30/1/18

مضمون: نو آبادیاتی ہندستان اور اودھ پنچ کا مزاحمتی کردار ازرضی احمد



نو آبادیاتی ہندستان اور اودھ پنچ کا مزاحمتی کردار


ہندستان اپنی صنعت و حرفت، زرعی پیداوار اور تجارت کے اعتبار سے شروع سے ہی اہمیت کا حامل رہا ہے ، اسی وجہ سے دیگر ممالک کے بہت سے تاجروں اور کمپنیوں نے تجارتی مقاصد کے پیش نظر یہاں کا رخ کیا اور یہاں کے باشندوں اور حکمرانوں نے ان سب آنے والوں کا استقبال کیا اور انھیں ہر طرح کی اعانت اور سہولتیں بہم پہنچائیں۔ ان ہی غیر ملکی کمپنیوں میں برطانیہ سے آنے والی ’ایسٹ انڈیا کمپنی‘ بھی ہے جسے مغل حکمراں جہانگیر کے عہد میں تجارت کی منظوری دی گئی، اس کمپنی کے مالک اور اس سے منسلک دیگر عہدیداران انگریز تھے ، جن کا مقصد اصلی تجارت کے پس پردہ یہاں کی حکومت پر قابض ہونا تھا اور وہ اول دن سے اپنے اس خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے خاکے اور منصوبے تیار کرنے لگے ، اس خواب کی تعبیر جنگ پلاسی میں نواب سراج الدولہ کی شکست کے بعد ملنی شروع ہو گئی،کمپنی کے ذریعے بنگال پر تسلط اور حکمرانی قائم کرنے کے بعد ملک کے دیگر حصوں کا استحصال بھی شروع ہو گیا اور ہندستان کی دولت انگلستان منتقل ہونے لگی، انگلستان سے تیار شدہ مال ہندستانی بازاروں میں بڑی تعداد میں فروخت ہونے لگا اور ہندستان کی صنعت و حرفت تباہ و برباد ہو تی چلی گئی اورنتیجتاً ہندستان صرف ایک زرعی ملک بن کر رہ گیا۔ انقلاب 1857کے بعد حکومت برطانیہ نے ہندستانی حکومت کی باگ ڈور ایسٹ انڈیا کمپنی سے اپنے ہاتھ میں لے لی۔ اس طرح ہندستان برطانوی نو آبادیات کا حصہ بن گیا اور یہاں سے ہندستانی باشندوں اور یہاں کے مال و متاع کے استحصال کا ایک روح فرسا دور شروع ہوگیا۔ 

نو آبادیات کا مطلب یہ ہے کہ ایک ملک جو اپنے آپ کو مختلف جہات مثلا ًنسل، تہذیب، معیشت اور جدید ٹکنالوجی وغیرہ کے اعتبار سے برتر اور ترقی یافتہ سمجھتا ہے وہ ایک ایسے ملک پر قابض ہو کر اسے اپنی محکومی میں رکھتا ہے جسے وہ مذکورہ بالا امور میں کم تر اور پس ماندہ خیال کرتا ہے، اور یہ غیر ملکی اقلیت اس محکوم معاشرے اور قوم کو اس وقت تک اپنی محکومی میں رکھتی ہے جب تک کہ وہاں کی عوام اس نظام حکومت اور افراد حکومت کے خلاف قومی تحریک چھیڑ کر اور جان و مال کی قربانی پیش کر کے اپنے آپ کو آزاد نہ کرالیں۔ اس نو آبادیاتی طرز حکومت میں محکوم ملک کے باشندوں کو غیر ملکی حکمراں طبقہ اقتدار میں شریک نہیں کرتا، اس طرح وہ محکوم طبقہ حکمران جماعت کا حصہ بننے کے بجائے مکمل طور پر اس کا محکوم ہوتا ہے اور حکمراں طبقہ پوری محکوم آبادی کا استحصال کرتا ہے ، محکوم ملک کی معیشت اور وہاں کے مال و دولت کو اپنے ملک کی معیشت کے تابع بنا کر اپنے مقاصد اور مفاد کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔اس ضمن میں ڈاکٹر مظہر مہدی نے مختصر الفاظ میں نو آبادیات کی تعبیر و تشریح ان الفاظ میں کی ہے:                                                                                                          
’’نسل، تہذیب، معیشت اور ٹکنالوجی کے معاملات میں برتر اور ترقی یافتہ سمجھی جانے والی غیر ملکی اقلیت بالخصوص یوروپیوں کا ان ہی معاملات میں ’کم تر‘ اور پس ماندہ خیال کی جانے والی، مختلف نسل کی اجنبی اکثریت علی الخصوص افریقی اور ایشیائی معاشروں کو سیاسی، معاشی، تہذیبی اور دانشورانہ محکومی کی حالت میں اس وقت تک رکھنا جب تک کہ وہاں کے عوام اس حکومت کے خلاف قوم پرست تحریک چھیڑ کر اپنے ملک کو آزاد نہ کرالیں، نوآبادیات سے موسوم کیا جاتا ہے۔‘‘
( مظہر مہدی، اردو دانشوروں کے سیاسی میلانات، نو آبادیاتی ہندوستان، دہلی، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، 1999 ص13)     
انگریزوں نے ہندستان کو اپنی نوآبادیات میں شامل کرنے اور ہندوستانی باشندوں پر اپنی سماجی، سیاسی اور تہذیبی برتری قائم کرنے کے لیے طرح طرح کے حربے استعمال کیے ، انھوں نے یہاں کے مقامی لوگوں کے درمیان مذہب کے نام پر ہندو مسلم میں تفریق پیدا کی تو دوسری طرف ایک ہی مذہب کے لوگوں کو مختلف فرقوں اور گروہوں میں تقسیم کر دیا، کیونکہ ان کے متحد ہونے سے ان کی حکومت کو خطرہ پیدا ہو سکتا تھا، انھوں نے ہندوستانیوں کو کہیں ذات کے نام پر تو کہیں علاقے کے نام پر بھی لڑانے کی کامیاب کوشش کی، انگریز حکمرانوں نے یہاں کے باشندوں اور ان کے تہذیب و تمدن کو غیر مہذب اور بد اخلاق و غیر شائستہ کہہ کر انھیں حقارت کی نظروں سے دیکھا، مقامی باشندوں کے اوپر یورپ سے لائے گئے تہذیب و تمدن کو تھوپنے ، اپنی نسلی، سماجی و سیاسی برتری کو قائم رکھنے اور اپنی عنان حکومت کو بنائے رکھنے کو نوآبادیات کا نام دیا۔ نو آبادیات پر حکومت کے زعم میں طرح طرح کی بندشیں عائد کیں اور نئے نئے قوانین نافذ کیے جن کی مدد سے ان کا برابر استحصال کیا جاتا رہا اور ان کے ساتھ جانوروں سے بھی بد تر سلوک روا رکھا گیا۔   اسی رویے کی  زد میں صحافت بھی آئی۔ صحافت پر بھی بندشیں لگائی گئیں۔ ان پر پابندیاں عائد کی گئیں اسی وجہ سے اس وقت کے جدید و قدیم اخبارات یا تو حکومت کے ہمنوا اور طرفدار تھے اور جو نہیں تھے انھوں نے خوف واحتیاط کی وجہ سے اپنے انداز تحریر اور لہجے کو پست اور نرم کر رکھا تھا اور بڑے محتاط انداز میں خبریں اور مضامین شائع کرتے تھے، دھیرے دھیرے فضا معتدل ہوئی اور خوف و دہشت کا ماحول کم ہوا، اب جا کر اردو اخبارات نے حکومت کی بد عنوانیوں اور غلط پالیسیوں کے خلاف لکھنا اور تبصرے شائع کرنا شروع کر دیا، لیکن اس طرح کے نظریات کے حامل اخبارات کی تعداد بہت کم تھی،اسی دور میں 16جنوری1877 کو منشی سجاد حسین کی ادارت میں لکھنؤ سے اودھ پنچ جاری ہوا۔ اس ہفت روزہ اخبار نے اردو صحافت میں جدید طرز نگارش کی بنیاد ڈال کر ایک معین اور مستحکم پالیسی کے تحت اپنے صحافتی سفر کا آغاز کیا، جہاں اس نے مختلف میدانوں میں قابل قدر صحافتی اور ادبی خدمات انجام دیں۔ وہیں اس کا سب سے اہم اور نمایاں کارنامہ نو آبادیات مخالف کردار ہے۔

اودھ پنچ 16 جنوری 1877 کو جاری ہوا اور1934 میں بند ہو گیا، یہ ایک ہفت روزہ اخبار تھا۔ یہ اپنے طرز کا پہلا اخبار تھا جس کی ایک معین پالیسی، مستقل  مقصد اور مسلک تھا، اس نے صحافت کی عام روش سے ہٹ کر طنز و ظرافت کا لب و لہجہ اختیار کیا اور سب سے پہلے نہ صرف اردو صحافت بلکہ اردو ادب میں مغربی طنز و ظرافت کو رواج دیا۔ یہ اخبار نہ صرف اردو بلکہ ہندوستان کی تمام زبانوں میں اس وقت قومی اخبار تھا اور قومی خدمت کی غرض ہی سے نکالا گیا تھا۔ اس اخبار کی اشاعت کے ابتدائی ایام ہی میں عوام و خواص کے درمیان اسے شہرت و مقبولیت حاصل ہو گئی اور ملک کے کونے کونے میں اس کا چرچا ہونے لگا۔ اپنی نمایاں خصوصیات کی وجہ سے اس دور کا نمائندہ اخبار ہو گیا اور اس دور کے بلند پایہ قلم کاروں اور ادیبوں کا قلمی تعاون حاصل رہا، اس اخبار کی کامیابی اور مقبولیت عام کی واضح دلیل یہ ہے کہ اس نے اپنی اشاعت کے ابتدائی دور سے ہی قارئین کا ایک وسیع حلقہ پیدا کر لیا، اس دور میں جب کہ دیگر عام اخبارات کی تعداد اشاعت دو، تین سو سے زیادہ نہیں ہوتی تھی، اودھ پنچ کی تعداد اشاعت تیرہ ہزار تک پہنچ گئی تھی، اس اخبار کی مقبولیت اور ہر دل عزیزی نیز اس کے طرز نگارش سے عوامی دلچسپی نے اس طرز کی صحافت کا راستہ ہموار کر دیا اور ملک کے تقریباً 28شہروں سے 70کے قریب ’ پنچ‘ اخبارات منظر عام پر آئے۔

اودھ پنچ کا عہد نو آبادیاتی رہا ہے جو بہت ہی پر آشوب اور خلفشار و انتشار کا دور تھا، اس اخبار کے مدیر منشی سجاد حسین جیسا حساس اور نباض قوم اور مشرقی تہذیب و تمدن کا دلدادہ اس دور سے کیسے نبرد آزما نہ ہوتا، لہٰذا انھوں نے اس وقت کے دیگر نمائندہ قلم کاروں کی معاونت سے مغربی تہذیب اور اس کے مضر اثرات سے ہندوستانیوں کو آگاہ ہی نہیں کیا بلکہ ان سے مقابلہ کرنے کے لیے ان کے اندر روح پھونک دی۔ انگریزوں کی طرف سے سیاسی، سماجی، تہذیبی، معاشی اور معاشرتی حملوں کا اس اخبار نے بھر پور مقابلہ کیا اور انگریز حکمرانوں کی طرف سے ہندستانیوں کے ساتھ کی جانے والی تفریق اور ظلم و زیادتی کو ہدف تنقید بنایا۔          
                                                          
نو آبادیاتی ہندستان میں اس اخبار نے اپنی صحافتی ذمے داریوں کو بخوبی نبھاتے ہوئے قابل تعریف کارنامہ انجام دیا، یہ اپنی نوعیت کا وہ نمائندہ بے باک صحیفہ تھا جس نے انگریزی حکومت کے دبدبے کا لحاظ کیے بغیر ہندستان میں سب سے پہلے جرأتمندانہ سیاسی تحریک کی بنیاد ڈالی اور قومی حقوق کے تحفظ کے لیے آواز اٹھائی۔ اودھ پنچ کے مدیر اور دیگر نامہ نگاروں کی بے باکی، اس زمانے کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے، بڑی ہمت کا کام تھا لیکن طنز و ظرافت کے پیرایۂ بیان نے اس مشکل اور نا خوشگوار کام کو آسان اور خوشگوار بنا دیا۔ یہ اخبار انگریزی حکومت کا مخالف، قومی یکجہتی کا حامی، امن و آشتی کا پیغامبر اور طنز و مزاح کا شاہ کار تھا۔                       
                                     
اس اخبار کی اشاعت جن مقاصد کے تحت عمل میں آئی تھی ان کے حصول میں اس نے قابل قدر کوشش کی اور برطانوی حکمرانوں کی بد عنوانی کو ہمیشہ اپنی تنقید کا نشانہ بنایا، نوآبادیاتی ہندوستان میں حکومت کی غلط پالیسیوں اور طرز حکومت، مغربی تہذیب و تمدن کی مخالفت اور مشرقی طرز معاشرت کی حمایت کے ساتھ ساتھ اس نے اردو صحافت میں جدید طرز نگارش کی بنیاد ڈالی، طنز و مزاح سے اردو صحافت کو متعارف کرایا، اردو اخبارات میں کارٹون کی اشاعت کا سلسلہ شروع کیا اور با مقصد صحافت کی ایک مضبوط بنیاد ڈالی۔ نظم و نثر میں طنز و مزاح نگاروں کی ایک جماعت کو تیار کیا اور اردو ادب میں طنز و مزاح کو رواج دیا۔                                                                                    
Razi Ahmad
New Delhi - 110025
Mob.: 9810758952

یہ مضمون ’’اردو دنیا‘‘ کے مئی 2017 کے شمارے میں شائع ہوا تھا۔  اگر آپ اس شمارے کا آن لائن مطالعہ کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:۔

29/1/18

مضمون : سر سید کا تصورِ علم از حافظ محمد جہاں گیر اکرم


سر سید کا تصورِ علم


بلاشبہہ سرسید احمد انیسویں صدی کے ان یادگارِ زمانہ عظیم ہستیوں میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے اپنی فکرِ عمیق سے قوم وملت کی عظیم الشان خدمات انجام دیں۔ وہ مصلح اعظم بھی تھے،  قومی مدبر اور ماہر تعلیم بھی۔ وہ اردو نثر کے عہد زریں کے معمار بھی تھے اور صاحبِ طرز انشاپرداز بھی۔ وہ عزم مستحکم، یقیں محکم اورعمل پیہم دل میں لے کر اٹھے۔ وہ فرسودہ رسومات اور بے جا توہمات کی آندھیوں کے بیچ جدید علوم کی شمع اپنے ہاتھوں میں لے کر جہالت کی تیرگی کو رفع کرتے رہے اور اس طرح انھوں نے نفسِ سوختہ ٔ شام وسحر تازہ کرنے کا کام کیا۔

سرسید احمد خاں کے فکر وعمل کے میدان خصوصاً تین تھے مذہب، سیاست اور تعلیم۔ ان کے علاوہ اگر کچھ تھا بھی تو وہ انھیں نظریات وخیالات کے گر د گھومتا تھا۔ ان کی ادبی حیثیت گرچہ مسلّم اور ثابت شدہ ہے لیکن انھوں نے انشاء وادب کو کبھی مقصد نہیں بنایا بلکہ اپنے مقصد کی حصولیابی کے ضمن میں استعمال کیا۔جس طرح علامہ اقبال نے شاعری کو مقصد نہیں بنایا بلکہ مقصد کے لیے شاعری کی۔ اسی طرح ادب سرسید کے نزدیک محض تفریحی مشغلہ نہ تھا بلکہ خیالات ونظریات کے اظہار کا وسیلہ تھا۔ حالانکہ نثر میں ان کا طرزِ بیان اور ان کا کل سرمایہ تحریر اردو زبان وادب کا نادر اور ناقابلِ فراموش حصہ ہے لیکن وہ اصلاًمصلحِ قوم، سیاسی اور مذہبی مفکر تھے۔ لہٰذا ان کے تمام تصنیفی کارناموں کو ان کے عقائد سیاسی، تعلیمی مشن اور افکار دینی کی روشنی میں جانچنا وپرکھنا چاہیے کیوں کہ ان کی ادبی حیثیت انھیں چیزوں کے تابع ہے۔

سرسید جس صدی کی پیداوار ہیں وہ بحث ومناظرہ کی صدی ہے۔ اقدار مشرق ومغرب، قدیم وجدید، بدعت وسنت، مذہب وسائنس، جبلت وعقل تمام معاملات میں ایک طرح کا تصادم نظر آتا ہے۔سرسید ایک صاحبِ فکر اور اثر پذیر شخص تھے اس لیے یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ ان تنظیموں اور ہنگاموں کو تماشا ئی بن کرایک تفریحی نظر ڈالتے اور آگے بڑھ جاتے۔ وہ ساحل سے طوفان کا نظارہ کرنے والوں میں سے نہیں تھے بلکہ اس میں کود کر سینہ سپر ہونے والے بہادروں میں سے تھے۔ اس لیے انھوں نے ہر مورچہ پر عملی حصہ لیا۔ خواہ عقل اور مذہب کی معرکہ آرائی ہو یا مذہب اور سیاست کا تصادم یا علم دین اور دنیوی کی سرد جنگ، ایک بہادر اور جانباز سپاہی کی طرح ہر مورچہ پر ہم انھیں سرگرم عمل پاتے ہیں۔ اس ضمن میں ان کا یہ اقتباس پیشِ خدمت ہے:
’’غدر کے بعد نہ مجھ کو اپنا گھر لٹنے کا رنج تھا، نہ مال واسباب کے تلف ہونے کا۔ جو کچھ رنج تھا اپنی قوم کی بربادی کا۔۔۔۔  جو حال اس وقت قوم کا تھا وہ مجھ سے دیکھا نہیں جاتا تھا۔ چند روز اسی خیال اور اسی غم میں رہا۔آپ یقین کیجیے کہ اس غم نے مجھے بُڈھا کردیا اور میرے بال سفیدکردیے‘‘۔ (تہذیب الاخلاق)

سرسید احمد خاں یورپ سے درآمد فکر اور عقل پسندی سے بہت متاثر ہوئے۔ اس زمانے میں یہ تسلیم کرلیا گیاتھا کہ حقیقت تک رسائی اور اس کے ادراک کا بڑا ذریعہ عقل ہے۔ اسی طرح قوانینِ فطرت یا نیچر کا مشاہدہ اور تجزیہ بھی اس صدی کا ایک اہم موضوع تھا۔ نیچر اور فطرت کی ا صطلاح نے یورپ کے ادیب ومفکر کو سرشار کر رکھاتھا اور یورپ کا یہ تحفہ جب ہندستان پہنچا تو یہاں بھی اس کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگا۔ سرسید احمد اور ان کے رفقا نے اہلِ مغرب کی طرح نہ صرف اس کا استعمال کیا  بلکہ مدتوں اس کو سر آنکھوں پر رکھا۔ اس صدی کے ہندستان کی ترقی اور ارتقا کے مغربی نظریوں سے بھی سرسید بے حد متاثر ہوئے مگر یہ امر قابلِ غور ہے کہ ان کو ارتقا سے زیادہ ترقی کی اصطلاح زیادہ پسند تھی۔

اس عہد کے ہندستان میں اجتماعیت، سویلائزیشن، تہذیب اور کلچر کے مغربی تصورات کی ا شاعت میں سرسید اور ان کے رفقا نے خاص دلچسپی دکھائی اور جدید نظریۂ تہذیب کے ایک بڑے مبلغ اور داعی بن کر سامنے آئے۔ یہی وجہ تھی کہ رسالہ ’تہذیب الاخلاق‘ میں تہذیب سے متعلق بہت سے مقالے لکھے گئے ہیں۔ مختصر یہ کہ جہاں ان تصورات نے فکر ونظر کی حدود کو وسعت عطا کی وہاں ان سے زندگی کی جذباتی اور روحانی بنیادوں کو بہت ضعف پہنچا۔ اس کی وجہ سے نجات اخروی کی جگہ موجودہ زندگی کے اجتماعی راحت وآرام نے لے لی اور مذہب کے ساتھ ساتھ اکثر اخلاقی قدروں کے متعلق شک اور تردد پیدا ہوگیا۔

