5/1/26

انیس رفیع اور اس کے بعد کا اجالا،مضمون نگار:ظہیر انور

 اردو دنیا،ستمبر 2025

غالب نے کہاتھا       ؎

بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا

آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

غالب کے معیار پر اترنے اور انسان ہونے کے لیے پل صراط سے گزرنا پڑتا ہے۔ ایسے تمام حضرات جو آدمی سے انسان ہونے کے عمل سے گزرتے ہیں، ابتدا سے مشکلوں، دشواریوں اور نفسیاتی پیچیدگیوں کے حوالے سے یہ مقام ہاتھ آتا ہے۔ ایسی ہی صفات افسانہ نگار اور تنقید نگار انیس رفیع کے اندر بھی موجود تھیں۔ میرے لیے یہ سانحہ ذاتی سطح پر بارِ گراں سے کچھ کم نہیں۔ وہ میرے استاد بھی تھے ۔ جب میں گیارہویں جماعت کا طالب علم تھا تو استاد محترم سے کلاس روم میں آشنائی ہوئی تھی۔1969 کا زمانہ تھا۔ ان دنوں مجھے یہ علم نہ تھا کہ ان کی صلاحتیں یا علمی اور ادبی لیاقتیں کس معیار کی تھیں۔ ان کا ہنر دھیرے دھیرے ان سے ملاقاتوں اور ان کے افسانوں کے مطالعے کے بعد کھلتا گیا۔ اسکول میں ان کی محبت، اپنائیت اور بے تکلفی  سے پڑھانے کی خصوصیات سے متعارف ہی نہیں، متاثر بھی ہوا تھا۔ اس وقت ہمارے اسکول میں دو بڑے مقبول اساتذہ تھے: طیب احمد خاں اور انیس رفیع، اور دونوں ہی مختصر عرصے کے لیے مدرسہ عالیہ کلکتہ میں بہ حیثیت استاد آئے تھے۔ انھیں توکہیں اور سفر پہ جانا تھا لیکن طالب علموں سے بڑے مہربان اور شفیق دوست کی طرح پیش آتے اور انھیں ہر پل لکھنے ، پڑھنے اورکچھ نیا کر گزرنے کا حوصلہ دیتے تھے۔ اس سے پہلے انیس رفیع صاحب اسلامیہ ہائی اسکول میں درس و تدریس کے فرائض انجام دے چکے تھے اورکچھ عرصہ بہار کے کسی کالج میں پولیٹکل سائنس کے استاد بھی رہ چکے تھے۔ وقت گزرتا گیا اور پھر  ان کا تقرر ریڈیو اسٹیشن میں پروگرام ایکزیکیوٹیو (Programme Executive)  کے طورپر ہوا اور جب وہ کلکتہ تشریف لائے تو اس شہر کی فضا ہی جیسے بدل گئی۔ ایک نقیب، اسپیکر، اداکار اور ڈراما نگار کے طورپر ان سے ملاقاتوں کا ایک سلسلہ برسوں دراز رہا۔ ان کے آفس، ریڈیو اسٹیشن کے کینٹین میں ہنسی، مذاق کے ساتھ ساتھ سنجیدہ ادبی گفتگو بھی خوب خوب ہوئی۔ اگرچہ وہ مختصر عرصے کے لیے ہمارے استاد رہے، تاہم ٹی وی اسٹیشن کے ڈائرکٹر کے عہدے تک، بلکہ زندگی کے آخری دنوں تک ان سے ہماری راہ و رسم برقرار رہی۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان کی شہرت بہ حیثیت افسانہ نگار، ریڈیو ٹاک میں شریک کار، ریڈیو ڈراموں کے تخلیق کار اورپروڈیوسر کے طورپر بڑھتی گئی۔آفس اورکینٹین ہی کیا، شہر کے کئی مقامات پر بہت کچھ ان سے بحث و تمحیص کے حوالے سے ادب، افسانے اور تنقید و تبصرے کے نئے گوشے میں ہمیں روشنی ملی۔ ان کے کئی افسانوں پر خود ان کے ساتھ مکالمہ ہوا، بالخصوص دو آنکھوں کا سفر، اب وہ اترنے والا ہے، مادر فروش، پشت پر رکھا ہوا آئینہ، لوہے کی مٹھی، کرفیو سخت ہے  اور ’گداگر سرائے‘ نیز’ اندرقلعہ‘ جیسے طویل مختصر افسانہ یا ناویلا/ ناولٹ پر گفتگو کے حوالے سے کہانی، نئی جدید تر کہانیوں کو سمجھنے کاموقع ہاتھ آیا۔ اس طرح ہم دونوں کے درمیان محبت اور قربت کا ایک انوکھا رشتہ قائم ہوگیا۔ انھوں نے مجھے کبھی محسوس ہی نہیں ہونے دیاکہ میں ان کا شاگردہوں بلکہ مجھے ایک دوست کی طرح ہمیشہ ٹریٹ کیا۔ ہماری یہ دوستی ادبی محفلوں میں، جلسوں میں، ایک ساتھ اسٹیج پر شریک ہونے کی وجہ اوربھی مستحکم ہوتی چلی گئی۔ بنگال کے اردو افسانے کے تین چار افسانہ نگار ظفراوگانوی، انیس رفیع اور فیروز عابد بحث و تکرار کے ساتھ ساتھ رسالوں میں بھی تواتر سے نظر آتے رہے۔ سجاد نظر بھی ایک بہترین افسانہ نگار کے طورپر اپنی شناخت بنا چکے تھے۔ ہندوستان کے تمام اہم ادبی جریدوں اور رسائل میں ان کی کہانیوں نے قاری کا ایک حلقہ بنا لیا تھا اور نئی نسل متاثر بھی ہو رہی تھی اور سیکھ بھی رہی تھی۔

انیس رفیع کے کل تین افسانوی مجموعے شائع ہوئے۔ ایک افسانوی مجموعے کی رسم اجرا میں مجھے بھی شریک ہونے اور اپنی رائے کے اظہار کرنے کاموقع ملا تھا۔ ان کی جتنی کہانیاں شائع ہوئیں، وہ تو جگ ظاہر ہے لیکن کہانیاں اور انتہائی بامعنی اور خوب صورت کہانیاں کسی اور کے نام سے بھی شائع ہوئیں۔ دن گزرتے گئے، ان کی محبت اور خلوص کا سایہ بڑھتاگیا۔ محفلوں میں بالخصوص سجاد نظر،فیروز عابد، کامل اختر، معین اعجاز ، ف س اعجاز، حسن اثر کے علاوہ یوسف تقی کے گھر میں، نیزآخری چند برسوں میں صدیق عالم کی صحبت میں بھی شامیںگزریں اور سادہ کہانیوں سے لے کر جدید، مابعد جدید اور طلسمی حقیقت نگاری تک بحث کے موضوع بنتے رہے۔ نئی طرز کی کہانیوں اور تنقید کے نئے لب و لہجے سے ان کی واقفیت کسی سے کم نہ تھی۔ انھوں نے مجھے ایک دوست کی طرح اپنالیا لیکن رہے وہ میرے استاد ہی، اور جو خلوص و محبت کا مظاہرہ کیا ،وہ آدھی صدی سے اوپر کا قصہ ہے جس کے پورے بیان کے لیے گھنٹے ڈیڑھ گھنٹے کی گفتگو ناکافی ہے۔ ہاں، ان ملاقاتوں میں ہر بار یہ احساس ہوا کہ وہ کسی گھنے درخت کے سائے سے کم نہیں۔ ذوق نے کیا خوب کہا تھا        ؎

