداوی وسوسہ کے مریض تھے، ہمیں ان کو برداشت کرنا چاہیے اور یاد رکھنا چاہیے کہ گالی گلوج کرنا ان مریضوں کا شیوہ نہیں ہے، ان میں یہ بات خارجی طور سے پیدا ہوگئی ہے۔ سرمنڈائے تو اس میں اعتدال ملحوظ رکھے، نہ اسے بالکل ہی منڈا دے، نہ اس طرح چھوڑ دے کہ گیسو بن جائے، ہاتھ کے ناخن حد سے زیادہ نہ تراشے، نہ انھیں اس طرح چھوڑ دے کہ انگلیوں کے کناروں پر دراز ہوجائیں۔ کپڑے سفید، صاف ستھرے اور ملائم ہوں۔ رفتار میں عجلت نہ ہو، کیونکہ یہ طیش کی دلیل ہے۔ نہ سست رفتار ہو کیوں کہ اس سے ضعفِ نفس کا اظہار ہوتا ہے۔ مریض کے یہاں آئے تو آلتی پالتی مارکر بیٹھے اور سکون و وقار کے ساتھ اس کے حالات معلوم کرے۔ قلق اور اضطراب کی حالت میں نہ ہو۔ میرے نزدیک یہ پوشاک، یہ شکل و صورت اور ترتیب نہایت افضل ہے۔‘‘3

قدیم ہندوستان میں طبی اخلاقیات

طب ویدک میں اخلاقیات کی تعلیم زمانۂ قدیم ہی سے نصاب کا لازمی جز رہی ہے۔ چرک،سشرت اور بھائو پرکاش وغیرہ کی تصنیفات میں پیشہ ورانہ قدروں کا مفصل بیان اور ایک وید کی مطلوبہ اہلیت، طرزِ بود وباش اور سماجی و معاشرتی رویوں کا تفصیلی ذکر ملتا ہے۔ ایک اچھا وید وہ شخص سمجھا جاتا ہے جو نظری اور عملی معلومات کا حامل ہونے کے ساتھ، آیوروید کے آٹھوں مضامین کا علم اور شاستروں کا گیان رکھتا ہو، ویدک طالب علم کے لیے جذباتیت، غصہ، حرص و طمع، کبر و نخوت، بغض وحسد، کذب و افترا، مکر و فریب، تساہل پسندی اور اس قسم کی دوسری بری عادتوں کو ناپسندیدہ قرار دیاگیا ہے۔ ایک وید سے راست بازی، زہد و تقویٰ اور خدا ترسی کی امید کی جاتی ہے اور توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس فن کو خدمت کا وسیلہ سمجھتے ہوئے حاملینِ مذہب، غربا اور نادار مرضا، مسافروں اور اعزہ و احباب وغیرہ کا مفت علاج کرے گا۔ ویدک اخلاقیاتمیں قصابوں، چڑی بازوں، نچلے طبقہ کے لوگوں اور مجرموں کے علاج سے منع کیاگیا ہے۔  ویدک اخلاقیات کے مطابق ہرکس و ناکس طبِ ویدک کا علم حاصل نہیں کرسکتا، محض برہمن، کھتری یا ایسا ویش ہی اس کی تحصیل کا مجاز ہے، جو بہترین دل و دماغ رکھتا ہو۔ وید کو تاکید کی جاتی ہے کہ وہ مال و زر کی طمع اور شہرت و ناموری کی خواہش سے بے نیاز ہوکر صرف جذبہ ترحم اور جذبہ انسانیت کے تحت معالجاتی خدمت انجام دے۔ 4

کسیاپاسمہتا (Kasyapa Samhita) میں وید کے اوصاف و خصائل کے تعلق سے نصیحت کی گئی ہے کہ وہ صاف ستھری اور سفید پوشاک زیب تن کرے، بالوں کو سنوارے، اگردراز ہوںتو گرہ بند کرلے۔ راستہ چلتے وقت ہر طرف نظر رکھے اور آگے بڑھتا رہے۔ جب کسی سے ملے یا اس سے کوئی ملنے آئے تو تخاطب میں پہل کرے۔ ہر ایک کے ساتھ دوستانہ اور مشفقانہ برتائو کرے۔ بغیر بلائے کسی مریض کے گھر نہ جائے۔ جب جائے بھی تو صرف مریض پر دھیان دے، کسی اور پر نظر نہ رکھے۔ گھر کی خادمائوں اور دیگر خواتین سے ہنسی مذاق نہ کرے اور نہ انھیں غیر شائستہ انداز میں مخاطب کرے۔ ان سے زیادہ بات نہ کرے اور نہ تو زیادہ اپنائیت کا اظہار کرے۔ پیشگی اطلاع کے بغیر مریض کے گھر نہ جائے۔ کسی کے گھریلو راز کا افشانہ کرے اور نہ ہی وہاں کی خامیوں کو بڑھا چڑھاکر  بیان کرے۔ اگر مریض کی حالت نازک ہو یا بحرانی علامتیں ظاہر ہونے لگیں تو اس کی اطلاع مریض کو نہ دے۔ایسے مریض جن کی موت کم و بیش یقینی ہو یا جن کو لا علاج مرض ہو یا ایسے مریض جن کے علاج کے لیے ضروری سہولتیں مہیا نہ ہوں تو ان کے معالجے سے احتراز کرے۔ مریض کا مشاہدہ و معائنہ بہت غور سے کرے۔ مریض کی جسمانی کیفیت، عمر اور مرض وغیرہ کی تفصیلی معلومات حاصل کرے۔ ضروری ادویہ اور علاج و معالجہ سے متعلق ساز و سامان اپنے ساتھ رکھے۔ ہم پیشہ طبیبوں سے کسی قسم کی رقابت نہ رکھے، بلکہ بوقت ضرورت ان سے رائے مشورے کے بعددوائیں تجویز کرے۔ اگر کوئی شخص یا طبیب اس کے طریقۂ علاج پر تنقید کرے تو اس پر غور کرے اور اپنے علم و تجربہ کی روشنی میں اسے مطمئن کرنے کی کوشش کرے۔ بات ہمیشہ صاف ستھری لاگ لپیٹ کے بغیر کرے۔ گفتگو پرُ مغز،شیریں، شائستہ اور شستہ ہو۔ مختلف فیہ مسائل پر گفتگو سے اجتناب کرے۔ گفتگو ایسی کرے جو آفاقی طور پر طے شدہ اصولوںپر مبنی ہو۔

جو طبیب ان اصولوں پر کار بند رہتا ہے اور لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتا ہے توگویااس کی زندگی تقویٰ کی ہے، یقینا ایسے شخص کو دنیوی اور اخروی کامیابی نصیب ہوگی۔5,6

حوالہ جات

1

Tharwat Mohammaed Halwani, Medical laws and ethics of Babylon as read in Hammurabi's Code (History), The Internet Journal of Law, Health Care and Ethics. Vol.4,2006

2

مالک رام (2012) ہمّوربی اور بابلی تہذیب و تمدن، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، دہلی، ص 52-51

3

ابن ابی اصیبعہ (1990)، عیون الانبا فی طبقات الاطبا، ج 1(اردو ترجمہ)، سی سی آر یو ایم، نئی دہلی، ص71-70

4

Hakeem Abdul Hameed,Medical Ethics in Medieval Islam, Studies in Philosophy of Medicine, Vol. No. 2, June 1977. pp.108-124

5

Kasyapa Samhita (Vimana Samhita) (Chapter No.1) Translatedby Dr. D.V Subba Reddy, Published by Chaukamba Sanskrit Series, Banaras. p. 60

6

Medical Ethics in Ancient India by D.V Subba Reddy, Indian Journal of Dermatology & Venerelogy: Oct-Dec. 1961, pp. 198-99

ماخذ: طبی اخلاقیات، مصنف: حکیم فخر عالم، پہلی اشاعت: 2023، ناشر: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی

 


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تازہ اشاعت

فارسی شاعری میں داراشکوہ کا ادبی و فکری مقام،مضمون نگار: نوید جعفری دہلوی

  اردو دنیا،اکتوبر 2025 فارسی شعر وادب میں دارا شکوہ کی ادبی، فکری اور صوفیانہ حیثیت اب تک تحقیقی دنیا میں مکمل طور پر اجاگر نہیں ہو سکی تھی...