تعلیم کے معاملے میں سرسید کے خیالات ونظریات بے حد مقبول ہونے کے باوجود کچھ زیادہ جدید نہ تھے۔ سائنس وعلوم جدید اور انگریزی زبان کی تعلیم گرچہ اس زمانے میں بڑی کشش رکھتی تھی مگر وہ تعلیم کے معاملے میں اتنے انقلابی نہ تھے جتنا ان کو سمجھ لیا گیا ہے۔اکبر الٰہ آبادی نے سرسید کے انھی نظریات پر طنز کرتے ہوئے لکھا ہے :  
سید جو گزٹ لے اٹھے تو لاکھوں لائے
 ہم  قرآن  دکھاتے   رہے  پیسہ  نہ ملا
عام طورپر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ سرسید انگریزی تعلیم کے حق میں تھے اور اسے پھیلانا چاہتے تھے اورعلماے وقت انگریزی تعلیم کو دین کا دشمن سمجھتے تھے۔ مگر انصاف کی بات یہ ہے کہ علما کو اختلاف سرسید کے مذہبی عقائد اور انگریزی تہذیب وتمدن سے تھا نہ کہ انگریزی تعلیم کے پھیلاؤ سے۔ اب چوں کہ سرسید انگریزی تعلیم کے ساتھ ساتھ انگریزی تہذیب وتمدن کے بھی مداح تھے اس لیے بہت سے مغالطے پیدا ہوگئے۔ اسی طرح سرسید نے عربی تعلیم اور قدیم مدارس کے خلاف’’ تہذیب الاخلاق‘‘ میں کئی مضامین لکھے اس سے بھی ان کے خلاف فضا پیدا ہوئی۔
سرسید کے افکار کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ قدیم کے مقابلے میں جدید اور ماضی کے مقابلے میں عہد حاضر سے زیادہ وابستہ نظر آتے ہیں۔ ان کا ذہن تجدد پسند تھا یہی وجہ تھی کہ انھوں نے عہدِ حاضر کے مسائل کی طرف زیادہ توجہ کی اور علم وادب کے جن موضوعات پر لکھا  ان میں خاص مقصد یہی تھا کہ جہاں تک ہو قوم وملک کی موجودہ حالت چست ودرست ہو۔مسائل حاضرہ سے سرسید کی دلچسپی کا اہم ثبوت’’ تہذیب الاخلاق‘‘ کے ان مضامین میں موجود ہے۔
سرسید احمد نئی تہذیب کو گلے لگانا چاہتے تھے۔ یہ حقیقت ہے لیکن اس لیے نہیں کہ وہ فیشن پرست تھے اور تہذیبِ نو کی چمک دمک نے ان کو اپنی طرف متوجہ کرلیا تھا اور یہ بھی نہیں تھا کہ انھیں اپنے دین ومذہب، معاشرت وروایت سے لگاؤ نہیں تھا بلکہ ان کی چاہت تھی کہ اپنے دین ومذہب کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر اچھی بات اور ہر اچھی چیز کو اپنا لیا جائے جو ترقی کا زینہ بنے۔ وہ چیز خواہ وراثت سے آئی ہو یا پھرنئی تہذیب کے ذریعے۔ اسی طرح ہر بری چیز اور بیجا  رسومات کی پیروی جو ترقی میں رکاوٹ ہو  انھیں قطعی پسند نہیں تھی،   اس لیے سرسید نے مذہب کی فرسودہ باتوں کی مخالفت کی اور مذہب کو اس کے حقیقی رنگ میں پیش کرنے کی اصلاحی کوششیں کرتے رہے اور نئی تہذیب کی اچھی چیز کو اپنانے کی تلقین کرتے رہے اور معاشرے کو اس لائق بنانے کے لیے کوشاں رہے کہ اس کے افراد میں اچھے برے کی تمیز پیدا ہو سکے۔ وہ کھلے ذہن اور پوری آزادی کے ساتھ برائی کو اچھائی میں بدلنے کا ہنر لوگوں کے دلوں میں پیدا کرنے کی سعی کرتے رہے۔
تمام تر سرگرمیوں کے باوجود سرسید احمد اپنے ادبی ذوق کی تکمیل کے لیے کچھ وقت نکال لیتے تھے ان کی ادبی دلچسپیوں کا دائرہ بہت ہی وسیع وہمہ گیر تھا۔ تاریخ، سیاسیات، آثار قدیمہ، صحافت، ادب، مذہب اور سائنس جیسے تمام موضوعات پر انھوں نے متاعِ لوح وقلم لٹائے۔ سرسید احمد پہلے شخص تھے جنھوں نے روایت سے بغاوت کرتے ہوئے آزادیِ رائے اور حریتِ خیال کارواج عام کیا۔ انھوں نے ایک ایسے مکتبِ فکر کی بنیاد رکھی جس کے حلقے ودائرے میں عقل، نیچر، تہذیب اورمادی ترقی سبھی کچھ موجود اور محفوظ تھی۔ انھوں نے کھلے ذہن سے سوچنے وفکر کرنے اور سائنٹیفک طورپر کسی چیز کو پرکھنے اور جانچنے کا رجحان رائج کیا۔ اس طرح انھوں نے دین کو جلا بخشنے کا طریقہ ایجاد کیا۔ادب کے معاملے میں انھوں نے کلاسیک اور رومان کے بیچ کی چیز کو اختیار کرکے ایک نئی روش کا رواج ڈالا۔ انھوں نے فکر وادب میں روایات واسالیب کو غیر ضروری قرار دیا۔ الغرض ادب میں جو فرسودگی، خشکی، تعطل اور جمود طاری ہوگیا تھا ان کی اصلاحی تحریک سے اس کا ازالہ ہوگیا۔ یہ ان کا انتہائی اہم کارنامہ تھا۔ وہ اردو زبان کے لیے مسیحا بن کر آئے۔ انھوں نے اردو ادب میں جدت، ہمہ گیری، ایک مقصد ادراک اور ایک خاص طرح کی معقولیت پیدا کی ساتھ ہی ساتھ انھوں نے ادب وزندگی اور ادب ومعاشرے کے رشتے کو استوار کیا۔
’’سرسید نے اردو ادب کو خانقاہ، دربار اور کوچہ وبام سے نکال کر دفتروں، تعلیم گاہوں اورمتوسط طبقے کے دل ودماغ تک پہنچایا۔ ’تہذیب الاخلاق‘ کے مضامین میں سرسید اپنی فکر کی بلندی پر نظر آتے ہیں۔اس پرچہ نے قوم کی ذہنی قیادت، علما  اور رئیسوں کے بجائے متوسط طبقے کے ہاتھوں میں دے دی۔  اس نے دین کی خاطر دنیا کو بھی سنوارنے پر زور دیا۔ باوجود شدید مخالفت کے اس کا اثر ہوا اور لوگ سرسید کے پیام کی طرف تیزی سے متوجہ ہونے لگے‘‘۔ (مضامین سرسید انتخاب۔ ص9)
انگریزوں کے ہندستان پر تسلط واقتدار کے بعد مسلمانانِ ہند بے یارومددگار ہو کر رہ گئے۔ تعلیمی، معاشی واقتصادی، معاشرتی ملازمتوں اور روزگار وں غرض تمام سہولتوں سے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت انھیں محروم وبے دخل کردیا گیا اور سب سے زیادہ فکر کی بات یہ ہے کہ ان کے دین ومذہب پر بھی خطرے کے بادل منڈلانے لگے۔ اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ عیسائی مشنری ومبلغین حکومت کی سرپرستی میں سرگرم عمل ہوگئے اور سر ویلیم میور نے رسول اللہ ﷺ کی شان میں اپنی کتاب ’لائف آف محمد‘ میں نا زیبا و نا شائستہ خیالات کا اظہار کیا جس کے جواب میں سرسید احمد نے ’خطباتِ احمدیہ ‘ لکھ کر ان تمام نظریات وخیالات کی تردید کی۔
سرسید چاہتے تھے کہ مسلمانوں کو علوم جدیدہ حاصل کرکے مذہب کا دفاع کرنا چاہیے اور اس کے تحفظ کے لیے تمام سازشوں اورا سکیموں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے۔ اگر مسلمانوں نے ایسا نہیں کیا تو ہندستان سے مذہب اسلام معدوم ہو جائے گا۔
مغربی تعلیم سے نوجوان مسلمانوں کے مذہبی عقائد پر جو اثر پڑ رہا تھا سرسید اس سے پوری طرح باخبرتھے۔ مذہب کے تحفظ کے لیے دینیات کی تعلیم کے بھی وہ طرفدار تھے لیکن مسلمانوں کے یہاں جو کتابیں دینیات میں داخلِ نصاب تھیں سرسید کے خیال میں وہ اس مسئلے کا سدِ باب کرنے کے لیے ناکافی تھیں جو انگریزی تعلیم کے زیرِ اثر پیدا ہو رہا تھا اس لیے وہ درسی کتابوں میں ترمیم چاہتے تھے تاکہ اسے پڑھ کر دین کی حفاظت کا شعور پیدا ہو سکے۔
سرسید احمد نے شدت سے محسوس کیا تھا کہ مسلمانوں کو جدید تعلیم کی ضرورت ہے اس لیے اپنی تمام صلاحیت اور قوت اس کام کے لیے لگادی۔ انھوں نے یہ بھی محسوس کرلیا تھا کہ ان کی قوم اس پر آسانی سے رضا مند نہیں ہو گی۔ اس کے لیے کافی محنت وکوشش درکار ہے اور اس محنت ومساعی سے وہ کبھی پیچھے نہیں ہٹے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سرسید احمد راسخ العقیدہ مسلمان تھے۔ان کو اسلام کی صداقت کا یقین کامل تھا۔ ان کو قرآن کا کتابِ الٰہی ہونے اور حضورﷺ کے آخری نبی ہونے کا ایمان کامل تھا اور یہ بھی سچ ہے کہ وہ بے باک، بے خوف اور جرأت مند تھے اس لیے ان کے متعلق یہ رائے قائم کرنا کہ وہ انگریزوں کو خوش کرنے یا ذاتی مفاد کی خاطر بعض باتیں کرتے تھے جوحقیقت پرمبنی نہیں۔لہٰذا انھیں باتوں سے متعلق اپنے بے تکلف دوست سید مہدی علی خاں کو ایک خط میں اپنے دل کا حال لکھتے ہوئے سچائی کا اقرار کرتے ہیں:
’’میں سچ اپنے دل کا حال لکھتا ہوں اگر خدا مجھ کو ہدایت نہ کرتا اور تقلید کی گمراہی سے نہ نکلتا اور میں خود تحقیقات حقیقتِ اسلام پرمتوجہ نہ ہوتا تو یقینا مذہب کو چھوڑ دیتا‘‘۔ (حیاتِ جاوید۔مطبوعہ انجمن ترقی اردو، ص: 423)
سرسید کا تصورِ تعلیم سب سے زیادہ اہم اور قابلِ توجہ ہے۔ کسی بھی قوم کی ترقی وعروج میں تعلیم کا اہم کردار ہوتا ہے۔ انھوں نے محسوس کیا کہ مسلمانوں کی تنزلی اور زبوں حالی کی ایک خاص وجہ تحصیلِ علم سے بے اعتناعی ہے۔ علم نہیں ہونے کی وجہ سے معاشرے میں مسلمانوں کی کوئی عزت،قدر اور وقعت باقی نہیں رہ گئی ہے۔  وہ اچھی طرح سمجھ چکے تھے کہ علم سے پرہیز اور دین سے دوری مسلمانوں کو ذلیل وخوار کرکے چھوڑے گی اور مسلمانوں کی حیثیت وہ ہو جائے گی جس کا ذکر علامہ اقبال نے اس طرح کیا ہے :
بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے
مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے
اسی راکھ کے ڈھیر میں پھر سے چنگاری جگانے کی کامیاب کوشش سرسید نے کر دکھائی۔ ان کا خیال یہ تھا کہ یہ چنگاری علم کے چراغ سے پیدا ہوگی اس لیے تعلیم کے فروغ کے لیے اور جدید علوم وفنون کی طرف مائل کرنے کے لیے انھوں نے اپنی اصلاحی تحریک پر خاص طورسے زور دیا۔
سرسید نے دیکھاتھا اور سمجھاتھا کہ جدید علم وسائنس ہی ترقی کی راہیں دکھاتی ہیں لہذا عصرجدید میں سرسید کی ان تحریکوں کی بڑی اہمیت وافادیت ہے بلکہ اس کی معنویت آج پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کی اہمیت ومعنویت دائمی ہے۔ آج پورے عالم میں مسلمانوں پر جو خطرات کے بادل منڈلارہے ہیں اس کا علاج جدید سائنسی علم وٹکنالوجی میں پوشیدہ ہے۔ جس کے سرسید قائل اور حامی تھے اس لیے مطالعہ سرسید کی اہمیت اور معنویت دائمی حیثیت کی حامل ہے۔
سرسید انگریزی زبان کو ذریعۂ تعلیم بنانے پر اس لیے زور دیتے رہے کہ ان کے خیال میں سائنس، جغرافیہ، حساب وغیرہ کی تعلیم کے لیے اس زبان میں وافر مقدار میں کتابیں دستیاب ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ انگریزی زبان بلا شبہ ایسی ہے کہ انسان کی ہر قسم کی علمی ترقی اس میں ہو سکتی ہے۔ حالانکہ حالی اس خیال سے کافی حد تک اختلاف رکھتے تھے۔ان کی یہ سوچ تھی کہ انگریزی زبان میں بھی ایسی تعلیم ہوتی ہے جو دیسی زبان کی تعلیم سے بھی زیادہ نکمّی، فضو ل اور اصلی لیاقت پیدا کرنے سے قاصر ہو۔ بہر حال اس بحث سے جدا سرسید احمد کے اس موقف اور جذبے پر نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے جو انھوں نے اپنی قوم کی ترقی کے لیے اختیار کیا تھا۔ ا س لیے مولانا ابوالکلام آزاد نے سرسید کی کوششوں کوان الفاظ میں خوش آمدید کہاہے:
’’اغلب خیال یہ ہے کہ عوام کے ذہنی رجحان پر جتنے ہمہ گیر اثرات ’تہذیب الاخلاق‘ نے چھوڑے ہیں ہندوستان (برصغیر پاک وہند) کے کسی اور رسالے نے نہیں چھوڑے‘‘۔
Hafiz Mohd Jahangir Akam
PGTUrdu, Kamran Model School, Chanda Patti, Lahirya Sarai
Darbhanga - 846004 Bihar