اے ذوق کسی ہمدمِ دیرینہ سے ملنا

بہتر ہے ملاقاتِ مسیحا و خضر سے

وہ تیزی سے میرے قریب آتے گئے اور پھر کئی ڈراموں کو اسٹیج پر دیکھا، اسٹیج اور فلم سے ان کی دلچسپی حد سے بڑھی ہوئی تھی۔ میرے کئی ڈراموں مثلاً انتظار اور ابھی، انگاروں کا شہر، نیلامی ایک سلطا ن کی، بٹوارہ (ٹوبہ ٹیک سنگھ، اسکرپٹ زماں حبیب) اور ’نقارہ‘ وغیرہ دیکھ کر بہت خوش ہوئے اورمیرے ڈرامے کو نہ صرف سراہا بلکہ میری ہدایت کی پزیرائی بھی کی۔ وہ ان ڈراموں کے اسٹیج کی پیش کش سے متاثر تھے اور پھر انھوں نے ’انگاروں کا شہر‘ ریڈیوورشن ،اور ڈراما ’خوابوں کا سویرا‘ کا ٹی وی پروڈکشن کی ذمے داری بھی نبھائی۔ ریڈیو پر ڈراما پیش کرتے ہوئے انھوں نے ابتدائیہ کے طورپر جوکچھ کہا تھا، وہ آج بھی میری یادداشت میں محفوظ ہے اور پہلی بار تحریری صورت میں اس کا اظہار ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہاتھا کہ اردو ڈراما بنگلہ ڈراموں کی ہم سری کرنے لگا ہے۔ اس بات میں صداقت ہے کہ نہیں، اس سے مجھے سروکار نہیں لیکن نئی نسل کو انھوں نے ہمیشہ سراہا اور میرے لیے بھی یہ نہایت حوصلہ مندانہ بات تھی اور دوسری طرف ان کی نکتہ رسی اورکشادہ دلی بھی صاف ظاہر تھی۔ وہ ایسے مقام پر تھے کہ ان کے یہ توصیفی جملے ہم جیسے کم تر ادیبوں اور ڈراما نگاروں کے لیے اہمیت کے حامل تھے۔ بہ حیثیت افسانہ نگار ’شب خون‘، ’شاعر‘ وغیرہ میں ان کے افسانوں کی مسلسل اشاعت کی وجہ سے ان کی شہرت ملک گیر سطح پر مستحکم ہو چکی تھی۔ شمس الرحمن فاروقی سے ان کی رفاقت قابل ذکر تھی۔ نئے لکھنے والوں یا ان کے ساتھ ابھرنے والے افسانہ نگاروں میںجو ادبی، فکری، علمی اور دانش وری کے پہلو ظاہر ہو رہے تھے ، انیس رفیع بھی ایسی خصوصیات سے مالا مال تھے۔ علاوہ ازیں انسان دوستی، وضع داری، عملی زندگی میں تھوڑی بہت لاپرواہی ، نہایت حساس نیز غیرمحتاط بھی تھے ، لیکن ایثار و محبت کی دنیا میں بے مثال اور تحریر کے حوالے سے نہایت باخبر اور نئی نسل کی حوصلہ افزائی ہمیشہ کرتے رہتے تھے ۔ ریڈیو، ٹیلی ویژن میں نئے لکھنے والوں کو ہمیشہ موقع دیتے۔ Voice Over  ، نقابت اور اداکاری نیز آوازوں کو سامنے لانے کے لیے کوششیں کیں اورمیری زندگی کا بھی بڑا حصہ ان کی ایسی ہی خصوصی روایات اور عنایات کے احاطے میں گزرا۔ یاد آتا ہے کہ ابتدائی دنوں میں ریڈیو اڈیشن کے لیے راقم الحروف کو ایک اسٹوڈیو میں تنہا چھوڑ کر پیچھے سے دیکھتے رہے اور آواز دی کہ آپ کو ایک بوڑھے کا کردار ادا کرنا ہے جسے شہر بدر کا حکم ملا اور وہ اپنی عمر رسیدہ بیوی سے نکلنے سے پہلے بات کررہا ہے۔ بہ حیثیت استاد انھوں نے کبھی غصے اور جبر کا اظہار نہ کیا بلکہ علمی صلاحیتوں سے شاگردوں کو متاثر کیا۔ بہ حیثیت پروفیشنل بھی ان کے اندر خلوص اور وسعت نظری شامل رہی او ر بہ حیثیت افسانہ نگار وہ جن مستند افسانہ نگاروں کی نسل سے تعلق رکھتے تھے، ان میں ظفر اوگانوی، فیروز عابد، سجاد نظر کے علاوہ ہندوستان گیر سطح پر نئی نسل کے علاوہ شوکت حیات، سلام بن رزاق، طارق چھتاری، شفق، عبدالصمد، سید محمد اشرف اور اقبال مجید جیسے اہم فن کار اور افسانہ نگار شامل تھے۔یہ تمام لوگ نئی کہانی، جدید ترکہانی اور زندگی کے مسائل کی عکاسی کے حوالے سے جانے اور پہچانے جاتے تھے۔ ان میں بیشتر جدید افسانوی سطح، نئے اسلوب اورموضوعات، کردار کے خارج و باطن کے اظہار کے ساتھ نئی علامتی سطح اور عصری حسیت (بشمول کہانی کی واپسی) کی اہمیت سے آشنا لوگ تھے ۔ کچھ لوگوں نے نئی افسانوی بنت میں میانہ روی اختیار کی اور کچھ کہانی کار نے جدید ترحسیت اور نئے اسالیب کے ساتھ نئی منزلوں کا بھی پتہ دیا۔ جدیدیت کی تحریک اور شمس الرحمن فاروقی کی قربت نے انیس رفیع کو جدید طرز کی تخلیقیت کی طرف موڑ دیا لیکن وہ اپنے عصر کے مسائل کے اظہار سے کبھی غافل نہ رہے۔ کچھ تجرید اور کچھ علامت نگاری نے ان کی کہانیوں میں ذرا سی پیچیدگی پیدا کی تھی لیکن زندگی اور اس کے مسائل سے اور بدلتی ہوئی قدروں سے ان کی کہانیاں کبھی خالی نہ رہیں۔ ان کی کہانی، کہانی کے پلاٹ اور مخصوص الفاظ کے برتنے کا سلیقہ عصری معنویت سے پر تھا۔’ گداگر سرائے ‘تک آتے آتے وہ اپنے عصر، اپنے سماج، گائوں اور شہر کے حالات، اپنے کردار اور ان کی نفسیات سے نہ صرف آگاہ تھے بلکہ اپنے تجربوں اور اختراعی قوت سے نئے طرز کی کہانیوں کی تجسیم کاری سے بھی ان کی کہانیاں عبارت ہوگئیں۔ بہار کے گائوں سے تعلق رکھنے کی وجہ سے ان کی زبان بہت سارے ہم عصر لکھنے والوں سے مختلف تھی۔ زبان میں بہار کی ٹھیٹ بولی اور محاوروں کے برمحل استعمال نے ان کی کہانیوں میں نیا ذائقہ پیدا کردیا تھا۔ ’اب وہ اترنے والاہے‘، ’کرفیو سخت ہے‘کے بعد ’گداگر سرائے‘ اور ان کی بیشتر کہانیوں میں ایسی زبان کا برملا اظہار ہوا ہے۔ وہ دیہات کی زبان، الفاظ اور محارے نیز دیہات کے بسنے والوں کی نفسیات سے واقف تھے ۔ الفاظ کا حسن، گائوں اور شہر کے حالات، رسم و رواج، تیوہار نیز سیاسی اتھل پتھل کا زبردست مشاہدہ تھا اور مطالعہ بھی کسی سے کم نہ تھا۔ کہانی ’کرفیو سخت ہے‘ سے ایک اقتبا س ملاحظہ فرمائیں:

’’سورج کہیں لاپتہ ہوگیا ہے۔

’’سورج کے اچانک غائب ہوجانے سے قاسم ہیبت ناک مقدمے میں پھنس گیا ہے۔‘‘

’’کھڑکی مت کھولنا۔ سن سے گولی اندر آجائے گی۔‘‘

کبھی اندر جھانک کر دیکھا نہیں، باہر جھانکنے سے کیا فائدہ۔

’’Halt‘‘

’’دروازہ بولٹ ہے نا۔‘‘

’’ڈھیر سارے وقت کا ہم کیا کریں گے۔‘‘

’’بیان جاری رکھو۔‘‘

’’پھر میں نے دیکھا، بغل والے منہدم مکان کے ملبے سے لوگ سر پرٹوپیاں رکھے باہر آرہے ہیں۔‘‘

’’آہستہ آہستہ کوئی دن یہ ساری کتابیں گر پڑیں گی زمین پر تب کیا ہوگا مسٹر ڈائر‘‘

’’وہ ہوگا جو کتابوں کے آنے سے پہلے ہواتھا۔‘‘

اور اب افسانے کا آخری جملہ بھی دیکھیے:

’’وہ دونوں بھی جماعت میں کھڑے ہوگئے، مگر انہیں حیرت اس وقت ہوئی جب ان کے ہاتھ بھی اوپر سے نیچے نہیں آسکے۔‘‘

یہ ان کے نہایت اہم اور بے مثال افسانے سے ایک مختصر اقتباس ہے لیکن اپنے عصر کا ایک زبردست حوالہ بن گیا ہے کہانی کی ساری فضا ایسی ہی پیکر سازی سے خلق ہوکر اپنے عصر کی تاریخ ہمارے سامنے رقم کررہی ہے۔ ٹھیک ان کی کہانی ’غروب سے پہلے ‘ جس کی پذیرائی محمد حسن نے بھی کی تھی اور بائیں بازو کی سیاست کے حوالے سے سچائی کو گرفت میں لینے کی کوشش کی طرح یہ افسانہ بھی چھوٹی چھوٹی خودکفیل علامتوں کے سہارے وقت کی سنگین تصویر ہمارے سامنے واشگاف انداز میں پیش کررہا ہے۔ کرفیو زدہ ماحول، مسافر، منہدم گھر کے ملبے، اذان کی آواز، نمازی ہاتھ اٹھائے بڑھتے ہوئے ان کو غور سے پڑھیں تو بین السطور میں بے شمار معنیاتی نکات چھوٹی چھوٹی خودکفیل علامتوں کے سہارے جنم لیتے ہیں، مزید یہ کہ گولی کے اندر گھروں میں آنے کا خطرہ، چمگادڑ سے کتابوں کے گرنے کا خوف، ان تمام تصویری پیش کش نے اس مختصر کہانی میں قوم اور مذہب کی سائیکی کو بھی بے نقاب کیا ہے۔ افسانہ نگار تاریخ رقم کررہا ہے لیکن تاریخ داں کی طرح نہیں بلکہ ایک افسانہ نگار کی طرح جسے اپنے فن پر پورا بھروسہ ہے۔

