5/1/26

آہ! انیس رفیع ، مضمون نگار:محمد حامد علی خاں

 اردو دنیا،ستمبر 2025

7جون2025کو کلکتہ سے ایک مخلص کے فو ن کی گھنٹی بجی ۔میں نے انھیں بعد سلام جوں ہی عیدالاضحی کی مبارکباد دی انھوںنے برجستہ کہا کہ شب کے دو بجے انیس رفیع محبوب حقیقی سے جاملے۔ کیا ہی مسکاتے ہوئے انسان تھے۔ بڑے خلیق ،میانہ سا قد، دراز زلف، بلند پیشانی، گول کلین شیو چہرہ ،ناک پہ ٹھہرا ہوا سیاہ فریم کا چشمہ، کسی پہ نگاہ ٹھہری کہ آگے کے سفید دانت صاف دکھائی دیتے۔ بہت ہی سبک آواز نمائندہ الفاظ سے مخاطب ہوتے، چھوٹوں کے کاندھوں پر شفقت کا ہاتھ ضرور دھرتے۔ ادبی گفتگو شروع کرتے تو پوری متانت کے ساتھ رواں رہتے۔ انھیں شکایت کسی سے نہیں تھی۔ حالات کے جبرکا حصہ بتا کر نکل جاتے لیکن ان کے ہم عصروں نے اکثر انھیں نظرانداز کرنے کی کوشش کی، جبکہ انیس رفیع اردو افسانے کا وہ اہم نام رہا ہے جسے صاحب علم ادیبوں نے پہچانا اورا ن کے فن سے گفتگو کی۔ ایسے لوگوں میں پروفیسر محمد حسن، شمس الرحمن فاروقی، گوپی چند نارنگ اور پروفیسر قمر رئیس اہم ہیں۔ انیس رفیع کا نظریہ فن ملک و سرحد سے پرے انسان دوستی کو افسانہ بنانے کا ہنر ہے جس میں اساطیری توضیحات بھی ہیں اور 1970کے بعد کی تخلیقی، انحرافی اور توسیعی حسیات و ادراک بھی۔ انیس رفیع کے افسانوں نے جدیدیت سے مابعد جدیدیت تک کا سفر ہی نہیں کیا بلکہ تجربہ کیاہے، انیس رفیع نے فن کے معیار سے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اس لیے اپنے تقریباً باسٹھ سالہ افسانوی سفر میں کچھ زائد ازڈیڑھ سو(150)  افسانے لکھے۔ مثلاً ان کے صرف تین افسانوی مجموعے ’اب وہ اترنے والا ہے‘ (1984)، ’کرفیو سخت ہے‘ (2003)، اور ’گداگر سرائے‘ (2016) شائع ہوئے۔ ان میں شامل افسانوں کی تعداد ہر چند کہ 75 ہے۔ یعنی پہلے افسانوی مجموعے میں 18 افسانے، دوسرے میں 22اور تیسرے میں 35افسانے شامل ہیں۔ لیکن اس سے زیادہ افسانے رسائل وجرائد اور تالیفات میں بکھرے ہیں۔

