5/1/26

ایجوکیشنل بک ہاؤس، علی گڑھ: سفر سو برسو ںکا،مضمون نگار:اسعد فیصل فاروقی (1925 تا 2020)

اردو دنیا،ستمبر 2025 



علی گڑھ مسلم یونیورسٹی قوم و ملت کا وہ ادارہ ہے جس کے آس پاس علم کا وہ شہر بسا ہوا ہے جس کی خوشبونے ایک دنیا کو معطر کیا ہے۔ اس کے آس پاس ایسے بہت سے ادارے قائم ہوئے جو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور اس کے خیر خواہان کی وجہ سے وجود میں آئے ۔ ایسے ہی ایک ادارہ ایجوکیشنل بک ہائوس بھی ہے۔ قوموں کے عروج و زوال میں ادارے بنتے ہیں، بگڑتے ہیں۔نجی اداروں کی ویسے ہی زندگی کم ہوتی ہے۔ مگروہ ادارے جو قوم کی خدمت کے لیے کھڑے ہوتے ہیں، جن کا مقصد علم پروری ہوتا ہے، وہ ایک مضبوط سایہ دار درخت کی طرح کھڑے رہتے ہیں، جس کے سایہ میں بہت سے مسافر آرام کرتے ہیں۔

ویسے بھی ہمارے یہاں اداروں میں ٹوٹ پھوٹ جلدی ہوتی ہے اور وہ انتشار کا شکار ہوجاتے ہیں، لیکن اگر کوئی ادارہ قوم، ثقافت، تہذیب اور علم کی خدمت کے لیے وجود میں آتا ہے اور اس کے اندر اس کام میں جنون، خلوص ، اور نیک نیتی ہوتی ہے تو ان کی ترقی کو کوئی روک نہیں سکتا۔ آج یہ ناچیز جس ادارہ کی بات کررہا ہے، وہ صرف ایک ادارہ نہیں، بلکہ اس نے اپنی محنت، خلوص سے ایک ایسے علمی مرکز کے طور پر قومی اور بین الاقوامی سطح پر شناخت قائم کی ہے جس نے علی گڑھ کی علمی و ادبی کاموں کو دور دراز تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا اور اس کی یہ پہچان آج بھی قائم ودائم ہے۔ یہ ادارہ ایجوکیشنل بک ہائوس علی گڑھ ہے۔ یہ صرف ایک ادارے کا ایک یا دو برس کا سفر نہیں ہے، یہ کہانی پورے سو برس کی کہانی ہے۔

 علی گڑھ میں اشاعتی اداروں کی تاریخ میں ایجوکیشنل بک ہائوس بہت اہمیت کا حامل ہے ، جو ایک زمانہ سے اردو کی ترقی، اس کے فروغ  کے لیے کوششوں میں لگا ہوا ہے اور ایک زمانہ کو روشن کررہا ہے۔ ایجوکیشنل بک ہائوس کا آج یہاں تفصیل سے ذکر کرنا اس لیے بھی ضروری ہے، کیونکہ آج ہم اس کے قیام کی ایک صدی منا رہے ہیں۔

علی گڑھ میںکتاب کی اولین دوکان

اگر علی گڑھ میں کتاب کی دوکان کی تاریخ کو بیان کیا جائے تو اس میں بھی سرسید کو اس معنی میں اولیت حاصل ہوتی ہے کہ انھوں نے پہلی مرتبہ علی گڑھ میں ایک کتاب کی دوکان قائم کرنے کی کوشش شروع کی اور اس کے لیے ایک فنڈ کا بھی آغاز کیا۔ سرسید علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ کے7جولائی 1888کے شمارے میں کتابوں کی دوکان کے قیام کے سلسلہ سے ایک اشتہار دیتے ہیں جس کا عنوان ’ایک تجارتی دوکان کتابوں اور اسٹیشنری یعنی سامان نوشت وخواند کے فروخت کی علی گڑھ میں‘ ہے۔ اس عنوان کے تحت سرسید درج کرتے ہیں:

’’چونکہ علی گڑھ کے ضلع میں تعلیم کی روز بروز ترقی ہوتی جاتی ہے اور کالج اور اسکولوں کے لیے انگریزی اور فارسی وعربی وغیرہ ہر قسم کی کتابوں اور سامان نوشت وخواند کی ضرورت بڑھتی جاتی ہے اور دوکان کتب فروشی اور اسٹیشنری کی علی گڑھ میں نہیںہے اس لیے ہمارا ارادہ ہے کہ طور لمیٹڈ کمپنی کے ایک دوکان کتب فروشی و دیگر سامان تعلیم و نوشت وخواند کی علی گڑھ میں قائم کریں۔ یہ تجویز ہے کہ اس دوکان کا سرمایہ دو ہزار پانسو روپیہ قرار دیا جاوے اور پچاس حصہ اس کے مقرر ہوں فی حصہ پچاس روپیہ اور جب کہ پچاس حصوں کے خریدار موجود ہو جاویں گے تو ایک دن مقرر کرکے سب کو جمع کریں گے اور اس کے قواعد اور طریق کاروائی آپس کی صلاح سے مقرر کریں گے پس جس صاحب کو اس میں شریک ہونا ہو اس سے ہم کو مطلع فرماویں اور یہ بھی تحریر کریں کہ وہ کس قدر حصوں کے خریدار ہوں گے۔ 

