9/11/18

سید عابد علی عابد کی ادبی اور صحافتی خدمات۔ مضمون نگار:۔ ثمرین





سید عابد علی عابد کی ادبی اور صحافتی خدمات
ثمرین

سید عابد علی عابد کی علمی و ادبی شخصیت محتاج تعارف نہیں۔ وہ بیک وقت شاعر، نقاد، افسانہ نگار، ناول نگار، ڈراما نگار، فیچر نگار، مترجم کے علاوہ ایک مدیر کی حیثیت سے بھی جانے جاتے ہیں۔ انھوں نے مختلف رسائل کی ادارت کے فرائض انجام دیے، جن میں رسالہ صحیفہ، دلکش، ہزار داستان، ادبی دنیا، نونہال، گل خندہ، صادق اور زرعی دنیا وغیرہ ہیں۔ مذکورہ رسائل میں سے چند رسائل کی ادارتی مدت صرف کچھ مہینوں کو محیط ہے مگر رسالہ’ صحیفہ‘ اور’ ہزار داستان‘ کی ادارتی مدت نے طویل عرصہ طے کیا ہے۔رسالہ ’صحیفہ‘عابد علی عابد کی کوششوں کا ہی نتیجہ ہے۔یہ رسالہ مجلس ترقی ادب سے شائع ہوا۔ حکومت مغربی پاکستان نے اردوادب کی ترقی وترویج کے لیے ایک لاکھ روپے کے ابتدائی سرمائے سے1950 میں بمقام لاہور میں ایک ادبی ادارہ قائم کیا اور اس کا نام ’مجلس ترجمہ‘ طے پایا۔اس ادارے کا مقصد یہ تھا کہ غیر زبانوں کی علمی و ادبی کتا بوں کے اردو ترجمے شائع کیے جائیں۔ یہ ایک ایسا ادارہ تھا کہ جہاں اپنے زمانے کے ممتاز و معروف ادیب یکجاتھے۔جن میں سید امتیاز علی تاج، عبدالمجید سالک، خلیفہ عبدالحکیم، کلب علی خاں فائق، حمید احمد خاں اور سید نذیر نیازی کسی نہ کسی حیثیت سے اس ادارہ سے وابستہ رہے۔اس ادارے سے عابد علی عابد کا تعلق بہت پرانا تھا۔جب وہ دلی کالج میں پرنسپل تھے تبھی سے وہ مجلس ترجمہ کے رکن تھے۔پھر مدیر صحیفہ کی حیثیت سے 1962 میں باقاعدہ ملازمت کا آغاز ہوا۔جولائی 1954میں ’مجلس ترجمہ‘کا نام بدل کر ’مجلس ترقی ادب ‘ کر دیا گیا۔
مجلس ترقی ادب سے عابد علی عابد کاتعلق 1950 تا 1971 رہا۔اس دوران مجلس کی کارگزاریوں میں انھوں نے اہم کارنامے انجام دیے۔ترتیب و تالیفات،مقدمہ و حواشی کے علاوہ اراکین مجلس کو اپنے مفید مشوروں سے نوازتے رہے اور سب سے اہم کارنامہ مجلس ترقی ادب سے رسالہ ’صحیفہ‘ کا اجرا تھا۔عابد علی عابد نے مجلس کے ناظم امتیاز علی تاج کو رسالے کے بنیادی خطوط اور معیار سے متعلق تجاویز پیش کیں جن کو ناظم نے قبول کرلیا اور عابد علی عابد کو ہی اس رسالے کا مدیر مقرر کردیا۔یہ رسالہ ابتدا میں سہ ماہی تھا،پھر اراکین کی ایما پر 6ستمبر 1959 میں اسے دو ماہی کردیا گیا مگر بعدمیں یہ چھ ماہی ہوگیا۔یہ رسالہ 1957 میں جاری ہوا تھا اور 1967 تک عابد علی عابد اس کے مدیر رہے۔
صحیفہ میں مجلس ترقی ادب کی کارگزاری، شاعری، تبصرات، مقالات وغیرہ شائع ہوا کرتے تھے۔ 1964 میں مجلس کی ایک اہم میٹنگ میں عابد علی عابد کو شعبہ تصنیف وتالیف میں اہم فرائض سونپے گئے جو حسب ذیل ہیں :
1۔ مسودات موصولہ سے متعلق تحریری یا زبانی رائے دینا،
2۔ مسودات موصولہ پر نظر ثانی کرنا،
3۔ ناظم کی ایما پر کسی کتاب پر مقدمہ لکھنا،
4۔ فارسی مسودات پر نظر ثانی کرنا،
5۔ کسی پروف ریڈر یا کسی اور شخص کی تربیت کرناکہ عروضی اور علم شعر سے آگاہ ہوکر کام کے تسلسل میں معاون ہو
6۔ صحیفہ کی ادرات۔
مذکوہ بالا تمام ذمے داریاں عابد علی عابد بخوبی نبھاتے رہے۔صحیفہ کا پہلا شمارہ جون 1957 میں شائع ہوا۔سجاد رضوی اس کے نائب مدیر تھے،پھر نائب مدیر وقتاً فوقتاً بدلتے رہے لیکن مدیر کے عہدہ پر عابد علی عابد ہی جلوہ افروز رہے۔شمارہ نمبر 13 کے بعد یہ رسالہ دوبارہ سہ ماہی کردیا گیا۔ رسالہ میں چونکہ تحقیقی مضامین و مقالات بہت کم شائع ہوا کرتے تھے لہٰذا اس بات پر غور کیا گیا اور کچھ وقفہ کے بعد انتظامیہ کمیٹی نے رسالے کے مزاج کو تحقیقی بنانے کی خواہش ظاہر کی اور یہ تبدیلی رسالہ کے لیے مفید ثابت ہوئی کیونکہ نئی تخلیقات کا تعارف دوسرے ممالک کے رسائل و جرائد کے ذریعہ ہو رہا تھا۔عابد علی عابد نے بھی 15 ویں شمارہ سے اس میں اہم تبدیلیاں کیں۔صحیفہ کے مزاج کو تخلیقی سے زیادہ تحقیقی بنا دیا۔ 20ویں شمارہ سے یہ رسالہ خالص تحقیقی انداز کا حامل ہوگیا اور صحیفہ کے مستقل عنوانات کی صورت اس طرح ابھر کر سامنے آئی :
1۔ جمع متکلم ۔اداریہ،
2۔ انجمنِ خیالات۔مقالات،
3۔ مجلسِ ترقی ادب کی کارگزاری۔تازہ ترین مطبوعات پر تبصرہ،
4۔ رفتارِ ادب۔گزشتہ سہ ماہی کی تازہ مطبوعات پر تبصرہ،
5۔ کسب نور۔کسی صنف ادب میں سے ایک کتاب سے متعلق مختصر گفتگواور چند اقتباسات پر اظہار خیال(یہ کتاب مجلس کی مطبوعات یا تالیفات میں سے ہوتی تھی)۔
6۔ مشاہیر کے بارے میں 
7۔ مقالہ نما۔
کسی بھی رسالہ کے اداریہ کا کوئی عنوان قائم نہیں ہوتا لیکن رسالہ صحیفہ میں اس سے پرہیز کیا گیا اور اداریہ کو جمع متکلم کا نام دیاگیاکیونکہ یہ رسالہ کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ چندافراد کے زیر سایہ نکلتا تھااس لیے عابد علی عابد نے اس کا نام جمع متکلم رکھاجس میں سب کی رائے اور مشوروں کو مدنظر رکھ کر اداریہ تحریر کیا جاتا تھا۔چند شماروں میں واحد متکلم کا صیغہ بھی استعمال کیا گیا ہے اور اس کی ایک وجہ میرے نزدیک یہ ہے کہ آخری وقت میں عابد علی عابد کی مجلس ترقی ادب کے کارکنان سے رسہ کشی اور مخالفت چل رہی تھی جس کے باعث صحیفہ کے اداریے کے لیے کارکنان کی نشست نہیں ہوسکی ہوگی اور اس طرح اداریہ مدیر کی ذمہ داری میں آگیا ہوگا۔کیونکہ مجلس ترقی ادب کے ممبران کوعابد علی عابد کی بہت سی باتوں پر اعتراض تھایہ جو ان کی گھریلو اورادبی زندگی دونوں سے متعلق تھا۔
عابد علی عابد کی ادارت میں جب سے صحیفہ جاری ہوا تھا مجلس ترقی ادب لاہور نے تب سے اُن کی آخری ادارت کے شمارہ تک ان کے سر بہت سے کام کیے تھے جن میں یہ بھی تحریر کیا گیا تھا کہ نئے لوگوں کو جگہ دینے سے بہتر ہے کہ مدیر خود اس کے لیے تخلیقات پیش کرے اور یہ بھی کہا گیا کہ مدیر کا کام صرف مضامین موصولہ میں سے کس مضمون کو پہلے اور کس مضمون کو بعد میں شائع کرنا ہے،یہ نہ ہو بلکہ مدیر اس کے لیے بہت سی تخلیقات پیش کرے۔اس کے علاوہ عابد علی عابد کے ذمے مجلس کی کتابوں پر تبصرہ بھی تھا۔مجلس سے تین ماہ کے اندر اندر جو کوئی بھی کتاب شائع ہوئی ہو یا گزشتہ چھ ماہ کی کتابوں پر تبصرہ عابد علی عابد کو ہی کرنا ہوتا تھا۔یہی نہیں،جب عابد علی عابد علالت کے باعث گھر پر رہ کر ہی مجلس کا کام انجام دے رہے تھے تب بھی ان سے2کتابوں کی شرط اور رکھی گئی، کہ وہ مجلس کے لیے دو کتابیں لکھا کریں گے۔اس کے برعکس جب وحید قریشی صحیفہ کے مدیر مقرر ہوئے تو ان کے ساتھ یہ تمام پابندیاں نہیں رکھی گئی تھیں۔وحید قریشی اداریہ کے علاوہ کوئی مقالہ،غزل یاتبصرہ نہیں لکھتے تھے۔ وحید قریشی 1967 میں رسالے کے اڈیٹر بنے اور انھوں نے اس میں کچھ تبدیلیاں کیں جن میں اداریہ کو پہلے کی بہ نسبت بہت مختصر کر دیا گیا۔عابد علی عابد کی ادارتی مدت میں مجلس ترقی ادب اور عابد کے مشوروں سے اداریہ تحریر کیا جاتا تھاجس کو صیغہ جمع متکلم کے نام سے یاد کیا جاتا تھا اور بعد میں اسے اداریہ کا نام دے دیا گیاجو وحید قریشی تحریر کرتے تھے۔اداریہ میں انھوں نے گزشتہ نمبر اور پیش نظر شمارہ پر زور قلم صرف کیاہے جس میں مضامین اوران کے مصنّفین کا تعارف ہے ا س کے علاوہ آنے والے شمارے کے سلسلے میں بھی گفتگو کی گئی ہے کسی خاص موضوع پر یا مجلس کے منشورات پر یا پھر کسی ادبی اصناف سے متعلق اداریہ میں کوئی بحث نہیں کی گئی جبکہ عابد علی عابد کی ادارت میں عابد نے مختلف اصنا ف تنقید، شاعری، اسلوب، افسانہ اور ڈراما وغیرہ سے اپنے اداریے میں مکمل اور جامع بحث کی ہے۔اپریل 1969کا پرچہ ان کی نگرانی میں آخری پرچہ تھا۔اس رسالے کے لیے عابد صاحب نے جو کچھ کیا اس کے لیے سید امتیاز علی تاج کے یہ الفاظ صحیح معلوم ہوتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ :
’’رسالہ کا مزاج اس کی تربیت اور اس کی زیبائش سب انھیں کے حسن ذوق کا نتیجہ تھی۔وہ نہ صرف صحیفہ کے بانیوں میں سے تھے بلکہ صحیفہ اور عابد ایک ہی شے کے دو نام تھے‘‘۔ (رسالہ تخلیق عابد علی عابد نمبر،جلد2، شمارہ2اور3)
رسالہ صحیفہ کے علاوہ عابد علی عابد نے دوسرے رسائل کی ادارت کے فرائض بھی انجام دیے۔حکیم احمد شجاع نے جولائی 1922 میں رسالہ ’ہزار داستان ‘جاری کیا، اس کے جاری کرنے کے دو سال بعد حکیم صاحب کو لیجسلیٹو میں ملازمت مل گئی۔انھوں نے ’نونہال‘ اور ’ہزارداستان‘ دونوں پرچے میاں محمد اسماعیل نعیم کے حوالے کر دیے جنھوں نے سید عابد علی عابد اور ہادی حسین قرشی صدیقی کو مدیر مقرر کیا۔عابد علی عابد اس رسالے کے عملے میں1923سے 1926 تک رہے۔ 
عابد رسالہ ’دلکش‘ کے بھی مدیر رہے۔اس کی مجلس ادارت میں نذیر احمد یزدانی،نازش رضوی اور سعادت حسن بھی تھے۔ ’معارف‘ نے جولائی 1927 کی اشاعت میں دلکش پر یوں تبصرہ کیا ہے :
’’صرف ادبی پھولوں کا گلدستہ ہے۔سید عابد علی عابد بی اے ایل ایل بی کی ادارت میں لاہور سے شائع ہوتا ہے۔زیادہ شعر وشاعری اس کا موضوع ہے‘‘۔
بی۔ اے کے بعد عابد علی عابد ’دلکش ‘ اور ’ہزار داستان ‘کی ادارت کے فرائض انجام دینے لگے تھے۔’ ہزارداستان ‘ اردو کا پہلا رسالہ تھا جس میں خالص اردو افسانوی ادب کی اشاعت کا التزام کیا گیا تھا۔عابد نے بھی اسی کے لیے کئی افسانے تخلیق کیے جن کو بعد میں جمع کرکے کتابی صورت میں شائع کردیا گیا۔ہزارداستان کی ادارت کے زمانے میں عابد نے جو نظمیں اور غزلیں کہی تھیں وہ غنائیہ رنگ کی تھیں اور افسانے بھی رومانی انداز کے حامل تھے۔یہ تخلیقات خالص رومانی فضا سے لبریز تھیں جن میں عابد کا رومانی انداز نمایاں ہے۔ ہر غزل کو پڑھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ اس میں رومانی اثر موجود ہے۔ افسانہ وشاعری کے علاوہ عابد علی عابد نے ایڈیٹری کے زمانے میں مختلف کتابوں پر تبصرے بھی کیے،یہ تبصرے اعلی پایے کے ہوتے تھے۔بی اے کے زمانے کے تبصروں میں عابد کی تحریر میں زیادہ پختگی نہیں تھی جس کی جھلک کہیں کہیں نظر آتی ہے لیکن جب انھوں نے رسالہ ’صحیفہ ‘جاری کیا تواس میں ان کے تبصرے،مضامین اور غزلیں وغیرہ سبھی کچھ شامل ہیں اور انداز بیان جداگانہ ہے۔ مولانا تاجور نجیب آبادی نے1929 میں لاہور سے ’ادبی دنیا‘ جاری کیا۔ اس رسالے کی مجلس ادارت میں بہت سے نائب مدیر تھے۔عابد علی عابد بھی اس کے مدیر رہے۔انھوں نے ادبی دنیا کی رنگین تصویروں پر خوبصورت نظمیں لکھیں۔اس کے علاوہ موصوف نے ادبی دنیا کے افسانوں پر بھی خصوصی توجہ دی۔’تنقید شعری ‘کے عنوان سے ایک شعر کی تشریح بھی ’ادبی دنیا‘ میں چھپتی رہی جس میں اکثر تشریحات عابد علی عابد نے کی ہیں۔ادبی دنیا میں ڈرامے بھی شائع ہوتے تھے جن میں بہت سے ڈرامے ان کی تخلیق یا ترجمہ شدہ ہیں۔
1930 میں عابد علی عابد دیال سنگھ کالج میں فارسی کے استاد مقررہوئے۔اکتوبر 1933 سے مئی 1939 تک وہ دیال سنگھ کالج میگزین کے نگراں و مدیر رہے۔اس کے علاوہ اردو میں افسانوی ادب کے فروغ کے لیے1934 سے لاہور میں ماہنامہ ’افسانہ‘ کا اجرا کیا گیا۔جس میں طبع زاد افسانے، یوروپین اور قدیم زبانوں کے شاہکار افسانوں کے تراجم، ڈرامے اور فن افسانہ پر تنقیدی مضامین شائع ہوتے تھے۔ اس رسالے کے مدیر ان اعزازی کے اسمائے گرامی میں ادبی لحاظ سے ممتاز نام عابد علی عابد کا ہے۔ انھوں نے کم و بیش پچیس سال تک ادبی رسائل و جرائد کی ادارت کی۔’دور جدید ‘ اور ’زرعی دنیا‘ کے بھی مدیر رہے 1954 میں روزنامہ ملت میں فکاہیہ کالم بھی لکھتے رہے۔ رسائل کی ادارت کے اعتبار سے عابد علی عابد کی ادارتی خدمات کو دو واضح ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلا دور کم و بیش 16 برسوں پر محیط ہے1923 سے 1939 تک (’ہزار داستان ‘سے ’دیال سنگھ کالج میگزین‘کی نگرانی اورادارت تک)اور دوسرا دور 1956 سے ’صادق‘ کی ادارت سے ’صحیفہ ‘ کی ادارت تک ہے۔عابد علی عابد نے 1956 میں لاہور سے پندرہ روزہ ’صادق ‘ جاری کیا۔اس کے صرف دو پرچے ہی شائع ہوسکے تھے۔اس کی ادارتی مجلس میں سید قاسم محمود بھی شریک تھے۔
’گل خنداں‘ کے نام سے ایک رسالہ مکتبہ گل خنداں نے 1948میں جاری کیا۔عابد علی عابداس کی مجلس ادارت سے 1956 میں وابستہ ہوئے اور 1959تک اس رسالہ کی ادارت کرتے رہے۔عابد سے پہلے یہ رسالہ عبدالرؤف اور امین ہاشمی کی ادارت میں نکلتا تھا۔ اس کی مجلس ادارت میں عابد کی شمولیت نے انقلاب پیدا کر دیا۔ضخامت کے اعتبار سے بہت چھوٹے رسالے کے وقیع نمبر شائع ہوئے۔انقلاب نمبر1857، ڈراما نمبر، افسانہ نمبر،فنون لطیفہ نمبر،تنقید نمبر،غزل نمبر، لاہور نمبر، لطائف وظرافت نمبرعابد علی عابد کے دور ادارت کی یادگار ہیں۔
رسائل کی ادارت کے علاوہ عابد علی عابد نے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے لیے فیچر،ناول اور ڈرامے بھی تحریر کیے، ساتھ ہی ان کی کئی نشری تقاریر کا ذکر بھی ملتا ہے۔ریڈیو اسٹیشنوں کے قیام سے ریڈیائی اور نشریاتی ادب کو بے حد فروغ حاصل ہوا۔عابد نے بھی ریڈیو کے لیے خوب لکھا۔ انھوں نے 4 ناول لکھے اور یہ چاروں ناول ریڈیو کے لیے تحریر کیے گئے تھے اور بعد میں کتابی شکل میں سامنے آئے۔ناول کے نام یہ ہیں(1)چاندنی(یہ ناول ریڈیو لاہور سے ’پھر کیا ہوا‘ کے نام سے نشر ہوتا رہا) (2) شمع (3) دکھ سکھ، اور(4) سہاگ۔ ان ناولوں میں زبان بہت صاف ستھری اور نکھری ہوئی ہے۔کہیں کوئی لفظ یا جملے کی ادائیگی ذہن پر گراں نہیں گزرتی اور سماعت میں کسی واقعہ کو سمجھنے میں کوئی جھول یا پریشانی محسوس نہیں ہوتی۔یہ ناول ریڈیو کے لیے لکھے گئے تو اس وجہ سے مصنف پر کچھ پابندیاں عائد کی گئی تھیں جن میں کرداروں کی زیادتی، مشکل پسندی، ابتذال، بے جا منظر نگاری اور طویل مکالمات پر روک ٹوک تھی۔ اگر کردار اور کچھ اپنی زبان سے کہنا بھی چاہتے تو ان پابندیوں کے سبب کہہ نہ سکے اور اسی طرح یہ کتاب سامعین کی فرمائش پر کتابی صورت میں منظر عام پر آئے۔
ڈراما نگاری میں بھی عابد علی عابد نے اپنا ایک اہم مقام حاصل کیا ہے۔انھوں نے ریڈیو کے لیے ڈرامے لکھ کر اردو ادب میں بیش بہا اضافہ کیا۔ان کے ڈراموں کے مجموعے’ شہباز خاں‘، ’یدِبیضا‘، ’روپ متی اور باز بہادر‘ (ریڈیو فیچر)ہیں۔یہ فیچر بھی لاہور ریڈیو اسٹیشن سے 1940 میں نشر ہوئے۔’شہباز خاں ‘ بالاقساط 1950 میں ریڈیو پاکستان لاہور سے نشر ہوا۔یہ ہفتہ وار ریڈیو سے نشر ہوتا رہا۔یہ جاسوسی اور اصلاحی نوعیت کا ہے اس کے علاوہ ’یدِ بیضا‘ بھی 17 ڈراموں اور فیچروں کا مجموعہ ہے،یہ بھی ریڈیو اسٹیشن لاہور اور ریڈیو پاکستان لاہور سے نشر ہوتے تھے۔ریڈیو ڈرامے میں صوتی اثرات،مکالموں اور بیان کے ذریعہ عمل کا اظہار ہوتا ہے۔مکالمے اور بیان، کردار اور واقعات کی آرائش کے لیے استعمال نہیں ہوتے۔وہ جہاں کردار کی شخصیت پر روشنی ڈالتے اور موقع و محل کو بیان کرتے ہیں وہاں ڈرامے کے عمل کو بھی تقویت دیتے ہیں۔کسی ڈرامے یا فیچر میں ایک سے زائد راوی کی بھی ضرورت ہوسکتی ہے، عابد علی عابد نے اپنے ریڈیو فیچر روپ متی اور باز بہادر میں دو راویوں کو پیش کیا ہے۔ ریڈیو کے علاوہ عابد علی عابد نے ٹی وی کے لیے بھی دو ڈرامے لکھے ’طلسمات ‘ یہ20؍اگست 1965 کو ٹی وی پر پیش کیا گیا اور دوسرا ’ زنجیر در زنجیر‘ ہے جو لاہور ٹی وی سے 15 فروری 1968 کو پیش کیا گیا۔ 
عابد علی عابد نے ریڈیو کے لیے غنائیے بھی لکھے جن میں ’منزل مراد‘،’مری نوا سے زندہ ہوئے عارف و عامی‘،’جلوس گل و سریر چمن مبارکباد‘،’رنگ حنا‘،’جاوید نامہ‘اہم ہیں۔ غنائیہ تخلیق کرنے کے لیے موسیقی اور شاعری سے تخلیقی انداز کے گہرے لگاؤ کی ضرورت ہوتی ہے اور عابد علی عابد میں یہ خوبی بدرجۂ ا تم موجود تھی اور ان کے غنائیے بھی نشریاتی ادب میں ایک تجربے سے کم نہیں۔
نشری ادب کے سلسلے میں مشکل یہ ہے کہ ایک مرتبہ نشر ہوجانے کے بعد یہ مواد ریڈیو کی فائلوں میں قید ہوجاتا ہے اور اہل نظر اگر سماعت کے بعد اس سے دوبارہ مستفید ہونا چاہیں تو یہ ان کی دسترس سے باہر ہے اور اسے ادبی حوالے کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ریڈیو پر نشر ہونے والے پروگرام کو اگر مجموعے کی شکل میں پیش کردیا جائے تو اور بات ہے لیکن ایسے مجموعے اردو میں کمیاب ہیں۔عابد علی عابد نے بہت اچھا کیا کہ اپنی حیات ہی میں اپنے ریڈیو ڈرامے اور فیچرز کو مجموعہ کی صورت میں شائع کرادیا۔لیکن ان کی نشری تقریریں اس سے محروم ہیں جن کو وہ ترتیب نہیں دے سکے اور ان کی اس نوع کی تخلیقات منظر عام پر نہیں آسکیں۔ عابد علی عابد نے ریڈیو کے لیے کئی تخلیقات پیش کیں۔
ریڈیو سے تقریروں کا ایک سلسلہ شروع ہوتا تھا جس کا عنوان تھا ’لکھنے کے ڈھنگ‘ عابد صاحب نے اس سلسلے میں ادبی رسائل میں لکھنے کے مختلف طریقہ کار بتائے ہیں جو رسائل کے مصنفین کے لیے اہم ہیں۔اسی ضمن میں ایک اقتباس ملاحظہ ہو:
’’ادبی رسائل میں لکھنے کا پہلا اور آخری گُر تویہ ہے کہ آپ لکھنا جانتے ہوں۔اگر آپ لکھنا نہیں جانتے تو لاکھ کوشش کریں،نہ لکھ سکیں گے۔آپ ضرور کہیں گے کہ اگر لکھنے کا یہی گُرہے تو پھر ہم نے تقریر کرنے والے سے سیکھا کیا۔اس کا جواب ابھی عرض کرتا ہوں۔
عرض یہ ہے کہ لکھا تبھی جاسکتا ہے کہ لکھنے والا پڑھے۔تو جو گُرمیں نے بتایا ہے اس کی غایت یہ ہے کہ نو عمر لکھنے والوں کو پڑھنے پر آمادہ کیا جائے۔ظاہر ہے کہ اگر آپ مطالعہ باقاعدہ نہیں کریں گے،گردو پیش کے حالات سے باخبر نہیں رہیں گے،دوسرے اچھے لکھنے والوں کے اسلوب تحریر پر غور نہیں کریں گے تو جو کچھ آپ لکھیں گے وہ رسالوں کو قبول نہیں ہوگا۔اگر آپ میں لکھنے کا جوہر موجود ہے تو اس کو جِلا دینے کی صورت یہ ہے کہ پڑھیے اور جہاں تک ہوسکے پڑھیے۔ تاکہ ادبی رسالے جس قسم کے مضمون کی فرمائش کریں،آپ لکھ کر ان کے حوالے کر سکیں۔‘‘
(صحیفہ،عابد علی عابد نمبر،شمارہ56،جولائی1971،ص:249)
درج بالا اقتباس عابد علی عابد نے تحریر کا نہیں بلکہ تکلم کا پیرایہ اختیار کیا ہے۔نشری تقریر میں یہ لازم ہو جاتا ہے کہ آپ سامعین کو براہ راست مخاطب کریں اور اپنا مطلب اس انداز میں بیان کریں کہ جیسے آپ سامنے والے سے محو گفتگو ہوں۔عابد اس کو بخوبی جانتے ہیں اور انھوں نے اس خصوصیت کو اپنی نشری تقاریر میں اہم مقام عطا کیا ہے۔نشری تقریر کی ایک اور خوبی سادگی وسلاست ہے جو عابد کی تقریروں میں صاف نمایاں ہے۔نشری تقریر کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ وہ معنی خیز ہو اور ایک سماں سا بندھ جائے اور سننے والا اسی فضا میں تقریر کے مطالب ذہن نشین کرتا چلا جائے۔اسی ضمن میں عابد علی عابد کی وہ تقریریں نمائندہ ہیں جو انھوں نے ’’اگر میں ہوتا!‘‘کے سلسلے میں کی تھیں۔ان کی بعض تقریریں ایسی بھی ہیں جن میں موضوع کی مناسبت سے انھیں تنقیدی مضامین کا مروجہ اسلوب بھی ریڈیو پر اختیار کرنا پڑا۔عابد علی عابد نے ریڈیو سے سیکڑوں تحریریں نشر کیں وہ تمام تقاریر ایسی ہیں کہ مواد سے استفادہ کرنے یا اسلوب کا بانکپن دیکھنے کے لیے ان کا مطالعہ ضروری ہے۔ تقریر کی طرح عابد علی عابد کے اداریوں کی تحریری خصوصیات بھی ان کو دوسرے ایڈیٹرز سے منفرد کرتی ہیں۔ان کے اداریوں میں خاص طور پر ہمیں درج ذیل خوبیاں دیکھنے کو ملتی ہیں :
1۔ زبان و بیان پر عبور : اپنا مقصد اور خیالات کے اظہار کے لیے ضروری ہے کہ اداریہ نویس یا مدیرزبان و بیان پر قدرت رکھتا ہو اور اسے ہر طرح کے اظہار بیان پر عبور حاصل ہوتا کہ وہ پوری روانی اور وضاحت سے اپنے خیالات کو سامعین تک پہنچا سکے۔لہذا عابد علی عابد کو یہ تمام چیزیں حاصل تھیں۔وہ ایک کامیاب ادیب تھے اور زبان پر انھیں ملکہ حاصل تھا۔
2۔ غورو فکر کی صلاحیت : اداریہ نویس کا فرض صرف یہ نہیں ہے کہ وہ حالات و واقعات کی توضیح کرکے قارئین کو دعوت فکر دے بلکہ کئی پہلو ایسے نمودارہوتے ہیں کہ جہاں پر مدیر کوآگے بڑھ کر رہنمائی کرنی ہوتی ہے،اس کے لیے اسے اعلی فکری صلاحیتوں کا مالک ہونا چاہیے، کھرے کھوٹے میں تمیز کر سکتا ہو،اسی صورت میں اس کے اداریوں میں جدت، ندرت،انفرادیت اور اثر آفرینی پیدا ہو سکتی ہے۔ عابد علی عابد بھی غوروفکر کی صلاحیت رکھتے تھے،ان کے اداریوں کے مطالعہ سے ان کی گہرائی و گیرائی کا پتہ چلتا ہے۔وہ قدم قدم پہ قارئین کے ساتھ ساتھ رسالوں میں لکھنے والے مصنّفین کی بھی رہنمائی کرتے تھے اور انھیں دعوت فکر دیتے تھے۔تنقید جو عابد علی عابد کا اہم وصف ہے اس سے وہ بھرپور استفادہ کرتے تھے۔
3۔ مطالعہ کی وسعت : جو مدیر اداریہ سے متعلق رسالہ کے موضوع پر گہری نظر نہیں رکھتا یا اس کے مطالعہ میں وسعت اور پختگی نہیں ہوتی تو اس کا اداریہ کبھی موثر اور دلنشین نہیں ہو سکتا۔اداریہ جس بھی موضوع پر لکھا گیا ہے اس پر مدیر کو گرفت ہونی چاہیے،تاکہ وہ اپنے خیالات کا اظہار دلائل کے ساتھ واضح کر سکے اور اس میں جاذبیت پیدا ہو۔عابد علی عابد کے اداریوں میں مطالعہ کی وسعت ہر جگہ نظر آتی ہے وہ خود ایک ہی وقت میں تمام اصناف میں طبع آزمائی کرتے رہے ہیں جس کا اندازہ ان کے اداریوں میں پیش کیے گئے دلائل سے کیا جا سکتا ہے۔
4۔ تخلیقی صلاحیت : تخلیقی صلاحیت سے عابد علی عابد نے اپنے اداریوں کو جاندار بنا دیا ۔ تخلیقی صلاحیت کے سبب ان کے اداریے موثر اور دلکش ہوتے ہیں۔مدیر میں تخلیقی صلاحیت جتنی زیادہ ہوتی ہے مدیر اپنی حسین و دلنشین تحریر کے ذریعہ اپنے مقاصد کو بخوبی انجام تک لے جا سکتا ہے۔اس کے علاوہ فنی چابکدستی، مسلسل مطالعہ اور مشق وریاضت اداریہ نویس کے لیے جو تمام چیزیں لازم ہیں وہ عابد علی عابد کے یہاں بدرجہ اتم موجود ہیں اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ ایک کامیا ب مدیر تھے اور ان کی صحافتی خدمات سے اردو ادب کو بیش قیمت اداریے، تقاریر، اورتخلیقات ہاتھ آئیں۔ 
5۔ جمع متکلم کا صیغہ:عابد علی عابد نے اپنے اداریوں میں جمع متکلم کا صیغہ استعمال کیا ہے۔وہ اپنی رائے کے ساتھ ساتھ مجلس کے منتظمین کو بھی اپنی رائے اور مشوروں میں شامل کرتے تھے لیکن اس میں بھی عابد کے مشوروں کو ہی سراہا جاتا تھا جس کی وجہ یہ تھی کہ عابد علی عابد ہر موضوع پر گہری نظر رکھتے تھے۔صحیفہ کے ہر شمارے میں انھوں نے جمع متکلم کا صیغہ استعمال کیا اور چند ہی شمارے ایسے ہیں جس میں انھوں نے واحد متکلم کا صیغہ استعمال کیا ہے۔ 
مختصر یہ کہ عابد علی عابد اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے جوہر دکھاتے رہے اسی لیے نشریاتی اور ریڈیائی ادب میں عابد کی تخلیقات ہمیشہ ممتاز اور قابل تحسین ر ہیں گی۔

Samreen
Research Scholar, Dept of Urdu
Jamia Millia Islamia
New Delhi - 110025





قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

8/11/18

نزار قبانی: جدتِ افکار اور جرأتِ اظہار کا استعارہ! مضمون نگار: نایاب حسن






نزار قبانی: جدتِ افکار اور جرأتِ اظہار کا استعارہ
نایاب حسن

معروف عربی شاعر نزارقبانی کا عملی دورانیہ بیسویں صدی کے نصفِ ثانی کو محیط ہے،ان کے اشعار،نقوشِ فکر اور ان کے رنگارنگ تخیلات مسلسل ایک نسل سے دوسری نسل کی طرف منتقل ہورہے ہیں، نزارقبانی 30؍ اپریل 1998 کو وفات پاگئے، مگر ان کا ادبی، شعری و تخلیقی کارنامہ اپنی قوت وانفرادیت کی بہ دولت ہنوزتازہ و شاداب ہے۔ نزارقبانی نے اپنے باہم متناقض افکار وشعریات کے ذریعے پوری زندگی ادبی و فکری سطح پر ایک قسم کا ہیجان برپا کیے رکھا، وہ بیسویں صدی کے نصفِ آخر کے عربی معاشرے کے تضادات کوان کی حقیقی شکل وصورت میں بیان کرتے تھے،وہ واحد ایسے عربی شاعر تھے،جس نے ایک طویل زمانے سے قائم معاشرتی رسم و رواج کے خلاف پوری جرأت و ہمت سے ہلہ بولا،اس نے بھرپور آزادی اور باغیانہ تیور کے ساتھ جہاں ایک طرف فکری، عملی اور شعوری سطح پر اس وقت کے عالمِ عرب کو درپیش مسائل پر اظہارِ خیال کیا، وہیں معاشرتی منکرات اور حرام و حلال جیسے نازک موضوعات بھی اس کی ناوک افگنی سے محفوظ نہ رہے۔قبانی نے’ صنفِ لطیف‘ کو نہ صرف اپنی شاعری کامستقل موضوع بنایا؛بلکہ اسے انسانوں کی دیگر اصناف کی بجاے کسی خوب صورت نمائشی چیز کے طور پر پیش کیا، اسے اپنے تخیلات کے پاؤڈرکریم اور رنگوں سے آراستہ کیا اور نہایت بے باکانہ انداز اور واضح اسلوب میں اس کے جسم کے نشیب و فراز، جمالیاتی اوصاف و خصوصیات کو بیان کرکے لوگوں کو اس کی طرف متوجہ کرتارہا۔ اس کی شاعرانہ مہارت اور فضل و کمال میں کسی کواختلاف نہیں ہوسکتا،جب لوگ اس کی شاعری سنتے ہیں، توان کی سماعتیں جھومنے لگتیں اور دل مچلنے لگتے ہیں، اس کا شعری اسلوب ایسا ہے کہ قلب ووجدان پر چھا جاتا ہے۔ نزار کو جب لوگ ’شاعر المرأۃ‘ (شاعرِ نسواں) کہتے تھے،تو وہ مست ہوجاتے تھے اور اب بھی عام طورپر جب لوگوں کی زبان پر نزار کانام آتاہے یا کوئی ان کی شاعری پڑھتا یا سنتا ہے، تو بے ساختہ اس کا ذہن ان کے اس لقب کی طرف چلاجاتا ہے،مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نزار اپنی قومی نظموں،ملی ترانوں، واضح تنقیدی تصورات اور اپنے مختلف مقالات میں ایک ایسے دانشور نظر آتے ہیں،جو نہ صرف عورتوں سے محبت کرتا ہے؛بلکہ وہ اپنے وطن کی مٹی اور اس کی آب و ہوا سے بھی قلبی انس رکھتا ہے۔
نزاربن توفیق قبانی آقبیق کی پیدائش 21؍ مارچ 1923 کو ایک مڈل کلاس شامی فیملی میں ہوئی،ان کے گھروالے دمشق کے ’مئذنۃ الشحم‘ نامی محلے میں رہتے تھے، وہیں ان کی ابتدائی پرورش ہوئی،ان کے والد حلوائی تھے اور اسی سے پورے گھر کا خرچہ چلتا تھا، مشہور ہے کہ جدید شامی ڈرامے کے سرخیلوں میں سے ایک ابوخلیل قبانی ان کے چچا تھے؛ لیکن نزار نے اپنے ایک دوست کے دریافت کرنے پر بتایاتھاکہ ابوخلیل قبانی ان کی والدہ کے چچا تھے۔ نزار نے یونیورسٹی آف سیریا سے 1944ء میں لاکی ڈگری حاصل کی، مگر انھوں نے تازندگی کبھی قانون،وکالت یا ججی کو اپنا پیشہ نہیں بنایا؛ بلکہ 1945 سے لے کر1966 تک سیرین ڈپلومیسی سے وابستہ رہے اور اس دوران مصر،ترکی،لندن،سپین اور چین وغیرہ میں شام کی سفارت کی۔انھوں نے عنفوانِ شباب میں ہی شاعری شروع کردی تھی اور جب وہ طالب علم تھے،تبھی ان کا اپنے ایک استاذ خلیل مردم بک سے تعلق قائم ہوا، انھوں نے نزار کی بے پناہ حوصلہ افزائی کی،حتی کہ ان کا پہلا دیوان ’قالت لي السمراء‘اپنے ذاتی صرفے سے شائع کروایا، ان کی شاعری ابتداہی سے عام عربی شاعری کے مزاج و منہاج سے الگ تھی؛چنانچہ بہت جلد روایات سے انحراف اوران کا باغیانہ تیور ادبی دنیا کے سامنے نمایاں ہوگیا، حتی کہ جب 1945 میں ان کا قصیدہ ’خبز و حشیش و قمر‘ (روٹی، حشیش اور چاند) منظرِ عام پر آیا، جس میں انھوں نے شامی معاشرے کے توہمات پر مبنی مذہبی رسوم، عوام کی کاہلی وکسل مندی اوربزرگوں کی قبروں، مزاروں سے استعانت کے رواج پرجم کرتنقیدکی تھی، تو علماکی ایک جماعت کی طرف سے نزارکو شدید احتجاج کا سامنا کرنا پڑا، اس احتجاج کی گونج شامی پارلیمنٹ تک پہنچی اور اس قصیدے کی اشاعت پر پابندی لگادی گئی، حتی کہ ان کے قتل کا مطالبہ کیا گیا،اس طرح ان کی شاعری اور معاشرے سے ان کی بغاوت دونوں ساتھ ساتھ سفر کرتی رہیں۔ملازمت سے سبک دوشی کے بعد نزار نے بیروت(لبنان)میں رہائش اختیارکرلی،اس دوران باقاعدگی سے شاعری کرتے رہے،ایک اشاعتی ادارہ قائم کیا،جس کے تحت اپنے 35دیوان شائع کیے،یہ ان کا پچاس سالہ تخلیقی سرمایہ تھا،مضامین و مقالات کے بھی کئی مجموعے شائع کیے،ان کی بہت سی غزلوں،نظموں اورقصیدوں کو عالمِ عرب کے معروف گلوکاروں نے گایا، جن میں ام کلثوم، نجاۃالصغیرہ، عبدالحلیم حافظ، فائزہ احمد، فیروز، کاظم الساحر، ماجدہ الرومی اور اصالہ نصری وغیرہ قابلِ ذکر ہیں، نزار اکثر و بیشتر عراق کا سفر کرتے اور وہاں مشاعروں میں شرکت کے علاوہ ادبا و دانشوران سے ان کی ملاقاتیں رہتی تھیں،ایک سفر کے دوران ان کی ملاقات بلقیس الراوی سے ہوئی، پھر دونوں کی ایک دوسرے سے شناسائی ہوئی،جو عشق میں بدل گئی،دونوں شادی کرنا چاہتے تھے، مگر بلقیس کے اہل خانہ اس کے لیے تیار نہ ہوئے اور بالآخر دونوں جدا ہوگئے، نزارکی پہلی شادی چچازاد بہن زہراعقبیق سے ہوئی،جس سے ایک لڑکا اور ایک لڑکی ہوئے،پھر ان کی اہلیہ ایک مہلک مرض میں مبتلاہوکر وفات پاگئی، بیٹاجو قاہرہ میں طب کی تعلیم حاصل کررہاتھا،عین نوجوانی میں وفات پاگیا،اس سے نزارکے ذہن و دماغ پر خاصا اثر پڑا اور انھوں نے اپنے بیٹے کا ایک دردناک مرثیہ کہا۔ ایک عرصے کے بعد نزارکی ملاقات پھر بلقیس سے ہوئی، دونوں نے1969میں شادی بھی کی، اس بیوی سے بھی دوبچے ہوئے،مگر 1981 میں بیروت کے عراقی سفارت خانے پر ہونے والی بمباری میں بلقیس بھی ماری گئی،وہ اس سفارت خانے میں ملازمہ تھی،اس حادثے نے نزارکو نفسیاتی و ذہنی طورپر توڑ کر رکھ دیا،بلقیس کی وفات پر انھوں نے جو مرثیہ کہاہے ،وہ بھی نہایت دردانگیز اور متاثرکن ہے، لفظ لفظ میں کرب وحزن کی کائنات سمودی ہے۔اس کے بعدوہ اطمینان و سکون کی تلاش اور دنیا کے ہنگاموں سے دور رہنے کی کوشش میں پیرس و جینواکے چکر کاٹتے رہے، بالآخر لندن میں اقامت گزیں ہوئے اور زندگی کے آخری پندرہ سال وہیں گزارے۔
نزار کی زندگی کا مطالعہ کریں،تو پتا چلتا ہے کہ انھیں ذاتی زندگی میں یکے بعد دیگرے کئی غیر معمولی حادثات سے دوچار ہونا پڑا، نو عمری میں ہی والدہ کی وفات ہوگئی، ایک بہن دل کی بیماری کا شکار ہوکر جاں ہار ہوگئی،دوسری بہن کی شادی اس کی مرضی کے خلاف کردی گئی،جس کی وجہ سے اس نے خود کشی کرلی، نوجوان بیٹا مرگیا،پہلی بیوی رحلت کر گئی، دوسری بیوی ایک سانحے میں جاں بحق ہوگئی، یہ سب حادثے متعددزمانی مرحلوں میں رونماہوئے، جن کی وجہ سے وہ تاعمرذہنی آسودگی سے تقریبامحروم رہے، شایداسی وجہ سے انھوں نے رومانوی شاعری کے ذریعے وقتی اورغیرحقیقی طورپرہی سہی، اپنی نفسیاتی وذہنی آسودگی تلاش کرنے کی کوشش کی ، دوسری طرف بیسویں صدی کے نصفِ آخر میں عالمِ عرب کے تیزی سے بدلتے ہوئے حالات نے بھی ان کے فکر و تخلیق پر خاصا اثر ڈالا؛ چنانچہ خاص طورپر نوے کی دہائی میں انھوں نے معاصر عربی سیاست کے خلاف لگاتار کئی گرماگرم نظمیں لکھیں، جنھوں نے ایک بڑے عربی سیاسی حلقے کوچکراکررکھ دیا، نزارقبانی کا فکری و شعوری پس منظر اپنے وطن اور مٹی سے جڑا ہوا تھا اور وہ دنیا میں جہاں کہیں بھی رہے، اپنے وطن کی محبت کے اسیر رہے،یہی وجہ تھی کہ67ء کی عرب۔ اسرائیل جنگ میں عربوں کی شرمناک شکست نے انھیں جھنجھوڑ کررکھ دیا،پھر بعد میں بعض حکمرانوں کا اعلانیہ اسرائیل کے سامنے گھٹنے ٹیک دینا اور اس ناجائز حکومت سے پینگیں بڑھانا نزارکے دل میں چھید کرگیا؛چنانچہ انھوں نے جہاں اسرائیل کوللکارتے ہوئے ’منشورات فدائیۃ علی جدران إسرائیل‘‘ جیسی ولولہ انگیز نظم لکھی، وہیں ’’المہرولون، المتنبي، العشق والبترول، متی یعلنون وفاۃ العرب؟‘‘ جیسی نظموں میں عربوں کے سیاسی افلاس اور قومی بے غیرتی پرتازیانے برساتے رہے۔
بے شبہ نزاراپنے شاعرانہ فضل و کمال اور تعبیرات کی جدت و انفرادیت کی وجہ سے ایک ممتازشاعر ہیں،مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ انھوں نے تاعمر محض شعری و ادبی تحرک پر زور دیا،بعض ایسے الفاظ و تعبیرات کو گنگناتے رہے،جو انسانی احساسات کو برانگیخت کرتے اورنفسانی جذبات میں ہیجان برپاکرتے تھے، ایک ایسے عربی معاشرے میں،جو بے شعوری و فکری محدودیت کی انتہا پر تھا،انھیں لوگوں کے جذبات سے کھل کرکھیلنے کا موقع ملا، اُس وقت عالمِ عرب کے حالات ایسے دریدہ تھے کہ جنس و جسم و شہوات،حتی کہ نسوانی پیکر کے مختلف اعضا کی اعلانیہ تصویر کشی میں نزارکومددملی اور نزارنے پوری عربی شاعری میں ایک ایسا انقلاب برپاکیا،جس سے ایک طرف بے شمار لوگوں کو جذباتی آسودگی حاصل ہوئی اور نوجوان نسل نے ان کے اشعار کو آویزۂ گوش بنالیا،تو دوسری طرف اس انقلاب کی آنچ بسااوقات خود شاعر کے دامنِ حیات تک جا پہنچی،البتہ ان کی زندگی کے اخیر کے بیس سالوں میں چوں کہ عرب دنیا کے حالات یکسر بدل چکے تھے،پھراُسی دوران ان کی دوسری بیوی کی رحلت کاسانحہ بھی پیش آگیا، جس کی وجہ سے ان کے شعری موضوعات،حتی کہ الفاظ و تعبیرات میں بھی نمایاں تبدیلی آگئی تھی اور مجموعی طور پر اخیر عمر میں انھوں نے جو اشعار کہے،جو قصائد لکھے، ان کا موضوعی ارتکاز زیادہ ترعالمِ عرب کے سیاسی نشیب و فراز،مسئلۂ فلسطین اور عرب قومیت کے تحفظ وغیرہ پر رہا۔
بہر کیف عربی ادب و شعرکا ذوق رکھنے والوں کے لیے نزارقبانی کی شاعری کو پڑھنااور سنناایک دلچسپ تجربہ ہے، ان کے دورِ اول کی شاعری میں جہاں رومان انگیز و سروربخش خیالات کی فراوانی ہے،وہیں دورِ آخر کی شاعری میں عالمِ عرب کی سیاست پربے باکانہ تبصرہ، آزادیِ فلسطین کی تڑپ اور قومی وملی معاملات میں عربوں کو متحدہونے کی بے مثال دعوت ہے،اس کے علاوہ لفظوں کی کہکشاں اور تعبیرات کا جہان اتنا دل فریب ہے کہ دل دماغ ان کے سحر میں کھوجاتے ہیں۔
نزارقبانی کے شاعرانہ امتیازاورتخلیقی تفوق کواہلِ ادب ونقد نے جی کھول کے سراہاہے اور ان کی بعض فکری لغزشوں کی نشان دہی کے باوجود ان کی مرتبہ شناسی میں کسی بخل سے کام نہیں لیاہے، عام طورپرقبانی کوعربی شاعری کا ’دبستان‘کہاجاتاہے، حسین بن حمزہ نے انھیں ’ریاستِ شعروادب کا صدر نشیں‘ قرار دیا ہے، مصری ادیب احمد عبدالمعطی حجازی نے انھیں ’’ایک ایساحقیقی شاعر قرار دیا، جس کی اپنی خاص زبان ہے اور جو اپنے شعری موضوع کے انتخاب میں بے باک وجری ہے‘‘ البتہ انھوں نے بعض دفعہ ان کی ’جرأتِ بے جا‘ پر تنقید بھی کی ہے، معروف عربی شاعرعلی منصورنے کہا کہ ’’نزارعربی ادب کے اجتماعی حافظے کاحصہ بن چکے ہیں اور انھیں لوگوں میں ایساخاص مقام ومرتبہ حاصل ہوگیا ہے کہ ان کودورِ جدیدکاعمربن ربیعہ قراردیاجاسکتاہے‘‘ فلسطینی شاعر عزالدین المناصرہ نے کہاکہ ’’ان کاسب سے بڑاکارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے عشق کے موضوع کوخارجی وصف نگاری سے نکال کر جدیدعربی شاعری کاایک مخصوص موضوع بنادیا‘‘۔
نزارقبانی کی وفات کے بعد ان کی شخصیت اورادبی وشعری خدمات پر متعدد تحقیقی مقالات اورکتابیں لکھی گئی ہیں، جن میں احمد الخوص اورہناء برہان کی تالیف ’عروبۃ نزارقباني‘ قابل ذکرہے،اس کتاب میں انھوں نے نزارقبانی کی شاعری میں وطن دوستی اورعالمِ عرب سے ان کی قلبی محبت کے عناصرکی نشان دہی کی ہے،اس کے علاوہ عبداللہ الجعفری کی ’نزارقباني: آخرسیوف الأمویین‘‘ جس میں ان کی شخصیت، حیات اورشعری امتیازات پرروشنی ڈالی گئی ہے، ڈاکٹرخالدحسین کی کتاب ’نزار قباني: قندیل أخضرعلی باب دمشق‘ جس میں شاعرکی شخصیت کے علاوہ ان کے دواہم شعری موضوع ’دمشق ‘اور’عورت‘ پرگفتگو کی گئی ہے، اسی طرح جامعہ طہران کی ایک طالبہ آزادہ کریوانی کا ’الوطنیۃ والشعر السیاسي لدی نزارقبان‘ کے عنوان سے لکھاگیا قیمتی تحقیقی مقالہ قابلِ ذکرہیں، نزارقبانی کی شخصیت وشاعری کے مختلف پہلووں پران کے علاوہ بھی متعدد کتابیں ،تحقیقی و تنقیدی مقالات لکھے گئے ہیں ،ان کی شاعری کا ایک بڑا حصہ انگریزی ودیگر زبانوں میں بھی منتقل ہوچکاہے۔اس کے ساتھ ساتھ موجودہ ڈیجیٹل علمی و ادبی دور سے’ نزاریات‘ کو ہم آہنگ کرنے کے لیے ان کے بیشتر شعری و نثری ذخائر اور ان کی حیات و سانحات اور خدمات پر لکھی گئی منتخب تحریروں کو انٹرنیٹ کی مختلف ویب سائٹس (مثلاً:www.adab.com www. nizariat. com, nizarq.com,) پر اپلوڈ کردیاگیا ہے؛ تاکہ عربی ادب و شعر سے دلچسپی رکھنے والے دنیابھر کے لوگ براہِ راست نزارقبانی کے نتائجِ فکر سے استفادہ کرسکیں،ساتھ ہی یوٹیوب وغیرہ پرویڈیو، آڈیوکی شکل میں خود نزارقبانی اور دیگر گلوکاروں کی آواز میں بھی ان کاکلام سناجاسکتاہے۔
n
Nayab Hasan
A/22, Seema Apartment
Street No.: 7, Batla House
New Delhi - 110025




قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

1/11/18

ادب اطفال کے درسی مسائل۔ مضمون نگار:۔ ریاض احمد





ادب اطفال کے درسی مسائل
ریاض احمد
جس طرح بچوں کے ادب کی تخلیق و تصنیف بہت مشکل کام ہے اسی طرح بچوں کے ادب کی تدریس کا جائزہ لینا اور ان کی افادیت و مسائل 
بیان کرنا بھی۔ بات کہاں سے شروع کی جائے سمجھ میں نہیں آتا۔ مسائل بہت ہیں اور ان کے حل کے امکانات سے مایوسی بھی نہیں۔ابتدائی سوالات جو ہر مدرس، معلم، ماں باپ، سرپرست اور ماہر تعلیم وتعلم کے ذہن میں ابھر کر سامنے آتے ہیں وہ یہ ہیں کہ آخر ہم کس طرح کے ادب کو بچوں کا ادب یا ادب اطفال کہیں گے؟ ادب اطفال کی تدریس کس طرح کی جانی چاہیے ؟ کس عمر کے بچوں کے لیے کون سے تدریسی طریقے اپنائے جائیں؟ ادب اطفال سے ان کی زندگی میں کیا کیا فائدے ہیں؟ کیا یہ ادب پارے ان کی پوری زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔ بچوں کے ادب کی تخلیق کرتے وقت کن نفسیاتی، معاشرتی اور فلسفیانہ اصولوں اور پس منظر کو سامنے رکھنا بہتر ہوگا ؟ کیا ہمارے ملک اور دنیا کے دوسرے ممالک نے اس کے لیے ضابطے اور قوانین مرتب کیے ہیں۔ کیا قومی اور بین الاقوامی سطح پر ان کی ترقی اور معیارو جانچ کے لیے ادارے بنائے گئے ہیں۔ ہمارے ملک میں مرکزی سطح اور ریاستی سطح کے تعلیمی، تحقیقی اور اشاعتی اداروں نے بچوں کے ادب کی ترویج و ترقی کے کون سے اقدامات کیے ہیں؟ اگر ہاں تو کس حد تک اور ان کا معیار کیا ہے؟قانونی اعتبار سے بچے کے عمر کی حد کیا ہے۔ اگر بچوں سے ان کے ادب کے ذریعے مثبت اقدار اور انسانی حقوق و بھلائی کا کام نہ لیا گیا تو آنے والی نسلوں کو کون سے نقصانات سے دوچار ہونا پڑے گا ؟ان ہی چند اہم سوالات کا تجزیہ اس مختصر سے مقالے میں پیش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
مشترکہ ہندوستان میں بچوں کے ادب کی ترویج میں سرزمین پنجاب کا بہت اہم رول رہا ہے اس لیے گفتگو یہیں سے شروع کرنا بہتر ہے۔ جدید ہندوستان کی تعلیمی تاریخ میں اسی پنجاب کی دھرتی پر کرنل ہالرائڈ کی رہنمائی میں علمی و ادبی کتابوں کی اشاعت کا سلسلہ شروع ہوا تھا، یہیں سررشتہ تعلیم میں ملازمت کرتے ہوئے مولانا محمد حسین آزاد اور مولانا الطاف حسین حالی کو یہ خیال آیا کہ انگریز ی اور دوسری ترقی یافتہ زبانوں کی طرح اردو میں بھی موضوعی نظمیں لکھی جانی چاہئیں اورپھر ان دونوں بزرگوں نے انگریزی کی کامیاب تمثیلی نظموں اور بچوں کو اپیل کرنے والی نظموں کو اردو کے قالب میں ڈھالنے کی کامیاب کوشش کی۔ حالانکہ مولانا حالی اور محمد حسین آزاد سے قبل بھی بچوں کے لیے مفید نظمیں، حکایات، کہانیاں اور مضامین کئی شعرا اور ادبا نے لکھی مگر دانستہ طور پر یہ ادب پارے اس لیے تخلیق نہیں کیے گئے تھے کہ یہ بچوں کے ادب کے لیے سنگ میل ثابت ہوں۔ انگریزی دورحکومت میں درسی کتابوں کے شعبہ سے ادب اطفال کی طرف شعوری طور پر توجہ مبذول کی گئی اور بچوں کے ذوق کی نظم و نثر لکھی جانے لگی۔