انیس رفیع کا افسانوی سفر 1963سے شروع ہوتا ہے جب مولانا آزاد کالج، کلکتہ میں Pre University کے درجہ میں تھے اور ان کا پہلا افسانہ ’ہیرو۔ نہلے پہ دہلا‘ کالج میگزین میںشائع ہوا تھا جو پروفیسر نیاز احمد کی ادارت میں شائع ہوتا تھا۔ یہ دراصل Provoked افسانہ تھا جو دوستوں کے اکسانے پر لکھا گیاتھا۔ دوسرا افسانہ اسی سال’پائل‘ویکلی، بمبئی میں شائع ہوا۔ اس طرح انیس رفیع کے یہاں خود اعتمادی آتی گئی اور پروفیسر نیاز احمد ہی کی حوصلہ افزائی پر ان کا تیسرا افسانہ ’شاہکار‘ شاعر، بمبئی  میں 1963میں شائع ہوا۔ ’شاہکار‘ دراصل ایک پینٹر اور ایک ماڈل کے نا مکمل عشق کی حقیقی داستان تھا لیکن یہ کوئی پیشہ ور پینٹر نہ تھا بلکہ انجینئرنگ کا طالب علم اور پینٹنگ کا عاشق تھا اور انیس رفیع کے حلقہ احباب میں شامل تھا۔ اسی زمانے سے سنجیدہ ادب کے قاری ان کی طرف متوجہ ہوئے اور پروفیسر محمد حسن نے اپنے رسالے ’عصری ادب‘ کے لیے انیس رفیع سے افسانے کی فرمائش کی اور ’عصری ادب ‘ کے شمارہ نمبر 8 میں ان کا افسانہ ’پولی تھِن کی دیوار ‘ شائع ہوا۔ اس شمارے میں کل چار افسانے شامل تھے جن میں دو افسانے ’اداس بدن‘ ،’سیکنڈ ہینڈ کمرے کا مریض‘ شفق کے تھے تو’منظر و پس منظر‘ فیروز عابد کا لیکن انیس رفیع ترتیب افسانہ میں اوّل تھے۔ اس وقت سید بہاء الدین احمد اس رسالے کے مدیر اور ڈاکٹر محمد حسن کا نام نگراں کے طورپر شامل تھا۔ اس کے بعد انیس رفیع ’شب خون‘ کی بزم میں شامل ہوئے ۔پھر ملک و بیرون ملک کے تمام رسائل و جرائد میں شائع ہونے لگے ۔ انیس رفیع کے یہاںجو توسیعی حسیات ہے وہ پہلے انہی کی زبانی ملاحظہ ہو:

اب وہ اترنے والا ہے‘ اور ’کرفیو سخت ہے‘ کے بعد میرے افسانوں کا تیسرا مجموعہ آپ کے سامنے ہے۔ یہ افسانے ترسیل کی ناکامی، علامتوں کے زوال، تجریدیت ، لایعنیت ، ما بعد جدیدیت کی تھیوریز پر بحث ومباحثے سے گزرتے ہوئے ’گداگرسرائے ‘  تک آپہنچے ہیں۔ اس مجموعے کو منصہ شہود پر لانے کی خواہش محض اس لئے ہے کہ ان کی باز خوانی ہوسکے ۔ میری تمام لغزشوں کے باوجود آپ کی حوصلہ افزااور قدر افزا نگاہ نے فن افسانہ سے دو دو ہاتھ کرنے کی جرأت عطا کی۔ اگر یہ آپ کی قرأت اور نظر کے معیار پر پورے اترتے ہیں تو زہے نصیب ۔ اگر نہیں اترتے تو سزا کی صورت، کوئی ہوتو، تجویز فرمائیں۔‘‘

(سرِ تحریر، مشمولہ ’گداگرسرائے‘ 2016،ص 8)

توجہ طلب امریہ ہے کہ انیس رفیع نے اپنے پہلے او ردوسرے افسانوی مجموعوں پر کوئی حرفے چند وغیرہ شامل نہیں کیا تھا اور نہ ہی کسی دوسرے کا مقدمہ وغیرہ شامل کیا تھا ۔شاید ایسی تحریریں ان کے نزدیک فن اور قاری کے درمیان جملہ معترضہ ہوں کیونکہ میں بھی یہی سمجھتا ہوں۔

انیس رفیع کے پہلے افسانوی مجموعہ ’اب وہ اترنے والا ہے‘ کا افسانہ ’ترمیم شدہ اوکٹوپس‘، ایمرجنسی کے زمانے کا ہے جو 1975میں شائع ہوا۔ غورطلب امر یہ ہے کہ اوکٹوپس (Octopus) نہایت ہی خوفناک قسم کا جانور ہے جو پانی اور خشکی دونوں میں پایا جاتاہے اس کے آٹھ لچیلے بازو ہوتے ہیں۔ فن کار اس کے ذریعہ اقتدار وقت کے اس قانون کی طرف اشارے کرتاہے کہ Article-56کی دھجیاں اڑاتے ہوئے کس طرح عام شہریوں کو بنیادی حقوق سے محروم کردیا گیا تھا۔

اسے ہم علامتی اور اساطیری کہانیوں کے زمرے میں رکھ سکتے ہیں۔ ’ اب وہ اترنے والاہے‘ شعبدہ باز سیاست دانوں کا قصہ ہے۔انیس رفیع کا یہ افسانہ ’عصری آگہی‘ کے شمارہ 03جلد02میں بھی شائع ہواہے ۔

وش پان کی کتھا‘ بھی ان کے پہلے مجموعے میں شامل ہے جس کے عنوان ہی سے پتہ چلتاہے کہ یہ کہانی ہندو اسطور یات پر مبنی ہے یا ہندوعلم الاصنام سے متعلق ہے جس کے مطابق بھگوان شیو نے سمندر منتھن کرکے کئی قطرے وِش کے حاصل کیے اور پی گئے جس سے ہر چند کہ ان کا کنٹھ نیلا پڑگیا لیکن زندہ رہے اوراپنی وش پان تپسیا سے خود کو بھگوان منوا گئے۔اسی طرح اس افسانے میں بھی ایک شخص اسی ذہنی کرب میں مبتلا ہوتاہے اور خود کو ایسے مقام پر فائز کرنا چاہتا ہے کہ اس کے خیالات کے دھارے میں ایک فوج شامل ہو جائے لیکن یہ ہونہ سکا اور اس کی جان پر بن آئی۔ اس طرح یہ ایک سبق آموز اسطوری کہانی ہے۔

سبو تاژ‘ ان نام نہاد انقلابی لوگوں کا علامتی افسانہ ہے جو بلند بانگ نعروں کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں لیکن زیادہ دیر اور دور تک دھوپ کی تپش یا بارش کے تھپیڑے برداشت نہیں کرتے تو اپنے قدم پیچھے کرتے ہوئے پوری قوم اور کئی خاندانوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ان کا افسانہ ’غروب سے پہلے‘ ایک باغی گائوں میں ہوئے فوجی کومبنگ آپریشن  (Operation Combing) کی روداد ہے۔

اندرقلعہ ‘ انیس رفیع کا طویل افسانہ اور ایک تاجر عورت کی کہانی ہے لیکن فن کار یہاں Preservation of Old Heritageکی طرف اشارہ کرتاہے۔ پروفیسر قمر رئیس نے ا س کہانی کو پسند کرتے ہوئے اور طوالت کا خیال کرتے ہوئے ’عصری آگہی‘ کے ناولٹ نمبر میں شامل کیا تھا کیونکہ اس کہانی میں وہ تمام عناصر موجو دہیں جو ناولٹ کا خاصہ ہیں ۔انیس رفیع کی یہ کہانی ان کے مجموعہ ’گداگر سرائے‘ میں شامل ہے۔  ’ترتیب ‘ عالمی نظام کی نئی ترتیب کا قصہ ہے جو بیسویں صدی کی چوتھی دہائی سے ساتویں دہائی تک تاریخی اعتبار سے ایک جدید عالمی نظام کے قیام کا زمانہ رہا ہے۔ دوقطبی عالمی نظام کی جگہ کثیرقطبی عالمی نظام قائم ہورہا تھا جس کے پسِ پشت اشتراکی نظریے کارفرماتھے۔

انیس رفیع خالص تخلیقی فن کار تھے۔ ان کا مطالعہ ومشاہدہ گہرا تھا اسی لیے وہ اچھے تنقید نگار بھی تھے اور تحقیق کی شدبد بھی رکھتے تھے ۔اسی لیے انھوںنے خاصی تعداد میں تنقیدی مضامین بھی لکھے۔ ان کے تنقیدی مضامین کا ایک مجموعہ ’تخلیقی فن کار انیس رفیع کی تنقیدی بصیرتیں ‘ صبا نوشاد نے ترتیب دیاہے۔

