اردو دنیا،ستمبر 2025
محمد انصار اللہ ( 1936-2017) ان محققین میں سے ہیں جنھیں اردو زبان و ادب کے قدیم سرمائے سے خاص دلچسپی رہی ہے۔ انھوں نے 1967سے 1996 تک شعبۂ اردو مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں لکچرر،ریڈر اور پروفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ درس و تدریس کے ساتھ ہی انھوں نے تحقیق و تدوین، تاریخ و تنقید، لسانیات، ترجمہ اور لغت نویسی جیسے موضوعات کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا۔
محمدانصار اللہ کی پہلی قابل ذکر کتاب ’اردو کے حروف تہجی‘
1972میں شائع ہوئی۔ اس کتاب کا پہلا حصہ بعض اہم مباحث پر محیط ہے مثلاً اردو نے
فارسی رسم خط کیوں اختیار کیا؟ اردو تحریر پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوئے؟اردو رسم
خط میں حروف تہجی کی نوعیت کیا تھی؟ماضی میں حرف کی ساخت کس طرح تبدیل کی گئی؟ نئی
آوازوں کے لیے نئے حروف کیونکروضع کیے گئے؟ حرف وضع کرنے کا طریقہ کیا رہا اور
ترمیم و اضافے کے لیے کن اصولوں کی پابندی کی گئی؟کیا موجودہ حروف میں سے بعض کو
ترک کیا جا سکتا ہے؟ جب کہ دوسرے حصے میں اسی موضوع پر میرزا روشن ضمیر کے رسالے
’سہ ضابطۂ ہندی ‘ کے متن کو مختصر تعارف کے ساتھ شامل کیا ہے۔ اردو میں نئے حروف
کس طرح وضع کیے گئے اس پر روشنی ڈالتے ہوئے محمد انصار اللہ نے لکھا ہے:
ٰٰ’’اردو اپنی لسانیاتی خصوصیات کی بنا پر بھی عربی یا فارسی سے
مختلف ہے اس زبان کی تمام آوازوں کے اظہار کے لیے عربی یا فارسی کے حروف کفایت نہیں
کر سکتے تھے۔نئے حروف کا وضع کیا جاناناگزیر تھا۔ لیکن ان نئے حروف کی صورت فارسی
کے حروف سے مختلف مقرر کرنا مناسب نہ تھا۔فارسی میں بھی جب نئے حروف بنائے گئے تھے
تو نقطوں اور مرکز کے اضافے سے کام چلا لیا گیا تھا،اردو والوں نے بھی اصولاًنقطوں
کی کمی بیشی سے ہی اپنی ضرورت پوری کرنے کی کوشش کی۔‘‘1
اردو زبان کی اپنی کچھ ضرورتیں تھیں جو عربی فارسی حروف سے
پوری نہیں ہو سکتی تھیں مثلاً اعلان نون اور ادغام نون کا مسئلہ،یائے معروف اور یائے
مجہول کا مسئلہ وغیرہ۔انیسویں صدی کے ربع ثالث میں جاکر یائے معروف اور یائے مجہول
کو الگ الگ حروف کی حیثیت حاصل ہوئی۔اسی طرح عربی اور فارسی میں ہائے مخلوط کا کوئی
تصور نہیں ملتا لیکن ہندوستانی الفاظ میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔انصار اللہ کے مطابق
دہلی میں اس کی اہمیت کو بہت بعد میں تسلیم کیا گیاجب کہ لکھنؤ میں اس کی اہمیت
کا احساس شروع سے تھا۔اسی لیے تحریر میں ہائے مخلوط سے پیدا ہونے والے مسائل کی
