5/3/19

سرور کی قومی و وطنی شاعری مضمون نگار:۔ عبد الرحمن

سرور کی قومی و وطنی شاعری
عبد الرحمن 
مخصوص تہذیب اور محدود زاویۂ نگاہ کی بنا پر کسی زبان میں اعلیٰ ادب تخلیق نہیں کیا جاسکتا۔ ادب آفاقیت سے قبل مقامیت سے عبارت ہے لہٰذا مخصوص تہذیب اور محدود زاویۂ نگاہ کی بنا پر کسی ادب میں آفاقیت کی تلاش بے معنی ہے۔ آفاقی ادب مشترکہ تہذیب (Composite Culture) کے بطن سے پیدا ہوتا ہے۔ اردو زبان و ادب کی شاندار تہذیب ہمیشہ سے اس طرح کے باہمی اختلاط اور آپسی رواداری کا پیش خیمہ رہی ہے۔اردو زبان اپنے ابتدائی دور سے ہی کسی ایک مخصوص مکتبۂ فکر یا کسی ایک خاص تہذیبی روایت سے سروکار نہیں رکھتی۔ مختلف مذاہب کے پیروکار شعرا اور ادبا ماسوا ذاتی معاملات کے سیاسی، سماجی اور مذہبی خیالات پیش کرنے کے لیے وقتاً فوقتاً اس زبان کا سہارالیتے رہے ہیں۔ زبان کی یہ روایت اتنی مستحکم اور پائیدار ہے کہ شاعروں نے اپنے مذہبی رہنماؤں اور دانشوروں کے علاوہ مختلف مذاہب کے رہنماؤں اور دانشوروں کو اس زبان میں نذرانۂ عقیدت پیش کرنے میں خود کو کبھی عاجز محسوس نہیں کیا۔ اردو زبان میں جہاں ایک طرف مختلف مذہبی پیشواؤں کی شان میں قصیدے لکھے گئے اور مذاہب کی تبلیغ و اشاعت اس زبان میں کی گئی، وہیں دوسری طرف مارکسی خیالات و نظریات کی تشہیر میں بھی اس زبان نے نمایاں کارنامے انجام دیے ہیں۔ سیکولرزم کی جو صحت مند روایت اردو زبان و ادب کی تاریخ میں ملتی ہے، بنگالی ادب کو چھوڑدیں تو اس کی مثال ہندوستان کی ایسی کسی اور دوسری بڑی زبان میں شاذ و نادر ہی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ جس وقت ہندوستانی اقوام باطل انگریز قوم سے برسر پیکار تھی تو’انقلاب زندہ باد ‘ کا پرشکوہ نعرہ اسی زبان کے بطن سے پیدا ہوا تھا۔ سیکڑوں شعرا نے اس زبان میں وطن اور قوم سے متعلق گیت لکھ کر حب الوطنی کا ثبوت فراہم کیا ہے۔ اردو زبان میں قلی قطب شاہ، نظیر اکبرآبادی،اقبال، جوش ملیح آبادی اور پنڈت برج نرائن چکبست کے علاوہ جن شعرا نے وطن سے متعلق جذبے کو اپنی شاعری کا حصہ بنایا ہے ان میں سرور جہان آبادی کا نام سرفہرست ہے۔
اردو شاعری میں وطن سے متعلق اشعار سب سے پہلے قلی قطب شاہ کے یہاں ملتے ہیں۔ قلی قطب شاہ نے اپنی نظموں میں ہندوستانی پھلوں، پھولوں اور رسم و عقائد کی عکاسی بڑے خوبصورت انداز میں کی ہے۔ نظیر نے قلی قطب شاہ کی اس روایت کی توسیع کی۔ نظیر کو اپنے ماحول سے نہایت لگاؤ تھا۔ انھوں نے بلا امتیاز ملت و مذہب ہندوستان کے تمام تہواروں اور رسم و رواج کو اپنی نظموں کا موضوع بنایا۔ ان کی نظموں میں ہندوستان ہنستا، کھیلتا اور اٹکھیلیاں کرتا نظرآتا ہے۔ مختصر یوں کہا جاسکتا ہے کہ نظیر کی شاعری میں قدیم ہندوستان اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ جلوہ گر ہے۔
نظیر کے بعد سرور جہان آبادی کے یہاں حب الوطنی کا جذبہ نسبتاًزیادہ واضح نظرآتاہے۔ انھوں نے نظم کی تعمیر و ترقی میں ہندوستانی عناصر کو شامل کرنے جیسا اہم اور نمایاں کارنامہ انجام دیا۔ان کے مجموعۂ کلام میں نظموں کے علاوہ رباعیات بھی شامل ہیں جو ہمیں ہندوستانی رنگ میں رنگی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔یہ نظمیں اور رباعیات ہندوستان کے سیاسی، سماجی، اقتصادی، تاریخی اور تہذیبی نظریات کی ترجمان وعکاس ہیں۔سرور کی نظموں کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے عہد کا ہندوستان سیاسی، سماجی اور اقتصادی بحران کا شکار تھا۔ ملک ایسے موڑ پر کھڑا تھا جہاں حب الوطنی کے جذبے کو ابھارنے کی اشد ضرورت تھی ،سرور نے یہ کارنامہ بحسن خوبی انجام دیا۔
سرور کو وطن اورو طن کی ہر شے سے دلی وابستگی ہے۔ نظیر نے اپنی نظموں میں جو ہندوستان پیش کیا تھا سرور کی شاعری میں ایسا ہی ہندوستان ایک بار پھر اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ ہمارے روبرو دکھائی پڑتا ہے۔ ان کے کلام میں ہرجانب ہندوستان کی تصویر بکھری ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ ان کی نظریں ہندوستان کو دلہن کے روپ میں دیکھتی ہیں۔ ان کی پوری شاعری میں ہندوستان پر شباب برستا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ انھوں نے ہر شے کی تصویر اتنی عمدگی سے پیش کی ہے کہ اس کی مثال بعد کے شعرا میں جوش کے سوا کسی اور کے یہاں نظر نہیں آتی۔ نسیم سحر کا یہ بند ملاحظہ کیجیے:
گھونگھٹ الٹ الٹ کے رخ نازنیں سے تو
کرتی ہے چھیڑسلسلۂ عنبریں سے تو
ہونے کو ہمکنار گل و یاسمیں سے تو
چلتی ہے بس کے عطر میں خلد بریں سے تو
یوں دھیمی دھیمی آتی ہے تاروں کی چھاؤں میں
مہندی لگا کے جیسے چلے کوئی پاؤں میں
سرور کے یہاں حب الوطنی عبادت کا درجہ رکھتی ہے۔ انھیں وطن کے ذرّے ذرّے سے بے تحاشہ لگاؤ ہے۔ ان کے نزدیک وطن کبھی دیوی ہے تو کبھی وطن میں انھیں ماں کا روپ دکھائی دیتا ہے۔ کچھ جگہوں پروطن کو لکشمی ،درگا اور سرسوتی بھی کہا گیا ہے۔ غرض وطن کی محبت ان کے دل کے نہاں خانوں میں گہرائی سے رچی اور بسی ہوئی ہے۔ مادرِہند کا یہ بند ملاحظہ فرمائیے۔
تیرا دیو استھان دیوی دل کے کاشانے میں ہے
تیری تصویر مقدس ہر صنم خانے میں ہے
لکشمی تو ہے زمانے میں اُجالا ہے تیرا
ہر کنول کا پھول پانی میں شوالا ہے تیرا
سرسوتی کا روپ ہے درگا کا ہے اوتار تو
نطق و دانش کی ہے دیوی مادرِ غم خوار تو
اُف یہ سندر چھب تری، یہ سانولی صورت تری
دل کے مندر کی ہے زینت موہنی صورت تری
وطن سے متعلق سرور نے جو نظمیں کہی ہیں ان میں موضوعات کی وسعت اور ہمہ گیری کے ساتھ دلکشی اور رعنائی کی جھلک بھی ملتی ہے۔ سرور کے ذریعے اردو شاعری میں پہلے پہل ایسے موضوعات پر طبع آزمائی کی گئی جو اردو شاعری کے لیے بالکل نئے اور اچھوتے تھے۔ گنگا، جمنا، پریاگ کا سنگم، نورجہاں، پدمنی، بیربہوٹی، گلِ فردوس، لکشمی جی، سیتا جی کی گریہ وزاری، پھولوں کا کنج، مہاراجہ دشرتھ کی بیقراری، نسیم سحر، فضائے برشگال، عروسِ برشگال، شفق شام ، بھنورے کی بیقراری جیسے مضامین کو اردو میں سب سے پہلے متعارف کرانے کا سہرا سرور کے سر ہے۔ متقدمین شعرائے اردو نے اس سے قبل اس طرح کے موضوعات سے کبھی استفادہ نہیں کیا تھا۔ ان موضوعات کی اہم بات یہ ہے کہ ان سے متعلق نظموں کی فضا اور رنگ خالص ہندوستانی ہے۔
گنگا جمنا پر لکھی نظموں میں سرور نے قدیم ہندوستانی روایت کو بروئے کار لاتے ہوئے چھیڑ چھاڑ اور عشق و عاشقی کے پیرائے میں وطن سے اپنی محبت اور انسیت کا اظہار کیا ہے۔ اس طرح کی شاعری میں بعض جگہ جمال پرستی کے ساتھ ساتھ جنسیت کا دھوکا ہوتا ہے۔شاعرنے اپنے محبوب کے پیکر اور سراپاکا ذکر کرتے ہوئے اسے برج کی پاکدامن اور مقدس نازنین جیسے القاب سے خطاب کیا ہے اور اس کی جادوئی روش کو حسینوں سے بھی زیادہ البیلی روش قرار دیا ہے۔ جمنا کے تقدس اورپاکدامنی کا بیان بھی اسی بند میں کیا گیا ہے۔ یہاں لفظوں کا تضاد بآسانی دیکھا جاسکتا ہے ؂
آہ!او رنگیں ادا او دلی والی نازنیں
او دو عالم کے حسینوں سے نرالی نازنیں
دھیمی دھیمی وہ تری رفتار بل کھائی ہوئی
وہ نظرجھینپی ہوئی چتون وہ شرمائی ہوئی
وہ حسینوں سے نرالی تیری البیلی روش
دل پہ جادو کرنے والی تیری البیلی روش
برج کی او پاکدامن اور مقدس نازنیں
نقش ہے دل پر ترے اک اک ادائے دلنشیں
اسی نظم کے اگلے اشعار میں وہ جمنا سے پوچھتے ہیں کہ وہ کون ہے جو تیری لہروں میں پردہ نشیں ہوکر بیٹھا ہے، تیری موجوں سے آرہی صدائے دلفریب کس کی ہیں کون تیرے خانۂ دل میں رقص کناں ہے، اور یہ چھا گل کی صدائے جاں نواز کس کی ہے؟ (حرکت کے باعث لہروں میں پیدا ہورہی آواز کو سرور نے چھاگل کی صدائے جاں نواز کہا ہے)
کون یہ پردہ نشیں ہے تیرے دامن میں نہاں
کس کا چہرہ ہے نقابِ زلفِ پرفن میں نہاں
تیری موجوں میں ہے یہ کس کی صدائے دلفریب
گارہی ہے کون یہ غارت گرِ صبر و شکیب
خانۂ دل میں ہے تیرے کون محوِ رقص و ناز
آرہی ہے کس کی چھاگل کی صدائے دل نواز
اسی طرح گنگا سے متعلق اشعار میں بے پایاں محبت اور خلوص کا اظہار کرتے ہوئے اس حیات آفریں ندی کو پاک نازنیں، ناز آفریں اور صدق و صفا کی دیوی کے ساتھ ساتھ بحرِ معرفت اور پاکباز ہستی جیسے الفاظ سے خطاب کرکے گنگا کے تئیں اپنی عقیدت کا اظہار کیا ہے۔ درج ذیل اشعار ملاحظہ کریں ؂
اوپاک نازنیں او پھولوں کے گہنے والی
سرسبز وادیوں کے دامن میں بہنے والی

