23/4/19

ندا فاضلی کا تخلیقی گاؤں مضمون نگار: کوثر مظہری



ندا فاضلی کا تخلیقی گاؤں
کوثر مظہری
(1)
ندا فاضلی کا نام تو کالج کے زمانے میں (1982-84) ہی سن رکھا تھا، لیکن چونکہ میں ا س زمانے میں B.Sc (علم نباتات) کررہا تھا، اس لیے ان کے حوالے سے، یا ان کی چیزیں پڑھنے کا یا انھیں سننے کا موقع کم ملا۔ البتہ دہلی آنے کے بعد ایک دو مشاعروں میں انھیں سننے کاا تفاق ہوا۔ ان کا شعر پڑھنے اور سنانے کا انداز بالکل جداگانہ تھاا ور پھر جب وہ دوہے سناتے تو دوسرے مصرعے کے اختتام پر دونوں ہاتھوں کو ہوا میں لے جاتے ا ور تقریباً دونوں طرف سے سر کے سامنے اوپر تک لاکر چھوڑدیتے۔ لفظوں کو دہرانے کا بھی ان کا ایک خاص انداز تھا جس کی نقالی بعد کے کئی شعرا کے یہاں نظرآئی۔
ذاتی طور پر میری ان سے بہت قربت نہیں تھی، لیکن جب میں نے اپنا شعری مجموعہ ’ماضی کا آئندہ‘ اپنے دوست شکیل اعظمی کے ذریعے ان کو بھجوایا تو پورا مجموعہ پڑھ کر فوراً فون کیا اور دیر تک یوں باتیں کرتے رہے جیسے وہ مجھے ذاتی طور پر بہت اچھی طرح جانتے ہوں۔ ’’کوثر صاحب آپ توبہت اچھی تنقید بھی لکھ رہے ہیں اور میں نے رسالوں میں آپ کی چیزیں پڑھی ہیں۔‘‘ ایسا تعریفی جملہ سن کر میرے حوصلے بڑھ گئے۔ اس کے بعد شعبۂ اردو کی طرف سے فراق میموریل لکچر انھوں نے پیش کیا جو کہ بہت ہی معلوماتی ا ور دل چسپ تھا۔ ان کی گفتگو اور مقالہ پیش کرنے کے انداز نے سامعین کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔اسی طرح جامعہ کلچرل کمیٹی کی طرف سے ایک آل انڈیا مشاعرہ منعقدہ کیے جانے کی ذمے داری مجھے دی گئی۔ یہ نومبر 2009 کی بات ہے۔ فہرست میں سینئر شعرا میں بیکل اتساہی کے بعد ندا صاحب ہی کا نام تھا۔ مشاعرے کا کنوینر ہونے کے ناتے مجھے ہی ندا صاحب سے گفتگو کرنی تھی۔ میں نے جب انھیں فون کیا تو جامعہ میں مشاعرہ پڑھنے کے لیے وہ فوراً تیار ہوگئے۔ میں نے یہ بھی بتایا کہ یہاں یونیورسٹی جو اعزازیہ پیش کرے گی اس کی رقم ’یہ‘ ہے۔ انھوں نے کہا151 ’’کوثر صاحب میں مشاعرے پڑھتا ہوں، لیکن جامعہ ملیہ میں مشاعرہ پڑھنا یہ خود میرے لیے اعزاز کی بات ہے، آپ اعزازیہ کی بات مت کیجیے۔‘‘ اس طرح وہ خوشی خوشی اس مشاعرے میں تشریف لائے۔ صبح جامعہ کے نہرو گیسٹ ہاؤس میں کچھ نوجوان ادیب و شاعر ان سے ملنے آئے۔ میں بھی شریک تھا۔ ان میں جناب حقانی القاسمی، جناب عبدالقادر شمس، نعمان قیصر وغیرہ تھے۔ وہیں کینٹین میں ہم سب ندا صاحب کے ساتھ چائے پیتے رہے اور بہت دیر تک ادبی اور غیر ادبی (لیکن دل چسپ) باتیں کرتے رہے۔ وہ جس قدر خوب صورت تھے اسی طرح انھیں خوب صورت اندازمیں گفتگو کرنے کا ملکہ حاصل تھا۔ اب وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں، البتہ ان کے شعری اور نثری متون ہمارے سامنے ہیں۔ ہم جب بھی ندا سے ہم کلام ہونا چاہیں ان کی نگارشات پڑھیں تو شاید ان کا عکس، ان کے تجربے، ان کے مشاہدے اور یہاں تک کہ ان کی شخصیت کے مختلف پہلو ہمارے سامنے کھُلتے جائیں گے اور حقیقت یہی ہے کہ اصل سرمایہ تو ان کی تخلیقات ہی ہیں۔