یہ مضمون ’’اردو دنیا‘‘ کے مئی 2017 کے شمارے میں شائع ہوا تھا۔  اگر آپ اس شمارے کا آن لائن مطالعہ کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:۔





23/1/18

مضمون۔ اتساہتِ بیکل از امتیاز رومی


اتساہتِ بیکل
اتساہ سے لبریز بیکل نے جب ’نغمہ و ترنم‘ کا راگ الاپا اورکومل مکھڑے نے بیکل گیت سنائے تب گاؤں کے باسیوں کو یقین ہوگیا کہ ”اپنی دھرتی چاند کا درپن“ ہے۔ ’لہکے بگیا مہکے گیت‘کے ذریعے انھوں نے ہندی میں ’وجے بگل‘ بجایا۔ ”مٹی، ریت اور چٹان‘ سے اپنی شاعری کا خمیر تیار کرنے والے بیکل نے ’رنگ ہزاروں خوشبو ایک ‘سے اردو شاعری کو معطر کردیا۔ جب ’پروائیاں‘ چلیں تو اس کی سوندھی سوندھی خوشبوکھیتوں اورکھلیانوں میں تحلیل ہوکر ’موتی اگے دھان کے کھیت‘کی صورت میں دیہات کو نایاب تحفہ دے گئی۔توشۂ عقبیٰ، تحفۂ بطحا، نغمۂ بیکل، موجِ تسنیم، جام ِگل، نشاط ِزندگی اور نور کی برکھا وغیرہ ان کے اخروی سرمائے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ بیکل نے دین و دنیا میں بیک وقت سرخروئی حاصل کی۔ تاہم ان کی بد نصیبی یہ رہی کہ ان کے جیتے جی ناقدین نے ان پر توجہ نہ دی۔ نیز وہ اس کے خواہاں بھی نہیں رہے۔  نام ونمود اور ادبی سیاست سے کوسوں دور رہے۔ ”میں توایک کسان ہوں۔ محنت اور لگن سے ادب کی دھرتی پر کشت قلم سے شعری فصل اگاتارہاہوں،یہ کبھی بھی نہیں سوچاکہ بازار ِنقد وتبصرہ میں کس بھاؤ میری گاڑھی کمائی جائے گی“1 خیر غالب جیسا عظیم شاعر بھی اپنی زندگی میں اس سے محروم رہا۔  لمبے عرصے تک نظیر اکبرآبادی کو تو قابل التفات ہی نہیں گرداناگیالیکن جب وقت کا غبار ہٹا تو یہ دونوں شاعری کی دنیا  میں موضوعاتی واسلوبیاتی سرخیل ٹھہرے۔

