اردو دنیا،ستمبر2025
مئو ناتھ بھنجن مشرقی اتر پردیش کا ایک صنعتی شہر ہے۔ پارچہ
بافی اس شہر کی اہم شناخت ہے۔ یہ علم وادب اور تہذیب وثقافت کا مرکز بھی ہے۔اردو
کے معروف شاعر فضا ابن فیضی(1922-2008) اور اثرانصاری (1923-2007)کا تعلق اسی
شہرسے ہے۔ جدیدیت کے رہ نما اوررسالہ ’شب خون‘ کے بانی شمس الرحمن فاروقی
(1935-2020)کا آبائی وطن ضلع مئو کا قصبہ کوڑیا پارہے۔علاوہ ازیںڈاکٹر انیس ادیب،
ڈاکٹر منور انجم ،ڈاکٹر ایم نسیم اعظمی اورڈاکٹر شکیل احمد جیسے ادیبوں کا تعلق اسی
شہر سے ہے۔انہی ادیبوں اور اہل قلم میں ایک نام پروفیسر انور ظہیر انصاری کا بھی
ہے جنھوں نے اپنے علم وفن سے اردو ادب کی خوب آبیاری کی ہے۔
پروفیسر انور ظہیر انصاری اردو ادب کا ایک معتبر نام ہے۔ وہ
اترپردیش کے شہر مئو ناتھ بھنجن میں یکم اکتوبر 1953 کو پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا
نام مشتاق منیر تھا۔ انور ظہیر نے مقامی اسکولوں سے ابتدائی تعلیم حاصل کی پھر ہائی
اسکول اور انٹر میڈیٹ کا امتحان پاس کیا اور گورکھ پور یونیورسٹی سے بی اے کی ڈگری
حاصل کی۔ اس کے بعددلی کا رخ کیا اورجواہر لال نہرو یونیورسٹی سے ایم اے، ایم فل
اور ایڈوانس ڈپلوما اِن ماس میڈیااِن اردوکی اسنادحاصل کیں۔ 1984-85 میں آل انڈیا
ریڈیو اور دہلی دور درشن نیوز سیکشن میں ملازمت کی اورشعبۂ فارسی دہلی یونیورسٹی
کے یوجی سی پروجیکٹ سے بھی وابستہ رہے۔ بقول انور ظہیر انصاری ’’زندگی کے چند
ادوار میں سے JNUکا زمانہ شاید میری زندگی کا سب سے خوش گوار اور روشن زمانہ رہا
ہے اور اس کا کریڈٹ محمد اسعد (دری یونٹ آل انڈیا ریڈیو ، نئی دہلی )کو جاتاہے جن
کی وساطت سے میں جے این یو تک پہنچ سکا۔‘‘
1
پروفیسر انورظہیر
انصاری نے 1986 میںدہلی کی ملازمت ترک کردی اوربڑودہ گجرات چلے گئے اور وہیں
بودوباش اختیارکرلی۔ فروری1986 میں ایم ایس یونیورسٹی آف بڑودہ میں اردو لکچرر کی
حیثیت سے ان کا تقرر ہوااور درس وتدریس کے پیشے سے وابستہ ہوگئے۔ 1990 سے بورڈ آف
اسٹڈیز، شعبۂ اردو، فارسی اور عربی، ایم ایس یونیورسٹی آف بڑودہ کے ممبر رہے اور
سبکدوش ہونے تک یہ سلسلہ جاری رہا۔یوں تو ان کو ریڈر شپ1998 میں ملنی تھی لیکن
بوجوہ چھ سال بعد 2004 میںملی اور پروفیسرشپ 2012 میں ایم ایس یونیورسٹی آف بڑودہ
سے ان کی وابستگی تقریباً تین دہائیوں تک رہی۔ 2015 میں پروفیسر کے عہدے سے سبکدوش
ہوئے۔رٹائر ہونے کے بعد بھی اس یونیورسٹی کو پروفیسرانور ظہیر انصاری کی مزید
ضرورت تھی اس لیے نئی پوسٹنگ ہونے (2017) تک وہ ویزیٹنگ پروفیسر کی حیثیت سے اپنی
خدمات انجام دیتے رہے۔ ان تیس برسوںمیں انھوں نے کم و بیش دو نسلوں کی ذہنی آبیاری
کی ہے۔
پروفیسر انور ظہیر انصاری کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کے کل تین
مقالے لکھے گئے۔ان میں ولی کی شخصیت اور شاعری پر مسیح الزماں انصاری نے، کیفی
اعظمی کی حیات و نگارشات پر نسرین شیخ نے اور دیپک بدکی کی تخلیقات پر شیخ صفیہ
بانو نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔ اردو کے ساتھ ہندی زبان پر بھی بڑی گہری
پکڑ تھی، یہی سبب ہے کہ ہندی اردو کہانیوں پر لکھی گئی تھیسس کے کو گائڈ بھی رہے۔
ایک اہم اور انوکھی بات یہ ہے کہ خود انھوں نے اپنی پی ایچ
ڈی اسی یونیورسٹی سے مکمل کی ہے اوروہ بھی کسی گائڈ اور نگراں کے بغیر۔ انھوں نے
اپنا پی ایچ ڈی کا مقالہ ساحر کی شعری و ادبی تخلیقات پر لکھا ہے ۔ ساحر پر تحقیقی
و تنقیدی کتاب ’ساحرلدھیانوی حیات اور کارنامے‘ ان کی پی ایچ ڈی کاہی مقالہ ہے ۔
اس کے علاوہ مختلف مضامین پر مشتمل کتابیں’ شعور ِ ادب‘(2007) ،’ اردو کا شعری
اثاثہ اور نئے وارث‘(2013) اور دیپک بدکی کی حیات اور ادبی خدمات پر بھی ایک کتاب
’ورق ورق آئینہ‘ ـ (2009)کے نام سے شائع ہو چکی ہے ان کے علاوہ منشی سید عباس
علی کی کتاب’ قصۂ غم گین‘ کا انھوں نے ہندی میں ترجمہ بھی کیا ،یہ کتاب ایم ایس یونیورسٹی
ہسٹری ڈپارٹمنٹ نے شائع کیا ہے۔
درس وتدریس کے دوران گجرات اسٹیٹ ٹکسٹ بکس بورڈ، گاندھی نگر
کے زیرِ اہتمام نویں اوربارہویں جماعت کی کتابوں کی تصنیف وتالیف اور تبصرے کے لیے
تشکیل دی گئی کمیٹی کے رکن بھی رہے۔ 1992 اور 1995میں نویں اور بارہویں جماعت کی
کتابوں کے لیے انھوں نے بحیثیت مبصر اور1993اور 1994میں دسویں اور گیارہویں جماعت
کی کتابوں کے لیے بحیثیت مولف کام کیا۔ علاوہ ازیں سی بی ایس سی بورڈ سے متعلق کتب
کی تدوینی کمیٹی این سی ای آر ٹی نئی دہلی کی تقریباً سات کتابوں کے ایڈیٹوریل
بورڈ سے وابستہ رہے اوراین سی پی یو ایل نئی دہلی کی تخلیقی کمیٹی کے بھی ممبر
رہے۔
پروفیسرانور ظہیر انصاری ہندوستان کی کئی یونیورسٹیز میں
اکسپرٹ ممبر بھی رہے۔ تقریباً تیس ایم فل اور پی ایچ ڈی تھیسس اکزامن کر چکے ہیں،ان
کے علاوہ کئی یونیورسٹی کے بورڈ میں اکسپرٹ ممبربھی رہے۔ پروفیسر شپ کے زمانے میں
جے پی جے ٹی یونیورسٹی جھُن جھُنو راجستھان نے انھیں اپنے یہاں پی ایچ ڈی گائڈ
مقرر کیا تھااوراس سلسلے کا پہلا پی ایچ ڈی رجسٹریشن احمد آبادکی شاہ نور نے لیاتھا۔
ساتھ ہی وہ دوسری یونیورسٹیز میں Extensive
lecture اور Refresher courses میں بھی متعدد باربلائے
گئے۔ مختلف یونیورسٹیوں اور اداروں سے آخری وقت تک وابستہ رہے اور کام کو بخوبی
انجام دیتے رہے پھر بھی ان کا کہنا ہے کہ میں تو اس ساگر میں ایک بوند کی طرح ہوں
،بے حیثیت اور بے مقام۔
درس وتدریس سے وابستگی کے دوران تحقیقی وتنقیدی مضامین
تواتر سے شائع ہوتے رہے۔پروفیسر انور ظہیر انصاری کے مختلف موضوعات پر مطبوعہ مضامین
کی تعداد 60 سے زائدہے جن میں گجرات اور اردو ادب، پروفیسر وارث علوی ،گجرات میں
تصوف کی روایت، اردو زبان کا سیکولر کردار (ترقی پسند حوالے سے)، تذکروں کی تنقیدی
اہمیت، موسیقار اعظم نوشاد کی فکری و فنی جہتیں، مولانا ابوالکلام آزاد، علی
سردار جعفری ، اخترالایمان، مجاز لکھنوی، فیض احمد فیض، ساحر لدھیانوی، مجروح
سلطان پوری، جاں نثار اختر ،مخدوم محی الدین ، فراق گورکھ پوری، داغ دہلوی، شہریار، مولانا رومی ، فضا ابن فیضی
اور ولی دکنی وغیرہ اہم ہیں۔ اصنافِ ادب سے متعلق بھی انھوں نے معتدد مضامین سپرد
قلم کیے، مثلاًاردو غزل، مثنوی، مرثیہ، سہرے، دوہے، حمدیہ نعتیہ شاعری ایسے کتنے
مضامین ہیں جوکتاب نما دہلی، آج کل دہلی، ایوانِ اردو دہلی، اردو دنیا دہلی، سب
رس حیدرآباد، نیا دور لکھنؤ، ترسیل سالنامہ(کشمیر یونیورسٹی، سری نگر)، خدا بخش
لائبریری جرنل،پٹنہ، سابر نامہ احمدآباد، گلبن احمدآباداور لکھنؤ،رنگ و بو حیدرآباد،
نوائے ادب ممبئی، ہندوستانی زبان ممبئی،اردو نامہ ریسرچ اور ریفریڈ جرنل ممبئی،ترسیل
ممبئی، رنگ دھنباد بہار،انتساب سرونج،توازن مالے گاؤں جیسے متعدد موقر رسائل و
جرائد میں شائع ہوئے۔ ان کے علاوہ مختلف ریاستی، قومی ا ور بین الاقوامی سمیناروں
میں پڑھے گئے مقا لوں کی تعداد تقریباً 72ہے۔
پروفیسر انور ظہیر انصاری کی متعدد کتابیں شائع ہوکر ادبی
حلقوں میں مقبول ہوچکی ہیں۔ان کی اولین کتاب ’ساحر لدھیانوی حیا ت اور کارنامے‘ان
کا تحقیقی مقالہ ہے، یہ کتاب پہلی بار2004 میںشائع ہوئی جسے اہل علم نے خاصا پسند
کیا کیونکہ اس موضوع پریہ پہلی کتاب ہے جو ساحر کے فکروفن کا مکمل احاطہ کرتی ہے۔
اس کتاب پر اردو کے متعدد ناقدین ادب نے اپنے تاثرات پیش کیے جو کتاب کے فلیپ پیچ
پر درج ہے۔ ان میں سے چند کو یہاں پیش کیا جارہا ہے:
’’ساحر
پر آپ کی کتاب ملی اندازہ ہوا کہ اچھے لکھنے والوں کا کلام تادیر زندہ رہتاہے اور
وقتی رجحانات سے بلند تر ہوتاہے۔کتاب پوری پڑھ ڈالی آپ نے واقعی بڑی محنت اور دیانت
داری اور واقفیت سے کتاب لکھی ہے۔‘‘(پروفیسر محمد حسن)
’’جستہ
جستہ کتاب دیکھی تو خوشی ہوئی کہ ساحر کے مطالعے میں وقیع مواد جمع کیا ۔پختہ
طرزتحریر، معیاری تحقیق، روشن استدلال، کتاب میں ساحر لدھیانوی کی سوانح ،ادبی شخصیت
اور شاعری کی مختلف جہات کا علمی گہرائی سے احاطہ کیا گیاہے۔‘‘(پروفیسر قمر رئیس)
’’آپ
نے ریسرچ کے مرحلے میں بڑی محنت کی ہے ۔ ساحر پورا کاپورا موجود ہے زندگی سے لے کر
شاعری کا سفر جس طرح شاعر نے طے کیا ہے اس کا تجزیہ خوب ہے۔‘‘(پروفیسر وہاب اشرفی
)
ان ناقدین کے تاثرات نے کتاب کی اہمیت کو دوچندکردیا ہے ۔اس
کا دوسرا ایڈیشن 2018 میں شائع ہوکراہل ادب سے دادو تحسین حاصل کرچکا ہے۔اس کتاب
کے پہلے ایڈیشن میں صرف چار ابواب ساحر کی سوانح اور شخصیت ، ساحر کی نثر نگاری
،ساحر کی غزل گوئی اور ساحر کی فلمی شاعری شامل تھے ۔لیکن دوسری اشاعت میں دیگر
اصناف سخن کے عنوان سے ایک باب کا اضافہ ہوا ہے جس میں ساحر کے مرثیے ، ساحر کے
سہرے اور ساحر کی مثنویوں کا ذکر کیا گیاہے۔اگرچہ اردو دنیا ساحر کو فلمی شاعری
اورغزل گوئی کے حوالے سے جانتی ہے تاہم انھوں نے مرثیے ، مثنوی اور سہرے بھی لکھے
ہیں۔پروفیسر انورظہیر انصاری ساحر لدھیانوی کی سہرانویسی کے حوالے سے رقم طراز ہیں:
’’ساحر
نے دوسہرے لکھے ہیں اور دونوں ہی غزل کی ہیئت میں ہیں۔پہلا سہرابعنوان ’خانہ آبادی‘
(ایک دوست کی شادی پر) اولین مجموعۂ کلام تلخیاں میں شامل ہے اور ساحر کے ابتدائی
دور کی تخلیق ہے اور دوسرا بعنوان’پیارکا تحفہ‘ (اپنے جگری دوست یش چوپڑہ کی شادی
کے موقع پر)27 اگست1970کوکہا گیا ہے۔ غیر مطبوعہ ہے۔‘‘ 2
ان میںسہرا ’پیار کا تحفہ ‘ چھ اشعار پر مشتمل ہے جس میں
شادی کی رسوم وروایات اور زندگی کے نشیب وفراز کے علاوہ شادی کی خواہشوں اور دل کی
امنگوں کا احساس ہر جگہ نظر آتاہے ۔چند اشعار ملاحظہ ہوں ؎
کارگر ہوگئی احباب کی تدبیر اب کے
مانگ لی آپ ہی دیوانے نے زنجیر اب کے
جوسد احسن کی اقلیم میں ممتاز رہے
دل کے آئینے میں اتری ہے وہ تصویر اب کے
اجنبی خوش ہوئے ، اپنوں نے دعائیں مانگیں
اس سلیقہ سے سنواری گئی تقدیر اب کے
سہرا ایک خالص دیسی صنف ہے لیکن اس پر خاطر خواہ توجہ نہیں
دی گئی اور نہ ہی اس کی ہیئت کا تعین ہوسکا ہے۔تاہم اردو کے بہت سے قلم کاروں نے
اس میں طبع آزمائی کی ہے۔پروفیسر انورظہیر انصاری نے بھی صنف سہرا میں اپنے قلم
کا جوہر دکھایاہے۔انھوں نے اپنے دوستوں اور رشتے داروں کی شادیوں کے موقعے پر سہرا
لکھا ہے اور پڑھا بھی ہے۔ان کے سہرے سے ماخوذ چند مصرعے پیش ہیں ؎
تکتی تھی راہ جس کی یہ صبحیں بہارکی
لوسامنے کھڑی ہیں وہ گھڑیاں قرارکی
آنگن میں آگئی ہیں نگاہیں وہ پیارکی
لاکھوں دیے نگاہ کے راہوں میں جل گئے
پلکوں پہ کتنے خواب خوشی کے مچل گئے 3
پروفیسر انورظہیر انصاری کے متعدد تحقیقی وتنقیدی مضامین کے
مجموعے ادبی حلقوں میں مقبول ہوچکے ہیں۔ پہلا ’شعورِ ادب‘ کے نام سے 2007 میں شائع
ہوا تھا۔ بعد ازاں ’اردو کا شعری اثاثہ اور نئے وارث‘ 2013 میں منظر عام پر آیا۔
اس میں غیر مطبوعہ کے ساتھ مطبوعہ مضامین بھی شامل ہیں۔ بقول انور ظہیر انصاری ’’میرے
تحقیقی وتنقیدی مضامین کا یہ دوسر امجموعہ ہے... مجھے اس بات کا شدید احساس ہے کہ
مجھے اردو زبان وادب سے متعلق جتنا اور جیسا کام کرنا چاہیے اس سے پوری طرح شایدعہدہ
برآنہیں ہوسکا ہوںتاہم میر ی کوشش ہمیشہ یہی رہی ہے کہ مقدور بھر اردو کی خدمت
کرسکوں۔‘‘ 4
اس کے بعد ان کا تیسرا مجموعۂ مضامین ’سرسید سے شہریار تک‘
2018 میں شائع ہوا۔اس میں کل تیرہ مضامین
شامل ہیں۔جس میں سرسید، علامہ اقبال، چکبست لکھنوی، تلوک چند محروم، مولانا
ابوالکلام آزاد، رشید احمد صدیقی، سعادت حسن منٹو، وارث علوی اور شہریار جیسے
معروف ادیب اورقلم کاروں کو جگہ دی گئی ہے۔ قبل ازیں ان قلم کاروں پر بہت کچھ لکھا
جاچکا ہے اور اب بھی لکھا جارہا ہے لیکن وارث علوی ایک ایسا موضوع ہے جس پر بہت کم
لوگوں نے لکھنے کی جسارت کی ہے۔پروفیسر انورظہیر انصاری نے وارث علوی کے شعورِ نقد
سے بحث کرتے ہوئے بڑی کارآمد اور اہم گفتگوکی ہے۔ دراصل وارث علوی کی تنقید محض
تنقید نہیں بلکہ ان میں طنزومزاح کے پہلو بھی شامل ہیں ۔ وہ اپنے خیالات ونظریات
کو گویااس طرح پیش کرتے ہیں جو قاری کو مسکرانے پر مجبور کرنے کے ساتھ ان کے ذہن
ودل پر اثر انداز بھی ہوتے ہیں۔وہ کسی گروہی مفادات اور ایک دوسرے کے خلاف صف
آرائی کے منکر تھے۔ بایں سبب وارث علوی نے ادبی حلقوںمیں بہت جلد اپنی شناخت قائم
کرلی۔پروفیسر انورظہیر انصاری نے وارث علوی کے تنقید ی امتیازات کو بروئے کار لاتے
ہوئے ان کی بے باکی اور غیر جانب جادارانہ رویے کو بڑے دلچسپ پیرائے میں اجاگرکیاہے۔اس
سلسلے میں ان کا یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
’’انھوں
نے جہاں کہیں ناانصافی دیکھی احتجاج کیا، وہ ایسا اس لیے کرسکے کہ خود کو کسی
مخصوص نظریے کا کبھی پابند نہیں کیا ، روایت کے اسیر نہیں ہوئے اور روایت کے مطابق
اپنے تحفظ کے لیے محافظ دستہ بھی نہیں کھڑا کیا بلکہ ستائش کی تمنا اور صلے کی
پرواہ کیے بغیر اپنی راہ الگ نکالی، جس کے موجد بھی وہی ہیں اور خاتم بھی وہی۔
اگرایسا نہ ہوتا تو شاید وارث علوی اتنی بے باکی اور جرأت مندی کے ساتھ کچھ بھی
لکھنے سے قاصر رہتے۔‘‘ 5
پروفیسر انور ظہیر انصاری کو زبان و بیان پر اچھی گرفت ہے۔
وہ اپنے خیالات ونظر یات کو پیش کرنے میں بڑی مہارت رکھتے ہیں ۔یہی سبب ہے کہ
انھوں نے جن موضوعات کو اپنے فن کا حصہ بنایا اس کے ساتھ انصاف کرنے کی پوری کوشش
کی ہے ۔ان کے بارے میں کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ اچھے شاعر بھی ہیں لیکن انھوں نے
شاعری کی جانب کم توجہ دی۔ ان کا اصل میدان تنقید ہے اسی لیے وہ شاعری سے زیادہ
تنقید کو اہمیت دیتے ہیں۔انہی کے بقول ’’شعری صلاحیتیں تو مجھ میں برائے نام ہی ہیں
لیکن اپنی شاعری کے ذریعے کوشش یہی کرتا ہوں کہ اجتماعی حوالے سے ہی بات کروں کیوں
کہ انفرادی رویے کو تسلیم کرتے ہوئے بھی میں اجتماعی زندگی کی ترجمانی کو اولیت اس
لیے دیتا ہوں کہ میں بھی ہندوستان کے لاکھوں کروڑوںلوگوں میں سے ایک ہوں جو معاشرتی
اور تہذیبی زندگی کو خوش حال اور فعال دیکھنے کے آرزو مند ہیں۔ آخر میں پروفیسر
انور ظہیر انصاری کے چند اشعار پیش خدمت ہیں جو ان کی شعری صلاحیت کے مظہر ہیں ؎
وقت کے ہم راہ چلنا سیکھ لے
زندگی کا رخ بدلنا سیکھ لے
اشک پلکوں پر سجائے ہیں بہت
روچکے اب مسکرانا سیکھ لے
تاریکیاں ہیں شب کی پیام ِ سحر تجھے
جہد وعمل کو چھوڑنہ جی کو نڈھال کر
ہم نے رفیق سمجھا ،رفاقت نباہ دی
اور اس کو یہ گماں کہ سبھی زیرِ سایہ ہیں
زندگی کی دھوپ
تو پل بھر کی ہے ڈھل جائے گی
تیرے کرموں کی مگر پرچھائیاں رہ جائیں گی
پروفیسر انور ظہیر انصاری زبان وبیان میں خاصا درک رکھتے ہیں۔
ان کی زبان میں سادگی اور سلاست بھی ہے اور ستھراپن اور دل کشی بھی ۔ شایدیہی سبب
ہے کہ ان کی تحریریں نہ صرف گنجلک ہونے سے محفوظ رہتی ہیں بلکہ اپنے موضوعات پر
مکمل گرفت بھی رکھتی ہیں۔زبان وادب کی خدمت کرتے ہوئے31 اکتوبر2024 کو اس دنیا سے
ہمیشہ کے لیے رخصت ہوگئے۔
حواشی
- شعورِ ادب از انورظہیر انصاری،ص10
- ساحر لدھیانوی حیات اور کارنامے،ص285
- ساحر لدھیانوی حیات اور کارنامے،ص284
- اردو کا شعری اثاثہ اور نئے وارث،ص7
- سرسید سے شہریارتک ،ص202
Dr. Mohammad Zubair
Assistant Professor
Rizvi College of Arts, Science
& Commerce, Bandra (W)
Mumbai-400050
Mob: 9022951081
m.zubair.mau@gmail.com

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں