5/1/26

راشدطرازکی شعری کائنات،مضمون نگار: سلیم انصاری

اردو دنیا،ستمبر 2025

 راشد طراز کی شاعری پر گفتگو کرنے سے قبل یہ وضاحت ضروری ہے کہ میری ان سے کوئی بالمشافہ ملاقات نہیں ہے۔ میں ایک عرصہ سے  رسائل و جرائد کے توسط سے ان کی شاعری سے لطف اندوز ہوتا رہا ہوں۔ اس کے علاوہ انھوں نے اپنے کئی شعری مجموعے بھی عنایت کیے ہیں۔ ابھی حال ہی میں ان کی ضخیم کلیات ’شعرـــــخاکِ منتظر‘ مجھ تک پہنچی تو مجھے ان کی شاعری کے نہ صرف تفصیلی مطالعے کا موقع ملا بلکہ اپنی مجموعی رائے قائم کرنے میں بھی آسانی ہوئی۔ان کی کلیات سے ہی مجھے پتہ چلا کہ تقریباً  20 برس کے عرصہ میں ان کے آٹھ شعری مجموعے منظرِ عام پر آچکے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے تخلیقی عمل میں تواتر اور سنجیدگی ہے۔خاکِ منتظر کے مطالعے سے مجھ پر یہ بھی منکشف ہوا کہ ان کی شاعری کا کینوس وسیع ہے، جس پر زندگی کے مختلف رنگوں سے بنائی ہوئی خوبصورت تصویریں  روشن ہیں، جن میں کہیں بھی ابہام یا دہرائو کا عمل نہیں ہے اور میرے نزدیک کسی بھی تخلیق کار کے لیے یہ ایک بڑی بات ہے۔ راشد طراز کی شاعری کے مطالعے کے دوران شدت سے یہ احساس ہوتا ہے کہ انھوں نے اردو کے روایتی یا کلاسیکی شعری سرمایے کا گہرائی کے ساتھ سنجیدگی سے مطالعہ کیا ہے اور تخلیقی اظہار کے لیے اپنا ڈکشن وہیں سے مستعار لیا ہے مگر اس احتیاط کے ساتھ کہ ان کے ڈکشن میں تراکیبِ لفظی نئی اور منفرد ہو، لہجہ ان کا اپنا ہو اور اسلوبِ شعر جدیدیت سے آگے کا منظر پیش کرتا ہو۔

مجھے یہ کہنے میں کوئی جھجھک نہیں کہ راشد طراز کی شاعر ی حیرت اور استعجاب کی شاعری ہے، زندگی کی گہری اور دبیز دھند میں امید افزا روشنی کی شاعری ہے۔  ان کی شاعری میں ٹوٹے ہوئے گمشدہ خوابوں کی تعبیروں کی تلاش کا جذبہ موجودہے۔ ان کے یہاں زوال پذیر تہذیبی قدروں کی بازیافت کا عمل شدید ہے۔ یہ سارے عوامل مل کر راشد طراز کی شاعری کا مجموعی  منظرنامہ تعمیر کرتے ہیں۔  ان کی غزلیں برسوں جدیدیت کے علمبردار رسالے شب خون میں تواتر کے ساتھ شائع ہوتی رہی ہیں لہٰذا امید کی جا سکتی ہے کہ ان کی بہت ساری غزلیں جدیدیت کے سرخیل ناقد شمس الرحمن فاروقی کی نظروں سے  نہ صرف گزری ہوں گی بلکہ انھوں نے evaluateبھی کی ہوں گی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ انھوں نے راشد طراز کی شاعری کے بارے میں مثبت رائے قائم کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’سب سے پہلے جس چیز نے مجھے راشد طراز کی شاعری کی طرف کھینچا وہ ان کی عدم انفعالیت ہے۔یعنی ان کے یہاں غزل میں عشق کے جذبے کی کارفرمائی تو ہے لیکن نارسائی، رونے دھونے اور محرومی کی کیفیت نہیں پائی جاتی۔ ان کی غزلوں میں ہجر کے درد کا اظہار تو ہے مگر نا امیدی، رنج اور محزونی کی فضا ان کے یہاں نہیں ہے۔ میرے نزدیک یہی وہ خصوصیت ہے جوراشد طراز کی شاعری کو نہ صرف مختلف فکری اور معنوی دشائوں میں منعکس کرنے میں کامیاب ہے بلکہ ان کی شاعری کو قابلِ ذکر بھی بناتی ہے۔