لودھی محمد شفیع خان 1928 کو  رمواپور، اترولہ تحصیل ضلع بلرام پورکے ایک زمین دار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام لودھی محمد جعفرخان اوروالدہ کابسم اللہ بی بی تھا۔ بچپن سے ہی شعر وشاعری سے شغف تھا۔ سوشلسٹ تحریک سے جڑنے کی پاداش میں انھیں جیل بھی جانا پڑا۔ محمد شفیع خان 1945 میں جب وارث پیا کی درگاہ  دیوا  گئے توشاہ حافظ پیارے میاں نے کہا ”بیدم گیا بیکل آیا“ اسی وقت سے انھوں نے خود کو بیکل وارثی سے موسوم کرلیا۔  1952کوگونڈہ میں ایک انتخابی پروگرام ہوا جس میں جواہر لعل نہرونے شرکت کی تھی۔ اس موقع پر بیکل وارثی نے اپنی نظم ’کسان بھارت کا‘ پیش کی تو نہرو جی نے کہا ”یہ ہمارا اتساہی شاعر ہے“۔ اس کے بعد سے ہی وہ بیکل ’اتساہی‘ ہوگئے۔ نہروجی کا کہاصد فی صد صحیح نکلا۔ ملک و ملت کے تئیں جو ان کا اتساہ اور جذبہ تھا ،وہ مرتے دم تک قائم رہا۔1976 میں بیکل اتساہی پدم شری ہوگئے۔  1986 میں کانگریس نے ان کی خدمات کودیکھتے ہوئے انھیں راجیہ سبھا کی رکنیت دی۔  2015 میں انھیں یوپی کے سب سے بڑےایوارڈ ’یش بھارتی‘سے نوازاگیا۔ 3؍دسمبر 2016 کو بیکل اتساہی نے سب کو بیکل چھوڑدیا۔

 بیکل ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔گنگاجمنی تہذیب کے روشن مینار تھے۔ وضع قطع میں صوفی مشرب اور حافظ ملت کے مرید خاص تھے۔ مذہب ومسلک کی سرحد سے بے نیاز ہندستانی تہذیب وثقافت اور ہم آہنگی کے حسین سنگم تھے۔ ان کا مزاج قلندرانہ تھا۔ دوستی سب سے تھی مگر بیر کسی سے نہ تھا۔ زمین دار گھرانے سے تعلق ہونے کے باوجود مزدوروں اورکسانوں سے حد درجہ لگاؤ تھا۔ درد مند دل سوز وگداز سے پر تھا۔ اردو کے دو عظیم شاعر اصغر گونڈوی اور جگر مرادآبادی سے گہری وابستگی تھی۔ ان کی صحبت نے ان کے فکر وفن کو جلا ضرور بخشی تاہم تقلید سے محفوظ رہے۔ آٹھویں جماعت سے  ہی جگر اور اصغرکی صحبت میسر تھی۔ 1944 میں انھوں نے اپنا پہلا کلام اصغر گونڈوی کو سنایا جس کا مطلع تھا:
نظاروں کے لیے ویرانہ جب آباد ہوتاہے                      جنوں میں اشتیاق دید بے بنیاد ہوتا ہے

بیکل اتساہی قدیم روایات کے امین اورجدید اقدار کے حامل تھے۔ تقریباً سات دہائی تک آسمانِ شعر وسخن پر جلوہ فگن رہے۔  اس دوران بے شمار غزلیں، نظمیں، نعتیں، دوہے اور گیتیں کہیں۔ ایک درجن سے زائد ان کے شعری مجموعے شائع ہوئے۔ انھوں نے اپنی طویل عمر میں اردو کی تین بڑی تحریکات ورجحانات کے وجودو عدم کو دیکھا۔ ان کے سامنے بہت سی تحریکیں عدم کو سدھار گئیں لیکن اس کے باوجود انھوں نے خود کو ان سے وابستہ کیا اور نہ ہی متاثر ہوئے۔ البتہ استفادہ ضرور کیا۔ بیکل کے ذہن وفکر نے ہمیشہ اردو کا راگ الاپا۔ اپنی شاعری کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں اس کی عظمت رفتہ بحال کرنے کی کوشش کی۔ جنگ آزادی اور قومی یک جہتی میں اردو کی شراکت کوواضح کیا:
گھرا طوفان میں جب بھی وطن، آوازدی میں نے                           ہوئی انسانیت جب بے کفن، آواز دی میں نے
میں اردو ہوں، مجھی سے عظمت فصل بہاراں ہے                            خزاں نے رخ کیا سوئے چمن، آوازدی میں نے

بیکل کے شعری سفر کے ہونٹوں پربے پناہ تجربوں کاتبسم اور کڑواہٹ نظر آتی ہے۔ چونکہ انھوں نے غلامی کی زندگی، آزادی کی جد وجہد اورپھر آزاد ہندوستان کوبہت قریب سے دیکھا تھا۔ انگریزوں، زمین داروں اور ساہوکاروں کا ظلم بھی محسوس کیا تھا۔ اس لیے ان کی شاعری کسانوں، مظلوموں اور مزدوروں کا نقیب بن کر ان میں ہمت وحوصلے کا دیپ جلاتی رہی۔ جب وہ ایوان بالا میں پہنچے تو وہاں بھی ان کی فریاد رسی کی۔ بیکل نے بلاتفریق مذہب وملت کسانوں اوربے کسوں کی مسیحائی کی۔ ان کی بے جان آواز میں روح پھونک دی۔ ان کی ٹوٹی پھوٹی اوربے ہنگم آواز کو سر تال دے کرنغمۂ سرمدی بنادیا۔ اس طرح ان کی شاعری میں پورا ہندوستان جاگزیں ہوگیا۔ بیکل کی شاعری میں تخیل وتفکر کے مابین ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ فن امیجری بھی منتہائے کمال پر ہے۔ اردوکے ساتھ ہندی کے سبک الفاظ اس طرح مدغم ہیں کہ ان میں ایک طرح کی شیرینی پیدا ہوگئی ہے۔ فراق گورکھپوری رقم طراز ہیں:
بیکل کے وہاں جن الفاظ کا تصرف ہے اس میں علامات کی بہتات کم اورخیال کا بہاؤ زیادہ ہے۔ ان کے فکر وفن میں کچھ اس طرح کی وابستگی ہے کہ کلام میں ہندی اور اردو کے حسین سنگم سے یکجہتی کا رنگ پھوٹ نکلا ہے۔ بیکل کی غزلوں میں بھی زندگی اور کائنات کے تمام محرکات موجود ہیں۔زندگی اورسماج کے نازک رشتوں کے بنیادی اورافادی پہلوؤں کی تفسیر ہے۔فن کے نئے معیار کی جمالیاتی اورفکری قدروں کے احساس میں جذباتی اور ذہنی عناصر کی رنگ آمیزی ہے۔ نئے عنوان، ندرت اور ہیئت کے حسین تجربوں کی فنی حیثیت کا تعین ہے۔ روایتی قدروں کے صالح عناصر کو اس رنگ سے استعمال کیا ہے کہ شعری شعور میں افادی پہلو اورتفہیم کی جلوہ گری معلوم ہوتی ہے۔ رومان اورفکر کے دونوں پہلوؤں کوآئینہ بنا کر زندگی کے خوش رنگ خاکے بنائے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ پہلے شاعر ہیں کہ جس نے فن امیجری کو صحیح طورپر معنی صرف کیا ہے۔ ابہام کو ایک نئی جہت سے روشناس کیا۔ فرسودہ طلسم کو توڑ دیا۔ تمثیلی اعجاز کا حسین راستہ تراشا، موسیقیت اورجمالیاتی پہلوؤں پر توجہ دی۔ اگر ان کا کلام رہ گزار شاداب کہاجائے تو ان کے گیت اور غزلیں رہ گزار حیات میں منزل نو کے امین بن سکتے ہیں۔“2

بیکل نے شاعری کی تمام اصناف پر طبع آزمائی کی۔ تاہم وہ بنیادی طور پر نظموں اور گیتوں کے شاعر ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ان کی غزلیں بھی بہت دل کش ہیں۔ انھوں نے غزل کے حسن وعشق اور تقاضے کا لحاظ رکھتے ہوئے عصر حاضر کے مطالبات کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔ زمانے کی نیرنگیوں اور نت نئے مسائل نے غزل میں حسن وعشق کے ساتھ ساتھ ان مسائل کو بھی سمونے کی کوشش کی جن سے غزل کا دائرہ وسیع ہوا۔ بیکل نے اردو غزل کی رائج لفظیات سے انحراف کرکے ایک نیا رنگ وآہنگ بخشا۔ غزل کی نازکی اور شائستگی کو برقرار رکھتے ہوئے انھوں نے زبان کی سطح پر بھی تجربہ کیا۔ عربی وفارسی الفاظ کی جگہ خالص ہندی کے سبک وشیریں الفاظ کو شعوری طور پر استعمال کیا اور انھیں ہندی تہذیب سے ہم آہنگ کرکے دوآتشہ بنادیا۔ ”بیکل صاحب نے اپنی غزلوں اورگیتوںمیں صنف غزل کی رائج لفظیات کے بجائے عوامی کہاوتوں اور لوک روایت سے لفظیات اور ترکیب کشید کی ہیں، ان کو بیکل صاحب کی انفرادیت کے طور پر دیکھاجاسکتا ہے اورخود غزل کے نئے لہجے کی پہچان کے طور پر بھی“۔3 بیکل نے غزل کو گیت کا رنگ وروپ دے کر اسے ایک دیہی حسن بخشا ہے۔ انھوں نے ہندی الفاظ کے استعمال سے اشعار میں حسن اور نغمگی دونوں پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان دونوں کو دوقالب اور ایک جان قرار دیا ہے اور اردوکے ساتھ ہورہی نا انصافی پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ذیل کے اشعار دیکھیں:
ان دونوں کی ایک ہی ماں ہے دو قالب ہیں ایک ہی جاں ہے                             پھر بھی اردوکو ہندی کی لوگ کہیں سوتیلی ہے
میری زباں ہردل کی زباں ہے، کومل کومل حسن  بیاں  ہے                               برسوں تک  یہ خسرو  کی انگنائی  میں کھیلی  ہے
اس کا لہجہ چنچل چنچل  روپ  کا  درپن  جیوت کی جھل جھل                               میری  غزل کی بحر نہ دیکھو، یہ تو میر کی چیلی ہے
آگئیں یاد کٹھور کی بتیاں  برسے  نین  دھڑک گئیں چھتیاں                               پردیسی اب بھیج دے پتیاں برہن آج اکیلی ہے
                                                                            طنز  کی  تیغ  مجھی  پر سبھی  کھینچے  ہوں  گے
آپ  جب اورمرے  اور نگیچے ہوں گے

بیکل اتساہی چوںکہ گاؤں کےاس ماحول کے پروردہ ہیں جہاں کبیر، تلسی، جائسی اورنظیر اکبرآبادی کی نظمیں لوگوں کی زبان زد تھیں۔ اٹھتے بیٹھے سوتے جاگتے ان کی شاعری کانوں میں رس گھول جاتی۔ چناں چہ ان کی نظمیں، دوہے اور کویتائیں بیکل کی سائیکی کا حصہ بن گئیں، جو لاشعوری طورپر شعری سفر میں ان کے لیے مشعل راہ ثابت ہوئیں اور وہ ان ہی کی ڈگر پر چل نکلے۔ نظیر نے اردو شاعری کے موضوعات میں جو سیندھ لگائی تھی بیکل بھی اسی راہ سے اندر داخل ہوگئے۔ نظیر کے تعلق سے احتشام حسین کا یہ جملہ’ ’نظیر درحقیقت ایک اہم قومی شاعر اورمبلغ انسانیت کے پیامبر ہیں“۔4 بیکل پر بھی ہوبہو صادق آتا ہے۔ ان دونوں نے حب الوطنی، قومی یک جہتی، ہندستانی دیومالائی اور اساطیری عناصر کو کثرت سے موضوع سخن بنایا اور اردو شاعری کو تصویر گنگ وجمن کا آئینہ دار بنایا۔ مناظر فطرت، قومی ہم آہنگی، ہولی، دیوالی، رام، کرشن، نانک وغیرہ پر ان دونوں نے خوب نظمیں کہیں۔ بیکل کی ایک نظم ’دلی‘ہے جس میں دلی کی پوری تاریخ وتہذیب سمٹ آئی ہے۔ اس کے علاوہ ہریانہ اوراترپردیش کو بھی انھوں نے اپنی نظموں میں بسادیاہے۔

ہندستان کی تہذیبی وثقافتی، سماجی اور لسانی روح تو گاؤں میں بستی ہے۔ جہاں کی صبح وشام میں مسجد کی اذانیں اور مندروں کے گھنٹے صاف سنائی دیتے ہیں۔ مختلف قسم کے رسم ورواج، گیت اور راگ راگنیا دیکھنے اور سننے کو ملتی ہیں۔ کھیتوں میں لہلہاتی فصلیں، باغیچوں میں تناور درخت اور ندی تالاب فطرت کی چغلی کھاتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود بہت سے شعراکو ان میں حسن نظر نہیں آتا۔ وہ ان سے نظریں چراکر نکل جاتے ہیں۔ اس کی وجہ شاید نقادوں کی سرد مہری رہی ہے۔ چوں کہ اس طرح کے موضوعات برتنے والے شعرا کو عوامی یا بازاری کہہ کر انھیں ادب میں کوئی مقام نہیں دیاجاتا۔ اس لیے شعوری طور پر وہ ان موضوعات سے صرف نظر کر لیتے ہیں۔ تاہم بیکل کی حساس طبیعت نے نام ونمودکی پرواہ کیے بغیر ان بے جان موضوعات کو از سرِ نو زندہ کرنے کا بیڑااُٹھایا۔اس کے لیے انھوں نے غزل کے علاوہ نظموں اور گیتوں کا سہارا لیا اور اردو زبان کو کسانوں، کھیتوں، کھلیانوں اور جھوپڑیوں میں بسادیا۔

