19/7/18

شاہ عالم ثانی آفتاب کی شاعری ۔ مضمون نگار:۔ محبوب الٰہی





شاہ عالم ثانی آفتاب کی شاعری
محبوب الٰہی


ہندوستان کا مغلیہ شاہی خاندان نہ صرف یہ کہ ادب اور آرٹ کی سرپرستی کرتا رہا بلکہ اسے ادب اور فن سے گہری دل چسپی بھی تھی۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ خود شاہی خاندان کے بہت سے افراد نے قابل قدر ادبی کارنامہ انجام دیا اور نظم و نثر میں اپنی یادگار چھوڑیں۔ انھیں میں سے ایک شاہ عالم ثانی آفتاب کی اہم شخصیت ہے۔ وہ اورنگ زیب کی وفات کے بعد دسواں مغل بادشاہ تھے۔ ان کی پیدائش 14 جون 1728 عیسوی میں ہوئی۔ جب مغلیہ سلطنت رو بہ زوال ہوچکی تھی۔
شاہ عالم ثانی آفتاب کو کئی مشرقی زبانوں پر دستگاہ حاصل تھی۔ حالانکہ ان کی پوری زندگی بے چینی میں گزری لیکن انھوں نے ہر حال میں ادب اور شاعری سے اپنی دلچسپی قائم رکھی۔ مطالعے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انھیں ادب اور شاعری سے یک گونہ ذہنی سکون ملتا تھا۔ اور یہی ان کی تنہائی کا بہترین ہم نشیں ہے۔
شاہ عالم ثانی آفتاب نے اردو فارسی کے علاوہ بھاشا اور پوربی میں بھی شاعری کی ہے۔ شاعری سے انھیں کس قدر دلچسپی تھی اس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ جب بکسر کی جنگ کے بعد انگریزوں کی سرپرستی یا نگرانی میں الہ آباد میں بے کاری کے دن گزار رہے تھے۔ ان دنوں انھوں نے اردو فارسی اور ہندی تینوں زبانوں میں شاعری کی۔ غرض یہ کہ دربدری کے باوجود انھوں نے شعر و شاعری کو ترک نہیں کیا۔ حتیٰ کہ وہ سفر میں بھی فکر سخن سے غافل نہیں رہتے تھے۔ خصوصاً جب غلام قادر خان نے شاہ عام ثانی آفتاب کی دونوں آنکھیں نکال لی تھیں تو وہ صرف کان اور زبان سے ہی دل بہلایا کرتے تھے۔ چنانچہ ان کے دور کے نامور شعرائے کرام جیسے حکیم ثناء اللہ خاں فراق، قدرت اللہ خاں قاسم، شاہ ہدایت میاں شکیبا، شیخ ولی اللہ محب وغیرہ اپنے کلام سے نابینا بادشاہ کو محظوظ کرتے اور ان کا دل بہلاتے اور بادشاہ کے کلام کی داد دیا کرتے تھے۔ خاص طور پر سید انشاء اپنے کلام کے علاوہ ادبی اور ظرافت آمیز باتوں سے شرکائے مجلس کو مسکرانے اور قہقہہ لگانے پر مجبور کردیتے تھے۔ اس لیے شاہ عالم ثانی آفتاب کو ان سے زیادہ تعلق ہوگیا تھا اور وہ سید انشا کی سب سے بڑھ کر قدردانی کرتے اور ان کی ہر ضرورت اور فرمائش پوری کردیا کرتے تھے۔

شاہ عالم ثانی آفتاب صاحب دیوان شاعر تھے۔ اردو فارسی میں ان کے کئی شعری مجموعے تھے۔ فارسی زبان میں ان کی شاعری کا مجموعہ ’مثنوی منظوم اقدس‘ کے نام سے ہے اور اردو میں ان کے دیوان کا نام ’نادراتِ شاہی‘ ہے لیکن شاہ عالم ثانی آفتاب کا اردو دیوان جس کا ذکر ڈاکٹر اشپرنگر نے دیوان آفتاب کے نام سے کیا ہے وہ اب نایاب ہے یہی حال منظوم اقدس کا ہے مگر مختلف تذکروں میں ان کے اردو اشعار ضرور پائے جاتے ہیں۔

