6/3/19

سیماب اکبرآبادی: ایک فراموش کردہ انقلابی شاعر مضمون نگار: پروفیسر اسلم آزاد


سیماب اکبرآبادی: ایک فراموش کردہ انقلابی شاعر
پروفیسر اسلم آزاد

ہرادب اپنے عہد کا ترجمان اور مفسر ہوتاہے۔ وہ انسانی زندگی کاآئینہ دار ہوتاہے اور تہذیب و ثقافت کا عکاس۔ ادب ایک بحربیکراں ہے جس میں اس عہد کی ساری متلاطم اور متصادم لہریں ایک دوسرے سے باہم دست و گریباں ہوتی ہیں۔ وہ اس کائنات کے لولو و مرجان اور سنگ وخشت سبھوں کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتاہے۔ حسن وقبح کا فرق ہو یا خیر وشر کی آویزش، حق و باطل کی جنگ ہو یا امار ت و غربت کا امتیاز، فنکار جو کچھ دیکھتاہے جوبھی محسو س کرتاہے بے کم وکاست اسے اپنے فن پارے میں پیش کردیتاہے۔ تخلیق میں فنکار کا سوز دروں اور خون جگر شامل ہوتاہے۔ اس کے دل کی بیتاب دھڑکنیں ہوتی ہیں۔ مضطرب روح کی جلن اور پکار ہوتی ہے۔ فنکار فطرتاً حسن وجمال کا شیدائی ہوتاہے اور لالہ و گل کا متوالا۔ وہ امن وانسانیت کاپیامبر ہوتاہے اور حسرت وانبساط کا داعی۔ وہ دنیا کو بہشت برروئے زمیں کے روپ میں دیکھناچاہتاہے۔ جہاں حسن ہو، سکون ہو اور خوشیاں ہوں۔
سیماب اکبرآبادی(1880-1957) کا دور بڑا پرفتن اور پرآشوب تھا۔ ہر طرف انتشار اور افراتفری تھی۔ چہار سمت آہ وبکا اور شور وشغب تھا۔ ہر سوویرانی اور تاریکی تھی۔ان حالات و عوامل سے فنکار کا متاثر ہونا فطری امر ہے۔ لہٰذا شاد عظیم آبادی، الطاف حسین حالی، ظفر علی خاں، اکبر الہ آبادی، حسرت موہانی، مسرور جہان آبادی، برج نرائن چکبست اور مولانا اسماعیل میرٹھی نے حب الوطنی کے جذبات سے سرشار ہوکر ہندوستان کی آزادی کے لیے جدوجہد کی، قربانیاں دیں اپنے گیتوں اور نغموں سے خواب خرگوش میں پڑے ہندوستانیوں کو جگایا، ان میں انقلاب کی روح پھونک دی، حریت کا جذبہ رگ و پے میں سرایت کردیا۔ سیماب اپنے معاصرین سے پیچھے نہیں رہے۔ وہ اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ گلستان میں بہار کیوں کرآتی ہے۔ پھولوں میں رعنائی اوررنگینی کہاں سے آتی ہے۔ دلکشی اور زیبائی کیسے پیداہوتی ہے ؂
درائے کارواں میں اس توازن کی ضرورت ہے
صدائیں متفق ہوں گی تو گونج اٹھے گی ہر وادی
لہو کی چند بوندیں چاہئیں عنوان افسانہ
کہیں سرخ اشتہاروں سے ملا کرتی ہے آزادی
ہر بڑے شاعر کی نظر مستقبل پرہوتی ہے۔ اس کی نگاہیں دور بہت دور افق سے پار چلی جاتی ہیں۔ ماہ ونجوم کی پہنائیوں سے آگے شمس وقمر کی دنیا سے پرے عرش بریں سے بھی ماورا اس کاذہن سوچنے لگتا ہے۔ جہاں فرشتوں کے بھی پرچلنے لگتے ہیں۔ سیماب نے پیش گوئی کی ؂
دفعتاً اک روز بدلے گی غلامی کی فضا
منتظر اک آہ کا ہے انقلاب انجمن
ظلم سے بڑھتا ہے سوز زندگی مظلوم میں
رفتہ رفتہ صید کو صیاد ہونا چاہیے
سپرد خاک ہیں پھولوں سے کھیلنے والے
چمن فروش بھی اندیشۂ بہار میں ہے
حقیقت کی پردہ دری کب تک کی جاسکتی ہے۔ جس طرح خوشبو کے جھونکوں کو مقید نہیں کیاجاسکتا، حسن بے نقاب کی شعاعوں کو روکا نہیں جاسکتا، چشم سیاہ اور دراز پلکوں کی افسوں طرازی پابند نہیں کی جاسکتی، چپکے سے اپناکام کرجاتی ہے، اس شہاب ثاقب کے مانند جو خلا کی بیکراں وسعتوں میں چند لمحے کے لیے روشنی کی تابناک لکیر چھوڑ جاتاہے،اسی طرح حقیقت کی نقاب سرک ہی جاتی ہے۔ جس گلستان کا محافظ پھولوں کی نکہتیں چرالے، نوخیز کلیوں کی دوشیزگی مجروح کردے، معصوم غنچوں کی شادابی ختم کردے، توان کو حق ہے کہ اس سفاک اور بے رحم باغباں کو کیفر کردار تک پہنچادیں۔اس ضمن میں سیماب کے درج ذیل اشعار ملاحظہ ہوں ؂
غبار اندوزی آئینہ صبح چمن کب تک
گوارا، مضطرب نسرین و نسترن کب تک
خلاف باغباں اہل چمن نے ایک سازش کی
کہ ہم تاراج دیکھیں گے یونہی اپنا چمن کب تک
اٹھا اک شور اے روح گلستاں لوٹنے والو
بنے گا پھول کے دامن سے گلچیں کا کفن کب تک
یہ جذبہ لے کے اٹھے چوڑیاں تھیں جن کے ہاتھوں میں
کہ اب اندیشۂ ہنگامۂ دار و رسن کب تک
آزادی انسانوں کا فطری حق ہے۔ اس سے محرومی انسان کی موت ہے۔ اگر آزادی نہ ہو تو ساری تہذیبی اور شخصی قدریں مٹ جاتی ہیں۔ زندگی کے سارے آ ثار ختم ہوجاتے ہیں۔ سارا سکون اور ساری مسرتیں چھن جاتی ہیں۔ انفرادی احساس جب اجتماعی شکل اختیار کرلیتاہے تو وہ کائنات کی دل کی دھڑکن بن جاتاہے۔ نیلگوں آسمان کے اس مہر درخشاں کی مانند جورات کی خاموشی اور تنہائی میں ساری دھرتی پرسیمیں کرنیں بکھیرتا ہے۔ کہسار،آبشار، ریگزار و لالہ زار، وادی و صحرا، شجر وحجر، خار وگل، سنگ وسمن کسی کی قید نہیں رہتی کسی کاامتیاز نہیں رہتا۔ سیماب کہتے ہیں ؂
ہمارا ہر نفس ہو ترجمان گرمی محفل
ہماری ہر ضرورت انجمن کی ہی ضرورت ہے
یہ’ضرورت‘ فرد واحد کی ضرورت نہیں، ساری انجمن کی رگ جان ہے، منبع جہاں ہے۔مغربی مفکر ٹینی سن نے کہاہے کہ:
’’جس شاعری سے ملت کا دل قوی ہو، اس کی ہمتیں بلند ہوں اس کو اعلیٰ درجہ کے اعمال حسنہ میں شمار کرناچاہیے۔‘‘
اس قول کے پیش نظر ہم سیماب کی شاعری کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمارے دلوں میں ان کے لیے قد رومنزلت اور عقیدت وا حترام کا جذبہ ہی پیدانہیں ہوتا بلکہ انھیں محسن قوم وملک کہنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
دورافترا میں لب و رخسار، کاکل وگیسو، رنگ و رامش، فرہاد وشیریں، جام وسبو اور گل وبلبل کی مدح سرائی حقیقت سے اغماض کرتاہے۔ ایسے شعرا کو کذاب، بہروپیے اور باطل پرست کہنے سے بھی دریغ نہیں کیا ؂
باش اے کذاب اے بہروپیے باطل پرست
میں ترے پندار کو دیتا ہوں پیغام شکست
تو کبھی محفل میں آیا ہے رجز گاتا ہوا؟
گونجتا روتا گرجتا آگ برساتا ہوا؟
حشر اٹھا ہے کہیں اک نغمۂ بیتاب سے
کیا رباب دل کو چھیڑا ہے کسی مضراب سے
کیا رلایا ہے لہو تو نے کسی مضمون سے
نظم آزادی کبھی لکھی ہے اپنے خون سے
ان کاتیور یہاں بھی دیکھیے ؂
اے سخن دشمن اگر حاصل نہیں یہ مرتبہ
خون کیوں کرتاہے پھر بکواس سے الفاظ کا
درد کا حامل نہیں اصرار کا ماہر نہیں
آج میں اعلان کرتا ہوں کہ تو شاعر نہیں
فنکار تعصب وتنگ نظری سے بہت بلند ہوتاہے۔ اس کے یہاں مذہب و ملک، رنگ ونسل، امیر وغریب اور حاکم ومحکوم کی تفریق نہیں ہوتی، وہ اخوت و مساوات کامبلغ ہوتاہے اور انسانیت کا علمبردار۔ امن اور شانتی کا امین ہوتاہے اور مسرت، چاند و نغمہ، بہار اور حسن کامحافظ ؂
قومیت، فرقہ پرستی اور نسلی امتیاز
پیکر انسانیت پر اک طرح کا ہے عذاب
صرف تم انسان بن کر اپنی دنیا میں رہو
پرسکون،آزاد، یکسو، کامگار و کامیاب
سیماب اکبرآبادی ایک قادرالکلام شاعر تھے اورشاعری ان کووراثت میں حاصل ہوئی تھی۔ عربی اور فارسی زبانوں پر ان کو دست رس تھی۔ طالب علمی کے زمانے میں ہی فارسی کے اشعار کو اردو کے قالب میں ڈھالنے لگے تھے۔ مولوی سید بدرالدین قریشی اور مولوی تحقیق علی اجمیری جیسے ذی علم اسا تذہ نے ان کے ذوق شعری کو پروان چڑھانے میں ان کی رہنمائی کی۔ نتیجتاً 17 سال کی عمر میں فارسی کلام کواردو میں ترجمہ کرنے میں ان کو مہارت حاصل ہوگئی تھی، لیکن نامساعد حالات کے باعث ان کاتعلیمی سلسلہ ختم ہوگیا۔
قیام لکھنؤکے دوران سیماب اکبر آبادی ادبی محافل میں پابندی سے شریک ہوتے۔ ان دنوں لکھنؤ میں جلال لکھنوی کاطوطی بولتاتھا، لیکن ان کامزاج لکھنؤسے نہیں بلکہ دبستان دہلی سے زیادہ مطابقت رکھتاتھا۔ یہی وجہ ہے کہ1898میں انھوں نے داغ دہلوی کے سامنے زانوے تلمذ تہہ کیا اور جب تک زندہ رہے یہ رشتہ برقرار رہا۔ ان کی شاعری میں خوش آئند تبدیلیاں آئیں۔ شاعری کے سلسلے میں ان کا نقطۂ نظر بالکل واضح ہے۔ وہ غزل پر نظم کو ترجیح دیتے تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ شعرا غزل کی بجائے نظم پر اپنی توجہ مرکوز کریں۔ کیوں کہ قدامت اور کہنگی کے باعث غزل اپنی معنویت کھوچکی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’1918 میں میرا رنگ تغزل بالکل بدل گیا۔ میں اب شاعری میں بلند خیالات اور بلند انسانی جذبات کا حامل ہوں میں شاعری میں فلسفہ، حقائق اور معارف کے نکات پسند کرتا ہوں...میں نظم کو غزل پر ترجیح دیتاہوں اور چاہتاہوں کہ شعرا غزل سے زیادہ نظم گوئی کی طرف متوجہ ہوں۔‘‘
سیماب اکبرآبادی کرشن جی سے عقیدت رکھتے تھے۔ ’ کرشن گیتا‘ میں شامل نظموں سے بھی اس کا اندازہ ہوتاہے۔ قرآن کریم اور مولانا روم کی شخصیت کے گہرے اثرات بھی ان کے کلام میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ کانپور کے دوران قیام وہ دیواشریف میں ولیِ کامل حضرت شاہ وارث علی سے بیعت بھی ہوئے۔ یہی وہ اسباب ہیں جن کے باعث ان کی شاعری میں معرفت، ربوبیت اور وارفتگی کے علاوہ عرفان وآگہی کی مثالیں بھی ملتی ہیں۔
سیماب ’شاعر‘ کے بانی مدیر رہے ہیں۔ ’شاعر‘ آگرہ سے قبل انہوں نے ’مرصع‘، ’ اخبارآگرہ‘، ’پیمانہ‘ اور ’تاج‘ کی ادارت کی۔اس سے ان کی صحافت سے فطری اور جذباتی وابستگی کا اندازہ ہوتاہے۔ ’پیمانہ‘ کاا ختصاص تھا کہ اس رسالے میں جدید رجحانات اور میلانات کی حامل تخلیقات کو اولیت دی جاتی تھی۔ انھوں نے نئی نسل کی ذہنی تربیت اور ان کے کلام کی اصلاح کے لیے ’قصر ادب‘ کی بنیاد ڈالی اور یہ ادارہ شعر وادب کے فروغ میں میل کاپتھر ثابت ہوا۔
فلسفۂ حقائق، محاکات، متانت اور سنجیدگی پران کاانقلابی اورسیاسی رنگ زیادہ گہراہے۔ تاہم ان کے ہاں ایسے اشعار بھی ملتے ہیں جو زبان زدعام ہیں ؂
محبت میں اک ایسا وقت بھی آتاہے انساں پر
ستاروں کی چمک سے چوٹ لگتی ہے رگ جاں پر
سیماب اکبرآبادی کی قادرالکلامی کااندازہ ان کی نظموں کے عنوانات سے بھی لگایاجاسکتاہے۔ اپنے عہد کے اہم مسائل پر انہوں نے خامہ فرسائی کی ہے۔ یہ صحیح ہے کہ عربی اور فارسی کے الفاظ ان کی شاعری کی سلاست اور روانی میں حارج ہوتے ہیں، لیکن آج سے تقریباً اسّی سال قبل انھوں نے اپنی شاعری خصوصاً نظموں کے لیے جن موضوعات کاانتخاب کیا ان کی مناسبت سے پرشکوہ اور ادق الفاظ کااستعمال ناگزیر تھا۔
’کارامروز‘(1934) میں حریت پرستی، حب الوطنی اور انقلاب پسندی سے متعلق متعدد نظمیں ملتی ہیں۔ سری کرشن، گوتم بدھ اور رسول کائناتؐ پرلکھی گئی ان کی نظمیں ان شخصیتوں سے ان کی بے پناہ عقیدت کا مظہر ہیں۔ ’ارض تاج‘ کے عنوان کے تحت سیماب کی سولہ نظمیں بارہ ذیلی عنوانات کے ساتھ چالیس صفحات پر محیط ہیں۔ یہ نظمیں ’تاج محل‘ سے متعلق مختلف پہلوؤں کی دل آویز تصویر کشی کرتی ہیں۔ ان نظموں میں عظمت رفتہ کادردبھی پنہاں ہے اور رجائی انداز بھی ؂
فضا اے تاج تیری دلنشیں معلوم ہوتی ہے
میں سچ کہہ دوں مجھے جنت یہیں معلوم ہوتی ہے
تری معصومیت، جس کو تصور چھو نہیں سکتا
مجسم ایک خواب مرمریں معلوم ہوتی ہے

آمسافر کچھ مناظر پھر دکھاؤں میں تجھے
گوشے گوشے میں وطن کے لے کے جاؤں میں تجھے
اخذ کی جاتی ہے ظاہر سے حقیقت کس طرح
سیرکرنا بزم عبرت کی سکھاؤں میں تجھے

گردش عالم کبھی رہتی نہیں اک حال پر
جس نے پھیری ہے نظر وہ رحم بھی فرمائے گا
تاج کے مینار سے ہوگا نیا سورج طلوع
مدفن اکبر سے ماہ نو کرن چمکائے گا
نظم ’جنگی ترانہ‘ دراصل چھوٹی بحر میں ایک قومی رجز ہے۔ نظم پرجوش اور ولولہ انگیز ہے۔ اس کا تاثر قارئین کے دلوں پر گہرا اوردیرپاہوتاہے ؂
دلاوران تیزدم 
بڑھے چلو بڑھے چلو
بہادران محترم 
بڑھے چلو بڑھے چلو
یہ دشمنوں کے مورچے 
فقط ہیں ڈھیر خاک کے
تمہارے سامنے جمے 
کہاں کسی میں حوصلے
نہیں ہوتم کسی سے کم
بڑھے چلو، بڑھے چلو
’ساز وآہنگ‘(1941) سیماب اکبر آبادی کا گراں قدر شعری مجموعہ ہے۔پانچ ابواب پرمشتمل اس مجموعے میں ان کی ایک سوانتالیس(139) مختصر اور طویل نظمیں شامل ہیں۔ ندائے عصر، صلائے تہذیب، حدیث ادب، سرود روح، اور نغمۂ معصوم، کے عنوان سے قائم ابواب میں آخری باب، نغمۂ معصوم، میں بچوں سے متعلق نظموں کا التزام ہے۔ پہلے باب ’ندائے عصر‘ میں قومیت، سیاست اور وطنیت کے موضوعات پر سینتالیس نظموں میں ہندوستان، اذان ہمالہ، جرس کارواں، قومی ترانہ، ہندوستان کا پیغام، بہ نژاد نوا، ایوان آزادی، صنم کدۂ جمہوریت، دعوت انقلاب، اے نوجوانان وطن، مسلمانوں سے، نوحہ وطن، کوس رحیل، سیاسی قیدی، کانگریس سے خطاب، اے وائے وطن صد وائے وطن، خواب آشنا کے جمود سے، اے اسیران وطن، تشدد اور عدم تشد، ’شیون دریائے شور، خواتین وطن سے، اہل کشمیر کوایک پیغام موضوعات اور مسائل کے اعتبار سے بے حد اہم اور قابل ذکر ہیں۔ ساز وآہنگ میں نسبتاً حریت پسندی کی شدت زیادہ ہے۔ کیونکہ ’ساز و آہنگ‘ کی اشاعت ’کار امروز‘ کے تقریباً آٹھ سال بعد ہوئی، جب صبح آزادی کی پوپھٹ رہی تھی اور حریت پسندوں نے اپنے سر سے کفن باندھ لیاتھا۔ قومی اور بین الاقوامی موضوعات اور مسائل پر لکھی گئی نظموں نے سیماب کے قد کواپنے ہم عصروں میں سب سے نمایاں کردیاہے۔ ان نظموں سے ان کے تبحر علمی کااندازہ ہوتاہے اوران کے جذبۂ وطن پرستی کابھی۔
سیماب کے عہد کو اردو شاعری کا نشاۃ ثانیہ کہاجاسکتاہے، کیونکہ سیماب کے علاوہ حفیظ جالندھری، جوش ملیح آبادی، افسر میرٹھی، چکبست لکھنوی اور اختر شیرانی نے غزلیں بھی کہیں اور نظمیں بھی، لیکن ان شعرا کا مرتبہ غزل گو کی حیثیت سے نہیں بلکہ نظم نگار کے طو رپر مسلم ہے۔ ان کے پیش رو الطاف حسین حالی اور محمد حسین آزاد نے اردو شاعری خصوصاً نظم نگاری کی سمت میں منظم اور منضبط قدم اٹھایا جس کے نتیجے میں غزل کی بجائے نظم نگاری کی طرف اپنی توجہ مرکوز کرنے والے سیماب اپنے ہم عصروں میں سب سے نمایاں اور ممتاز ہیں۔ پروفیسر کلیم الدین احمد لکھتے ہیں:
’’سیماب غزل میں پاکیزہ تغزل کے خلاف نہیں، لیکن وہ شاعری کو محض تغزل تک محدود رکھنا نہیں چاہتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ شعرا غزل گوئی کے علاوہ اصلاحی، اخلاقی، قومی، ملکی اور سیاسی نظمیں کہنے کی عادت ڈالیں۔ وہ اس مشورے پر خود بھی عمل کرتے ہیں۔‘‘
( اردو شاعری پرایک نظر۔ جلد دوم، ص302)
اپنے پیش رو اقبال، حالی اور آزاد سے وہ متاثر تھے۔ سیماب نے روایت سے ہٹ کر اردو نظم کو جدتوں سے نہ صرف ہم کنار کیا بلکہ اس کونئی سمت بھی عطا کی۔ انہوں نے اردو شاعری میں ہیئتی تجربے کیے بلکہ یہ کہاجائے کہ سیماب اکبرآبادی نے اجتہاد کیا اور اردو نظم کے ارتقا میں اہم کردار اداکیاتوغلط نہ ہوگا، لیکن ناقدین ادب نے سیماب کی شاعری کے اس وصف سے صرف نظر ہی نہیں کیا بلکہ ان کے ساتھ ناانصافی بھی کی ہے۔
سیماب کا عہد سیاسی، سماجی، معاشی اور تہذیبی اعتبار سے بہت اہم کہا جاسکتاہے۔ ملک کے سیاسی حالات تیزی سے بدل رہے تھے۔ 1857 کی ناکام بغاوت اور ترقی پسندتحریک کے اثرات و نفوذ نے ان کی شخصیت اور فکر کونئی سمت عطا کی تھی۔ لہٰذا محنت کشوں اور دبے کچلے لوگوں کی زندگی کی صدائے بازگشت ان کی شاعری میں محسوس کی جاسکتی ہے۔ معاشرتی حالات اور مسائل سے انھوں نے اغماض نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ انقلاب، حریت، وطنیت اور انسانیت کاجذبہ ان کی شاعری کااختصاص و امتیاز بن گیاہے۔
ساز وآہنگ، امروز اور’ شعر انقلاب‘ ان کے قابل ذکراور اہم شعری مجموعے ہیں۔ تاج محل، تاج شاہی محبت کی ٹھوکروں میں، نورجہاں کا مقبرہ اور’برسات‘ سیماب اکبرآبادی کی معرکہ آرا نظمیں ہیں، لیکن جذبۂ وطنیت سے سرشار اس انقلابی شاعر کوہم نے یکسر فراموش کردیاہے۔

Prof. Aslam Azaad
2, Professor's Bungalow
Patna۔800006
M. 09431063199


ماہنامہ اردو دنیا   شمارہ  مارچ 2019





قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

ولی دکنی مضمون نگار:۔ پروفیسر ابن کنول



ولی دکنی
ابن کنول
کبھی کبھی یوں ہوتا ہے کہ کسی زبان، کسی مذہب یا کسی تہذیب کی ابتدا ایک خاص مقام یا علاقہ میں ہوتی ہے، لیکن بعض وجوہات کی بنا پر اسے فروغ دوسرے مقام پر ملتا ہے۔ اردو کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ شمالی ہند میں اس کی ابتدا ہوئی، لیکن فروغ دکن میں ملا۔ کئی صدی بعد اردو کی وطن واپسی ہوئی اور وہ بھی ایک دکنی کے دوش پر۔ ڈاکٹر محی الدین قادری زور لکھتے ہیں:
’’دکن میں نثر کی ابتدا کو چار سو سال سے زیادہ گزر جاتے ہیں اور اس عرصہ میں وہ دو منازل ارتقا بھی طے کرلیتی ہے مگر شمالی ہند اس سے بے خبر رہتا ہے، صرف یہی نہیں کہ شمال والوں نے اس میں کوئی کام نہیں کیا بلکہ وہ اس امر سے بھی ناواقف رہے کہ اردو نثر میں کتابیں لکھی گئی ہیں یا لکھی جاسکتی ہیں۔‘‘ 1
دکن میں نثر سے زیادہ اردو شاعری مقبول ہوئی۔ بہمنی سلطنت کے دور میں ’مثنوی کدم راؤ پدم راؤ‘ لکھی گئی، پھر عادل شاہی، قطب شاہی ادوار میں اردو شاعری نے زرّیں تاریخ رقم کی۔ اٹھارہویں صدی عیسوی کے اوائل میں جب اورنگ زیب کی وفات کے بعد مغلیہ سلطنت کا زوال شروع ہوگیا، دکن کے ایک باشندے نے شمال والوں کے سامنے اپنا کلام پیش کیا جس کو سن کر اہل شمال اپنی کھوئی ہوئی زبان کی طرف متوجہ ہوئے۔ دکن کے اس باشندے کا نام ولی تھا۔ ولی کا تعلق گجرات سے تھا جو اس وقت دکن ہی کہا جاتا تھا۔ میر نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے ؂
خوگر نہیں کچھ یوں ہی ہم ریختہ گوئی کے
معشوق جو تھا اپنا باشندہ دکن کا تھا
ریختہ گوئی یعنی اردو کی جانب شمالی ہند کے شعراء کی توجہ مبذول کرانے والا باشندہ ولی دکن ہی کا تھا۔ ولی خود بھی اپنے آپ کو دکنی کہتے ہیں ؂
ولی ایران و توراں میں ہے مشہور
اگرچہ شاعر ملک دکن ہے
یہ شعر یوں بھی ہے ؂
ولی ایران و توراں میں ہے مشہور
وطن گو اس کا گجرات و دکن ہے
بہرحال یہ بات تو ثابت ہے کہ اٹھارہویں صدی میں اردو کو شمالی ہند میں دوبارہ متعارف یا مقبول کرانے میں ولی یا ان کے کلام نے اہم کردار ادا کیا۔ 
نظامی سے ولی اور سراج تک آتے آتے دکنی زبان میں کافی تبدیلیاں آگئیں، اس کی وجہ اکبر، جہانگیر، شاہ جہاں اور اورنگ زیب کی مسلسل دکن میں مہمات جاری رکھنا تھیں۔ شمالی ہند کی فوج کے طویل قیام کے سبب دکنی زبان میں دکنیت کم ہوتی چلی گئی اور اس پر شمال کا اثر نمایاں ہونے لگا، جس کی مثال ولی اور سراج کے کلام میں نظر آتی ہے۔ ولی کے کلام ہی سے متاثر ہوکر اردو کو ریختہ کہنے والے اس زبان میں شاعری کرنے لگے۔ بقول ڈاکٹر جمیل جالبی:
’’ولی کا کارنامہ یہ ہے کہ اُس نے شمال کی زبان کو دکھنی ادب کی طویل روایت سے ملاکر ایک کردیا اور ساتھ ساتھ فارسی ادب کی رچاوٹ سے اس میں اتنی رنگارنگ آوازیں شامل کردیں اور امکانات کے اتنے سرے بھی اُبھار دیے کہ آئندہ دو سو سال تک اردو شاعری انہی امکانات کے ستاروں سے روشنی حاصل کرتی رہی، اس لیے ولی آئندہ دو سو سال کی شاعری کے نظام شمسی کا وہ سورج ہے جس کے دائرۂ کشش میں اردو شاعری کے مختلف سیارے گردش کرتے ہیں۔‘‘ 2
بلاشبہ ولی نے اردو کے لیے دکن اور شمال کے مابین ایک سفیر کا کام کیا، اسی لئے وہ اردو شاعری کے ’بابا آدم‘ بھی کہلائے۔ 
ولی کی زندگی سے متعلق صرف تذکروں کے بیان ہی پر اعتبار کرنا ہوگا جہاں ان کے اصل نام اور سفر دہلی یا تاریخ وفات پر بھی اختلافات ہیں۔ ولی کا نام کہیں ولی محمد لکھا ہوا ہے کہیں محمدولی اور کہیں ولی اللہ۔ تمام مآخذ کے مطالعہ سے یہ بات یقینی ہے کہ تخلص ولی ہے جو نام کا حصہ بھی ہے، گجرات سے تعلق ہے۔ بعض مآخد کی بنیاد پر ان کا وطن اورنگ آباد بھی کہا گیا ہے۔ 
ولی کا زمانہ سترہویں صدی کے اواخر اور اٹھارہویں صدی کے اوائل کا ہے۔ ولی کی تعلیم احمد آباد میں حضرت شاہ وجیہ الدین کی خانقاہ کے مدرسے میں ہوئی، جہاں شیخ نورالدین سہروردی موجود تھے۔ ولی کو ان کی سرپرستی حاصل ہوئی۔ ولی کا انتقال احمدآباد ہی میں ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ اورنگ زیب کی وفات کے بعد ولی دہلی آئے اور ان کی سعداللہ گلشن سے ملاقات ہوئی، جنھیں شاعری میں ولی نے اپنا استاد لکھا ہے۔ شاہ گلشن کا وطن بھی گجرات ہی تھا، لیکن دہلی میں سکونت اختیار کرلی تھی۔ ولی کی دلّی آمد کے متعلق مختلف روایتیں ہیں۔ یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ ولی دوبار دہلی آئے، پہلی بار اورنگ زیب عالمگیر کے زمانے میں، دوسری بار محمد شاہ کے عہد میں۔
ولی کے وطن، نام، تاریخ ولادت یا وفات وغیرہ میں کتنا ہی اختلاف سہی، لیکن اس صداقت سے نہ کسی کو انکار ہے اور نہ کوئی اختلاف کہ شمالی ہند میں اردو شاعری کے فروغ میں ولی نے سب سے اہم کردار ادا کیا۔ اٹھارہویں صدی کے اوائل میں اہل شمال فارسی ہی کی طرف راغب تھے، لیکن ولی کے کلام کی سادگی، سلاست، نفاست اور شستگی دیکھ کر اردو شعرگوئی کی جانب متوجہ ہوئے۔ اردو کو اپنے جذبات و احساسات کے اظہار کے لیے بہتر پایا۔ دکن کے بیشتر شعرا نے مثنویاں لکھیں۔ ولی نے مثنوی کی جگہ غزل کی طرف توجہ دی اور اپنا تمام تر وقت اور صلاحیت غزل کے فن پر قدرت حاصل کرنے میں صرف کردی۔ ولی کی غزل نے صفائی اور سادگی کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں ایسی جگہ بنائی کہ وہ فارسی غزل کے رواج پر اثرانداز ہوئی۔ غزل شاعری کی وہ صنف ہے جس میں ہر طرح کے جذبات و احساسات کو پیش کرنے کے مواقع زیادہ ہوتے ہیں۔ ولی کی شخصیت کے متعدد پہلو تھے، ان کی شاعری کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا مطالعہ و مشاہدہ نہایت وسیع تھا۔ ایک جانب وہ صوفیانہ سلسلہ سے قریب ہونے کے سبب انسانی افکار و اقدار کا بخوبی علم رکھتے تھے، دوسری طرف عوامی رابطوں کی وجہ سے ہندوستانی تہذیب سے بھی انھیں بھرپور واقفیت تھی۔ ہندوستانی تہذیبی عناصر کی جس قدر مختلف شکلیں ولی کے کلام میں نظر آتی ہیں وہ کسی دوسرے کے یہاں کم ہی دکھائی دیتی ہیں۔ ان کی شاعری عشق مجازی و حقیقی کا حسین امتزاج ہے جس عقیدت کا اظہار وہ خالق کائنات کی ثنا کے لیے کرتے ہیں اسی صداقت کے ساتھ صمیم قلب سے دنیاوی محبوب کی تعریف کرتے ہیں۔
دکن کی شعری روایت پر اگر غور کیا جائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ شاعری میں عشق کا تصور اور اس کا اظہار شمال کے مقابلے میں مختلف ہے۔ اوّل تو دکن میں عشق کے موضوع کو فوقیت رہی ہے، ان کا محبوب بھی ہندوستانی ہے۔ دکن کی شاعری میں مقامی رنگ زیادہ نمایاں ہے، جبکہ شمال میں فارسی زبان و ادب کا غلبہ ہونے کی وجہ سے یہاں کی تہذیب، زبان اور ادب پر وسط ایشیا یا ایرانی تہذیب و ادب کے اثرات واضح نظر آتے ہیں۔ دکنی شعراء کا عشق بھی ہندوستانی ہے اور محبوب بھی۔ ولی کے یہاں جس قدر ہندوستانیت موجود ہے وہ بہت کم اردو شعرا کے یہاں دکھائی دے گی۔ ولی نے اگر ابوالمعالی کے لئے شعر کہے ہیں تو امرت لال، گوبند لال اور کھیم داس کو بھی اپنی شاعری میں یاد کیا ہے ؂
شمع بزم وفا ہے امرت لال
سرو باغ ادا ہے امرت لال
ماہ نو کی نمن ہے سب کوں عزیز
اس سبب کم نما ہے امرت لال
جوں شمع گل پڑیں گے شرمندگی سے گل رو
جس انجمن میں حاضر گوبند لال ہوگا
151151
ہے بس کہ آب و رنگ حیا کھیم داس میں
آتا نہیں کسی کے خیال و قیاس میں
ولی اپنی مٹی سے جڑا ہوا شاعر ہے، اس کی غزل میں اس کی مٹی کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔ اس کی شاعری وطن پرستی کی مثال ہے، ولی کا عشق بھی ہندوستانی ہے اور معشوق بھی ہندوستان ہی کا ہے۔ ظہیرالدین مدنی لکھتے ہیں:
’’ولی نے ہندی مستعملہ عنصر یعنی ہندوستان کی مذہبی، معاشرتی، تاریخی تلمیحوں، تشبیہوں اور استعاروں، دریاؤں، پھلوں، پھولوں، موسیقی کے سازوں، راگوں، مذہبی زیارت گاہوں کے ناموں وغیرہ کو ہی قائم نہیں کیا بلکہ اپنے انداز میں تشبیہاً و رعایتاً اس طرح کام میں لیا کہ ان کی شاعرانہ اہمیت واضح کردی اور دوسری طرف اپنی وسیع المشربی، حب الوطنی اور دوربینی کا ثبوت دے دیا۔‘‘ 3
ولی نے اپنے کلام میں ہندی الفاظ کا استعمال انتہائی خوبی کے ساتھ کیا۔ اٹھارہویں صدی کے بیشتر شعراء فارسی سے متاثر تھے، فارسی لفظیات ہی کے استعمال کو ترجیح دیتے تھے۔ اٹھارہویں صدی تک نثر تو فارسی ہی میں لکھی جاتی تھی۔ فضلی نے ضرورتاً ’کربل کتھا‘ کا ترجمہ کیا، نوطرز مرصع فارسی آمیز لکھی گئی۔ اردو شعرا نے اردو شاعروں کے تذکرے بھی فارسی میں لکھے، لیکن ولی کے مقامی لفظیات کے استعمال نے غزل کو نیا آہنگ عطا کیا۔ ولی اپنے کلام کو فارسی غزل سے کمتر نہیں سمجھتے تھے۔ خود کہتے ہیں ؂
ہم پاس آگے بات نظیری کی مت کہو
رکھتے نہیں نظیر ریس کی سخن میں ہم
151151
یہ ریختہ ولی کا جاکر اُسے سناؤ
رکھتا ہے فکر روشن جو انوری کے مانند
جس طرح غالب یا دیگر شعراء نے عموماً اپنی شعرگوئی پر ناز کیا ہے، وہ اپنے آپ کو دوسرے کے مقابلے میں افضل سمجھتے ہیں۔ مثلاً غالب نے کہا ؂
ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور
ولی بھی اپنے کلام کو نہ صرف فارسی شعرا سے بلکہ اپنے معاصرین کے کلام سے بہتر سمجھتے ہیں، اس احساس کو وہ بار بار ظاہر کرتے ہیں ؂
دکھنی زباں میں شعر سب لوگاں کہے ہیں اے ول
لیکن نہیں بولا کوئی یک شعر خوشتر زیں نمط
151151
شاعروں میں اپس کا نام کیا
جب ولی نے کیا یو دیوان جمع
151151
ولی تجھ شعر کو سن کر ہوئے ہیں مست اہل دل
اثر ہے شعر میں تیرے شراب پرتگالی کا
یہ شاعرانہ تعلّی عام طور پر سبھی شعرا کے یہاں نظر آتی ہے، لیکن غالب کے دعوے کی طرح ولی کا دعویٰ بھی صحیح معلوم ہوتا ہے۔ جس طرح غالب اپنے منفرد انداز کے سبب ممتاز نظر آتے ہیں اسی طرح ولی کے منفرد انداز بیان کی وجہ سے اردو شاعری میں ایک نئے طرز کا آغاز ہوتا ہے۔ ولی کا کلام اردو شاعری کی تاریخ کا ایک تاریخی موڑ ہے، جہاں سے ایک نیا باب وا ہوتا ہے۔ ولی کے کلام کی دلکشی معاصرین کو مسحور کرلیتی ہے۔ ولی نے دکنی شاعری کی روایت کے مطابق عشق ہی کو شاعری کا مرکز بنایا، لیکن ان کا عشق، عشق صادق نظر آتا ہے۔ بیان کی سادگی، نزاکت، لطافت اور غنائیت متاثر کیے بغیر نہیں رہ پاتی۔ احساس اور جذبے کی گرمی، لہجہ کی نرمی کلام میں بے جا حسن پیدا کردیتی ہے، جس کا سننے والے پر دیرپا اثر ہوتا ہے۔ دکن کی شاعری میں عورت سے عشق کا تصور واضح نظر آتا ہے۔ ولی کو صوفی مشرب ہونے کے باوجود عشق مجازی کے بیان میں کمال حاصل ہے۔ حسن و جمال کی جو کیفیات اور جزئیات ولی پیش کرتے ہیں وہ احساس میں نغمگی پیدا کردیتی ہے۔ وہ ابتذال اور عامیانہ پن سے گریز کرتے ہوئے انتہائی چابک دستی سے دل پر گزری ہوئی کیفیت کو شعری پیکر عطا کرنے کے ہنر سے بخوبی واقف ہیں۔ محبوب کے حسن کے بیان میں جو نزاکت اور نفاست ولی کے یہاں نظر آتی ہے شاید ہی اردو شاعری میں اس کی دوسری مثال موجود ہو ؂
تجھ لب کی صفت لعل بدخشاں سوں کہوں گا
جادو ہیں ترے نین غزالاں سوں کہوں گا
151151
دونوں جہاں کی عید کی ہے آرزو اگر
پیتم کے ابرواں میں دو شکل ہلال دیکھ
151151
تری زلفاں کے حلقے میں رہے یوں نقش رخ روشن
کہ جیسے ہند کے بھیتر لگیں دیوے دوالی میں
151151
کتاب الحسن کا یہ مکھ صفا تیرا صفا دستا
تیرے ابرو کے دو مصرعے سوں اس کا ابتدا دستا
151151
مت آئینے کوں دکھلا اپنا جمال روشن
تجھ مکھ کا آب دیکھے آئینہ آب ہوگا
151151
دیکھا ہے جس نے تیرے رخسار کا تماشا
نئیں دیکھتا سُرج کی جھلکار کا تماشا
151151
جب لٹک چال سجن کی مجھے یاد آتی ہے
دل مرا رقص میں آتا ہے مثال رقاص
151151
موج دریا کو دیکھنے مت جا
دیکھ اس زلف عنبریں کی ادا
ولی کی غزلوں میں حسن و جمال کا بیان شدت سے موجود ہے۔ لفظوں کا استعمال اور لہجہ کی نزاکت و معصومیت اسے دلکش و دلفریب بنادیتی ہے۔ سراپا کے بیان میں ولی پاکیزگی کو ملحوظ رکھتے ہیں۔ اردو کے بیشتر شعراء ایسا نہیں کرسکے ہیں۔ ولی صرف محبوب کے قد اور چہرے پر نظر رکھتے ہیں، جس کے لیے انھوں نے اچھوتی تشبیہات اور استعارات کا سہارا لیا۔ نئی نئی تشبیہات و استعارات وضع کرنے میں ولی کو کمال حاصل ہے۔ محبوب کے حسن کی تعریف میں جن تشبیہات و استعارات کو ولی نے پیش کیا وہ کسی شاعر کے یہاں نظر نہیں آتیں ؂
ترا مکھ حسن کا دریا و موجاں چین پیشانی
اُپر ابرو کی کشتی کے یو تل جیوں ناخدا دستا
151151
ترے لب ہیں برنگ حوضِ کوثر مخزنِ خوبی
یہ خالِ عنبریں تس پر بلال آسا کھڑا دستا
151151
یوتل تجھ مکھ کے کعبے میں مجھے اسود حجر دستا
زنخداں میں ترے مجھ چاہ زمزم کا اثر دستا
151151
مرے دل کوں کیا بے خود تری انکھیاں نے آخر کوں
کہ جیوں بے ہوش کرتی ہے شراب آہستہ آہستہ
151151
زلف و رخ ہے ترا جو لیل و نہار
مجھ کوں واللیل والضحیٰ کی قسم
ولی کے کلام کا حسن صنائع بدائع کے استعمال میں پوشیدہ ہے۔ وہ بڑے فنکارانہ انداز میں مختلف صنعتوں کی مدد سے اشعار کو اس قدر دلکش بنادیتے ہیں کہ سماعتوں پر موسیقی کی ترنگ محسوس ہونے لگتی ہے۔ غزل کی خوبی یہ ہے کہ وہ ہر ایک کے جذبات و احساسات کی نہ صرف ترجمانی کرتی ہے بلکہ روح میں اتر جاتی ہے۔ ولی کی غزل انسانی محسوسات کی مکمل ترجمان ہونے کے سبب ایک کیف پیدا کرتی ہے۔ ولی کی مقبولیت کی وجہ ان کی غزل کی وہ زبان بھی ہے جسے انھوں نے اپنے اظہار کا ذریعہ بنایا ہے۔ ان کی زبان سادہ اور سلیس بھی ہے اور اس پر مقامی رنگ بھی نمایاں ہے۔ وہ بڑی روانی سے ہندی الفاظ کا استعمال غزل میں کرتے ہیں، جو کلام میں مقامیت اور شعریت پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ ہندی کے الفاظ غزل میں ناگوار نہیں گزرتے، بلکہ گیت کی سی جھنکار کا لطف دیتے ہیں ؂
مت غصے کے شعلے سوں جلتے کوں جلاتی جا
ٹک مہر کے پانی سوں یہ آگ بجھاتی جا
اس رین اندھاری میں مت بھول پڑوں تس سوں
ٹک پاؤں کے جھانجھر کی جھنکار ستاتی جا
تجھ مکھ کی پرستش میں گئی عمر مری ساری
اے بت کی پجن ہاری ٹک اس کو پجاتی جا
151151
مانند اس ولیؔ کے ہوا مست و بے خبر
تجھ نین سوں پیا ہے جو پیمانہ آئینہ
151151
سجن مکتب میں جب آیا ہر اک کوں
ہورہے شوق تعلیم و تعلّم
151151
جودھا جگت کے کیوں نہ ڈریں تجھ سوں اے صنم
ترکش میں تجھ نین کے ہیں ارجن کے بان آج
ولی کے یہاں بار بار مکھ، نین، جگت، بھوں، سجن وغیرہ کا استعمال ہوا ہے۔ ان کی غزلیں سادہ اور سلیس ہونے کی وجہ سے عام فہم اور مقبول ہوئیں:
مفلسی سب بہار کھوتی ہے
مرد کا اعتبار کھوتی ہے
151151
عجب کچھ لطف رکھتا ہے شب خلوت میں گل رو سوں
خطاب آہستہ آہستہ جواب آہستہ آہستہ
151151
ہم کو برداشت نہیں غصے کی
بے سبب غصے میں آیا نہ کرو
خوب رو خوب کام کرتے ہیں
یک نگہ میں غلام کرتے ہیں
ناز مت کر تجھے ادا کی قسم
بے تکلف ہو، مل خدا کی قسم
ہے جدائی میں زندگی مشکل
آ جدائی نہ کر خدا سوں ڈر
ٹک ولی کی طرف نگاہ کرو
صبح سوں منتظر ہے درشن کا
دیکھنا ہر صبح تجھ رخسار کا
ہے مطالعہ مطلع انوار کا
یاد کرنا ہر گھڑی اس یار کا
ہے وظیفہ مجھ دل بیمار کا
آہ پر آہ کھینچتا تھا میں
آج کی رات کچھ حساب نہ تھا
ولی نے چھوٹی چھوٹی بحروں میں انتہائی سادگی کے ساتھ اپنے جذبات کا اظہار غزل کے پیرائے میں کیا ہے۔ وہ فارسی اور عربی الفاظ و تراکیب کا بھی استعمال کرتے ہیں، لیکن وہ نہ ثقیل معلوم ہوتے ہیں نہ سماعت پر گراں گزرتے ہیں۔ ولی کی غزل شمال اور جنوب کی زبانوں اور تہذیبوں کا سنگم ہے۔ ڈاکٹر تبسم کاشمیری ولی کی شاعری پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’ولی وہ شاعر ہے جو شمالی ہند اور دکن کے دوراہے پر کھڑا ہے۔ شمالی ہند کی فارسی روایت اسے چکاچوند کررہی ہے اور دکن کی مقامی عشقیہ روایت اُسے اپنی طرف کھینچ رہی ہے۔ وہ شمال کی فارسی روایت کی شعری تاب ناکیوں سے اثر پذیر ہوتا رہا مگر اس کا مقامی شعور مغلوب نہ ہوسکا۔ جنوب کی شعری روایت کے آخری بڑے شاعر نے مقامی شاعری کے حسن کو اپنی غزل میں اس طور پر مرتعش کیا کہ اس کی جلوہ افروزی آج بھی اس کی غزل میں موجود ہے۔ ولی دکن کے لوک حسن، لوک عشق اور لوک کرداروں کا آخری شاعر بھی تھا۔ شمال کے تہذیبی اور ادبی غلبہ کے ساتھ یہ روایت غزل سے معدوم ہوجاتی ہے۔‘‘4
یوں تو اردو غزل ولی سے پہلے بھی تھی، لیکن ولی کی غزل یا ان کے تغزل نے اردو غزل کی تاریخ میں انقلاب بپا کیا۔ غزل کو نئے رنگ و آہنگ سے روشناس کرایا۔ اردو غزل کی تاریخ میں ولی کی اہمیت کو کسی طرح نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
حواشی:
1۔ اردو کے اسالیب بیان، ص 33,294
2۔ تاریخ ادب اردو، جلد اوّل، ص520
3۔ انتخاب ولی، ص 13، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ دہلی
4۔ اردو ادب کی تاریخ، ص 240، ایم آر پبلی کیشنز دہلی

Prof. Ibne Kanwal
Dept. of Urdu
Dehli University
Delhi - 110007

ماہنامہ اردو دنیا   شمارہ  مارچ 2019




قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

5/3/19

شفاف اسلوب کا شاعر شہریار مضمون نگار:۔ ساجد حسین انصاری



شفاف اسلوب کا شاعر شہریار

ساجد حسین انصاری
جدید غزل یا جدید نظم پر گفتگوکرتے وقت ہم ان شعراء کو نظرانداز نہیں کرسکتے جن کا تعلق ترقی پسند تحریک سے تھا کیونکہ اس تحریک سے متعلق شعرا نے غزل اور نظم دونوں کو جدید اسلوب، جدید طرزِ احساس اور جدید موضوعات سے روشناس کرایا۔ فراق، جذبی، مجروح اور جانثار اختر کا نام غزلیہ شاعری میں لیاجاسکتاہے تو نظم میں فیض، ن.م.راشد، میراجی اور اخترالایمان کا نام خاص طورپر آتاہے ان شعراء میں ن.م. راشد اور میراجی کا تعلق حلقہ ارباب ذوق سے تھا جو ترقی پسندی کے مقابلے میں متوازی اسالیب کی پروردہ ادیبوں کی ایک ایسی جماعت تھی جنھوں نے داخلی کیفیات اور نفسیاتی سنجیدگیوں کو اپنی نظموں میں جگہ دی تھی۔ ان شعرا نے ترقی پسند ادب کی اجتماعیت اور منصوبہ بند شاعری سے انحراف کیا۔
حسرت موہانی کو اردو کی غزلیہ شاعری میں اس لیے اہمیت حاصل ہے کہ انھوں نے جدید غزل کا احیاء کیا۔ حسرت موہانی کے علاوہ جگر اور فراق نے بھی جدید غزل کے گیسو سنوارنے میں بڑی محنت اور سلیقہ مندی کا ثبوت دیا۔ ترقی پسند تحریک سے متعلق شعرا جانثاراختر، جذبی اور مجروح نے اردو غزل کو ترقی پسند رجحانات سے روشناس کرایا۔ اس کے موضوعات میں تنوع پیداکیا۔ 
مذکورہ شعرا بھی آزادی کے بعد کے شعری افق پر چھائے رہے لیکن ان کے علاوہ ایک نئی نسل نے نئے انداز اور نئے اسلوب کے ساتھ اردو شاعری میں اپنی جگہ بنالی۔ اس نئی نسل کے شعرا میں نوعمر شعرا جوش وجوانی اور آزادی کے جذبے کے تحت اِس تحریک سے وابستہ تھے آہستہ آہستہ اس سے بیزار ہونے لگے اور نتیجتاً انفرادی جذبات اور داخلی موضوعات کو قلم بند کرنا شروع کردیا جو ترقی پسند تحریک سے مختلف رویہ تھا۔ ان نئے شعرا کی شاعری میں ترقی پسند شاعری کا اثر نہیں تھا بلکہ اِن شعرا نے دوربینی اور خودکلامی کو اپنا مقصد بنایا۔ ان شعرا میں خلیل الرحمن اعظمی، باقر مہدی، بلراج کومل، مصطفےٰ زیدی، ابن انشا، وحیداختر کے نام قابل ذکر ہیں۔ دوسری طرف وہ شعرا بھی تھے جن کی ذہنی تربیت حلقہ ارباب ذوق کے زیراثر ہوئی ان میں منیرنیازی، مجید امجد، وزیر آغا اور ضیاء جالندھری وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ان دونوں قبیل کے شعراء کے علاوہ ایک بڑا حلقہ ان شعرا کا تھاجو ہر رویہ اور ہرجذبے کو اپناتے رہتے تھے۔ ان شعرا میں اخترالایمان، عمیق حنفی، زبیر رضوی، حمیدالماس، محمدعلوی، عادل منصوری، مخمور سعیدی، کمارپاشی، ندافاضلی، مظہرامام، شاذ تمکنت کے علاوہ ایک اہم نام شہریار کا ہے۔ 
شہریار نے 1959 سے باقاعدہ شعرکہنا شروع کیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ترقی پسند تحریک اپنا تاریخی رول اداکرچکی تھی اور بطور تحریک تقریباً ختم ہوچکی تھی لیکن ترقی پسندانہ خیالات زندہ تھے شہریار نے اپنی شاعری پر کوئی ٹھپایا نشان نہیں لگایا لیکن وہ ایک مدت تک ترقی پسند تحریک سے وابستہ رہے اس کے بعد وہ جنوادی تحریک سے بھی منسلک رہے لیکن ان کے اندر کا شاعر ہمیشہ کشمکش میں رہا اور ان کی تخلیقی صلاحیت ہمیشہ انھیں ذہنی آزادی کی نئی راہیں تلاش کرنے کے لیے مہمیز کرتی رہی اسی کوشش نے انھیں شخصی واردات اور ذاتی تاثرات کو پیش کرنے کی طرف متوجہ کیا۔ ان کی نظمیں اور غزلیں سبھی داخلیت سے مملو ہیں۔
شہریارکی تربیت ایک مذہبی خاندان میں ہوئی۔ ان کے والد محکمہ پولس میں ملازم ہونے کے باوجود صوم وصلوٰۃ کے پابند تھے اس لیے شہریار کے یہاں باوجود آزاد خیالی کے مذہب کا احترام ملتاہے۔ انھوں نے اپنی نظموں کے تعلق سے نہایت دردمندانہ انداز اختیارکیاہے اور زندگی کے حالات اور مختلف واقعات کی بہتر ترجمانی کی ہے شہریار کے پہلے مجموعۂ کلام ’اسم اعظم‘ میں شامل نظموں سے ان کے تخلیقی سفر کی ابتدائی منزلوں، اس کے محرکات اور مذاقِ فن کے تمام زاویوں کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ان نظموں میں اجتماعی اور انفرادی تجربوں کی وہ داستانیں پوشیدہ ہیں جن سے عصری تہذیب اور حسّیت کا اندازہ لگایاجاسکتاہے۔ شہریار کے یہاں اکثر وہی موضوعات ان کے قلم سے نکلے جو ان کے ذہن اور زندگی پر اثرانداز ہوئے۔ زندگی سے اثراندازی اس بات کی کھلی ہوئی دلیل ہے کہ وہ سچے شاعر ہیں اسی لیے انھوں نے احساسات اور جذبات کی ترجمانی کی جو ان کے دل کو چھوتے اور ان کے جذبات کو متاثر کرتے ہیں۔ان کی شاعری لسانی افراط سے پاک ہے ساتھ ہی جذباتی خودمختاری میں مافی الضمیر کوادا کرنے پر قادربھی۔ بقول شمیم حنفی:
’’ شہریار کا سب سے بڑا کمال ان کی لسانی کفایت شعاری اور جذباتی خودمختاری میں مضمر ہے۔ وہ اپنی آواز کو، اپنے تجربے کو، اپنے شدید ترین رد عمل کو اور ان سب کا احاطہ کرنے والے بے حد شفاف اور شخصی اسلوب کو پل بھر کے لیے بھی بے حجاب نہیں ہونے دیتے۔ خواب اور حقیقت کی ایک ازلی اور ابد ی Dialecticsایک گہرے باطنی تصادم اور پیکار کی حصار بندی میں اپنی حسیات کی تمام تر شمولیت کے ساتھ بھی شہریار اپنے تجربے کا وقار قائم رکھتے ہیں۔اسے کبھی بے قابو نہیں ہونے دیتے۔ ایک سوچی سمجھی سطح سے اوپر نہیں جانے دیتے۔ جذبے کا اسراف اور لفظوں کا اسراف جو شہریارکے بیشتر معاصرین کے ساتھ پرچھائیں کی طرح لگاہواہے، شہریارکی شاعری میں اس کی گنجائش کبھی نہیں نکلتی۔‘‘
شہریارکی شاعری میں یہ وصف ان کی بنیادی سچائی کی وجہ سے پیداہوئی اور یہ وصف ہراچھے شاعر کے لیے ضروری بھی ہے۔ سچائی سے میرا مطلب یہ ہے کہ وہ کسی مخصوص رنگ یا کسی مخصوص مکتب خیال کے پابند نہیں رہے اور نہ ہی انھوں نے خود کو کسی دائرے میں محدود ہونے دیا بلکہ جیسے جیسے ان کی شخصیت میں تبدیلیاں پیداہوتی گئیں وہ ان کا اظہار کرتے رہے۔شہریار کی شاعری کا دور ایک عبوری دور تھا جس میں اقدار کی پامالی کی وجہ سے انسان کسی بھی نظریے اور کسی خیال کا پابند نہیں ہوپاتا تھا۔
انھوں نے جہاں اپنے زمانے سے اثرات قبول کیے ہیں وہیں روایت سے بھی اپنا رشتہ برقرار رکھاہے جس کی بدولت ان کی شاعری کو وہ خاص کیفیت بھی حاصل ہوئی جس کو ہم تغزل سے عبارت کرتے ہیں۔ بقول شمس الرحمن فاروقی :
’’ شہریار ہمارے زمانے کے ان چند شعرا میں سے ہیں (او ر ان میں بھی ممتاز ہیں)جن کے یہاں جدید فکر ایک ایسے اسلوب میں ظاہرہوئی ہے جو اوپر تو مختلف معلوم ہوتاہے لیکن جس میں روایت کے تسلسل کا احساس ہے یہ روایت بہت سے دوسرے شعرا کے علی الرغم) ماضی قریب سے اتنی زیادہ منسلک نہیں جتنی اس اصل روایت سے جڑی ہوئی ہے جس کو فیشن کی تبدیلی اور مغربی فکر کوسمجھنے میں غلطی کرنے(یعنی حالی)یا مشرقی فکر کو سمجھنے میں غلطی کرنے کے باعث ہم لوگ ایک عرصہ سے بھولے ہوئے تھے اسی لیے انھوں نے نظم اور غزل دونوں میں ایک ہم آہنگی بھی دریافت کرلی ہے ( یہ معاملہ بہت سے جدید شعراء کو پریشان کرتارہاہے کہ نظم کو غزل سے مختلف رکھیں یا مماثل بنائیں، اگر مماثل بنائیں تو دونوں میں سے ایک غیرحاضر ضروری ہوجاتی ہے اور اگر مختلف رکھیں تو اس اختلاف کی بنیاد کیاہو؟) شہریارنے مماثل یا مخالف کے بجائے ہم آہنگی کا راستہ اختیارکرکے اس مشکل کو جس طرح حل کیاہے وہ انھیں کا حصہ ہے۔‘‘ 
روایت کے شعورنے ان کی شاعری میں پختگی اور تازگی پیداکردی ہے اس کے علاوہ اس رشتے کی توسیع کا عمل بھی ان کے یہاں نظرآتاہے چند شعر ملاحظہ فرمائیں:
غم زدہ وہ بھی ہیں دشوار ہے مرنا جن کو
وہ بھی شاکی ہیں جنھیں جینے کی آسانی ہے
اس نتیجے پہ پہنچتے ہیں سبھی آخر میں
حاصل سیرِجہاں کچھ نہیں ویرانی ہے
مذکورہ بالااشعار شہریارکے آخری مجموعہ ’ شام ہونے والی ہے ‘ سے لیے گئے ہیں۔ اس مجموعے کی بیشتر غزلیں اور نظمیں روایت پرستی اور تغزل کی جیتی جاگتی تصویریں ہیں۔ ان میں وہی موضوعات ہیں جو کلاسیکی شعراء کے یہاں عام طورسے ملتے ہیں۔ ان میں واردات عشق کی مختلف کیفیات ہیں اور ہر کیفیت کو نہایت سادگی اور خلوص کے ساتھ بیان کیاگیاہے ساتھ ہی زمانے کی تلخ حقیقتوں کو انتہائی مؤثر انداز میں پیش کیاگیاہے اسی لیے شہریار کی شاعری جدید ہونے کے باوجود قدیم شعری روایات کی پاسداری کی بدولت بے رنگ ہونے سے بچ گئی ہے اور اس میں ایک خاص قسم کی رنگارنگی پیداہوگئی ہے۔شہریارکی غزلوں کے یہی بنیادی موضوعات ہیں جن کے تعلق سے انھوں نے حیات وکائنات کے راز، دنیا کی پیچیدگی اور عصر حاضر کے انسانوں کی لامحفوظیت اور بے چہرگی کو بیان کیاہے۔ شہریار نے زندگی سے بڑی حد تک محبت کی ہے ان کی شاعری میں جو دکھ درد کی مدھم آنچ روشن ہے،وہ دراصل دنیا سے محبت کاہی نتیجہ ہے جس نے انھیں دنیا سے لاتعلقی اختیارکرنے سے بچائے رکھا۔ شہریار کی شاعری ان کے ذاتی تجربے کی ترجمان ہونے کے ساتھ ساتھ دوسروں کے تجربوں کو اپناکر خود اپنی ذات کا حصہ بنتی ہوئی نظرآتی ہے۔ وہ اپنی ذات کوآئینہ بنانے کے ساتھ ساتھ دوسرے آئینوں میں بھی اپنی صورت دیکھنے کا ہنر جانتے ہیں اور اسی ہنرمندی نے انھیں اچھا اور کامیاب شاعر بنایا۔ شہریار کی شاعری میں اپنا دکھ زمانے کا دکھ اور زمانے کا درد اپنا درد ابھرتاہے اور یہی وہ خاصیت ہے جو شہریار کو اپنے ہم عصر شعرا میں ممتاز کرتی ہے۔ اس طرح ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان کی شاعری چاہے غزل کی ہو یا نظم کی جدید رجحانات کی بہترین عکاسی کرتی ہے اور غزل کے سلسلے میں تویہ حقیقت ہے کہ انھوں نے جدید غزل کو سنوارنے اور سجانے میں بڑا اہم کام کیاہے جس طرح ترقی پسند تحریک کے زیرِ اثر فیض، جذبی، سردار جعفری، جاں نثار اختر اور مجروح سلطانپوری پیش پیش رہے۔ اسی طرح جدید شاعری کے اہم اور نمائندہ شعراء میں شہریار کی شاعرانہ عظمت مسلّم ہے، ان کی شاعری کو فراموش نہیں کیاجاسکتا۔

Dr. Sajid Husain Ansari
Dept. of Urdu, St. Andrews, PG College
Civil Court Road, Civil Lines
Gorakhpur - 273001 (UP)







قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...