ان کی تحریروں میں خواہ وہ افسانہ ہوکہ تنقید، ان کی مخصوص شناخت تھی اور ان کا منفرد انداز (Style) تھا۔

تنقید کی بات آئی ہے توچند جملے ان کی تنقید کے سلسلے میں بھی پیش کرنا نامناسب نہ ہوگا۔ کہانی کی علامت نگاری اور عصری معنویت سے تنقید کے رچے ہوئے شعور تک استاد محترم اپنی کتابوں کے حوالے سے ایک ماہر افسانہ نگار اور تنقید کے حوالے سے ایک منفرد دانش ور بن کر ابھرے۔ تنقید میں بھی ان کی زبان تخلیقی تھی۔ چوں کہ بنیادی طورپروہ افسانہ نگار تھے لہٰذا تخلیقی رنگ ان کی تنقید کا اختصاص تھا۔ ان کی تنقید کا ایک مختصر نمونہ ملاحظہ فرمائیں جو ان کے تنقیدی شعور کو ہمارے سامنے خوب صورتی سے پیش کرتا ہے:

’’تکنیک کی حتمی اور مستند تعریف بیان کرنا مشکل ہے۔ یہ مواد، اسلوب اور ہیئت سے علیحدہ ایک آرٹ ہے۔ فن کار خام مواد کو جب اپنے نادر اسلوب اظہار میں حلول کرکے فن پارے کو ایک مخصوص طریقہ سے متشکل کرتا ہے تو تکنیک کی پرچھائیاں روشن ہونے لگتی ہیں۔ بقول ممتاز شیریں، مختصرلفظوں میں افسانے کی تعمیر میں جس طریقے سے مواد ڈھلتا ہے، وہی تکنیک ہے۔‘‘

اور آخر تک بیانیہ کی قسموں پر بلیغ اور جامع تبصرہ کرتے ہوئے انیس رفیع اس نتیجے پر پہنچتے ہیں:

’’ان دنوں تنقید کا ایک نیا اسکول قائم ہوا ہے جو بیانیہ کی ساخت اور وضعیات (Structure) پر بہت زور صرف کررہا ہے ۔ شاید اسی خصوصی توجہ کی بنا پر بیانیہ کی تنقید اور اس کی بحث میں ایک خاص تنقیدی نظر یہ مرتب ہوگیا ہے، یعنی بیانیات (Narratology) جیسے آج تنقید میں بڑی نمایاں حیثیت مل گئی ہے اورجدید تنقید تو یہ بھی کہتی ہے کہ بیانیہ پوری زندگی کا استعارہ ہے۔‘‘

ان اقتباسات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ انیس رفیع کا مطالعہ فکشن، فکشن کے بیانیہ اور تنقید پر کس قدر گہرا تھا۔ جدید بلکہ مابعد جدید تنقید پر بھی ان کی نگاہ رہی تھی۔ بیانیہ کی نئی نہج کے علاوہ وہ منشائے مصنف، مصنف کی موت اورمتن سے مصنف کی بے دخلی کے علاوہ کثرت معنی کی فکر انگیز بحث سے پوری طرح آگاہ تھے۔ انھوں نے تنقید میں نہایت شفاف اور محتاط رویہ اختیار کیا جو قاری کے فہم و عرفان کو مہمیز کرتا ہے ۔ یہاں نہ شدت پسندی ہے اور نہ بے جا دانش وری ہے بلکہ ان کی تحریر کی ماہرانہ گرفت سے ہم آگاہ ہوتے ہیں۔ ایسی مثالوں سے ان کی تنقید کی کتاب بھری پڑی ہے۔