اب وہ شاہ عالم ثانی آفتاب کے اردو، فارسی، ہندی اور پنجابی کلام کا ایک مجموعہ یعنی ’نادراتِ شاہی‘ دستیاب ہے جسے رضا لائبریری رامپور نے 1984 میں شائع کیا ہے۔ ایک اقتباس دیکھیے: 
’’یہ کتاب اس عہد کی صاف ستھری ہندی زبان کا قیمتی نمونہ ہونے کے سبب ہندی ادب کی تاریخ میں نمایاں جگہ پانے کی مستحق ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شاہ کے زمانے میں ہندوؤں کے حکومت سے کیسے تعلقات تھے قلعہ معلی میں اسلامی اور ہندوانہ کون کون سی رسمیں کس طرح برتی جاتی تھیں اور بادشاہ کو دیسی زبانوں سے کتنی دلچسپی تھی اس لیے یہ کتاب سیاسی اور سماجی حیثیت سے بھی بہت دلچسپ ہے، اور آخری صفت۔ جو اہمیت میں پہلی خوبیوں سے کس طرح کم نہیں۔ یہ ہے کہ اسے بادشاہ نے دیوناگری اور نستعلیق دونوں خطوں میں لکھوا کر اس مسئلے کا بڑا اچھا حل پیدا کردیا جو آج بھی ہندوؤں اور مسلمانوں سے طے نہیں ہوسکا۔‘‘ 
(بحوالہ مقدمہ: تقریب نادرات شاہی)
نادرات شاہی کے مطالعے سے اٹھارہویں صدی کے ان مذہبی اور معاشرتی رسوم اور تہواروں کا پتہ چلتا ہے جو ہندوؤں اور مسلمانوں میں رائج تھے۔ شاہ عالم ثانی آفتاب نے ان کا ذکر اس انداز سے کیا ہے جس سے یہ اندازہ ہی نہیں بلکہ یقین ہوتا ہے کہ عید، بقرعید، شب برات، چھٹی، بسم اللہ، منگنی، مہندی، ہولی اور دیوالی وغیرہ جیسے رسوم اور تہواروں کو وہ خود قلعے کے اندر منایا کرتے تھے۔ ذیل میں عید پر ایک شعر ملاحظہ ہو:
جو ماہ عید، اس پر رہے گی نظر جہاں
تعریف ہوسکے نہیں، کچھ تیرے ابرواں کی
(بحوالہ صف نمبر 9 نادرات شاہ)
مذکورہ شعر میں عید کا لفظ استعمال ہوا ہے لیکن اس شعر کا مرکزی خیال عید نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ جب ماہ عید آتا ہے تو شاعر کو اپنے محبوب کی یاد شدت سے آنے لگتی ہے چونکہ عید خوشیوں کا تہوار ہے اور اس مناسبت سے محبوب کا بننا سنورنا اور ا س کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہونے کا موقع مل جائے تو عاشق کے لیے راحت کا باعث بن جاتا ہے۔ اصل جو خاص بات ہے وہ یہ کہ عید کے لفظ کا استعمال شاہ عالم ثانی آفتاب نے اس شعر میں کیا ہے جس سے ان کی دلچسپی کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک شعر میں ’عید‘ اور ’شب برات‘ دونوں کا استعمال ایک مصرعہ میں کس خوبصورتی سے کیا ہے ذرا ملاحظہ کیجیے ؂
دن عید کا ساگر ہو، اور شب برات کی رات
تو ہی نہ ہو، تو پھر یہ دن رات کچھ نہیں ہے
(بحوالہ صفحہ نمبر 17 نادرات شاہی)
عید ہو یا شب برات بغیر محبوب کے سب بیکار ہے، مزہ تو تب ہے کہ ہر دن ہو اور ہر رات شب برات ہو عید قربان پہ بھی ایک شعر ملاحظہ کیجیے:
عید قربان، بتو، ای شاہ، مبارک باشد
ہر زمان شادی دلخواہ مبارک باشد
(بحوالہ صفحہ نمبر 78 نادرات شاہی)
اس طرح سے ہم نے دیکھا کہ ان کی شاعری میں کتنی جہات ہیں۔ اب ہولی پہ بھی ایک شعر دیکھیے:
آج رنگ کھیل آئیں سکل برج کی ناری
چووا، چندن، عبیر، گلال اور پچکاری رنگ ماری
(بحوالہ صفحہ نمبر 141، نادرات شاہی)
شاہ عالم ثانی آفتاب کی شاعری کسی مقصد کے تحت نہیں تھی اگر مقصد ان کی شاعری پہ غالب ہوتا تو مختلف تہواروں کا ذکر ان کی شاعری میں نہیں ہوتا۔ اس سے ان کی آزاد خیالی کا اندازہ ہوتا ہے جس میں گنگا جمنی تہذیب کی ترجمانی دکھائی دیتی ہے سلطنت کی پیچیدہ ذمے داریوں سے دست برداری کے بعد ان کی شاعری میں ان کے احساسات کی بھرپور عکاسی ملتی ہے۔
اٹھارہویں صدی اردو ادب و شاعری کے لحاظ سے ایک عظیم اور انقلابی دور تھا اس صدی میں سیاسی تبدیلی رونما ہوئی۔ شاہ عالم ثانی آفتاب نے اسی سیاسی اور لسانی انقلاب کی صدی میں فارسی، ہندی اور پنجابی کے علاوہ اردوئے معلی میں نہ صرف شاعری کی بلکہ نثر میں ’عجائب القصص‘ جیسی تاریخی اہمیت کی حامل داستان بھی تصنیف کی۔
شاہ عالم ثانی آفتاب کی شاعری خصوصاً غزل اگرچہ اپنے دورکے بلند پایہ اور نامور شعرا جیسے میر، سودا، اور درد کے ہم پلہ نہیں بلک دوسرے درجے کی شاعری ہے لیکن ان کی شاعری اس دور کی تہذیب اور روایت کی عکاس ہونے کے اعتبار سے یقیناًمنفرد اور ممتاز ہے۔ چنانچہ امتیاز علی خاں عرشی نے شاہ عالم ثانی آفتاب کی شاعری کے بارے میں لکھا ہے کہ:
’’ان کے شعروں کی خاص خوبی یہ ہے کہ ان میں پیچ دار خیالات، مشکل فقرے یا لفظ اور دورازکار تشبیہیں نہیں ملتیں۔ ان کی شاعری جذبات کی شاعری ہے جو کچھ دل پر گزرتی ہے۔ خوشی ہو یا رنج، آرام ہو یا تکلیف اسے سادہ طریقے سے بیان کردیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں شان و شکوہ کم مگر اثر زیادہ ہے۔ ممکن نہیں کہ آپ ان کے شعر پڑھیں اور پڑھ کر ان کی خوشی یا رنج کے ساتھی نہ بن جائیں۔ رہ گئی زبان تو وہ قلعہ معلی کے ممتاز رکن تھے۔ ان سے زیادہ ستھری اور پاک صاف اردو کون لکھ سکتا تھا وہ جو کچھ لکھ گئے ہیں ہمارے لیے سند ہے۔ ایسی سند جس کے روبرو میر اور سودا جیسی تحریریں بھی ناقابل قبول ہیں۔ چنانچہ آپ ان کے عہد کے شاعروں کے کلام سے مقابلہ کریں تو زبان کے لحاظ سے بڑے سے بڑے شاعر کو بھی ان کا ہم پلہ نہ پائیں گے۔‘‘
مثال کے طور پر ایک غزل ملاحظہ ہو ؂
مطلوب دل ہمارا، اے گلعزار، تو ہے
سب گل رخاں پے غالب، بے نوبہار، تو ہے
مجھ کو نہ سیر بھاوے باغوں کی اور گل کی
میرے بہار دل کی، اے میرے یار، تو ہے
سورج مکھی کیا دل اس آفتاب رو نے
اودھر کو دل پھرے ہے، جیدھر کو یار تو ہے
دل بیقرار ہر دم تیرے فراق میں، آہ!
مجھ بیقرار دل کا، پیارے، قرار تو ہے
مجھ زلف میں پھنسا ہے دل آفتاب کا اب
اب دیں رہا نہ اسلام، زناردار! تو ہے
(بحوالہ نادرات شاہی، ص 22)
مذکورہ بالا اشعار سے شاہ عالم ثانی آفتاب کے رنگ وآہنگ اورطرز ادا کا اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے اس غزل میں جو کہ غزل مسلسل ہے جس کا کلیدی لفظ دل ہے اوردل کو مختلف طریقہ سے تقریبا ہر مصرعہ میں برتنے کی کوشش کی ہے اورجب کسی شاعر کے یہاں دل اور گل یا پھر گل وبلبل کی باتیں ہوں تو قاری کا ذہن عشق وعاشقی کی طرف منتقل ہوہی جاتا ہے ،شاہ عالم ثانی آفتاب بھی اس سے مستثنیٰ نہیں معلوم ہوتے ہیں چونکہ جس کرب کا اظہار وہ مذکورہ غزل میں کررہے ہیں یہ انھیں کا خاصہ معلوم ہوتا ہے اور اس غزل کے پہلے ہی مصرع میں اپنے مقصدکا اظہار کررہے ہیں کہ اے گلعزار میرے دل کا مقصد توہی ہے اورتمام گلوں پر فوقیت حاصل ہے تمھاری اس خوبی اورخوبصورتی کو دیکھ کر میرا دل ہی نہیں کرتا کہ باغوں کی طرف جاؤں اور گلوں کا نظارہ کروں ہم جو کچھ بھی دیکھنا چاہتے ہیں وہ سب تمھارے یہاں موجود ہے میرے یار اوردل کے بہار بلکہ سورج مکھی کی طرح تمھارا چہرہ ہے میرادل بھی اس پھول کے مانند ہے جس پھول کا رنگ تم سے مشابہت رکھتا ہے۔غزل کے تیسرے مصرع میں شاہ عالم ثانی نے آفتاب کا لفظ استعمال کیا ہے اور ان کا تخلص بھی آفتاب ہے اسے نہایت ہی چابکدستی کے ساتھ ذومعنی استعمال کیا ہے تخلص کی وجہ سے شعر کا حسن دوبالا ہوجاتا ہے پوری غزل میں خیالات کا تسلسل برقرار ہے جبکہ غزل کا ہر مصرعہ جداگانہ ہوتا ہے لیکن شاہ عالم ثانی کی یہ انفرادیت کہ غزل میں تسلسل برقرار رہتا ہے۔اور مرکزی خیال سے قاری کو بھٹکنے نہیں دیتا اگر ایک طرح سے دیکھا جائے تو ان کی بیشتر غزلوں کا رنگ ایک ہی طرح کا ہے وہی خیالات کا تسلسل یہ غزل کی خوبیوں میں شمار ہوتا ہے شاہ عالم ثانی جس وقت یہ شاعری کررہے تھے وہ اردو کا ایک طرح سے ابتدائی زمانہ ہے اورمغلیہ سلطنت کے زوال کا اس وقت ہندوستان کی دفتری زبان فارسی ہواکرتی تھی اس اثنا میں اردو نے اپنی آنکھیں کھولنی شروع کردیں۔
ڈاکٹر خاور جمیل نے شاہ عالم ثانی آفتاب کی شاعری کے اوصاف و خصوصیات کے ساتھ اس میں پائے جانے والے بعض نقائص اور عیوب پربھی روشنی ڈالی ہے۔ وہ تحریر کرتے ہیں:
’’انھوں نے شاعری صرف تفنن طبع کے طو رپر نہیں کی بلکہ پوری سنجیدگی سے کی ہے۔ انھیں ادب و شعر کا ملکہ قدرت نے ودیعت کیا تھا۔ شاہ عالم نے اپنے دور پر شاعر و ادیب بادشاہ کی حیثیت قابل ذکر اثرات چھوڑے ہیں۔‘‘
آگے چل کر لکھتے ہیں:
’’بحیثیت مجموعی شاہ عالم کی غزل اٹھارہویں صدی کی نمائندہ غزل ہے۔ ان کی شاعری آپ بیتی ہے جو کچھ دل پر گزرا ہے اسے بیان کردیا۔ اس تخلیقی عمل میں شاعری کی آواز میر، سودا، درد کی طرح تو نہیں ابھرتی لیکن لہجے اور زبان کالوچ، اظہار کی گرمی، جذبہ و احساس کی قوت ایسی اور اتنی ضروری ہے کہ ان کا شعر ہمیں آج بھی متاثر کرتا ہے۔‘‘
جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے کہ غلام قادر خاں نے شاہ عالم کی دونوں آنکھیں نکال لی تھیں۔ چنانچہ آنکھ جیسی چیز سے محرومی کے بعد بھی انھوں نے جو شاعری کی اس میں انھوں نے آنکھ کو کئی طرح سے استعمال کیا ہے اور جس لاچاری اور کرب سے انھیں سابقہ پڑا اس کا اظہار انھوں نے کئی غزلوں میں اور مختلف پیرایہ میں کیا ہے۔ مثلاً ؂
لاچار ہوں میں اپنی آنکھوں کے بات یارو
کرتی ہیں دشمنی نت یہ میرے سات یارو
(بحوالہ صفحہ نمبر 5 نادرات شاہی)
یہاں دو غزلوں کے دو دو اشعار درج کیے جاتے ہیں جن میں شاہ عالم ثانی نے آنکھیں نہ ہونے کے دکھ اور لاچاری کو بیان کیا ہے ؂
کرتی ہیں میرے دل پر جو کچھ جفا سو آنکھیں
تقصیر نہیں کسو کی جو ہیں بلا سو آنکھیں
خوباں سے آشنا ہو بیگانہ ہم سے ہوگئیں
دیکھی ہی سب جہاں میں نا آشنا سوآنکھیں
(بحوالہ صفحہ نمبر 12 نادرات شاہی)
دست ستم سے اس بت ظالم کے دل کو اب
ہرگز نہیں نباہ ان آنکھوں نے کیا کیا
اے آفتاب! کر نہیں سکتا ہوں کچھ بیاں
مجھ سے سلوک واہ ان آنکھوں نے کیا کیا
(بحواہ صفحہ نمبر 22 نادراتِ شاہی)
شاہ عالم ثانی آفتاب نے نہ صرف غزلیں اور نظمیں کہی ہیں بلکہ مختلف رسوم اور تہواروں کے موقعوں کے لیے کبت، سوہرے، ترانے وغیرہ کے علاوہ شادی بیاہ کے موقعے کے لیے سیٹھنے بھی کہے ہیں۔ اس طرح تمام مواقع کے کے لیے گانے والو ں اور گانے والیو ں کو بول دیے ہیں۔ 
چنانچہ خود قلعہ معلی کے اندر ہندوؤں اور مسلمانوں کے ہر قسم کے تہوار منائے جاتے تھے جس میں شاہ عالم دلچسپی لیتے تھے اور گویوں اور مراثنوں کو قلعہ معلی اور دیگر مقامات پر ہونے والی تقریبات میں گانے کے لیے ایسی شاعری اور بول کی ضرورت پڑتی تھی۔ اس ضرورت کو شاہ عالم نے صرف محسوس ہی نہیں کیا بلکہ خود اپنی شاعری کے ذریعے وقت کی اس ضرورت کو پورا کیا۔
شاہ عالم ثانی آفتاب کی شاعری کا دائرہ محدود نہیں ہے بلکہ ان کی شاعری ہر سطح کے لوگوں کے لیے ہے جس میں تنوع ہے ایک ایسا شاعر جس نے عید بقرعیدپہ شاعری کی ہے تو ہولی دیوالی نوروزوغیرہ کو بھی اپنے احساسات کے قالب میں ڈھالا ہے اسی وجہ سے ان کی شاعری میں گنگا جمنی تہذیب کی عکاسی ملتی ہے۔بادشاہ ہونے کی وجہ سے مختلف قسم کے لوگوں سے ان کا رابطہ رہا ہے۔ چونکہ بادشاہ کے دربار میں ہرطرح کے لوگوں کا آنا جانا لگارہتا ہے اور مختلف النوع خیالات کی رعایا سے ان کا ملنا جلنا اور بات کرنا ایک اچھے بادشاہ ہونے کی دلیل ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ وہ احساسات کے شاعر تھے تو بیجا نہ ہوگا ان کی شاعری ایک ایسے دور کی غماز ہے جو کسی تحریک سے وابستہ نہیں عمر کے آخری ایام میں آنکھوں کی بینائی کے جانے کے بعد انھوں نے اپنے محض احساسات سے جس طرح کی شاعری کی ہے اسے پڑھنے کے بعد رقت سی محسوس ہونے لگتی ہے زبان نہایت ہی سادہ ہے اور ہندوستان کی رنگا رنگ تہذیب کو بھی اپنے دائرہ اختیار میں لانا شاہ عالم ثانی آفتاب کی خصوصیت معلوم ہوتی ہے مغلیہ سلطنت کا یہ ٹمٹماتا ہوا چراغ جسے وقت اور حالات نے کچھ اس طرح مجبور کردیا تھا کہ ایسے حالات میں وہ اس کے علاوہ اپنی شاعری میں کہہ بھی کیا سکتے تھے ہر کیف انہی خصوصیات کی وجہ سے ہم ان کی شاعری پر آج کے دور میں بھی نظر ڈالیں تو ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کی عکاس نظر آتی ہے۔


Mahboob Ilahi

F-39, Near Nisar Masjid

Shaheen Bagh, Jamia Nagar
New Delhi - 110025


Mob: 9811148447, Email:elahi1983@gmail.com



قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے


17/7/18

شین مظفر پوری کے افسانوں کی عصری معنویت مضمون نگار:۔ شہاب ظفر اعظمی





شین مظفر پوری کے افسانوں کی عصری معنویت
شہاب ظفر اعظمی

اب تقریباً متفقہ طور پر ناقدین ادب کی طرف سے یہ اعتراف کر لیا گیا ہے کہ شین مظفر پوری اردو کے ایک اہم، معتبر اور قابل ذکر افسانہ نگار کا نام ہے۔ عبدالمغنی، وہاب اشرفی اور دیگر ہم عصرناقدین نے ان کے مختلف الجہات کارناموں کا نہ صرف ذکر کیا ہے بلکہ ان کی تحریروں کے تعین قدر کی کوشش بھی کی ہے ۔ اس اعتراف میں تاخیر کی وجوہات بھی شمار کروائی گئی ہیں،جن میں کچھ قصور مصنف کا، کچھ حالات کا اور کچھ عہد کارہا ہے۔ میرے خیال میں شین مظفرپوری پر ان کی زندگی میں توجہ نہیں دیے جانے کے جواسباب رہے ان میں درج ذیل اہم ہیں: 
1۔ ان کی زود نویسی جس کے سبب انہیں کمرشیل رائٹر سمجھ لیا گیا۔
2۔ اس عہد کا شعر وادب جدیدیت کے حلقہء اثرمیں رہنے کے باعث ایک خاص قسم کے تخلیقی رویہ سے گزر تا رہا اور شین مظفر پوری جیسے افسانہ نگار وں کے لیے اس حلقے میں کوئی گنجائش نہ تھی۔ 