او ناز آفریں اوصدق و صفا کی دیوی
اوعفتِ مجسم، پربت کی رہنے والی
حسنِ غیور تیرا ہے بے نیازہستی
تو بحرِ معرفت ہے اوپاک باز ہستی
حب الوطنی ایسا جذبہ ہے جو تقریباً ہر ذی روح میں پایا جاتا ہے۔ وطن کی محبت میں انسان بڑی سے بڑی قربانی دینے سے گریز نہیں کرتا ہے۔ سرور کا وطن ان کا پرستش کدہ ہے۔ ان کی شاعری میں وطن اس قدر اعلیٰ اور عظیم قدروں کا حامل ہے کہ یہاں تمیز مذہب و ملت کی کوئی گنجائش دکھائی نہیں دیتی ہے وطن سے عشق سرور کا ایمان ہے ؂
ناقوس اور اذاں میں نہیں قیدکفر و دیں
اس کے لیے کہ جس کا پرستش کدہ ہے تو
گنگا نہانے شیخ اگر تیرا اذن ہو
تیرا اشارہ ہو تو برہمن کرے وضو
تیرا طریقِ عشق ہی ایمان ہے مرا
تیرے فدائیوں میں ہوں اے شوخ خوبرو
جلوہ نہ ہو کسی بت رعنا کا سامنے
وہ دن خدا کرے کہ ہو آنکھوں میں تو ہی تو
سرور کے عہد کا ہندوستان تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ ملک کے آسمان پر شکست و ریخت کے بادل منڈلارہے تھے تو زمین پر ہر سو مفلوک الحالی کا دور دورہ تھا۔ سرور کو ملک کے حالات کا بخوبی علم تھا۔ وہ اپنے تہذیبی سرمایے سے بھی مکمل واقفیت رکھتے تھے۔اس شکست وریخت اور پرآشوب عہد میں ہندوستانی قوم میں بیداری کی غرض سے سرور نے انھیں ملک کی عظمتِ پارینہ کی داستانیں سنائیں اور وطن کی عظمت کے نغمے گائے۔ اسلاف کے کارناموں کاذکر ان کی نظموں میں بڑے موثر اور دلنشیں انداز میں ملتا ہے۔ ان کی نظموں کو دیکھ کر یہ کہنا بجا معلوم ہوتا ہے کہ سرور کی نظمیں ہندوستان کی عظمت کی تاریخ اور عظیم ہندوستانیوں کی داستان ہیں۔ خاکِ وطن کے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں ؂
آہ اے خاکِ وطن اے سرمۂ نور نظر
آہ اے سرمایۂ آرائشِ جان و جگر
تیرے دامن میں شگفتہ تھے کبھی قدرت کے پھول
گندھ رہے تھے تیری چوٹی میں کبھی وحدت کے پھول
جب مسلط خلق پر تھی خوابِ غفلت کی گھٹا
موتی برساتی تھی تجھ پر ابررحمت کی گھٹا
رفعت بامِ فلک تھی تیری پستی میں نہاں
عظمت خود تھی شرارِ اوجِ ہستی میں نہاں
جب تمدن کا بندھا عالم میں شیرازہ نہ تھا
شاہدِ قدرت نے جب رخ پر ملا غازہ نہ تھا
بادۂ تہذیب سے خالی تھا جب یورپ کا خم
ایشیا کا آہ جب بیڑا تھا تاریکی میں گم
جب نہ تھی یونان میں علم و ہنر کی روشنی
جلوہ افروزِ خرد تھی تیرے گھرکی روشنی
سرور کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے شاعری کے ذریعے عوام کے دلوں میں بغاوت کا جذبہ پیدا کرنے کی بجائے ان کے دلوں میں محبت کا جذبہ بیدار کیا۔ مزاج میں شرافت اور سادگی کی وجہ سے انقلاب کا نعرہ بلند کرنے کی بجائے انھیں مصلحت پسندی پر آمادہ کیا۔ احتجاج کے بجائے دلوں میں مادر وطن کی عظمت کا احسا س پیدا کیا۔ قومی اتحاد اور آپسی محبت کا درس دیا۔ آزاد ہندوستان کا ایسا واضح اور دل خوش کن تصور پیش کیا جو دوسرے کسی اور شاعر کے یہاں قطعی نظر نہیں آتا۔ پھولوں کا کنج ان کی ایسی ہی ایک نظم ہے۔ اس نظم کے چند اشعار سے سرور کی جدتِ طبع کا احساس بخوبی ہوجاتا ہے ؂
پھولوں کا کنج دل کش بھارت میں اک بنائیں
حب وطن کے اس میں پودے نئے لگائیں
خونِ جگر سے سینچیں ہرنخلِ آرزو کو
اشکوں سے بیل بوٹوں کی آبرو بڑھائیں
ایک ایک گل میں پھونکیں روحِ شمیم وحدت
اک اک کلی کو دل کے دامن سے دیں ہوائیں
فردوس کا نمونہ ہو اپنا کنج دل کش
سارے جہاں کی جس میں ہوں جلوہ گر فضائیں
مل مل کے ہم ترانے حب وطن کے گائیں
بلبل ہیں جس چمن کے گیت اس چمن کے گائیں
سرور نے سیاست میں کبھی دلچسپی نہیں دکھائی۔ ان کے عہد کا ہندوستان جس کشمکش سے دوچار تھا سرور اس سے لاعلم قطعی نہیں تھے۔ وطن سے متعلق ان کی نظموں میں سیاسیات کی جگہ جمالیاتی عنصر زیادہ نمایاں ہے۔ ان کی بعض نظموں میں سیاسی رنگ و آہنگ ملتا ہے، لیکن یہاں بھی ان کا انداز دیگر شعرا سے مختلف اور جدا ہے۔ شہرآشوب کا ذیل بند انھیں خیالات کی نمائندگی کرتا ہے ؂
جگر فگار جدا دل ہے درمند جدا
کہ قومیت کے ہے پتلے کا بند بند جدا
روش جدا ہے، طریقہ جدا، پسند جدا
کہ ایک ایک کے ہے درپئے گزند جدا
یہ غیریت مرے پروردگار کیسی ہے؟
روش یہ قوم نے کی اختیار کیسی ہے؟
سرور کی قومی شاعری کا تجزیہ کرتے ہوئے گوپی چند نارنگ لکھتے ہیں کہ:
’’ان کی قومی شاعری کی شان دوسری ہے۔ یہ قدیم و جدید کی کشمکش سے آزاد ہے۔ ا س کے جذبے میں سادگی، خیال میں معصومیت اور محبت میں عقیدت کا عنصر ملتا ہے۔۔۔ان کی وطن دوستی اور قوم پرستی بے میل، بے ریا اور بے لوث ہے۔ یہ اجتماعی احساس سے ناآشنا نہیں لیکن سیاست کے داؤ پیچ سے بلند اور بے نیاز ہے۔‘‘
(ڈاکٹر گوپی چند نارنگ، اردو شاعری میں ہندوستانی عناصر ،ص 277)
ان مختصر تجزیے کی روشنی میں واضح ہوتا ہے کہ قومی اور وطنی شاعری کے لیے فکر و نظر کی جوگہرائی، تخیل کی جو بلند پروازی، جذبات کی جو آہنگی اور فطرت سے جس قدر وابستگی درکار ہے سرور کی وطنی شاعری ان تمام خوبیوں سے مالا مال ہے، نظمیہ شاعری جن حسین جذبوں اور خوبصورت احساسات سے عبارت ہے سرور کی شاعری میں وہ تمام اوصاف و عوامل پوری طرح پائے جاتے ہیں۔

Abdur Rahman
Tapti Hostel, JNU
New Delhi - 110067
Mob.: 9015763031
Email.: uharahman@gmail.com







قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

اردو زبان و ادب کی ترویج میں سائبر سماج کا حصہ مضمون نگار:۔ خان محمد آصف



اردو زبان و ادب کی ترویج میں سائبر سماج کا حصہ
خان محمد آصف

ہم جس دورمیں سانس لے رہے ہیں وہ نت نئی ایجادات و اختراعات کا دور ہے۔ جو چیزیں آج تک طلسماتی اور قول محال سمجھی جاتی تھیں سائنس و ٹکنالوجی نے انھیں سچ کر دکھایا۔ موجودہ عہد میں انٹر نیٹ انسان کی روز مرہ زندگی کا جزو لاینفک بن چکا ہے۔ماضی کا انسان اپنے خیالات و جذبات کا بیان خطوط سے کیا کرتاتھا۔اس کے بر عکس آج بلاگس، ٹوئیٹراور واٹس اپ کے ذریعے پیغام کی بآسانی ترسیل کی جا سکتی ہے۔انٹر نیٹ کے اثرات نے کائنات کے حجم کو سمیٹ کر گلوبل ولیج میں تبدیل کر دیا ہے۔ اطلاعاتی انقلاب نے کا ئناتی نظام کو سائبر ایج میں منتقل کر دیاہے، جہاں معلومات کا لا متناہی انبار ہے۔ اس سائبر اسپیس میں ڈیجیٹل لائبریریز، انسائیکلوپیڈیا، اخبارات و رسائل، ویب سائٹس، بلاگزاور ای کتب موجود ہیں، جو اردو زبان و ادب کے فروغ میں کارہائے نمایاں انجام دے رہی ہیں اور اردو کی لسانی،تہذیبی اور ثقافتی قدروں کو روایتی محبان اردوکے علاوہ ان حلقوں سے جوڑ رہی ہیں، جو بالعموم اردو والوں میں شمار نہیں کیے جاتے۔تو دوسری طرف انٹر نیٹ نے اردو رسم الخط کے تحفظ کے ساتھ ساتھ اس کی ترویج و اشاعت میں مثبت کردار ادا۔ محبان اردو کو اس بات کا غم کھائے جا رہا تھا کہ اگر اردو کو سوشل نیٹ ورکنگ سے نہیں جوڑا گیا تو اردو زبان و ادب کا تہذیبی و ثقافتی اثاثہ ٹکنالوجی کی تیز رفتاراورچکا چوند دنیامیں دھند پڑ جائے گا۔اردوکے شیدائیوں کی اسی لگن اورجذبے نے زبان کو نئی ٹکنالوجی سے ہم آہنگ کیا، اپنی اس کوشش کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ذاتی سرمائے لگانے سے بھی گریز نہیں کیا۔یہ انھیں کی محنتوں کا ثمر ہ ہے کہ آج انٹر نیٹ پر اردو ڈیجیٹل لائبریریز اور کئی اہم ادبی، تہذیبی،ثقافتی اور تعلیمی سائٹس موجود ہیں۔ اس مقالے میں اردو کی انھیں ویب سائٹس اور بلاگ کا تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ کیا گیا ہے،جو اردو زبان و ادب کے فروغ میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔تاکہ اردو زبان اپنے رسم الخط کے ساتھ محفوظ ہو جائے۔اردو کی ان ویب سائٹس کا مقصد جہاں زبان و ادب اور تہذیب و ثقافت کی ترویج و اشاعت ہے، وہیں نئی نسل کے اندر صالح اقدار کو پروان چڑھانا بھی ہے،تاکہ ادبی ذوق رکھنے والوں کا ایک ایسا حلقہ وجود میں آئے جو اپنے ذوق کی تسکین ان ویب سائٹس کے ذریعے کر سکے۔میری خواہش تھی کہ اپنے مضمون میں ان تمام ویب سائٹس کا تجزیہ و تعارف پیش کر وں، جو اردو کے فروغ میں کام کر رہی ہیں۔لیکن طوالت کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہو سکا۔ اس لیے صرف انھیں ویب سائٹس کو اپنے مضمون کے لیے منتخب کیا جو اردوادب کے طالب علموں،ریسرچ اسکالروں اور روایتی اور غیر روایتی محبان اردو کے ذوق کی تسکین کا ذریعہ ہیں۔
بہار اردو یوتھ فورم ڈاٹ ارگ کا قیام 2009 میں عمل میں آیا اس ویب سائٹ کا مقصدبالعموم اردو زبان و ادب اوربالخصوص بہار کے اردو تخلیق کاروں کے فن پاروں کو انٹر نیٹ کے ذریعے فروغ دینا تھا۔ پچھلے آٹھ سالوں سے یہ ویب سائٹ اردو کی ترویج و اشاعت کے لیے بھر پور کوشش کر رہی ہے جس کے نتیجے میں اب تک قومی و بین الااقوامی سطح پر ایک کروڑ سے زیادہ وزیٹرس اس سائٹ کی سیاحت کر چکے ہیں۔ اس ویب سائٹ پر ہند و پاک کے علاوہ اردو کی نئی بستیوں کے شاعروں اور ادیبوں کی تخلیقات کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ اس فورم کی اہمیت اردو دنیا میں اس وجہ سے مسلم ہے کہ اس پر شعرا و ادبا کے نام باعتبارحروف تہجی دیے گئے ہیں جس کے سبب ویب سائٹ کی شہرت و مقبولیت میں اضافہ ہوا،اور اردو کے اسکالرس اور شائقین کو یہ آسانی ہوئی کہ وہ اپنے پسندیدہ شاعر و ادیب تک بلا کسی ٹکنیکل روک ٹوک کے پہنچ سکیں۔
بہار اردو یوتھ فورم نے اپنی ویب سائٹ کو دیدہ زیب اور پر کشش بنانے کے لیے 341 شعرا کی ڈیزائن پوئٹریز تیار کی ہے،اس کے علاوہ قاری کی دلچسپی کو ذہن میں رکھتے ہوئے افسانے،افسانچے،پوپ کہانیاں، مِنی افسانے کوجدید گرافک ڈیزائن سے مزین کر کے سائبر سماج کا حصہ بنایا۔ جس نے انٹر نیٹ کی دنیا میں ایک ایسا انقلاب برپا کیا، جسے تاریخ ادب اردو کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ اردو ادب کی تاریخ میں اس فورم کی اہمیت سنگ میل کی رہے گی۔اسی طرح 258 کہانی کاروں کے 896 افسانوی متون ڈیزائن کے ساتھ موجود ہیں۔ادبی متن کے علاوہ انسانی شعبہ ہائے زندگی سے متعلق کل مضامین کی تعداد 4014 ہے۔قارئین کو تلاش و جستجو میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے اس کے لیے مضمون نگاروں کے نام حروف تہجی میں دیے گئے ہیں۔اس ویب سائٹ کو عالمی شہرت اس وجہ سے بھی حاصل ہے کہ اس پر ویزیٹرس کی پسند اور ضرورت کے متعلق مضامین وافر مقدار میں موجود ہیں۔ جن میں تعلیمی، اسلامی، سیاسی، ادبی، اسپورٹس اور خواتین و اطفال پر مضامین قابل ذکر ہیں، جن کی الگ الگ فہرست ہے تاکہ قاری کو پریشانی نہ ہو۔ تعلیمی مضامین کی کل تعداد 281 ہے جس میں کمپیوٹر پر 11، علم و فن پر65،معلوماتی باتیں 162،مسلم معاشرے پر 36،تعلیم کی اہمیت پر7 مضامین شامل ہیں۔ ادبی مضامین کی کل تعداد 2251 ہے آپ بیتی پر 76،ادبی خبریں 405،ادبی گوشہ 360،افسانے38، غزلیں 37، انٹرویوز 21، لمحہ فکر238،مزاحیہ مضامین 41، شخصیات 402، شاعری 73، تجزیاتی مطالعہ 179،تیشہ فکر پر 332 مضامین شامل ہیں۔
اردو کے عام قاری کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے خاصی تعداد میں ایسے مضامین اپلوڈ کیے گئے ہیں جن کا تعلق نسائی حسن و ہستی سے ہے جیسے مضامین برائے نسواں جس کی کل تعداد 189ہے اس میں خوبصورتی پر 6،خواتین کے لیے 66،امور خانہ داری سے متعلق 94اور خواتین کے صفحات کے نام پر23 مضامین شامل ہیں۔ اسلامی مضامین کی کل تعداد 368 ہے اسلامی تعلیمات پر 74،اسلامیات 229، بزرگان دین کے حالات زندگی پر 33 اور محمد عربی کی باتیں کے عنوان سے 32 مضامین شامل ہیں۔ حالات حاضرہ پر 505 مضامین ہیں جن میں بنگلہ دیش پر 9،ہندستان پر 365،پاکستان پر 47،ساوتھ ایشیا پر80 اور عا لمی سطح کے 80 مضامین شامل ہیں۔مضامین برائے اطفال کی کل تعداد 77ہے جن میں بچوں کے لیے اصلاحی مضامین 14،بچوں کی کہانیاں 49 اور بچوں کی نظمیں 14 شامل ہیں۔فلمستان کی زرق برق دنیا اور ہیرو ہیروئن کے افیئرس پر 39 مضامین ہیں جو فلمی شائقین کے لیے بڑا تحفہ ہے۔سیاسی مضامین کی کل تعداد 193 ہے جس میں قومی سطح کے مضامین 54،ریاستی سطح کے 72 اور 2014 کے عام انتخاب کے متعلق 67 مضامین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اسپورٹس کی خبروں پرمشتمل مضامین کی تعداد 38 ہے۔
بہار اردو یوتھ فورم کی ویب سائٹ پر معروف شخصیات،شعرا و ادبا کی 612 ویڈیوز بھی ہیں جنھیں آپ بآسانی دیکھ اور سن کر لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ اس ویب سائٹ کا مقصدجہاں نئی نسل کو صالح اقدار عطا کرنا ہے وہیں ان کے اندر اردو زبان و ادب کے تہذیبی ورثے کو ان کے حوالے کرنا ہے،تاکہ نئی نسل اردو کی شیرینی کے ساتھ اس کی ثقافت کو اپنے اندر سمو سکے۔اس کے لیے انٹر نیٹ سے بہترین کوئی ذریعہ نہیں جس سے آج کی نسل پوری طرح ہم آہنگ ہے۔لائق مبارک باد ہیں جاوید محمود صاحب جنھوں نے اردو ادب کے فروغ کے لیے انٹر نیٹ کو میڈیم کے طور پر انتخاب کیا اور اردو کے شعری اور نثری سرمائے کو اس کے وقار اور معیار کے ساتھ نئی ٹکنالوجی سے جوڑ ا۔
ریختہ ڈاٹ او آر جی کا بنیادی مقصد سائبر دنیا میں اردو کی شعری اصناف کو معیاری اور مستند متن کے ساتھ پیش کرنا ہے تاکہ قاری و سامع اردو تہذیب کے ساتھ صحیح تلفظ سے واقف ہوسکے۔اس ویب سائٹ پر معروف و مقبول شعرا و ادباء کی تخلیقات کو اردو کے علاوہ دیوناگری اور رومن رسم الخط میں بھی آن لائن مہیا کیا گیاہے۔چونکہ غیر روایتی محبان اردوزبان کی چاشنی اور شرینی سے محظوظ ہوتے ہی ہیں،لیکن اردو ادب اور بالخصوص شعری متن کی معنیاتی تفہیم سے نا بلد ہوتے ہیں۔ ریختہ نے اردو ادب کے فہم کو فروغ دینے اور اس کے رس کو عقیدت مندان اردو تک پہونچانے کے لیے مشہور شعرا کے کلام کو ان کی اپنی آواز میں پیش کیا۔ مقصد یہ ہے کہ سامعین و ناظرین کلام کے ساتھ ساتھ شاعروں کے صوتی آہنگ سے بھی لطف اندوز ہوں۔ جن شعرا کا آڈیو یا ویڈیو دستیاب نہ ہو سکاان کے کلام کو عصر حاضر کے معروف شاعروں اور زبان کے ماہرین کی آواز میں محفوظ کیا گیا۔ جو ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔تاکہ سامع و ناظر شعری وزن و آہنگ سے حظ اٹھا سکیں۔
ریختہ کا اپنا ایک اسٹوڈیو ہے جس میں اردو کے ممتاز ادیبوں،شاعروں اور ناقدین سے انٹرویوز لیے جاتے ہیں۔جس میں ہند وپاک کے نئی نسل کے شعرا و ادبا کے علاوہ بزرگ ادیبوں سے بھی استفادہ کیا جا تا ہے۔ ان انٹرویوز کا مقصد شاعروں اور ادیبوں کی آرا سے سامعین کو واقف کرانا ہوتا ہے اس تیز رفتار دنیا کے بدلتے تہذیبی و ثقافتی رجحان میں شعر و ادب کی تفہیم کیسے ممکن ہوسکے۔ اس کے علاوہ ریختہ پر موضوعاتی اشعار کا ای۔ بینک بھی موجود ہے جس میں قاری اپنے پسندیدہ موضوع کے تحت اشعار کا انتخاب کر سکتا ہے اور اپنے عزیزوں کے ساتھ اسے شئیر بھی کر سکتا ہے۔حال ہی میں ریختہ نے علم عروض پر آسان اور عام فہم زبان میں لیکچر سیریز شروع کی ہے تاکہ شعری ذوق و شوق رکھنے والے حضرات اشعار بحروں اور اس کے اصول و اوزان سے واقف ہو سکیں۔ ریختہ پر خصوصی گوشہ کے تحت لجنڈ ادبا و شعرا کی تخلیقات پیش کی گئی ہیں جن میں قابل ذکر میر تقی میر،اسداللہ خاں غالب اور سعادت حسن منٹو ہیں۔
ریختہ فاونڈیشن کے بانی سنجیو صراف کے بقول ’’ریختہ دراصل محبتوں کا پھول ہے جس کی خوشبو آج دنیا کے154 ملکوں تک پہنچ چکی ہے۔‘‘سائبر اسپیس میں ریختہ کی مقبولیت اور اہمیت کا اعتراف کرتے ہوئے اس کے پہلے یوم تاسیس پر پروفیسر اختر الواسع نے کہا تھا کہ ’’اگر پچھلی صدی چھپے ہوئے حرف کی حرمتوں واشاعت کے حوالے سے منشی نول کشور کی صدی تھی تو سائبر انقلاب کے زمانے میں یہ سنجیو صراف کی صدی کہلائے گی۔‘‘ ریختہ ڈاٹ او آر جی کی ادبی حلقے میں مقبولیت اور کامیابی کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے کمپیوٹر اسکرین کے ساتھ ساتھ موبائل اسکرین پر بھی دستیاب ہے۔ اس صورت میں ایسی ہائی ٹیک ٹکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے جس سے ویب سائٹ پر موجود شعرا کا کلام، ای۔ بکس اور دیگر تمام آڈیوز اور ویڈیوز کو موبائل اسکرین پر بھی پڑھے، سنے اور دیکھے جا سکیں گے۔ریختہ نے اردو ادب کی خوشبو کو نئی نسل تک پہنچانے کا جو ہائی ٹیک طریقہ اپنایا ہے اس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔
اردو سے متعلق انٹر نیٹ کی دنیا میں ’اردو ویب ڈیجیٹل لائبریری‘ کی اپنی الگ پہچان ہے اس کا مقصد اردو زبان و ادب کے بیش بہا،کم یاب اور نایاب سرمائے کو محفوظ کرنا، اسے معدوم ہونے سے بچانا بھی ہے تاکہ آنے والی نسل کے لیے اس کی رسائی آسان ہوسکے، اور ارود زبان کے موجودہ مواد کو انٹر نیٹ کے ذریعے عوام تک بآسانی پہچایا جا سکے۔ یہ ایک ایسی آن لائن لائبریری ہے جو کاپی رائٹ سے آزاد اپنے قاری کو ادبی اور تدریسی مواد فراہم کرتی رہے،کتابوں کا یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں سے علم و ادب کے چشمے پھوٹتے ہیں۔ علمی ذوق رکھنے والے،محققین اور علم کی تلاش و جستجو میں سر گرداں رہنے والوں کے لیے یہ آن لائن ڈیجیٹل لائبریری اولین مستند حوالے کی حیثیت سے جانی جاتی ہے۔ ڈیجیٹل لائبریری میں شامل متون سے آپ پوری طرح استفادہ کر سکتے ہیں بس شرط یہ ہے کہ اگر اس متن کو اپنی تحریر میں حوالے کے لیے استعمال کرنا چا ہتے ہیں تو اردو ویب ڈیجیٹل کا حوالہ اور نام ضرور دیں۔تاکہ سند رہے۔
’اردو کی برقی کتابیں ڈاٹ کام‘ اردو کی برقی کتابوں کی نشر و اشاعت اور ترویج میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ ویب سائٹ اردو کی مفت برقی کتابوں کا مطبع ہے جہاں کتابیں برقی شکل میں شائع ہوتی ہیں۔کتابوں کی اشاعت کے سلسلے میں مندرجہ ذیل تین شرطوں کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔
1۔ جملہ حقوق (کاپی رائٹ) سے آزاد کتب کی اشاعت
2۔ ان کتب کی اشاعت جو پہلے کاغذ پر شائع ہو چکی ہیں اور پرنٹ ورژن کے بعد مصنّفین یا ناشرین کی اجازت کے بعد برقی شکل میں پیش کی جائیں گی ۔
3۔ اب آپ بھی اپنی کتابیں برقی شکل میں شائع کرا سکتے ہیں اگر آپ کی کتاب اب تک شائع نہیں ہوئی ہو تو یہاں شائع کرا سکتے ہیں۔ 
اردو کی برقی کتابیں ڈاٹ کام پر دو موضوعات پر کتابیں موجود ہیں، متفرقات کے زمرے میں کئی موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔تفصیل ملاحظہ کریں۔
دین و مذہب
مذہبی لٹریچر پر 425 کتابیں ہیں جو متعدد موضوعات کا احاطہ کیے ہوئے ہیں۔مثلا اسلام کے متعلق 32، احادیث 15، عقیدے پر57، سیرت نگاری 11، اور اسلامیات پر 310 کتابیں ہیں۔اوردیگر ادیان پر سات کتابیں موجود ہیں۔
اردو کی برقی کتابیں ڈاٹ کام پر اردو ادب کی تمام اصناف مطالعے کے لیے موجود ہے جن میں شعری مجموعے، افسانوی مجموعے، ناول، داستان، ڈرامہ، تنقید و تحقیق، ادب اطفال، جاسوسی ادب اور طنز و مزاح شامل ہیں۔ اس ویب سائٹ سے کتابوں کے مطالعے کے ساتھ ڈاون لوڈ کر کے اپنے پاس محفوظ بھی کر سکتے ہیں۔
عصر حاضر میں جدید ٹکنالوجی کے ذریعے اردو زبان و ادب کی ترویج و اشاعت ’بزم اردو لائبریری‘ کا اولین مقصد ہے۔ دن بہ دن سکڑتی ہوئی دنیا اور اطلاعاتی ٹکنالوجی کے اس دور میں اردو زبان و ادب کے وسیع ذخیرے کو انٹرنیٹ پر پیش کیا جانا ایک ناگزیر امر بن چکا ہے۔جب کہ نئی نسل وقت کی قلت اور مصروفیت کی بنا پر کتابوں سے دور ہوتی جا رہی ہے۔اسی فکر نے اعجاز عبید کو برقی کتابیں جمع کرنے کی ترغیب دلائی،جس سے اردو قاری دنیا کے کسی بھی کونے سے بلا روک و ٹوک ارود کے برقی مواد تک رسائی کر سکیں۔اس دیوانگی نے انھیں کاپی رائٹ سے آزاد یونیکوڈ فارمیٹ میں کتابوں کو برقی شکل میں کرناشروع کیا۔جو آج ایک عظیم الشان آن لائن حوالہ جاتی لائبریری کی شکل میں موجود ہے۔آج اسی محنت اور لگن کا نتیجہ ہے کہ اینڈ رائڈ ایپ کی معاونت سے اردو لٹریچر کے عظیم سرمائے کو آپ موبائل پر بھی دیکھ سکتے ہیں۔
کتابستان ڈاٹ کام نے اردو کی سائبر دنیا میں بڑے کم وقت میں اپنی جگہ بنا لی ہے۔اس کی ای۔ بک لائبریری میں اردو کے اصناف ادب کی اب تک سو کتابیں اپ لوڈ کی جا چکی ہیں، جن میں ناول، افسانے، خطوط کے مجموعے، کلاسک ادب، شاعری، مزاح، ادب الاطفال، مقالے، تذکرہ و تحقیق،خود نوشت، سفرنامہ، شخصی خاکے، شکاریات،فلم آرٹ موسیقی اور رسائل و جرائد قابل ذکر ہیں۔ اس ویب سائٹ پر نایاب و کمیاب موضوعاتی کتابوں پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔جس کی دسترس طلبا و ریسرچ اسکالرز اور عام قارئین کی پہنچ سے باہر ہے۔
کتابستان ڈاٹ کام کا مقصد اپنے قارئین کو میعاری کتابیں بہم پہونچانا ہے، تاکہ نئی نسل کا قاری سستے، بازاری اور گھٹیا قسم کے رومانی موضوعات سے گریز کرے اور اپنے مطالعے میں عمدہ اور بہترین ادب کو رکھے۔ اس ویب سائٹ کا بنیادی مقصد بھی خالص اردو ادب کے فروغ کے لیے کام کرناہے،اس ویب سائٹ کی سبھی کتابیں اسکینگ شدہ پی ڈی ایف فارمیٹ میں موجود ہیں،جن کا آسانی کے ساتھ پرنٹ لیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہاں کی کتابوں کو اقتباس یا حوالے کی صورت میں استعمال کرتے وقت کتابستان ڈاٹ کام کا حوالہ دینا ضروری ہے۔
ہند و پاک میں طلبا اور ریسرچ اسکالرز کے لیے پی، ڈی، ایف فائل کی صورت میں اردو زبان و ادب کے اہم موضوعات پر مشتمل کتابستان ڈاٹ کام کامیابی کی ہر لمحہ نئی تاریخ رقم کر رہا ہے۔کئی مہینوں کی مسلسل سعی کے بعد17 ۱پریل 2016 کو گوشہ مشفق خواجہ کا اجرا عمل میں آیا ہے۔ جو اس ویب سائٹ کے لیے فال نیک ثابت ہوگا۔اس گوشے میں خواجہ صاحب کے متعلق 25 سے زائد کتب و رسائل شامل ہیں۔ جو ان کی شخصیت اور فکر و فن سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ خواجہ صاحب کے خطوط اور کالمز کے مجموعے کا مطالعہ بھی کیا جا سکتاہے۔
’اردو لائف ڈاٹ کام‘ اردو کا پہلا ویب سائٹ ہے جس نے اردو کی ادبی تاریخ میں پہلی مرتبہ قلم دوست ڈاٹ کام کے اشتراک سے ورچوئل مشاعرے کا انعقاد کیا۔ جسے اردو ادب کی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔ اس ویب سائٹ کی ادبی حلقوں میں مقبولیت کی وجہ یہ ہے کہ اردو ادب سے متعلق تقریبا تمام مشہور و معروف شعراء کے کلام ان کی آواز میں موجود ہیں۔محفل مشاعرہ کے عنوان سے مشاعرے کا ڈیٹا بیس ذخیرہ بھی ہے جس میں آپ اپنی پسندیدہ غزلیں اور نظمیں بہ آسانی سرچ کر سکتے ہیں۔اردو لائف ویڈیو کے عنوان کے تحت مشہور و مقبول شعراء کے کلام،انٹرویوز،ادبی تقریبات اور ادبی شخصیات پر ڈاکومنٹری فلموں کا ایک سلسلہ بھی شروع کیا ہے جسے حال ہی میں یوٹیوب پر منتقل کیا گیاہے۔محفل موسیقی کے تحت اس ویب سائٹ پر آپ کو معیاری، نایاب اور کمیاب موسیقی کا ذخیرہ ملے گا۔ اس کی انفرادیت یہ ہے کہ اس طرح کی موسیقی انٹر نیٹ پر دستیاب نہیں ہے۔
’ اردو لائف ڈاٹ کام‘ نے 2006 میں اردو پیڈ کے نام سے انٹر نیٹ پر سب سے پہلے یونی کوڈ میں لکھنے کی سہولت بلا معاوضہ شروع کی،جو اردو کی ترویج و اشاعت میں میل کا پتھر ثابت ہوا۔ اردو پیڈ کے استعمال کرنے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ قارئین کے ادبی ذوق کی تکمیل کے لیے اردو لائف ڈاٹ کام نے آن لائن انٹر نیٹ ادبی شمارے کی شروعات ’ادبی افق‘کے نام سے کی،جس پر ادب کی مختلف شعری و نثری اصناف کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ 
’ارود پوائنٹ ڈاٹ کام‘ انٹر نیٹ کی دنیا میں اردو زبان و ادب کی ترویج و اشاعت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ روز اول سے ہی بزرگ ادیبوں اور استاذ شعراء کے ساتھ نئی نسل کے لکھنے والوں کو بھی بلا تفریق شائع کیا،لیکن ادبی معیار سے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔اردو کی اسی بے لوث خدمت اور مقبولیت کی وجہ سے دنیا بھر سے لاکھوں افراد اردو پوائنٹ کی سیاحت کرتے ہے۔اور معیاری ادب سے اپنے ذوق کی تسکین کرتے ہیں۔اردو کی نئی نسل کے لکھاریوں کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی شفیق استاذ کی طرح کرتا ہے۔ان کی تخلیقات کو مناسب اور موزوں جگہ بھی فراہم کرتا ہے۔اس ویب سائٹ پر مضامین، ادبی تحریریں، کتابیں، شاعری، ٹکنالوجی کے مضامین و خبریں، کالم، اخباری خبریں، مزاحیہ تحریریں اور پکوان سے متعلق تراکیب مطالعے کے لیے مل جائیں گی۔ 
اردو پوائنٹ ڈاٹ کام نے جہاں ادب کی دنیا میں اہمیت حاصل کی وہیں اردو صحافت میں بھی نمایاں مقام حاصل کیا۔ اپنی خبروں، مضامین، کالمزاوراداریوں میں صداقت، سچائی کو فروغ دینے کا کام کیا۔ یہ کام اس نے بغیر کسی اندرونی و بیرونی دباؤ کے بڑی خوبصورتی اور ایمان داری سے انجام دیا۔ اردو پوائنٹ کی اسی حق گوئی اور دیانت داری نے قاری کے اندر یقین و اعتماد پیدا کیا اور آج ’روز نامہ اردو پوائنٹ‘پاکستانی اور بین الاقوامی سائبر صحافت کی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کر چکا ہے۔
عصر حاضر جدید ٹکنالوجی اور تیز رفتار ترقی کا عہد ہے۔ انٹر نیٹ کی ایجاد نے جغرافیائی سرحدوں کے ساتھ تہذیبی، ثقافتی اور لسانی حدود کو بھی منہدم کر دیا ہے۔ غیر ترقی یافتہ زبانیں نزع کی حالت میں دم توڑ رہی ہیں۔ ایسے میں اگر اردو زبان و ادب اور اس کے رسم الخط کو نئی ٹکنالوجی سے ہم آہنگ نہیں کیا گیا، تو ترقی کے اس دور میں ہمارا ادب، ہماری زبان اور ہماری تہذیب جس پر ہمیں فخر ہے، سب سے پیچھے رہ جائیں گی،کیونکہ دور حاضرمیں ترقی و تنزلی کا تمام تر دار و مدار جدید ٹکنالوجی پر ہے۔دراں حالانکہ انٹر نیٹ پر ہزاروں ویب سائٹس اور بلاگس موجودہیں جو ارود کی ترویج و اشاعت کا کام بڑی محنت اور دیانتداری سے کر رہی ہیں۔ان میں سے معیاری سائٹس کا انتخاب کرنا میرے لیے جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ کیونکہ انٹر نیٹ پر اردو میں ڈیجیٹل کتب خانے اور کئی اہم ادبی، تہذیبی، ثقافتی اور تعلیمی سائٹس موجود ہیں لیکن میرے نزدیک اردو کی ان سائٹوں پر موجود مواد کا میعاری اور مستند ہونا شرط تھا۔میں نے انھیں سائٹوں کو اپنے مقالے میں جگہ دی ہے جس پرمتن سند کے ساتھ موجود ہے۔اور جو معیاری ادب کو پیش کرتے ہیں۔انٹر نیٹ پر اردو ادب کے حوالے سے اب تک جو کا م ہوا ہے تشفی بخش تو ہے مگر کافی نہیں ہے۔ اس پر ابھی اور کام کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ اردو کا ادبی سرمایہ اپنے صحیح متن کے ساتھ قارئین تک پہنچے۔اس ضمن میں کچھ ویب سائٹیں اچھا کام کر رہی ہیں مثلا بہار اردو یوتھ فورم،کتابستان ڈاٹ کام اور ریختہ ڈاٹ او آر جی دنیا قابل ذکر ہیں، جن کی ستائش اور پذیرائی ہونی چاہیے۔