ان کی تنقید کی زبان میں بھی ایک نوع کی دل کشی ہے اور ان کے تنقیدی مضامین اتنے ہی اہم ہیں جتنے کہ کسی بھی بہتر افسانہ نگار کے افسانے اور ناولوں کی ہیئت، موضوع اور اسلوب کی تفصیل میں نمایاں ہوتی ہے۔ وہ نہ صرف بنگال کی سطح پر اپنی شناخت مستحکم کرچکے تھے بلکہ ان کی قدرومنزلت بنگال سے باہر بھی تھی۔ اس لیے ان کے مضامین کی پذیرائی علی گڑھ اور دہلی میں بھی ہوتی تھی۔ وہ نہایت قد آورشخصیت کے حامل تھے۔ اگر آپ آج کل کے اساتذہ، بالخصوص یہاں کے پروفیسران حضرات اور نئی پود کے ادیب و شاعر اور افسانہ نگار نیز ان کی کم تر درجہ کی تخلیق اور درس و تدریس کا جائزہ لیں تو القاب میںماہر، عالم، دانش واورسفرنامہ نگار کا سابقہ اور لاحقہ مل جائے گا لیکن انیس رفیع جیسا فن کار مشکل سے نظر آئے گا۔ ان کے تقابل میں ان کا ہنر اور جوہر کھل کر سامنے آجائے گا۔ انھوں نے اپنے تنقیدی معروضات سے یہ ثابت کیاکہ حسن معنی اور تہہ در تہہ مفاہیم تک پہنچنا کس قدر جوکھم کاکام ہے۔ اس میں شک کی گنجائش نہیں کہ اپنے دور کے افسانوں میں وہ صف اول کے افسانہ نگار تھے لیکن تنقید نگاروں میں بھی ان کا قد نہایت بلند تھا۔

مجھے استاد محترم کو الوداع کہتے ہوئے دکھ ہو رہا ہے تاہم اس بات سے بڑی طمانیت کا احساس ہوتا ہے کہ ان کے بعد، ادب، افسانے اور تنقید کی دنیا میں اندھیرا نہیں، اجالا ہی پھیلے گا۔ ادیب، شاعر، افسانہ نگار اور تنقید نگار اپنی تخلیقات اور تحریرات میں زندہ رہتا ہے اور ایک مخلص انسان قبر کے اندھیروں میں نہیں بلکہ بقول مولانا روم، دلوں میں زندہ رہتا ہے۔ کلکتہ کے ہوٹلوں میں ، چائے خانوں، اپنے دوستوں کی ہمدمی میں، ان کے بہار کے سفر میں جب فیروز عابد کے فرزند کی شادی ہو رہی تھی، ہم دیر رات تک ادب اور فن کی باریکیوں اور شاعری کے رموز واسرار پر گفتگو کرتے رہے۔ ایک بار شمس الرحمن فاروقی کے ساتھ، ان کے گھر پر شہنازنبی، خواجہ نسیم اختر، ابوذر ہاشمی وغیرہ کے ساتھ بڑی زبردست محفل جمی تھی۔ فاروقی صاحب سے ادب اور فن پر بہت سارے سوالات کیے گئے تھے اور انہوں نے بھی خوب خوب حصہ لیا تھا اور ہم سبھوں کی بڑی یادگار ضیافت بھی کی تھی۔ اسی طرح ان کی تحریر اور تقریر سے بھی فیض اٹھاتے ہوئے ادبی اور فکری گفتگو میں اجالے کا احساس ہواکرتا۔ اردو افسانے اور تنقید کی نئی نسل ان سے بہت کچھ سیکھ سکتی ہے۔ انھوںنے اپنے منفرد انداز کے افسانے اور تنقید سے ہم سبھوں کو متاثر کیا ہے اور زندہ کرداروں سے ہمیں متعارف کرایا ہے۔  صاف ظاہر ہے کہ انھوں نے اپنے عصر کے تمام حوالوں سے بنگال کی سطح پر ادب ، فکشن اور تنقید کو نہایت ثمردار کیا۔ یہ قصہ بہت طویل ہے لیکن یہاں بھی غالب ہی کے ایک شعر کو نقل کرکے استاد محترم انیس رفیع کے ہمراہ اس طویل سفر کو مختصر کرتا ہوں         ؎

ہوئی مدت کہ غالب مر گیا پر یاد آتا ہے

وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا

 

Zahir Anwar

10/1, Ahiri Puker 1st Lane

P.O. Ballygange

Kolkata - 700 019

Mobile : 9831260504

zhr.anwar@gmail.com


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...