بالفعل مندرجہ ذیل حصہ دار شریک ہوئے ہیں :

سید احمد خاں راقم آثم دوحصہ

مولوی خواجہ محمدیوسف صاحب دوحصہ

سید ولایت حسین صاحب بی اے دو حصہ

 سید کلن صاحب ایم دو حصہ

 منشی محمد سعید احمد صاحب ایک حصہ

مولوی عبد الغنی ایک حصہ

علی گڑھ یکم جولائی سنہ 1888راقم سید احمد خاں۔‘‘

(علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ، مورخہ 7 جولائی1888، ص764)

سرسید کی یہی کتابوں کی دوکان’کالج بک ڈپو‘ کے نام سے مشہور ہوئی اور ایک عرصہ تک کالج کے طلبا کی کتابوں کی ضرورت کو تکمیل کرتی رہی ۔ مسلم یونیورسٹی کے قیام سے قبل کالج میں ’کالج بک ڈپو‘ اچھی حالت میں تھا، جس کے نگراں میر ولایت حسین تھے۔ آپ بیتی میں میر ولایت حسین درج کرتے ہیں:

’’اس میں اسٹیشنری کے ساتھ بعض کتابیں، سرسید، مولانا شبلی، مولوی نذیر احمد اور مولوی حالی کی بھی رکھ لیں، اور ان کی فہرست طبع کرائی، جس کا مقدمہ مولانا شبلی نے لکھا۔ یہ فہرست شائع کی اور اس کے ذریعہ سے ہماری کتابیں باہر جانے لگیں۔‘‘

ایجوکیشنل بک ہاؤس کا قیام

1920میں کالج بک ڈپو کے منیجرمیر ولایت حسین صاحب سبکدوش ہو گئے ان کے بعد اس بک ڈپو کی حالت ویسی نہیں رہی اور وہ جلد ہی بند ہوگیا۔ اس دوران یونیورسٹی کا قیام بھی دسمبر1920 کو عمل میں آگیا۔ یونیورسٹی کے قیام کے بعد لڑکوں کو یونیورسٹی کے قریب ایک کتابوں کی دوکان کی ضرورت تھی جہاں سے وہ کتابوں کے علاوہ اپنے لکھنے پڑھنے کا سامان بھی لے سکیں کیونکہ کتابوں اور دیگر اسٹیشنری کی اشیا کی خرید و فروخت کے لیے بڑی دقتوں کا سامنا تھا۔ لڑکوں کی ان ضروریات کو ملحوظ رکھتے ہوئے 1925میں   محمدعبدالشہید (1898-1968)جو کہ میرٹھ کے رہنے والے تھے اور علی گڑ ھ محمڈن کالج کے طالب علم رہ چکے تھے، نے یہ اہم کام اپنے ذمہ لیا اور کتابوں کی ایک دوکان تصویر محل اور مسیحی قبرستان کے پاس فلر روڈ، پر کھولی ، اور نام رکھا ایجوکیشنل بک ہائوس۔ اس طرح انھوں نے کالج بک ڈپو کے بند ہونے کے بعد علمی خلا کو پورا کیا۔

شمشاد مارکیٹ میں:

1928 میں صاحبزادہ آفتاب احمد خاں (1867-1930) کے فرزند صاحبزادہ شمشاد احمد خاں(1888-1954) نے مسلم یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبا کے فائدے کے لیے ایک مارکیٹ کی تعمیر کروائی اور ان کے نام کی مناسبت سے یہ مارکیٹ ’شمشاد بیولڈنگ‘ کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس مارکیٹ کے درمیان میں مسجد ہے اور آس پاس دوکانیں ہیں۔ اس میں انھوں نے اساتذہ اور طلبا کی عام ضروریات کی چیزوں کی دوکانیں قائم کیں۔ اس سلسلہ میں انھوں نے سب سے پہلے محمد عبدالشہید مالک ایجوکیشنل بک ہائوس سے یہ درخواست کی کہ وہ بھی اپنی کتابوں کی دوکان کو شمشاد مارکٹ میں منتقل کریںتاکہ ان کے طلبا اور اساتذہ کو آسانی ہو، اور ان کو کتابیں اور اسٹیشنری کا دوسرا سامان خریدنے کے لیے دور نا جانا پڑا کرے، جس کو انھوں نے فوراًمان لیا۔اس طرح سے ایجوکیشنل بک ہائوس 1928 میں شمشاد مارکیٹ منتقل ہوگیا۔ 1929 میں علی گڑھ میگزین میں جو اشتہارایجوکیشنل بک ہائوس کا شائع ہوا، اس کے مطابق ’’Educational Book House, Book Sellers, Publishers, and Stationers, Civil Lines, Shamshad Building, No. 1, (New Swimming Baths)‘‘۔ اس اشتہار کے مطابق یہ ادارہ نہ صرف کتابوں کی فروخت اور اشاعت کرتا ہے بلکہ مسلم یونیورسٹی میں داخلے سے متعلق تمام اطلاعات بھی فراہم کرتا ہے۔جس کوداخلے سے متعلق اطلاعات حاصل کرنا ہو ،وہ ایک آنہ ٹکٹ کے ساتھ خط کو بھیجے تاکہ فوراً جواب دیا جاسکے۔

 شمشاد بلڈنگ کی تعمیر کے سلسلہ میں سرسید اورعلی گڑھ تحریک کے ممتاز مورخ افتخار عالم خاں صاحب نے بھی اپنی کتاب ’مسلم یونیورسٹی کی کہانی ، عمارتوں کی زبانی1920تا 1947‘میں روشنی ڈالی ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ مارکیٹ 1929میں صاحبزادہ شمشاد احمد خاں نے اپنی والدہ کے سرمایہ سے تعمیر کروائی تھی، اور اس کی تعمیر میں 30 ہزار روپیہ خرچ آیا تھا۔ اس عمارت کا افتتاح سابق وائس چانسلر نواب سر محمد مزمل اللہ خاں صاحب نے کیا تھا۔صاحبزادہ شمشاد احمد خاں کی خواہش تھی کہ یونیورسٹی اس مارکیٹ کو کرائے پر لے لے لیکن یہ بات طے نہیں ہوپائی۔ اس میں کل 18 دوکانیں تھیں اور درمیان میں ایک مسجد تھی جو صاحبزادہ شمشاد احمد خاں کی والدہ کے نام پر ہے ۔ اس میں درزی، دودھ دہی، پرچونی، ڈبل روٹی، جنرل مرچنٹ، ایجوکیشنل بک ہائوس، پان بیڑی، مرمت سائیکل، سامان سائیکل، گوشت وغیرہ کی دوکانیں تھیں۔ جو اہم بات یہ ہے کہ جدول میں جو کرایہ درج ہے اس میں سب سے زیادہ کرایہ ایجوکیشنل بک ہائوس 31 روپے دیتا تھا، جبکہ باقی دوکانوں کا کرایہ صرف 5 روپے تھا۔

( مسلم یونیورسٹی کی کہانی ، عمارتوں کی زبانی 1920تا 1947، ایجوکیشنل بک ہائوس، علی گڑھ، 2006،ص161-65)

ایجوکیشنل بک ہائوس کا ایک اشتہار جو سرگزشت، سرسید نمبر یکم مارچ 1930میں شائع ہوا  میں لکھا ہے:

’’ایجو کیشنل بک ہائو ، سول لائن علی گڑھ نے اپنے حسن معاملات و راست گوئی کے باعث نہ صرف علی گڑھ بلکہ دور دراز کے ممالک میں بھی خریداروں کو اپنا گرویدہ بنالیا ہے۔ آج ہر شخص جس کو کہ ایک مرتبہ ’ایجوکیشنل بک ہائوس‘ سے معاملہ کا اتفاق ہوا ہے۔ اس کی راستی اور فوری تعمیل کے لیے معترف ہے۔ قوی امید ہے کہ آپ ہر کتابی ضرورت پر سب سے پہلے ایجوکیشنل بک ہائوس کو یاد فرمائیں گے۔ایجوکیشنل بک ہائوس آپ کی مطلوبہ کتب کی تعمیل کے لیے کسی امکانی کوشش سے باز نہ رہے گا۔ مفصل پتہ یہ ہے۔ ایجوکیشنل بک ہائوس۔ بک سیلرز و اشٹیشنرز، سول لائن، شمشاد بلڈنگ متصل سوئمنگ باتھ کلب ، علی گڑھ‘‘()

ابتدائی کتابوں کی اشاعت

 ایجوکیشنل بک ہائوس کی قدیم فہرستوں کی تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ آزادی سے قبل ہی ایجوکیشنل بک ہائوس نے کتابوں کی اشاعت کا کام بھی زور شور سے شروع کردیا تھا۔ عام طور پر دیکھا یہ جاتا ہے اردو اشاعتی ادارے صرف ادبی اور دینی کتابوں کے اشاعتی مرکز بن کر رہ جاتے ہیں، اور ان کے یہاں سے علوم و فنون کی کتابیں شائع نہیں ہوتیں، لیکن ایجوکیشنل بک ہائوس نے اس بات کا خاص خیال رکھا کہ اس کے یہاں سے ادب کے علاوہ دیگر علمی موضوعات پر بھی کتابوں کی اشاعت ہو۔ اس طرح اس نے مختلف علوم و فنون پر کتابوں کی اشاعت کی آغاز سے ہی کوشش کی۔ اس سلسلہ میں اس نے نفسیات، سماجیات، مذہب وفلسفہ، تاریخ و تہذیب ، سیاسیات، تعلیم ، سائنسی اور سماجی علوم نیز شعرو ادب پر بھی کتابوں کو شائع کیا۔ ابتدائی اردو کتابوں میں جو کتابیں شائع ہوئیں، ان میں پہلی کتاب ’کائنات ادب‘ ہے۔ اس کے علاوہ ’مخزن ادب‘، ’سخن نو‘، ’دہلی کا ایک یادگار آخری مشاعرہ‘، ’داستاں رانی کیتکی اور کنور اودے بھان کی‘،’بچوں کی تربیت‘، ’العقیدہ الحسنہ‘، ’احسن الانتخاب‘ وغیرہ جو آزادی سے قبل ایجوکیشنل بک ہائوس کی اشاعتی سرگرمیوں کی یادگار ہیں۔

آزادی کے بعد نیا آغاز

 تقسیم ہند کے سانحہ نے دونوں ملکوں کے لوگوں کو وطن چھوڑنے پر مجبور کیا۔اسد یار خاں بتاتے ہیں ان کے والد کے کئی عزیزوں نے ان کے والد محمد عبدالشہید سے یہ کہا کہ وہ بھی پاکستان چلیں لیکن پروفیسر رشید احمد صدیقی اور آل احمد سرور نے ان کو مشورہ دیا کہ وہ یہیںاپنا کام جاری رکھیں، اس طرح ان کے والد نے یہ خیال دل سے نکال دیا۔ شمشاد مارکیٹ بلڈنگ میںایجوکیشنل بک ہائوس کا قیام آزادی کے بعد 1951 تک رہا۔اس کے بعد ان کی یہ دوکان حامد بلڈنگ کانفرنس مارکیٹ میں منتقل ہوگئی اور شمشاد بلڈنگ کی دوکان کو اسٹور کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔آزادی کے بعد جن کتابوں کی اشاعت ایجوکیشنل بک ہائوس کے ذریعہ عمل میں آئی ان میں ڈاکٹر ہاشم قدوائی ، لکچرر پولٹکل سائنس، علی گڑھ کی تصنیف ’جمہوریہ ہند کے جدید دستور اساسی کا خاکہ‘ ہے جو کہ 1951 میں شائع ہوئی۔ ’جمہور‘ ، علی گڑھ کے مورخہ26دسمبر 1951 کے شمارے میں ایجوکیشنل بک ہائوس کی جانب سے اس کتاب کا ایک اشتہار شائع ہوا۔اشتہار میں درج ہے:

’’زیر نظر کتاب میں مصنف نے جمہور ہند کے جدید دستور کو بیان کیا ہے ، دستور سے متعلق جملہ ضرور ی باتیں اس میں آگئی ہیں۔ یہ کتاب نہ صرف طلبہ بلکہ ہندوستانی سیاسیات سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے بڑے کام کی ہے۔ صدق ، معارف ، الجمعیتہ ، تنویر اور جمہور نے اپنے ریویو  میں مصنف کو اس مفید کتاب کی اشاعت پر مبارکباد دی ہے۔ ڈاکٹر سید محمود وزیر ترقیات حکومت بہار، اور پروفیسر ہارون خاں شیروانی صدر شعبۂ سیاسیات عثمانیہ یونیورسٹی نے اسے بہت پسند کیا ہے۔‘‘ (جمہور، 26دسمبر 1951)

جامعہ اردو کے ابتدائی سالوں میں اس کے رجسٹرار سید ظہیر الدین علوی کو درسی کتابوں کی ضرورت جب پیش آئی تو ایسے مشکل وقت میں انھوں نے محمدعبدالشہید  صاحب سے رابطہ کیا ۔ عبدالشہید صاحب نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اساتذہ کی خدمات حاصل کرکے جامعہ اردو کے لیے درسی کتابیں تصنیف کروائیں۔ ایجوکیشنل بک ہائو س نے نصابی کتابوں پر خاص توجہ دی جس کی وجہ سے طلباء اور ریسرچ اسکالروں کو سہولتیں مہیا ہوئیں۔اسی طرح ایجوکیشنل بک ہائوس نے جامعہ عثمانیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی درسی کتابوں کی اشاعت بھی انجام دی۔