Dr. Khan Mohd Asif
Faculty Dept of Indian Language & Literature
School Humanities and Social Sciences
Gautam Buddha University
Gautam Buddha Nagar
Greater Noida - 201310 (UP)






قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

1/3/19

اردو میں رپورتاژنگاری کا فنی جائزہ مضمون نگار:۔ ارشاد احمد خاں



اردو میں رپورتاژنگاری کا فنی جائزہ


ارشاد احمد خاں
رپورتاژ نگاری اردو نثر کی جدید ترین صنف ہے جس میں فنی طور پر علمی مجلسوں ، ادبی محفلوں، سیمیناروں، کانفرنسوں اور اجتماعات کی روداد پیش کی جاتی ہے۔ لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ یہ صنف طویل وقت گزر جانے کے بعدبھی ایک تجربہ کا درجہ رکھتی ہے۔ جس میں افسانوی انداز کی جذباتیت اور غیر افسانوی طرز کی روداد نگاری کار فرما نظر آتی ہے۔ عام طور پر چشم دید واقعات کو خیال آرائی اور زبان کی چاشنی کے ساتھ بیان کرنا رپورتاژ سمجھا جاتا ہے۔ ایک لحاظ سے رپور تاژ میں جہاں واقعہ کا تفصیلی ذکر ہوتا ہے وہیں احساسات اور تاثرات کو بھی روداد کی شکل میں بیان کیا جاتا ہے۔ جس کے پس منظر میں رپورتاژ ایک ایسی صنف قرار پاتی ہے جس میں صحا فتی انداز اورا مورخانہ شعور کے ساتھ ساتھ تاثرات اور احساسات کا اظہار کچھ اس انداز سے ہوتا ہے جس کی وجہ سے بیان میں ادبیت اور رومانیت کی روداد ایک جذباتی تصویر کو ابھارتی ہے۔ اسی خصوصیت کی وجہ سے رپورتاژ ایک غیر افسانوی صنف نثر ہونے کے با وجود افسانوی انداز کی کارفرمائی کے ذریعے اپنی انفرادیت کا لوہا منواتی ہے۔
رپورتاژ کی پہچان اس کی اپنی ہیئت سے زیادہ اس کے اظہار میں پوشیدہ ہے۔ اس صنف میں کوئی بھی گزرا ہوا واقعہ اظہار کی تہوں تک پہنچتا اور تخلیق کا ر کے اندر چھْپے ہوئے رومانوی احساس کو جگاتا اور پھرمصّورانہ چابکدستی کے ساتھ ایسی تخلیق کو اْجاگر کرتا ہے جو واقعات کی لپیٹ میں مرقع کاری کا درجہ رکھتی ہے۔رپورتاژ کو ایک غیر افسانوی صنف کا درجہ حاصل ہے جس میں افسانویت اور کہانی پن کا وجود نہیں ہوتا۔بلکہ گزرے ہوئے واقعات کی دلچسپ انداز میں تصویر کشی ہوتی ہے۔احتشام حسین نے رپورتاژ کی صنفی حیثیت کو قبول کرتے ہوئے یہ لکھا ہے۔۔۔
’’رپورتاژ کو ہم واقعات کی ادبی اور محاکاتی رپورٹ کہہ سکتے ہیں۔‘‘1
احتشام حسین نے رپورتاژ کو ایک صنف تو قبول کیا ہے لیکن اس حقیقت کا اعتراف نہیں کیا کہ اس کی حیثیت رپورٹ سے قطعی مختلف ہے۔رپورٹ میں تاثرات اور واقعات کی عکاسی ہوتی ہے جس کی وجہ سے اس صنف میں جذبات اور احساسات کا گزر نہیں ہوتا۔ان خصوصیات کی وجہ سے رپورٹ کو بہر کیف رپورتاژ سے ایک علیحدہ صنف ہی تصّور کیا جائے گا۔اس اعتبار سے رپورتاژ ایک ایسی صنف ہے جس میں رپورتاژ نگار عینی شواہد کے طور پر ٹھوس اور صحیح واقعات اور گزرے ہوئے حادثات کا بیان کچھ اس انداز سے کرتا ہے کہ اس میں اس کے جذبات اور احساسات کی شمولیت بھی ہوتی ہے اور اسی کارفرمائی کی وجہ سے رپورتاژ اور نامہ نگاری (Reporting) میں فرق پیدا ہوجاتا ہے۔عام طور پر رپورتاژ میں بیتے ہوئے گزرے ہوئے واقعات کی سرگذشت اور حقیقی گزرے ہوئے واقعات کا ایک خاص رنگ اور مخصوص اسلوب میں بیان کیاجاتا ہے۔چنانچہ رپورتاژ اسی سچائی کا واضح اعتراف ہے۔رپورتاژ میں واقعات کے بیان کے دوران ایسا انداز اختیار کیاجاتا ہے کہ واقعیت میں کوئی فرق نہ آئے اور پڑھنے والا انھیں پوری دلچسپی اور انہماک کے ساتھ پڑھے اور یہ محسوس کرے کہ وہ ان واقعات کا عینی شاہد ہے۔رپورتاژ کی رپورٹ ،روزنامچہ اور دیگر نثری اصناف سے ممتاز اور مہمیز کرنے کے لیے کسی بھی متن میں حسب ذیل اْصولوں کی جانچ ضروری ہے۔بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ رپورتاژ نگاری کا فن اور اس کا اظہار حسب ذیل عنوانات کے ساتھ ممکن ہے۔
(1) اسلوب (2)ہیئت (3) صحافت (4)رومانیت (5) افسانویت (6) واقعیت 
(7) قوت تحریر (8) اقتباسی عمل ( 9) جبریہ انداز۔ 
.1اسلوب: رپورتاژ میں مخصوص خبریہ اور جزیات کی شمولیت کی وجہ سے اس صنف کی تخلیقی حیثیت ایک آزاد صنف کی ہوجاتی ہے۔ خاص قسم کی لفظیات جو عمیق مشاہدہ کے نتیجے میں فنکار پر اثر انداز ہوتی ہیں اور رپورتاژ کے اْسلوب کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔چونکہ رپورتاژ کا ایک مخصوص ڈکشن ہوتا ہے اس لیے اس کا اسلوب دوسری اصناف نثر سے بالکل مختلف ہے۔ بقول سید عابد علی عابد : 
’’اسلوب کے معانی یہ ہیں کہ فنکار کسی سلسلہ فکر کے اظہار کے وقت وہ تمام کوائف شامل کرے جو سلسلہ فکر کے کامل ابلاغ کے لیے ضروری ہیں۔‘‘2
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بیشتر رپورتاژ نگار اپنے اسلوب میں افسانوی طرز کو شامل کرکے اس صنف کو دلکش اور دلچسپ بنادیتے ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ اردو کے بیشتر رپورتاژ نگار یا تو ناول نویس ہیں یا پھر افسانہ نگار۔ چونکہ افسانے کے اسلوب میں دلکشی اور جا معیت ہوتی ہے اس لیے اردو کے اکثر رپورتاژ نگار واقعہ کے بیان کے لیے اسلوب کا سہارا لیتے ہیں۔ کسی بھی بیانیہ کو واقعہ سے مربوط کرنے کے لیے نثر کے مختلف اسالیب موجود ہیں۔ لیکن رپورتاژنگاری میں موجود واقعہ کو بیان کرنے کے لیے غیر افسانوی اسلوب کی وجہ سے دلکشی میں فرق پیدا ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔ اسی لیے اکثر رپورتاژنگار افسانوی اسلوب کے ذریعے اس صنف کے فروغ میں حصّہ لیتے ہیں۔
اسلوب کا تعین الفاظ کے محل استعمال اور جملوں کی ساخت پر ہوتا ہے۔ اسی لیے رپورتاژنگار کو بیانیہ کے دوران وہی لفظیات اور پیرایۂ اظہار سے کام لینا پڑے گاجو واقعہ کی سطح کو دلچسپ انداز میں پیش کرسکے۔ ایسے مشکل اسلوب کے کھردرے پن کی دوری اسی وقت ممکن ہے جب کہ واقعہ کی کرختگی کو سبک اور رواں لفظوں کے ذریعے نمایاں کیا جاسکے۔ چنانچہ رپورتاژنگار اسلوبیاتی سطح پر اسی لیے افسانوی طرز کا سہارا لیتے ہیں کہ واقعہ میں موجود حقیقت کا بیان لفظوں کے پیرہن کی وجہ سے اصل کی نقل ہوجاتا ہے اور کسی فن کا جز نہیں بن سکتا۔ اس نقلی سطحیت کو دور کرنے کے لیے افسانوی اسلوب ہی کار آمد ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رپورتاژنگاری میں اختیار کیا جانے والا اسلوب غیر افسانوی نثر سے دور اور افسانوی نثر سے قریب ہوتا چلا جاتا ہے، جس کی نشاندہی منظر عباس نقوی اس انداز سے کرتے ہیں:
’’ کسی اسلوب کی تشکیل میں یوں تو مصنف، ماحول، موضوع، مقصد اور مخاطب سب ہی عناصر کارفرماہوتے ہیں لیکن عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ ان میں سے کوئی ایک عنصر دوسرے پر غالب آجاتا ہے جس کی وجہ سے اسلوب میں ایک امتیازی شان پیدا ہوجاتی ہے۔‘‘3
رپورتاژ نگاری میں افسانوی اسلوب کی جھلک کو مناسب قرار دیتے ہوئے عبدالعزیز اس طرح فیصلہ سناتے ہیں۔
’’ رپورتاژ کے ارتقا کا عہد افسانوی ادب کے عروج کا زمانہ ہے۔ناول کی شہرت اور قبولیت کا زمانہ ہے۔ لا محالہ ان اصناف کی ہئیت و اسلوب کا اثر رپورتاژ پر پڑنا ایک فطری عمل تھا۔‘‘4 
اس طرح یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ رپورتاژ ایک غیر افسانوی نثر ہونے کے باوجود اس میں افسانوی اسلوب کا اختیار کرنا ایک موزوں و مناسب اقدام ہے۔
.2ہیئت: واقعہ کی ہمہ گیری یا اس کی وسعت کے بیان کے لیے رپورتاژ نگاری میں جو طرز اختیار کیاجاتا ہے اسے ہیئت کہا جاتا ہے۔رپورتاژ کا وہ ظاہری ڈحانچہ جسے بنیاد بنا کر اس صنف کی شناخت ہوسکتی ہے وہی ہیئت طوالت ،ایجاز و اختصار،تاثر اور ہمہ گیری سے مربوط ہے۔اگرچہ رپورتاژ کی نوعیت ایک واقعہ کے دلچسپ بیان میں ہے اور اس واقعے میں حقیقت کا ظہور ہونے کی وجہ سے وہ مبالغہ یا من گھڑت(فکشن) سے بے نیاز ہوتا ہے۔اس لیے رپورتاژ کی ہیئت افسانوی نثر سے مختلف ہونی چاہیے لیکن رپورتاژ نگار واقعہ کی حقیقت کو دلچسپ انداز میں پیش کرنے کے لیے افسانوی طرز کا سہارا لیتا ہے اور واقعہ کی جزئیات کے بیان کے معاملے میں تمام افسانوی لوازمات کو بروئے کارلاتے ہوئے وہی نہج اپناتا ہے جو افسانوں کے کرداروں کے بیان میں لازمی ہے۔اس لیے رپورتاژ نگاری میں ایجاز و اختصارکا معاملہ مبالغہ کے بغیر حقیقت کا عکاس بن جاتا ہے۔جس میں فرق یہ ہے کہ رپورتاژ کی ہیئت میں نقطہ عروج،کشمکش اور انجام افسانوی نوعیت کا نہیں ہوتابلکہ ان پر حقیقت کا گہرا اثر ہونے کی وجہ سے رپورتاژ کی ہیئت اور افسانویت سے استفادے کے باوجود بھی حقیقت پسند اور غیر افسانوی طر ز کی نمائندہ ہوتی ہے۔موجودہ واقعات کا بیان رپورتاژ نگاری کی ہیئت کے اعتبار سے افسانے اور ناول جیسی اصناف سے مختلف کردیتا ہے۔
رپورتاژ نگاری کی ہیئت کے تعیّن کے لیے ایک نقاد کو افسانوی اور غیر افسانوی دونوں اصناف نثر سے واقفیت رکھنا ضروری ہے اور یہی حال رپورتاژ نگار کا ہوتا ہے ۔اردو میں رپورتاژ نگاری مکمل طور پر کامیاب نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہی رہی کہ افسانوی اور غیر افسانوی ہیئت سے واقف قلمکار اردو میں بہت کم ہیں اسی لیے رپورتاژ نگاری میں افسانویت در آئی ہے۔ہیئتی اعتبار سے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ رپورتاژ میں افسانوی اور غیر افسانوی اصناف کا ایک حسین امتزاج پایا جاتا ہے جس کے ذریعے واقعے کی سطح کو افسانوی اسلوب دے کر ہیئت کو معتبر بنایا جاتا ہے۔ اس کی مثال کڑوی دوا کو شکر میں لپیٹنے سے دی جاسکتی ہے۔یعنی رپورتاژ نگار واقعے یا حادثے کا عینی شاہد ہونے کے باوجود اس کی حقیقت کو ہیئت کے اعتبار سے روداد نہیں بننے دیتا بلکہ افسانوی ایجاز و اختصار اور تاثر کے ذریعے اس میں وحدت تخیل پیدا کر دیتا ہے اور اگر یہ طرز اختیار نہ کیا جائے تو رپورتاژ کا فن مجہول ہوکر رہ جائے گا۔ایک اعتبار سے رپورتاژ کی ہیئت واقعہ کے بیان اور طرز اسلوب کے اعتبار سے بدلتی اور واقعہ کو دلچسپیوں میں لپیٹتے ہوئے آگے بڑھتی ہے ۔ اس لیے کامیاب رپورتاژ کو کسی ایک ہیئت میں قید کرنا ممکن نہیں ہے۔ہیئت اور اس کی بدلتی ہوئی حالتوں سے متعلق ڈاکٹر عنوان چشتی اس طرح رقمطراز ہیں۔
’’ کسی فن پارہ میں ایک سے زیادہ ہیئتیں ہوتی ہیں۔ ہیئت بہت سے ہیئتی عناصر کا مجموعہ ہوتی ہے۔یعنی ساخت،معنی اور اظہار معانی وغیرہ کا مجموعہ ہوتی ہے وہ فنّی کل جس کو ہیئت کا نام دیا جاتا ہے۔ساخت،معنی اور خصوصیات کا مجموعہ ہوتا ہے۔جو کسی فن پارہ پر بحیثیت ہیئت غالب رہتا ہے ۔ اس طرح ہر ایک فن پارہ تمام تر معنی اور تمام تر ساخت ہے اور اس میں وہ عنصر بھی شامل ہے جس نے اسے معانی اور ساخت عطا کی ہے۔چونکہ مواد اور ہیئت ہر فن میں موجود ہیں اس لیے کوئی بالغ نظر نقاد کسی فن پارہ کو محض اس نظر سے نہیں دیکھتا کہ اس کا مواد کیا ہے۔بلکہ وہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ اس مواد کو کیا شکل دی گئی ہے؟یا اسے کون سی ساخت اور کون سے معنی عطا کیے گئے ہیں۔جہاں مواد ہے وہاں ہیئت ہے۔جہاں ہیئت ہے ،وہاں مواد ہے۔ان دونوں کو جداکرنے کے لیے ذہنی تجرید کی ضرورت ہوتی ہے۔عملاً ان کی جدائی ممکن نہیں۔اس وحدت کے سہارے مواد اور ہیئت اپنا وجود باقی رکھتے ہیں۔‘‘5