یہ شہر کے باسی کیا جانیں کیا روپ ہے گاؤں کے پنگھٹ کا                               کیا عشق ہے لاج کی الہڑ کا کیا حسن ہے موہ کے نٹ کھٹ کا
شرمائی  سی  ماتھے  کی  بندیا   اٹھلائی   سی  پاؤں کی پائیلیا                  السائی سی آنکھوں میں  نیندیا بے سدھ وہ سرکنا گھونگٹ کا
بیکل دیہی جمالیات کے شاعر ہیں۔ جو کھیت کھلیان، رسم ورواج اور لوک کہاوتوں کو شعری پیکر میں ڈھالتے چلے جاتے ہیں۔ ان کے یہاں گاؤں کا تصور اتنا گہراہے کہ ان کی شاعری میں یہ لفظ ایک الگ حسن پیدا کردیتا ہے۔گاؤں کی کہاوتیں جیسے داہنی آنکھ کا پھڑکنا نیک شگون مانا جاتاہے، اس کو کتنی خوبصورتی سے باندھاہے:
رات بھر گاؤں دل کا سلگتا رہا، زندگی آسروں میں دہکتی رہی     چاند بیٹھا منڈیروں پہ گلتا رہا چاندنی چھپروں سے ٹپکتی رہی
راہ  میں  آنے  والے   کی بیٹھی  ہوئی  عمر  کا  لمحہ  لمحہ  پگھلتا  رہا                            ڈاکیہ  تار  پڑھ  کر  سناتا  رہا،  دا ہنی آنکھ بیکل پھڑکتی رہی

حد تویہ ہے کہ کھیتوں، کھلیانوں اور کسانوں کے اس شاعر پر ترقی پسند نقادوں نے بھی توجہ نہیں کی۔ حالاں کہ بقول سجاد ظہیر اور علی سردار جعفری ”ترقی پسندی کے جوکا م ترقی پسندوں کوکرنا چاہیے، وہ بیکل اتساہی نے بہت پہلے کر دکھایا۔ جس میں مزدوروں کسانوں کی آواز اردو زبان کے پرچم تلے اٹھائی ہے“5۔  ان کا منشور ہی دبے کچلے لوگوں، مزدوروں اور کسانوں کی آواز بننا تھا۔ یہ اشعار دیکھیں:
اب تو گیہوں نہ دھان بوتے  ہیں                    اپنی قسمت کسان بوتے ہیں
گاؤں کی کھیتیاں اجاڑ کے ہم                      شہر  جاکر  مکان  بوتے  ہیں
فصل   تحصیل   کاٹ  لیتی  ہے                    ہم مسلسل لگان  بوتے  ہیں

بلاشبہہ مشاعرہ اردو زبان کی توسیع کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ بستی بستی قریہ قریہ ناخواندہ عوام تک اردو زبان کی شیرینی پھیلانے میں اس کا اہم رول ہے۔ بیکل نے بھی مشاعروں کے ذریعے عوام کے دلوں میں اس کی شیرینی اور حلاوت کو رچانے بسانے کا کام کیا۔  بدلے میں انھیں مشاعرے کا شاعر قراردے کر نقادوں نے صرفِ نظر کرلیا۔ ”ان حضرات نے یہ نہیں سوچاکہ اردوزبان کی توسیع واشاعت کی ارتقائی منزلوں میں مشاعروں کوذریعہ بنا کرغیراردوداں حلقوں تک اردو کو پہنچانے میں اوراردوکا دل دادہ بنانے میں جو محنت اورمشقت کی ہے کیا کلاسیکل، جدیدیت مابعد جدیدیت، تجریدیت، ساختیات و ترقی پسند لوگوں نے یہ کام کیاہے؟“۔ 6 تاہم ان کی یہ بدنصیبی کہیے یا خوش نصیبی کہ انھوں نے خود کوادبی سیاست سے دور رکھا اورنقادوں کی خوشامد نہیں کی۔ جس کے سبب ادب میں انھیں وہ مقام نہ ملا جس کے وہ حق دار تھے۔ انھوں نے اخلاص کے ساتھ اردو زبان گاؤںکی روح میں بسایا۔ اردو شاعری کی لفظیات میں ہندی، اودھی اور برج الفاظ کا اضافہ کیا۔ ہندستانی لوک روایت سے استفادہ کرکے گیتوں کو جدید رنگ وآہنگ بخشا۔ چناں چہ یہ کہنا بجا ہے کہ انھوں نے گیتوں کے دم توڑتے ہوئے سامراٹ کو استحکام بخشا۔ اس حوالے سے ڈاکٹر ظ ۔انصاری لکھتے ہیں:
بیکل کی زنبیل میںاودھی اوربرج کے گیتوں کا، دوہوں اور چوپائیوں کا، بھوجپوری، پدو، کبیتاں کا ایسا رنگ برنگا خزانہ ہے کہ اللہ دے اوربندہ لے۔ وہ ان کی طلب میں گاں گاں نہیں پھرے، اسے پیشہ نہیں بنایا، پبلسٹی نہیں کی، یہ گیت ان کی طلب صادق دیکھ کر خود ہی آئے، زنبیل بھرتے گئے۔ بیکل غزلوں کو لوک گیتوں کی، گیت کو غزلوںکی چاشنی دے کر ایساآمیزہ تیار کرتے ہیں جوزود ہضم بھی ہواورپرکیف بھی۔7

بیکل نے اپنے مجموعے ’موتی اگے دھان کے کھیت‘ میں ارباب نقدونظر کے سامنے یہ سوال قائم کیاہے کہ اردو شاعری کے نصاب میں تمام اصناف سخن شامل ہیں تاہم نعت اور گیت کو اس میں شامل کیوں نہیں کیا گیا۔  حالاں کہ یہ بھی اردو شاعری کی اہم اصناف ہیں۔ چناں چہ ارباب ادب کو اس پرغور کرنے کی ضرورت ہے۔

بیکل نے اپنی پوری زندگی اردو شاعری کی آبیاری میں گزاردی اورکسانوں کی سر میں تال ملاکران کے اندر اتساہ پیدا کیا۔ غزل کے شہر میں گیتوں کا گاؤں بسانے، گاؤں والوں کے من میں غزل کارس گھولنے، کھیتوں، کھلیانوں اور پگڈنڈیوں سے اردو شاعری کو آشنا کرانے اور انجمن انجمن گنگنانے والا ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگیا۔
بیکل ترا  پگ پگ نام یہاں، اتساہی ترے سب کام یہاں
تری بھور یہاں تری شام یہاں پھر کاہے پھرے بھٹکا بھٹکا

حواشی
(1) بیکل اتساہی۔ مٹی، ریت، چٹان، ص 17 ہریانہ اردو اکادمی، 1992
(2)فراق گورکھپوری، مٹی ریت چٹان، ص 11,12 ہریانہ اردو اکادمی 1992
(3)پروفیسر ابوالکلام قاسمی۔مقدمہ ’موتی اُگے دھان کے کھیت‘،بیکل اتساہی، ص 10،کاک آفسیٹ پرنٹرس دہلی،2002
(4)سید احتشام حسین۔ ذوق ادب اور شعور،ص144، اترپردیش اردو اکادمی لکھنو،2014
(5) بیکل اتساہی، موتی اگے دھان کے کھیت، ص8 کاک آفسیٹ پریس دہلی 2002
(6) ایضاص7-8
(7) بیکل اتساہی، رنگ ہزاروںخوشبوایک،ص 11-12، اردواکادمی دہلی، 1989

Imteyaz Rumi, Room No.: 34, Mahi Hostel, JNU, New Delhi - 110067

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...