(2)
ہر ایک گھر میں دیا بھی جلے اناج بھی ہو
اگر نہ ہو کہیں ایسا تو احتجاج بھی ہو
ندا فاضلی کے شعری تناظر اور تخلیقی نہج کو سمجھنے کے لیے میں نے یہ شعر درج کیا ہے۔ ذرا اس شعر کو پڑھیے اور اس پر غور کیجیے تو اندازہ ہوجائے گا کہ یہ کسی ترقی پسند شاعر کا شعر ہے۔ اس میں ہر ایک گھر میں روشنی اور اناج ہونے کی بات کی جارہی ہے اور اگر ایسا ممکن نہیں تو ا س کے لیے احتجاج کرنے کا مشورہ بھی دیا جارہا ہے۔ ترقی پسندوں کا بھی کچھ یہی تقاضا تھا۔ لیکن بہت جلد ندا فاضلی کو احساس ہوگیا کہ ترقی پسندی کا جادو سرد پڑچکا ہے اور ایک جدید رجحان مدمقابل ہے۔ دوسری طرف تقسیم ہند کے بعد رونما ہونے والے فسادات اور انسانی قدروں کی پامالی، غیرضروری سیاسی جوش اور ولولے، انسانی جذبوں کی تقسیم، نقل مکانی کے سبب بے مکانی، بے چہرگی اور انسانی وجود کی بقا کے لیے جدوجہد، یعنی یہ سب کچھ اور اسی نوع کے دوسرے مسائل اور عوامل ایسے تھے جو ندا کی تخلیقیت اور باطن دونوں میں ہلچل پیدا کررہے تھے۔ کبھی کبھی اس طرح کے تجربے سوہانِ روح بن جاتے ہیں۔ سنیے:
بیٹھے ہیں دوستوں میں ضروری ہیں قہقہے
سب کو ہنسا رہے ہیں مگر رو رہے ہیں ہم
اور پھر یہ نظم دیکھیے:
پیار، نفرت، دیا، جفا، احسان
قوم، بھاشا، وطن، دھرم، ایمان
عمر گویا/ چٹان ہے کوئی
جس پہ انسان کوہ کن کی طرح
موت کی نہر/کھودنے کے لیے/ سیکڑوں تیشے
آزماتا ہے/ ہاتھ پاؤں چلائے جاتا ہے
ندا فاضلی خود رشتوں کی ٹوٹ پھوٹ کے بھوگی رہے ہیں، لہٰذا وہ ان رشتوں کو اپنی شاعری میں سجاتے سنوارتے رہے ہیں۔ سیاسی اور سماجی طور پر جو اتھل پتھل ہوتی ہے اسے بھی شاعر شعری پیکر عطا کرتا ہے۔ لیکن شاعر کا خلوص خواہ وہ دوستی کا ہو یا دشمنی کا، رشتوں کی الگنی پر دھوپ میں سوکھتے ہوئے زیادہ درخشاں اور پائندہ نظر آتا ہے۔ 
زمینی قربتوں اور فاصلوں کو ہمیشہ ندا فاضلی نے اپنی تخلیقی ہنرمندی کا حصہ بنایا ہے۔ ان کے لسانی اظہار میں بھی سادگی کے ساتھ تازگی دیکھی جاسکتی ہے:
کچھ لوگ یونہی شہر میں ہم سے بھی خفا ہیں
ہر ایک سے اپنی بھی طبیعت نہیں ملتی
اسی انسانی رشتے کی حقیقت اور نسلی بُعد (Generation Gap) کو وہ اپنی ایک نظم میں اس طرح پیش کرتے ہیں۔ غور کیجیے کہ اس نظم کے کرافٹ میں کیسی کرب آگیں تخلیقیت ضم ہوگئی ہے:
بیٹھے بیٹھے یونہی قلم لے کر
میں نے کاغذ کے ایک کونے پر
اپنی ماں/ اپنے باپ، کے دو نام
ایک گھیرا بنا کے کاٹ دیے
اور اس گول دائرے کے قریب
اپنا چھوٹا سا نام ٹانک دیا
میرے اٹھتے ہی، میرے بچے نے
پورے کاغذ کو لے کے پھاڑ دیا
یہاں کاغذ پھاڑنے کے ساتھ ساتھ، ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے شاعر کا دل بھی دو نیم ہوگیا ہے۔ یہی ہے وہ احساس کی لطافت جس میں شدت کی پھواریں ہیں اور یہی ہیں وہ پھواریں جو ندا کی شاعری کو ترفع (Sublimation) عطا کرتی ہیں۔
رشتوں کا تحفظ ہو یا اقدار انسانی کا، دونو ں انسانی معاشرے کے لیے اہم ہیں۔ سیاسی بازی گروں اور مذہبی ٹھیکے داروں نے بھی انسانی قدروں کو خراب و پامال کیا ہے۔ ایسے میں کسی بھی سچے تخلیقی فنکار کے لیے خاموش رہنا مشکل ہوتا ہے۔ ندا، خدا، سماج اور انسانی رشتوں پر کچھ اس طرح اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہیں:
کسی گھر کے کسی بجھتے ہوئے چولھے میں ڈھونڈ اُس کو
جو چوٹی اور داڑھی تک رہے وہ دین داری کیا
بندرابن کے کرشن کنہیا اللہ ہو
بنسی، رادھا، گیتا، گیّا اللہ ہوٗ
مولویوں کا سجدہ، پنڈت کی پوجا
مزدوروں کی ہیّا ہیّا اللہ ہوٗ
اتنی خونخوار نہ تھیں پہلے عبادت گاہیں
یہ عقیدے ہیں کہ انسان کی تنہائی ہے
ندا فاضلی کے اس رویے کو مذہب مخالف نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ اس میں انسانی دردمندی اور عظمت آدم کو پس پشت ڈال کر مذہب کے نام پر لڑنے لڑانے والو ں کے لیے دور سے آتی ہوئی ایک کرن ہے۔ معاشرے کے تاریک سینے میں ندا نے ایک شمع روشن کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہیں، یہ بات بھی کہی جاسکتی ہے کہ ندا کی شاعری میں جہاں انسانی دردمندی کے نغمے ہیں وہیں بچوں کی معصومیت کے تحفظ کا گیت بھی ہے:
بچوں کے چھوٹے ہاتھوں کو چاند ستارے چھونے دو
چار کتابیں پڑھ کر یہ بھی ہم جیسے ہوجائیں گے
ہمیشہ مندر و مسجد میں وہ نہیں رہتا
سنا ہے بچوں میں چھپ کر وہ کھیلتا بھی نہیں
اسی طرح ان کی ایک مختصر سی نظم ’چھوٹی سی شاپنگ‘ ہے جس میں نہایت ہی سادگی کے ساتھ پانچ سال کی بچی کے لیے ایک گڑیا کی خریداری کا نقشہ پیش کیا گیا ہے اور پھر اس کی منظرکشی میں ندا نے جو تخلیقیت کے رنگ بھرے ہیں، اس سے وہ گڑیا رقص کناں ہوگئی ہے، ملاحظہ کیجیے:
گوٹے والی/ لال اوڑھنی/ اس پر/ چولی گھاگھرا
اسی سے میچنگ کرنے والا/چھوٹا سا اک ناگرا
چھوٹی سی!/ یہ شاپنگ تھی/ یا/ کوئی جادو ٹونا
لمبا چوڑا شہر اچانک/ بن کر ایک کھلونا
اتہاسوں کا جال توڑ کے
داڑھی، پگڑی، اونٹ چھوڑ کے
الف سے/ اماں/ بے سے/ بابا/ بیٹھا باج رہا تھا
پانچ سال کی بچی/ بن کر/ جے پور ناچ رہا تھا
دیکھیے کہ کس تخلیقی ہنرمندی کے سبب ’داڑھی پگڑی اور اونٹ‘ جو کہ جے پور (راجستھان) کی تہذیبی شناخت خلق کرتے ہیں ایک دم سے پانچ سال کی بچی کے لیے خریدی گئی گڑیا میں مبدل ہوکر ناچنے لگتے ہیں۔ یہ ان اشیا کی محض ظاہری تبدیلی نہیں ہے بلکہ اس لطیف جذبے کی قلب ماہیت ہے جو شاعر کے دل میں اس بچی کے لیے پل رہا ہے۔ ندا نے رشتوں کے باطن میں اترنے اور انھیں محسوس کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہی معصوم رشتہ جب گاؤں، گھر، خاندان کی طرف مراجعت کرتا ہے تو تخلیقی شعور کی کہکشاں آسمانِ شاعری پر یوں ابھرتی ہے:
میں برسوں بعد/ اپنے گھر کو تلاش کرتا ہوا
اپنے گھر پہنچا/ لیکن میرے گھر میں
اب میرا گھر نہیں تھا
اب میرے بھائی اجنبی عورتوں کے شوہر بن چکے تھے
میرے گھر میں/اب میری بہنیں
انجانے مردو ں کے ساتھ مجھ سے ملنے آئی تھیں
اپنے اپنے دائروں میں تقسیم
میرے بھائی بہن کا پیار
اب صرف تحفوں کا لین دین بن چکا تھا
میں جب تک وہاں رہا
شیو کرنے کے بعد/برش، کریم، سیفٹی ریزر
خودد ھوکر اٹیچی میں رکھتا رہا/ میلے کپڑے
خود گن کر لانڈری میں دیتا رہا
اب میرے گھر میں وہ نہیں تھے
جو بہت سوں میں بٹ کر بھی
پورے کے پورے میرے تھے
جنھیں میری ہر کھوئی چیز کا پتہ یاد تھا
مجھے کافی دیر ہوگئی تھی/ دیر ہوجانے پر کھویا ہوا گھر
آسمان کا ستارہ بن جاتا ہے
جو دور سے بلاتا ہے/ لیکن پاس نہیں آتا ہے
(نظم: دور کا ستارہ)
اس نظم میں محض ’ندا‘ کا مشاہدہ یا نجی تجربہ نہیں بلکہ گھر خاندان کے افراد کا الگ الگ ہوکر زندگی گزارنا، بھائی بہنوں کی شادیاں ہونے کے بعد آنگن میں ’اجنبیت‘ کا آجانا، تحفے کا لین دین151 اس طرح دھیرے دھیرے قربتوں کا دوریوں میں بدل جانا سب کچھ شامل ہے۔ یہ بہت ہی سچا Landscape ہے جسے ندا فاضلی نے بنایا ہے۔
یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ندا نے، اگر غلط نہیں، تو صرف رشتوں کی شاعری کی ہے۔ خاندانی افراد کے رشتوں کی، بہن بھائی اور ماں باپ کے رشتوں کی، پہاڑ اور چرند و پرند کے رشتوں کی یعنی مظاہر قدرت میں بھی وہ ایک طرح سے رشتوں کے متلاشی نظر آتے ہیں۔ انھیں شاید رشتوں کی کہانی سنانے میں روحانی خوشی محسوس ہوتی ہے۔ یہاں ایک ’نظم‘ جو کہ غزل کے فورم میں ہے ملاحظہ کیجیے اور دیکھیے کہ ندا نے ’ماں‘ کے روپ کو کس طرح پینٹ کرنے کی کوشش کی ہے:
بیسن کی سوندھی روٹی پر کھٹی چٹنی جیسی ماں
یاد آتی ہے چوکا باسن چمٹا پھُکنی جیسی ماں
بانس کی کھرّی کھاٹ کے اوپر ہر آہٹ پر کان دھرے
آدھی سوئی، آدھی جاگی، تھکی دوپہری جیسی ماں
چڑیوں کی چہکار میں گونجے رادھا موہن علی علی
مرغی کی آواز سے کھُلتی گھر کی کنڈی جیسی ماں
بیوی، بیٹی، بہن، پڑوسن تھوڑی تھوڑی سی سب میں
دن بھر اک رسّی کے اوپر چلتی نٹنی جیسی ماں
بانٹ کے اپنا چہرہ، ماتھا، آنکھیں، جانے کہاں گئی
پھٹے پرانے اک البم میں چنچل لڑکی جیسی ماں
ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ندا نے ماں پر پورا ایک ناول تحریر کردیا ہے۔ کتنی جہتیں ہیں۔ اردو شاعری میں ’ماں‘ کو طرح طرح سے عقیدتوں کی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ غزل میں، نظم میں، لیکن فی الحقیقت ندا نے جس طرح کی نظم اور جس ڈکشن میں کہی ہے، میں نے ایسی نظم کہیں نہیں پڑھی۔ ایک بات یہ بھی یاد رکھنے کی ہے کہ ایسی شاعری کا تجزیہ کرنے سے جذبہ و احساس کی لطافت ماند پڑجاتی ہے۔ آخر کے شعر میں تو ماں کے وجود کے بکھرنے یا یہ کہہ لیں کہ ماں کے اپنے وجود کو اپنی نئی نسل میں بانٹ کر خرچ کرکے مٹ جانے کا نقشہ پیش کیا گیا ہے۔ آپ ملاحظہ کیجیے کہ کس طرح یہ شعر پورے Sensory Nerves میں سنسناہٹ پیدا کردیتا ہے:
بانٹ کے اپنا چہرہ ماتھا، آنکھیں جانے کہاں گئیں
پھٹے پرانے اک البم میں چنچل لڑکی جیسی ماں
وارث علوی نے ندا پر لکھے گئے اپنے مضمون ’جدید شاعری کا معتبر نام۔ ندا فاضلی‘(مشمولہ ’ناخن کا قرض‘) میں لکھا ہے اور کہا ہے کہ اقبال کی نظم ’والدہ مرحومہ کی یاد میں‘ اچھی ہے مگر فلسفیانہ خیالات سے بوجھل ہے۔ پھر یہ لکھا ہے کہ:
’’میرے نزدیک اردو میں ’ماں’ کے موضوع پر صرف دو نظمیں یادگار رہیں گی۔ فراق کی نظم ’جگنو‘ اور ندا کی منقولہ بالا نظم۔‘‘ (ص 91)
حالانکہ ندا نے یہ نظم بغیر کسی عنوان کے کہی ہے اور غزل کی ہیئت میں کہی ہے۔ وارث علوی نے دو صفحات میں اسی نظم کے مختلف نقوش اور جہتوں کو اُجاگر کرنے کی کوشش کی ہے اور یہ بتایا ہے کہ ندا نے ایک ہندوستانی ماں کی تصویر ہندوستانی پس منظر میں خوبصورت لفظوں کی مدد سے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
اس طرح ندا کی شاعری میں انسانی جذبوں کی سرشاری اور زندگی کی بالکل ہی سچی تصویریں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ انسانی زندگی اور انسانیت دونوں کو مستحکم کرنے والے جو بھی عوامل اور عناصر شاعری کے لیے استعمال ہوسکتے ہیں، ندا نے انھیں بہت ہی خوش اسلوبی سے استعمال کیے ہیں۔ پوری کائنات اور بالخصوص ہندوستانی زمین اور اس زمین پر تنے ہوئے نیلے شامیانے اور اس شامیانے میں جڑے ہوئے چاند سورج اور ستارے اور ان دونوں کے بیچ خلاؤں میں اڑتے ہوئے رنگ برنگ پرندوں کو ندا نے بہت ہی قریب سے دیکھا اور محسوس کیا ہے۔ چاند، مانجھی، ندی، دریا، گوریا، پیپل کے پتے، برکھارُت، ساون، بھادوں، انگیٹھی، کٹیا، بگلوں کی ڈاریں، کٹورے سا تال، مٹکے کا پانی او ربھی ایسے نشانات و آیات جو ہماری ہندوستانی تہذیبی بساط کو خوب صورت بناتے ہیں، ندا نے انھیں اپنی شاعری کا حصہ بنایا ہے۔ آپ ان الفاظ پر غور کریں تو اندازہ ہوگا کہ بہت کم اُرد وکے شعرا ہیں جو ان کو اپنی شاعری میں جگہ دے پاتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ ہے، اپنی تہذیبی جڑوں سے دوری یا کم ازکم ان کی طرف توجہ کا فقدان۔ اگر یہاں الفاظ کے اچھے یا برے ہونے کی بحث چھیڑ دی جائے تو بات غیرضروری طور پر نظریاتی مباحث کی لیک پر چل نکلے گی اور ایسے میں ندا فاضلی کے شعری منشور سے چھن کر آنے والی ست رنگی شعاعوں سے ہمارے ذہن منور نہیں ہوسکیں گے، اس لیے اس بحث کو یہیں موقوف کیا جاتا ہے۔
اب تک جن پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی، ندا نے ان کے علاوہ بھی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اپنی شاعری میں پیش کیا ہے۔ شاعروں کا محبوب موضوع عشق بھی رہا ہے۔ عشقیہ مضامین اور ان کے ارتعاشات بھی ندا کی شاعری میں ملتے ہیں۔ ایک چھوٹی سی نظم ’ایک ملاقات‘ دیکھیے:
نیم تلے دو جسم اجانے چم چم بہتا ندیا جل
اُڑی اُڑی چہرے کی رنگت کھلے کھلے زلفوں کے بل
دبی دبی کچھ گیلی سانسیں جھکے جھکے سے نین کنول
نام اس کا؟ دو نیلی آنکھیں
ذات اس کی؟ رستے کی رات
مذہب اس کا؟ بھیگا موسم
پتا؟ بہاروں کی برسات
نظم پڑھتے ہوئے آپ الفاظ و تراکیب میں قطعی نہیں الجھتے بلکہ اس کی روانی میں آپ بھی بہتے چلے جاتے ہیں۔ سچا جذبہ، سچا اور سیدھا اسلوب اظہار، یہی ہے ندا کی شاعری کا واضح نقش۔ فکری پیچیدگی سے پرے اور پیچیدہ اسلوب سے دور ندا کی شاعری الگ سے پہچانی جاسکتی ہے۔ ان کی شاعری میں عشق کا جذبہ کچھ یوں بھی اترتا ہے:
جب جب موسم جھوما ہم نے کپڑے پھاڑے شور کیا
ہر موسم شائستہ رہنا کوری دنیا داری ہے
ہر اک رستہ اندھیروں میں گھرا ہے
محبت اک ضروری حادثہ ہے
تم سے چھُٹ کر بھی تمھیں بھولنا آسان نہ تھا
تم کو ہی یاد کیا تم کو بھلانے کے لیے
اکیلے کمرے میں گلدان بولتے کب ہیں
تمھارے ہونٹ ہیں شاید گلاب میں شامل
اب بھی یوں ملتے ہیں ہم سے پھول چنبیلی کے
جیسے اُن سے اپنا کوئی رشتہ لگتا ہے
وہ ایک ہی چہرہ تو نہیں سارے جہاں میں
جو دور ہے وہ دل سے اُتر کیو ں نہیں جاتا
اور پھر ایک خوب صورت مشورہ کہ:
عشق کرکے دیکھیے اپنا تو یہ ہے تجربہ
گھر، محلہ، شہر، سب پہلے سے اچھا ہوگیا
اگر بغور دیکھا جائے تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ندا نے عشقیہ مضامین کو زیادہ وسعت نہیں دی ہے۔ چونکہ انھوں نے زندگی کے تلخ تجربے اور مشاہدے سمیٹے ہیں، ان کے گلے گلے دکھوں اور جدوجہد کا پانی آیا ہے، لہٰذا زمانے کے اندر اتر کر ان کی تخلیقی حسیت نے انھیں ایک ایسے شاعر کے روپ میں ابھارا ہے جو اپنے ہم عصروں میں مضامین اور اسالیب اظہار دونوں سطحوں پر الگ نظر آتا ہے۔
ایسے میں کبھی شان قلندری بھی پیداہوجاتی ہے او رکبھی زندگی کے مختلف اچھے برے نقوش بھی ابھرتے ہیں:
ہر اک آنگن میں دیواریں کھڑی ہیں
سبھی کے پاس کچھ پرچھائیاں ہیں
آنکھیں کہیں، نگاہ کہیں، دست و پا کہیں
کس سے کہیں کہ ڈھونڈو بہت کھو رہے ہم
رستوں کے نام وقت کے چہرے بدل گئے
اب کیا بتائیں کس کو کہاں چھوڑ آئے ہیں
مسمار ہورہی ہیں دلوں کی عمارتیں
اللہ کے گھروں کی حفاظت نہیں رہی
خوشی منائیے آئینہ سامنے رکھ کر
خود اپنے کھونے کا ڈر بھی خیال میں رکھیے
او رپھر ندا ایک اُچٹتی سی نگاہ پوری کائنات پر ڈالتے ہوئے یہ سوال کرتے ہیں:
زمین پیروں تلے سر پہ آسماں کیوں ہے
جہاں جہاں جور کھا ہے وہاں وہاں کیوں ہے
بڑا شاعر، بڑا فنکار کائنات اور اشیائے کائنات پر سوالات قائم کرتا ہے۔ غالب کے یہاں تو اس کی مثالیں بھری پڑی ہیں:
سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہوگئیں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہوگئیں
کس پردے میں ہے آئینہ پرداز اے خدا
رحمت کہ عذر خواہ لب بے سوال ہے
اسی طرح دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے، والی پوری غزل سوالوں پر قائم ہے۔ اس غزل کے یہ اشعار:
یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیں
عشوہ و غمزہ و ادا کیا ہے
سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں 
ابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے
اور دیوانِ غالب کی پہلی غزل کا مطلع ہی سوال قائم کرتا ہے:
نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا
خیر، عرض یہ کرنا ہے کہ ندا فاضلی نے اس پوری کائنات کو کھلی آنکھوں سے دیکھا اور اس کی بیشتر اشیا کو اپنے باطن میں اتارنے، سنوارنے اور پھر الفاظ کے پیکر میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے نظموں اور غزلوں کو کم و بیش مساوی طور پر اپنی تخلیقات میں برتنے کی کوشش کی ہے۔ ان کی شاعری پڑھتے ہوئے ایک خاص بات جو سمجھ میں آتی ہے وہ ہے ان کا اپنی مٹی اور اس کی جڑوں سے پیار۔ بلکہ ایسا جیسے ان کے لہو میں اس دھرتی کا رنگ (Ochre) حلول کرگیا ہے۔ ان کے دوہے تو اس بات کی توثیق کرتے ہی ہیں، مفرس و معرّب الفاظ و تراکیب سے وہ تقریباً بچتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔ ان کے یہاں صوفی سنتوں کے اقوال احساس کی حد تک اور ہندوستانی رنگ تنفس کی حد تک نظر آتا ہے۔ ان کی شاعری میں Urban کردار کے بجائے ایک Rural اور دیہی کردار ابھرتا ہے اور اسی لیے انھوں نے اپنے کلیات کو بھی ’شہر میں گاؤں‘ سے موسوم کیا ہے۔ آخر میں یہ شعر ملاحظہ کیجیے جو میرے خیال سے ندا فاضلی کی شعری اساس تک پہنچنے کا راستہ دیتا ہے:
کھول کے کھڑکی چاند ہنسا پھر چاند نے دونوں ہاتھوں سے
رنگ اڑائے، پھول کھلائے، چڑیوں کو آزاد کیا

Prof. Kausar Mazhari, 
Dept. of Urdu,
 Jamia Millia Islamia,
 New Delhi - 110025
Mob.: 9818718524
Email.kausmaz@gmail.com


ماہنامہ اردو دنیا، دسمبر2016




قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

م ناگ: کتاب جو پھٹی رہ گئی مضمون نگار: فرحان حنیف وارثی




م ناگ: کتاب جو پھٹی رہ گئی
فرحان حنیف وارثی
م ناگ کو میں پچھلے بائیس تئیس برسوں سے جانتا تھا۔ ان کی کہانیاں مجھے پسند تھیں۔ محض اس لیے نہیں کہ ان کا طرز تحریر اوروں سے ایک حد تک جداگانہ تھا بلکہ اس لیے بھی کہ وہ عورت اور اس کے جسمانی حسن کو اتنی ہنرمندی سے لفظوں کے ساتھ گوندھتے تھے کہ قاری کہانیاں پڑھتے وقت اپنے اندرون میں ایک مقناطیسی کشش کا احساس کرتا تھا۔ گویا الٹے توے پر کوئی روٹی پکا رہا ہو۔ ڈاکو طے کریں گے، غلط پتہ اور ’چوتھی سیٹ کا مسافر‘ میں ایسی کئی کہانیاں قاری کو پڑھنے کے لیے مل جاتی ہیں۔ م ناگ نے گفتگو کے دوران ایک بار مجھ سے کہا تھا ’’یہ قاری کے اپنے تاثرات ہیں، ورنہ میرا موضوع سیکس نہیں ہے۔ یعنی میں ڈائریکٹ سیکس کی بات نہیں کرتا۔ میں انسان کے بدلتے رشتوں پر لکھتا ہوں اور اس بنت کے دوران سیکس میرے اسلوب میں خود بخود شامل ہوجاتا ہے۔ میں نے دانستہ طور سے سیکس کو اپنی کہانی کا حصہ بنانے کی کبھی سعی نہیں کی۔ میری جن کہانیوں میں سیکس نہیں ہے وہاں شاید اس کی ضرورت نہیں رہی ہوگی۔‘‘
م ناگ نے ایک دفعہ اپنے خاندانی پس منظر اور تعلیم و تربیت کے بارے میں بتایا تھا ’’ناگپور میں میرے والد صاحب پولیس انسپکٹر تھے۔ اسماعیل علی نام تھا ان کا۔ میں نے میونسپل کارپوریشن کے ایک اسکول میں چوتھی اور لشکری باغ کے قدوائی ہائی اسکول سے آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں صدر نامی علاقہ کے انجمن اسلام ہائی اسکول سے میٹرک (گیارھویں) کیا۔ ماریس کالج سے بی اے پارٹ وَن تک ہی پڑھ سکا اور بدلتے وقت نے مجھے چھوٹی موٹی ملازمت کے لیے مجبور کردیا۔ ہمارا گھر پولیس لائن کے پاس پانچ باؤلی میں تھا۔ میں گھر میں سب سے چھوٹا ہوں اور سب سے ناکام بھی کیونکہ اس دنیا میں وہی کامیاب کہلاتا ہے جس کے پاس پیسہ ہوتا ہے۔ میرے پاس تو افسانے ہیں، مضامین ہیں، خبریں ہیں، انھیں بیچ کر آج میں پیسے کی بجائے صرف روٹی کما رہا ہوں اور وہ بھی صرف آدھی۔‘‘
م ناگ کے گھر کا ماحول ادبی نہ تھا۔ والد صاحب نے غالب اور اقبال کو پڑھا تھا۔ وہ یہ جانتے تھے کہ ادب کیا ہوتا ہے۔ انھوں نے ہمیشہ ان کی حوصلہ افزائی کی۔ بالکل دوست کی طرح بے تکلف تھے۔ م ناگ کا پہلا افسانہ ’بابا کی چھبیسویں‘ تھا۔ یہ افسانہ کامٹی کے ’تاج‘ نامی ہفت روزہ میں شائع ہوا تھا۔ م ناگ افسانے کی اشاعت پر بے حد خوش تھے اور اپنے دوستوں کو اخبار کی کاپی دکھاتے پھررہے تھے۔ ان کے والد صاحب نے بھی یہ افسانہ پڑھا اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔ میٹرک تک آتے آتے م ناگ کی کہانیاں ہفت روزہ تاج، شاخیں، مورچہ، برگ آوارہ، آب و رنگ، شمع، روبی اور بیسویں صدی میں شائع ہوچکی تھیں۔ م ناگ نے مجھ سے کہا تھا ’’مجھے یاد ہے کہ لکھنؤ کے ’کتاب‘ نامی میگزین میں میری کہانی ’بارود‘ چھپی تھی لیکن میرے پاس اس دور کی کہانیوں کی فائل موجود نہیں ہے۔ میں ایک افسانہ نگار بننے کے مراحل سے گزررہا تھا اور دوسری طرف روزی روٹی کے جگاڑ میں پریشان تھا۔ والد صاحب ریٹائرڈ ہوچکے تھے اور کچھ سال بابا تاج الدین اولیاؒ کی عرس کمیٹی کے رکن بھی رہ چکے تھے۔ انھوں نے جہاں میرے تمام بھائیوں اور جان پہچان والو ں کے بچوں کو ذریعہ معاش سے جوڑنے میں کامیابی حاصل کی تھی وہیں وہ مجھے روزگار سے وابستہ کرنے میں ناکام رہے تھے۔ انھیں اس ناکامی کا زندگی بھر ملال رہا۔‘‘
م ناگ نے ممبئی آنے سے پہلے کپڑے کی مل میں ملازمت کی۔ پانی کے ٹینکر میں بحیثیت کلینر وقت گزارا۔ کھاپر کھیڑا کے پاور ہاؤس میں کام کیا۔ وہاں پانی کا ڈریم بن رہا تھا اور ان کی ذمے داری ٹرک کے پھیروں کا ریکارڈ رکھنا تھی۔ اسی دوران ان کی فیملی ناگپور سے گوندیا منتقل ہوگئی۔ انھوں نے ایک روز والد صاحب سے ممبئی جانے کا ارادہ ظاہر کیا۔ پہلے تو والد صاحب نے مخالفت کی، پھر راضی ہوگئے۔ اس طرح 34 روپے کا ٹکٹ اور آنکھوں میں خواب لے کر وہ ناگپور سے دادر آگئے۔
م ناگ نے مجھ سے کہا تھا ’’یہ شہر میرے لیے اجنبی تھا۔ صرف سلام بن رزاق سے خط و کتابت تھی۔ کسی رسالے میں میری اور ان کی کہانی ساتھ میں چھپی تھی اور اس طرح ایک تعلق بن گیاتھا۔ چمبور ناکہ پر ایک بیگرس ہوم تھا جہاں پولیس بھیک مانگنے والوں کو لاکر بندکردیتی تھی۔ ناگپور میں میرا ایک دوست تھا جس کا بہنوئی وہاں ملازم تھا۔ میں نے مہینے بھر اس بیگرس ہوم میں ان کے یہاں قیام کیا۔ انھوں نے آگے بتایا تھا ’’یہ 1975 کی بات ہے۔ مجھے ورانڈے میں سونے کی جگہ مل گئی تھی۔ وہیں سوتا اور ان کے راشن میں مفت میں حصہ داری کرتا۔ دوست کے جیجا جی لیبر افسر تھے اور ان کی بیوی بالکل سائرہ بانو کی طرح تھی۔ وہ آکاش وانی پر مراٹھی سگم سنگیت گاتی تھی۔ ویسے ہر ہفتے سائرہ بانو مجھے علامتی انداز میں آٹے اور دال کے خالی ڈبے دکھایا کرتی تھی۔ میں سب کچھ سمجھتے ہوئے بھی چپ تھا کیونکہ ٹھونک بجا کر دیکھ چکا تھا کہ ناگپور کے سارے دروازے بند ہوچکے ہیں۔ میں ورانڈے میں سوتا، رات بھر دنیا جہاں کی سیر کرتا لیکن صبح اٹھتا ورانڈے سے۔ ورانڈے سے لگا ہوا ان کا بیڈ روم تھا۔ وہ لوگ کھڑکی بھی بند نہیں کرتے تھے۔ دونوں میاں بیوی دو بچو ں کو لے کر مچھر دانی میں سوجاتے اور ان کی ننگی آوازیں مچھر مارتے ہوئے میں سنتا رہتا۔ پچ پچ، گھپ گھپ، چک چک، ہنسی، کھینچا تانی،دھک دھک، بوس و کنار، آوازوں کی بارش مجھ پر ہوتی اور میں اندر باہر سے بھیگتا رہتا۔ مچھر مجھے تنگ کرتے، لیکن میں بھاگا نہیں، کفن باندھ کرآیا تھا، صرف سر پر نہیں، ہر جگہ کفن۔‘‘
م ناگ روزانہ چمبور سے کرلا جاتے اور اسٹیشن کے پاس سنسار ہوٹل میں سلام بن رزاق، ابراہیم نذیر، مقدر حمید اور شعلہ صاحب کے ساتھ بیٹھے رہتے۔ کبھی کبھار ندا فاضلی بھی آجاتے۔ ادب پر گفتگوہوتی۔ انھوں نے بتایا تھا ’’اس دوران ایک بار میاں بیوی نے مجھ سے کہا کہ ہم جیجوری کے کھنڈوبا کے درشن کو جارہے ہیں۔ میں نے سوچا یہ مجھے بھگانے کا داؤ ہے۔ میں نے کہا جائیے۔ دو دن مجھے فٹ پاتھ پر اخبار بچھا کر سونا پڑا۔ کتا میرا منھ چاٹ کر گیا، میں کیا کرتا۔‘‘ سگریٹ سلگاتے ہوئے انھوں نے آگے بتایا تھا ’’کرلا گیا تو یہ واقعہ سلام بن رزاق سے بتایا۔ انھوں نے تقریباً دو ہفتوں بعد اپنے دوست انور قمر سے ملایا۔ انور قمر نے کہا ’’’کچھ نہ کچھ ہوجائے گا۔ میں نے اطمینان کی سانس لی اور اپنے خدا کا شکریہ ادا کیا۔ لگاتار چمبور سے سنسار ہوٹل (کرلا) جاتا رہا۔ سنسار ہوٹل میں دھوئیں کے مرغولے میں چائے پیتا رہتا اور چائے والا کھڑکھڑکی آواز سے ساسر بجاتا رہتا۔ پیسے تیزی سے ختم ہورہے تھے۔‘‘ م ناگ نے آگے کہا تھا ’’بالکل۔ پیسے نہ ہوں تو ادھار مانگنے کی ہمت میں اضافہ ہوتا ہے۔ ادھار مانگنے کی لت پڑتی ہے تو آدمی ڈھیٹ بن جاتا ہے۔ ایک بار اورنگ آباد میں پیسے ختم ہوگئے۔ میں نے دوست سے پوچھا ’’سنا ہے جوگندر پال یہاں کسی کالج میں پرنسپل ہیں‘‘ وہ بولا ’’ہاں! تو کیا تم ان سے پیسے مانگو گے؟‘‘ میں نے کہا ’’کیوں نہیں، ادھار مانگیں گے، وہ پرنسپل ہیں اور اوپر سے افسانہ نگار، ایک افسانہ نگار کو کیا دوسرا افسانہ نگار اُدھار نہیں دے گا۔‘‘
م ناگ کبھی مختار ناگپوری ہوا کرتے تھے، پھر چند دنوں کے لیے مختار سید بن گئے۔ مختار سید کے نام سے چند کہانیاں شائع ہوچکی تھیں۔ ناگپور کی سرزمین پر 1966 میں پہلی مرتبہ جدید شاعروں کا ایک مشاعرہ برپا کیا گیا تھا جس میں ممتاز راشد، ندا فاضلی، صادق، عتیق اللہ، شاہد کبیر، عبدالرحیم نشتر، مدحت الاختر، ظفر کلیم اور ضیاء انصاری وغیرہ نے شرکت کی تھی۔ اس وقت کچھ ایسے رائٹرز رسائل میں چھپ رہے تھے جن کے نام کچھ ہٹ کے تھے۔ گلبرگہ کے بشیر باگ اور میسور کے اکرام باگ۔ م ناگ کو دوستوں نے مشورہ دیا کہ تم بھی اپنا نام تبدیل کرلو، کیونکہ تمھارے لکھنے کا انداز بھی دوسروں سے مختلف ہے لہٰذا نام بھی منفرد ہونا چاہیے۔ سب نے اپنے اپنے طور سے نام سجھائے اور آخرکار مختا رکے ’م‘ اور ناگپوری کے ’ناگ‘ کو مخفف کرکے انھیں م ناگ بنا دیا گیا۔
م ناگ میں ’میم‘ اور ’ناگ‘ والی خوبیاں تلاش کرنے پر بھی نہیں ملتی تھیں۔ وہ زیادہ تر چپ رہتے تھے لیکن چشمے کے کواڑوں سے ان کی بڑی بڑی آنکھیں سب کچھ بھانپ لیتی تھیں۔ ہر ناانصافی برداشت کرلیتے تھے اور سگریٹ کے دھوئیں میں غموں کو اڑا دیتے تھے۔ کسی کو ڈستے بھی نہیں۔ البتہ دوسروں نے انھیں ضرور ڈسا تھا۔ م ناگ کے دوسرے مجموعے’غلط پتہ‘ میں ساجد رشید نے لکھا تھا ’’م ناگ مجھے اپنے معاصر افسانہ نگار وں میں کئی معنوں میں مختلف نظر آتے ہیں، اتنے مختلف کہ ان کے افسانوی اسلوب کا موازنہ ان کے کسی ہمعصر سے تو کجا ان کے کسی پیش رو سے بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے باوجود وہ نظرانداز کیے گئے۔ یہ حیران کن واقعہ ہے اور افسوس ناک بھی۔ اس کی دو بڑی وجہیں ہیں۔ پہلی تو یہ کہ انھوں نے تواتر سے افسانے نہیں لکھے، دوسری وجہ ان کا قلندرانہ مزاج ہے جس میں ان کی بے ترتیب زندگی اور لاپرواہی کا بڑا دخل ہے۔ انھیں اپنے ہونے کا کبھی احساس بھی نہیں رہا۔‘‘ یہ ایک سچائی ہے جہاں تک میں سمجھ پایا ہوں م ناگ کی اس بے نیازی کے قصور وار وہ نام نہاد نقاد اور مضمون نگار ہیں جو اپنے پسندیدہ افسانہ نگاروں کی فہرست کسی افسانہ نگار کے فن اور طرز تحریر کی بجائے چمچہ گیری سے خوش ہوکر تیار کرتے ہیں۔ م ناگ نے گوا میں قیام کے دوران نظمیں بھی کہی تھیں۔ ان کی کہانیوں کی طرح ان کی نظموں میں بھی جنس کی خوشبو موجود تھی۔ انھوں نے کئی نظمیں مجھے سنائی تھیں جس میں ایک نظم ’ایش ٹرے‘ بھی تھی۔ کرشن چندر، منٹو اور بیدی ان کے من پسند افسانہ نگار تھے۔ ممبئی کے افسانہ نویسوں میں انھیں سلام بن رزاق، انور قمر، ساجد رشید اور علی امام نقوی پسند تھے جبکہ نئے افسانہ نگاروں میں انھیں مظہر سلیم، اشتیاق سعید اور رحمان عباس کے یہاں اسپارک نظر آتا تھا۔ کچھ ٹھہر کے انھوں نے کہا تھا ’’دوستوں میں مجھے عارف خورشید اور نورالحسنین بھی پسند ہیں۔‘‘
م ناگ کی شخصیت اور ان کی کتابوں کی روشنی میں ندا فاضلی نے لکھا تھا ’’اردو کے افسانہ نگاروں میں م ناگ کا نام اس لیے اہم ہے کہ وہ موضوعات کے انتخاب کے ساتھ اپنی لفظیات سے بھی قارئین میں پہچانے جاتے ہیں۔‘‘ سلام بن رزاق نے ایک جگہ لکھا تھا ’’سیکس پر لکھنا پل صراط سے گزرنے کے مترادف ہے۔ ذرا چوکے اور فحاشی کے دلدل میں گرے، مگر م ناگ اس راستے سے خراماں خراماں یوں گزر جاتے ہیں جیسے کسی باغ کی روش سے گزر رہے ہوں۔‘‘ انور خان نے ان کے بارے میں لکھا تھا ’’م ناگ کے افسانے میں طنز تو ہوتا ہی ہے اور ان کا ٹریٹ بھی بہت عمدہ ہے۔‘‘ میرے پوچھنے پر انھوں نے کہا تھا ’’فنی اعتبار سے کسی تبدیلی کا اندازہ ناقد ہی لگا سکتے ہیں جہاں تک میری بات ہے میں نے کسی طرح کی تبدیلی محسوس نہیں کی۔ جنس کا موضوع میری پہلی کتاب میں بھی تھا اور اس کتاب میں بھی ہے۔‘‘ انھوں نے ایک بار مجھ سے کہا تھا ’’پریم چند آخر تک یہ کہتے رہے کہ ابھی میری شاہکار کہانی تخلیق نہیں ہوئی۔ اس طرح میں بھی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ ابھی جو لکھ رہا ہوں آگے اس سے بہتر لکھوں گا یا نہیں۔‘‘ وہ کرشن چندر کو جادوئی اسٹائل کے کہانی کار سمجھتے تھے۔ انھوں نے کہا تھا ’’ان کے واقعات سننے کا ڈھنگ مجھے بھاتا تھا۔ منٹو کے یہاں جو جنسی لفظیات اور سفاک حقیقت ملتی ہے اس کا جواب نہیں۔‘‘
م ناگ نے ابن صفی کے ناول پڑھ کر اردو سیکھی تھی۔ موصوف کے مطابق ’’میں نے ابن صفی کے ناول پڑھ کر اردو سیکھی۔ یہ سیکھا کہ اردو کی نثر کس طرح لکھنا چاہیے۔ ناگپور مومن پورہ میں ایک لائبریری تھی جہاں میں نے کئی نایاب کتابوں کا مطالعہ کیا تھا۔ آج کل لائبریری دکھائی نہیں دیتی اور اگر کہیں لائبریری ہے تو پڑھنے والے نہیں ہیں۔ بہرحال لائبریری کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔‘‘ م ناگ طویل صحافتی تجربہ بھی رکھتے تھے۔ انھوں نے ودربھ نامہ، روزنامہ اردو ٹائمز، روزنامہ صحافت، روزنامہ راشٹریہ سہارا، روزنامہ (تعمیر (بیٹر) کے علاوہ ہندی اخبار ’جن ستہ‘ کے لیے بھی کام کیا تھا۔ روزنامہ ہندوستان، ہفت روزہ بلٹز، ہفت روزہ مسلم ٹائمز، روزنامہ انقلاب اور کئی دیگر اخبارات سے بھی کسی نہ کسی طور وابستگی رہی۔ وہ ایک بہترین مترجم بھی تھے۔
م ناگ نے ایک طویل انٹرویو کے دوران مجھ سے کہا تھا ’’جہاں تک میرا خیال ہے، میں سمجھتا ہوں، تخلیق کار کے اندر سادگی، یقین، صداقت اور صبر کا مادہ ہی اس کی نجات کا راستہ ہے۔ زندگی میری استاد رہی ہے اور افسانہ میرے لیے ڈھال بنا ہے۔ زندگی میں جو کچھ بھی ختم ہوتا جارہا ہے ادب ا س کی آخری پناہ گاہ ہے اور میرا یقین ہے کہ زندگی کے اسرار و رموز اور بھول بھلیوں کو سمجھنے کے لیے ادب سے بڑی کوئی کلید نہیں ہے۔‘‘ انھوں نے ’غلط پتہ‘ کے بیک فلیپ پر لکھا تھا ’’ممبئی ایک چوہا دان ہے جس میں روٹی کا ٹکڑا پھنسا ہے۔ یہ شہر للچاتا ہے۔ رات میں خواب دکھاتا ہے اور صبح اپنی راہیں تعبیریں ڈھونڈنے کے لیے کھول دیتا ہے۔ میں بھی للچایا، مگر جیسے ہی روٹی پانے اندر گیا، ساری دنیا باہر رہ گئی۔ بس پھر کیا تھا، تیسری گھنٹی بجی، پردہ اٹھا اور کھیل شروع ہوگیا۔ ممبئی سے پھر کہیں جانا ممکن نہ تھا، کیونکہ سڑک واپس نہیں جاتی تھی۔‘‘
م ناگ نے اس شہر کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ یکم جولائی 1950 کو ناگپور میں جنم لینے والے اردو کے اس منفرد افسانہ نگار نے 21 اکتوبر 2016 کی شام بوریولی میں واقع اپنی کٹیا نما رہائش گاہ میں آخری سانس لی۔ افسوس کہ یہ گھر بھی ان کا اپنا نہیں تھا۔ ان کی موت نے ہر کس و ناکس کو غمزدہ کردیا۔ اسی شام انھیں ہندوستانی پرچار سبھا میں افسانہ سنانا تھا اور علالت کی وجہ سے انھوں نے اطہر عزیز کو اپنا افسانہ بھیج دیا تھا۔ شام ساڑھے چار بجے جس وقت ان کی روح جسم کا ساتھ چھوڑرہی تھی ٹھیک اسی وقت اطہر عزیز ان کا افسانہ پڑھ رہے تھے۔ گویا افسانہ موت کے وقت بھی ان کے ساتھ رہا اور ساتھ ہی گیا۔ اپنے تیسرے مجموعے ’چوتھی سیٹ کا مسافر‘ کی طرح وہ ساری زندگی چوتھی سیٹ پر بیٹھے رہے۔ نہ تیسرا مسافر اٹھا اور نہ ہی انھیں بیٹھنے کے لیے پوری سیٹ ملی۔ ادبی رسالہ ’نیا ورق‘ میں ان کا سوانحی ناول ’دکھی من میرے‘ قسط وار شائع ہورہا تھا جواب نامکمل رہ گیا۔ انھوں نے افسانوں کے چوتھے مجموعے کا ٹائٹل ’پھٹی کتاب‘ طے کیا تھا۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ ان کی یہ کتاب بھی پھٹی رہ گئی۔

Farhan Hanif Warsi 
Post Box No.: 4546,
 Mumbai Central Post Office
Mumbai - 400008 (MS)


ماہنامہ اردو دنیا، دسمبر2016





قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے


’یہ کس مقام پہ تنہائی سونپتے ہو مجھے‘ کا خالق اقبال مہدی مضمون نگار: نگار عظیم




’یہ کس مقام پہ تنہائی سونپتے ہو مجھے‘ کا خالق

اقبال مہدی

نگار عظیم


2016 اردو دنیا کے لیے بہت خسارے کا سال رہا۔ اف! کیسی کیسی نامور، دانشور اور فعال ہستیاں ایک کے بعد ایک رخصت ہوتی چلی گئیں۔ انتظار حسین، زبیر رضوی، عابد سہیل، ندا فاضلی، جوگندرپال، شکیل الرحمن.. پوری ستاروں کی ایک کہکشاں آسمان کی وسعتوں میں کہیں کھوگئی۔ گزرنے اور بچھڑنے کا یہ سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ چپکے سے اگلی نسل کی طرف منتقل ہوگیا۔ اپنے بزرگوں کے چلے جانے پر جس یتیمی کے احساس سے دوچار ہونا پڑا وہ ناقابلِ بیان ہے۔ بزرگوں کے بعد ہمصروں کے جانے کی ابتدا اسی طرح اتنی تیزی سے ہوگی وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ پیغام آفاقی دیکھتے ہی دیکھتے ایک تارہ بن کر کہیں گم ہوگئے اور سب ہکا بکا رہ گئے اور اب اقبال مہدی... زمیں کھاگئی آسماں کیسے کیسے... اقبال مہدی کا پورا نام زبان پر آتے ہی خاموش متین، مسکین ، ہم نوا، غم نوا، سنجیدگی کا پیکر ایک ایسا چہرہ ابھر کر سامنے آتا ہے جسے دیکھ کر احساس ہوتا کہ زمانے بھر کا درد و غم ان کے انگ انگ سے رِس رہا ہو۔ معلوم نہیں ایسا کیوں تھا ان کی مسکراہٹ بھی سنجیدگی کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہوتی تھی۔ میرے دل کی بے چینی ایک دن زبان بن گئی ’’لگتا ہے صغریٰ آپا کے رعب دبدبے اور خوف نے آپ کو کھلنے ہی نہیں دیا۔‘‘ ایک لمحہ کو چہرہ کھلا، مسکراہٹ نمودار ہوئی اور دوسرے ہی پل اندر کہیں وجود کی گہرائیوں میں اتر گئی۔ تپاک سے بولے جس پر پڑتی ہے بس وہی جان سکتا ہے یہ تو خیر ایک مذاق تھا لیکن یہ ضرورہے کہ اقبال مہدی اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بہت دیر سے پہچانے اور وہ بھی صغریٰ آپا کی بدولت۔
ادبی خانوادے کے دو بڑے نام صالحہ عابد حسین اور صغریٰ مہدی کے بعد تیسرا نام اقبال مہدی کا آتا ہے۔ 1999 میں پہلا افسانوی مجموعہ ’درد آتا ہے دبے پاؤں‘ منظر عام پر آتا ہے تو بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ اقبال مہدی کے چہرے پر درد کی لکیریں یوں ہی نظر نہیں آتی تھیں۔ اقبال مہدی قلمکاروں کے اس قبیل سے تعلق رکھتے ہیں جہاں قلمکار غم کھاتا ہے، درد سہتا ہے اور زہر پیتا ہے۔
بایوکیمسٹری میں پی ایچ ڈی کرنے کے بعد اپنے کام اور فیلڈ میں ماسٹر ہونے کے بعد کوئی کیونکر آرٹسٹ اور رائٹر بن جاتا ہے؟ ظاہر ہے سماجی سیاسی اقتصادی ناہمواریاں جب ناقابل برداشت ہوجائیں اور دل پارہ پارہ ہونے لگے تو اظہار کے وسیلے تلاش کرنا انسان کی ضرورت بھی ہے، فطرت بھی اور کمزوری بھی۔ اقبال مہدی آرٹسٹ بھی بنے اور قلمکار بھی۔ انسانی رشتوں کی کچی ہوتی ٹوٹتی ڈور، بدلتی تہذیب میں اخلاقیات کا پیچھے چھوٹنا، مشترکہ خاندانوں کا بکھراؤ اور سیاست کا مکروہ چہرہ زمیندارانہ نظام کے اثرات جب حساس ذہن کو گرفت میں لے لیتے ہیں تو اقبال مہدی جیسے افسانہ نگار قلم اٹھانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ گھر کے ملازم سے لے کر عالمی سیاست تک اقبال مہدی کی رسائی ہے۔ تقریباً تین دہائی کی قلیل مدت میں چار افسانوی مجموعے اردو دنیا کو دیے یہ معمولی بات نہیں۔ ’درد آتا ہے دبے پاؤں‘ کے بعد ’تجھے اے زندگی لاؤں کہاں سے‘ اور پھر ’تم نے جفا بھی کی تو صنم مدتو ں کے بعد‘ ان کا آخری مجموعہ ’یہ کس مقام پر تنہائی سونپتے ہو مجھے‘ 2013 میں منظرعام پر آیا۔ یہ آخری مجموعہ ان کے پچھلے تینوں افسانوی مجموعوں سے ذرا منفرد اور زیادہ حساس ہے۔ دو اہم مشہور فکشن نگار قرۃ العین حیدر اور صغریٰ مہدی کے قلمی چہرے افسانوی انداز میں پیش کیے تو مجھے منٹو کے ’گنجے فرشتے‘ یاد آگئے۔ کیونکہ انھوں نے منٹو کی ہی طرح دونوں شخصیات کا بڑے سلیقے سے مونڈن کیا ہے۔ یہ دونوں مضمون اقبال مہدی کا فنِ عروج ہیں۔ 
اقبال مہدی کی افسانوی کائنات بھی بڑی منفرد ہے۔ افسانوی مجموعوں کے عنوانات ہی اس قدر فکر انگیز ہیں کہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اور پھر مجموعوں میں شامل افسانوں کے عنوان بھی توجہ طلب ہیں۔ یہاں ان کے افسانوں کے موضوعات پر یا کرداروں پر تبصرہ و تنقید کی گنجائش نہیں۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ ان جیسے لب و لہجے کی، زبان اور محاوروں کی نثر اب لکھنے والا کوئی نہیں... کوئی بھی نہیں۔ ایک طرف چاشنی ہے تو دوسری طرف تیر و طنز، شگفتگی اور احتجاج... موقع محل کے حساب سے وہ اپنی زبان دانی کے ہنر کو خوب کام میں لائے ہیں۔ افسانہ قرأت کرنے کا انداز بھی بڑا مؤثر منفرد اور واضح ہوتا تھا۔ اسی طرح انھوں نے رنگو ں کے کھیل سے بھی جادو جگایا ہے۔ شاید بہت کم حضرات واقف ہوں گے کہ اقبال مہدی ایک اچھے آرٹسٹ بھی تھے ان کے آرٹ کے کئی بہترین نمونے ان کے گھر کی زینت ہیں۔ باغبانی کے انتہائی شوقین جب بھی گھر جائیے خالی اوقات میں ذہن کو تازہ کرنے کے لیے وہ کھرپی کا استعمال قلم کی ہی طرح کرتے تھے151 اس کے نتائج بھی ان کے سرسبز و شاداب پیڑ پودوں اور پھولوں میں نظر آتے ہیں۔ یادیں باتیں اور ملاقاتیں تو بہت ہیں لیکن آخری دو ملاقاتیں ذہن کے پردے سے ہٹتی ہی نہیں۔ میرے غریب خانے پر میرے ساتھ فرش پر بیٹھ کر حلیم کھاتے ہوئے کچھ اس طرح مخاطب ہوئے ’’بالکل آپا کی طرح ڈانٹ کر کھلاتی ہیں آپ اور وہ بھی حلیم جو مجھے اور انھیں بہت پسند تھا‘‘ یہ کہہ کر وہ آبدیدہ ہوگئے تھے اور مجھے بھی کردیا تھا۔ ہم دونوں ہی اپنے آنسو پی گئے تھے یقیناًاس میں صغریٰ آپا کی یاد اور میرے لیے محبت شامل تھی۔ دوسری ملاقات اس کے تقریباً کچھ ماہ بعد اور انتقال سے ڈیڑھ دو مال قبل بٹلہ ہاؤس قبرستان کے پاس وہ بھی کچھ خریداری کررہے تھے اور میں بھی۔ لیکن ہم دونوں بیمار تھے۔ ہم حکیم کی طرح وہ مجھے ہدایتیں دے رہے تھے اور میں انھیں۔ اگلی ملاقات کا وعدہ کرکے ہم دونوں رخصت ہوئے تھے لیکن وہ اگلی ملاقات... آہ... بس انتظار ہی بنی رہی151
پیڑ پودوں پھولوں قدرت اور مخلوق سے محبت کرنے والے انسان بہت نرم دل حساس اور حددرجہ خوددار ہوتے ہیں۔ یہی نرم گفتاری اور خودداری اقبال مہدی کا خاصہ تھی، جو مجھ جیسے ان کے بہت سے دوستوں کو یاد آتی رہے گی۔وقت اپنی رفتار سے آگے بڑھے گا ادب اور تنقید اپنی رفتار سے۔ اقبال مہدی کا اردو ادب کے لیے جو بھی سرمایہ ہے وہ یقیناًقیمتی سرمایے میں شامل ہوگا اور ان کے فن اور شخصیت پر مزید گفتگو ہوتی رہے گی.. محروم تو ہم ہوئے ہیں نہ ہم نوالہ رہا نہ ہم پیالہ... ہم ایک ایسے انسان سے محروم ہوئے ہیں جس کا لفظِ مخاطب بھنّو اور بی بی ہوتا تھا... زندگی میں قدم قدم پر ساتھ نبھانے والی ان کی شریک حیات ’شمع قبلہ‘ کو خدا ہمیشہ روشن رکھے کہ اب وہی ان کی دو پیاری بیٹیو ں کے مستقبل کا چراغ ہیں151 بھلے ہی وہ ان کو ایسے وقت تنہائی سونپ گئے جب انھیں ان کی بے حد ضرور ت تھی151

Nigar Azeem, 
H-3, Batla House, 
Jamia Nagar, Okhla,
 New Delhi - 110025

ماہنامہ اردو دنیا، دسمبر2016




قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...