ڈاکٹر عنوان چشتی کی اس بحث سے واضح ہوجاتا ہے کہ ساخت،معنی،اور اظہار کے ذریعے کسی فن پارے کا وجود عمل میں آتا ہے۔چنانچہ رپورتاژ کی صنف بھی ایک ہیئتی اکائی رکھنے کے باوجود معنی اور اظہار کے معاملے میں افسانوی اور غیر افسانوی دونوں طر ز اسلوب سے استفادہ کرتی ہے۔جس سے رپورتاژ کے طرز بیان میں حسن پیدا ہوجاتا ہے۔
.3صحافت: مبصر انہ شان اور روداد نگاری کی خصوصیت ایک رپورتاژ میں صحافت کے ذریعے پیدا ہوتی ہے۔صحافت کا مقصد ترجمانی ،اظہار واقعہ اور اطلاع دینا ہوتا ہے جس کے لیے موزوں اور مناسب الفاظ کے سہارے صحافی اصل واقعے یا حادثے کی رپو رٹنگ کرتا ہے ۔اگرچہ صحافت کی جملہ ضروریات کی تکمیل رپورتاژ نگاری میں ہوتی ہے لیکن رپورتاژ اور صحافت میں بنیادی فرق یہی ہے کہ ایک صحافی واقعے کی روداد بیان کرنے کے دوران معروضی طریقہ اختیار کرتا ہے اور اپنی شخصیت کو روداد سے علیحدہ رکھ کر صحافت کی رپورٹنگ کا حق ادا کرتا ہے۔ جب کہ رپورتاژ نگار کے لیے لازمی ہے کہ وہ واقعہ کے بیان اور تصویر کشی کے دوران اس قدر ڈوب جائے کہ اس کی شخصیت واقعہ سے منسلک ہوکر واقعہ کے ایک جز کا درجہ حاصل کرلے ۔ اس عمل سے گزرنے کے بعد لکھا جانے والا رپورتاژ ہی حقیقی روداد پیش کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔اور رپورتاژ نگاری صحافت سے قریب ہوتے ہوئے بھی صحافت سے بڑی صنف کا درجہ حاصل کرلیتی ہے۔ ایک صحافی واقعہ کے بیان سے دلچسپی رکھتا ہے جب کہ رپورتاژ نگار واقعہ میں پوشیدہ پہلوؤں کو اپنی ذات سے وابستہ کرکے لفظوں کی بندش میں قید کرتا ہے۔ جس کی وجہ سے اظہار کا ایک نئی زندگی کی حیثیت سے جنم ہوتا ہے۔ اس انفرادیت کی وجہ سے رپورتاژ کو صحافت سے بالکل مختلف اور مورّخ کے انداز سے قریب رکھنے والی صنف کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ادبی رپورتاژ کے نام سے پہچانے جانے والی یہ صنف صحافتی خصوصیت کی بھی آئینہ دار ہوتی ہے۔
صحافت میں رپورٹنگ ۔ایڈیٹنگ اور تسلسل کا عمل دخل ہوتا ہے۔ عام طور پر صحافی اہم جملوں یا فقروں سے اطلاع کا آغاز کرکے اس کی تزئین میں اضافہ کرتا ہے جسے لیڈنگ (Leading) کا نام دیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے کسی اطلاع کی رتیب کو آگے پیچھے کرنے کا حق صحافی کو حاصل ہے۔ رپورتاژ نگار بھی روداد بیان کرنے کے دوران اس صحافتی طریقے سے استفادہ کرتا ہے اور اسے مناسب ترتیب میں لانے کے لیے لیڈنگ کا سہارا لے کر رپورتاژ کی تزئین میں چار چاند لگا دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ صحافت کی لیڈنگ کا عمل رپورتاژ کی صنف پر اثر انداز ہوتا ہے ۔اسی لیے رپورتاژ کی صنف کے لیے صحافت کے اصولوں کو بروئے کار لانے اور اسے استعمال کرنے سے کسی صورت انکار نہیں کیا جاسکتا۔ صحافت میں استعمال ہونے والی انٹرولیڈ جس کا استعمال رپورتاژ میں بھی کیا جاتا ہے۔ اس کی تعریف و توصیف کرتے ہوئے سید ضیاء اللہ لکھتے ہیں۔۔۔
’’ انٹر ولیڈکسی خبر کے پہلے پیراگراف کو کہتے ہیں۔ یہ پیراگراف خبر میں سب سے اہم رول ادا کرتا ہے۔ اس کے لکھنے پر جتنا وقت صرف کیا جائے خبر اتنی ہی دلچسپ بنتی ہے اور قاری کو پڑھنے کی ترغیب دیتی ہے ۔ بھارت میں یواین آئی اور پی ٹی آئی کی انگریزی خبریں لکھنے کا قاعدہ یہ ہے کہ انٹرولیڈ میں چالیس سے زیادہ الفاظ استعمال نہ کیے جائیں۔ بیرونی ممالک کی ایجنسیوں نے تیس(30) لفظوں کی قید لگارکھی ہے۔ انگریزی اخبارات کے خصوصی نامہ نگار انٹرولیڈمیں ایک تا چالیس لفظ کی پابندی نہیں کرتے۔اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ خصوصی نامہ نگاروں کی رپورٹیں ٹھوس خبریں نہیں تجزیے ہوتے ہیں۔انٹرولیڈ میں استعمال ہونے والے تیس چالیس الفاظ انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ اگر ان لفظوں نے قاری کو خبر پڑھنے پر مجبور نہ کیا تو انٹر ولیڈ نا کام سمجھا جاتا ہے۔ اس پیراگراف میں ساری خبر کا مُلخّص ہوتا ہے ۔ اگر پوری خبر سب ایڈیٹر نے پڑھی نہیں اور سطحی باتوں پر انٹرولیڈ لکھا گیا تووہ پھُسپھُسا اور کمزور ہوتا ہے۔ اور قاری کو راغب نہیں کرتا ۔ لہذا سب ایڈیٹر کو پوری خبر غور سے پڑھ کر اس کی روح تک پہنچنا چاہیے ۔ اصولی بات تو یہ ہے کہ لیڈ پیرگراف میں اتنی تفصیلات دی جائیں کہ خبر کی باقی ساری عبارت بہ شرطِ ضرورت حذف بھی کردی جائے تو اس ایک پیراگراف کے پڑھنے سے خبر کی اصل بات قاری تک پہنچ جائے۔‘‘6
اردو کے بیشتر رپورتاژ نگاروں نے اپنے رپورتاژ کی تحریر کے دوران صحا فت کے انٹرولیڈ کے طریقے کو اختیار کیاجس سے یہ ثبوت ملتا ہے کہ رپورتاژ نگار نے صحافت کے جدید طریقے سے بھرپور استفادہ کیا ہے۔ جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے علی سردار جعفری یہ لکھتے ہیں۔
’’یہ صنف ادب بالکل نئی ہے لیکن ہے انتہائی اہم۔ یہ صحافت اورافسانے کی درمیانی کڑی ہے اور اس سے ہمارے ادب کو بے انتہا فائدہ مل سکتا ہے۔‘‘7
.4 رومانیت : عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ جنس اور جذبے کا اظہار رومانیت ہے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ خاص قسم کی لفظیات اور یکساں طرز اور جذباتی وابستگی کو مخصو ص انداز میں بیان کرنا بھی رومانیت ہے۔ ڈاکٹر محمد حسن نے اقبال کی شاعری میں الفاظ کے مخصوص استعمال کو رومانویت سے تعبیر کرتے ہوئے لکھا ہے۔
’’ اس طرح اقبال کی شاعری میں رومانوی اثرات بہت نمایاں طورپر نظر آتے ہیں۔ ان کے یہاں جذبات اور وجدان کی افراط اور غلبہ اس قدر زیادہ ہے کہ اگر ان کو رومانوی شاعر کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ اقبال نے عقل اور عشق کے لفظوں سے نیا جہاں بسایا ، اس جہاں کی تعمیر میں جذبہ اور وجدان کی اہمیت بنیادی ہے گو اس کی تکمیل کے لیے اطاعت اور جماعتی احساس کی ضرورت ہے۔ یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ اقبال، روسو کی طرح خودی کے بے پناہ جذبے کی شدت پر عقل کے ذریعے نہیں عشق یعنی شدید تر جذبے کی مدد سے قابو حاصل کرنے کامشورہ دیتے ہیں۔‘‘8
ڈاکٹر محمد حسن کے بیان سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ لفظوں کے استعمال کے وقت جذبے کی شدت اور وجدان کا غلبہ حد درجہ شدید ہوتو لفظوں کا محل استعمال بھی اسے رومانویت میں جگہ دیتا ہے جو کسی بھی تحریر کو رومانی بنانے کے لیے کافی ہے۔ اس لحاظ سے رپور تاژ میں بھی لفظوں کے دروبست اور اس کی شدت اور وجدانیت کے ذریعے رومانیت پیدا کی جاتی ہے جو اس صنف میں رومانیت کی کارفرمائی کا ثبوت ہے۔
رپورتاژ نگاری میں اس قسم کی رومانیت کا سہارا لیا جاتاہے۔ لفظوں کا تسلسل احساسات کی بر انگیختگی اور جذبات کی بر افرختگی کے ساتھ ساتھ تاثر اور تعیّن کا ایک ایسا جادوئی سلسلہ جو واقعہ یا روداد بیان کرنے کے دوران اختیار کیا جاتا ہے وہ رپورتاژنگاری کی روح ہے۔ اگر اس رومانیت کو بروئے کار نہ لایا جائے تو رپورتاژ ایک بے جان لاش کی طرح ہوجائے گی ۔ لیکن اس کی گرفت اس قدر پختہ ہوتی ہے کہ رپورتاژنگار اس کے جادو سے باہر نہیں نکل سکتا۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ یہ صنف تبصرہ کے حدود سے نکل کر تفسیر عمل کی علمبردار ہوجاتی ہے۔ رپورتاژنگار اگر چہ واقعہ کو حقائق کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ لیکن اس کے اندر کا فنکار اپنی تیسری آنکھ سے لفظوں کے ایسے تانے بانے بنتا ہے جس کی وجہ سے یہ صنف ایک رومانی فضا میں آگے بڑھتی اور قاری کو متاثر کرکے اپنے تاثر کو دیر پا بنادیتی ۔ رپوتاژنگاری کی یہ خصوصیت کسی حد تک ادب لطیف میں دکھائی دیتی ہے جس میں جمالیاتی احساس نمایاں ہوتا ہے۔ رپورتاژنگار جمالیاتی احساس کی شدّت کو محسوس کرکے اسے لفظوں میں بیان کرنے پر پوری قدرت رکھتا ہے جس کی وجہ سے رپورتاژنگاری کی صنف ایک قسم کے رومانی احساس کو جگاتی ہے۔ جس میں جنس کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا بلکہ فنکارکے الفاظ کا دروبست فطرت کا دلنشیں اظہار نہ صرف واقعہ کے بیان سے مربوط ہوکر ایک ایسی فضا تیار کرتا ہے جو رمزیت اور اشاریت سے بالکل بے نیاز اور حقیقت کے اظہار کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رپورتاژنگاری کی رومانیت میں تشنگی کی بجائے تازگی اور زندگی کی نمایاں جھلک دکھائی دیتی ہے۔
.5افسانویت : واقعات ،پلاٹ،کردار اور آغاز و انجام سے مربوط من گھڑت واقعہ کو افسانہ میں شامل کیا جاتا ہے۔چونکہ افسانے میں کردار حقیقی نہیں ہوتے اور واقعہ بھی خیالی ہوتا ہے اس لیے اس کے بیان کرنے کے لیے اختیار کیا جانے والا طرز مخصوص لفظیات اور جمالیاتی احساس کی وجہ سے افسانویت کی دلیل سمجھا جائے گا۔افسانویت کا اطلاق جہاں افسانوی تحریر پر ہوتا ہے وہیں ناول کی تحریر میں بھی نمایاں دکھائی دیتا ہے ۔اس افسانویت کی وجہ سے کسی بھی تحریر میں متاثر کرنے کی صلاحیت اور جذباتی وابستگی کا وقار پیدا ہوجاتا ہے۔یہ انداز دوسری غیر افسانوی اصناف میں دکھائی نہیں دیتا لیکن رپورتاژ نگاری میں اس کا دخل حد درجہ نمایاں ہے۔شاید اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ رپورتاژ نگار حقیقی واقعہ کو افسانویت کے ذریعے دلفریب بناکر جذباتی تاثر پیدا کرنا چاہتا ہے اس کیفیت کی وجہ سے رپورتاژ کی صنف میں جمالیاتی احساس اور رومانوی فضا بندی اپنا اثر دکھاتی ہے ۔رپورتاژ میں افسانویت کے اثر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے طلعت گل یہ لکھتی ہیں۔۔۔
’’رپورتاژ میں افسانے اور ناول کی طرح کہانی پن ہوتا ہے لیکن پہلے سے گھڑا ہوا یا تیار کیا ہوا پلاٹ نہیں ہوتا۔پلاٹ یہاں واقعات اور کرداروں کے ذریعے خود بہ خود بنتا چلا جاتا ہے۔‘‘9
رپورتاژ میں افسانویت کا عمل اظہار کی حد تک روا رکھا جاتا ہے اور اسے روبہ عمل لانے کے لیے رپورتاژنگار حقیقی روداد کو افسانوی ماحول کے سہارے ایک ایسی جنّت کی سیر کراتا ہے جو حقیقی ہونے کے باوجود افسانوی لگتی ہے۔یہاں پر رپورتاژ نگار کا یہ کمال ہوتا ہے کہ وہ اپنے بیان کو افسانوی پرتوں میں چھپائے رکھتا ہے جس کے باوجود بھی واقعہ کی حقیقت ان پرتوں سے چھن چھن کر سامنے آنے لگتی ہے ۔ رپورتاژ نگاری میں افسانویت کا ایک یہی ایسا کمال ہے جس کی وجہ سے یہ صنف مکمل طور پر افسانوی نثر سے اپنا رابطہ توڑ کر غیر افسانوی ہوجاتی ہے۔لیکن اس میں افسانوی فضا کی کارفرمائی بہر حال محسوس کی جاسکتی ہے۔بقول ڈاکٹر صبیحہ انور : 
’’رپورتاژ بیک وقت کئی چیزوں کا مرکب ہوتا ہے۔لیکن رپورتا ژ نگار کو یہ آزادی بہر حال ہوتی ہے کہ وہ واقعات کا بیان کرنے کے ساتھ ان جذبات کو بھی سمیٹ لے جن پر عام طور سے لوگوں کی نظر نہیں گئی ہے یا جن کودرخود اعتنا نہیں سمجھا گیا ہے۔‘‘10