انیس رفیع کا امتیاز خاص یہ بھی رہا کیا کہ انھوں نے کوئی ادبی ٹولی نہیں بنائی۔ انسان سے محبت کی، اس کے مسائل کا تجزیہ کیا ،فن کے معیار کو بحال رکھا۔وہ قاری کے لیے ارتکاز پیدا کرنے میں مہارت رکھتے ہیں اور علامتی یا استعاراتی کہانیوں کو بیانیہ روانی کے ساتھ لکھتے ہیں۔

انیس رفیع نے 5جنوری 1945کو اپنے وطن موضع سلیم آباد پھلہرا، ڈاکخانہ :اجرا، ضلع ویشالی، بہار میں آنکھیں کھولیں، ان کے والد مجیب الرحمن خاں مظہر نے ان کا نام انیس الرحمن خاں رکھا۔ ان کی ابتدائی تعلیم ثانوی درجے تک اپنے وطن میں ہی ہوئی اور 1954 میں کلکتہ چلے گئے کیونکہ ان کے والد کلکتہ کے بڑے چمڑا کاروباری تھے اور اپنا وسیع مکان بھی تھا۔ آٹھویں جماعت تک کی تعلیم CMOہائی اسکول کلکتہ میں حاصل کی پھر ایم۔ایل۔جبلی انسٹی ٹیوشن کلکتہ سے دسویں جماعت مکمل کرکے 1960میں ہائر سکنڈری تعلیم مغربی بنگال، کلکتہ سے مکمل کی۔ 1965میں کلکتہ یونی ورسٹی سے بی۔اے آنرز (پولیٹیکل سائنس) میں اوّل آئے۔ اور اسی یونی ورسٹی سے ایم۔اے پولیٹیکل سائنس میں کامیابی حاصل کرکے ایل ایل بی کی سند بھی حاصل کی۔ 1969میں انیس رفیع کا تقرر بحیثیت لکچرار J.L.Collegeحاجی پور میں ہوگیا۔ لیکن کلکتہ کی کھلی فضامیں انھوں نے جو خواب دیکھے تھے حاجی پور میں اس کی تعبیر دکھائی نہیں دی تو UPSCکے ذریعہ Programme Exetutive AIRمنتخب ہوگئے اور جون 1975میں J.L.Collegeسے مستعفی ہوکر گورکھپور جوائن کرلیا۔پانچ سال کے قریب گورکھپور میں رہنے کے بعد جون 1980میں ان کا تبادلہ آل انڈیا ریڈیو ،کلکتہ ہوگیا ۔پھر 1985میں ان کا تبادلہ آ ل انڈیا ریڈیو ،پٹنہ میں ہوا۔ 1989میں اسسٹنٹ کنٹرولر آف پروگرام ہوکر نئی دہلی گئے لیکن دہلی کے دوسالہ قیام کے بعد ہی ان کا تبادلہ دوردرشن ، کلکتہ میں ہوگیا۔ یہیں سے 1997 میں Promotionپاکر Station Director دوردرشن آسام ،ڈبروگڑھ بھیج دئیے گئے۔کچھ وقفے کے لیے مظفرپور دوردرشن میںبھی رہے۔ اس طرح 31جنوری 2005کو ملازمت کی مدت کار مکمل کرکے سبکدوش ہوئے۔ سبکدوشی کے بعد کچھ دنوں کے لیے IGNOU میں کاؤنسلر رہے اور 2008میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ ماس کمیونیکیشن میں وزیٹنگ فیلورہے۔ تو کلکتہ کو وطن ثانی بنا لیا اور یہیں مدفون ہوئے۔ انیس رفیع کی شادی پٹنہ کے مشہور Dentist ڈاکٹر عبدالرشید خاں اکزیبیشن روڈ ،پٹنہ کی صاحبزادی نوشابہ خانم سے ہوئی تھی جن سے دو ا ولاد نرینہ اور ایک بیٹی ہیں ۔بیٹی آسٹریلیا میں ڈاکٹر ہیں جبکہ دونوں بیٹے خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔

 


Prof. Md. Hamid Ali Khan

University Department of Urdu

B.R.A. Bihar University

Muzaffarpur- 842001 (Bihar)

Mob: 09431073132

Email:-hamidalikhan546@gmail.com

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...