3۔ ان کی تخلیقات کی اشاعت ان فلمی اور نیم ادبی رسائل میں زیادہ ہو تی رہی جنھیں ادب کے سربرآوردہ نقاد قابل اعتنا نہیں گردانتے تھے۔
4۔ ان کے ابتدائی افسانوں سے ان پر جنسی اور رومانی افسانہ نگار کا لیبل لگا دیا گیا اور بغیر غور و فکر کیے لوگ اس لیبل کو عرصۂ دراز تک ان کے فن پر چسپاں کرتے رہے۔
مذکورہ چاروں اسباب میں کچھ حد تک صداقت کا حصہ بھی ہے مگر ناقدین نے ان کی شخصیت، ضرورت اور مالی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے تو جیہات پیش کی ہیں۔ میرے خیال میں کسی فنکار نے اگر 300 کہانیاں، نصف درجن ناول اور نصف درجن دیگر موضوعات پر اپنی کتابیں چھوڑی ہیں تو اس کی ہر تحریر منفرد، نمایاں اور ادب کا سنگ میل نہیں ہوسکتی۔ ادب میں فیصلے مقدار کی بنیا د پر نہیں معیار پر کیے جاتے ہیں۔ شین مظفر پوری کے افسانوں میں اگر ایک معتدبہ حصہ کمزور کہانیوں کا ہے تو ایک بڑا حصہ اچھی اور فنی طور پر کامیاب کہانیوں کا بھی ہے۔ غیر جانبدار انہ تنقید کا تقاضا یہ ہونا چاہیے کہ وہ جہاں کمزور افسانوں کا ذکر کرکے مصنف کو معتوب ٹھہرا رہی ہے وہیں اس کے ممتاز اور معیار ی افسانوں کی نشاندہی کرکے اس کے تعین قدر کا فریضہ بھی انجام دے۔ کیا پریم چند سے عبد الصمد تک لکھنے والوں کی تمام کہانیاں معیار ی اور فنی طور پر منفرد ہیں ؟ نہیں۔ اس کے باوجود ان کی ادبی عظمت مسلم ہے۔ اس لیے کہ تعین قدر کا فریضہ مصنف کی اچھی تخلیقات کو ہی سامنے رکھ کر کیا جاتاہے۔ شین مظفر پور ی کے یہاں بھی ایسی کہانیاں بڑی تعداد میں موجود ہیں جن میں موضوعات کا تنوع، سماجی مسائل کی عکاسی، فنی ہنرمندی اور اسلوب کی سحر کاری بہ آسانی محسوس کی جاسکتی ہے۔
شین مظفرپور ی کی کہانیوں کے فنی محاسن یعنی پلاٹ، کردار، اسلوب، نقطہ نظر اور زبان وبیان پر پروفیسر عبد المغنی سے آج تک تفصیل سے لکھا جاتا رہا ہے، میں یہاں اُن باتوں کو دہراکر آپ کا وقت ضائع کرنا نہیں چاہتا ۔میں اپنی گفتگوشین مظفر پوری کے افسانوں میں موجود اُن مسائل تک محدود رکھوں گا جو کل بھی سماج میں موجود تھے اور آج بھی سماج ان سے جوجھ رہا ہے۔ بڑے ادب کی ایک پہچان یہ بھی ہے کہ وہ ہر زمانے کے لیے ہوتا ہے یعنی اس کے افکار ونظریا ت ہر عہد پر منطبق ہوتے ہیں۔ شین مظفر پوری نے جن مسائل کو اپنی کہانیوں میں بر تا ہے ان میں سے زیادہ تر مسائل آج بھی موجود ہیں، اس لیے ان کی عصری معنویت کل کی طرح آج بھی برقرار ہے۔ شین مظفر پوری نے خود کو سماج کا ایک ذمے دارفرد اور نمائندہ مان کر اپنے زمانے کے سماج اور اس سماج کے اہم مسائل کا فنکار انہ تجزیہ اپنے افسانوں کے ذریعے پیش کرتے وقت وجدانی محرکات کے ساتھ ساتھ شعور ی عوامل سے بھی کام لیا ہے۔ انھوں نے تقریبا اُن تمام مسائل کو اپنی کہانیوں کا موضوع و محور بنایا جو ان کے گرد وپیش پھیلے ہوئے تھے اور حیرت انگیز طور پر ان مسائل میں سے بیشتر آج بھی ہمارے سماج کا حصہ ہیں۔ مثلاً حلالہ، طلاق، عقد بیوگاں، بال ودھوا کے مسائل، جہیز، کثرت ازدواج، طبقاتی تفریق، ذات پات کی تفریق، ملاوٹ، کالا بازاری، چھواچھوت، قومی یک جہتی کی کمی، فرقہ وارانہ منافرت اور اونچ نیچ کا بھید بھاؤ جیسے مسائل کل کی طرح آج بھی موجود ہیں، اس لیے ان موضوعات پر شین مظفر پوری کے افسانے آج بھی قاری کو دعوت فکر وعمل دیتے نظر آتے ہیں۔
مثال کے طور پر دلت طبقہ اور اس کے مسائل آج بھی سماج کا اہم موضوع ہیں۔ اس طبقے کی ترقی کے لیے آزادی کے بعد سے مسلسل کوششیں کی جارہی ہیں۔ مگر آج اکیسویں صدی میں بھی دلت نہ صرف سماجی عدم مساوات اور مغائرت و منافرت کا شکار ہیں بلکہ خودکشی کرنے پر مجبور ہیں۔شین مظفر پوری نے اپنے افسانے ’’کسی سے کہنا نہیں ‘‘میں اِس طبقے کے ساتھ اعلیٰ طبقات کے رویے کو بڑی فنکاری سے پیش کیا تھا۔ ایک اسٹیمر کے مسافروں میں اونچی ذات کے لوگوں کے علاوہ دُسادھ یعنی دلت طبقے کی ایک عورت بھی ہے۔برہمن ذات اور دُسادھ ذات کی عورت اپنے شیر خوار بچوں کو لے کر عرشے پر سوئی ہوئی ہیں۔ برہمن بچہ نیند میں کروٹ لیتے ہوئے دُسادھن کے پاس پہنچ کر اس کی کھلی ہوئی چھاتیوں سے چمٹ کر دودھ پینے لگتاہے۔یہاں افسانہ نگار کا یہ جملہ کہ
’’شاید ساری دنیا ؤں کی ماؤں کے دودھ کا مزہ ایک ہی ہوتاہے اور اس کا رنگ تو ایک ہی ہوتاہے‘‘
ماں کی عظمت کی گواہی دیتاہے۔برہمن مرد کی نظر جیسے ہی بچے پر پڑتی ہے وہ فوراً اپنی بیوی کو جگا کر صورت حال بتاتا ہے۔وہ لپک کر دسادھن کی چھاتی سے بچے کو جیسے نوچ لیتی ہے۔دسادھن بھی اپنے بچے کو گود میں لے کر بیٹھ جاتی ہے۔اسٹیمر کنارے پر لگنے والا ہوتاہے۔اسی وقت برہمن عورت دس روپے کانوٹ دسادھن کی چولی میں چپکے سے سرکا دیتی ہے اور بنتی کرتی ہے کہ وہ اس واقعہ کو کسی سے نہ بتائے۔یہی کام برہمن اسٹیمر سے اتر کر کرتاہے اور دسادھن کو پانچ کا نوٹ پکڑا دیتاہے۔تب وہ میلی کچیلی،ناکافی کپڑوں والی دسادھن عورت اپنی اہانت محسوس کرتی ہے اور دونوں نوٹوں کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے گنگا کی شانت اور مقدس لہروں کے سپرد کردیتی ہے۔ ساتھ ہی اس کی آنکھوں سے دو قطرے ڈھلک کر گنگا کی ریت میں جذب ہو جاتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا آج اکیسویں صدی میں بھی دسادھن کی آنکھوں کے وہ آنسو خشک ہوئے ہیں؟ نہیں آج بھی سماج میں دسادھن کی وہی حیثیت ہے۔ اس لیے یہ افسانہ اکیسویں صدی کے موجودہ سماج کی بھرپور عکاسی کرتا نظر آتاہے۔
ہمارے معاشرے کی ایک سچائی یہ بھی ہے کہ ہندوؤں ہی نہیں مسلمانوں میں بھی ذات پات کی تفریق موجود ہے۔اسلام نے اگرچہ اپنی جانب سے کسی تفریق کی تعلیم نہیں دی مگر زمینی حقیقت یہی ہے کہ ہندستانی معاشرے میں اشرافیہ اور نچلے طبقے کے درمیان خلیج ہے اور اس کا اظہار بالخصوص شادی بیاہ کے مواقع پر ہوتاہے جب ہڈی سے ہڈی ملانے کی کوشش کی جاتی ہے۔شین مظفرپوری زمینی سچائیوں سے باخبر تھے اس لیے جہاں دلت استحصال پر انھوں نے اپنا احتجاج درج کیا وہیں مسلمانوں میں موجود اس برائی کابھی کھل کر اظہار کیا ہے۔ افسانہ ’عذاب‘ ملاحظہ کیجیے جو ہڈی سے ہڈی ملانے کے انتظار میں بیٹیوں کی شادی کی عمر گزاردینے کے موضوع پر مبنی ہے۔اس میں داروغہ نوشیرواں خاں عرف نوشیرخاں،اپنی اکلوتی اور چہیتی بیٹی نازی کی شادی کو صرف خاندانی لڑکا نہ ملنے کی وجہ سے ٹالتے رہتے ہیں۔ مصاحبین نے متعدد رشتے بتائے مگر سب جگہ کوئی نہ کوئی کھوٹ ملتی گئی۔ایک مصاحب نے پروفیسر امجد حسین کے لڑکے کی تعریف کی اور بات بڑھانے کی اجازت مانگی تو داروغہ نوشیرخاں نے مسکراکر کہا
’’ اس پر تو غور کیا جاسکتاہے مگر مشکل یہ ہے کہ وہاں گودا ہی گوداہے،ہڈی قلمی ہے۔
قلمی کیا ہوتی ہے؟ مصاحب نے حیرت سے پوچھا۔
میرا مطلب ہے کہ ہڈی پیوندی ہے...بھئی آپ جانتے ہیں کہ شیر کتنا ہی بھوکا ہو،مگر وہ گھاس نہیں کھا سکتا۔اور بے چارے مصاحب، خاں صاحب کا منہ تاکتے رہ گئے۔‘‘
اس کا نتیجہ یہ نکلتاہے کہ وقت گزرتا چلا جاتاہے اور نازی کی ارمان اور امنگوں بھری جوانی کی راتیں کاٹے نہیں کٹتیں۔انجام یہ ہوتا ہے کہ گھر کا خاندانی نوکر بھیکو موقع کا فائدہ اٹھاتاہے۔یہ بات تب کھلتی ہے جب نوشیرخاں کو ایک خاندانی لڑکا مل جاتاہے اور وہ یہ بھی مان لیتاہے کہ گھر داماد بن کر رہے گا۔جس دن یہ بات طے پاتی ہے،اسی رات فجر کے وقت نازی کی ماں نے نازی کو کچھ عجیب حالت میں دیکھا۔ان کا ماتھا ٹھنکا اور کریدنے پر پتہ چلتاہے کہ نازی حاملہ ہے۔اس کا سبب بھیکو ہے جو پہلے ہی غائب ہو چکاہے۔نازی کی ماں نے بہت چاہا کہ یہ خبر نوشیر خاں تک نہیں پہنچے لیکن فجر کی نماز کو وضو کے لیے کمرے سے نکلے نوشیرخاں تک بات پہنچ جاتی ہے اور ان کی حرکتِ قلب بند ہو جاتی ہے۔افسانہ نگار کے لفظوں میں:
’’ داروغہ نوشیرخاں پر عذاب کا آخری لمحہ بھی گزر چکاتھا‘‘
کیا یہ افسانہ آج بھی ہمارے سماج کا المیہ بیان نہیں کررہا ہے؟
ملاوٹ اور کالابازاری بھی آج کا ایک بڑا مسئلہ ہے جس پر ہم حکومت کے ذریعہ اکثرو بیشتر مثبت اقدام کی بات سنتے رہتے ہیں۔مگر اناج سے دوا تک ہر چیز میں نقلی اور ملاوٹی اشیا پائی جاتی رہتی ہیں۔شین مظفر پوری نے سماج کے اِس سلگتے مسئلے کو بھی اپنے افسانہ’ثبوت‘ کا موضوع بنایاہے۔ ملک میں غذائی قلت سے پیدا ہونے والے بحران کے زمانے میں لالہ مرلی دھرن ایک طرف تو حکومت کا ہاتھ بٹاتے اور عوام کی ہمدردی بٹورتے نظر آتے ہیں لیکن پہلے وہ گیہوں میں باجرا پیسا کرتے تھے اب تو چونا،اینٹ اور مٹی پیسنے لگتے ہیں۔ان کا بیٹا مہندر بھی باپ کے راستے پر چل کر دوا کے کاروبار میں ملاوٹ کے دھندے سے دولت کا انبار لگا دیتا ہے۔لیکن اسی ملاوٹی کاروبار کے منفی اثرات سے ان کے بیٹے مہندر اور روپا کی موت ہو جاتی ہے۔پوسٹ مارٹم رپورٹ سے واضح ہوتاہے کہ ان کی موت زہریلی غذا اور نقلی دوا سے ہوئی تھی۔ لیکن اس کا کوئی پختہ ثبوت نہیں مل پاتا کہ جس تقریب میں یہ دونوں شریک ہوئے تھے اور پوریاں کھائی تھیں، اس کے لیے مرلی دھرن فلاور ملز نے ہی آٹا سپلائی کیا تھا۔ یہاں ’جیسی کرنی ویسی بھرنی‘ کا مقولہ درست ثابت ہوتاہے اور ہمارے سماجی نظام کو کمزور کرنے والے ایک اہم مسئلے کی طرف قاری کو دعوت فکر دیتاہے۔
آج ہمارے سماج کا ایک بڑا مسئلہ مذہبی منافرت اور قومی یک جہتی کا کمزور ہوتا تصور بھی ہے۔سیاست اور اس کی ریشہ دوانیوں نے انسانوں کے ذہن میں زہر بھرنا شروع کردیاہے۔شین مظفر پوری کا افسانہ ’ودیا نگر کی مسجد‘ قومی یک جہتی،فرقہ وارانہ ہم آہنگی،مذہبی رواداری اور انسان دوستی کے تصور پر نہایت اثر انگیز افسانہ ہے۔یہ مسجد نچلے طبقے کے مزدور پیشہ اور مفلوک الحال باشندوں کے علاقے میں واقع ہے۔مسجد خس پوش ہے اور خستہ حال بھی۔ ایک بوڑھے میاں جی اس مسجد کے موذن بھی ہیں، امام بھی اور نمازی بھی۔یہاں بابو رام کنور جیسا سچا ہیرا بھی چمکتاہے جسے مذہبی رواداری میں اپنی مثال آپ قرار دیا جاسکتا ہے۔ وہ خود ایک مندر کی تعمیر چندے سے کر رہے ہیں لیکن مسجد کے اخراجات کی ذمہ داری اپنے سر لیے ہوئے ہیں۔مسجد میں جلنے والی لالٹین کے لیے تیل بھی انھیں کے گھر سے آتاہے۔اور فجر کی اذان پر نہ صرف وہ بیدار ہوتے ہیں بلکہ خالق باری کو یاد کرنے لگتے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس ایک خوشحال مسلمان مبارک علی ہیں جنھیں اپنے مذہب سے چڑ ہے۔وہ غیر مسلم دوستوں اور شناساؤں کے درمیان نہ صرف مسلمان بلکہ اسلام کے تئیں توہین آمیز کلمات کے استعمال سے نہیں جھجکتے،بلکہ فخر محسوس کرتے ہیں۔مسلمانوں کے عام رویّے سے موذن، امام اور نمازی میاں جی کس قدر نامطمئن اور بیزار ہیں اس کا احساس اس وقت ہو تاہے جب قریب المرگ میاں جی رام کنور کو ہی مسجد کی ذمہ داری اور نگرانی کے لیے منتخب کرتے ہیں۔میاں جی بابو رام کنور سے کہتے ہیں کہ یہ کام کسی اچھے آدمی کو سونپ کر مجھے اس ذمہ داری سے سبکدوش کر دیجیے۔چنانچہ بابو رام کنور کہتے ہیں آپ ہی بتا دیجیے وہ اچھا آدمی کون ہے؟ تو میاں جی کے منہ سے بے ساختہ نکل پڑتا ہے ’بابو رام کنور‘۔ مذہبی رواداری اور باہمی محبت کا یہ منظرنامہ آج ہمارے درمیان سے تیزی سے غائب ہو رہاہے۔شین مظفرپوری کی کہانی ہم سے اس منظرنامے کو باقی رکھنے کا تقاضا کر رہی ہے۔دراصل ہندستانی عوام نے آزادی سے قبل جو خواب دیکھے تھے آزادی کے بعد اس کی تعبیر یں حسرتناک اور اندوہ آگیں برآمد ہوئیں۔ بقول فیض ؂
یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر 
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
عوام کے سارے خواب چکنا چور ہو گئے۔ان کی تعبیر بہت بھیانک نکلی۔جس کا نتیجہ ہے کہ آج بھی سماجی تفریق قائم ہے۔آ ج بھی امیر امیر اور غریب، غریب۔ ان دونوں کے درمیان خلیج حائل ہے۔ مہاجنوں کے ہاتھوں آج بھی مزدور وں کا خون ہورہاہے،ہندو مسلم دنگے ہو رہے ہیں، چور بازاری ہو رہی ہے اور رشوت ستانی کا بازار گرم ہے۔ ذخیرہ اندوزی کا دھندہ زوروں پر ہے۔خواب اور حقیقت کے تصادم کا جو رد عمل سامنے آیا وہ شین مظفرپوری کے افسانہ ’کڑوے گھونٹ‘ کے اس قتباس میں دیکھیے:
’’ اور آج پورے ڈھیڑھ سال کے بعد میں اپنے گاؤں واپس آیاہوں۔میں ایک سال تک آگ اور خون کی ندی میں تیرتا رہا ہوں۔پہلے ملک غلام تھا،اب آزاد ہو گیاہے۔پہلے گیت اور قہقہوں کا اجارہ انگریز کے پاس تھا اب وہ ٹھیکہ بڑے لوگوں کے ہاتھ میں آگیا ہے۔ انھوں نے تمام گیت اور قہقہوں کو اپنے محلوں میں سمیٹ لیاہے۔اب تو ہر طرف موت کے راگ سنائی دیتے ہیں۔ جب ملک کے اونچے ایوانوں پر آزادی کا پرچم لہرایا گیا تھا،اس وقت بھی گیت اور قہقہے ناپید ہو گئے تھے۔چیخیں اور کراہیں فضا میں تیرتی پھرتی رہی تھیں۔فرنگی جادوگر نے نہ جانے کون سا منتر پڑھ کر پھونک دیا تھا دانت کاٹی روٹی کھانے والے بھی ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو گئے تھے۔‘‘
اس اقتباس میں آپ شین مظفرپوری کی حقیقت نگاری اور تجربات کی سچائی کی داد دے سکتے ہیں۔ انھوں نے جن تلخ حقائق کی طرف اشارہ کیاہے وہ آج بھی متوسط طبقہ کی زندگی کی محرومیوں،الجھنوں اور نفرت آمیز معاشرہ میں زندگی بسر کرنے کی تکلیفوں کی آئینہ داری کرتے ہیں۔
مختصر یہ کہ شین مظفرپوری کے افسانے مختلف زندہ موضوعات پر بکھرے پڑے ہیں۔ان موضوعات کا تنوع دیکھ کر ایسا لگتاہے کہ اپنے سماج،اپنے عہد اور اس عہد کے مسائل پر ان کی نہایت گہری نظر تھی۔شاید ہی کوئی سماجی مسئلہ ہو جو ان کی نظر وں سے اوجھل رہا ہو۔شادی کے لیے تصویر دیکھ کر لڑکوں کو پسند ناپسند کرنے کا مسئلہ ہو یا ذات پات اور اونچ نیچ کے بھید بھاؤ کا۔فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا مسئلہ ہو یا فرقہ وارانہ فسادکا۔چھواچھوت کا مسئلہ ہو یا بے جوڑ شادی کا،انہوں نے معاشرے کے تمام زندہ مسائل کو اپنی فکر کا حصہ بنایا اور اس پر خوبصورت کہانیاں تخلیق کیں۔ جہیز کے مسئلہ پر افسانہ ’جہیز‘، کثرت ازدواج سے متعلق کہانی ’سیکنڈ ہینڈ وائف‘ اور ’نئی الف لیلہ‘، کثرت اولاد سے پیدا ہونے والے معاشی بحران پر ’بھگوان کی اِچھاّ‘، اونچی سوسائٹی کی کمزوریوں پر ’لاشوں کا ہنی مون‘ اور اخلاقی باختگی و جنسی عیاشی پر ’ اچھی بیٹی اور براآدمی‘ جیسے افسانوں میں ہمارا معاشرہ اور اس کی مختلف صورتیں دکھائی دیتی ہیں۔ انھوں نے تقریباً ان تمام مسائل پر قلم اٹھایاہے جو آج بھی ہمارے ارد گرد پھیلے ہوئے ہیں اور سنجیدہ شہری کو اس کی ذمے داریوں کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ شین مظفرپوری نے پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی سے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ:
’’ میں اس بات کا قائل ہوں کہ انسان انفرادی حیثیت سے زندہ نہیں رہ سکتا۔انسانی زندگی کے لیے سماج لازمی چیز ہے۔سماج کے تصور کے بغیر انسانی زندگی کا کوئی تصور نہیں کیا جاسکتا۔اس لیے انسان صرف اپنے بارے میں سوچ کر یا اپنے ذاتی مسائل کو اپنے فن اور اپنی تخلیق کا محور بنا کر اپنے فرائض کوپورا نہیں کر سکتا۔‘‘
( زبان وادب،پٹنہ، نومبر،دسمبر1996،ص53)
اس بیان سے پتہ چلتاہے کہ شین مظفر پوری کو بحیثیت ادیب سماج کے تئیں اپنی ذمے داریوں کا پورا پورا احساس تھا۔اس لیے انہوں نے سماج کے اُن مسائل کو اپنی کہانیوں کا موضوع بنایا جن سے اُس عہد کا متوسط طبقہ دوچار تھا۔
بہترین ادب وہی ہوتاہے جو زمان و مکان کی قید سے آزاد ہو۔ شین مظفرپوری کے افسانے اس لحاظ سے بڑے افسانے کہے جا سکتے ہیں کہ وہ عہد جس سے شین متصادم تھے اس کی ستم کوشیاں اب بھی جاری ہیں اور ان میں پیش کردہ مسائل سے آج بھی ہمار ا معاشرہ دوچارہے۔شین مظفرپوری کی کہانیاں اُس عہد کے ساتھ ساتھ ہمارے آج کے مسائل کی بھر پور نمائندگی کر رہی ہیں۔یعنی ان کی کہانیوں کی ہم عصر معنویت انہیں زندہ کہانیاں بنا رہی ہے۔ اس لیے یہ کہانیاں جب تک زندہ رہیں گی شین مظفرپوری کو بھلا کون مار سکتاہے؟
n
Dr.Shahab Zafar Azmi
Department of Urdu, Patna University
Patna- 800005 (Bihar)
Mob.: 9431152912
shahabzafar.azmi@gmail.com



قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

13/7/18

انشائیہ: تعارف، اصول اور روایت۔ مضمون نگار محمد آدم





انشائیہ ادب کی ایک نہایت ہی لطیف صنف ہے۔کسی مضمون ہی کوجب ایک خاص اندازمیں تحریرکیاجاتاہے ،جس کی بے ترتیبی کا اپنا ایک ربط ہوتا ہے اوربات سے بات نکلتی چلی جاتی ہے بظاہر اسی بے ترتیبی سے وجودمیں آنے والی صنف کو، جس میں ایک شعوری ربط و تسلسل قائم رہتاہے، انشائیہ کہتے ہیں۔
انشائیہ اورمضمون میں کیافرق ہے اورادب میں اس کی کیااہمیت ہے،اس کے اصول کیاہیں اور اس کی روایت وتاریخ کیارہی ہے ۔اس میں کس کس قسم کی تبدیلیاں رونماہوتی رہی ہیں ان سب کو اس مضمون میں سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ 
اردوادب میں بہت سی اصناف،عربی ،فارسی اور مغربی ادب سے مستعار ہیں جس طرح چراغ سے چراغ جلانے کی روایت بہت ہی قدیم ہے،(اس سے علم و ادب کے نئے نئے دروازے کھلتے،بہت سے گوشے بے نقاب ہوتے اوربہت سے دریچے روشن ہوتے ہیں)،اسی طرح تحقیق وتنقیدکے ذریعے علم وادب ارتقاپذیررہتے ہیں،جس سے نت نئی چیزیں ہمارے سامنے آتی رہتی ہیں۔
زندگی بت ہزارشیوہ ہے ۔اس کی بے ربطی میں ایک ربط پنہاں ہوتاہے۔ اس کی بین العلومیت اورہزار رنگی، زندگی اوراس سے متعلقات کی وضاحت کے لیے نئے نئے پیرائے تراشتے اورتلاشتے رہتے ہیں! انشائیہ اسی ہزاررنگی کویگانگت یا ایک رنگ میں پیش کرنے کانام ہے جس میں موضوع کی کوئی قیدنہیں۔ 
انشائیہ تعریف اور تعارف : 
انشائیہ کے لغوی معنی عبارت ،بات پیداکرنا اورطرزتحریر وغیرہ ہیں انشائیہ نثری ادب کی وہ صنف ہے،جوایک مختصرادبی مضمون کی مانندہوتے ہوئے بھی مضمون سے الگ انداز رکھتا ہے ۔اس میں تاثرات ومشاہدات،وغیرہ بیان کیے جاتے ہیں، شگفتگی اورشائستگی اِس کا اہم عنصرہے۔انشائیہ نگارکا اندازبیاں خشک نہ ہوکرپرلطف اوردلچسپ ہوتاہے۔اس کی ہےئت گرچہ نثری صنف کی ہے لیکن یہ اپنے اندرشاعری کاسالطف رکھتاہے ۔ انشائیہ میں انشائیہ نگار اپنی تحریرسیل رواں کی مانند آزادا نہ طورپر شعوری رومیں بہتاہواپیش کرتاہے، جس میں اس کی شخصیت کاپہلوبھی نمایاں نظرآتا ہے اوربغیر کسی خاص نتیجے کے بات کو ختم کیے فیصلہ قاری پر چھوڑدیتاہے ۔ واضح رہے کہ انشائیہ کے مفہوم اورہےئت کو کسی ایک تعریف میں سمونا یا اس کی کوئی ایک ترکیب بیان کرنا قدرے دشوارہے ۔
انشائیہ میں ہونے والی مسلسل تبدیلیوں اورمختلف پیرائے اظہار کے اپنا ئے جانے کے سبب کئی انداز تحریر اوراسلوب ا س صنف سے جڑتے چلے گئے ،جس کی وجہ سے یہ ممکن ہی نہیں رہا کے ا س کی کوئی ایک جامع تعریف کی جاسکے ۔ البتہ اس کو کئی طرح سے واضح کیاجاسکتاہے ،جس سے انشائیہ کے خدوخال کو پوری طرح سمجھا جاسکتاہے۔اسی کوواضح کرتے ہوئے وزیرآغالکھتے ہیں :
’’ہرانشائیہ کیابہ لحاظ مواد اورکیابہ لحاظ تکنیک ایک جداگانہ کیفیت کا حامل ہے۔ تاریخی اعتبار سے بیکن، لیمب اور چسٹرٹن کے طریق کارمیں اتنا تفاوت ہے کہ ان کے لکھے ہوئے مضامین کو ایک ہی زمرے میں شامل کرتے ہوئے سخت ہچکچاہٹ محسوس ہوتی ہے۔اسی طرح دور جدیدکے بیشترلکھنے والوں نے انشائیہ کے سلسلے میں کافی سے زیادہ آزادی سے کام لیاہے اورناقدکے لیے انشائیہ کے مقتضیات اورامتیازی محاسن کو علاحدہ کرکے دکھانا مشکل ہوگیاہے۔تاہم غائرنظرسے دیکھنے پرانشائیہ کی متنوع کیفیات اورابلاغ واظہار کے مختلف سانچوں کے پس پشت ایک علاحدہ صنف ادب کے نقوش واضح طورپر ابھرے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔‘‘
(انشائیہ کے خدوخال ، وزیرآغا : صفحہ نمبر9 )
یعنی انشائیہ کی بے ترتیبی کی وجہ ذہن انسانی کی مختلف جولانیاں ہیں۔اِ س کی وضاحت کرتے ہوئے ،اپنے آپ پرگفتگوکرتے ہوئے یا خودکلامی کرتے وقت ’تحریریں‘عجیب عجیب حشرسامانیوں کے ساتھ جلوہ گرہوتی ہیں۔پھرسیکڑوں شخصیات کی خودکلامی اوران کے اذہان کے بیان کے لیے ایک مسلسل سیدھی ترکیب پیش کرنا مشکل ہوجاتاہے۔ یہی سبب ہے کے ہر انشائیہ اپنے مواد وموضوع اوراسلوب کے اعتبار سے الگ الگ دکھائی دیتا ہے۔
انشائیہ کی تعریف بیان کرتے ہوئے ڈاکٹرسیموئیل جانسن(1709-1784) کہتے ہیں کہ : 
’’انشائیہ ذہن کی آزاد ترنگ ، بے ترتیب اورغیرہضم شدہ ٹکڑا بے قائدہ اورغیرمنظم عمل ہے‘‘۔
اس قول کی تفصیل بیان کرنے کے بعد ڈاکٹر انورسدید لکھتے ہیں کہ :انشائیہ کی فنی حدوداوربنیادی محاسن متعین کرنے کے لیے ذہن کی آزاد ترنگ،غیررسمی طریق کار،شخصی انکشاف ،خودکلامی ،عدم تکمیل، لچکیلاپن اورانکشافِ ذات وغیرہ کوہی زیادہ اہمیت دیتی ہے۔اوراب تک انشائیہ کی جومتعددتعریفیں مختلف ناقدین ادبا یاانشائیہ نگاروں نے وضع کی ہیں ان میں متذکرہ بالا اوصاف میں سے کسی ایک وصف کو دوسرے اوصاف پر ترجیح دے کرایک نیا زاوےۂ نظر پیدا کرنے کی سعی کی گئی ہے‘‘۔
(انشائیہ اردوادب میں، ڈاکٹر انورسدید: صفحہ 26/27 ) 
درج بالابیانات سے یہ سے واضح ہوتاہے کہ انشائیہ میں انشائیہ نگارغیررسمی طریقے سے خودکلامی کرتاہے۔ ذہنی ترنگ اور خیالات کا تموج اس کے دل ودماغ میں جوش مارتاہے، اسی کے وفور کو خوبصورت الفاظ کے قالب میں ڈھا ل کر انشائیہ نگارموتیوں کی صورت صفحۂ قرطاس پربکھیردیتاہے۔
صنف انشائیہ کا مقصد وزیرآغا کی زبان میں کہیں تویہ ہے کہ :
’’بنیادی طورپر انشائیہ لکھنے کا مقصدآپ کوسوچ بچارکے لیے راستہ ہموار کرناہے،بیشک وہ اپنے موضوع کے بیان میں صرف شحضی واردات اورتجربات اوراپنے ذاتی عمل کے اظہارتک ہی اپنی مساعی کومحدود رکھتاہے۔تاہم اس کے پیش نظر مقصدصرف یہ ہوتاہے کہ آپ کوسوچنے پرمائل کرے،چنانچہ ایک اچھے انشائیہ کی پہچان یہ ہے کہ آپ اس کے مطالعے کے بعد کتاب کوچند لمحوں کے لیے بند کردیں گے اورانشائیہ میں بکھرے ہوئے بہت سے اشارات کا سہارا لے کر خود بھی سوچتے اورمحظوظ ہوتے چلے جائیں گے‘‘۔ 
(انشائیہ کے خدوخال، وزیرآغا، صفحہ 11-12)
اگرچہ انشائیہ موجودہ ہےئت میں مغرب کی رہین منت ہے جس سے اردووالوں نے بھرپوراستفادہ کیا، لیکن اردوادب میں یہ صنف دوسری شکل میں پہلے سے موجود تھی۔ ایّسےEssayیا روش عام سے ہٹ کر خاص انداز کی تحریریں لکھنے والوں کو انشاپرداز کہتے رہے ہیں۔ اردوادب میں انشائیہ کے نقوش منتشرحالتوں میں پہلے سے توملتے ہیں لیکن ا نھیں منضبط کرنے اورایک باقاعدہ صنفی صورت میں برتنے کی کوشش ایک عرصے تک عمل میں نہ آسکی۔ 
دوسرا یہ کہ ابتدا میں انشائیہ نگاری کو تجرباتی طورپر آزمانے کی کوشش کی گئی۔ لیکن اس کے مزاج کوجزوی طورپرہی قبول کیاگیا۔ جن جن چیزوں کو اس صنف کے لیے موضوع سخن بنایاگیاان میں جاندار وبے جان اشیا اورمذاہب و اخلاقیات کوکسی نئے زاویے سے دیکھنے کے بجائے ان پر زیادہ تر رسمی اورروایتی نظرہی ڈالی گئی ،اُس دورکے مضمون نگاروں نے اپنی ذات کو منکشف کرنے کے بجائے ا سے پردوں میں مستوررکھنے ہی میں عافیت محسوس کی ۔
چنانچہ وہ غیر رسمی انداز جو انگریزی انشائیہ کی روح ہے اورقاری کودوسری دنیاکی سیر کراتا ہے وہ اردوزبان وادب میں کلی طورپر پیدانہ ہوسکا۔ اس دورمیں اردوانشائیہ کے بے تکلف ،غیرآرائشی اورآزاد مزاجی کوآزمانے کے بجائے عربی فارسی اورترکی زبانوں کی انشاپردازی اور ان زبانوں کے اسلوب کوزیادہ قبول کیاگیا۔چنانچہ مصنف اورقاری کے درمیان ایک وسیع خلیج حائل رہی۔مصنف تبلیغ واصلاح کے پیرائے میں معاشرتی خامیوں اورناہمواریوں کو اجاگرکرتاہے،اورقاری کواحساسِ زیاں اوراحساس کمتری سے دوچار کردیتا۔حالانکہ اس دورکے ادبانے اپنی تحریروں کوانشائیہ کہنے کے بجائے مضمون ہی قراردیا ۔یہ شکوہ ہے ان اہم مضامین کے انشائیہ نہ بن پانے کا۔مضامین حالی ،مضامین شرر،مضامین فرحت اللہ بیگ،مضامین رشیداورمضامین چکبست وغیرہ اس مزاج کی معروف اورمقبول کتابیں ہیں اوران میں ادبی ،تہذیبی ،معاشرتی ، سیاسی اورفکاہی تحریریں غرض کہ تمام اقسام کے مضامین قاری کی توجہ کامرکز رہے ہیں۔ 
اردومیں مضمون انگریزی کے’ Essay‘کا ہم معنی ہے۔ جبکہ انشائیہ کے لیے انگریزی میں لائٹ ایسّے(LIGHT ESSAY) کااستعمال ہوتاہے ۔ابتدا میں اردوکے مضامین ہی میں انشائیہ کی تلاش کی گئی جبکہ انشائیہ کاتعلق لائٹ ایسے سے ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اردوداں طبقے کا ذہن اپنی قدیم تحریروں کوانشائیہ سے کم سمجھنے پر تیارنہ تھے اوردوسری جانب کچھ افرد ایک عرصے تک انگریزی لفظ’ ایسے‘ (ESSAY)کے گرد ہی گردش کرتے رہے ۔بقول احمدجمال پاشا :
’’ اردومیں مضمون کے نام سے ہمیشہ’ اسّے‘(Essay) ہی لکھے گئے۔ ‘‘
بعض ناقدین نے انشائیہ کے بارے میں اردوکی اس قبیل کی تحریروں کوسامنے رکھتے ہوئے اُس کی تعریف متعین کرنے کی کوشش کی ہے۔ جیسے پروفیسرنظیرصدیقی نے انشائیہ کی تعریف اس طر ح کی ہے :
’’ انشائیہ ادب کی وہ صنف ہے جس میں حکمت سے لے کرحماقت تک اورحماقت سے لے کرحکمت تک ساری منزلیں طے کی جاتی ہیں‘‘۔
(بحوالہ :انشائیہ اردوا ادب میں،انورسدید،صفحہ نمبر36)
بہرحال مذکورہ تمام باتوں سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ مضمون سے ایک نئی صنفِ ادب کی ابتدا ہوئی ۔ مضمون سے انشائیہ بننے کا عمل ایسے ہی ہے جیسے سیپ میں موتی کی پرورش کا عمل ۔ 
ایسا نہیں ہے کہ یہ لفظ انشائیہ یک لخت وجودمیں آگیا اور بہت سے اشخاص تخلیقی نوعیت کے مضامین لکھنے لگے اورانشا پردازی کا جوہردکھانے لگے ۔بلکہ انیسویں صدی کے آخر اوربیسویں صدی کے آغاز کے بعد تخلیقی قسم کی جونثر لکھی گئی،اس میں مضمون نگاری کے متذکرہ رجحان غالب حیثیت رکھتے ہیں اور اس کا سلسلہ سرسید احمد خاں،علامہ شبلی نعمانی،مولوی نذیراحمد،میرناصرعلی دہلوی،محمدحسین آزاد ، مولاناالطاف حسین حالی اورعبدالحلیم شررسے لے کر سجاد حیدریلدم ،مہدی افادی،سجاد انصاری ، خواجہ حسن نظامی ،عبدالعزیز فلک پیما،نیاز فتح پوری،فرحت اللہ بیگ ،سعادت حسن منٹو اورپطرس بخاری تک پھلاہواہے۔ 
ان میں سے کسی نے بھی اپنی اس قبیل کی تحریروں کے لیے لفظ انشائیہ کا استعمال نہیں کیا۔ اوریہ کہنادرست ہے کہ بیسویں صدی میں 1946کے آس پاس’ اختراورینوی‘ نے انشائیہ کا لفظ مخصوص معنی میں ایک کتاب کے دیباچہ میں استعمال کیا۔ لیکن وہ اس کا اطلاق انشائیہ پراس لیے نہ کرسکے کیوں کہ اس وقت تک اردو انشائیہ اپنی مکمل وحدت وہےئت میں سامنے نہیں آیاتھا ۔ اس کا وجودمنتشراور لخت لخت تھا ۔ اس لیے اس لفظ انشائیہ کومناسب فروغ حاصل نہ ہوسکا۔یہی وجہ ہے کے انشائیہ کی اصطلاح کے بارے میں بہت سے ناقدین کی تحریروں سے کوئی واضح خاکہ نہیں ابھرتا ۔
لفظ انشائیہ کوسب سے پہلے کس نے استعمال کیا؟ان اختلافات کی تفصیل سے قطع نظراحمدجمال پاشانے گہرے استدلال اورپرمغز بحث کے بعد یہ ثابت کیا کہ’ انشائیہ کی اصطلاح اصلاً ڈاکٹر وزیر آغا نے مضامین کے لیے نہیں بلکہ شخصی مضامین کے لیے نہ صرف استعمال کی بلکہ اسے فنی طورپربرتابھی ۔ اس لیے کہ انشائیہ کی تحریک کا باضابطہ آغاز انھیں سے ہوتا ہے اوروہی اس کے باوا آدم ہیں۔‘
( بحوالہ اردوانشائیہ ،انورسدید،صفحہ نمبر46) 
بعض ناقدین نے اس صنف ادب کے نقوش ملاوجہی کی کتاب ’سب رس ‘مرزا غالب کے خطوط اورمیرامن کی باغ وبہار میں دریافت کیے ہیں،توکچھ نے یہ خیال ظاہرکیاکہ جب اردوزبان میں لفظ انشا موجودتھا توانشائیہ کی صنف بھی موجودہوگی۔ اس ضمن میں اگرمذکورہ تمام باتوں کا تجزیہ کا کیاجائے تواحمدجمال پاشا کا یہ نتیجہ بے حد معنی خیزہے کہ :
’’ انشائیہ کے سلسلے میں قواعد کی کتابوں میں انشائیہ کا لفظ برابر ملتاہے اورانشائیہ کا لفظ استعما ل بھی ہوتا رہاہے۔ مگر’’لائٹ ایسے کے لیے انشائیہ کی اصطلاح سب سے پہلے ڈاکٹروزیرآغانے کی اوراسے برتا بھی ۔ اس کے فنی نمونے تخلیق کیے اوراسے ایک صنف ادب اورتحریک کی شکل دی۔‘‘
( بحوالہ اردوانشائیہ ،انورسدید،صفحہ نمبر65)
یہی وجہ ہے کہ اب ایک بڑاطبقہ عصری انشائیہ اورا س کی اصطلاح کو رائج کرنے والے ادیب کی حیثیت سے ڈاکٹروزیرآغا کوہی تسلیم کرچکاہے۔انھیں ہی انشائیہ کی تحریک کا بانی شمارکرتاہے اور’خیال پارے ‘ کی اشاعت کوانشائیہ کا نقطۂ آغاز گردانتاہے۔
اس بارے میں ’پروفیسرجمیل آذر‘ تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ’ ڈاکٹروزیرآغا‘پہلے ادیب ہیں جنھوں نے انشائیہ کے عناصرترکیبی اوراس کی روح کودریافت کیا،1961میں اردوانشائیوں کا پہلا مجموعہ ’خیال پارے‘ شائع ہوا تواس کی اشاعت کے ساتھ ہی اردو ادب میں جدید انشائیہ کی باقائدہ تحریک کا بھی آغاز ہوا۔
ڈاکٹر وزیرآغا کے نزدیک انشائیہ کے بنیادی تقاضے یہ ہیں کہ انشائیہ شے یا مظہرسے چھپے ہوئے ایک نئے معنی کو سطح پر لاتاہے۔ اہم با ت یہ ہے کہ ا س تقاضے کے ساتھ انشاء کی تازہ کاری اورزبان کے تخلیقی استعمال کی شرط بھی عائد کی گئی ہے ۔ڈاکٹر محمد حسنین نے لکھا ہے کہ تحریرمیں انشا نہ ہوتوتحریرلکیربن جاتی ہے اورعبارت مجہول النسب ہوجاتی ہے، انشائیہ اورانشا ء میں وہی تعلق ہے جو کرۂ ارض اورآفتاب میں ہے۔ یعنی اس کی شعائیں روشنی دیتی ہیں اورحرارت بھی ۔ سید احتشام حسین کا کہنا ہے کہ اس سے (انشائیہ) کو تو ایک ایسی فلسفیانہ شگفتگی کا حامل ہوناچاہیے جو پڑھنے والے کے ذہن پر منطق اور استدلال کے ذریعے نہیں بلکہ محض خوشگوار استعجاب اوربے ترتیب مفکرانہ اندازبیان کے ذریعے اپنا تاثرقائم کرے۔ 
یہی سبب ہے کہ اگر دنیا کے معروف انشائیہ نگاروں کا مطالعہ کیاجائے تویہ حقیقت کھل کرسامنے آتی ہے کہ اس صنف ادب میں کامیابی نے صرف انہیں انشائیہ نگاروں کے قدم چومے جواپنا منفرد،تخلیقی اورتازگی سے معموراسلوب تخلیق کرنے میں کامیاب ہوگئے اوروہ اسلوب ان کی تحریر کا آئینہ ہی نہیں بلکہ اس آئینہ سے اس تہذیب وتمدن کی جھلکیاں بھی نظر آتی تھیں جس میں ان انشائیہ نگاروں نے زندگی بسرکی تھی ۔یہ تحقیق شدہ ہے کہ موجودہ انشائیہ ہمارے یہاں مغرب سے مستعار ہے۔
لیکن ڈاکٹر جاویدوششٹ نے اس ا مرسے اختلاف کیاہے اورملاوجہی کواردوکا پہلاانشائیہ نگارتسلیم کیاہے۔اپنے اس دعوے کے اثبات کے لیے انھوں نے سب رس سے وجہی کے 61انشائیے ترتیب دے کرپیش کیے ہیں،اوراس طرح وجہی کواردوکااولین انشائیہ نگار اورانشائیہ کوایک دیسی صنف قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :
’ اردوانشائیہ اپنی ایک انفرادیت رکھتاہے دورِسرسیدمیں انگریزی ادب سے ہمارے انشائیہ نے ضروراستفادہ کیامگریہ کہنا غلط ہے کہ اردوانشائیہ انگریزی انشائیہ سے آیاہے ،ہمارا انشائیہ کلیتاً ہماراانشائیہ ہے اورملاوجہی اردوانشائیہ کے باواآدم ہیں۔ جس وقت عالمی ادب میں انشائیہ کی صنف نے جنم لیاکم وبیش اسی وقت ہمارانشائیہ بھی عالم وجودمیںآیا۔‘‘
( بحوالہ انشائیہ کی روایت مشرق ومغرب کے تناظر میں،مصنف محمداسداللہ صفحہ نمبر131)
گویاانشائیے کی بعض خوبیوں کے سبب وجہی کی تحریروں کوانشائیہ قراردیاگیاہے۔ غالب کے خطوط اپنے انشائی حسن اوردوسری خصوصیات کے سبب انشائیہ کہلانے کے مستحق ہیں۔سب رس میں جن خصوصیات کی بناپرانشائیہ ہونے کاگمان کیاگیاغالب کے خطوط میں یہ رنگ زیادہ گہرے اورزیادہ روشن ہیں۔
غالب کے خط کا ایک اقتباس ملاحظہ کریں جو نواب امیرالدین خاں کے نام ہے لکھتے ہیں :
سنوعالم دوہیں ایک عالم ارواح اورایک عالم آب وگل ،حاکم ان دونوں عالموں کا ایک ہے،جو خودفرماتا ہے لمن الملک الیوم اورپھرآپ جواب دیتاہے للہ الواحدِالقہار۔ ہرچندقاعدہ یہ ہے کے عالم آب وگل کے مجرم عالم ارواح میں سزاپاتے ہیں لیکن یوں بھی ہواہے کہ عالم ارواح کے گناہ گارکودنیامیں بھیج کر سزادیتے ہیں چناچہ آٹھ رجب 1212ھ میں روبہ کاری کے واسطے یہاں بھیجاگیا13برس حوالات میں رہا7رجب 1225ھ کو میرے واسطے حکم دوام حبس صادرہوا۔ایک بیڑی میرے پاؤں میں ڈال دی اوردلی شہرکوزنداں مقررکیا اورمجھے اس زنداں میں ڈال دیا۔ فکرِنظم ونثرکومشقت ٹھہرایا۔برسوں کے بعدجیل خانہ سے بھاگا،تین برس بلادِشرقیہ میں پھرتارہا۔ پایان کار مجھے کلکتہ سے پکڑلائے اورپھراسی مجلس میں بٹھادیا۔پاؤں بیڑی سے فگار،ہاتھ ہتھکڑیوں سے زخم دار،مشقت مقرری اورمشکل ہوگئی۔ طاقت یک قلم زائل ہوگئی۔ بے حیاہوں۔ سالِ گزشتہ بیڑی کوزاویہ زنداں میں چھوڑکرمع دونوں ہتھکڑیوں کے بھاگا ۔میرٹھ ،مراد آباد ہوتاہوا۔ رام پورپہنچا۔ کچھ دن کم دومہینے وہاں رہا تھا کہ پھرپکڑآیا۔ اب عہد کیاکہ پھرنہ بھاگوں گا، بھاگوں گاکیا۔بھاگنے کی طاقت بھی تونہ رہی ،حکم رہائی دیکھیے کب صادرہو۔(مرزا اسد اللہ خاں غالب)
مذکورہ خط کودیکھ کر غالب کو انشائیہ کے پیش رومیں شامل کرلینا ادبی تحقیق کی شان کے خلاف قرار نہیں دیاجاسکتا۔غالب کے بعد ماسٹررام چندر نے بھی انشائیہ کے بنیادی خدوخال میں حصہ لیا ۔ انھوں نے اردومیں مضمون نگاری کی بنیادرکھی،انھی مضامین میں جابہ جاانشائیہ کی رمق نظر آتی ہے۔ سرسیداحمدخاں نے1870میں تہذیب الاخلاق کااجراکرکے مضمون نگاری کی نئی جہتیں روشن کیں۔جس کی اتباع وتقلید نہ صرف ان کے رفقا نے کی بلکہ ان کے مخالفین بھی اسی روش کواپنانے پرمجبور ہوئے۔ سرسیدکی تحریروں کو اردومیں انشائیہ کے لیے پہلی تحریک کے طورپر دیکھاجاناچاہیے۔ 
سرسیدکامقصد شخصی تاثرات یا محض افکاروخیالات کی ترسیل نہیں تھی بلکہ وہ ان مضامین کوقوم وملت کی اصلاح کا ذریعہ بناناچاہتے تھے۔ جوکام یورپ میں ڈیکارٹ کی تحریروں نے کیاوہی کام مسلمانان عالم میں سرسید کی کاوشوں نے کیا ۔ سرسیدکے رفقاء میں بالخصوص نواب محسن الملک،نواب وقارالملک، مولوی چراغ علی ،محمدحسین آزاد،ڈپٹی نذیراحمد ، الطاف حسین حالی،مولوی ذکاء اللہ اوروحید الدین سلیم وغیرہ نے سرسیدکے طرزتحریر کوادبی مشن کے طورپراپنایا اورجاری رکھا۔اس وقت سرسید ان رویوں کے محرک ا علی تھے اوراس ادبی اورعلمی دورکے آغاز کا سہرا انھیں کے سرہے ۔ جن انشائیہ نگاروں نے بیسویں صدی میں اس فکروفن کووسعت بخشی ان میں قابل ذکرنام اس طرح ہیں :
میرناصرعلی دہلوی ،نیا زفتح پوری ،سجادحیدریلدرم،منشی پریم چند،مولوی عزیزمرزا ،سیداحمددہلوی، مولاناخلیق دہلوی ،سلطان حیدرجوش،مہدی افادی،سجاد انصاری،فلک پیماں،مولاناابوالکلام آزاد ،خواجہ حسن نظامی، فرحت اللہ بیگ،رشید احمدصدیقی،پطرس بخاری،کرشن چندر،اکبرعلی قاصد،مشتاق احمدیوسفی اورمجتبیٰ حسین وغیرہ۔ان میں سے اکثر شخصیات کوبنیادی طورسے مضمون نگار ،افسانہ نگار،ناول نگار یاانشا پرداز ہی سمجھناچاہیے ان افراد نے ’لائٹ ایسّے‘ کے معنی میں انشائیہ نہیں لکھے لیکن ان کی تحریروں میں انشائیہ کے نقوش وآہنگ پیوست ہیں اوروہی انشائیے کی بنیادکہے جائیں گے۔ان تحریروں میں بہت سی تحریریں ایسی ہیں جو آج کے انشائیہ کی نمائندگی کرتی ہیں۔
مذکورہ شخصیات میں سے چند کی تحریروں سے مثال اوران کا مختصرتعارف انشائیہ کے حوالے سے ملاحظہ ہو۔ 
منشی پریم چند : منشی پریم چندنے ناول اورافسانوں کے علاوہ چند مضامین بھی تحریرکیے ہیں جن میں انشائیہ کی بوباس نظرآتی ہے یہی وجہ ہے کہ وحیدقریشی نے ان کے ایک مضمون’ گالیاں‘کواپنی کتاب ’اردوکابہترین انشائی ادب‘ میں شامل کیا ہے ۔مثال ملاحظہ کریں :
’’یوں توگالیاں بکناہماراسنگھارہے۔مگربالخصوص عالمِ غیض وغضب میں ہماری زبان جولانی پر ہوتی ہے غصہ کی گھٹاسرپرمنڈلاتی اورمنہ سے گالیاں موسلادھارمینہ کی طرح برسنے لگتی ہیں۔‘‘
منشی پریم چند،گالیاں،مشمولات: اردوکا بہترین انشائی ادب،مرتبہ : ڈاکٹروحیدقریشی صفحہ 173
مہدی افادی : مہدی افادی نے’ افادات مہدی‘ میں علمی موضوعات کو انشائیہ کے انداز میں پیش کیاہے،مہدی افادی کے خطوط میں انشائیہ کا وہی لب و لہجہ اور وہی کھلی کھلی فضااورگفتگوکا وہی اندازجلوہ گرنظرآتا ہے جو انشائیہ سے قریب ترہے،افادات مہدی کے مضامین میں شاعرانہ نثراورجمالی حسیت کی کارفرمائی نظرآتی ہے۔مثال دیکھے :
’’عورت بہ اعتبارجذبات ایک خوبصورت گلدستہ ہے،جس کی ساخت میں نہایت نازک پھول پتیاں صرف ہوئی ہیں،جس طرح پھول کی پتیوں میں نازک رگیں نسیں اورباریک نقش ونگارہوتے ہیں،عورت کا دل ودماغ بھی ہرطرح کی لطافتوں اور نزاکتوں کا مخزن ہوتاہے۔جس کے بیل بوٹے قدرت کی بہترین نقاشی ہیں۔ انھیں باریک حسیت وجذبات کا ابھارنااوران کے نشووارتقائے تدریجی کے سلسلے کوقائم رکھنا، چاہنے والے کااصلی فرض ہے۔‘‘
(مکاتیب مہدی بحوالہ: طنزیات ومضحکات صفحہ 68)
مولانا ابوالکلام آزاد : ’غبار خاطر‘مولانا ابوالکلام آزاد کے ان خطوط کا مجموعہ ہے جو 10اگست 1942 سے لے کر16 ستمبر 1943 تک زمانۂ قید میں مولانا حبیب الرحمان خاں شیروانی کو لکھے گئے تھے وصف نگاری بھی انشا پردازی کی ایک اہم صفت ہے ان خطوط میں انشائیہ کے ایسے عناصر موجود ہیں جو انشائیہ کے لیے بے حدضروری ہیں ملا حظہ کیجیے، آزاد کی وصف نگاری کا ایک شہ پا ر ہ :
’’ کوئی پھول یا قوت کا کٹورا تھا، کوئی نیلم کی پیالی تھی، کسی پھول پر گنگا جمنی قلم کاری کی گئی تھی، کسی پر چھینٹ کی طرح رنگ برنگ کی چھپائی ہو رہی تھی، بعض پھولوں پر رنگ کی بوندیں اس طرح پڑگئی تھیں کہ خیال ہوتا تھا صناعِ قدرت کے مو ئے قلم میں رنگ زیادہ بھر گیا ہوگا ، صاف کرنے کے لیے جھٹکنا پڑا، اور اسی کی چھنٹیں قبائے گل کے دامن پر پڑ گئیں۔‘‘
خط نمبر(18) میں دو صفحے کے بعد کس قدر فکر انگیز بات آزاد نے لکھی ہے :
’’ اگر ایک چیز نازک اور خوبصورت ہوتی ہے تو ہم کہتے ہیں یہ پھول ہے، لیکن اگر خود پھولوں کے لیے کچھ کہنا چاہیں تو انھیں کس چیز سے تشبیہ دیں ۔حقیقت یہ ہے کہ زبانِ درماندہ کو یارائے سخن نہیں اور خاموشی کے بغیر چارۂ کار نہیں۔حسن کی جلوہ طرازیاں محویت کا پیام ہوتی ہیں، خامہ فرسائی اور سخن آرائی کا تقاضا نہیں ہوتا۔‘‘
یہ صرف ایک شہ پارہ ہے ،وگرنہ خط پہ خط پڑھتے جائیے اور قلب و دماغ کو سحرزدہ اور روشن کرتے جائیے۔
’ چڑیاچڑے کی کہانی‘ (خط نمبر19-20)ایک ادبی فن پارہ ہے جس میں وصف نگاری دقتِ مشاہدہ کردار نگاری کو ایسی شگفتگی اور وجدان کے ساتھ آزاد نے برتا ہے کہ دل تاثر کے جذبات سے محروم نہیں رہ سکتا ، بین السطور میں اقوالِ زریں، اور جواہر ریزے بھی پروئے گئے ہیں جو صرف قوتِ انشاپردازی سے ممکن نہیں، بلکہ زندگی کے تجربات اور حیات و کائنات میں جذبِ دل اور فکر دقیقہ سنج کی مدد سے مشاہدہ اور غور کرنے سے وارد ہوتے ہیں۔انشا ئیہ بنیادی طورپراس شعرکے مصداق ہوتاہے روبہ کاری کو زنداں بلادِشرقیہ دقیقہ سنج 
مپرس تاچہ نوشت ست کلکِ قاصرما
خطِ غبارِ من ست ایں غبارِخاطرما
ہمارے قاصر قلم نے کیا لکھا ہے یہ مت پوچھ کہ مرے دل کا غبار (رنج و کدورت اور ملال) ہی خطِ غبار کی صورت میں ظاہر ہے۔(یعنی ہمارے دل پرجو کچھ گزری ہے وہی ہماری تحریر میں ہے)خطِ غبار ۔ ایک خط کا نام ہے جیسے نستعلیق ، وغیرہ 
(دیکھیے فرہنگ آصفیہ میرعظمت اللہ بلگرامی،سروِ آزاد 315-325،نزہتہ الخواطر: 6:182-183)
بہرحال مولانا کا اپنے خطوط کے مجموعے کا نام غبار خاطررکھنا اوراس میں اس جیسی تحریروں کے نقش ونگاراورگل بوٹے ٹانکنا ان کی اعلی درجے کی انشائیہ نگاری کا ثبوت ہے ۔
خواجہ حسن نظامی :خواجہ حسن نظامی حضرت نظام الدین اولیاءؒ کی درگاہ میں 25دسمبر1878کو دہلی میں پیدا ہوئے ۔ خواجہ صاحب کی پرورش صوفیانہ ماحول میں ہوئی انھوں نے باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی،اپنے طورپرتعلیم حاصل کی۔ آپ کواردو،عربی،فارسی میں خاصی دسترس حاصل تھی ان کی صحافتی زندگی کاآغاز روزنامہ ’رعیت‘ سے ہوا۔اخبارمنادی میں ان کاروزنامہ شائع ہوتارہا۔انھوں نے خودمیرٹھ سے ایک اخبار ’توحید‘نکالا۔
خواجہ صاحب اچھے اورمنفردانشاپردازتھے سیاسی لیڈربھی تھے اوربے باک مقرراورخطیب بھی ۔ 1955میں وفات پائی ان کی تصانیف چالیس کے لگ بھگ ہیں :
سی پارہ دل،بیگمات کے آنسو،غدردلی کے افسانے،مجموعہ مضامین حسن نظامی، طمانچہ بررخسارِیزید وغیرہ مشہورہیں۔
ان میں خصوصیت کے ساتھ سی پارہ دل کو ان کے انشائیوں کا مجموعہ ہی خیال کرنا چاہیے۔جس میں جھینگرکاجنازہ ،الو ،دیاسلائی ،آنسوکی سرگذشت اور ’گلاب تمھاراکیکر ہمارا‘ وغیرہ جیسے معمولی اورغیر اہم موضوعات پرا نھوں نے جن فکر انگیز خیالات کوپیش کیا اور جس طرح نئے پہلوتراشے ہیں اور نیا زاویہ نظر پیداکیا ہے وہ بیحد اہم ہے اور انھیں انشائیہ کا بیش قیمت ذخیرہ تصورکیاگیاہے ۔
’گلاب تمھاراکیکر ہمارا‘ سے اقتباس دیکھیں :
گلاب کی ٹہنی میں کیارکھا ہے ایک کمزور لچکنے اورٹوٹ جانے والی شاخ ہے ،جس کا آج کل کے شہزاور زمانے میں بقول ڈارون رہنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔یہ وقت ان کی زندگانی کاہے جوایام کا مقابلہ کرسکتے ہیں جن کے اعضا دوسروں کے کام آسکتے ہیں۔ کیکرکا پھول ہفتوں سورج کا مقابلہ کرتاہے اورآج کل تعریف اسی کی ہے جو دشمن کے مقابلے میں زندہ سلامت رہے۔‘‘
(سی پارہ دل :گلاب تمھاراکیکر ہمارا )
ا س دلچسپ ا نشائیہ کے بعدیہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ خواجہ حسن نظامی نے مضامین ہی تحریر کیے ہیں انھوں نے شعوری طورپر انشائیے نہیں تحریرکیے۔ اس لیے ان کے انشائیوں میں انشائیہ کے اصولوں میں سے دو اہم اصولوں کا فقدان ملتا ہے ۔ بقول وزیر آغا ’حسن نظامی کے مضامین میں انشائیہ کی دواہم خصوصیات کا فقدان ہے۔ ایک توان مضامین کالہجہ انشائیہ کے لہجے سے ہم آہنگ نہیں ، دوسرے ان میں مصنف کی اپنی ذات یا شخصیت اجاگرنہیں ہوئی۔‘‘
(وزیرآغا،خیال پارے صفحہ نمبر18)
رشید احمدصدیقی : رشید احمدصدیقی کی مزاح نگاری جن محاسن اورعناصرسے عبارت ہے ان میں انشائیہ کی بھی کئی خصوصیات سمٹ آئی ہیں۔ان کے مضامین میں’’ارہرکا کھیت ،چارپائی ،علی گڑھ کا دھوبی وغیرہ اس کی عمدہ مثالیں ہیں۔
سیداحمدشاہ پطرس بخاری : پطر س بخاری کی اس میدان میں واحد تصنیف ’پطرس کے مضامین‘ ہیں جس میں 11مضامین ہیں جو اس طرح ہیں :
ہاسٹل میں پڑھنا،سویرے جوکل آنکھ میری کھلی ،کتے،اردوکی آخری کتاب،میں ایک میاں ہوں، مریدپورکاپیر، انجام بخیر،سینماکاعشق،مرحوم کی یادمیں اورلاہور کا جغرافیہ وغیرہ ۔ا س کتاب کے دیباچے سے ہی ا س کے انشائی حسن کا اندازہ کیاجاسکتاہے ملاحظہ کیجیے :
’’اگریہ کتاب آپ کو کسی نے مفت بھیجی ہے تومجھ پراحسان کیاہے،اگرآپ نے کہیں سے چرائی ہے تومیں آپ کے ذوق کی داد دیتاہوں،آپ نے پیسوں سے خریدی ہے تومجھے آپ سے ہمدردی ہے۔اب بہتریہی ہے کہ آپ اس کتاب کواچھا سمجھ کراپنی حماقت کوحق بہ جانب ثابت کریں۔ ‘‘
(پطرس کے مضامین نئی کتاب گھر،دہلی)
ان کے انشائیہ کتے سے ایک اقتباس ملاحظہ کریں :
’’کتا ایک وفادار جانورہے ۔ اب جناب وفاداری اگراسی کانام ہے کہ شام کے سات بجے جوبھونکنا شروع کیاتولگاتار بغیر دم لیے صبح کے چھ بجے تک بھونکتے چلے گئے توہم لنڈورے ہی بھلے۔ کل ہی کی بات ہے کہ رات کے گیارہ بجے ایک کتے کی طبیعت جوذراگدگدائی توانھوں نے باہر سڑک پرآکر’’طرح‘‘ کا ایک مصرع دے دیا۔ایک آدھ منٹ کے بعدسامنے کے بنگلے سے ایک کتے نے مطلع عرض کردیا۔ اب جناب ایک کہنہ مشق استاد کو جوغصہ آیا،ایک حلوائی کے چولھے سے باہرلپکے اورپوری غزل مقطع تک کہہ گئے۔اس پرشمال مشرق کی طرف سے ایک قدرشناس کتے نے زوروں کی داددی ۔اب توحضرت وہ مشاعرہ گرم ہوا کہ کچھ نہ پوچھیے ۔کمبخت بعض تو دوغزلے سہ غزلے لکھ لائے تھے ۔ کئی ایک نے فی البدیہہ قصیدے پڑھ ڈالے۔‘‘ (کتے پطرس بخاری ۔)
کرشن چندر : کرش چندرکی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ انھوں نے پیمانے چھلکانے کے بجائے پوراپورا سمندرودریا موٹی موٹی کتابوں کی شکل میں رواں کردیے ہیں۔ایک گدھے کی سرگزشت، ایک گدھے کی واپسی اورایک گدھا نیفا میں۔ان ناولوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ کرش چندرنے اپنی ان تحریروں میں کیاکیاگل بوٹے کھلائے ہیں اوررنگا رنگ دنیاآباد کی ہے۔
مشتاق احمدیوسفی : مشتاق احمدیوسفی کا کمال یہ ہے کے عام سی غیر اہم بات کے نئے پہلویا زاویہ پرروشنی ڈال کراس کی جانب اشارہ کرکے ہمیں چونکادینا اورمعصومیت سے آگے بڑھ جانا۔یوسفی اِس عہد کے ان زندہ دل انشائیہ نگاروں میں شمار کیے جاتے ہیں جن کے انشائے وسعت فکرمعلومات اورطنز ومزاح سے بھرے پڑے ہیں جن میں لطافت اوردلکشی کا وہ عالم ہوتاہے کہ پڑھنے والا ایک بار شروع کرکے پوری تحریر مکمل کیے بعیر دم نہیں مارتا۔آب گم میں شامل’ چراغ تلے‘ سے ایک اقتباس دیکھے : 
’’مجھے احساس ہے کہ ا س ننھے سے چراغ سے نہ کوئی الاو بھڑک سکااورنہ کوئی چتا دہکی،میں تواتناہی جانتا ہوں کہ اپنی چاک دامنی پرجب اورجہاں ہنسنے کوجی چاہا ہنس دیااوراب اگرآپ کو بھی اس ہنسی میں شامل کرلیا تواس کو میں اپنی خوش قسمتی تصور کروں گا۔‘‘
ان کے چند انشائیے ا س طرح ہیں : پڑیے گربیمار ،صنف لاغر،اورجنون لطیفہ وغیرہ بے حد اہم ہیں۔
اب تک ہم نے جن اشخاص پرروشنی ڈالی ہے ان کے یہاں انشائیہ کے خدوخال محدودمعنی میں ہی موجودہیں سوائے مشتاق احمدیوسفی کے۔آئیے اب حقیقی یاعصری انشائیہ کی جانب عملی قدم بڑھانے اور اس کی روایت کو مستحکم کرنے والوں میں سے چندکا مختصرمگرجامع حال معلوم کرتے ہیں۔ 
ڈاکٹر وزیرآغا : انشائیہ کے عہدزریں کا آغاز ڈاکٹروزیرآغا سے ہی ہوتاہے مذکورہ تمام ناموں میں وزیرآغاکانام انشائیہ کے اصول وضوابط متعین کرنے اوراس صنف کوبحیثیت صنف کے برتنے اوررائج کرنے کے حوالے سے یہ نام سب سے اہم نام ہے۔انھوں نے ہی انشائیہ کواس کی اصل پہچان دلوائی اورانشائیہ کو عصری بنیادوں پرگفتگوکا موضوع بنایا اس مقصدکے لیے’ انشائیہ کے خدوخال‘ کے عنوان سے ایک مکمل اورجامع کتاب تحریر کرکے انشائیہ کا دستورمرتب کیا اور خودبھی ان اصولوں کی بنیادپرانشائیہ تحریرکیے۔ ان کے انشائیوں کاپہلا مجموعہ خیال پارے کے نام سے منظرعام پرآیاجس میں 25 انشائیہ ہیں۔حقہ پینا ،آزادی ،آندھی، اورپل وغیرہ ان کے اچھے انشائیے شمارے کیے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ ان کی دوسری کتاب چوری سے یاری تک اوردوسراکنارہ بھی انشائیوں کا مجموعہ ہے اوربے حد مقبول ہیں۔’حقہ پینا‘ سے ایک اقتباس دیکھیں :
’’سگریٹ پینا ثقافت کی روسے ایک بے ثمر عمل ہے کیونکہ یہ انسان کوہوا میں تحلیل کردیتا ہے جب کوئی سگریٹ سلگاتاہے تو سگریٹ کے مرغولوں کے ساتھ تخیلات کی ایک دنیاآباد کرلیتاہے کہ اسے گروپیش کا ہوش نہیں رہتا۔سگریٹ توہائڈروجن گیس سے بھراہواوہ غبارہ ہے جوانسان کوآسمان کی طرف اڑالے جاتاہے اورزمین اس کے پاؤں تلے سے نکل جاتی ہے جب کہ حقہ اسے زمین کی سوندھی سوندھی باس سے آشنا کرتاہے اورزندگی پر اس کی گرفت مضبوط ہوجاتی ہے۔ ‘‘
انورسدید : ڈاکٹرانورسدیدنے اردوانشائیہ کومتعارف کروانے اوراس کی شناخت کے لیے جو خدمات انجام دیں ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں گرچہ وہ بنیادی طورپرناقدتھے۔ پیشے سے اگزکیوٹوانجینئر تھے ۔انھوں نے سفرنامہ ، انشائیہ اور افسانے بھی تحریر کیے ساتھ ہی اردوکی بعض اصناف پران کی کتابیں خصوصاََ انشائیہ پران کی کتاب’انشائیہ اردوادب میں‘ان کی تخلیقی،تنقیدی اورتحقیقی صلاحیتوں کی عکاسی کرتی ہے ۔ان کے انشائیے دسمبر، مچھرکی مدافعت میں،مونچھیں،شور،غلطی کرنا،تاروں بھری رات اورذکراس پری وش کا ‘ انشائیہ کے عمدہ نمونے اورانشائیہ لکھنے والوں کے لیے مشعل راہ کی حییثت رکھتے ہیں۔ان کے انشائیوں میں مختلف طرح کی ندرت، اظہار کے مختلف ذرائع کوسلیقے سے اپنا کر انشائیوں میں کہیں شاعرانہ احساس توکہیں افسانوی اورڈرامائی رنگ کے ساتھ ساتھ طنزومزاح کے عمدہ نمونے جابہ جانظرآتے ہیں ۔’کرکٹ ‘سے ایک اقتباس پیش ہے :
’’کرکٹ میں گیندایک پری وش کی سی خندہ جبینی کے ساتھ کھلاڑی کی طرف آتاہے لیکن کھلاڑی اسے ایک برہمچاری کی طرح منہ نہیں لگاتااوربڑی بے اعتنائی سے ٹھوکرلگاکراسے پرے پھینک دیتاہے۔ کرکٹ کا کھلاڑی اس یوسف کی طرح ہے جس کے بھائی اسے میدان میں تنہاچھوڑکرجاتے ہیں اورخود پویلین میں بیٹھ کرچلغوزے کھاتے اورتماشادیکھتے ہیں۔گیندکی زلیخا اس پرپے درپے حملہ آورہوتی ہے اوروہ اس سے اپنا دامن بچانے کے لیے کبھی وکٹوں کی شمالی قلعے کی طرف بھاگتاہے اورکبھی جنوبی حصارمیں پناہ تلاش کرتاہے،کرکٹ میں آج تک کسی بیٹس مین نے گیند پرقابض ہونے کی کوشش نہیں کی بلکہ جوکھلاڑی گیند کو جتنا دورپھینک سکے اتناہی ماہراورپختہ کارشمارہوتاہے۔گیندکوباؤنڈری سے پرے پھینکنے والا کھلاڑی تووکٹوں کے درمیان دوڑنا بھی ضروری نہیں سمجھتابلکہ وہیں کھڑاکھڑاتماشائیوں سے داد حاصل کرتارہتاہے‘‘۔
( ماہنامہ اوراق ،خاص نمبر،دسمبر،1983 صفحہ ،219)
احمدجمال پاشا : احمدجمال پاشا بنیادی طورپرطنزومزاح کے آدمی تھے ان کا انشائیہ بھی طنزومزاح ہی کے بطن سے وجودمیںآتا ہے ۔ ان کے انشاےئے’ بلیوں کے سلسلے میں،شور ،ہجرت اوربے ترتیبی‘ وغیرہ کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ انشاےئے یعنی عصری انشائیے کے قریب ترہیں۔اسی لیے انورسدیدلکھتے ہیں :
’’چنانچہ یہ کہنادرست ہے کہ طنزومزاح سے انشائیہ کی طرف پیش قدمی احمدجمال پاشاکاایک خوش آئند قدم ہے اوراس صنف میں چندعمدہ پارے پیش کرکے انھوں نے تھوڑے سے عرصے میں قابل فخرمقام حاصل کرلیا۔‘‘
(انشائیہ اردوادب میں ڈاکٹرانورسدید:صفحہ ،268 )
احمدجمال پاشاکا ماحول طنزومزاح کی شگفتگی اوراس کی لطیف قدورں کا آئینہ دار ہے ۔
ممتازمفتی،نظیرصدیقی نے بھی عمدہ انشائیے تحریرکیے ان کے علاوہ ان اشخاص وشخصیات کے نام جنھوں نے اردوانشائیہ کے بال وپردرست کیے اوراس کی روایت کومستحکم کیا اوران میں سے آج بھی بہت سے اپنی تخلیقی کاوشیں پیش کررہے ہیں۔ان کے نام ا س طرح ہیں۔ داؤدرہبر،غلام جیلانی اصغر،مشتاق قمر،جمیل آذر،جاویدصدیقی،مشکورحسین یاد،سلیم آغاقزل باش،کامل القادری،رام لعل نابوی،سلمان بٹ،خالدپرویز صدیقی،انجم انصار،اکبرحمیدی، ارشدمیر، طارق بشیر،حامدبرگی، شہزاداحمد، محمداسداللہ،اقبال انجم ،مشرف احمد،راجاریاض الرحمان،شمیم ترمذی،جان کاشمیری، بشیرصیفی، محمداسلام تبسم ،محمدیونس بٹ اورناصرعباس نیروغیرہ ۔
اس مختصرسے مضمون میں انشائیے پرجتنی روشنی ڈالنی ممکن تھی ڈالی گئی ا س میں نہ صرف انشائیہ کے خدوخال کوواضح کیاگیا بلکہ اس کی تعریف وتعارف کوواضح کرتے ہوئے انشائیہ کے مختلف ادوارکے مصنفین کے ادبی نمونے بھی آپ کے پیش نظرآئے، امیدہے کہ اس شگفتہ صنف سے آپ کی دلچسپی میں مزیداضافہ ہواہوگا۔ 

Mohd. Adam
Assistant Professor (Contractual)
Department of Urdu
Jamia Millia Islamia
New Delhi-110025
Mobile : 9871716440


اگر آپ رسالے کا آن لائن مطالعہ کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے لنک پر کلک کیجیے:۔



قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے


تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...