رپورتاژ میں اگرچہ افسانویت کا غلبہ زائد ہوتا ہے اور افسانوی ماحول کی کارفرمائی دکھائی دیتی ہے۔لیکن عبدالعزیزکے مطابق یہ کہنا بھی مناسب ہے۔
’’فنی ساخت کے اعتبار سے ابتدا ہی سے رپورتاژ کو ناول، ناولٹ اور مختصر افسانہ کی قبیل کا سمجھا گیا ہے۔افسانہ، ناولٹ ،ناول کی طرح رپورتاژ میں بھی ایک ارتقائی عمل، کرداروں کی تشکیل اور تہذیب ہوتی ہے۔نقطہ نظر کامجموعی تاثر ،مکالمہ،پلاٹ ،ارتقا ابتدا اور انتہاو انجام سب کچھ افسانے کی طرح ہوتا ہے۔اس لیے عموماً نقاد افسانے کی تکنیک و تنقید کے تمام اصول و ضوابط رپورتاژ پر منطبق کرتے آئے ہیں۔‘‘11
ان حوالوں کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کرنا آسان ہوجاتاہے کہ رپورتاژ میں افسانویت کا تعلق نہ تو ہیئت سے ہے اور نہ ہی اسلوب سے ۔لیکن اس صنف میں افسانویت کا داخل ہوجانا ایک ایسا عمل ہے جس کی وجہ سے مواد اور ساخت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی بلکہ اس کے اظہار میں حسن اور جمالیاتی کشش پیدا ہوجاتی ہے۔ اسی وجہ سے رپورتاژ نگاری میں موجود افسانویت کو خارجی عمل کا درجہ نہ دیتے ہوئے اسے اس صنف کی حْسن کاری میں شامل کیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔
.6واقعیت: کسی حادثہ، واقعہ یا پروگرام کا ظہور پذیر ہونا ایک ایسا عمل ہے جو حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے چنانچہ کسی واقعہ یا حادثہ سے روداد بیان کرتے وقت اس کے لوازمات اور جزئیات کو اپنی قوت تمیز سے پیش کرنے کا عمل ایک علیحدہ صنف تو قرار دیا جاسکتا ہے لیکن سماجی،معاشی ،ادبی ، معاشرتی سطح پر ظہور میں آنے والا کوئی بھی مرحلہ بہر حال واقعیت کی دلیل ہوتا ہے۔اس واقعیت کے اسرار و رموز اس کے مختلف پہلوؤں کو جدّت تخیل و شعور اور فہم و دانش کے سہارے سے بیان کرنا رپورتاژ نگاری ہے ۔یہ بات ممکن ہی نہیں کہ کوئی واقعہ ظہور پذیر نہ ہوا ہو اور اس کے بارے میں رپورتاژ لکھ دی جائے۔یعنی رپورتاژ کی اولین شرط واقعہ کا ظہور پذیر ہونا ہے۔اور یہی ظہور پذیری رپورتاژ کی صنف میں واقعیت کا درجہ رکھتی ہے۔رپورتاژنگاری کی واقعیت کا ثبوت فراہم کرنے کے لیے ڈاکٹر اعجاز حسین کی تصنیف ’ نئے ادبی رجحانات‘ سے یہ اقتباس پیش کیا جاسکتا ہے۔
’’رپورتاژ نگاری میں کردارفضا،ماحول کرداروں کے عمل، مکالمہ،واقعہ نفس مضمون ، موضوع سب کچھ حقیقی ہوتا ہے ۔اور کوئی شخص متذکرہ مقام پر پہنچ کر اس کی تحقیق کرسکتا ہے اور متذکرہ اشخاص کو رپورتاژکے خاکے کے ذریعے پہچان بھی سکتا ہے۔‘‘12
اس پہچان کے ذریعے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ رپورتاژ میں افسانویت کا عمل اظہار کی حد تک محدود ہے جب کہ واقعیت رپورتاژ کی صنفی اور حقیقی ضرورت ہے۔جس سے اجتناب رپورتاژ کی بنیاد کو کھوکھلا کردیتا ہے۔اس لیے رپورتاژ نگار کو واقعیت پر توجہ دینا اور واقعہ کو جزئیات کے ساتھ بیان کرنا ضروری ہے تاکہ اس صنف کی بنیادی ضرورت کی تکمیل ہوسکے۔
.7قوّت تحریر: ترسیل کے لیے اختیار کی جانے والی زبان نہ صرف الفاظ و معانی اور مفہوم کو ادا کرتی ہے بلکہ پیکریت ،ایمائیت یا پھر جمالیاتی احساس کے ذکر کا ذریعہ اظہار بنتی ہے جس کی وجہ سے ذوق سلیم کی تربیت اور مفہوم کی ادائیگی کا حق ادا ہوتا ہے ۔ہر فن پارہ کے اظہار کے لیے قوّت تحریر اس کی صنفی حیثیت کے لحاظ سے مختلف ہوجاتی ہے۔چنانچہ مقالہ نگاری کے دوران قوت تحریر کا انداز توصیفی یا تہنیتی نہیں ہوگا بلکہ موضوعی یا حوالہ جاتی حیثیت اختیار کرے گا۔ اسی طرح سے افسانوی تحریر نہ تو حوالہ جاتی ہوسکتی ہے اور نہ ہی حقیقت پسند۔اس طرح سوانحی نثر اور خاکہ نگاری کی نثر میں بھی قوّت تحریر کا عمل ایک دوسرے سے مختلف ہوگا۔یہی حال وقائع نگاری،سفر نامہ نویسی اور خود نوشت سوانح کی تحریروں کا ہے۔انشائیہ کی قوت تحریر بھی دوسری نثری اصناف سے مختلف ہوتی ہے جس سے یہ ثبوت ملتا ہے کہ ہر صنف کی قوت تحریر کے تقاضے دوسری صنف کی تحریروں کے تقاضوں سے بالکل مختلف ہیں۔اس بیان سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ رپورتاژ نگاری کی قوّت تحریر بھی دوسری نثری اصناف سے بالکل مختلف ہے۔
عام طور پر رپورتاژ نگار کسی واقعہ کی ترجمانی کا ایک مربوط خاکہ مرتب کرلیتا ہے اور اس خاکے کو حقیقی کرداروں اور ان کے عمل سے مالا مال کرکے ایسے الفاظ میں مرقع کاری کرتا ہے کہ واقعات اور حالات کی سطح ، ربط و تسلسل اور قوت اظہار کی تمام ضرورتیں ادبی رنگ و آہنگ سے وابستہ ہوجاتی ہیں۔اسی وجہ سے رپورتاژ نگاری کی قوّت تحریر حقیقتوں کی عکس کشی،شعوری روّیوں کی دل بستگی کے علاوہ شخصی اور اجتماعی کیفیتوں کی معرکہ آرائی سے اس طرح کار فرما نظر آتی ہے جس سے قوّت تحریر کا ایک اچھوتا انداز نمایاں ہوتا ہے۔اسی لیے رپورتاژ نگاری میں جہاں سرگرمیوں کا احاطہ ہوتا ہے وہیں مصروفیات اور مشاغل کی تصویر کشی ممکن ہے۔اور اس تصویر کشی کے دوران جو قوّت تحریر رونما ہوتی ہے۔اس میں ادبیت،صحافت،رومانویت اور افسانویت کا حسین امتزاج ہوتا ہے۔جس کی وجہ سے رپورتاژ کی قوّت تحریر اظہار کی تمام ترلذت اور ادبی مذاق کی آئینہ دار ہوجاتی ہے۔رپورتاژ کی قوّت تحریر کی انفرادیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے طلعت گْل یہ لکھتی ہیں۔۔۔
’’زبان اتنی صاف شستہ اور رواں ہوکہ پڑھنے والے کی نظروں کے سامنے واقعات کی تصویر سی کھنچ جائے۔قاری ہر بات کو صاف دیکھنا اور سننا چاہتا ہے۔ اس لحاظ سے رپورتاژ میں فلسفیانہ خیالات کے بیان کی گنجائش نسبتاً کم ہوتی ہے۔اس میں جذبات ،واقعات کی جیتی جاگتی تصویریں ہونی چاہیے۔ اس قسم کی زبان ،مشاہدے ، تجربے ،ادبی روایات کی آگہی اور علوم کی روشنی سے بنتی ہے۔یہاں طرز نگارش میں سچائی کے ساتھ ،شرارت معصومیت اور بھولپن بھی جائز ہے۔‘‘13
اس حوالے سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ رپورتاژ نگاری میں قوّت تحریر نہ تو خطیبانہ ہوسکتی ہے اور نہ ہی تفہیمانہ بلکہ رپورتاژ نگار کو گذشتہ واقعات بیان کے موقع پر منصفانہ طرز اختیار کرتے ہوئے نہ تو جذباتی ہونا چاہیے اور نہ ہی زور بیان کے سہارے قاری کو جذبات سے بوجھل کرنے کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔رپورتاژ نگار کی قوّت تحریر کا مقصد قاری کو متوجہ کرنا اور واقعہ سے دلچسپی برقرار رکھنا ہے۔رپورتاژ نگاری کی قوّت تحریر میں زور بیان کا کام نہیں ۔سادہ انداز کے ذریعے حقیقت کی پیش کشی مقصود ہے چنانچہ رپورتاژ میں بھاری بھر کم الفاظ اور تحکمانہ روّیہ اس صنف کو بوجھل کردیتا ہے۔رپورتاژ نگار کو اپنی قوّت تحریری میں جامعیت اور رمزیت کا سہارا لینا چاہیے تاکہ قوّت تحریر میں تنوع پیدا ہوسکے اور الفاظ کے آہنگ سے ایسے ساز پیداہوں جس کی وجہ سے الفاظ و حروف مترنم دکھائی دیں۔یہ اسی وقت ممکن ہے جب کہ رپورتاژ نگار دیانت داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی تحریر میں توازن برقرار رکھے اور مذاق سلیم کی آبیاری کی طرف توجہ دے۔
.8اقتباسی عمل: دیگر نثری اصناف کے مقابلے میں رپورتاژ نگاری ایسی منفرد اور جامع صنف نثر ہے جو دوسری نثری اصناف سے استفادہ کرتی اور ان سے اثرقبول کرکے خود توانا ہوتی ہے اور اپنے طرز میں نکھار بھی پیدا کرتی ہے۔اردو کی دوسری نثری اصناف میں اس رویے کی کارفرمائی خال خال نظر آتی ہے۔چونکہ رپورتاژ نگاری واقعہ یا حادثے کی سطح سے ابھرتی ہے اسی لیے اس صنف میں سوانحی انداز، خاکہ کی کیفیت ،انشائیہ کا درو بست،ڈرامے کی مکالماتی روش کے ساتھ ساتھ سفر نامے کی حقیقت، صحافت کی مبصرانہ شان اور روداد رپورٹنگ کی ہمہ گیری کا ایسا تسلسل پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے اس صنف میں دیگر نثری اصناف کی جھلکیاں نمایاں ہونے لگتی ہیں۔اسی لیے ڈاکٹر سید اعجاز حسین نے کہاہے۔۔۔
اس(رپورتاژ) کا تعلق براہ راست تاریخ سے ہے اور تاریخ کا پیٹ صرف وہی حالات بھر سکتے ہیں جو ظہور میں آچکے ہوں جن سے لوگ متاثر ہوئے ہوں اور رپورتاژ نگار کے لیے مورخ کا حکم ادیب کا دماغ اور مصّور کی نظر چاہیے۔‘‘14
رپورتاژ کا تعلق تاریخ کے ساتھ ہونے کے علاوہ خاکہ نگاری سے بھی بڑا گہرا ہے۔خاکہ نگاری میں جس حقیقت بیانی کی ضرورت ہوتی ہے اور شخصیت کی مختلف خوبیوں اور کمزوریوں کو ذاتی مشاہدے کی آمیزش کے ساتھ جیتا جاگتا مرقع بنایا جاتا ہے وہی انداز رپورتاژ نگار اختیار کرتا ہے۔عصمت چغتائی کا رپورتاژ ’دوزخی‘ اور کرشن چندر کا رپورتاژ ’پودے‘ عظیم بیگ چغتائی اور سجاد ظہیر کے خاکے کھینچنے میں پوری طرح کامیاب ہیں۔اس لیے یہ ثبوت ملتا ہے کہ رپورتاژ میں خاکہ نگاری کی صنف بھی اپنا اثر دکھاتی ہے۔رپورتاژ سے سفرنامے کا ربط بھی بڑا دلچسپ ہے۔اگرچہ سفرنامہ روداد سفر پر مبنی ہوتا ہے لیکن روداد سفر بیان کرنے کے دوران رپورتاژ کی فضا اور کیفیت جب اپنا اثر دکھائے تو سفر نامہ بھی رپورتاژ بن جاتا ہے۔جس کی تفصیل پیش کرتے ہوئے طلعت گْل یہ لکھتی ہیں۔۔۔
’’ سفرنامے اور رپورتاژ میں اکثر لوگ زیادہ فرق نہیں کرتے شاید ایسا اس لیے کہ اردو میں ابتدا میں لکھے گئے رپورتاژ روداد سفر پر ہی مبنی تھے۔مثلاً ’پودے‘ کا آغاز سفر سے ہوتا ہے تو’یادیں‘ کا اختتام سفر پر ہوتا ہے۔ان کے علاوہ’صبح ہوتی ہے‘کرشن چندر ’بمبئی سے بھوپال تک‘اور عصمت چغتائی ’دو ملک ایک کہانی‘از ابراہیم جلیس’دِلی کی بیپّتا‘از شاہد احمد دہلوی’ستمبر کا چاند‘ از قرۃالعین حیدر وغیرہ مشہور رپورتاژ ہیں جن میں سفر کے حالات قلمبند کیے گئے ہیں۔‘‘15
سفر نامے کے علاوہ صنف انشائیہ کی پذیرائی بھی رپورتاژ نگاری میں دکھائی دیتی ہے ۔اگرچہ انشائیہ ایک وضاحتی صنف ہے لیکن رپورتاژ میں اس کا عمل بعض اوقات بنیادی منصب کے طور پر دکھائی دیتا ہے ۔اگرچہ آپ بیتی،سوانح ،روزنامچہ،ڈائری اور خطوط کی جھلکیاں بھی رپورتاژ کا حصہ بنتی ہیں لیکن انشائیہ ایک صنف کی حیثیت سے نہیں بلکہ اظہار کے طور پر رپورتاژ میں جامعیت پیدا کرتا ہے۔
رپورتاژ نگاری میں اقتباسی عمل غیر افسانوی نثر سے زیادہ افسانوی نثر سے مستند ہوتا ہے۔ صرف داستان نگاری کو چھوڑ کر افسانہ ،ناول اور ناولٹ کی بے شمار خصوصیات رپورتاژ میں دکھائی دیتی ہیں۔اگرچہ رپورتاژ افسانے کی طرح اپنی صنف میں قصے کا عروج و زوال اور کشمکش کے لمحات کا ذکر نہیں کرتا لیکن افسانوی اسلوب اور ناول کی بے شمار خصوصیتوں کو واقعاتی سطح پر قبول کرتا ہے اور انھیں رپورتاژ میں شامل کرتا ہے جس کی وجہ سے اس صنف میں بے شمار خوبیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔جس کا ثبوت پیش کرتے ہوئے عبدالعزیز لکھتے ہیں : 
’’ با صلاحیت ادیبوں نے ایک مشنری جذبہ کے تحت اس تحریک کے ادبی جلسوں کا حال لکھنا شروع کیا اور اس طرح اردو میں ایک نئی اور خوبصورت صنف ادب کی بنیاد پڑی۔انھوں نے شہر شہر کانفرنسوں جلسوں کی روداد کو اخبار کی خبر کے بجائے ایک تخلیقی تجربہ بناکر پیش کیا۔تاکہ دور دراز کے علاقوں میں رہنے والے لوگ خود بھی اس میں شریک محسوس کرسکیں۔یہ صحافت کی ترقی اور فن افسانہ کے عروج اور بہترین عناصر کے امتزاج سے ممکن ہوسکا جو رپورتاژ کے نام سے معروف ہوا۔‘‘16
اور ایک جگہ رپورتاژ کے تعلق کو افسانوی اصناف سے جوڑتے ہوئے عبدالعزیز لکھتے ہیں:
’’فنی ساخت کے اعتبار سے ابتدا سے ہی رپورتاژ کو ناول ناولٹ اور مختصر افسانے کی قبیل کا سمجھا گیا ہے۔ افسانہ، ناولٹ ،ناول کی طرح پورتاژ میں بھی ایک ارتقائی عمل کردار وں کی تشکیل اور تہذیب ہوتی ہے ۔ نقطۂ نظر کا مجموعی تاثر مکالمہ، پلاٹ، ارتقا، ابتدااور انتہا سب کچھ افسانے کی طرح ہوتا ہے۔ اس لیے عموماً نقاد افسانے کی تکنیک و تنقید کے تمام اصول و ضوابط رپورتاژ پر منطبق کرتے آئے ہیں۔‘‘17
ان حوالوں کے توسط سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ رپورتاژ ایسی واحد صنف ہے جو بیک وقت افسانوی اصناف نثر کے ساتھ ساتھ غیر افسانوی اصناف نثر کے ساتھ بھی استفادہ کرتی ہے۔ یعنی یہ صنف بذاتِ خود اپنی کوئی حیثیت نہیں رکھتی بلکہ دوسری اصناف سے استفادہ کرتے ہوئے اپنا وصف اور مزاج بناتی ہے۔ ایک لحاظ سے یہ ایک مشترکہ صنف کا درجہ رکھتی ہے۔ چنانچہ اس صنف کی حیثیت متعین کرنے میں ایک بہت بڑی دشواری ہے اور اس کا تنقیدی جائزہ بھی اسی لیے متعین نہیں ہوسکتا کہ رپورتاژ کے تجزیے کے لیے ایک نقاد کو تمام اصناف نثر پر دسترس رکھنی ہوتی ہے۔ اردو کے بیشتر افسانہ اور ناول نگاروں نے بھی بہترین رپورتاژ لکھے۔ اس لیے اس صنف کے تجزیے کے لیے افسانوی نثر سے مکمل واقفیت ضروری ہے۔ عبدالعزیز اور طلعت گل نے اپنی کتابوں میں رپورتاژ کا تعلق دیگر نثری اصناف سے ثابت کرتے ہوئے یہ بات تو لکھ دی کہ دوسری اصناف سے اس صنف کے ربط کی وجہ سے اس کی حیثیت بڑی ہمہ گیر ہوجاتی ہے۔ لیکن ہر صنف سے اقتسباس قبول کرنے کی وجہ سے اس صنف کی پیچیدگی کے بار ے میں اظہار خیال نہیں کیا۔ اگر دیکھا جائے تو رپورتاژ کا تعلق قصے کی پرت کو چھوڑ کر دیگر معاملات میں اردو کی مشہور صنف داستان سے جوڑا جاسکتا ہے۔ جس طرح داستان میں کئی کردار اور ان کے عمل کے ساتھ ساتھ اس دور کی تہذیب و شائستگی کو نمایاں کیا جاتا ہے، اسی طرح ترقی پسند مصنفین نے اس صنف میں ترقی پسند تحریک کے عوامل اور عناصر کو نمایاں کیا۔ اگر داستانوں میں جاگیر دار انہ نظام امیر و امرا اور ان کی زندگیوں کا عمل دکھائی دیتا ہے لیکن عام انسان کی زندگی کا عمل دخل دکھائی نہیں دیتا تو یہ کہنا بھی بے جانہ ہوگا کہ رپورتاژ میں بھی ترقی پسندوں کی حرکات و سکنات اور ان کے روّیوں کی کارفرمائی دکھائی دیتی ہے۔ چونکہ یہ ترقی پسند مصنفین کی رپورٹوں پر مشتمل ہے اس لیے ان میں سامع کا عمل دخل مفقود نظر آتا ہے ۔ اس کے علاوہ چونکہ رپورتاژ میں ایک گزرے ہوئے واقعہ کی تصور کشی کا عمل نہیں کیا جاتا ہے اس لیے اس صنف کو ایک اقتباسی عمل کا آئینہ دار قرار دیتے ہوئے اس کی حیثیت داستان سے ہم آہنگ کی جاسکتی ہے۔ صرف فرق یہ ہے کہ داستان میں مافوق الفطرت عناصر ہوتے ہیں جب کہ رپورتاژنگاری میں اس پہلو کو نظر انداز کرکے داستان کی طرح مخصوص تحریک سے وابستہ افراد کی کار فرمائیوں کا جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔ اس لیے رپورتاژ نگاری اقتباسی عمل سے وابستہ ایک نثری صنف کا درجہ رکھتی ہے۔
.9جبریہ انداز: کسی بھی صنف کی فطری ضرورت کا لحاظ کیے بغیر اس صنف میں ذیلی یا وصفی طور پر دوسری چیزیں شامل کردی جائیں تو اسے بلاشبہ جبریہ انداز قراردیا جائے گا۔ اردومیں کئی افسانے، خطوط، ڈائری اور سفر نامے کی شکل میں لکھے گئے لیکن انھیں مقبولیت حاصل نہ ہوسکی ممکن ہے کہ افسانوی صنف میں یہ انداز بعض ناقدین کے لیے اختراع کا درجہ رکھتا ہو لیکن وہ فطری ہونے کے بجائے جبری تھا۔ اس نئے پن کی وجہ سے وقتی طور پر افسانے کی صنف میں کوئی اضافہ نہیں ہوالیکن اچھوتے انداز کا اضافہ ضرور ہوا۔ یہ اچھوتا انداز افسانے میں جبریہ انداز کا علمبردار بن جاتا ہے کیونکہ اس کو مقبولیت حاصل نہ ہوسکی ۔ اس دلیل کے بعد جب رپورتاژ کی صنف کا تجزیہ کیاجاتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ اس صنف میں بھی کئی جبریہ انداز کا ر فرما نظر آتے ہیں جنھیں ناقدین نے کوئی علاحدہ نام نہیں دیا۔ اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ رپورتاژ نگار اس صنف میں لوگوں کی توجہ کو مرکوز کرنے کے لیے مختلف قسم کی کرتب بازیاں دکھاتاہے۔ کسی صنف ادب میں کسی مخصوص گروہ یا طبقہ یا جماعت کا لحاظ کرکے ادب تحریر کرنا اس صنف کو مجروح کردینے کے مترادف ہے۔ ناول، افسانہ یا کوئی بھی صنف کسی بھی مخصوص گروہ کو سامنے رکھ کر تحریرنہیں کی جاتی ۔لیکن رپورتاژ نگاری میں یہ جبری انداز دکھائی دیتاہے کہ اس صنف میں قاری اور اس کی توجہ کو پیش نظر رکھ کر تمام فنّی اور لفظی کرتب بازیاں دکھائی جاتی ہیں جن کا ذکر کرتے ہوئے عبدالعزیز لکھتے ہیں۔۔۔
’’ چونکہ اخبار کی خبر تخلیقی اُپج سے عاری اور تاثیر سے مجروح ہوتی ہے اس لیے بے جان ہوتی ہے۔اسی خبر کو موضوع بناکر ،ایک تخلیق کے درجہ تک پہنچادیا جائے تو بلاشبہ اس میں Realblity پیدا ہوجاتی ہے اور وہ ناولٹ یا افسانہ کے قریب ہوجاتی ہے۔‘‘18
اس حوالے سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ رپورتاژ کی صنف کو قابل مطالعہ یا Realiblity سے ہمکنار کرنے کے لیے رپورتاژ نگار کو ایک تخلیقی مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے کوئی بھی صنف تخلیقی مرحلے کے بغیر پروان نہیں چڑھ سکتی۔کسی خبر یا واقعہ کو تخلیق کا ذریعہ بنانے اور اس میں مطالعے کی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے اختیار کیا جانے والا عمل جو الفاظ کے دروبست اور اظہار کے طرز سے وابستہ ہوتا ہے اسے جبری انداز کہا جائے گا۔اخبار کی اطلاع میں یہی فنّی خامی ہوتی ہے یعنی اگر تخلیق کار اپنی ذہنی اپج کو قاری کی ضرورت کے اعتبار سے قابل مطالعہ بنانے کے لیے غیرتخلیقی روّیہ اختیار کرے تو اس سے تخلیقی ذہن کو بروے کار لانے کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ کسی خبر کو پھیلانے اورسکیڑنے کے ذریعے تخلیق کار اپنی فنّی آزادی کو نظر انداز کرکے ایک ایسے ادب کی تخلیق کرتا ہے جس میں قاری کی توجہات ملحوظ ہوتی ہیں۔لازمی طور پر ایسے روّیے یا ایسی اصناف کا شمار پاپولر لٹریچر یا مقبول ادب میں تو ہوسکتا ہے لیکن اسے کلاسیک یا فن پارے کا درجہ حاصل نہیں ہوسکتاکیونکہ تخلیقی آزادی پر کسی قسم کی پابندی عائد کرنا در حقیقت فنکار کی ذہنی اپج کو جبر سے ہم آہنگ کرنے کے مترادف ہے اور یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ رپورتاژ کی صنف میں یہ جبری روّیہ کار فرما ہے یہ صنف نہ صرف ترقی پسند تحریک کی نمائندگی کرتی رہی بلکہ اسی تحریک نے رپورتاژ کی صنف کو ایک وسیلے کے طور پر استعمال کیا جس کا مقصدترقی پسند تحریک کی مصروفیات کی خبر دینا تھا اس لیے رپورتاژ میں ترقی پسند تحریک کی خبریا اطلاعات کا انداز اس صنف کو بوجھل کردیتا ہے۔
ترقی پسند تحریک کے قلمکاروں نے رپورتاژ میں جبریہ انداز اختیار کیا اور جان بوجھ کر ترقی پسند تحریک کی تشہیر کے لیے ایسی رپورٹیں اور روداد تیارکی گئیں جن کو پڑھ کر قاری افسانویت کا مزہ لے سکے اور رپورٹ اپنے حدود سے متجاوز ہوکر ایک دلچسپ مرقع بن جائے۔چنانچہ اس مرقع کاری کے جبر نے رپورتاژ کی صنف پر وہی کام کیا جو اردو مرثیے نے واقعہ کربلا کے بیان میں مبالغے کے ذریعے کئی نئے گوشے وا کردیے جس کی وجہ سے مرثیے کی صنف تاریخ سے ہٹ کر ادب کی کئی خوبیوں سے وابستہ تو ہوگئی لیکن تاریخ کربلا نہ بن سکی۔ٹھیک اسی طرح رپورتاژ میں جبریہ انداز کی شمولیت سے اس صنف میں کئی ادبی خوبیاں نمایاں ہوئیں لیکن رپورتاژ ایک خالص ادبی صنف کا درجہ حاصل نہ کرسکی۔یہی وجہ ہے کہ رپورتاژ میں در آنے والے جبریہ انداز کی وجہ سے کبھی رپورتاژ افسانوی طرز کا علمبردار ہوجاتا ہے۔تو کبھی اس کی حیثیت سفرنامے سے قریب ہوجاتی ہے کئی قلمکار نے رپورتاژ کی صنف کو روزنامچہ کی شکل میں استعمال کیا تو کسی ادیب نے اس صنف کے ذریعے ناو ل اورڈرامے کی خصوصیات کو روا رکھ کر اپنی جدّت طرازی اور اچھوتے پن کی دلیل پیش کی جس کا نتیجہ یہ رہا کہ رپورتاژ نگاری کسی ایک صنف کی آئینہ دار قرار دیے جانے کے بجائے مختلف اصناف کا ایک ایسا چربہ بن گئی جس میں اس کی اپنی شناخت کے بجائے جبریہ انداز کی کارفرمائی نمایاں ہونے لگی۔۔
انگریزی میں استعمال ہونے والے لفظ "Reportage"کی جو خوبیاں بیان کی گئی ہیں اور انگریزی ادب میں رپورتاژ کو جس قسم کی صنفی حیثیت حاصل ہے وہی درجہ اردو رپورتاژ کو ملنا اس لیے ممکن نہیں ہے کہ رپورتاژ نگاروں نے اس صنف کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کیا ۔ اگرچہ یہ لفظ انگریزی زبان میں لاطینی اور فرانسیسی کے توسط سے اس قدر عام ہوا کہ اسے گذارشِ امر یا پھر اخباری رپورٹ میں ذات کے خوشگوار اور امتزاج کو شامل کرنے کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔ جس میں جزئیات کی شمولیت اور تخیّل کی آزادی کو ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ اردو کے رپورتاژ نگاروں نے جزئیات کی شمولیت کو تو قبول کیا لیکن تخیّل کی آزادی کے تخلیقی پردوں کو مختلف اصناف کے زیر اثر اس قدر برتا کہ رپورتاژ ایک علیٰحدہ صنف ہونے کہ بجائے کئی نثری اصناف کا ایک ایسا ملغوبہ بن گئی جسے ہر تخلیق کار اپنی مرضی کے مطابق مختلف انداز اور معنی و مفاہیم کے طور پر استعمال کرنے لگا۔ صنف رپورتاژ میں تخلیق کار کی اپنی پسند کا شامل ہوجانا اس صنف پر جبریہ انداز کی کارفرمائی کا ثبوت دیتا ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اردو کے بیشتر نقاّدرپورتاژ کو ایک نئی صنف تو قرار دیتے ہیں لیکن اس نئی صنف کے ابعادقائم کرنے کے لیے ان کے پاس حقیقی نقوش نہیں ہیں۔ اس لیے اس کا تعلق مختلف افسانوی اور غیر افسانوی اصناف سے جوڑ کر اس حقیقت کو نظر انداز کر جاتے ہیں کہ رپورتاژ ایک مخصوص خبریہ مواد ہے۔ اور اردو کے رپورتاژنگاروں نے اس خبر یہ مواد میں ہر صنف نثر کو شامل کرکے ایسا جبریہ روّیہ اختیار کیا ہے جس کی وجہ سے نام کے لحاظ سے رپورتاژ جیسی ایک نئی صنف تو ایجاد ہوگئی لیکن شناخت Identity کے اعتبار سے اردو میں اس صنف کی پیدائش ہی نہ ہوسکی۔ اس طرح اردو نثر میں رپورتاژ کی صنف اردو کے قلمکاروں کے جبر کا شکار رہی۔ اسی لیے یہ صنف زیادہ عرصے تک ادب کو متاثر کرکے اپنی صنفی حیثیت برقرار نہیں رکھ سکی اور اس کا عہد ایک محدود دور کی نمائندگی کرتے ہوئے گمنامی سے ہمکنار ہوجاتا ہے۔