اردو زبان کے ارتقائی دور میں ہی بچوں کے لیے کچھ ایسی نظمیں، پہیلیاں اور کہہ مکرنیاں لکھی گئیں جن کو بلاشبہ بچوں کے ادب کی ابتداء کہہ سکتے ہیں اس ضمن میں امیر خسرو کی خالق باری کو سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے گویا اردو میں بچوں کے ادب کی روایت تقریباً سات سو سال پرانی ہے۔ امیر خسرو کے بعد دکن میں قلی قطب شاہ نے بھی موضوعی نظمیں لکھ کر بچوں کے ادب میں اضافہ کیا۔ اس کے علاوہ عبد الغفور شہباز نے بھی اس ضمن میں کارنامے انجام دیے ہیں۔ بعد کے بہت سے چھوٹے بڑے ادبا و شعرا کی ایک لمبی فہرست ہے جو حال تک پہنچتی ہے۔ نظیر اکبر آبادی ان شعراء میں سر فہرست ہیں۔ نظیر اکبر آبادی کے علاوہ میر تقی میر، انشاء اللّٰد انشا، میر امن دہلوی، محمد حسین آزاد، مولانا الطاف حسین حالی، ڈپٹی نذیر احمد، سرسید احمد خاں اور مرزا غالب نے بالترتیب برسات کی بہاریں، آدمی نامہ، روٹی نامہ، موہنی بلی، رانی کیتکی، باغ و بہار، طالب علم، مٹی کا دیا، منتخب الحکایات، امید کی خوشی اور قادرنامہ لکھ کر بچوں کے ادب کی مضبوط بنیاد ڈالی۔ ان بزرگوں کے بعد کے لکھنے والوں کی ایک طویل فہرست ہے جن میں نثر نگاروں میں حسن نظامی (شہزادی کی بپتا،مچھر) پریم چند (پنچایت، عیدگاہ) سید سلیمان ندوی (تعلیم کی اہمیت) ڈاکٹرذاکر حسین (ابوخاں کی بکری،آخری قدم) امتیاز علی تاج (بچوں کی بہادری) کنہیا لال کپور (کتّے ) عصمت چغتائی (سفید جھوٹ) سہیل عظیم آبادی(عقلمند عورت) کرشن چندر(گدھے کی سرگزشت، الٹا درخت) احمد ندیم قاسمی (چوہوں کی بارات)وغیرہ کے نام بطور خاص لیے جا سکتے ہیں۔
شعرا میں علامہ اقبال ( ایک پہاڑ اور گلہری، جگنو، ایک آرزو، بچے کی دعا، ہندوستانی بچوں کا قومی گیت، نیا شوالہ اور ہمالہ) چکبست (خاک وطن) اکبر الٰہ آبادی (دلی دربار، ہونہار بیٹا) وحید الدین سلیم ( سیکھو)حفیظ جالندھری (ننھے منھے بچے) تلوک چند محروم (اچھا آدمی) عادل رشید( منظوم کہانی) جمیل مظہری (اے مادر وطن ہندوستان ) جانثار اختر (ہم ایک ہیں) ندافاضلی (نغمہ گر چلے گئے )ساغر نظامی ( بڑھے چلو) شبنم کمالی (آؤگیت گائیں) ظفر کمالی (یتیم لڑکا، کتابیں)کے نام بطور خاص لیے جا سکتے ہیں۔ ان کے علاوہ بھی ایسے شعرا کی ایک طویل فہرست ہے جنھوں نے بچوں کے لیے بہترین نظمیں تخلیق کی ہیں۔
بعض نقادوں کا خیال ہے کہ بڑے قلم کاروں نے بچوں کے ادب پر توجہ نہیں دی لیکن یہ بات صد فیصد درست نہیں۔ مذکورہ شعراو ادبا میں بڑے قلم کاروں کے نام زیادہ ہیں اس کے علاوہ کئی ایسے شاعرو ادیب ہیں جنہوں نے بچوں کے ادب اور ان کی درسی کتابوں کی طرف بطور خاص توجہ دی۔ اس ضمن میں حامد اللہ افسر میرٹھی، گوپی چند نارنگ، مظہر امام، شکیل الرحمن، علقمہ شبلی، کنہیالال کپور، طلحہ رضوی برق، علیم اللّٰد حالی، عبد الصمد، عبد اللّدولی بخش قادری، رئیس صدیقی، کوثر مظہری، شان بھارتی اور اظہار اثر کے نام خاص طور سے لیے جاسکتے ہیں۔ اہل قلم حضرات کا خاطر خواہ رجحان بچوں کے ادب کی طرف تو رہا ہی ہے، خواتین، جو بچوں سے زیادہ قریب اور ان کی نفسیات کو بہتر طریقے سے سمجھنے والی ہوتی ہیں، نے بھی بچوں کے ادب میں بے بہا اضافہ کیا ہے۔ جن خواتین اہل قلم کا نام اس زمرے میں لیا جا سکتا ہے ان میں خواجہ حسن نظامی کی اہلیہ لیلہ خواجہ بانو، امتیاز علی تاج کی اہلیہ حجاب امتیاز علی، قرۃ العین حیدر، عصمت چغتائی، صالحہ عابد حسین، جیلانی بانو، خدیجہ مستور، رفیعہ منظور الامین، الطاف فاطمہ اور قدسیہ زیدی وغیرہ کے نام سر فہرست ہیں۔
اردو میں بچوں کے ادب کا جائزہ لیتے وقت بہت سے ادبا و شعرا کا ذکر ضروری سمجھا جاتا ہے جنھوں نے تھوڑا بہت بھی ان کے لیے ادب کی تخلیق کی۔مذکورہ بالا سطور میں ان میں سے کچھ کا ذکر بھی ہوا لیکن دو ایسے حضرات ہیں جنھوں نے اپنی پوری زندگی بچوں کو پڑھانے، ان کے لیے درسی کتابیں تیار کرنے اور ان کے لیے ادب کی تخلیق کرنے میں صرف کر دی، جب تک ان دونوں حضرات کا تذکرہ نہ کیا جائے، اردو میں بچوں کے ادب کا تصور ادھورا ہے۔میری مراد مولوی اسماعیل میرٹھی اور شفیع الدین نیّر سے ہے۔
مولوی اسماعیل میرٹھی کی پیدائش 1844 میں ہوئی صرف سولہ سال کی عمر میں سررشتہ تعلیم میں ملازم ہو گئے بعد میں ترقی کرکے سہارن پور میں بطور فارسی کے ہیڈ مولوی اور سنٹرل نارمل اسکول آگرہ میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ 1899 میں سبکدوش ہوئے 1917 میں اس دارفانی سے کوچ کیا۔ مولوی اسماعیل کا سب سے بڑا کارنامہ ان کی اردو ریڈرس ہیں یہ کتابیں بچوں کی نفسیات اور ذہنی نشوونما کو سامنے رکھ کر لکھی گئی ہیں۔ اگر کوئی بچہ ان پانچوں ریڈرس کو اچھی طرح پڑھ لے تو یقینی طور پر اس کی اردو دانی اچھی ہوجائے گی۔اردو ریڈرس کے علاوہ انھوں نے بچوں کے لیے ان کی دلچسپی اور معلومات دونوں کو پیش نظر رکھ کر بہت سی نظمیں لکھیں۔ اس سے قبل اردو میں باضابطہ نصابی کتابیں تیار کرنے کا خیال کسی کو نہیں آیا تھا۔ ان کی نظمیں اتنی دلچسپ ہیں کہ بڑے بھی چٹخارے لے کر پڑھتے ہیں۔ یہ نظمیں پڑھنے اور پڑھانے والے دونوں کو یکساں متاثر کرتی ہیں۔ مولوی اسماعیل کا خاص کمال انگریزی کی اچھی نظموں کو اردو کے قالب میں ڈھالنا ہے انھوں نے کئی انگریزی نظموں کامنظوم ترجمہ کیا۔ ان کی سیدھی سادی زبان میں دل کو چھولینے والی باتیں بچوں کو بہت بھاتی ہیں۔
شفیع الدین نیر کی پیدائش ضلع علی گڑھ میں 3نومبر 1903میں ہوئی بچپن میں کافی مشکلیں اٹھاکر دہلی کے اینگلو عربک اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ انھوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں 1945 سے 1969 تک مدرسی کی اس سے قبل دہلی کے موڈرن اسکول میں تقریباً 20سال تک استاد رہے۔ نیر صاحب نے تقریباً پچاس برسوں تک مسلسل بچوں کے لیے لکھا۔ ہندوپاک میں ایک بہت بڑے طبقہ کوان کا شاگرد ہونے پر فخر ہے ان میں قدآور صحافی خوشونت سنگھ اور کلدیپ نیر بھی شامل ہیں۔ ان کی پہلی نظم ’صبح‘ 1926میں رسالہ ہونہار میں شائع ہوئی اور پہلی کہانی میاں مٹھو 1939میں چھپی۔ نیر صاحب بیک وقت بچوں کے ادب کے شاعر اور نثر نگار دونوں تھے۔ کم وبیش انھوں نے بچوں کے لیے پچاس کتابیں لکھیں۔ بچوں کی دلچسپی اور نفسیات کے لحاظ سے انھوں نے اپنی نگارشات کو چار سال سے چودہ سال تک کے بچوں کے لیے تین زمروں میں تقسیم کر دیا تھا۔ ان کی آخری نظموں میں ’پکا ارادہ‘ ہے جو 1977 میں کھلونا میں شائع ہوئی۔ نیر صاحب ایک عملی انسان ہونے کے ساتھ ساتھ باعمل استاد بھی تھے۔بقول ذاکر صاحب وہ ’پیدائشی معلم‘ تھے۔ بچوں کے ادب کو مالامال کر نے والا استاد 30جنوری 1978 کو اس جہان فانی سے کوچ کر گیا۔
شروع سے ہی بچوں کے ادب کا فروغ ایک اہم مسئلہ رہا ہے تاہم ملک گیر سطح پر شائع ہونے والے بچوں کے رسالوں نے اس مسئلہ کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کی۔ ہمارے ملک کے مختلف شہروں سے بچوں کے معیاری رسائل شائع ہوئے مثلاً نونہال اور پھول لاہور سے، پیام تعلیم، کھلونا، امنگ، نرالی دنیا، پھلواری اور ہونہار دہلی سے، رام پور اور لکھنؤ سے نور، کلیاں اور ٹافی، غنچہ بجنور سے اور مسرت پٹنہ سے۔ ان رسالوں میں مسرت، کھلونا، پھلواری اور امنگ و پیام تعلیم کی گراں قدر خدمات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان (NCPUL) نے بچوں کی دنیا شروع کرکے اس راہ کی دشواریوں کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ فی الحال بچو ں کی دنیا، پیام تعلیم اور امنگ جیسے رسالے بچوں کے ادبی تقاضے کو پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بچوں کے ادب کے ضمن میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان (NCPUL) اور نیشنل بک ٹرسٹ نے بہت سی چھوٹی بڑی کتابیں اور رسالے شائع کرکے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔
عام طور سے ادب اطفال کی کتابیں بچوں کے نصاب میں الگ سے شامل نہیں ہو ا کرتیں بلکہ ان کی درسیات میں بچوں کی نفسیات، سماجی اہمیت، اقداراورفہم وفراست کے مطابق تاریخی، ثقافتی اور تہذیبی شعور، مختلف علوم و فنون اور ایجادات، نامور شخصیات و مذہبی پیشوا، علم حیوانات و نباتات اور جغرافیائی خطوں اور ان خطوں میں پائے جانے والے لوگوں کے رہن سہن، حیوانات و عجائبات اور مختلف سیاحوں کے حالات اور سفر نامے اس طرح ترتیب دیے جاتے ہیں کہ بچو ں کے ذہن پر ان کا مثبت اثر ہو۔ درسی نصاب میں وہی نظمیں اور نثر، مضمون، کہانیاں وغیرہ شامل کی جاتی ہیں جن کا براہ راست تعلق معلومات، تہذیب و ثقافت اور تاریخی حقائق و معلومات سے ہوتا ہے۔بچوں کی درسیات میں مذکورہ علوم و عنوانات کی ترتیب نامعلوم سے معلوم کی جانب،کم معلومات سے زیادہ معلومات کی طرف، آسان سے مشکل کی طرف اور جز سے کل کی طرف ہونا چاہیے۔ عام طور سے دیکھا یہ جاتا ہے کہ بچوں کی درسی کتابیں جن میں نثرو نظم کے ذریعے ادب اطفال کو شامل کیا جاتا ہے بہتر ترتیب کی کمی پائی جاتی ہے۔ 
ہمارے ملک کی مختلف ریاستوں میں بچوں کی درسیات کی تیاری و اشاعت مختلف ریاستی تعلیمی بورڈ و اشاعتی اداروں کے ذمے ہے کچھ ریاستوں میں تو مذکورہ باتوں کا خیال رکھا جاتا ہے بلکہ چند ریاستیں ایسی ہیں جنہیں بچوں کی درسیات کی تیاری میں مہارت حاصل ہے مثلاً کیرالا اور مہاراشٹر، لیکن ایسی ریاستوں کی تعداد بہت کم ہے۔ 2005 میں اسکولی درسیات کو بہتر رہنمائی فراہم کرنے کے لیے اور مستقبل میں خاطر خواہ علمی و تعلیمی ترقی کے لیے قومی درسیات کا خاکہ۔ 2005تیار کیا گیا اس کے رہنما اصول کے تحت بچوں کی درسیات میں سماجی بیداری، ماحولیاتی توازن، دائمی ترقی، اچھے اقدار سے متعلق قصہ کہانیاں، واقعات وحکایات، جنگلوں کی کٹائی اور قدرتی توازن کے بگڑنے سے ہونے والے مضر اثرات، مختلف قوموں اور نسلوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور جنگ کے مضر اثرات مثلاً کیمیائی ہتھیاروں کے اثرات، بے روزگاری، مہاجرین کے مسائل، بچہ مزدوری وغیرہ موضوعات کو درسی کتابوں میں بالواسطہ یا بلاواسطہ شامل کرنے کی صلاح دی گئی ہے تاکہ ان سماجی مسائل سے طلبا آشنا ہو سکیں او رمستقبل میں بہتر شہری بننے کی کوشش کرسکیں۔اس ضمن میں چند ریاستی اشاعتی اداروں اور مرکزی سطح پرقومی کونسل برائے تعلیمی تحقیق (NCERT) نے ان رہنما اصولوں کی کچھ حد تک پابندی کی ہے تاہم ابھی بہت کچھ کیا جانا باقی ہے۔
بچوں کے ادب کے ہندوستانی تناظر میں ان نکات کا خیال رکھنا ضروری ہے جن سے ہندوستانی تاریخ و ثقافت، جدوجہد آزادی کی تاریخ، ہندوستانی آئین کے اساسی پہلو اور دستوری ذمے داریاں، ہماری قومی شناخت میں معاون عناصر وعلامتیں، قومی وسیاسی ہم آہنگی، سماجی نظریہ مساوات، جمہوریت و سیکولر ازم، جنسی مساوات، ماحولیاتی تحفظ کا احساس، منفی معاشرتی سوچ کا انسداد، معاشرتی و معاشی بہتری کے لیے چھوٹے خاندان کے مثبت پہلوؤں کا پرچار اور سائنسی شعور و سوچ کے لیے ذہنی ہم آہنگی وغیرہ۔ مذکورہ مضامین کی تشہیر و تفہیم اور حصول کے ہدف کو سامنے رکھتے ہوئے ایسے اسباق، مضامین، نظمیں، غزلیں، گیت شامل کیے جانے چاہئیں جن کی زبان آسان اور پرلطف ہو اور ہندوستان کی دوسری زبانوں اور ثقافت کے منافی نہ ہو۔ ہندوستان کی مختلف ریاستوں اور خطوں کی ثقافت، فنون لطیفہ، تاریخی حقائق آثار قدیمہ، تہذیبی روایات اور تہوار جن سے طلبا کے ذہنوں کو ہندوستانی رنگا رنگی اور گنگا جمنی تہذیبی وراثت کا پتہ چلے بھی شامل نصاب ہوں۔
اب سوال اٹھتا ہے کہ کیا موجودہ نصاب اور نصابی کتابیں قومی سطح پران مقاصد کی تکمیل کر رہی ہیں یا نہیں ؟ بچوں کی تعلیم و تدریس میں تعلیمی فلسفہ اور تعلیمی نفسیات کا بہت عمل دخل ہے قدیم طرز تعلیم ترقی یافتہ نصابات اور اصول کا ساتھ نہیں دے پا رہا ہے پرانا طرز تعلیم معلم مرکوز اور مواد پر مبنی ایک میکانیکی عمل تھا۔ استاد طلبا کو رٹنے رٹانے کے ذریعہ بغیر بحث و مباحثہ کے تعلیم پر زور دیتا تھا جب کہ اب طفل مرکوز تعلیم، سرگرمی پر مبنی بچے کی ہمہ جہت ذہانت اور صلاحیت کو فروغ دینے کا نام ہے۔بچے کی سمعی، بصری اور لسانی ذہانت کو مد نظر رکھتے ہوئے مختلف النوع اسباق کے ذریعہ اخلاقی قدروں کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ایک عام بچہ خود ی سے سرشار ہوتا ہے، والدین اور اساتذہ سے متاثر ہوتا ہے، جذبات احساسات پر بہت دیر تک قابو نہیں رکھتا، اپنے مسائل کا حل خود تلاش کرنا چاہتا ہے، اپنے بڑوں کی تقلید کرتا ہے اور خود بینی کی صلاحیت پیدا کرنا چاہتا ہے۔ اس لیے کمرہ جماعت میں اسے بہت حد تک آزادی چاہیے تاکہ سرگرمی پر مشتمل پر مسرت تعلیم کے لیے موقع حاصل ہو۔چنانچہ بچے کی تخلیقی قوت اور فنی صلاحیتوں کے ذریعے علوم و فنون کو حاصل کرنے کا شوق پیدا کرنے اور تلاش و جستجو کے ذریعہ کچھ نیا کرنے کے جذبے کو فروغ دینے کے لیے بچوں کے ادب میں اسی طرح کے اسباق شامل کرنا چاہیے تاکہ بچے آزادانہ طور پر اپنی صلاحیتوں کا استعمال کرسکیں اور درس و تدریس کے ساتھ ساتھ اپنے بچپن کا لطف بھی اٹھا سکیں ؂
اڑنے دو پرندوں کو ابھی شوخ فضامیں
پھر لوٹ کے بچپن کا زمانہ نہیں آتا
لیکن ساتھ ہی ساتھ اوپر بتائے گئے اقدارسے منھ موڑنا بھی نہیں چاہیے بچوں کو ترقیاتی ادب کے مطالعہ پر زور تو دیا جائے مگر اس بات کا خیال بھی رکھا جائے کہ ہمارے پاس جو فلفسیانہ، ثقافتی، تہذیبی اور روحانی اقدار ہیں وہ ضائع نہ ہوں۔کیونکہ موجودہ سائنسی اور تکنیکی ترقی اپنے اندر مثبت پہلوؤں کے ساتھ ساتھ بعض منفی پہلو بھی لیے ہوئے ہے چنانچہ جب بچوں کے ادب میں سائنسی رجحانات و ترجیحات کے مضامین داخل کیے جائیں یا درجہ میں پڑھائے جائیں تو ان منفی پہلوؤں کی نشاندہی کردی جائے جن سے نسل انسانی کو امکانی خطرہ ہے۔ سائنسی اقدار کے ساتھ ساتھ مختلف مذاہب کی کتابوں سے بچوں کے لیے اچھے اقدار، نیک سلوک، عادات واطوار، بڑوں کی عزت اور چھوٹوں سے محبت وغیرہ کی تعلیم مذہبی کتابوں سے ماخوذ کرکے دی جائیں۔
تعلیم کو تحت الشعور کا خزانہ کہا گیا ہے اکیسویں صدی میں تعلیم کے موضوع پر قائم بین الاقوامی کمیشن کی رپورٹ چار اقداری پہلوؤں کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کراتی ہے ان میں پہلا مقصد خاص طور سے ثانوی سطح کی تعلیم میں نوجوانوں کے ذہنوں کو علم سے رغبت اور شوق پیدا کرانے اور معلومات کے لیے تجسس پیدا کرنے اور نئے نئے خیالات کو ذہن نشیں کرنے کے لیے اپنے دماغ کی کھڑکیاں کھلی رکھنے کی صلاح دی گئی یہ بالکل درست ہے کہ بچہ اگر اپنے ذہن کی کھڑکیاں کھلی رکھے گا اور اسے بغیر خوف و خطر کے تعلیم حاصل ہوگی تو وہ مستقبل کا ایک بے باک شہری بنے گا۔کلاس روم ہو یا گھر، کھیل کا میدان ہویا تفریح گاہیں اسے اپنے جذبات و خیالات کی آزادانہ ترسیل کا موقع دیا جانا چاہیے۔درمیان تعلیم کسی طرح کا خوف بچے کے ذہن میں نہیں آنا چاہیے۔ خوف سے بچے میں پروان چڑھتی ہوئی صلاحیتیں مرجاتی ہیں اور وہ زندگی بھر احساس کمتری کا شکار رہتا ہے ؂
خوف کے سائے میں گر بچہ پلا
بے زباں ہو جائے گا یا بدزباں ہو جائے گا
دوسرے پہلو میں علم، عمل کے لیے عمل کے حاصل کرنے کی صلاح دی گئی ہے تاکہ حاصل کردہ علوم کو بچہ اپنی عملی زندگی کے کام میں لا سکے، نفع بخش روزگار حاصل کرسکے، اپنے افراد خانہ کے کام آسکے، اپنے سماج اور اپنی قوم و ملت کے کام آسکے اور سب سے بڑھ کر عالم انسانیت کے لیے کارآمد ہو۔ گو یا بچوں کے ادب میں ایسے عنوانات، اسباق شامل کرنا چاہیے جو اس کے مستقبل کی زندگی کو روشن کر سکے۔تیسرے پہلو کی تشریح کرتے ہوئے معاشرتی زندگی کو بہتر اور مل جل کر زندگی گذارنے کی تلقین کی گئی ہے۔ اس میں تعلیم کے تمام تر سماجی عناصر سے بحث کرتے ہوئے امداد باہمی، وقت کی پابندی، صلہ رحمی، صفائی ستھرائی، کمزور طبقوں کی مدد اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کے رویے پر زور دیا گیا۔ گویا بچوں کے ادب کے ذریعے نسلی، لسانی، مذہبی، قومی اور عالمی برادری کے افہام و تفہیم کا فروغ ہو۔ چوتھے پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تعلیم کے ذریعے ہر بچے کے جسم و ذہن کا ہمہ جہت فروغ ضروری ہے تعلیم کے ذریعے اس کی ذہنی صلاحیتیں، قوت احساس، جمالیاتی ذوق، روحانی اقدار، احساس ذمے داری کی تربیت اس طرح کی جائے کہ اس کی شخصیت کے سبھی امکانی صلاحیتوں کا فروغ ہو سکے اور مستقبل میں ایک انسان دوست شہری بن سکے۔ اسے احساس جمال کے اقدار کے ساتھ ساتھ آس پاس کے ماحول کو بہتر بنانے کا سلیقہ آجائے۔ اس میں یہ احساس پیدا ہو جائے کہ قدرتی تحفظ کے لیے جنگلوں اور جانداروں کا استحصال بہت خطرناک اور آنے والی نسلوں کے لیے مضرہے۔ وہ آنے والی نسلوں کے لیے قدرتی عطیات ووسائل بچا کر رکھے۔ گویا ادب اطفال کے ذریعے کل کے شہری یعنی بچوں کے ذہن و دل میں یہ بات ڈالنی ہوگی کہ دنیا کو بہتر اور رہنے کے لائق کس طرح بنایا جا سکتا ہے۔ اگر مذکورہ اقدار کے فروغ کے لیے نثر و نظم کے عنوانات درسی کتابوں میں شامل کیے جائیں تو اس کے مثبت نتائج برآمد ہوسکتے ہیں مثال کے لیے ندافاضلی کی نظم ’نغمہ گر چلے گئے‘ جو کیرالا کے نویں جماعت کی درسی کتاب میں شامل ہے پیش کیا جا سکتا ہے۔ ؂
کٹی پھٹی ہیں دھرتیاں
سمندروں کی وسعتوں کو
دھواں دھواں فضائیں ہیں 
پی رہی ہیں بستیاں
لہو لہو عبادتیں ہیں 
عمارتوں میں چن رہی ہیں
بے اثر دعائیں ہیں 
پربتوں کی چوٹیاں
وہ جنگلوں کے چوکیدار
معاہدہ زمیں کا جو فلک سے تھا
جانور چلے گئے 
نہیں رہا
سنبھالتے تھے موسموں کو 
دلوں کے آس پاس تھا جو راستہ
جو شجر چلے گئے
نہیں رہا
اداس گھونسلے ہیں 
کسی کا اب کسی سے
ان کے نغمہ گر چکے گئے 
کوئی رابطہ نہیں رہا
ایک اور نظم جو انسانی بھلائی میں آفاقی حیثیت کی حامل ہے حالی نے لکھی ہے ’مٹی کا دیا‘اور کام مشعل راہ ہے ؂
جھٹ پٹے کے وقت گھر سے ایک مٹی کا دیا
ایک بڑھیا نے سرِ رہ لا کے روشن کر دیا
تاکہ رہ گیر اور پردیسی کہیں ٹھوکر نہ کھائیں
راہ سے آساں گزر جائے ہر ایک چھوٹا بڑا
یہ دیا بہتر ہے ان جھاڑوں سے اور فانوس سے 
روشنی محلوں کے اندر ہی رہی جن کی سدا
گرنکل کر اک ذرا محلوں سے باہر دیکھیے
ہے اندھیرا گھپ درودیوار پر چھایا ہوا
سرخرو آفاق میں وہ رہنما مینار ہیں
روشنی سے جن کی ملاحوں کے بیڑے پار ہیں
نثری اصناف جن کا اجمالی جائزہ لیا جا چکا ہے میں بھی بچوں کے ادب سے متعلق کچھ ایسے اسباق لکھے گئے ہیں جن سے مثبت اقدار کا فروغ ہوتاہے۔ یوں تو ایسے اسباق کی تعداد سیکڑوں میں ہے لیکن ان میں کچھ شہرہ آفاق نثری نمونے (کہانیاں، افسانے، انشائیہ، خاکے اور مضامین ) ایسے ہیں جنہیں قومی سطح پر اور ریاستی سطح پر تیار کی جانے والی بچوں کی نصابی کتابوں میں بار بار شامل کیا جاتا ہے۔ مثلاً عیدگاہ، پنچایت، حج اکبر، عبرت اور نادان دوست (پریم چند) گزرا ہوا زمانہ اور خوشامد (سرسید احمد خاں) آخری قدم اور ابوخاں کی بکری (ڈاکٹر ذاکر حسین )جینے کا سلیقہ (خواجہ غلام السیدین) کھدر کا کفن (خواجہ احمد عباس) ماحول بچائیے (محمد اسلم پرویز ) وغیرہ بچوں کے ادب میں شامل ایسی شاہکار کہانیاں اور مضامین ہیں جن کے ذریعہ ہم نونہالوں کے درخشاں و تابناک مستقبل کی تشکیل وتعمیر کرسکتے ہیں یہاں ڈاکٹر ذاکر حسین کا لکھا ہوا ایک سبق آموز مضمون ’ابوخاں کی بکری‘ کہانی سے اقتباس ملاحظہ ہو:
’’کچھ دیر جب گزرگئی تو بھیڑ یا بڑھا۔ چاندنی نے بھی سینگ سنبھالے اور حملے کیے کہ بھیڑیے کا ہی جی جانتاہوگا۔ بیسویوں مرتبہ اس نے بھیڑیے کو پیچھے ریل دیا۔ساری رات اسی میں گزری، کبھی کبھی چاندنی اوپر آسمان کی طرف دیکھ بستی اور ستاروں سے آنکھوں آنکھوں میں کہہ دیتی ارے کہیں اس طرح صبح ہوجائے۔
ستارے ایک ایک کرکے غائب ہوگئے۔ چاندنی نے آخر وقت میں اپنا زوردونا کردیا۔ بھیڑ یا تنگ آگیا تھا کہ دور سے روشنی دکھائی دی، ایک مرغ نے کہیں سے بانگ دی۔ نیچے مسجد سے اذان کی آواز آئی، چاندنی نے دل میں کہا اللہ !تیرا شکر ہے میں نے اپنے بس بھر مقابلہ کیا اب تیری مرضی۔ موذن آخری مرتبہ اللہ اکبر کہہ رہا تھا کہ چاندنی بے دم ہوکر زمین پر گر پڑی۔ اس کا سفید بالوں کا لباس خون سے بالکل سرخ تھا۔ بھیڑیے نے اسے دبوچ لیا اور کھا گیا۔
درخت پر چڑیاں بیٹھی کہہ رہی تھی، ان میں اس پر بحث ہو رہی تھی کہ جیت کس کی ہوئی۔ بہت کہتی تھیں کہ بھیڑ یا جیتا۔ ایک بوڑھی سی چڑیا تھی وہ کہتی تھی چاندنی جیتی۔‘‘
اقتباس ’ابوخاں کی بکری‘
اگر مذکورہ شعری و نثری نمونے بچوں کے ادب کے طور پر مثالی کتابیں تیار کرنے والے افراداور ادارے شامل کریں تو ادب اطفال سے آنے والے نسلوں کے لیے بڑے بڑے کام لیے جا سکتے ہیں اور مستقبل میں آپسی بھائی چارہ، افہام و تفہیم، سچائی و دیانتداری، ایثار و قربانی، ماحولیاتی تحفظ اور Sustainable development کے لیے راہیں استوار کی جاسکتی ہیں۔
حوالے
w نورالحسن نقوی، تاریخ ادب اردو، ایجوکیشنل بک ہاؤس، 2009
w اردو شاعری کا انتخاب، ساہتیہ اکادمی، نئی دہلی، 1993 
w ڈاکٹر ریاض احمد، اردو تدریس جدید طریقے اور تقاضے، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، نئی دہلی، 2013
w ضیاء الرحمٰن غوثی، بہار میں بچوں کا ادب، پوسٹ باکس نمبر 8607، دہلی۔54، 2005
w صدیق الرحمٰن قدوائی، دہلی کے اسکولوں میں اردو نصاب کے مسائل، اردو اکادمی، دہلی، 1987
w ڈاکٹر ریاض احمد، تعلیم و تدریس کے روشن پہلو، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، 2011
w National Curriculum Fram Work for School Education, NCERT, New Delhi, 2005
w National Curriculum Fram Work for Teacher Education, NCTE, New Delhi, 2009
w عبد الحمید کاراشیری، بچوں کی تعلیم جدید نفسیات کی روشنی میں، اردو دنیا، NCPUL، نئی دہلی، جون 2012
w کرن سنگھ، عالمی سماج میں نوجوانو ں کی تعلیم، یوجنا اردو، پبلی کیشن ڈویژن، نئی دہلی، ستمبر 2003
w ڈاکٹر ریاض احمد، بچے کی تربیت ایک تجزیاتی مطالعہ، یوجنا اردو، پبلی کیشن ڈویژن، نئی دہلی، نومبر 2008
w منتخبات اردو، برائے درجہ نہم ودہم، مغربی بنگال اردو اکیڈمی، کولکاتا، 2009
w کیرالا ریڈر اردو (IX) SCERT کیرالا، 2010
w کرشن کمار، بچے کی زبان اور استاد: ایک دستور العمل، نیشنل بک ٹرسٹ، نئی دہلی، 2007
n
Dr. Reyaz Ahmad
Assistant Professor
College of Teacher Education, Sambhal
Maulana Azad National Urdu University
Gachibowli, Hyderabad - 500032
Email: reyazahmed045@gamil.com




قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...