راشد طراز بلا شبہ 1980 کے بعد نمایاں طور پر اپنی موجودگی درج کرانے والی ادبی نسل کے ایک بے حد اہم،فعال اور ممتاز شاعر ہیں۔ وہ ایک ایسے باکمال تخلیقی شاعر ہیں جسے پی آر شپ نہیں آتی، وہ کسی ادبی گروہ سے بھی منسلک نہیں  ورنہ ان کی شاعری پر  اب تک متعدد تحقیقی مقالے اور ریسرچ پیپرز لکھے جا چکے ہوتے، رسائل و جرائد میں خصوصی گوشے اور نمبر نکل چکے ہوتے، ان کی صلاحیتوں کے اعتراف میں مختلف اداروں اور انجمنوں نے قابلِ قدر اعزازات سے سرفراز کردیا ہوتا، لیکن افسوس  کے ساتھ کہنا پڑتاہے کہ نام نہاد، مفاد پرست اور سکہ بند ناقدینِ شعرو ادب نے ان کی شعری صلاحیتوں سے دانستہ طور پر چشم پوشی اختیار کی اورخاطر خواہ نوٹس نہیں لیا جس کے وہ بجا طور پر مستحق ہیں۔یہ کوئی ایسی بات بھی نہیں جس کا شکوہ کیا جائے مگر افسوس، احتجاج اور ردِ عمل تو کیا ہی جا سکتا ہے۔

راشدطراز نے اپنی شاعری کے لیے جو فضا تیار کی ہے وہ اگر نامانوس اور اجنبی نہیں تو مانوس بھی نہیں۔ جیسا کہ پہلے بھی ذکر کیاجا چکا ہے کہ انھوں نے اپنی لفظیات کو روایتی یا کلاسیکی شاعری سے مستعار لیا ہے مگر ان لفظوں کی مددسے استعارات کا جو نظام انھوں نے مرتب کیا ہے، ان سے نہ صرف معنی و مفاہیم کے نئے زاویے روشن ہوتے ہیں بلکہ ان کی شاعری کو نئے ذائقوں سے بھی آشنا کرتے ہیں۔ بقول ڈاکٹر علیم اللہ حالی راشد طراز الفاظ کی قوتِ تاثیر کے قائل بھی ہیں اور اس کو اپنی شاعری میں خوبصورت انداز سے برتتے بھی ہیں۔ الفاظ میں قوت، توانائی بلکہ حدت وغیرہ سبھی کچھ ہوتے ہیں بس انھیں برتنے کا سلیقہ درکار ہے۔ مجھے اطمینان ہے کہ راشد طراز کے یہاں الفاظ کے استعمال میں ایک غیر معمولی ہنر مندی کا احساس ہوتا ہے۔ وہ لفظوں کو رنگوں کی طرح استعمال کرتے ہیں۔ بظاہر عام اور معمولی نظر آنے والے الفاظ بھی ان کی تخلیقی سوچ سے ہم آمیز ہوکر چہروں میں تبدیل ہونے لگتے ہیں۔ خواب، آئینہ، چراغ، گھر، زمین، زندگی،سمندر، زخم، زنجیر، دشت، انتظار، امکان، یقین، غبار،ملال اور سفر جیسے عام سے الفاظ ان کے اشعار کو معنویت، گہرائی اور تہداری کے نئے موسموںسے آشنا کرتے ہیں۔ یہ الفاظ ان کی شاعری میں بار بار استعمال ہوتے ہیں اور ہر بار زندگی کی جمالیاتی قدروں کی تجسیم و تفہیم کرنے میں کامیاب نظر آتے ہیں۔ میں ان کی کلیات ’خاکِ منتظر‘ سے چند اشعارپیش کرتا ہوں          ؎