حواشی: 
.1 ’جب بندھن ٹوٹے‘ تاجور سامری ۔ تعارف و احتشام حسین ،ص۔5
.2 ’اسلوب‘ سید عابد علی عابد، ص۔43
.3 ’نثر، نظم اور شعر‘۔ منظر عباس نقوی، ص۔ 26
.4 ’ اردو میں رپورتاژنگاری ‘ عبدالعزیز ،ص۔ 27
.5 ’ اردو شاعری میں ہئیت کے تجربے‘ ڈاکٹر عنوان چشتی، ص۔20
.6 ’ اردو صحافت ترجمہ و ادارت‘، سید ضیاء اللہ، ص۔243
.7 پیش لفظ علی سردار جعفری ’ خزاں کے پھول ‘از عادل رشید بحوالہ اردو ادب کی تاریخ ،
مرتبہ: عظیم الحق جنیدی، ص۔ 288
.8 ’ اردو ادب میں رومانوی تحریک ‘، ڈاکٹر محمد حسن، ص۔ 25
.9 ’ اردو میں رپورتاژ کی روایت‘ ، طلعت گل، ص۔ 27
.10 ’ اردو میں خود نوشت سوانح حیات‘ ڈاکٹر صبیحہ انور، ص۔ 160
.11 ’ اردو میں رپورتاژ نگاری‘ عبدالعزیز ،ص۔24
.12 ’ اردو ادب کی تاریخ‘عظیم الحق جنیدی ،ص۔ 288
.13 ’ اردو میں رپورتاژ کی روایت ‘ طلعت گل، ص۔25-26
.14 ’ اردو ادب آزادی کے بعد‘ ڈاکٹر سید اعجاز حسین، ص۔ 280
.15 ’ اردو میں رپور تاژ کی روایت‘ طلعت گل ،ص۔ 44
.16 ’ ترقی پسند ادب پچاس سالہ سفر‘ مرتّبہ: پروفیسر قمر رئیس ؍ سید عاشور کاظمی بحوالہ مضمون ’ ترقی پسند تحریک اوررپورتاژ‘ از عبدالعزیز، ص۔517-518
.17’اردو میں رپوتاژ نگاری ‘ از عبدالعزیز ،ص۔23-24
.18 ’ ترقی پسند ادب پچاس سالہ سفر‘ مرتّبہ: پروفیسر قمر رئیس ؍ سید عاشور کاظمی بحوالہ مضمون ’ ترقی پسند تحریک اوررپورتاژ‘ از عبدالعزیز ،ص۔ 517-518



Dr. Irshad Ahmad Khan
Head Department of Urdu
N.S.B. College, Nanded-431601
(Maharashtra), Mob:-09922043593






قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...