اردو دنیا،ستمبر 2025
لوگوں کو عام اصطلاح میں یہ بتا دینے کے بعد کہ لسانیات کا
تعلق کن چیزوں سے ہے، اکثر یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ آخر اس طرح زبان کے مطالعے کا
مقصد کیا ہے ؟ یا یوں کہیے کہ یہ مطالعہ کیوں کارآمد ہے۔ ایسے سوالوں کے جواب دینے کے کئی طریقے ہیں۔ ایک
کوہ پیما کی کتاب سے مثال دیتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ میں زبان کا مطالعہ اس لیے
کرتا ہوں کہ اس کا وجود ہے، جو دلچسپ ہے، وغیرہ۔ اس ضمن میں شاید سب سے اہم وجہ یہی
ہے ۔ ایک جواب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عام لوگوں اور پڑھے لکھے لوگوں میں زبان کی
ماہیت کے بارے میں عموماً پائی جانے والی ناواقفیت کو دور کرنے کے لیے ہم زبان کا
مطالعہ کرتے ہیں۔ سوال کو گھما کر اس طرح بھی پوچھا جاسکتا ہے کہ سولہویں صدی کے
ادب یا قدیم تاریخ کے مطالعے سے کیا فائدہ ہے ؟ یہاں دلیل کے طور پر یہ کہا جاسکتا
ہے کہ زبان کو مقصود بالذات مان کر اس کا مطالعہ کرنا بھی کم فائدے مند نہیں ہے۔ لیکن
خواہشمندوں کی دلچسپی یہ سمجھنے میں ہے کہ سماج کے مختلف پہلوؤں کے لیے لسانیات کی
عملی قدر و قیمت کے تعلق سے ایک ماہر لسانیات کیا کردار اداکرتا ہے اور جیسے ہی
کوئی شخص اس سلسلہ استدلال کو سمجھنا شروع کر دیتا ہے اُسے معلوم ہوتا ہے کہ اس
سلسلے میں متعدد ایسے سوالات بھی موجود ہیں جو بالخصوص ان لوگوں کے لیے دلچسپی کا
باعث بن سکتے ہیں جو اپنی آئندہ زندگی کے بارے میں سوچ رہے ہوں، مثلاً کوئی شخص
جس نے لسانیات کا ڈگری یا کسی دوسری تعلیمی سطح تک مطالعہ کیا ہے ، وہ لسانیات سے
کیا کام لے سکتا ہے یا یہ کہ ایسے تربیت یافتہ آدمی کے لیے کیا سہولتیں فراہم ہو
سکتی ہیں۔ یہ مشکل سوال ہیں جن کا قطعی جواب دینا آسان نہیں ہے کیونکہ ابھی
نسبتاً بہت کم لوگوں نے اس مضمون میں خصوصی تربیت حاصل کی ہے ۔ بہرحال عام سطح پر
ایسے سوالوں کے تین طرح سے جواب دیے جا سکتے ہیں۔
سب سے پہلی بات یہ ہے کہ ہمیں لسانیات کی تعلیم کو محض ایک
تربیت سمجھنا چاہیے اور بس۔ یعنی ایک ایسی ذہنی تربیت جس کا معیار اس سطح کی دوسری
اعلیٰ تربیتیوں کے برا بر ہو۔ اس اعتبار سے لسانیات میں بی اے کرنے کی بالکل وہی حیثیت ہے جو دوسرے کسی
مضمون میں بی اے کی ہوسکتی ہے۔ سماجی، صنعتی یا عوامی زندگی میں بہت سے پیشوں کے لیے
یہ ایک اہم نکتہ ہے۔ ایک شخص کے پاس کوئی ڈگری، ڈپلوما یا ایسی اور کوئی سند ہونی
چاہیے۔ یہ جتنی زیادہ اعلیٰ سطح کی ہو اتنا ہی بہتر ہے ۔ اس بات کی کوئی اہمیت نہیں
ہے کہ تربیت حاصل کرنے والے مضمون کی نوعیت کیا ہے کیونکہ ایک طالب علم کو اس کے
نئے مضمون میں غالباً شروع ہی سے تربیت دی جائے گی۔
مثال کے طور پر کسی آجر کو فنون کلیہ (Arts) کی ڈگری زیادہ سے زیادہ یہ ضمانت دے سکتی ہے کہ اس میں متعلقہ
موضوعات میں لیاقت کا ایک مخصوص معیار موجود ہے۔ یہ سنداس بات کی بھی ضمانت دے گی
کہ طالب علم نے موضوع کا مطالعہ ایک حد تک گہرائی میں جا کر کیا ہے اور اس مطالعے
میں اس نے اپنی صلاحیت اور سوجھ بوجھ سے کام لیا ہے وغیرہ۔ اس اعتبار سے لسانیات
بھی وہی حیثیت اور وہی افادیت رکھتی ہے جو مطالعہ کیا جانے والا کوئی دوسرا علمی
مضمون رکھتا ہے کسی شخص کو خاص طور پر یہ فکرنہیں ہوتی کہ یونیورسٹی سے نکلنے کے
بعد اسے اس مضمون سے مزید کام لینا ہے۔
تاہم اگر کوئی شخص یہ جاننا چاہتا ہے کہ وہ لسانیات کے
مطالعے کو کس طرح آگے بڑھائے اور اس تربیت کو جو اس نے زبان کے بارے میں حاصل کی
ہے اُسے کس طرح اپنی عملی زندگی میں استعمال کرے؟ یہاں بھی صورت یہی ہے کہ لسانیات
دوسرے مضامین سے مختلف نہیں ہے۔ بہرحال اس سوال کے دو ممکن جواب ہو سکتے ہیں، جن
کا انحصار اس بات پر ہے کہ مضمون کے خاص پہلو پر زور دیا جارہا ہے یا اطلاقی پر۔
جہاں تک لسانیات میں خالص دلچسپی کا تعلق ہے، ابتدائی تربیت کے بعد یہ یقینی طور
پر ممکن ہے کہ لسانیات میں تحقیقی کام کیے جائیں جیسا کہ ہم دوسرے باب میں دیکھ
چکے ہیں۔ اس میدان میں ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ لسانیاتی اہلیت کو بروئے کار
لانے کا ایک طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ ہم کسی یونیورسٹی میں پوسٹ گریجویٹ سطح پر تحقیقی
کام کریں یا ایسا کوئی عہدہ حا صل کریں جہاں تحقیقات کے لیے وقت مل سکییا جہاں
ملازمت کی یہ شرط ہو کہ کسی قسم کا تحقیقاتی کام کیا جائے۔ یونیورسٹیوں اور اعلیٰ
تعلیمی اداروں کی نوکریاں خواہ وہ برطانیہ میں ہوں یا دوسرے بیرونی ممالک میں، اسی
زمرے میں آئیں گی۔ زبان کے مختلف پہلوؤں پر متعدد تحقیقاتی منصوبے مختلف ممالک کی
حکومتوں کی سر پرستی میں یا بڑے صنعتی اداروں کے تعاون سے چل رہے ہیں۔ مثال کے طور
پرمشینی ترجمے یا بچوں میں پڑھنے کی اہمیت کو ترقی دینا وغیرہ، اعلیٰ تعلیم میں
بہت سے ایسے غیر لسانیاتی منصوبے بھی موجود ہیں جن میں تربیت یافتہ ماہر لسانیات
تحقیقاتی جماعت کا ایک اہم اور مؤثر کن ہوتا ہے، مثلاً کمپیوٹر سے متعلق کام
عمرانیات نفسیات اور بالخصوص تعلیم وغیرہ۔ جہاں تک لسانیات سے فائدہ حاصل کرنے کا
تعلق ہے کوئی بھی یہ سوچ سکتا ہے کہ اس قسم کے ’خاص‘ تحقیقی کاموں کی آسامیاں
نسبتاً کم ہیں اور تقرر کے لیے مطلوبہ معیار کافی اونچے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ
اطلاقی لسانیات کی مختلف صورتوں میں ہمیں اپنی لسانیاتی اہلیت سے فائدہ اُٹھانے کے
اصل مواقع مل سکتے ہیں۔ ہم اس باب کے باقی حصہ میں اسی معیار کے اہم میدانوں میںسے
چند پربحث کریں گے۔
اطلاقی لسانیات نے میری مراد کسی غیر لسانیاتی میدان میں
لسانیاتی طریق کار اور اس کی تحقیقی اور تجزیے کی تیکنکوں کے اصولوں کا استعمال
ہے۔ اس اعتبار سے لسانیات گویاکسی اور مقصد کے حصول کا ایک بڑا ذریعہ ہے، بذات خود
وہ کچھ نہیں۔ ایسے بہت سے میدان خالی پڑے ہیں جہاں اب بھی کام کرنے کی بہت سی
گنجائش باقی ہیں۔ لسانیاتی تحقیق کا کارآمد استعمال جن میدانوں میں ہو سکتا ہے یقینا
ان میں سب سے اول اور اہم زبان کی تدریس اور اس کا سیکھنا ہے، خاص طور سے بیرونی
زبانوں کی تعلیم اطلاقی لسانیات کی اصطلاح کو بعض اوقات بیرونی زبان کی تدریس کے
مترادف سمجھ لیا جاتا ہے۔ اس میدان میں لسانیات کی افادیت کسی تشریح کی محتاج نہیں۔
اسے ایک بدیہی حقیقت سمجھنا چاہیے کہ کوئی شخص اس وقت تک کسی زبان کو نہیں پڑھا
سکتا جب تک کہ اس زبان کے تمام پہلوؤں سے وہ واقف نہ ہو مگر حقیقتاً ایسا ہوتا نہیں۔
زبان سے واقف ہونا اور زبان کے بارے میں سب کچھ جاننا دو مختلف باتیں ہیں۔ کسی
زبان میں روانی سے بات چیت پر قدرت رکھنا اس بات کی ضمانت نہیں کہ ہم اُسے دوسروں
کو پوری طرح سمجھا اور سکھا بھی سکتے ہیں۔ یہ غیر پیشہ ورانہ رویہ بہت خطرناک
ہوسکتا ہے۔ ہم اکثر ایسے لوگوں سے ملتے رہتے ہیں جنھیں کسی زبان کے بارے میں بہت
سے غلط حقائق بتائے گئے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کو پڑھانے والا مناسب طور پر
تربیت یافتہ نہیں تھا یا ایسے لوگ جنھوں نے مایوس ہو کر زبان کا مطالعہ ہی ترک کردیا
کیونکہ انھیں فراہم کی گئیں معلومات باقاعدہ مرتب نہیں تھیں۔ اس سلسلے میں مناسب
تربیت کی بہت اہمیت ہے۔ یہاں تربیت سے مراد کسی زبان کے ایسے حقائق سے باخبر ہونا
ہے جنھیں کسی مخصوص نظریے کے دائرے میں پیش کیا گیا ہو، ان کے باہمی تعلق کی وضاحت
کر دی گئی ہو، ان حقائق میں سے کسی ایک کی اہمیت کے بارے میں تحقیق کے نئے نئے
کاموں سے واقفیت ہو۔ ان حقائق کو کسی مخصوص نصاب کا پا بند کر کے، اُسی کے مطابق
انتخاب کرنے اور درجہ بندی کرنے کی صلاحیت ہو، جو تدریسی کتابیں دستیاب ہیں ان پر
تعمیری تنقید کرنے کی اہمیت ہو اور پہلے سے سیکھی ہوئی زبان اور جواب سیکھی جارہی
ہے ان کے درمیان کا فرق بھی معلوم ہوتا کہ مشکل نکات کا نہ صرف بآسانی اندازہ لگایا
جا سکے بلکہ ان کے لیے ذہن کو تیار بھی کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ بھی بہت سی چیزیں
ایسی ہیں جو اس تربیت میں شامل کی جاسکتی ہیں۔
زبان کے تعلیمی اداروں میں اب اس ضرورت کا زیادہ احساس پیدا
ہو رہا ہے کہ زبان اور خاص طور پر بولی جانے والی زبان کے استاد مناسب طور پر تربیت
یافتہ ہونے چاہئیں۔ برطانیہ نیز بیرونی ممالک میں بھی لسانیات کی طرف ذہنی میلان
رکھنے والے استادوں کے لیے بہت سے مواقع ہیں۔ ایک غیر ملکی زبان کی حیثیت سے انگریزی
زبان کی تدریس اس شعبے کی سب سے بڑی صنعت ہے۔ برٹش کونسل اور اسی طرح کی دوسری
تنظمیں دوسرے ملکوں میں انگنت انگریزی کے استادوں کی لسانیاتی تربیت کا انتظام
کرنے میں عظیم کردار ادا کر رہی ہیں۔ لسانیات میں انڈر گرے جیویٹ کو اس کے اجرا سے
کئی سال قبل اطلاقی لسانیات یا بحیثیت بیرونی زبان انگریزی کی تدریس کے کورس جاری
ہیں۔ ان کی استناد کہیں زیادہ عام ہیں اور انھیں مزید وسعت دی جارہی ہے۔ یہ دلچسپی
کوئی تعجب خیز امر نہیں ہے۔ انگریزی زبان بین الاقوامی ترسیل کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔
یہ بہت سے ملکوں کی سرکاری اور تعلیمی زبان ہے اور یقینا دنیا کی ان زبانوں میں سب
سے بڑی ہے جنھیں ثانوی زبان کی حیثیت سے سیکھا جاتا ہے۔ مکتب کی تعلیم سے لے کر
اونچی سطحوں تک تربیت یافتہ اور ماہر استادوں کی مانگ برابر بڑھتی جارہی ہے۔ اسی
تنا سب سے ایسی درسی کتابوں کی مانگ برابر بڑھتی جارہی ہے جو لسانیات کی روشنی میں
مرتب کی گئی ہیں۔ انگریزی زبان کے سینکڑوں نصاب موجود ہیں مگر ان میں سے بہت کم ایسے
ہیں جن میں انگریزی کے بارے میں پچھلے بیس سال میں کی گئی لسانیاتی تحقیقات کو پیش
نظر کھا گیا ہو۔ انگریزی کے بارے میں جو کچھ میں نے کہا ہے کم و بیش وہی بات یوروپ
کی دوسری ہر بڑی زبان پر بھی صادق آتی ہے۔
ہمارے ملک برطانیہ اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں انگریزی
بولنے والوں کو دوسری غیرملکی زبان کی تعلیم دینے کے لیے لسانیات اب آہستہ آہستہ
اسکولوں میں بھی داخل ہوتی جارہی ہے۔ اب اسکولوں کے اکثر ہیڈ ماسٹر لسانیات کی تربیت
کو مشکوک نظروں سے نہیں دیکھتے۔ اب لسانیات کو زبان کی تعلیم و تدریس کے معیاروں
کو بہتر بنانے میں معاون سمجھا جاتا ہے۔ یہ بات قبل از وقت نہیں ہے۔ ہم لوگ اسکول
میں پڑھنے والے طالب علم کی اس صورت حال سے واقف ہیں جو اسکول کی پڑھی ہوئی فرانسیسی
کو پہلی بار فرانس جاکر استعمال کرتا ہے۔ وہ نہ اپنی بات سمجھا پاتا ہے اور نہ خود
دوکے کی سمجھ سکتا ہے۔ اب لوگوں کو اس بات کا احساس ہونے لگا ہے کہ یہ صورت حال اس
بات کی علامت ہے کہ ہماری بیرونی زبانوں کی تعلیم میں کوئی بنیادی خامی ہے۔ یہاں یہ
امید رکھنا کہ لسانیات ہماری کچھ مدد کرسکتی ہے، بے جانہ ہوگا۔ اسکولوں اور اعلیٰ
تعلیمی سطحوں پر اجنبی زبانوں مثلا روسی یا چینی پڑھانے کے لیے بڑے پیمانے پر
استادوں کی ضرورت کو محسوس کیا جاتا ہے۔ ایسی زبانوں میں وسیع تربیت کو ہم عمومی
لسانیات کے تناظر میں دیکھ سکتے ہیں۔ اسکولوں میں زبانوں کے عمل خانوں (Laboratories) کا بڑھتا ہوا استعمال صحیح
سمت میں ایک اور قدم ہے۔ یہاں ایسے خیال سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے کہ بیش قیمت
آلات کی موجودگی ہی ہمارے سوالوں کا جواب ہے۔ زبان کے عمل خانے لسانیاتی اصولوں کی
مکمل تربیت کا بدل نہیں ہو سکتے۔ یہ عمل خانے بہرصورت صرف اتنے ہی کار آمد ہو
سکتے ہیں جتنا ٹیپ کیے ہوئے مواد کا استعمال۔ اگر ٹیپ کا مواد ناقص ہے تو کسی قسم
کی بھی میکانکی مہارت طالب علم کی گفتگو کی روانی کے معیار کو بہتر نہیں بنا سکتی۔
ٹیپ کے لیے اچھا مواد حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم زبان کی پیچیدگیوں اور ان
مسائل سے پوری طرح باخبر ہوں جو لسانیاتی بنیادوں اور تدریسی معیاروں کے مطابق
ساختوں کی درجہ بندی کرتے وقت سامنے آتے ہیں۔ اس کے لیے پھر ایک لسانیاتی جہت کی
ضرورت ہے۔
ابھی تک لسانیات کو زبان کی تعلیم و تدریس کے دوسرے اہم
پہلو یعنی کسی کی پہلی یا مادری زبان کی تعلیم میں با قاعدہ استعمال ہونے کا موقع
نہیں ملا ہے۔ مثال کے طور پر برطانیہ میں اس کے باوجود کہ انگریزی زبان میں
امتحانوں کے موجودہ طریقے پر بڑی تنقیدیں ہوتی رہی ہیں اور مختلف تنظیمیں اس سلسلے
میں اپنی سفارشات پیش کرتی رہی ہیں (پچھلے صفحات ملاحظہ ہوں)۔ برطانیہ کے اسکولوں
میں لسانیات کو بحیثیت مضمون متعارف کرانے یا اسکولوں میں پڑھائی جانے والی زبان
کے سلسلے میں لسانیاتی تصورات کو بروئے کار لانے میں بہت کم پیش رفت ہوئی ہے۔ یہ
کام اُستادوں کی ثواب دید پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ بات قطعیت کے ساتھ کہی جاسکتی
ہے کہ حال میں ہائی اسکول کے آخری سال میں انگریزی کے استعمال کا جو امتحان
متعارف کرایا گیا ہے اس کا کوئی تعلق لسانیات سے نہیں ہے۔ اسی طرح اس بات پر بھی
ابھی تک غور نہیں کیا گیا کہ لسانیات کو اسکولوں میں منظم طور پر کس طرح متعارف
کرایا جائے، اگر چہ انگریزی کی تعلیم و تدریس کی قومی انجمن National
Association for a teaching of english جیسی تنظیموں میں اس
موضوع پر بخشیں ہوتی رہتی ہیں۔ اس سلسلے میں دو تکمیلی راستے اختیار کیے جا سکتے ہیں۔
لسانیات کو اس کی ذاتی حیثیت سے نصاب کے ایک اضافی جزو کے طور پر متعارف کرایا جا
سکتا ہے اور اُسے شاید ’عام‘ یا ’ وسیع‘ مطالعے کا نام دیا جا سکتا ہے۔ یقینا اس طرح انگریزی یاکسی دوسری زبان میں
طالب علم کی استعداد میں اضافہ کرنا مقصود نہیں ہوگا بلکہ صرف اس بات کی کوشش ہوگی
کہ طالب علم کو بالعموم ایک زبان اور بالخصوص اپنی زبان کی ساخت اور صلاحیتوں سے
شعوری واقفیت ہو جائے۔ یہ چیز طالب علم کے اندر کسی مخصوص زبان کو استعمال کرنے کی
زیادہ صلاحیت پیدا کر سکتی ہے لیکن اس طریق کار کا ’اصلاحی‘ اثر اس کا بنیادی مقصد
نہیں ہو گا۔
دوسرے یہ ضروری نہیں کہ لسانیات ایک خاص مضمون کی حیثیت سے
متعارف کرا دی جائے بلکہ کسی خاص زبان کے نصاب میں اسے جگہ دی جانی چا ہیے۔ پھر زیرمطالعہ
زبان کی ماہیت پر اس کی حیثیت بنیادی طور پر ایک معلوماتی نصاب کی ہو جائے گی اور
اُسے خصوصاً اس لیے نہیں پڑھا جائے گا کہ کوئی اس پر دسترس حاصل کرے، اگرچہ اس میں
شبہ نہیں کہ یہ چیز یعنی زبان پر قدرت حاصل کرنا اس کے ضمنی نتائج میں ہے ایک ہو
گا۔ اس کے علاوہ یہ طریقہ ایک طرح سے ذہنی تنظیم و تربیت کی حیثیت سے قابل قدر ہو
سکتا ہے۔ جیسا کہ لاطینی زبان کے مطالعے کے بارے میں دعوی کیا جاتا ہے، اگر ضرورت
ہو تو ایسے نصاب میں کوئی اصلاحی جز بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔ زبان کے بہت سے پہلو
ایسے ہیں جنھیں عام طور پر مخصوص زبانوں کے نصابوں (Therapeutic) میں نظر
انداز کر دیا جاتا ہے۔ انھیں متعارف کرا کے نسبتاً سریع اثر اصلاحی نتائج برآمد کیے
جا سکتے ہیں۔ مثلاً بولی اور لکھی جانے والی زبان کے مختلف اسالیب کی معلومات۔
تاکہ طالب علم زیادہ بہتر طریقے سے ایسی مختلف صورتوں جیسے گفتگو، عام مباحث یا
مکتوب نگاری وغیرہ کے موزوں ذریعہ اظہار سے واقف ہو سکتے۔ اس کے علاوہ اسکولوں میں
لسانیات کے لیے اور بھی امکانات ہیں؟ جیسے پرائمری اسکولوں میں بلند خوانی اور
پڑھنے میں روانی سکھانا وغیرہ۔ آجکل اس قسم کے بہت سے میدانوں جیسے تحقیقاتی
منصوبوں کی تلاش جاری ہے لیکن ان کاموں میں ابھی بہت کم ایسی ترقی ہوئی ہے کہ انھیں
عام طور پر متعارف کرایا جاسکے۔
اکثر لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ لسانیاتی معلومات کی موجودہ
خلا کو پر کرنے کے لیے کسی نہ کسی طرح کے نصاب ہونے چاہیے۔ یونیورسٹیوں نے اس بات
کو پوری طرح تسلیم کرلیا ہے۔ Sixth Form کی کانفرنس اور اسی طرح کے دوسرے موقعوں پر خود پڑھنے والے بھی اس
خیال کی طرز پوری طرح راغب نظر آتے ہیں۔ امریکہ میں بھی اسکولوں میں لسانیات کے
تجرباتی نصاب کا میاب ہوئے ہیں لیکن اسکولوں میں اُس وقت تک نئے نصاب داخل کرنا
ممکن نہیں ہے۔ جب تک کہ انھیں پڑھانے کے لیے استاد نہ تیار ہو جائیں۔ اس کے لیے
وقت درکار ہے۔ بہت سے ٹرینگ کالج اب لسانیات کے نصاب چلارہے ہیں اور ہم توقع کر
سکتے ہیں کہ تھوڑے ہی عرصے میں ایک نیا ماحول پیدا ہو جائے گا مگر ہمارے پاس آج
بھی نصابی اور بنیادی تعارفوں والی کتابوں کی کمی ہے اور جب تک یہ تیار نہ ہو جائیں،
لسانیات اسکول کے نصاب کا ایک معین حصہ نہیں بن سکے گی۔
زبان کی تعلیم و تدریس کے مختلف پہلوؤں سے قطع نظر اطلاقی
لسانیات کی اور بھی متعدد جہتیں ہیں جن کی طرف اشارے کیے جاسکتے ہیں مگر ان کے
ساتھ انصاف کرنے کے لیے موجودہ کتاب سے کہیں زیادہ بڑی کتاب درکار ہوگی، ترجمہ،
خصوصاً مشینوں کے ذریعے ترجمہ اس کی ایک واضح مثال ہے۔ ہم مترجم کے کام کے لیے اس
وقت تک مشین تیار نہیں کر سکتے جب تک کہ اُسے معلومات کی ایک بڑی مقدار مہیا نہ کر
دی جائے مشین کو اس کی ضرورت ہوتی ہے کہ اُسے ان دونوں زبانوں کی ساخت کے بارے میں
سب کچھ بتادیا جائے جن میں اُسے ربط پیدا کرتا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہ کس طرح ایسے
متبادل اور مترادف الفاظ معلوم کیے جاسکتے ہیں۔ جن کی موجودگی کا ہمیں علم ہے۔ یہ
ایک ایسا پس منظر ہے جس کا بڑا حصہ صرف ماہر لسانیات ہی فراہم کر سکتا ہے۔ ایک اور
میکانکی کام میں ماہر لسانیات کی ضرورت پڑتی ہے یعنی تار ترسیل (Tele Communication) اور اس کے نظام کی
دوسری مختلف شکلیں، مثال کے طور پر ٹیلیفونی ترسیل کے لیے صوتیات انتہائی اہم ہے۔
تاروں کے ذریعے آواز بھیجنے میں رقم خرچ ہوتی ہے اگر کوئی ایسی آواز کی مقدار کو
کم کر دے جنھیں تاروں کی مدد سے بھیجنا ہے تو یقینا بڑی بچت ہوگی۔ اس سلسلے میں لسانیاتی
مسئلہ یہ طے کرنا ہے کہ بات چیت کے کون سے عناصر قابل فہم اور قابل قبول ہیں اور
کون سے نہیں۔ اس طرح جہاں تک ترسیل کا تعلق ہے بہت سے غیر ضروری عناصر کو نظر
انداز کیا جاسکتا ہے لیکن یہ طے کرنا بڑے پیمانے پر تحقیق چاہتا ہے۔ اس پر ابھی
تجربے ہو رہے ہیں۔
میکانکی تکنیکوں کے بارے میں لسانیاتی معلومات کے بہت سے
دوسرے استعمال کے طریقوں پر بھی سوچا جاسکتا ہے۔ ان میں سے بعض بہ مشکل تمام شروع
بھی ہو چکے ہیں۔ مثال کے طور پر یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ نہروں کے لیے ایک نئے
قسم کا بعدی آلہ تیار کیا جائے جو سمعی صوتیات کی مدد سے حاصل کی ہوئی معلومات پر
مشتمل ہو۔ ایسی مشین تو پہلے ہی سے تیار ہو چکی ہے جو تکلمی آوازوں کی تصویر تیار
کرسکتی ہے گو کہ یہ تصویر بڑی پیچیدہ ہے اور اس کو یہ پڑھنا بھی مشکل ہے۔ اس مشین
کو صوت اسپیکٹروگراف (Sound
Spectrograph) کہتے ہیں۔ اگر مختلف آوازوں کی تصاویر آسانی
سے پہچانی جانے والی اور ترتیب وار شکلوں کے سلسلوں میں آ سکیں تو ہم تکلم کو
براہ راست تحریر میں لا سکتے ہیں۔ ہم ایک ایسی دستی مشین کے بارے میں بھی سوچ سکتے
ہیں جس میں مائیکروفون (Microphone) اور ایک پردہ لگا ہو اور
مائک پر بات کرنے کے بعد پردوں پر تصویر آجائے۔ اس طرح ایک بہرا شخص نئے ’ حروف
تہجی‘ کو سیکھنے کے بعد گفتگو کو براہ راست پڑھ کر فورا سمجھ سکتا ہے۔ اس تیک نیک
کو یقینا کاروباری منصوبوں میں استعمال کرنے کے لیے کافی بڑے تحقیقاتی کام کی
ضرورت ہوگی۔ اس سلسلے میں ابھی بہت کم کام ہوا ہے۔ اصولی طور پر اس کی اہمیت اور
افادیت کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔
لسانیاتی تحقیق میں بہر حال مشینوں کے استعمال پر ہمیں اپنے
تخیل کو بہت زیادہ اونچا نہیں اُڑنے دینا چاہیے۔ سائنس داستانوں کی دنیا جہاں مشینی
آدمیوں (Robots) سے
سوال جواب ہوتے ہیں، اسے حقیقت کا روپ دینے میں ابھی بہت وقت لگے گا۔ ابھی ہمارے
پاس گفتگو کے اجزا کو مرتب کرنے کی ایسی معلومات ناکانی ہیں جن سے ہم اُسے حقیقت میں
تبدیل کر سکیں۔ مثلاً ایسی چھوٹی مشینوں کو بنانے کے تیک نیکی مسائل جسے آسانی سے
ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا سکے۔ یہاں تک کہ کمپیوٹر کے ذریعے بلند آواز میں
ہدایت کا کام بھی ابھی کامیابی کے ساتھ تکمیل کو نہیں پہنچا ہے ہم ابھی کمپیوٹر سے
یہ بھی توقع نہیں کرتے کہ وہ ہماری بات کا انھیں الفاظ میں جواب دے۔
ماخذ: لسانیات کیا ہے؟ مصنف: ڈیوڈ کرسٹل، مترجم: نصیر احمد
خاں، دوسری طباعت: 2010، ناشر: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں