7/9/21

سید محمد نسیم انہونوی: حیات و خدمات - مضمون نگار: شہلا پروین



 


سید محمد نسیم انہونوی اردو ادب میں کثیرالجہات شخصیت کے مالک ہیں۔وہ صرف نا ول نگار ہی نہیں ہیں بلکہ افسانہ نگار،مقالہ نگاراور عظیم صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ درجے کے پبلشر بھی تھے۔انھیں نام و نمود کی خواہش نہیں تھی اور نہ ہی اس کے لیے انھوں نے خوشامدانہ لہجہ اختیار کیا۔سچ کو سچ کہنااپنا اوّلین فرض سمجھا۔وہ اپنی تخلیق میں ان پہلوؤں کو اہمیت دیتے ہیں جس کا کوئی خاص مقصد ہو،  کیوں کہ نصب العین کے بغیر کوئی بھی تخلیق کامیابی کی منزل تک نہیں پہنچ سکتی۔ان کی نظر میں خالص ادب وہی ہے جو سماج اور معاشرے کا آئینہ دار ہو۔وہ مشرقی اقدار کے حامی اور قدیم تہذیبی روایات کے پرستار تھے۔ لہٰذا ان کے ناولوں اور افسانوں کی اثر انگیز تحریریں، جملوں کی برجستگی،انداز بیان کی شگفتگی اور ندرت خیال ان کی شخصیت کے آئینہ دار ہیں۔

سید محمد نسیم انہونوی 1904 میں انہونہ میں پیدا ہوئے۔ انہونہ لکھنؤ سے تقریباًچالیس میل کی دوری پر واقع رائے بریلی کا ایک چھوٹا سا قصبہ ہے۔نسیم انہونوی کے والد کا نام سید حشمت علی تھا۔جو نہایت سادہ مزاج اور پاکیزہ طبیعت کے مالک تھے۔ان کے خاندان میں پیری و مریدی کا سلسلہ قائم تھا۔ان کا قصبہ تعلیمی ومعاشی اعتبار سے زوال  پذیر تھا۔وہاں کے لوگ مفلسی اور غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔ تعلیم وتعلم کا معقول انتظام نہیں تھا۔ لہٰذا حشمت علی انہونہ سے ہجرت کرکے لکھنؤ  آگئے اور محلہ بشیرت گنج میں سکونت اختیار کر لی اور وہیں کے ایک مقامی اسکول میں درس و تدریس کے پیشے سے جڑ گئے۔

نسیم انہونوی کا خاندان بہت مہذب تھا،علم زہد اور تقویٰ ان کے گھرانے کی شان امتیاز تھی جس سے وہ فطری طور پر متاثر ہوئے۔قرآن اور مذہبی تعلیم کی ابتدا گھر سے ہوئی انھوں نے اپنی ذہانت اور قابلیت کی بنا پر آٹھ سال کی عمر میں قرآن پاک کا ناظرہ مکمل کر لیا۔ 1915  میں ان کا داخلہ’ــ رام گنج پرائمری اسکول ‘میں کرادیا گیا۔ یہاں کچھ عرصہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد ’مولوی گنج پرائمری اسکول‘میں داخلہ کرا دیا گیا۔انھوں نے اسی اسکول سے بورڈ کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیالیکن والد کی آمدنی قلیل ہونے اور کچھ معاشی مجبوریوں کے تحت ان کا تعلیمی سلسلہ منقطع ہو گیا۔

نسیم انہونوی کو بچپن سے ہی مطالعے کا بہت شوق تھااور کم عمر میں ہی کہانیاں لکھنی شروع کردی تھیں۔اس وقت لکھنؤ میں ایک اسلامی تنظیم ’انجمن اسلامیہ ایک آنہ فنڈ‘ کی جانب سے ماہانہ رسالہ ’انکشاف‘ شائع ہوتا تھا۔ اس رسالے میں ان کی کئی کہانیاں چھپیں اور ادب میں ان کی پہچان بنی۔ایک دن نسیم انہونوی اپنی کسی کہا نی کی اشاعت کے سلسلے  میں انکشاف کے دفتر پہنچے تو،اس رسالے کے ذمے داروں نے ان کی علمی لیاقت سے متاثر ہوکر ان کے سامنے ایڈیٹر شپ کی پیشکش کی جسے انھوں نے بہ سروچشم قبول کرلیا۔یہ سنہرا موقع ان کے مستقبل کو سنوارنے میں معاون ثابت ہوا۔جس سے ان کی ایڈیٹر، پبلشر،صحافی،مصنف اور ناول نگار جیسی پوشیدہ صلاحیتوں کا لوگوں سے تعارف ہوا۔نسیم انہونوی پورے حوصلے اور ایمانداری کے ساتھ میگزین کی ترتیب وتدوین میں مشغول ہوگئے۔مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے کلرک، ایڈیٹر اور منیجر تینوں کی ذمے  داری خود ہی انجام دیتے تھے۔جو ان کی ادبی لگن اور علم پروری کی جیتی جاگتی مثال ہے۔

نسیم انہونوی ایڈیٹر شپ کے عہدے پر فائز ہونے کے بعددیگر شعرا، ادبا اور فکشن نگاروں سے متعارف ہوئے۔ ان میں شوکت تھانوی،امین سلونوی اور نیازفتح پوری کے نام خاص طور سے لیے جا سکتے ہیں۔شوکت تھانوی ان کی پوشیدہ صلاحیتوں سے بہت متاثر ہوئے۔ اس وقت لکھنؤ میں ایک ادبی حلقہ بن گیا تھا جو اپنے آپ میں ممتاز تھا۔یہ ادبی حلقہ ’تثلیث‘کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اس میں تین احباب نسیم انہونوی،امین سلونوی اور شوکت تھانوی شامل تھے۔یہ تینوں احباب ’باپ بیٹے‘ اور ’روح القدس ‘کے نام سے جانے جاتے تھے۔

نسیم انہونوی نے ’انکشاف‘ کی ادارت کے دوران اس کا’ظریف نمبر ‘بھی شائع کیا۔جس سے ان کی شہرت اور مقبولیت میں مزید اضافہ ہو گیا،لیکن یہ سلسلہ زیادہ دنوں تک قائم نہیں رہااور چند غیرمعمولی وجوہات کی بنا پریہ رسالہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیاگیا۔اگرچہ ان کی یہ صحافتی خدمات بہت مختصر رہی،لیکن اس دوران انہیں ادبی حلقوںمیں شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی اور ایڈیٹنگ، پبلشنگ کے تمام تجربات حاصل ہوگئے۔ انکشاف کا بند ہونااردو ادب کے لیے خسارہ تھا اور اس سے نسیم انہونوی کو بہت افسوس ہوا۔انھوں نے اپنے اس غم کو دور کرنے کے لیے خود ایک رسالہ نکالنے کا منصوبہ بنایا۔انکشاف کی ایڈیٹری کے دوران کی ذہنی فضا کے تانے بانے میںمذہبی رنگ حاوی ہو گیا تھا۔دوسری طرف مغربی تہذیب اور جدید تعلیم کی بدولت نوجوان طبقے کا رجحان فیشن پرستی اور بے حجابی کی طرف تیزی سے بڑھ رہاتھا۔مہذب گھرانے کی پردہ نشین خواتین بھی اس سے متاثر ہو رہی تھیں۔ چونکہ نسیم انہونوی مغربیت کے سخت مخالف اور مشرقیت کے زبردست حامی تھے اور مذہبی ماحول کے پروردہ تھے۔لہٰذا ماحول اور فطرت نے سونے پر سہاگے کا کام کیا۔جنوری 1931 میں اپنے ذاتی ادارہ’ نسیم بک ڈپو،لکھنؤ‘سے خواتین کی اصلاح کے لیے ماہانہ رسالہ ’حریم‘جاری کیا۔ اس کا پہلا شمارہ منظر عام پر آیا توخوب پزیرائی ہوئی۔ عام طور پر خواتین طبقے میں اس وقت کا سب سے زیادہ پسندیدہ رسالہ ثابت ہواکیونکہ اس میں ان کی تفریح کے تمام لوازمات موجود تھے۔

رسالہ حریم کا اداریہ نسیم انہونوی خود ’لمعات ‘کے عنوان سے لکھا کرتے تھے۔جس میں اس وقت کے علمی وادبی ماحول،عورتوں کی گھریلو زندگی،ان کی تعلیم وتربیت اور عصرحاضر سے متعلق باتیں ہوتی تھیں۔ نسیم انہونوی نے اس کے ذریعے طبقۂ نسواں کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا اور اس کے ساتھ ہی اہم بنیادی مسائل اور حالات حاضرہ پر بھی قلم اٹھایا،تنقیدی و اصلاحی پہلوئوں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی۔وہ مشرقی تہذیب و تمدّن کے امین تھے اور اس رسالے کے ذریعے انھیں اقدار کو محفوظ رکھنے کی ذمے داری نبھائی۔وہ بلا جھجھک اپنے عہد اور حالات سے پردہ اٹھاتے ہیںاور حریم کی اشاعت کا اصل مقصد بھی مشرقی تہذیب کی حمایت ہے۔انھو ںنے جہاں ایک طرف تعلیم نسواں کی ضرورت کو محسوس کیا وہیں دوسری طرف قوم کی خواتین کو مغربی طرز زندگی اور اس کے نقائص سے محفوظ رکھنے کی تلقین کی ہے۔ان کا مقصد عورتوں کو علوم جدید سے دور رکھنا نہیں تھا بلکہ مشرقیت کے دائرے میں رہ کر جدیدیت کو قبول کرنا تھا۔

نسیم انہونوی نے دوسرا رسالہ ’سر پنچ‘کے نام سے اکتوبر 1931 میں جاری کیا۔یہ ہفتہ وار مزاحیہ رسالہ تھا۔ اس کی ادارت کی ذمے داری انھوں نے شوکت تھانوی کے سپرد کردی۔سر پنچ کا پہلا شمارہ شائع ہوا تو ادبی حلقوں میں ہلچل مچ گئی۔یہ اس وقت کااردو کا ایسا رسالہ تھا جس میں سب سے زیادہ مزاحیہ کالم ہوتے تھے۔

1945 میں نسیم انہونوی نے باقاعدہ سر پنچ کی ذمے داری سنبھالی۔انھوںنے اس کی کامیابی کے لیے بہت محنت اور پیسہ صرف کیے،لیکن بد قسمتی سے 1947  میں ہند و پاک کی تقسیم کے دوران ہونے والے فسادات میں ممبئی میں واقع سر پنچ کا آفس تباہ وبرباد ہوگیااور سر پنچ بند ہو گیا۔

ایک پبلشر کی حیثیت سے بھی نسیم انہونوی کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔انھوں نے 1928 میں لکھنؤ میں لاٹوش روڈ پر ادارہ ’نسیم بک ڈپو‘ کی بنیاد رکھی۔یہ ان کا ذاتی ادارہ تھا اور ہندوستان کے معیاری اداروں میں شمار کیا جاتا تھا۔ان کا پہلا ناول ’طرز زندگی‘ اسی ادارے سے شائع ہوا۔ 1989 تک انھوں نے اس ادارے سے ایک ہزار سے زائد کتابیں شائع کیں،جو ہمارے ادب کا گراں قدر سرمایہ ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے خواتین قلمکاروں کا ایک گروہ پیدا کیا جس میں رضیہ سجاد ظہیر، حجاب امتیاز علی، صالحہ عابد حسین، عطیہ پروین، عفت موہانی، مسرور جہاں اور سعید ناز وغیرہ ناول نگار اور افسانہ نگار شامل ہیں۔ نسیم انہونوی کی صلاحیتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ڈاکٹر اخلاق احمد اثر رقم  طراز ہیں :

’’سچ پوچھیے تونسیم بک ڈپو کو نسیم انہونوی صاحب نے اکادمی کا درجہ دیاتھا۔بھوپال کے قلم کاروں کو دوسرے صوبوں سے جو انعامات و اعزازات ملے،بھوپال اور صوبے کے ادب کو جو مقام ملااس میں نسیم انہونوی کا بہت بڑا ہاتھ تھا،ان کی خدمات کو ہم چاہیں بھی تو نظرانداز نہیں کر سکتے۔‘‘ (نیا دور،لکھنؤ،جون 1980، ص47)

نسیم انہونوی وقت کے بہت بڑے نباض تھے۔ انھوں نے ادب کو ضروریات وقت کے مطابق پے در پے ترقی دینے میں گراں قدر خدمات انجام دیے ہیں۔ زبان وادب کی ترقی اور نشوو نما میں تراجم کا اہم رول ہوتا ہے۔ انھوں نے اپنے ذاتی ادارے نسیم بک ڈپو سے بڑی تعداد میں تراجم شائع کیے اور ادب کے دامن کو مالامال کیا۔اس سلسلے میں پروفیسر یعقوب یاور ایک جگہ لکھتے ہیں:

’’انھوں نے اپنے ادارہ سے بڑی تعداد میں نہ صرف تراجم شائع کیے بلکہ مظہر الحق علوی، مظفر حنفی،  ایم جے عالم،خان محبوب طرزی،مسعودجاوید،حسین امین اور بدنام رفیعی جیسے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ بھی کیا۔ نسیم بک ڈپو ہندوستان کا واحدغیر سرکاری ادارہ ہے،جہاں سے اتنی بڑی تعداد میں تراجم شائع ہوئے۔جن مغربی ناول نگاروں کے تراجم اس ادارہ سے شائع ہوئے ان میں ہرمن ہیس، سامر سیٹ مام، فیو دردوستوئفسکی،الیگزینڈر ورما، ماریو پوژو، کین فالیٹ،شڈنی شلڈن،رائڈررہگرڈ اور اگاتھی کرسٹی جیسے نام شامل ہیں۔یہ مماثل بھی کتنے خوشگوار ہیں کہ اپنے عہد میں نول کشور نے منشیوں کو باقاعدہ ملازم رکھ کر داستانیں لکھوائیں جو اس عہد کے قارئین کے تقاضوں کی تکمیل تھی۔آج کے دور میں نسیم صاحب عوام کے ذوق کا لحاظ رکھتے ہوئے ویسی ہی توجہ تراجم پر صرف کی۔‘‘

(یعقوب یاور، تفکیر وتفہیم، بھارت آفیسٹ، دہلی2003،  ص27)

نسیم انہونوی کی ناول نگاری کی ابتدا ـ’طرز زندگی‘ سے ہوئی۔ انھوں نے جس عہد میں قلم سنبھالا وہ سیاسی سماجی اور معاشی نقطہ نظر سے نہایت کسمپرسی اور کرب کا زمانہ تھا اور پرانی قدریں دم توڑ رہی تھیں۔ایک طرف پستی،پسماندگی،رجعت پسندی،جہالت،مذہبی تعصب اور بے چارگی تھی تو دوسری طرف سامراجی طاقتیں اپنی گرفت مضبوط کرنے اور اپنے اقتدار کو قائم رکھنے کی کوشش کررہی تھیں۔ایسے نازک وقت میں قوم کا شیرازہ بکھر رہا تھا اور خصوصاً نوجوان نسل انگریزی تعلیم کے زیر اثر کیف و سرور کی سر مستیوں اور نت نئے فیشن میںملوث ہوتی جا رہی تھی۔ایسے حالات میں نسیم انہونوی نے اپنے ناولوں کے ذریعے قوم کی اصلاح کی کو شش کی۔

نسیم انہونوی نے ڈپٹی نذیر احمد، عبد الحلیم شرر اور علامہ راشد الخیری کا اثر قبول کیااور ان کے اصلاحی مقصد کے پیش نظر اپنے ناولوں کی تخلیق کی۔ان کا سب سے مشہور اور کامیاب ناول ’کہکشاں‘ہے۔ یہ1950 میں پہلی بار شائع ہوا۔اسے نسیم انہونوی اپنا شاہ کار ناول تسلیم کرتے ہیں۔اس ناول کے پندرہ ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔اس کے بعد کئی ناول منظر آم پر آئے۔ شگفتہ 1951،نجم السحر 1953،مہ پارہ1954،تمنا 1955،شبانہ 1956، بانو اور سراب زندگی 1957، مہتاب اور گلرو1958، خاتون اور ارمان 1959،کشور، آفاق اور رحمت1960،مس طلعت 1962، پرایا دھن1964، حسینہ 1966، حسرت 1973، آخری تمنا1979، وغیرہ ناول لکھے۔

 نسیم انہونوی کی ناول نگاری کا مقصد فرد اور سماج کی اصلاح ہے۔انھوں نے خصوصاًخواتین کی فلا ح وبہبود اور  ان کی تعلیم وتربیت کے لیے اپنے قلم کو جنبش دی۔ان کے زیادہ تر ناولوںکے نام نسوانی کردار سے ماخوذ ہیں۔ انھوں نے زندگی کے مسائل سے چشم پوشی نہیں کی جو کچھ جیسا دیکھا اور محسوس کیا،اسے قلم کے ذریعے اپنے ناولوں میں بیان کردیا۔ناولوں میں قصے کے ڈھانچے تیار کرنے میں فنی چابک دستی سے کام لیا ہے اور واقعات نگاری کو خاص اہمیت دی ہے،جس سے ربط اور تسلسل قائم رہتا ہے۔ ان مربوط واقعات کے ذریعے ہی قاری کی دلچسپی شروع سے آخر تک برقرا ر رہتی ہے۔ان کے ناولوں کی سب سے بڑی خوبی حقیقت اور تخیّل کی حسین آمیزش ہے۔ وہ اپنے تجربات و مشاہدات اور زبان و بیان کی چاشنی سے ناول کا حسن دوبالا کر دیتے ہیں۔

نسیم انہونوی اپنے پیش رو ادیب علامہ راشد الخیری کی طرح اپنے تمام ناولوں میں عورت کی مظلومیت، پردے کی اہمیت وافادیت،گھریلو اور معاشرتی زندگی کو بنیادی حیثیت دی ہے۔جس کی وجہ سے انھیں عہد حاضر کا ذی شعور صاحب فن ناول نگار تسلیم کیا جاسکتا ہے۔ان کے مد نظر ہمیشہ سماج اور معاشرے کی اصلاح رہی ہے۔ ان کی ناول نگاری کا اہم مقصد عورتوں کی تعلیم وتربیت اور ان کے تحفظ کے مسائل ہیں۔انھوں نے اپنے ناولوں کے ذریعے عورتوں کے خلاف برتے جانے والے امتیازات، مردوں کے ذریعے ان پر ہونے والے استحصال، مشرقی و مغربی تہذیب کا تصادم،مغربی تہذیب کی ظاہری چمک دمک اور ان سے پیدا ہونے والے مضر اثرات پر اظہار خیال کیا ہے۔یوں تو کئی خواتین قلم کاروں نے ان مسائل پر قلم اٹھائے ہیں،مگر نسیم انہونوی نے جس طرح سے نسوانی زندگی کے متعلق اظہار خیال کیا ہے،اس سے خواتین قلم کار پیچھے چھوٹ جاتی ہیں۔زندگی کے حقائق پر گہری نظر اور عمیق مشاہدات نے ان کے موضوعات کو دل آویز بنا دیا ہے۔اس سلسلے میں ایک جگہ مسرور جہاں لکھتی ہیں:

’’نسیم انہونوی مرحوم نے عورت کو عزت اور وقار بخشا،ان کے حقوق وفرائض پہچنوائے اور عورت کے استحصال کی پرزور مذمت کی۔مشرقی قدروں اورروایات کی پاسداری ان کا نصب العین رہا۔‘‘

(نیا دور، جون 1989، ص43)

نسیم انہونوی عورت کو خانگی زندگی سے الگ کرکے نہیں دیکھتے ہیں۔وہ معاشرے میں اس کردرا کو بلندیوں تک لے جانا اپنا اولین فرض سمجھتے ہیں۔ان کے ناول ’گلرو‘ اور ’مہ پارہ‘ ان نظریات کے حامی ہیں۔ناول ’گلرو‘ میں ’ گنگا ‘ ایک طوائف کی حیثیت سے سامنے آتی ہے،مگر کہانی کے آخرمیںوہ مجرا ترک کرکے اپنی دولت نیک کاموں میں صرف کر دیتی ہے۔اسی طرح اس ناول کا دوسرا کردار’ گلرو ‘بھی رقص و سرو د کو خیرآباد کہہ کر’ارشاد‘نامی شخص سے نکاح کرلیتی ہے اور پاکیزہ خانگی زندگی گزارتی ہے۔  ناول’ مہ پارہ‘ میں طوائف’ لیلیٰ‘ کا کردار بھی اہمیت کا حامل ہے۔فن موسیقی اس کا ذریعہ معاش ہے۔وہ بڑے بڑے اوباش رئیسوں کو اس فن سے مات دے جاتی ہے اور اپنے گوہر عصمت کوقائم رکھتی ہے۔ زندگی کے آخری ایام میںوہ حج بیت اللہ کے لیے روانہ ہو جاتی ہے۔ نسیم انہونوی نے اپنے متعدد ناولوں میں مشرقی و مغربی تہذیب کا تصادم پیش کیا ہے،جس کی عکاسی ناول ’کہکشاں ‘ میں بخوبی نظر آتی ہے۔ ناول کا کردار’ افروز‘، ’نازک ‘اور’ حسینہ‘ کی زندگی مغربیت کی اندھی تقلید کے سبب تباہ و برباد ہو جاتی ہے۔وہیں دوسری طرف ناول کا مرکزی کردار’کہکشاں‘جو مشرقی تہذیب کا دلدادہ اور اس روایات کا پرستار ہے،وہ اپنی ازدواجی زندگی میں سرخرو ہوتی ہے اور خوشیاں و شادمانیاں اس کے قدم چومتی ہیں۔

نسیم انہونوی کو مناظر فطرت سے گہری انسیت تھی۔ ان کے زیادہ تر ناولوں کے اصلاحی پلاٹ کی شروعات انھیں مناظر سے ہوتی ہے۔وہ سا ل کے دو مہینے نینی تال میں گزارتے تھے۔وہاںکے خوشگوار اور پرسکون ماحول میں اپنے قلم کا جادو دکھاتے تھے۔وہاں کے قدرتی مناظر اور حسین نظاروں کی دلکش جھنکار ان کی تحریروں میں محسوس ہوتی ہے۔

’’گو میں اب بوڑھا ہو چکا ہوں،لیکن میری محبوبہ پہلے بھی اسی طرح جوان تھی جس طرح آج نظر آرہی ہے،بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ اس کے حسن میں پہلے سے زیادہ نکھار آگیا ہے اور جوانی جیسے پھوٹی پڑتی ہے۔وہی شادابی جو اس کے سراپا  پر چھائی رہتی تھی،آج بھی نظر آتی ہے۔اس کا بانکپن شاید پہلے سے بھی زیادہ ہے۔شعرا نے اپنے محبوبوں کی آنکھوں کی تشبیہ جھیل سے دی ہے،لیکن اگر وہ نینی تال کو دیکھ لیں توجھیل کے بجائے اسی سے تشبیہہ دیتے۔ صبح اٹھ کر اسے دیکھیے تو ایسا محسوس ہو تا ہے جیسے شب اوّل کی مست شباب  دلہن شراب وصل پی کر سو گئی ہے۔دن میں دیکھیے تو ایسا محسوس ہوتاہے جیسے دلہن پہلی بار سسرال آئی ہے اور رو نمائی کی رسم ہو رہی ہے۔ہر طرف چہل  پہل ہر سمت شور وغل،جو ہے اس کا چہرہ دیکھنے کے لیے دوڑ رہا ہے،بھاگ رہا ہے اور رات کو دیکھیے تو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے  نئی نویلی دلہن افشاں  چھڑکے کامدانی کا دوپٹہ اوڑھے لیٹی ہوئی ہے۔‘‘

(آخری تمنا،نسیم انہونوی،نسیم بک ڈپو لاٹوش روڈ،لکھنؤ1979، ص9)

افسانہ نگاری کے میدان میں بھی نسیم انہونوی کی اہمیت مسلم ہے۔ناولوں کی طرح افسانے بھی اصلاحی نقطۂ نظر کے حامل ہیں لیکن ساتھ ہی ان میں رومانیت کا عنصر بھی موجودہے۔جو اپنی منفرد پہچان رکھتا ہے۔ان کا پہلا افسانوی مجموعہ’دردناک افسانے‘ کے نام سے 1939 میں شائع ہوا۔ اس مجموعے میں کل اٹھارہ افسانے شامل ہیں۔ دوسرا مجموعہ ’آخری کہانی اور دیگر افسانے‘ کے نام سے شائع ہوا۔

نسیم انہونوی سماجی حقیقت نگار ہیں۔ انھوں نے عوام کے دکھ، درد، مصائب اور ایثار و قربانی کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا ہے اور خاص طور پر خواتین پر ہونے والے جبر اور ظلم وستم کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ انھوں نے مظلوم اور بے سہارا عورتوں کو ان کا حق دلانے کی بھرپور کوشش کی۔ان کے نزدیک عورت ایثار و قربانی کا لازوال مجسمہ ہے۔جو ماں، بہن،بیوی اور بیٹی کی شکل میں ہمہ وقت قربانیاں دیتی رہتی ہے اور ہزار دشواریوں، مشکلات اور مصائب کے باوجود زندگی سے منھ نہیں موڑتی اور جینے کا حوصلہ رکھتی ہے۔آلام ومصائب سے ٹکراکر ہی اس کی شخصیت میں نکھار آتا ہے اور وہ ایک آئیڈیل معاشرے کی تکمیل میں معاون ثابت ہوتی ہے۔

1970 کے بعد نسیم انہونوی دق کے مرض میں مبتلا ہو گئے اور طبیعت دن بہ دن خراب ہوتی گئی لیکن بیماری اور تکلیف کے باوجود بھی ان کا قلم نہیں رکتا تھا۔ہر بار سردیوں کے موسم میں سانس کی تکلیف میں اضافہ ہو جاتا تھا۔ ا س طرح صحت دن بہ دن خراب ہوتی گئی۔عالم یہ ہوتا  تھا کہ ان کو کرسی پر بیٹھا کر دفتر کی سیڑھیوں سے اوپر پہنچایا جاتا اور کام کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔جب کمزوری مزید بڑھ گئی تو بستر مرگ پر پہنچ گئے اور 4 مارچ 1989 کو اس دار فانی کو چھوڑ کر عالم جاودانی میں اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔

مختلف تحریروں کے مطالعے کے بعد یہ اندازہ ہوتا ہے کہ نسیم انہونوی اعلیٰ پایے کے ناول نگار تھے لیکن جن اقدار کو انھوں نے گلے لگایا وہ دم توڑ چکی تھیں اور نئی اقدار سماج میں قدم جما رہی تھی لہٰذا لوگوں کی توجہ ان کی طرف خاطر خواہ نہیں ہوسکی۔ان کے فن پر تبصرہ کرنا تنقیدی مضامین لکھنابھی اہم قلم کاروں نے گوارہ نہیں کیا۔اس کا سبب یہ نہیں کہ ان کے ناول ایسے ہیں جنھیں نظر انداز کیا جاسکے۔ ایک ناشر کی حیثیت سے بھی وہ کامیاب انسان تھے۔جس کے آگے ان کے دوسرے کارنامے پھیکے پڑ گئے اور اہل ادب نے ان کے کارناموں سے چشم پوشی کرلی لیکن ان کے کارنامے اتنے اہم ہیں کہ اردو ادب میں ان کی خدمات کا اعتراف کرنا ہی پڑتا ہے۔ انھوں نے مشرقیت کی اجڑتی ہوئی اقدار کو اپنے قلم کی روشنائی سے سینچا اور زندگی کی آخری سانس تک اس کی آبیاری کرتے رہے کیونکہ یہ اقدار ہماری زندگی کے ضامن ہیں اور سماج کی ترقی کے لیے اہمیت کے حامل ہیں۔عصر حاضر میں اس بات کا بڑی شدت سے احساس ہوتا ہے کہ انھوں نے سماج کی اصلاح کی جو مہم چلائی تھی،اردو ادب میں وہ آج بھی سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔

 

Dr. Shahla Parveen

Assistant Professor (G.T.) Deptt.of URDU

S.N.S.College,Motihari

East Champaran- 845401 (Bihar)

E-mail:shahlap12@gmail.com




6/9/21

ورچوئل تدریس میں گوگل کلاس روم کا استعمال - مضمون نگار : مشتاق احمد آئی پٹیل

 



تکنالوجی ہماری زندگی کے مختلف شعبوں پر اثرانداز ہو رہی ہے۔ تعلیم کے میدان میں اس کے گہرے اثرات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ایک طرف جہاں گوگل ہمیں دنیا بھر کی معلومات یکجا کرکے فراہم کرتا ہے اور اسے ہم عام طور پر ایک سرچ انجن کے طور پر جانتے ہیں، وہیں اس کے اندر بہت سے اپلیکیشن بھی ملتے ہیں، جن کا استعمال ہم اپنے روزمرہ کے مختلف کاموں کے لیے کرتے ہیں۔  ان میں 'یو ٹیوب، گوگل پلے، گوگل میپ، جی میل، گوگل ڈرائیو، گوگل پلس' وغیرہ بہت ہی کارآمد ایپس ہیں، جن کا استعمال ہر خاص و عام کرتا ہے۔ ان کے علاوہ گوگل مزید ایپس فراہم کرتا ہے، جن کی لمبی فہرست ہے، ان میں سے ایک گوگل کلاس روم بھی ہے، جو معلم کا دوست مانا جاسکتا ہے۔  جیسے کے نام سے ظاہر ہے، اس کا استعمال ایک  ’مجازی کلاس روم‘ کے طور پر کیا جاسکتا ہے  لیکن ہمیں اس پر یہ تشویش ضرور ہوتی ہے کہ اگر یہ مجازی ہے، تو کیا اکتساب واقعی ہوتا ہے؟اور اگر ہوتا ہے تو کیا یہ بھروسہ مند اکتساب ہے؟

تدریس و اکتساب کا  انتظام و انصرام

اگر اسکول و کلاس کو ایک جاندار شئے تصور کریں تو اس کے اندر واقع ہونے والے تدریس، اکتساب، تعین قدر اور ان تمام کا انتظام و انصرام بدن میں دوڑتے خون کی طرح ہے، جو اسکول کو زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ جہاں تعلیم گود سے گور تک یعنی زندگی بھر چلنے والا عمل ہے وہیں تدریس مخصوص مقاصد کے تئیں ارادتاً حاصل کیے جانے والے نشانات ہیں۔ اس کے بخوبی حصول کے لیے کلاس کا انتظام و انصرام (Management)  ہونا ضروری ہے۔ کلاس مینجمنٹ وہ عمل ہے جس  کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ طلبا کو کلاس روم کے اسباق آسانی سے فراہم کیے جائیں۔ یہ تمام سرگرمیاں مجازی طور پر آن لائن نظام کے ذریعے بھی انجام دے سکتے ہیں، اگراس طرح کے کلاس روم اساتذہ کے لیے دستیاب ہوں۔

عام کلاس روم کا تصور

تدریس کے دوران استعمال ہونے والا کلاس روم ایک مخصوص اصطلاح کا درجہ رکھتا ہے۔ یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں اساتذہ، طلبہ اپنے نصاب سے متعلقہ مواد پر بحث و مباحثہ کرتے ہیں۔ ان کی تدریس و اکتساب کو کارگر بنانے کے لیے مختلف وسائل کا استعمال کرتے ہیں، اور اُنہیں، کتاب، اشکال، آن لائن پروگرام یا تجربات کی روشنی میں سکھاتے ہیں۔ جب تدریس و اکتساب کا عمل پورا ہوجائے تو اس کا تیقن کرنے کے لیے اساتذہ طلبہ کا تعین قدر کرتے ہیں، جس کے لیے مختلف قسم کے سوالات جیسے معر وضی یا مختصر جوابی سوالات کا استعمال بھی کرتے ہیں۔ ان تمام سہولیات اور افعا ل کی انجام دہی کے لیے ایک مفت ایپ جو ہمیں دستیا ب ہے وہ گوگل کلاس روم ہے۔

گوگل کلاس روم کیا ہے؟

سب سے پہلے ہمارے ذہنوں میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ یہ گوگل کلاس روم ایپ کیا ہے؟  انٹرنیٹ اور گوگل پر موجود مواد کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ یہ بہت ہی کارآمد ایپ ہے، جو اسکول، اساتذہ اور طلبہ کے لیے کارآمد ہے۔

Google کلاس روم اسکولوں کے لیے ایک مخلوط اکتساب فراہم کرنے والا پلیٹ فارم ہے جس کا مقصد بِنا کاغذ کے استعمال کے تفویضات کی تخلیق، تقسیم اور گریڈنگ کو آسان بنانا ہے۔ Google کلاس روم ایک مفت ایپلیکیشن ہے جس کے تحت بغیر کاغذی نگہداشت کے طالب علموں اور اساتذہ کو اسائنمنٹس پر مذاکرات، تعاون اور تنظیم کرنے کی سہولت دستیاب ہے۔

اس کے لیے سب سے پہلے ایک عام کلاس روم کا موازنہ گوگل کلاس روم ایپ سے کیا جائے، تو پتہ چلتا ہے کہ ایک کلاس روم میں معلم، متعلم،  ہوتے ہیں اور تدریس و اکتساب کے لیے ضروری وسائل موجود ہوتے ہیں اور تعلیم کے مقصد کے حصول کے لیے پہلے سے طے شدہ مقاصد کے جائزہ لینے کے لیے جانچ و تعین قدر کیا جاتا ہے۔ اس طرح تعلیم کے حصول کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ اس تمام عمل میں طلبہ کا ریکارڈ، ان کی ترقی کا ریکارڈ اور ان کے اکتسابی وسائل کی فراہمی، اور فریقین کے درمیان باہمی ربط کو فراہم کرنا شامل ہے۔ مزیدار بات یہ ہے کہ گوگل کلاس روم میں یہ تمام سہولیات موجود ہیں۔ تدریس و اکتساب کے لیے نہ ہمیں کوئی کمرہ جماعت کی ضرورت ہوتی ہے، اور نہ کچھ خرچ کرنے کی۔ معلم و متعلم دونوں ایک دوسرے سے ایک پلیٹ فارم پر جڑے رہتے ہیں اور اس کے لیے بھی انھیں کوئی سافٹ ویئر خریدنے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے، کیونکہ گوگل کلاس روم ہر گوگل کے استعمال کنندہ کے لیے مفت اور آسانی سے دستیاب ہے۔


گوگل کلاس روم کیسے شروع کیا جاسکتا ہے؟

گوگل کلاس روم استعمال کرنے کے لیے صرف گوگل آئی ڈی ہونا ضروری ہے۔ سب سے پہلے ہم اپنی گوگل آئی ڈی کا استعمال کرکے اپنے اکاؤنٹ میں داخل ہو سکتے ہیں۔ پھر اسکے بعد اپلی کیشن کے ذریعے گوگل کلاس روم کو مزید آپشن کے ذریعے جوڑ سکتے ہیں۔ اگر آپ استاد ہیں اور پہلی بار اس کا استعمال کررہے ہیں تو اپنی کلاس یا درجہ کا اندراج کرسکتے ہیں۔ ایک بار اگر معلم اپنی کلاس کا اندراج کرلیتا ہے تو کئی آپشن کھل جاتے ہیں۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ آپ کی کلاس اعلیٰ سطح کے طلبہ کی ہی ہو، صرف یہ ضروری ہے کہ ان طلبہ کے پاس اپنا ای میل آئی ڈی ہو جس کے ذریعے آپ ان کو یہاں مدعو کرسکتے ہیں۔

گوگل کلاس روم کے اہم اجزا

اب جب آپ اپنی کلاس یعنی کلاس کے صفحے میں داخل ہوتے ہیں تو نظر آنے والے آپشنس کے ذریعے آپ مندرجہ ذیل کام کرسکتے ہیں۔

عنوان بنانا  Add Topic –اس لنک کے ذریعے  آپ اپنے کلاس اور مضمون سے متعلق تمام اسباق کے عنوانات اس میں شامل کر سکتے ہیں، اس سے معلم کو اپنے مواد مضمون کو ڈیجیٹلائیزڈ کرنے کا موقع ملتا ہے۔  یہ اس سلسلے کی پہلی کڑی ہے، اگر اس میں کوئی غلطی ہو جائے اور ترمیم کی ضرورت ہو تو آپ اس عنوان کو بدل بھی سکتے ہیں یا غیر ضروری عنوان کو ڈیلیٹ کرنے کی سہولت بھی ہے۔ یہاں پر عنوانات داخل کرنے کی کوئی قید نہیں ہے، یعنی ایک استاد اپنے مضمون سے متعلق دس سے پندرہ یا اس سے زائد عنوانات کو بھی شامل بحث کر سکتا ہے۔ 

اعلان کرنا Create Announcement – یہ ایک دوسرا اہم مرحلہ ہے، اور جس طرح ایک معلم موضوع تدریس کا کمرہ جماعت میں اعلان کرتا ہے اسی طرح یہاں پر وہ اپنے طلبہ کے لیے اعلان کرتا ہے۔ یہ اعلان اوپر طے کیے گئے کسی بھی عنوان سے متعلق ہو سکتا ہے، اور جس طرح استاد اپنے طلبہ میں سے کسی ایک، چنندہ یا تمام سے مخاطب ہوتا ہے، اسی طرح یہاں بھی اپنے طلبہ کو ایڈریس کر سکتا ہے۔ عام کلاس روم میں وہ اعلان کرکے اپنے تدریسی مواد کو پیش کرتا ہے، جو آواز، پریزینٹیشن، اشکال یا لکھاوٹ کی شکل میں ہوتا ہے، اسی طرح یہاں پر وہ ان تمام شکلوں میں یہ مواد پیش کرسکتا ہے۔ اسکے لیے اساتذہ اپنے کمپیوٹر کے مواد کو گوگل ڈرائیو کے ذریعے اپ لوڈ کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اپنے گوگل ڈرائیو پر رکھا ہوا مواد بھی سیدھے اپ لوڈ کر سکتے ہیں۔ ایک عام کمرہ جماعت میں پڑھانے والا استاد اپنے مواد جیسے سائنس کے تجربات کو طلبہ کے سامنے کرکے پیش کرتا ہے، جسے ڈیمانسٹریشن کہا جاتا ہے۔ اب اگر دیکھا جائے کہ کیا اس طرح کی سہولت ہمیں گوگل کلاس روم میں دستیاب ہے تو اس کی گنجائش یہاں پر نظر آتی ہے۔ ایک معلم دو طرح سے مواد کو یہاں پر جوڑ سکتاہے، جس کا فائدہ طلبہ کی تدریس میں مؤثر ثابت ہوگا، کیونکہ یہ ان کی سماعت ہی نہیں، بلکہ بصارت کو بھی متاثر کرتا ہے۔  اب مضمون سے متعلق متن یا آڈیو، ویڈیو مواد کو جوڑنے کے لیے استاد کو ’یو ٹیوب‘ میں موجود مواد کو سرچ کرنے کی گنجائش موجود ہے اور ساتھ ہی ساتھ کسی مخصوص لنک کے URL کو جوڑنے کی سہولت ہے۔ اس کے علاوہ بھی اگر ایک استاد اپنے طلبہ کے ساتھ کوئی کتاب، یا ٹیکسٹ، پی ڈی ایف، آڈیو، ویڈیو، ملٹی میڈیا کا لنک جوڑنا چاہے تو اس کی سہولت بھی مہیا ہے۔ یعنی کل ملا کر ایک معلم نہ صرف یہ کہ طلبہ کی تدریس میں اپنی مہارت کا بلکہ بیرونی وسائل کے استعمال کی سہولت بھی رکھتا ہے۔

اسائنمنٹ دینا   Create Assignment – ایک معلم تدریس کے بعد طلبہ کو گھر کے کام تفویض کرتا ہے، اس طرح کی سہولت یہاں پر بھی موجود ہے۔ ایک معلم اپنے اسائنمنٹ کے لنک سے اس کو ایڈ کر سکتا ہے، اس کو کوئی نام دینا ہوگا، اور اس سے متعلق ضروری ہدایات اگر دی جائیں، تو طلبہ کے لیے کار آمد ہوں گی۔ چونکہ ایک موضوع کو مختلف پریڈس میں پڑھایا جاتا ہے تو ہر پریڈ کے لیے بھی اسائنمنٹ دینے کی گنجائش یہاں موجود ہے۔ معلم اپنے طلبہ کو تفویضات ایک معینہ وقت میں جمع کرنے کو کہتا ہے، اور یہاں اگر اس طرح کی کوئی وقت متعین کیا جائے تو طلبہ اس وقت تک ہی اپنے اسائنمنٹ داخل کرسکتے ہیں۔  ان تفویضات کو مکمل کرنے کے لیے معلم اگر کوئی حوالہ جاتی مواد دینا چاہے تو اس کو بھی ویب سائٹس کے مواد، آڈیو، ویڈیو، لنک، ملٹی میڈیا کے ذریعے فراہم کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ استاد کے ذریعہ تیار کردہ مواد کو اپنے گوگل ڈرائیو کی مدد سے جوڑ کر بھی فراہم کیا جاسکتا ہے۔  Flipped Learning کا طریقہ کار ہے جو کہ تدریس و اکتساب کے ایک اہم طریقہ کے طور پر مشہور ہے۔

سوال بنانا Create Question – استاد اپنے طلبہ سے تدریس کے دوران مختلف سوالات بھی کرتا ہے، یہ سوالات مخصوص طلبہ سے بھی ہوتے ہیں اور تمام سے بھی۔ اگر گوگل کلاس روم کا ذکر کیا جائے تو ان سوالات کو بنانے کی گنجائش موجود ہے، اور اس کے لیے ضروری ہدایات بھی دی جاسکتی ہیں، تاکہ طلبہ کو انھیں حل کرنے میں مشاورت ملے۔ تفویضات کی طرح مواد کے ادخال کی میعاد بھی دی جاسکتی ہے اور معاون وسائل کی فراہمی بھی ممکن ہے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ سوالات مختصر ہونگے یا کثیر جوابی ہوں گے، استاد اس کو بھی طے کر سکتا ہے۔  اب چونکہ اس طرح کے سوالات میں طلبہ کی نشوونما ممکن ہے اس لیے طلبہ ان کو آپس میں شیئر بھی کر سکتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر ان کی تصحیح بھی ممکن ہے۔ استاد ان سوالات کوپہلے سے تیار کرکے رکھ سکتے ہیں اور پہلے سے طے شدہ وقت پر پوسٹ بھی کرسکتے ہیں یا ان کو ڈرافٹ بنا کر رکھ کر ترمیم بھی کر سکتے ہیں۔ اگر ان سوالات کو بعد میں موزوں نہ پایا جائے تو ان کو ڈیلیٹ بھی کیا جاسکتا ہے۔

پوسٹ کا دوبارہ استعمال Reuse Post – چونکہ ٹیچر مختلف جماعتوں اور مختلف مضامین کو پڑھا رہے ہوتے ہیں، اور ان مضامین میں پڑھائے گئے چنندہ مواد دوسرے کلاسس کے لیے بھی کارآمد ہوتے ہیں تو، معلم کے لیے گوگل کلاس روم میں اس مواد کے دوبارہ استعمال کی گنجائش بھی موجود ہے۔ اس میں نہ صرف دوسری جماعت کے اعلانات، بلکہ سوالات اور دوسری چیزیں بھی جوڑسکتے ہیں۔

طلبہ

ایک کلاس روم کا تصور اسی وقت تکمیل پاتا ہے، جب اس میں طلبہ موجود ہوں۔ گوگل کلاس روم میں اساتذہ کے لیے اس کی گنجائش موجود ہے کہ وہ اپنے طلبہ کا انتخاب کریں اور ان کا ایک گروپ بنا کر پڑھائیں۔

طلبہ کو مدعو کرنا Invite Students – اس لنک کے ذریعے آپ اپنے طلبہ کو مدعو کر سکتے ہیں۔ گوگل کے ایڈریس بک میں موجود طلبہ کو ایڈ کر کے کر سکتے ہیں۔ ان کے علاوہ آپ اپنے جاننے والے طلبہ کو بھی راست طور پر ایڈ کرسکتے ہیں، جن کے ای میل ایڈریس آپ کے پاس موجود ہیں۔ ویسے تو طلبہ کو داخل کرنے کی کوئی حد نہیں بتلائی گئی ہے، لیکن ایک کلاس روم ٹیچر کی ضروریات کے مطابق انھیں ایڈ کیا جاسکتا ہے۔ اگر وہ استاد کے دعوت نامے کو اپنے ای میل سے ایکسیپٹ کرتے ہیں تو وہ یہاں  ممبر بن جاتے ہیں اور اس کلاس روم میں ملنے والی تدریس و اکتساب کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اسکے علاوہ استاد انکے ساتھ انفرادی اور اجتماعی طور پر ای میل کے ذریعے اور مواد پر کمینٹ Comment  کے ذریعے رابطے میں رہ سکتے ہیں۔ معلم کو یہ گنجائش ہے کہ وہ صرف اساتذہ کو ہی مواد پر کمینٹ کی سہولت دیں یا طلبہ کو بھی اس کی سہولت دستیاب ہو۔ اس کے علاوہ معلم کو اپنے طلبہ کو Mute کرنے،  ای میل کرنے یا ڈیلیٹ کرنے کی سہولت ہے، یعنی استاد نارمل کلاس روم کی طرح اس کلاس روم کا بھی نظم کر سکتا ہے اور روزمرہ کی سرگرمیوں کو قابو میں رکھ سکتا ہے۔

گوگل کلاس روم کا نظم

دوسرے عام کلاسس کی طرح معلم ایک کمرہ جماعت کو اکیلا پڑھا سکتا ہے، یا مختلف اساتذہ کے ساتھ مل کر ایک مضمون یا مختلف مضامین پڑھا سکتا ہے۔ اس طرح اگر دوسرے اساتذہ کو جوڑا جائے تو دوسرے استاد کو بھی کلاس کے نظم کی وہ تمام سہولیات دی جاسکتی ہیں، جو پہلے معلم کو دستیاب ہیں، یعنی وہ کسی مخصوص مضمون کو پڑھا سکتے ہیں، اس کے سوالات تیار کرسکتے ہیں ہے اور طلبہ کا نظم بھی ممکن ہے۔ اس طرح طلبہ کو ایک ہی پلیٹ فارم پر مختلف ماہرین کی امداد مل جاتی ہے۔ استاد کو مدعو کرنے کی یہ سہولت Invite Teacher  کے طور پر About کلاس روم لنک میں موجود ہے۔ About لنک کے ذریعے آپ اپنی تدریس کا مواد جوڑ سکتے ہیں، جو اوپر ذکر کیے گئے مواد کی طرح ملٹی میڈیا مواد ہوگا۔ جس طرح آپ اپنے کلاس کا نام اور روم نمبر ٹائم ٹیبل میں اندراج کرتے ہیں، یہ سبھی یہاں داخل کرنے کی سہولت ہے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ غور طلب بات ہے کہ آپ کا داخل کیا گیا نیا مواد ہر بار اوپر کی جانب آتا ہے اور پرانا مواد اسکرین کے نچلے حصّے میں چلا جاتا ہے، اس طرح سے طلبہ updateرہ سکتے ہیں۔

کلاس روم کیلنڈر Classroom Calendar - اس کے ذریعے معلم اپنی کلاس کے کیلنڈر کی نگرانی کر سکتے ہیں۔ جس کی وجہ سے انھیں طلبہ کی پیش رفت کا اندازہ لگانے میں مدد ملتی ہے۔  یہ صرف ایک کلاس کا ہی نہیں بلکہ معلم کے ذریعہ ہینڈل Handle کی جانے والی تمام کلاسس کا بھی اندازہ قائم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ معلم اپنی کلاس کے کیلنڈر کو اپنے ذاتی گوگل کیلنڈر سے بھی جوڑ سکتے ہیں تاکہ سالانہ منصوبہ بندی کی جاسکے اور تمام اساتذہ کے ساتھ ملکر کلاس کا نظم کیا جائے۔ اس طرح جنرل ہالی ڈیز، امتحانات کے شیڈیولز کی تیاری ممکن ہے۔

کلاس ڈرائیو فولڈر Class Drive Folder – استاد کے ذریعے کی جانے والی تمام تر سرگرمیوں کا ریکارڈ cloud system کے ذریعے گوگل ڈرائیو پر رکھا جاسکتا ہے۔جس کی وجہ سے استاد کا تیار کردہ تمام مواد طلبہ کے لیے 24x7 دستیاب ہوگا۔

گوگل کلاس روم کو کس طرح حاصل کیا جاسکتا ہے؟

گوگل کلاس روم کو ویب براوزر، iOS، انڈرائیڈ، کروم پر چلنے والے مختلف ڈیوائیزز پر استعمال کر سکتے ہیں۔ اس کے استعمال کے لیے انٹرنیٹ ضروری ہے۔ یہ آف لائن استعمال نہیں کیا جاسکتا۔  چونکہ یہ مواد مختلف براوزرس پر آسانی کے ساتھ کھل سکتا ہے، اس لیے اساتذہ و طلبہ دونوں اسے موبائل، ڈسک ٹاپ یا لیپ ٹاپ پر استعمال کر سکتے ہیں۔ اساتذہ اور طلبہ اپنے کردار کے مطابق دوسرے مطالعات کے دوران حاصل شدہ مواد کو گوگل کلاس روم میں  شیئر بھی کرسکتے ہیں جیسے واٹس ایپ پر حاصل شدہ نصاب پرمبنی ویڈیو کو اس کلاس میں شیئر کیا جاسکتا ہے۔

نتائج

کل ملا کر ہمیں لگتا ہے کہ ترقی کے اس دور میں جہاں تکنالوجی کا بول بالا ہے، اساتذہ کو اس طرح کے پلیٹ فارم کے استعمال کی اشد ضرورت ہے۔  اس سے اساتذہ اپنے طلبہ سے24x7  جڑے رہ سکتے ہیں۔ نہ صرف یہ کہ اس طرح کے پلیٹ فارم کے استعمال سے اساتذہ کو ڈیجیٹل مواد کی تیاری میں کام کرنے کا موقعے ملے گا، بلکہ وہ نئے دور کے تعلیمی نظام یعنی MOOCs کی طرف بھی اپنے قدم بڑھائیں گے۔ حالانکہ موجودہ وقت میں اس پلیٹ فارم کا استعمال محدود طور پر کیاجارہا ہے، اس لیے یہ بڑے پیمانے پر ہمیں دستیاب نہیں ہے اور اسےMOOCs کے طور پر دیکھا نہیں جارہا۔ اساتذہ اگر اس کے استعمال سے بخوبی واقف ہو جائیں تو MOOCs  کے پلیٹ فارم جیسے MOODLES اور SWAYAM کے استعمال کے مواقع تلا ش کرسکتے ہیں۔ یہاں پر اس بات کا ذکر خاصا اہم ہے کہ اس سہولت کے استعمال میں ہم صرف انگریزی زبان تک ہی محدود نہ ہونگے، بلکہ اردو جاننے والے اساتذہ انگریزی کے ساتھ ساتھ وقت ضرورت اردو مواد کا بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ موجودہ کووڈ-19 وبائی بیماری کے دور میں جہاں ہمیں طلبہ کے ساتھ ربط رکھتے ہوئے تعلیم کو جاری رکھنے کی ضرورت ہے تو اس تکنیک کا استعمال نہ صرف سودمند بلکہ اشد ضروری ہے۔


 

Prof. Mushtaq Ahmed I. Patel

Prof. in Education, MANUU

Gachibowli

Hyderabad-  500032 (Telangana)

 

 

 ماہنامہ اردو دنیا ، اگست 2021

 

 

 

 

 

 


3/9/21

اکیسویں صدی میں اردو فکشن تنقید - مضمون نگار: نظیر احمد گنائی

 



فکشن کی اصطلاح گو کہ ناولوں اور افسانوں کے لیے استعمال ہوتی ہے، تاہم اس کا اطلاق تھیٹر، فلموں، ٹیلی ویژن ڈراموں پر بھی ہوتا ہے۔ یہاں پر فکشن ناول اور افسانے پر لکھی جانے والی اہم تنقیدی نگارشات کا جائزہ لینے کی کوشش کی جائے گی تاکہ اکیسویں صدی میں اردو فکشن تنقید کا منظر نامہ سامنے آ سکے۔ساتھ ہی موجودہ دور کے فکشن نگاروں کی پہچان بھی ہوجائے گی۔

اردو فکشن تنقید کے ابتدائی نقوش مغربی نقادوں کے یہاں ملتے ہیں۔ان نقادوں میں سب سے پہلے ہومرکا نام اول درجہ کا اہمیت رکھتا ہے۔ایسے نقاد بہت کم ملیں گے جنھوں نے فکشن کی تنقید لکھی ہو۔ہومر کے بعدیہ سلسلہ دریداتک جاری رہا۔مغرب کے بعد اس نے مشرق کا رُخ کیااور ترقی کے منازل طے کیے۔فکشن کی تنقید میں بھی ادب کی دیگر اصناف کی طرح روز اول سے تجربے ہوتے آرہے ہیں۔ اکیسوی صدی کا فکشن نفسیاتی کشمکش، معاشی بدحالی، جنسی بے راہ روی اور سماج میں پھیلی برائیوں پر زور دیتاہے۔ ادیب علامتوں، اشاروں اور  رمزوکنایہ کے ذریعے اپنی بات قارئین تک پہچانے کی کوشش کرتا ہے۔دور حاضر میں اردو تنقید کے تعلق سے پروفیسر صغیر افراہیم لکھتے ہیں:

’’اکیسوی صدی کی تنقید کا تقریباً ہر دبستان’’قاری اساس ‘‘ہے۔اب مطالعۂ متن میں خالق کے بجائے اس کے قاری کو مرکزی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔ بلکہ Stanley Fish  تو اس حد تک آگے بڑھ گیا ہے اس کے نزدیک کاغذ پر لکھی گئی تحریر صرف قرات میں ہی با معنٰی بنتی ہے اور قاری اپنی قرات سے متن موجود بناتا ہے۔مصنف اساس یا موضوعاتی تنقیداب رفتہ رفتہ قاری اساس مطالعہ کے لیے جگہ خالی کر رہی ہے اور متن کی قرات کے حوالے سے مطالعۂ ادب کے نئے دبستان وجود میں آ رہے ہیں۔‘‘ (معاصر فکشن کی تنقید :  زبان کے حوالے سے)

انسانی زندگی جس شکست وریخت، پیچ و خم اور انقلاب سے دو چار ہوتی ہے اس کے اظہار کا سب سے بہترین وسیلہ بننے کی صلاحیت اگر کسی صنف میں ہے تو وہ ناول ہے کیونکہ ناول معاشرہ،فرد اور ذات کے نہ صرف خارجی عوامل و عناصر کو پیش کرتا ہے بلکہ تضاد وتصادم اور اس کے محرکات کو بھی اپنی گرفت میں لیتا ہے۔ زندگی اور معاشرے سے گہرے تعلق کے باوجود ناول کو اپنے وجود اور اہمیت کے لیے ہر دور میں سنگھرش کرنا پڑا ہے۔دور حاضر میں جن معروف اردو ناول نگاروں نے، ناول کو زندہ جاوید کر دیا ان میں کچھ نام یہاں قابل ذکر ہیں۔ رحمن عباس (نخلستان کی تلاش،روحزن )، نورالحسنین (ایوانوں کے خوابیدہ چراغ)، عبدالصمد (بکھرے اوراق،  یادوں کی سیاہی ، شکست کی آواز )، ترنم ریاض (بر ف آشنا پرندے )، شمس الرحمن فاروقی (کئی چاند تھے سر آسماں)، پیغام آفاقی (پلیتہ )، اقبال متین(چراغِ تہِ داماں)، مشرف عالم ذوقی (نالۂ شب گیر، لے سانس بھی آہستہ، آتش رفتہ کا سراغ)، (شفق) بادل، قابوس) شائستہ فاخری (نادیدہ بہاروں کے نشان، صدائے عندلیب برشاخ شب)، غضنفر(وش ماتھن،  شوراب)، (مانجھی )صلاح الدین پرویز  (دی وار جرنلس)جتندربلو (وشواس گھات )ثروت خان (اندھیرا پگ )،محمد علیم (میرے نالوں کی گمشدہ آواز)، شموئل احمد (مہاماری، اے دل آوارہ )ڈاکٹر اختر آزاد (لیمی نیٹیڈ گرل)، احمد صغیر (جنگ جاری ہے )، صادقہ نواب سحر (کوئی کہانی سناؤ متاشا)، آچاریہ شوکت خلیل (اگر تم لوٹ آتے)، افسانہ خاتون (دھند میں کھوئی روشنی)، نسرین ترنم (ایک اور کوسی )، آشا پربھات (دھند میں آگا پیڑ )، انیس اشفاق (دکھیاری )، شبر امام (جب گاؤں جاگے)، ظفر عدیم (انجو شوفر )، علی امجد (کالی ماٹی)، غیاث الدین (زوال آدم خاکی )وغیرہ۔

اکیسوی صدی کی شروعات سے ہی اردو ناول کا مطالعہ اوردائرہ تیزی سے پھیلتا جا رہا ہے۔اردو ناولوں کا ملکی اور غیر ملکی زبانوں میں ترجمے کا عمل زور و شور سے ہو رہا ہے۔ساتھ ہی حالیہ برسو ں کے دوران ناول کے فن اور تنقید کے مباحث میں بھی اضافہ دیکھنے کو ملاہے۔یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ناول سب سے زیادہ زیر بحث صنف کا درجہ اختیار کر گیا ہے۔اس حوالے سے کئی کتابیں اور بہت سارے مضامین یا مقالات ہمارے سامنے آئے ہیں جن میں اکیسویں صدی کے ناولوں پر تنقید پیش کی گئی ہو۔ان کتابوں اور مضامین میں سے چند کاتذکرہ یہاں قابل ذکر ہے۔کتابیں، جیسے پروفیسر رفیعہ شبنم عابدی کی مرتب کردہ کتاب (معاصر اردو ناول) ، ناز قادری (اردو ناول کا سفر )، محمد کامران شہزاد (فکشن اور تنقید کا تازہ اسلوب)،  ڈاکٹر منصور خوشتر (اردو ناول کی پیش رفت)، رحمن عباس کی ترتیب کردہ کتاب (اکیسوی صدی کی دہلیز پر اہم اردو ناول)، مضامین، جیسے مشرف عالم ذوقی (اردو ناول کی گم ہوتی ہوئی دنیا)، پروفیسر مناظرعاشق ہرگانوی (ہم عصر اہم ناولوں کے تنقیدی شذرات)، (اکیسوی صدی میں اردو ناول)، محمد حمید شاہد ( معاصر اردو فکشن :  ہیئت اور اسلوب کے تجربے )،( فکشن کی تنقید میں تفہیم کا کردار )، پروفیسر اسلم جمشید پوری (2018 کا فکشن اور فکشن تنقید۔ ایک جائزہ)، شہناز رحمن (اردو ناول میں اسلوب کے تجربے)،  شہاب ظفر اعظمی (اکیسویںصدی میں اردو ناول:  ایک تنقیدی مطالعہ )، ڈاکٹر صلاح الدین درویش (اکیسویں صدی کی دو سری دہائی کے دس بڑے ناول) وغیرہ ۔

مندرجہ بالا کتابوں میں اردو ناول پر جو تنقیدی آرائ پیش کی گئی ہیںوہ قابل ستائش ہیں۔ان ادیبوں نے ناول کے فن پر بات کی ہے اور ناول میں غیر ضروری چیزوں پر کسی جگہ اعتراض کیا ہے اور کسی جگہ کھل کر تنقید کی ہے۔ فنی لوازمات میں زبان وبیان، اسلوب،کردار نگاری، مکالمہ نگاری،منظر کشی اور نقطۂ نظر،ان سبھی اجزائ کا بغور مطالعہ کر نے کے بعدان نقادوں نے اپنے تنقیدی خیالات کا کھل کر اظہار کیا ہے۔اسی طرح مندرجہ بالا مضامین میں ناول کا فن،ناول کا اسلوب اورناول کی تکنیک پر بحث کرتے ہوئے ادیبوں نے اپنے خیالات پیش کیے ہیں اور ساتھ ہی بعض جگہوں پر تنقیدی رائے بھی پیش کی ہے۔فکشن کے نقاد کہیں کہیں تضاد کا شکار بھی ہوئے ہیں کسی نے ناول کو پرکھ کر اسے اہمیت دی ہے تو کسی نے فن پر اعتراضات کرکے اسے ردکیاہے۔

بدلتے وقت کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔ اس بدلتے دور میں داستان کا رواج ختم ہوا،ناول کا عروج دیکھا گیا۔اس ٹکنالوجی کے دور میں ناول پڑھنے کا چلن بھی کم ہوتا جا رہا ہے۔دورحاضر میں مختصر کہانی نے جنم لیا اور مقبولیت پائی اور لوگوں نے اس کو بے حد پسند کیا کیونکہ یہ ایک ہی نشست میں پڑھا جا سکتا ہے اور سامعین یا قارئین کے ذہن پر ایک تاثر چھوڑ دیتا ہے۔افسانے نے برصغیر میں ایک صدی تک راج کیا۔ اس میں نئے نئے تجربات ہوئے، موضوعات کا تنوع پایا گیا،کہانی پن کی کمی بھی دور کی گئی۔

رواں صدی میں جن افسانہ نگاروں نے بہترین افسانے لکھے ساتھ ہی ان افسانوں کے مجموعے بھی منظر عام پر لائے۔ان افسانہ نگاروں میں مرد و زن دونوں شامل ہیں جنھوں نے شاہکار افسانے لکھ کر اردو فکشن کو ایک اعلیٰ مقام بخشا۔ 2000 سے لے کر اب تک بے شمار افسانہ نگار منظر عام پر آئے اور قارئین کے پیش نظر لاتعداد افسانوی مجموعے لا کر داد تحسین حاصل کر چکے ہیں۔ چند مشہور و معروف افسانہ نگاروں کے نام یہاں قابل ذکر ہیں۔ ترنم ریاض (ابابیلیں لوٹ آئیں گی)، آنند لہر (انحراف)، سریندر پرکاش (حاضر حال جاری)، فہمیدہ ریاض (خط مرموز)، انیس رفیع (کرفیو سخت ہے )، پیغام آفاقی (مافیہ )، عبدالصمد (میوزیکل چیئر)، دیپک کنول (ہم تیرے ہو گئے)، اقبال مجید (تماشا گھر)، ذکی مشہدی (صدائے باز گشت )، ایم مبین (نئی صدی کا آغاز )، نور شاہ (بے ثمر سچ )، زاہد مختار (جہنم کا تیسرا کنارہ )، بیگ احساس (حنظلہ )،  پرویز شر یار (بڑے شہر کا خواب )، مسرور جہاں (پل صراط)،غضنفر(حیرت فروش )عابد سہیل (غلام گردش )،  نشاں زیدی (آنگن میں چاند)، تبسم فاطمہ (تاروں کی آخری منزل)، شبیر احمد (چوتھا فن کار)، رابعہ الربا(رات کی کہانی )، سلام بن رزاق (زندگی افسانہ نہیں)،  رشیدامجد (صحرا کہیں جسے)، نور الحسنین (فقط بیان تک )، مسرورتمنا (مہکتے خواب )، مسعود جامی (ہم تو دبے ہیں صنم )، افشاںملک (ا ضطراب)، دیپک بدکی (اب میں وہاں نہیں رہتا )،سلیم خان (لہو لہو منظر )، ناصر عباس نیر (خاک کی مہک)،سلمیٰ صنم(قطار میں کھڑے چہرے اور دیگر کہانیاں )، بشیر مالیرکو ٹلوی (فکریں )، شموئل احمد(کوچۂ قاتل کی طرف)، کہکشاں پروین (مور کے پاؤں)، عشرت ظہیر(خوابوںکا قیدی)، مشتاق احمد وانی (کیا حال ہے جاناں)،احمد حسنین (میری چاہت کی گلاب )،ارشد منیم (خون کا رنگ )، طارق شبنم (گمشدہ دور) وغیرہ ۔

تنقید ادب پارے کی شناخت اور پہچان قائم کرنے میں اہم کردار نبھاتی ہے۔کیونکہ جب تک ادب پارے میں فنی خوبیوں اور خامیوں کی نشاند ہی نہ کی جائے تب تک اس ادب پارے کی اہمیت کاا ندازہ لگا نا مشکل ہوتا ہے۔ہر تخلیق کا ر کے ذہن میں تخلیق سے متعلق بھی شعور کی کوئی سطح ضرور ہوتی ہے۔ اکیسویں صدی میں ادیبوں نے اردو افسانے پر تنقید ی کتابیں لکھیں ہیں یا بہترین مضامین لکھے ہیں جن میں انہوں نے اردو افسانے پر اپنے تنقیدی خیالات کا برمحل اظہار کیا ہے۔دورحاضر میں اردو فکشن تنقید پر جو کتابیں یا مضامین لکھے گئے ہیں ان کی فہرست درج ذیل میں پیش خدمت ہے۔کتابیں جیسے :  پروفیسر اسلم جمشید پوری (جدیدیت اور اُردو افسانہ ،ترقی پسند اُردو افسانہ اور چند اہم افسانہ نگار )، پروفیسر صغیر افراہیم  (اردو فکشن:تنقید اور تجزیہ )،ڈاکٹر احمد صغیر (اردو افسانے کا تنقیدی جائزہ 1980 کے بعد )،  ڈاکٹر ریاض توحیدی (معاصر اردو افسانہ :تفہیم و تجزیہ(جلد اول)، ڈاکٹر احمد صغیر (بہار میں اردو فکشن۔ ایک تنقیدی مطالعہ )، ڈاکٹر نوشاد منظر (افسانہ اور افسانہ نگار،( ترتیب)) ڈاکٹر شہناز رحمن (اردو فکشن تفہیم،تعبیراور تنقید)،ڈاکٹر نعیم انیس (اردو کی معروف خواتین افسانہ نگار اور ان کی خدمات، اکیسویں صدی میں اردو افسانہ (مرتب)،ارشاد سیانوی (نئی صدی میں اردو افسانہ )،محمد حمید شاہد(اردو افسانہ اور افسانے کی تنقید)وغیرہ۔

مضامین جیسے:  شہنازرحمن (احمد ندیم قاسمی کے افسانے میں عورت )، رضوان بن علائ الدین (احمد ندیم کے افسانوں میں دیہات)، پروفیسر اسلم جمشید پوری (2017کا فکشن اور فکشن تنقید :  ایک جائزہ)، مسعود جامی (اردو افسانے کے رجحانات)، پروفیسر صغیر افراہیم (جدید  اردو افسانے کے امتیازات )، محمد حمید شاہد(فکشن کی تفہیم میں تنقید کا کردار(کراچی )، شہناز رحمن (اردو فکشن میں عالمی مسائل)،  سلمان بلرام پوری (معاصر اردو فکشن کا منظر نامہ )،گوپی چند نارنگ (نیا افسانہ  : روایت و انحراف اور مقلدین کے لیے لمحۂ فکریہ )، ڈاکٹر نوشاد منظر (انتظار حسین اور افسانے کی تنقید )۔

اس ٹکنالوجی کے دور میں اردو فکشن تنقید نے بھی ترقی کی اور زور و شورسے ادیبوں نے فکشن تنقید کی رفتار میں اضافہ کیا۔ناول نگاروں اور افسانہ نگاروں پر کتابیں، مضامین کے مجموعے،ناولوں اور افسانوں کے انتخاب، ناولوں پر تجزئیے،افسانوی تذکرے،ناولوں کے تقابلی مطالعے، افسانوں کے تقابلی مطالعے وغیرہ مختلف نوعیت کی فکشن تنقید منظر عام پر آرہی ہے۔اکیسویں صدی کی آمدسے پہلے فکشن تنقید لکھنے والوں میں پروفیسر قمر رئیس، پروفیسر وہاب اشرفی، پروفیسرگوپی چند نارنگ،پروفیسر شمس الرحمن فاروقی،وارث علوی اور انور سدید وغیرہ قابل  قدر ہیں۔ان کے بعد جن ادیبوں نے فکشن تنقید کی روایت کو آگے بڑھایا ان میں ابوالکلام قاسمی، شمس الحق عثمانی، ارتضیٰ کریم،عظیم الشان صدیقی،علی احمد فاطمی،صغیر افراہیم،  قمر الہدیٰ فریدی،مبین مرزا، اعجاز علی ارشد،ظہور الدین، قدوس جاوید،سلیم آغا قزلباش،اسلم آزاد،خالد علوی،صبا اکرام اورخالد اشر ف وغیرہ۔ ان کے علاوہ دورحاضر میں فکشن تنقید لکھنے والوں کے ایک گروہ نے اس کے مقام کو بام عروج تک پہنچایا، جن میں خاص کر درج ذیل نام قابل ذکر ہیں :  مشرف عالم ذوقی،ترنم ریاض،نگار عظیم، حقانی القاسمی، ہمایوں اشرف، اسلم جمشید پوری، احمد صغیر، شہاب ظفر اعظمی، مولا بخش،خورشید حیات، راشد انور راشد،  فوزیہ اسلم،نعیم انیس،محمد اسلم پرویز،نجمہ رحمانی، صاحب علی، کہکشاں پروین، ریاض توحیدی، عشرت ناہید، اسما نینی، فرقان سنبھلی،الطاف انجم،مشتاق احمد وانی، ابو بکر عباد، بشیر مالیر کو ٹلوی،نشا ں زیدی، تحسین گیلانی، سلمان عبدالصمد، رابعہ الربا،ضیا اللہ نور،غضنفر اقبال،محمد نسیم جان، غالب نشتر،احمد طاریق،تسلیم فاطمہ امروہوی، ارشد اقبال، شہناز رحمن، جاوید انور،منصور خوشتر،ارشاد سیانوی، صالح رشید، مہنازعبید،رضوانہ پروین،محمد حمید شاہد،رضوان بن علا الدین، ڈاکٹر نوشاد منظر،سلمان بلرام پوری وغیرہ۔

  مجموعی طور پر اگر اردو فکشن پر بات کی جائے گی تودو رحاضر میں جس طرح فکشن لکھنے والوں کا گروہ سامنے آیا ہے اسی طرح فکشن تنقید لکھنے والوں کی بڑی تعداد بھی ابھر کر منظر عام پر آئی۔ فکشن تنقید لکھتے ہوئے ادیبوں نے ناولوں میں بیان کیے گئے مسائل اور مو ضوعات پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ان ادیبوں نے موضوعات کے علاوہ ناول کی فنی جزئیات پر بھی اپنے تنقیدی نگارشات پیش کیے ہیں۔ جیسے پلاٹ، کردارنگاری، مکالمہ نگاری، منظر نگاری،نقطۂ نظراور زبان و بیان پر بھی الگ الگ تجزیہ کرکے ہر جز میں وضاحت کے ساتھ خوبیوں اور خامیوں کو اُجاگر کیا ہے۔

دور حاضر میں اردو افسانے پر جو تنقید لکھی جارہی ہے وہ دراصل تنقید کم تجزیہ زیادہ نظر آتی ہے۔ کیونکہ شخصیت پرستی ادب کی طرف مائل ہوتی جارہی ہے۔ پھر بھی ایسے بہترین نقاد موجود ہیں جو حق کی بات کرتے ہیں اور بڑے بے باک انداز میں ادب پارے کی خامیوں اور خوبیوں کو پرکھ کر اس پر اپنی تنقیدی رائے پیش کرتے ہیں۔


Nazir Ahmad Ganai

S/O: Gh Hassan Ganai

R/O: Frisal Kulgam - 192232 (J&K)

Mob.: 7889779687





تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...