14جنوری 1968میں محمد عبدالشہید صاحب کا انتقال ہوگیا اور اس کے بعد اس ادارہ کا انتظام ان کے بیٹوں اسد یار خاں ( پ1942) ،جن کو عرف عام میں علی گڑھ والے ان کو کپتان صاحب کہتے ہیں، کیونکہ وہ اپنی طالب علمی کے زمانہ میں کئی برس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی گھڑ سواری ٹیم کے کپتان تھے اور احمد سعید خاں (پ1948)جو تمام علی گڑھ والوں کے بھیا ہیں،نے بحسن خوبی سنبھالا۔ علی گڑھ کے مایہ ناز ادیب اور استاد اطہر پرویز اپنی تصنیف علی گڑھ سے علی گڑھ تک میں رقمطراز ہیں :

’’یہ پرانی دکان ہے علی گڑھ کے باہر ایجوکیشنل بک ہائوس کے نام سے مشہور ہے۔ لیکن شمشاد کے لڑکے تو اسے اسد بھائی کی دوکان کہتے ہیں۔ اسد یار خاں اپنی ذات سے انجمن ہیں کچھ لوگ ان کو کپتان صاحب بھی کہتے ہیں۔ کسی زمانے میں یہ یونیورسٹی کے رائڈنگ کلب کے کپتان تھے۔ان کی رائڈنگ کی بڑی دھوم تھی۔ ان کا اچھا خاصا اثر تھا ۔سننے میں تو یہاں تک آیا کہ رائڈنگ کلب کا راستہ اسد یار خاں کی دکان سے ہوکر گزرتا ہے۔‘‘

(علی گڑھ سے علی گڑھ تک ، اطہر پرویز، اردو گھر،ص90)

دونوں بھائیوں نے بہت کم وقت میں کتابوں کی طباعت کے معیار کو نہ صرف بلند کیا بلکہ معیاری، ادبی و علمی کتابوں کی اشاعت عمل میں بھی لائے اور جلد ہی ان کایہ ادارہ برصغیر ہندو پاک میں صف اول کا اشاعتی مرکز بن گیا۔ غالبیات، سرسیدیات، اقبالیات کے موضوعات پراس ادارہ نے اعلیٰ تحقیقی تصانیف شائع کیں۔ ادارہ نے ہندو پاک کے مرحوم ادیبوں اور شاعروں بلکہ عصر حاضر کے معروف ادیبوں اور علمی شخصیتوں کی کتابیں شائع کیں۔ ان میں اقبال، فیض احمد فیض، وزیر آغا، ابواللیث صدیقی، حسن عسکری، پروفیسر مسعود حسین خاں، اختر انصاری، خلیق احمد نظامی، محمد ہاشم قدوائی، رضا علی عابدی، آل احمد سرور، قرۃ العین حیدر، عصمت چغتائی، قمر رئیس، اسلوب احمد انصاری، خورشید الاسلام، خلیل الرحمن اعظمی، مسعود حسن رضوی ، اطہر پرویز،نورالحسن نقوی، شہر یار، ابوالکلام قاسمی، شمیم حنفی، خلیل احمد بیگ، محی الدین قادری زور، شوکت سبزواری، محمد حسن، ظہیر احمد صدیقی، فضل امام، اختر انصاری،ابن فرید، عتیق احمد صدیقی، عبادت بریلوی، سید عابد علی عابد، اطہر صدیقی، افتخار عالم خاں، ثریا حسین، اصغر عباس وغیرہ شامل ہیں۔

اطہر پرویز اپنی مذکورہ تصنیف میں اسد یار خاں، احمد سعید خاں اور ایجوکیشنل بک ہائوس کا ذکر کرتے ہوئے مزید لکھتے ہیں:

’’ایجوکیشنل بک ہائوس ،اسد یار خاں کے والد جناب عبدالشہید نے قائم کیا تھا۔ وہ عام طور پر درسی کتابوں کا کام کرتے تھے۔اب اسد یار خاں نے عام ادبی کتابوں کی اشاعت بھی شروع کردی ہے اور بعض بے حد خوبصورت کتابیں شائع کی ہیں۔ ’کلیات اقبال‘ کا صدی ایڈیشن جس اہتمام سے انھوں نے چھاپا ہے اس سے پہلے کبھی نہیں چھپا۔’الفاظ‘ کے نام سے ایک اردو جریدہ شائع کررہے ہیں۔غرض بڑی محنت سے بڑا اچھا کام کررہے ہیں۔ جب کوئی نیک کام کرنا چاہتے ہیںتو میرے پاس مشورے کے لیے ضرور آتے ہیں۔ اسدیار خاں ، دوکان کے بجائے اپنے دفتر میں بیٹھتے  ہیں۔ دوکان کی ذمہ داری احمد سعید کے سپرد ہے، احمد سعید ان کے چھوٹے بھائی ہیں۔ مگر بڑی مستعدی سے کام کرتے ہیں۔اور ایک لمحے کے لیے دوکان نہیں چھوڑتے اور شمشاد کی خبر رساں ایجنسی کا کام کرتے ہیں۔ میرے کرم فرما ہیں بلکہ یوں سمجھیے کہ میرا کام کرکے خوش ہوتے ہیں۔تاہم نام شمشاد میں اسدیار خاں کا چلتا ہے۔شاید اسی لیے شیخ سعدی نے کہا تھا کہ: ’سگ باش برادر خورد مباش‘ سعادت مند ایسے ہی لوگوں کو کہتے ہیں۔‘‘

(علی گڑھ سے علی گڑھ تک ، اطہر پرویز، اردو گھر،ص 92)

یہاں یہ بھی اظہار کردینا ضروری ہے کہ محمد عبدالشہید صاحب کے اس اشاعتی کام اور ایجوکیشنل بک ہائوس کی ترقی میں ان کی بیوی مسرت زمانی کا بھی گراں قدر کردار رہا، انھوں نے نہ صرف کتابوں کی ترتیب اورپروف ریڈنگ میں اپنے شوہر کا ہاتھ بٹایا بلکہ خواتین کی صحت اور بچوں کی نگہداشت اور تربیت پر انھوں نے کئی کتابیں بھی تصنیف کیں۔ ان کی کتابوں میں سے چند اہم ہیں،’بچوں کی تربیت‘،’ تعلیمی نفسیات کے نئے زاویے(ایجوکیشنل سائکولوجی)‘، ’رہبر تندرستی‘، ’رہبر صحت، علم خانہ داری‘۔ مسرت زمانی (1920-1998) نے تقریباً 78 برس کی عمر پائی اور ان کا انتقال 9 دسمبر 1998 کو علی گڑھ میں ہوا۔ اسی طرح سے عبدالشہید خاں کے ایک اوربیٹے ڈاکٹر محمد عارف خاں (1943- 2025) جنھوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں 10-15 برس شعبۂ کامرس میں تدریسی خدمات انجام دیں اور پھر افریقہ، اور عرب ممالک میں ایک عرصہ تک کامرس کے پروفیسر رہے، نے بھی اپنے علی گڑھ قیام کے دوران اپنے موضوع یعنی کامرس اور بینکنگ پر اردو میں کئی اہم کتابیں تصنیف کیں۔ ان کتابوں میں ’ایڈوانس اکائونٹس‘، ’جدید طریقہ و تنظیم تجارت(مبادی علم تجارت)‘، ’ بک کیپنگ اینڈ اکائونٹس‘ وغیرہ شامل ہیں۔ اس طرح محمد عبدالشہید کا پورا خاندان اردو کی بے لوث خدمت میں پیش پیش رہا، جس کی مثال شاذو نادر ہی ملتی ہے۔

 اسدیار خاں بتاتے ہیں کہ آزادی سے قبل سے ہمارے اس بک ہائوس پر رشید احمد صدیقی، حسرت موہانی، عصمت چغتائی ، معین احسن جذبی،آل احمد سرور، اسرا ر الحق مجاز، ظہیر احمد صدیقی، اطہر پرویز، قمر رئیس، جیسی ادبی شخصیات اکثر تشریف لاتیں اور ادبی محفلیں برپا ہوتی رہیں۔ ان کے درمیان ادبی موضوعات پر بحث و مباحثے ہوتے، نیز دیگر قومی اور بین الاقوامی سطح کے علمی موضوعات پر دانشورانہ گفتگو ہوتی۔ اور یہ سلسلہ کمزور تو ہوا ہے لیکن ابھی بھی جاری ہے۔

یہاں یہ واضح کرتے چلیں کہ ایجوکیشنل بک ہائوس نے اب تک تقریباً 1000 کتابیں شائع کی ہیں، ہر برس اس ادارہ کی تصانیف میں کچھ نہ کچھ اضافہ ہوتا ہے۔ایجوکیشنل بک ہائوس اردو کا وہ اشاعتی ادارہ ہے جس کو ملک کی تمام اردو اکیڈمیوں سے کتابوں کی شاندار طباعت پر انعامات حاصل ہوچکے ہیں۔ لکھنؤ میں 1979 میں نیشنل بک ٹرسٹ ، دہلی اور یوپی اردو اکیڈمی کی جانب سے پہلی قومی اردو پبلشرز کی نمائش ہوئی۔اس میں پہلا انعام ایجوکیشنل بک ہائوس کو ملا تھا۔ اسد یار خاں کہتے ہیں کہ ہم ایک زمانہ تک اردو اکیڈمیوں کو انعام کے لیے کتابیں بھیجتے رہے، لیکن بعد میں آہستہ آہستہ یہ سلسلہ بند کردیا اور زیادہ توجہ کتابوں کی شاندار طباعت پر دینے لگے ۔

ادبی رسالہ کا اجرا

1976میںایجوکیشنل بک ہائوس کے منیجر اسد یار خاں نے ایک اہم فیصلہ یہ کیا کہ اردو میں ادب کے فروغ کے لیے ایک دو ماہی ادبی رسالہ جاری کیا جائے۔ اس طرح ’الفاظ‘ کا اولین شمارہ ابوالکلام قاسمی کی ادارت میں 15اگست 1976کو منصۂ شہود پر نمودار ہوا۔  اس رسالہ نے اپنی ادبی نگارشات کی وجہ سے جلد ہی ہندوستان اور پاکستان کے ادبی حلقوں میں ایک ممتاز مقام حاصل کیا۔ اس کی مجلس مشاورت میں پروفیسر خورشیدالاسلام، خلیل الرحمن اعظمی، قاضی عبدالستار، اور نسیم قریشی جیسی اردو ادب کی ممتازو معروف ہستیاں شامل تھیں۔ 1980 کے بعد ابوالکلام قاسمی اس کی ادارت سے علیحدہ ہوگئے اور مجلس ادارت میں اطہر پرویز، نورالحسن نقوی، اسد یار خاں کا نام درج ہونے لگا۔ مینیجنگ ایڈیٹر احمد سعید خاں اور پرنٹر پبلشر اسد یار خاں تھے۔ سالانہ قیمت دس روپے اور قیمت فی کاپی دو روپے تھی۔ اس رسالہ نے تقریباً بیس برس اردو ادب کی آبیاری کی۔ا س نے ادبی حلقوں میں  اپنی الگ پہچان قائم کی اردود کی ممتاز اور معروف ادبی شخصیات نے اس کو نہ صرف پسندیدگی اور قدر کی نظر سے دیکھا بلکہ اپنی بہترین تخلیقات کو اشاعت کے لئے بھی نوازا۔ وحید اختر، ابن فرید، قاضی عبدالستار، خورشید الاسلام، عمیق حنفی، شمیم حنفی، سید امین اشرف، سید محمد اشرف، طارق چھتاری، فرحت احساس، آشفتہ چنگیزی، غیاث الرحمن، جاوید حبیب، عبید صدیقی، وزیر آغا وغیرہ بر صغیر کے وہ نثر نگار اور مشہور شعرا ہیں جن کی تخلیقات الفاظ کے اوراق کی زینت بنتی رہیں۔ الفاظ جب تک جاری رہا اس نے اردو کے نامور محققین مصنّفین نیز اردو اصناف پر کئی خصوصی شمارے شائع کئے۔معید الرحمن اپنی کتاب ’نذر ابو الکلام قاسمی‘ کے دیباچہ عرض حال میں رقمطراز ہیں:

’’قاسمی صاحب نے تنقید لکھنے کا آغاز دو ماہی رسالہ الفاظ (1976-1980) کے اداریوں اور تبصروں سے کیا۔ اس رسالے میں قاسمی صاحب نے ادب کے اہم مسائل پر بحث و مباحثہ کا سلسلہ شروع کیا۔ نثری نظم پر بڑی فکر انگیز بحثیں اس رسالہ کے ذریعہ منظر عام پر آئیں۔‘‘

الفاظ کی کتابت ریاض احمد، الہ آباد اور سرورق کی تزئین سرفراز احمد کے سپرد تھی اسرار کریمی پر یس الہ آباد سے طبع ہوتا تھا۔ ’الفاظ‘کا مقصد اردو ادب کی آبیاری کرنا نیز نئے لکھنے والوں میں سنجیدہ ادب کے تئیں دلچسپی پیدا کرنا تھا۔ اس مقصد کو واضح کرتے ہوئے ’الفاظ‘ کے پہلے شمارے کے اداریہ میں مدیر رسالہ رقمطراز ہیں:

’’الفاظ کی پہلی کتاب آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس میں ہم نے مختلف الخیال لوگوں کو اظہار خیال کی دعوت دی تھی۔ ان میں سے بعض کے جواب آپ کے سامنے ہیں۔ یہ کتاب رسالہ الفاظ کی تمہید کی شکل میں پیش کی جارہی ہے۔

علی گڑھ سے کسی ادبی جریدے کا شائع نہ ہونا تعجب کی بات ہے، اشاعت نہیں۔ اس وقت جب رسائل یکے بعد دیگرے دم تو ڑ رہے ہیں اور جو باقی ہیں ان کی اکثریت آخری ہچکیاں لے رہی ہے۔ کسی نئے رسالے کا اجرا کا خیال طویل المدتی عہدو پیمان کا دوسرا نام ہے۔ ایفائے عہد کا عزم اور حوصلہ اس کا محرک بھی ہے۔

ردعمل کے طو پر جاری ہونے والے ادبی جرائد کی عمر جذ باتی ابال سے زیادہ ہو بھی نہیں سکتی۔ الفاظ کی اشاعت نہ تو کسی رد عمل کا مظاہرہ ہے اور نہ ہی کسی خاص گروہ کاترجمان ہے۔ اگر غیر جانبداری اس کا تصور ہے تب بھی ادارے کو اعتراف میں تکلف نہیں۔ فرد کے ذہنی تحفظات اور فکری تعصبات بالکل فطری ہوتے ہیں اور ممکن ہے آپ کو بعض مشتملات سے شبہ ہو کہ رسالہ اس کا شکار ہے، مگر وہ آپ کا شبہ ہی ہوگا ادارہ کی شعوری کوشش الفاظ کو خاص لیبل سے آزا در کھنا ہے۔

ہمارے نزدیک ادبی اقدار کے پیمانے ادب سے باہر نہیں ہوتے اس لئے زیر نظر رسالے میں شائع ہونے والی تمام چیزوں کی بنیادی شرط ادبی ہونا ہے۔ ‘‘

(الفاظ، علی گڑھ اگست1976)

راقم الحروف کی ایجوکیشنل بک ہائوس سے 25-30  برس کی یادیں جڑی ہیں، اپنے بچپن میں جب وہ چھٹی جماعت کا طالب علم تھا، ایجوکیشنل بک ہائوس پر پہلی مرتبہ آنے کا موقع ملا، یہ برس 1995 کاتھا، اس کے بعد سے یہ رشتہ بتدریج ایسا مضبوط ہوا کہ گذشتہ پچیس برسوں میں ہفتے میں کم سے کم دو یاتین مرتبہ کا چکّر ضرور لگنے لگا اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ شروع کے کئی برس عصر اور مغرب کے درمیان آنا ہوتا کیونکہ ابا کا یہی حکم تھا کہ مغرب سے پہلے گھر آجایا کرو۔ جب کالج میں آئے تو مغرب کے بعد آنے لگے۔ اکثر یہ دیکھا کہ مغرب کے بعد ابوالکلام قاسمی صاحب کی محفل سجتی تھی، جس میں نہ صرف اردو ادب کے ممتاز اساتذہ اور ان کے شاگرد بھی شریک ہوتے تھے۔ یہ محفل 2017 تک جاری رہی ۔ مرحوم پروفیسر ابوالکلام قاسمی صاحب سے پہلی بار یہیں ملاقات ہوئی۔  

 یہ وہ مقام ہے جہاں پر اس ناچیز کو پہلی دفعہ علی گڑھ اور علی گڑھ سے باہر کی علم و ادب کی معروف، معتبر اور ممتاز شخصیات سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا ان میں پروفیسر ہاشم قدوائی، پروفیسرمشیر الحسن ، پروفیسر قاضی عبدالستار،منظور ہاشمی، قربان علی،رئیس نعمانی، دانش عبدالغفور اور پتہ نہیں کتنے لوگ شامل ہیں۔ 

بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ ایجوکیشنل بک ہائوس علی گڑھ کی علمی شان اور میراث کا ایک گراں قدر حصہ ہے۔ یہ ادارہ محبان اردو کی کشش کا ہمیشہ مرکز رہا ہے۔  محمدعبدالشہید اور اس کے بعد ان کے فرزندان اسد یار خاں اور احمد سعید خاں نے جس لگن، محنت اور دیانت داری سے اردو کے اس ادارے ایجوکیشنل بک ہائوس کو سینچا ، اس کے ذریعہ اردو کے فروغ کے لیے خدمات انجام دیں اور اردو کتابوں کو کم قیمت اور اچھے گیٹ اپ کے ساتھ اردو کے دور دراز علاقوں تک پہنچایا،اس نے ہندوستان میں آزادی کے بعد اردو کو تقویت بخشی اور اردو ادب کی ترویج و ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس طرح کی شاندار خدمات اردو کے کم ہی بک ہائو س اور اشاعتی اداروں کے حصہ میں آئی ہے۔ یہ ان کی اس محنت، خلوص اورجذبے کا ہی نتیجہ ہے کہ اس ادارے نے ایک صدی مکمل کرلی ہے اورآج بھی یہ ادارہ اسی طرح اردو کی خدمت میں پیش پیش ہے جو اپنے آپ میں ایک مثال بھی ہے ۔ اس صدی کی تکمیل کے سعدموقع پر ایجوکیشنل بک ہائوس اور اس کے مالکان کتابوں کے شائقین، اردو قارئین اور محبان اردو کی جانب سے مبارکباد کے مستحق ہیں۔ دعا یہی ہے کہ ایجوکیشنل بک ہائوس کی خدمات اسی طرح اردو کے لیے جاری وساری رہیں۔

 

Dr. Asad Faisal Farooqui

C/O Mrs. Mohsina Farooqi

Maulana Azad Library, AMU

Aligarh- 202002 (UP)

Mob.: 9412595891

asadfaisalamu@gmail.com

 


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...