دوام تیری نظر سے ہے خوابِ امکاں کو

یقین میرا مقدر ہے تیرے ہونے سے

ہم اہلِ خواب تھے اپنی حدوں میں جیتے رہے

جنون  زار کے  اظہار تک نہیں  پہنچے

و  در  پہ نقش جو تحریر خواب ہے

روشن جگر کے خوں سے وہ تعبیرِ خواب ہے

خاکِ منتظر کے مطالعے سے ادب کے سنجیدہ قاری پر یہ منکشف ہوتا ہے کہ راشد طراز نے جن لفظوں کو بطور کلیدی استعارات استعمال کیا ہے وہ  ہر دوسری، تیسری غزل میں ایک تواتر کے ساتھ روشن ہوتے ہیں۔جس سے اندازہ ہوتا ہے استعارات کے دہرائو کا یہ عمل ان کے ذہن میں لاشعوری طور پر انجام پاتا ہے، انھیں شاید اس کی خبر بھی نہ ہو۔خواب ایک ایسا استعارہ ہے جس کا حقیقت سے واسطہ ہے بھی اور نہیں بھی۔یعنی بغیر خواب دیکھے انسان اپنے مستقبل کا کوئی ٹارگیٹ سیٹ نہیں کرسکتا جب کہ نیند کے دوران دیکھے گئے خواب کی تعبیروں کا اثر مثبت بھی ہوسکتا ہے اور منفی بھی، کئی بار انسان ایسے لایعنی اور absurd خواب بھی دیکھ لیتا ہے جس کی کوئی تعبیر ہی ممکن نہیںہے، ان سب کے باوجود خواب دیکھنا ایک فطری عمل ہے اور راشد طراز کے یہاں خواب زندگی کی حقیقت  کے حصول کا اعلامیہ بھی ہے اور اپنی ذات کے وہم و گمان  اور اندیشوں سے رہائی کا ذریعہ بھی۔وہ انحراف، شکست اور بے یقینی کا الزام اپنے سر نہیں لینا چاہتے بلکہ ان کی خواہش ہے کہ انھیں زندگی کی مثبت قدروں کا ترجمان سمجھا جائے۔ خواب کی طرح زخم، آئینہ اور چراغ جیسے الفاظ بھی ان کے مافی الضمیر کو پوری طرح ادا کرنے میں کامیاب ہیں۔چند اشعار پیش کرتا ہوں         ؎

کون اپنا ہے یہ  اعجاز  دکھایا ہے مجھے

زخم نے جینے  کا  انداز سکھایا ہے مجھے

منتظر آئینہ خانے ہیں نہ جانے کس کے

شہرِ تمثال میں اب تو کوئی چہرہ بھی نہیں

فریبِ دید ہے یا راستہ چمکتا ہے

پسِ غبا ر  کوئی  آئینہ چمکتا ہے

میں جا رہا ہوں بیابانِ آگہی کی طرف

وہاں یقیں ہے  اداسی کا آئینہ  ہوگا

میری طرف دھواں تری جانب چراغ ہے

دنیا  میں کتنا  حسب  ِ مراتب  چراغ ہے

میں لوٹ آیا ہوں  پھر اپنے  خواب  زاروں میں

جہاں کے پھولوں میں روشن ہے رنگ و بو کا چراغ

مری  نگاہ  میں محفوظ ہے جو مثلِ چراغ

وہ خواب بھی اسی ہندوستاں سے آیا ہے

یہ  وہ چراغِ لہو ہے  وفا کے  رستے میں

جسے جلایا ہے دل نے دعا کے رستے میں

اشعار کے مزید حوالوںسے گریز کرتے ہوئے مجھے یہ عرض کرنا ہے کہ راشد طراز کی شاعری میں منفرد اور انوکھے استعارات کی اختراع کا عمل فطری اور وہبی ہے۔ آئینہ اور چراغ جیسے استعارے تو قاری کو ایک ایسے جہانِ معنی کی سیر کراتے ہیں جہاں پر شاعر کا ذہن بھی کبھی کبھی مشکل سے پہنچتا ہے۔انھیں اپنوں کے عطا کردہ زخموں سے روشنی کشید کرکے دوسروں کے راستوں کو روشن کرنے کا ہنر بخوبی آتا ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں چراغ اور آئینہ جیسے لفظ فطری طور پر ان کے لاشعور کا حصہ بن گئے ہیں۔ وہ کبھی اپنی آگہی کے بیابان میں یقین و امید کے چراغ روشن کرتے ہیں تو کبھی اپنے خوابوں کے چراغ سے اپنی تنہائیوں کو تابناک بناتے ہیں۔ ان کے یہاں گھر کا استعارہ ان کی تنہائیوں کی پناہ گاہ ہے۔ وہ اپنے چراغِ لہو کی روشنی میں اپنے زخموں کو آئینہ کرکے اپنی زندگی کو شعر کرنے کے آرٹ سے خوب واقف ہیں۔  اس طرح دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ راشد طراز کا شعری کینوس بے حد وسیع ہے۔ وہ اپنی شاعری کے لئے خام مواد اپنے ارد گرد کے واقعات وحادثات کے علاوہ داخلی تجربات و محسوسات سے اخذ کرتے ہیں۔ راشد طراز کی شاعری میں کسی بھی طرح کی مذہبی، سیاسی یا نظریاتی وابستگی کی تلاش بے سود ہے۔بلکہ یوں کہا جائے کہ ان کی شاعری میں روایتی، جدید اور مابعد جدید شعری رویوں کی نشاندہی بھی نہیں کی جا سکتی کیونکہ اچھی شاعری تو بس اچھی شاعری ہوتی ہے جو اپنے عہد کے ادبی حوالوں کا چہرہ ہوتی ہے۔

راشد طراز کی شاعری کے تفصیلی مطالعے نے مجھے حیرت و استعجاب میں ڈال دیا کہ برسوں تک شب خون جیسے جدیدیت کے علمبردار رسالے میں متواتر شائع ہونے کے بعد بھی ان کی شاعری اس علت سے پاک رہی جسے شبخونی جدیدیت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ان کے یہاں مبہم علامتوں اور پیچیدہ استعاروں کے استعمال سے گریز کا سبب چاہے جو بھی ہو مجھے یہ عرض کرنا ہے کہ انھوں نے اپنی سادہ بیانی اور سادگی کو ہی اپنی شاعری کا مثبت حوالہ بنا دیا ہے۔وہ اپنے گمشدہ خوابوں کی تعبیریں ہی تلاش نہیں کرتے بلکہ ان سے زندگی کی دبیز دھند کے لیے روشنی کشید کرتے ہیں۔ ان کی شاعری میں جہاں عشق و حسن، اور ہجر و وصال کے نازک احساسات رقم ہوئے ہیں وہیں ان کے یہاں جبر و استحصال، سیاسی نظام کے عدم استحکام، فرد اور معاشرے کے درمیان ٹوٹتے رشتے اور تہذیب کے زوال کا نوحہ بھی ہے۔

یہ بات پہلے بھی کہی جا چکی ہے کہ اپنے مافی الضمیر کو ادا کرنے کے لیے راشد طراز نے جو ڈکشن اختیار کیا ہے وہ براہِ راست ہے اور سادگی سے عبارت ہے۔ اس کے علاوہ ان کے یہاں منفرد اور انوکھی تراکیبِ لفظی کو تراشنے کا عمل شدید ہے جن کے سبب ان کی شاعری معنویت کی سطح پر روشن اور تابناک ہو جاتی ہے۔ان تراکیب میں ان کی کلیات کے عنوان خاکِ منتظر کے علاوہ تنہائی کی تصویر بنانا،سائے کے ہمراہ چلنا،خامشی کا چہرہ،روشنی کی زبان، اجالے کی حمایت،آئینۂ چراغ، آسودہ ٔپندار، بازی گرانِ شہر، قیمتِ پندار،آئینۂ ذات، چراغِ ہجر اور خوابوں کا اجنبی ہونا وغیرہ شامل ہیں۔یہ ساری تراکیبِ لفظی، فطری اور غیر شعوری طور پر راشد طراز کی شاعری کا حصہ ہیں اور ان کے شعری ارتقا میں ممد ومعاون بھی۔ان کی کلیات ’خاکِ منتظر‘ میں نئی اور نادر ردیف میں بھی کئی غزلیں شامل کی گئی ہیں جن سے ان کی تخلیقی دسترس کا اندازہ ہوتا ہے۔

راشد طراز کے بارے میں یہ بات  پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ انھوں نے اپنی شاعری کے لیے جو قارئین  دریافت کیے ہیں وہ سنجیدہ ہیں اور نہ صرف عصری شعور و آگہی رکھتے ہیںبلکہ انسانی زندگی کے نشیب و فراز سے بھی واقف ہیں۔ انھوں نے شاعری کا جو لہجہ تراشا ہے وہ براہِ راست ذہن و دل میں اتر جانے والا ہے۔مجھے اطمینان ہے کہ راشد طراز کا شعری سفر جاری ہے اور ان کے تخلیقی سوتے شاداب ہیں لہٰذا امید کی جا سکتی ہے کہ وہ مستقبل میں  ’خاکِ منتظر‘ سے آگے کا شعری منظر نامہ پیش کریں گے۔

Saleem Ansari

HIG-3, Anand Nagar

Adhartal

Jabalpur-482004 (MP)

ansarisaleem320@gmail.com

 


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...