طرف انیسویں صدی کے ربع ثانی میں توجہ کی جانے لگی اور کچھ عرصے بعد ہائے مخلوط سے
بننے والے مرکب حروف کی الگ حیثیت تسلیم کر لی گئی۔
تین مقامی آوازیں جو اردو نے اپنے ارتقا کے دوران اختیار کی
ہیں ’ٹ‘،’ڈ‘ اور ’ڑ‘ کی ہیں۔ مختلف زمانے میں ’ٹ‘، ’ڈ‘، اور ’ڑ‘ کی آوازوں کے لیے
اردو رسم خط میں جو صورتیں اختیار کی گئیں محمدانصار اللہ نے ان کی بھی نشاندہی کی
ہے مثلاً ابتدامیں ’ت‘ ،’د‘ اور ’ر‘ لکھ کر ہی ان مقامی آوازوں کا اظہار کیا جاتا
تھا۔ یہ صورتیں عہد محمد شاہی تک ملتی ہیں۔ جلد ہی ان کی جداگانہ صورت کے تعین کی
ضرورت محسوس کی گئی اور تین نقطے بنائے گئے۔پدماوت اور فضلی کی کربل کتھا کے نسخے
(مختارالدین احمد) میں یہی صورت ملتی ہے۔ اس نسخے کی کتابت شاہ عالم کے عہد سے
پہلے نہ ہوئی ہوگی۔ تین نقطے میں دقت یہ پیش آئی کہ ’ٹ‘ اور ’ڑ‘ کی صورت ’ث‘ اور
’ژ‘ سے مشابہ ہو گئی اس لیے مزید تبدیلی یہ کی گئی کہ ایک اور نقطے کا اضافہ کر دیا
گیا۔پدماوت (نسخۂ انجمن نوشتۂ1686) میں’ٹ‘ پر چار نقطے (ٿ) بنائے گئے ہیں۔دہلی میں
یہ سلسلہ بہت بعد تک جاری رہا۔غالب کی آخری عمر تک کی تحریروں میں یہ صورت ملتی
ہے۔مزید آسانی کے لیے اوپر کے دو نقطوں کو ملا کر مختصر خط کی صورت میں لکھا جانے
لگا۔’ڈ‘ اور ’ڑ‘ کے اوپر دو نقطے زائد معلوم ہوئے تو ان کو حذف کر دیا گیا۔ اورنگ
زیب کے زمانے تک یہی صورت بر قرار رہی۔ فورٹ ولیم کالج نے ان حرفوں کو نئی صورت دی
یعنی نقطے ہٹا کر مختصر ’ط‘ بنایا اور یہی طریقہ آج مروج ہے۔
اردو کے حروف تہجی کی بابت یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس میں
ایک ہی آوازکے لیے ایک سے زائد حروف ہیں جیسے:
۱
ث
ذ ز ض ظ
جس کی وجہ سے تحریر میں دقت پیش آتی ہے اور غلطی کا امکان بڑھ جاتا ہے اس لیے مسعود حسین خاں نے یہ تجویز پیش کی کہ کسی ایک کو بر قرار رکھتے ہوئے باقی کو ترک کر دیا جائے۔محمد انصار اللہ اس تجویز کے سخت خلاف ہیں:
’’یہ
تجویز بڑی غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔ان مختلف حرفوں کی آواز ایک نہیں ہے ہاں مماثل
ضرور ہے۔ لیکن مماثل ہونا اور ایک ہونا ایک بات نہیں ہے۔ اختلاف خواہ کتنا ہی لطیف
ہو بہر حال اختلاف ہے اور اس کا اعتبار کیا جانا چاہیے ۔لطیف ترین فرق کا بھی
اظہار خوبی ہے نہ کہ عیب اس لیے ان مماثل آوازوں والے حرفوں پر شرمندہ ہونے کی
ضرورت نہیں۔‘‘2
یہاں یہ عرض کرنا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ
آوازوں سے بہت سے الفاظ اردو میں داخل ہوئے ہیںان الفاظ کا اپنی اصل زبانوںمیں ایک
گردانی نظام ہے جس کے ذریعے بہت سے الفاظ بنتے ہیں اور جس سے زبان میں ثروت مندی
آتی ہے اگر مسعود حسین خاں کی تجویز کو تسلیم کر لیا جائے تو اس سے زبان محدود ہو
کر رہ جائے گی۔
محمد انصار
اللہ کی دوسری کتاب ’پدماوت کی مختصر فرہنگ‘ (1972)ہے جس میں انھوں نے ملک
محمدجائسی کی کتاب ’پدماوت‘ کی فرہنگ تیار کی ہے۔ مقدمے میں محمد انصار اللہ نے
ملک محمد جائسی کے سوانحی حالات اور ان کی تصانیف کے متعلق معلومات فراہم کی ہیں۔ساتھ
ہی اس زمانے کی لسانی صورت حال کا جائزہ لے کر پدماوت اورا ودھی زبان کی خصوصیات
سے بحث کی ہے۔
کتاب ’قاعدہ ٔ ہندیِ ریختہ ‘(عرف رسالہ گلکسرٹ) کو انصار
اللہ نے اپنے معلوماتی مقدمے اور تفصیلی حواشی کے ساتھ 1973میں مرتب کیا۔محمد
انصار اللہ کو اس رسالے کا ایک قلمی نسخہ مہر الٰہی کی مدد سے حاصل ہوا۔
اس نسخے کا انداز کتابت قدیم ہے کیونکہ یہ نسخہ بنارس میں لکھا گیا اس لیے
اس علاقے کی بولی اور لب و لہجے کے اثرات اس میں نمایاں ہیں۔محمد انصار اللہ نے
اپنے ایڈیشن میں جدید قواعد املا کی پیروی کی ہے اور قدیم املا کی خصوصیات کو حواشی
میں بیان کر دیا ہے لیکن ضرورت کے مطابق متن میںبھی املا یا تلفظ کی اصل صورت کو
قائم رکھا ہے۔
’قاعدۂ
ہندی ِ ریختہ ‘ انیسویں صدی کے اوائل کی تصنیف ہے اور موجودہ معلومات کے مطابق
1820 میں پہلی بار شائع ہوئی۔خلیل الرحمن
دائودی نے 1972 میں اس کے کئی مطبوعہ نسخوں کی مدد سے ایک نیا ایڈیشن شائع کیا۔ ان
کے مطابق یہ کتاب میر بہادر علی حسینی کی تصنیف ہے۔دائودی اور دوسرے محققین نے
مولوی کریم الدین کے بیان سے استفادہ کرتے ہوئے یہ بات لکھی ہے جنھوں نے اسے میر
بہادر علی حسینی سے منسوب کیا ہے۔ انصار اللہ نے اس سلسلے میں اپناتحقیقی موقف پیش
کیا ہے۔ ان کے مطابق محض کریم الدین کی شہادت کی بنا پر اس کتاب کو میر بہادر علی
کی تصنیف نہیں کہا جا سکتاکیونکہ تا حال رسالہ گلکرسٹ کے ایسے قدیم مطبوعہ نسخے
موجود ہیں جن کے سر ورق پر صراحت کے ساتھ گلکرسٹ کا نام اردو اورانگریزی دونوں
زبانوں میں چھپا ہے اور میر بہادر علی حسینی کا نام ضمناً بھی اس کتاب میں کہیں نہیں
آیا۔
محمد انصار اللہ نے تاریخِ اقلیم ادب (1979) کے نام سے اردو
ادب کی ایک مختصر تاریخ بھی مرتب کی ہے۔ اس تاریخ کو مرتب کرنے کے پیچھے انصار
اللہ کا مقصد ایک ایسی تاریخ لکھنے کا تھا جو تحقیقی اعتبار سے جامع ہو اور جس میں
تاریخ کی دوسری کتابوں کی طرح تحقیقی خامیاں نہ ہوں۔انھوں نے اس تاریخ کو خود ہی
چھپوایا لیکن دو حصے مکمل ہونے کے بعد کسی وجہ سے وہ اس کام سے بدد ل ہو گئے اور
اسے ادھورا چھوڑ دیا۔ ایک طرف تو محمد انصار اللہ نے یہ دعوی کیا کہ طلبہ کے لیے
جو ادبی تاریخیں لکھی گئی ہیں وہ تحقیقی اعتبار سے تاقص ہیں اس لیے وہ نصابی
ضرورتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایسی تاریخ تیار کر رہے ہیں جس میں معتبر اور تازہ
ترین تحقیقات کو اختصار کے ساتھ پیش کر دیا جائے لیکن دوسری طرف انھوں نے یہ طریقہ
اختیار کیا کہ کتاب میں کہیں بھی اپنے ماخذکا حوالہ نہیں دیا ہے نہ ہی حواشی اور
کتابیات کا حوالہ دیا ہے جس کی وجہ سے اس کتاب کی تحقیقی اہمیت مجروح ہو گئی ہے۔
ان کتابوں کے علاوہ محمد انصار اللہ نے کلب حسن خاں نادر کی کتاب ’تلخیص معلی‘عبد الغفور
خاں نساخ کے دو رسالے ’قطعہ منتخبہ‘ اور ’زبانِ ریختہ‘،مقصود کا بارہ ماسہ موسوم
بہ’برہن کی کہانی‘ اور ملاّ دائود کی ’چنداین‘
وغیرہ کو بھی مرتب کیا ہے۔ ان کتابوں پر ان کے مقدمے اور حواشی ان کے وسیع
مطالعے اور محققانہ انداز فکر کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔ ’تلخیص معلی‘ میں شیخ امام
بخش ناسخ اور میر اوسط علی رشک کے مجوزہ اصلاح زبان کے اصول درج کیے گئے ہیں۔ اس
کتاب کو انصار اللہ نے 1975میں انجمن ترقی اردو پاکستان اور 1976میں علی گڑھ سے
شائع کیا۔ اسی طرح انھوں نے عبدالغفور نساخ کے ’رسالہ زبانِ ریختہ‘ کو،جس میںنساخ
نے زبان کے ارتقا پر روشنی ڈالی ہے
اوراپنے عہد کے شعرا کی ایک ایک غزل نمونے کے طور پر درج کی ہے، 1977میں علی گڑھ
سے شائع کیا۔ملا دائودی کی چنداین (سنہ تصنیف 779ھ/ 1377) لسانیاتی اعتبار سے اہمیت
کی حامل ہے۔انصار اللہ نے اس کے متن کی تصحیح کی۔ اس میں شامل الحاقی کلام کو الگ
کیا اور اس کے ہر شعر کا ترجمہ بھی کر دیا ہے نیز حواشی میں مشکل الفاظ کی وضاحت
کر دی ہے۔یہ کتاب 1996میں ادارۂ تحقیقات
اردو پٹنہ سے شائع ہوئی۔
محمد انصار اللہ نے اپنی تحقیق کا مرکز اردو زبان کو بنایا
اور اس کے آغاز و ارتقا سے متعلق ایک مخصوص نظریہ پیش کیا۔ انھوں نے بعض قدیم
کتابوں پر کام کیا جو اب تک محتاج تحقیق تھیں اور بہت سے اہم حقائق کی پردہ کشائی
کر کے پچھلے محققین کے نظریات پر سوال اٹھائے۔ تاریخ زبان کے سلسلے میں انھوں نے
ہندوستان کی سیاسی و تمدنی تاریخ کو پیش نظر رکھا اور اودھی کو اردو کا ماخذ قرار
دیا۔حالانکہ اس نظریے کو ابھی تک قبول نہیں کیا گیا ہے اور یہ مزید تحقیق کا محتاج
ہے۔
محمد انصار اللہ کی تمام کتابوں میں ان کے مخصوص لسانی تصور
کی وضاحت ملتی ہے۔ان کے مطابق تحقیقی نقطہ نظر سے شہر دہلی کو اردو کا مولدکہنا صحیح
نہیں کیونکہ اوّل تو اس روایت کو اہمیت دینے میں بزرگان دہلی کا جذبۂ تفاخر بھی
شامل ہے اور دوم یہ کہ مسعود حسین خاں نے اپنے نظریے کے لیے محض دہلی اور اس کے
مضافات کی بولیوں کو ہی بنیاد بنایا ہے جس سے یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے۔ اردو کے
آغاز کے سلسلے میں وہ اس بات سے تو متفق ہیں کہ اردو ایک ہندوستانی زبان ہے لیکن
وہ سنسکرت کو اردو اور باقی ہندوستانی زبانوںکا ماخذ تسلیم نہیں کرتے۔اودھی کے
متعلق ان کا خیال ہے کہ یہ عام لوگوں کی بولی رہی ہے۔ اس کی قواعد سنسکرت سے بہت
مختلف ہے اور اس کا سلسلہ سنسکرت کے بجائے ملک کی قدیم بولی سے ہو سکتا ہے۔ زبان
اردو کی قواعدکو بھی سنسکرت سے کوئی تعلق نہیںہے۔ وہ مغربی ہندی کے تصور کو بھی
تسلیم نہیں کرتے۔ اردو اور کھڑی بولی کے متعلق انصار اللہ کا خیا ل ہے کہ اردو اور
کھڑی بولی کا تعلق ’آ ‘کی شکل رکھنے کی بنا پر قائم کیا گیا ہے۔انھوں نے ایک نقشے
کے ذریعے افعال کی کیفیت ظاہر کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ افعال کی حد تک واحد مذکر کی
حالت میں ہی ’آ‘ کی آواز ملتی ہے ۔جمع مذکر،واحد مونث اور جمع مونث کی حالتوں میں
’آ‘کی آواز بالکل نہیں ہے۔حرف، اسما اور ضمائر کے ساتھ بھی یہی صورت حال ہے۔
انھوں نے اردوقواعد سے متعلق گفتگو کی ہے اور اردو قواعد کے مسائل کو اودھی قواعد
کی روشنی میں حل کرنے کی کوشش کی ہے:
’’اردو
قواعد کے سلسلے میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہاں اکثر الجھے ہوئے معاملات کو
مستثنیٰ یا خلاف قیاس کہہ دینے پر اکتفاکر لی گئی ہے مثلاً چڑیا اور کتیا مونث ہیں
باوجود یہ کہ ان کے آخر میں الف موجود ہے۔اِن کو مستثنیات میں شمارکیا گیا ہے لیکن
ذراغور کریں تو معلوم ہوگا کہ ’چڑا‘ اور ’کتا‘کے الف آخر کو جو علامت ِ تذکیر ہے
،یاے معروف سے جو علامت تانیث ہے بدلیں تو ’چڑی‘ اور ’کتی‘ حاصل ہوگا۔پورب والے
اکثر اسما کے آخر میں الف زاید لاتے ہیں۔ چنانچہ لڑکی سے لڑکیا،گھوڑے سے گھوڑیااور
بکری سے بکریا بنا لیتے ہیں،اسی طور پر چڑی سے چڑیا اور کتی سے کتیا ہو جاتا
ہے۔تذکیر و تانیث میں اس الف زاید کا اعتبار نہیں کیاجاتا۔3
ان کے مطابق علمائے لسانیات نے بعض روایتوں پر اعتماد کر کے
اپنی تلاش و تحقیق کو دہلی و نواح دہلی تک ہی محدود رکھا۔جس کی وجہ سے وہ اردو کے
سلسلے میں سب سے اہم بولی یعنی اودھی کو نظر انداز کرتے رہے اس لیے اودھی کے
شاعروں کو بھی ’مضافات دہلی‘ کی بولیوں کا شاعر سمجھ لیا گیا۔ انھوں نے اپنی بیشتر
کتابوں میں اودھی کو اردو کا ماخذ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے اور اس سلسلے میں موقع
بہ موقع اردو پر اودھی یا پوربی کا اثر دکھایا ہے۔مثلاً تاریخ اقلیم ادب(1979) ص18
پر انھوں نے دہلی کی زبان کے متعلق لکھا ہے:
’’اس
قدیم زمانے میں پوربیوں کی اتنی بڑی تعداد کے اثر سے لسانی اعتبار سے گویا دہلی بھی
پوربیوں کا شہر ہو گیا تھا‘‘4
حالانکہ دہلی کی قدیم زبان کے نمونوں سے ایسی معتبر شہادتیں
سامنے نہیں آئیںہیںکہ وہاں کی زبان پر پوربی کے غلبے کو تسلیم کیا جا سکے۔اسی
کتاب میں سولہویں صدی کے تحت انھوں نے ص 58-59پر اودھی کے سنت روی داس کی شاعری کا
نمونہ دے کر اسے اردو ادب کا حصہ خیال کیا ہے جب کہ ان کے علاوہ کسی نے بھی روی
داس کی شاعری کو اردو نہیں کہا ہے۔محمد انصار اللہ نے اودھی کو اردو کا ماخذ ثابت
کر نے کے لیے جو دلائل پیش کیے ہیں ان پر گیان چند نے بعض اعتراض کیے ہیں :مثلاً:
’’ سب سے زیادہ قابل اعتراض پہلو یہ ہے کہ وہ اپنی پورب پسندی سے گشتہ ہو کر
اودھی کے شعرا کو بھی اردو میں شامل کر لیتے ہیں۔ان کی زبان کو نام دیتے ہیں ہندوی۔
انھوں نے ملک محمد جائسی، کبیر، تلسی داس، ملا دائود مصنف چنداین، شیخ عثمان مصنف چتراولی وغیرہ سب کو اردو کا شاعر
کہا ہے۔اگر تلسی داس اور کبیر اردو کے شاعر ہیں تو وہ اتنے عظیم ہیں کہ انھیں وجہی،
ابن نشاطی اور نصرتی وغیرہ سے زیادہ جگہ دینی چاہیے۔اگر اودھی کو اردو میں شامل
کرتے ہیں تو برج راجستھانی ،بھوج پوری اور بندیلی وغیرہ کے شعرا کو کیوں نہیں۔ اس
طرح اردو کی انفرادیت ختم ہو جائے گی اور وہ ہندی میں ضم ہو جائے گی اور ہندی کی ایک
بولی یا شیلی (اسلوب) ہو کر رہ جائے گی۔اردو نے صرف کھڑی بولی اور اس سے پیدا ہونے
والی دکنی کو اپنایا ہے۔ دوسری بولیوں کو اپنے حصار میں نہیں لیا۔‘‘5
یہ کہا جا سکتا ہے کہ زبان کی ساخت اورداخلی اوصاف کی بنیاد
پراودھی اردو زبان سے بڑی حد تک مختلف ہے لہٰذا اردو سے اس کا ادبی رشتہ توہوسکتا
ہے، لسانی نہیں تاہم محمد انصار اللہ نے مزید تحقیق کے لیے ایسا مواد ضرور فراہم
کر دیا ہے جو ابھی تک ہماری دسترس سے باہر تھا۔
حواشی
1 محمد انصار اللہ
،اردو کے حروف تہجی،1972،لیتھو پرنٹرس، علی گڑھ، ص 34
2 ایضاً،ص 48-49
3 محمد انصار اللہ
،قاعدہ ٔ ہندی ِ ریختہ ،1973،لیتھو کلر پرنٹرس، علی گڑھ ،ص 40
4 محمد انصار اللہ
،تاریخ اقلیم ادب ،1979،لیتھو کلر پرنٹرس،علی گڑھ، ص 15
5 گیان چند جین،اردو
کی ادبی تاریخیں ،2000،ص 617
Dr. Saba Naseem
Milkipura
Mahoba-210427 (U.P)
Email id: nsaba0848@gmail.com

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں