16/11/21

سلطان حیدر جوش علیگ کا افسانہ ’اتفاقات زمانہ‘ - مضمون نگار: شہزاد بخت

 




سلطان حیدر جوش علیگ صاحب  (ولادت: 1886، وفات: 1946) کا شمار افسانوی تاریخ میں ہراول دستے کے سپاہیوں میں ہوتا ہے۔ آپ نے اردو ادب میں اپنی معتددتصنیفات مختلف اصنا ف سخن کے حوالے سے گرانقدر اضافے کیے ہیں جن میں  ہوائی، صبر کی دیوی، نواب فرید اور ابن مسلم، نقش و نقاش( ناول )،فسانہ جوش (مضامین و افسانے )، اصلاح سخن،  ہیری  وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ افسانوں میں  مسٹر ابلیس، ہاں! نہیں، خواب و خیال، نقیب، جذب دل کی دو تصویریںاور اتفاقات زمانہ  وغیرہ ہیں۔  آپ کے دورکو رومانوی افسانوں کے دور سے تعبیر کیا جاسکتا ہے اور آپ منشی پریم چند کے معاصرین میں شمار کیے جاتے ہیں۔

موصوف کے قلم سے نکلا ہوا ایک افسانہ ’ اتفاقات زمانہ ‘ ( مطبوعہ ’الناظر‘ ماہ جون 1914، (’فسانۂ جوش ‘ مطبوعہ دارلناظر پریس لکھنؤ 1926،ص 89 تا 103) کا تجزیہ پیش ہے جو تقریباً ایک صدی قبل شائع ہوا بعد ازاں اسے فسانۂ جوش میں شامل کیا گیا ہے۔ اس رومانوی دور کے افسانے میں محبت واختیارات ان کے بدلتے محور ، خواتین کی نفسیات، نسوانیت کی باہم حرص و حسد، نسائی جذبات، احساسات اور توقعات کی بہترین عکاسی قابل دید اور مصنف کے گہرے مشاہدے اور حافظے کی آئینہ دار ہیں۔ یہ افسانہ تکنیک کے اعتبار سے مکمل بیانیہ اور واحد متکلم کی زبانی انداز تحریر پر مبنی ہے۔ اس دور کے افسانوں کا یہی طریق خاص تھا۔ بعدازاں اہل مغرب کی تقلید میں مکالمے اور ان کے بین السطور کے حوالے سے نظریے کی ترسیل کے ذرائع کے طورطریقے اپنائے گئے۔ مگر یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ مذکورہ افسانے کی اولین اشاعت 1914  ہے جب تک رومانوی تحریک کا ہی زور قائم تھا اور ترقی پسند تحریک اور جدیدیت کی تخم ریزی اور کونپل آوری سب بعد کے قصے ہیں۔

افسانے کا محور/ نقطۂ نظر

مذکورہ افسانے میں عام روایت سے انحراف اور مزاج میں بغاوت کے اثرات ہیں جو مصنف سلطان حیدر جوش کی شخصیت و افکار کا خاصہ تھے۔ وہ بنیادی طور پر انقلابی سوچ اورآزادانہ طرز فکر کے دلدادہ تھے۔ ان کے خیالات کا عکس صاف طور پر ان کی تخلیقات میں بھی جابجانظر آتا ہے۔ ان کے افسانے ’اتفاقات زمانہ ‘ میں ایک ایسی مشہور و معروف دکان ’عزیز اینڈ اسماعیل جنرل اسٹورس‘ کا ذکر ہے جس سے بمبئی کا بچہ بچہ واقف ہے اس کا مالک اپنی دکان میں عموماً بجائے مرد ملاز مین رکھنے کے اہل مغرب کی تقلید میں خواتین ملاز مین کو مامور کرتا تھا۔ اس دکان پر عموماً زنانہ ساز و سامان آرائش و زیبائش فروخت ہوتے تھے۔ اس دکان کے داخلی امور میںجہاں رضیہ جو مرکزی کردار کی مد مخالف ہے وہ تو نقدکی وصولی پر مامور تھی۔ ادھر افسانے کامرکزی کردار حمیدہ لیس ، بیل اور فیتے وغیرہ فروختگی کی نگراںتھی۔ دکان میں غالب سرمائے کے مالک عبدالعزیز کی سفارش کردہ حمیدہ ہے اور کمزرور شریک  اسمعیل سیٹھ کی عزیزہ اور سفارش کار رضیہ ہے۔ ان دونوں میں حمیدہ کو رضیہ سے وہ ازلی نسائی رشک و حسد پیدا ہوگئی تھی جو عمومی طور خواتین میں باہمی طور پرپائی جاتی ہے۔ جسے سلطان حیدر جوش کے الفاظ میں ملاحظہ کیجیے۔

’’ عبدالعزیز کی زندگی میں کئی بار ایسا ہوا کہ حمیدہ نے رضیہ کے لباس پر اس کی طرز رفتار و گفتار پر نکتہ چینی کی۔ ایک مرتبہ اگر حافظہ غلطی نہیں کرتا تو یہاں تک ہوا کہ حمیدہ نے رضیہ کی ریشمی ساڑھی کے باندھنے کے طریقے  پر اس کے سامنے دوبدو نقص نکالا۔ لیکن اب جبکہ عبدالعزیز کی آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند ہوگئی تھیں تو وہ اپنے آپ کو کمزور اور بے یار و مددگار پا تی تھی۔ سچ یہ ہے کہ رقابت اور رشک و حسد کا جذبہ مجھے اس سے بحث نہیں کہ اچھا ہے یا برا ، صنف نازک میں بہت جلد مشتعل ہوجاتا ہے۔ میں پورے طور پر نہیں کہہ سکتا کہ ایک نوجوان عورت میں دوسری نوجوان عورت سے کن کن باتوں میں رشک یا حسد پیدا ہوتا ہے۔ مگر اس میں شک نہیں کہ اس طبقے میں رشک و رقابت کے شعلہ زن ہونے کے ہزاروں بلکہ لاتعداد طریقے ہیں۔حسن و محبت کے چولہے میں ڈالیے، زیور،  لباس، تمول،  طرز گفتار اور خدا جانے کیا کیا چیزیں ہیں جن پر فوراً شعلے کی طرح جذبۂ رقابت و حسد بھڑک اٹھتا ہے۔ ‘‘

 ( مطبوعہ ’الناظر ماہ جون 1914، /(’فسانۂ جوش ‘ مطبوعہ دارلناظر پریس لکھنؤ 1926، ص 90)

پلاٹ

افسانے کا پلاٹ سادہ اور منظر نامے کا بیشتر حصہ ایک مشہور و معروف دکان کے داخلی معاملات پر منحصر ہے۔  افسانے کی ابتدا عبدالعزیز کی موت کے بعد حمیدہ کی ذہنی کیفیت،  عدم تحفظ اور نسوانی حسد و رقابت، بغض و عناد اور رشک اور حرص جیسے جذبات کے اظہار سے ہوتی ہے۔ ان دونوں میں حسد و رقابت کا سبب سوئے اتفاق روایتی طورپر کسی مرد ذات کے سبب نہیں بلکہ ان شرکائے تجارت افراد کی مالی شمولیت کی شراکت کے تناسب پر ہوتی ہے۔ حمیدہ کی ملازمت عبدالعزیز کی مرہون منت تھی اس کے برعکس رضیہ کی ملازمت اور خون کی رشتے کی نسبت اسمعیل سے تھی جس میں غالب حصہ عبدالعزیز کا تھا اور اسمعیل کا حصہ نسبتاً کم تھا۔ مگر جہاں تک ان کے کام کی نسبت ہے حمیدہ کو خواتین کی  اشیائے زیبائش اور آرائش کی فروختگی کی نگراں  کے طور پر مقرر کیا گیا تھا اور رضیہ نقدی کی وصولی پر مامور تھی  اور حمیدہ کے سارے حسد و رقابت کی جڑ یہیں پیوست تھی۔ ایک گاہک کے آنے پر دونوں میں معمولی بات پرتنازعہ ہوجاتا ہے جس پر اسمٰعیل حمیدہ کی سرزنش کرتا ہے مگر اچانک مقیط کے منظر نامے میں بطورعبدالعزیز کے بھتیجے اور اکلوتے وارث کے داخلے سے افسانے کی فضا تبدیل ہوجاتی ہے۔ مقیط نہ صرف کاروبار کی ترقی میں دلچسپی لیتا ہے بلکہ  خواتین پر مشتمل عملے میں بھی یکساں دلچسپی رکھتا ہے، بارش کے دنوں میں اپنے ہی عملے کی خاتون سارہ سے اتفاقی تصادم سے رومان پرور ماحول تیار ہو جاتا ہے۔ مقیط کے تیار کردہ منصوبے کے مطابق حمیدہ سارہ کو نہ صرف ہوٹل میں طعام کی دعوت دیتی ہے جہاں مقیط سے ملاقات پھر گاڑی میں سوار ہو کر سنیما بینی اور گھر تک پہنچانے میں جو اتفاقات کا سلسلہ سامنے آتا ہے اور یہی ا تفاقات کا سلسلہ ا فسانے کے عنوان اتفاقات زمانہ کا موجب بنا۔

رومان پرور منظر نگاری

’’ ایک روز آفتاب ابر غیظ کا اسیر ہوگیا تھاہوا ٹھنڈی چل رہی تھی اور بارش ہلکی ہلکی پھوار کی صورت میں برابر جاری تھی اور ایسا سماں تھا جس سے نوخیز طبیعت میں خوامخواہ رہ رہ کر گدگدی خود بخود محسوس ہونے لگے۔ ایسی بوندا باندی میں خریداروں کا ہر روز کے موافق آنا تو بس معدوم، اس لیے دکان کے متعلقین تقریباً بیکاری میں وقت گزارہے تھے۔ مقیط آفس سے نکل کر ہال میں آیا۔ وہاں سے ٹہلتا ہوادروازے تک پہنچا وہ بھی اس وقت ایک سگار سلگائے ایک ہاتھ پتلون کی جیب میں ڈالے ہال سے دروازے تک اور دروازے سے ہال تک برابر ٹہل رہا تھا۔ کبھی کبھی حمیدہ کی میز کے پاس ٹھہر کر دو ایک باتیں کر لیتا تھا۔ ورنہ زیادہ تر سگار کے راکھ بنانے میں دھواں دھار کوشش کررہا تھا۔ اس وقت اس کی طبیعت پر بھی بھیگی ہوئی ہوا کا پورا پورا اثر تھا۔ وہ کچھ کہتا بھی تو مذاق آمیز لہجے اور تبسم نما دہانے کے ساتھ کہتا نہ صرف حمیدہ سے بلکہ کئی ایک سے اس نے خطاب کیااور جن الفاظ میں بلکہ جن تیوروں کے ساتھ اس کو جواب ملا وہ افسوس ہے کہ میری کم علمی کی وجہ ہے تحریر کے محدود دائرے میں نہیں آسکتا۔ ‘‘

 ( مطبوعہ ’الناظر ماہ جون 1941، (’فسانۂ جوش ‘ مطبوعہ دارلناظر پریس لکھنؤ،1926،ص102)

کردار نگاری

افسانہ ’اتفاقا ت زمانہ ‘میں حمیدہ اوررضیہ کے کردار کے حوالے سے نسوانی جذبات کی عکاسی اس قدر فنکاری سے کی گئی ہے کہ فی زمانہ بھی اس کی تازہ مثال ہمارے اپنے گردو نواح میں کہیں بھی عام مشاہدے کی بات ہے۔ دکان کی دیگر خادمائیں جوں جوں طاقت یا اختیار کا محور تبدیل ہوتے دیکھتی ہیں وہ بھی اسی روش پر چل پڑتی ہیں۔ جس سے انسانی نفسیات میں موجود عدم تحفظ، خود غرضی اور مطلب پرستی جیسے جذبات ابھر کر سامنے آتے ہیں۔ مرحوم عبدالعزیز کے بھتیجے مقیط کا تعلیم کو درمیان میں خیر باد کہہ کر اپنے کاروبار میں شامل ہونا انسان کے حریص اور علم کی بجائے دولت یا اختیار کا طلبگار ہونے کا ترجمان ہے۔  اسمعیل کا حمیدہ پرمعمولی تنازعے کے ضمن میں یوں سب کے سامنے سرزنش کرنا اور ر ضیہ کی بلا واسطہ حمایت گویا اقربا پروری اور انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ سارہ کی معصومیت، کم عمری اور فطری انصاف پسندی اسے سارے عملے میں بھی ممتاز اور الگ رکھتی ہے جو حمیدہ کی حمایتی اور طرفدار ہوتی ہے۔ مگر قسمت جس پر مہربان ہو تو وہ شخص سکۂ رائج الوقت بن کر چمکتا ہے اور دیگر افراد اسے فرط رشک و حیرت و استعجاب سے دیکھتے ہیں۔ حمیدہ کی خود غرضی  یہ ہے کہ وہ پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت نہ صرف مقیط کے منصوبے کو عملی جامہ پہناتی ہے بلکہ ان کے ساتھ سیر سپاٹے ، فلم بینی اور طعام کا بھی لطف اٹھاتی ہے اور ان دونوں کی ملاقات میں ثالث کا کردار بھی ادا کرتی ہے۔تاہم مقیط سے شادی کے بعد وہ سارہ کی ثالثی سے ہی رضیہ سے اپنے اختلافات، منافقت، حسد و رقابت، رشک کو نہ صرف ختم کردیتی ہے بلکہ ان تینوں میں اتحاد و اتفاق بھی قائم ہوتا ہے۔ مصنف کے الفاظ میں ملاحظہ کیجیے۔

’’ اس کے پورے دو مہینے بعد رضیہ اورحمیدہ کے نفاق کا خاتمہ ہوااور وہ بھی محض اتفاق سے ایسے نہ مسز مقیط جن کو دو مہینے پیشتر صرف سارہ کہا جاتا تھا بیچ میں پڑتیں اور نہ اس جنگِ رقابت کا خاتمہ ہوتا۔ کہا جاتا ہے کہ اس وقت سے حمیدہ ، رضیہ ، سارہ میں ایسا اتحا د قائم ہوگیا ہے جو یورپ کے اتحاد ثلاثہ سے کہیں زیادہ مستحکم اور سچائی پر مبنی ہے۔ ‘‘

 ( مطبوعہ ’الناظر ماہ جون 1914، (’فسانۂ جوش ‘ مطبوعہ دارلناظر پریس لکھنؤ 1026، ص 103)

افسانے میںرومانیت کا عنصر

افسانے میں رومانوی تحریک کے حوالے سے رومانی عناصر جابجا فراوانی سے نظر آتے ہیں۔ ان میں خوبصورت تشبیہات و استعارات اور بلیغ تلمیحات سے افسانے کو مزین کیا گیا ہے۔ خوبصورت منظر نگاری کے طفیل گو افسانہ اپنی ابتدائی کیفیات میںبھی دلکش اور دلچسپ معلوم ہوتا ہے اور کردار نگاری کے حوالے سے انسانی فطرت کی مرقع کشی کا مظہر ہے۔

’’یہ وقت اور یہ کیفیت تھی جبکہ دروازے کے قریب کسی کے بے تحاشہ بھاگتے ہوئے سیڑھیوں پر چڑھنے کی آواز آئی۔ مقیط ٹہل تو رہا ہی تھا۔قدم بڑھاتا ہوادروازہ میں تھاکہ رکتے رکتے بھی بھاگ کر آنے والے سے ٹکرا گیا۔ اب ایک عجیب قوت مدافعانہ کے ساتھ دونوں ایک دوسرے سے الگ ہوگئے مگر نظریں مل گئیں۔ آنکھیں لڑ گئیں مقیط ایک ناقابل بیان حیرت کے ساتھ جس میں حیرت کے ساتھ ہی ایک جذبہ بھی جھلک ماررہا تھا۔ سامنے والی تصویر ِ انسانی کو دیکھ رہا تھااور سارہ کیونکہ یہ آنے والی وہی تھی۔ خدا جانے کس خیال سے اپنی لڑجانے والی نگاہوں کو پلکوں کی زنجیروں میں باندھ کر زمین پر گرا دینا چاہتی تھی۔ اس کے بال کھلے ہوئے تھے ریشمی ساڑھی کا آنچل ڈھلک کر… شانوں کی روک تھام سے گرنے سے بال بال بچ گیا تھا۔ بے تحاشہ دوڑنے کی وجہ سے غیر معمولی سرخی چہرے پر دوڑ گئی تھی۔ چھتری جو ایک ہاتھ میں تھی سیدھے کاندھے پر گرگئی تھی اور وہ کیفیت جو اس وقت یکایک مقیط سے ٹکرا جانے سے پیدا ہوئی تھی وہ سونے پر سہاگہ کاکام کررہی تھی۔ میں یہ نہیں کہ سکتا کہ کیوپڈ کا تیر کون سی ادا کی صورت میں ترازو ہوا۔لیکن ضرور ہوا۔ ‘‘

 ( مطبوعہ ’الناظر ماہ جون 1914/  (’فسانۂ جوش ‘‘ مطبوعہ دارلناظر پریس لکھنؤ1926،  ص 100)

رومانیت کا مظاہرہ ایک اور مقام پر قابل دید ہے جب تینوں کردار طعام اور بائیسکوپ سے فارغ ہوتے ہیں تو مقیط پہلے حمیدہ کو اس کے گھر  چھوڑ کر وہاں سے پیادہ پا سارہ کے ہمراہ اس کے گھر کی طرف چل پڑتا ہے جو ایک پارک اور چند مکان کے فاصلے پر واقع تھا۔ اس دوران ان میں کیا قول و قرار ہوا مصنف کی زبانی ملاحظہ فرمائیں۔

’’تماشہ ختم ہوتے ہی اسی گاڑی میں مقیط نے پہلے حمیدہ کو اس کے گھر تک پہنچایا اور وہاں سے گاڑی چھوڑ کر پیادہ پا سارہ کو پہنچانے اس کے گھر چلاکیونکہ سارہ اور حمیدہ کے مکان میں صرف دو تین مکان اور ایک چھوٹا سا پارک حائل تھا سارہ نے مقیط کو اس تکلف سے باز رکھنے کے لیے بہت کچھ کہا مگر مقیط کو خدا جانے اس تکلف میں کیا لطف تھا وہ نہ مانا۔ راستے میں جو معمولی باتیں خاص جذبہ لیے ہوئے لہجے بن ہوتی رہیں ان کا بیان کرنا قریب قریب فضول ہے۔ پارک میں نارنگی کے درخت کے نیچے ٹھہر کر جو باتیں ہوئیں ان کا پتہ نہ یہاں ہے نہ وہاں ہے تمام راوی اور کل مؤرخ اس گفتگو کی نسبت اپنی معلومات کی شعاع ڈالنے سے قاصر ہیں البتہ ایک سودائی شخص کی زبانی اس قدر معلوم ہوسکا ہے کہ گفتگو کسی لحاظ سے بھی عجوبہ یا نرالی نہیں تھی۔ آج سے ہزار پیشتر ایک جوان گڈریہ بانسی بجانے والے گڈریے نے ایک نو عمر لڑکی کے درمیان جو اپنے گھوڑوں کو پانی پلانے آئی تھی دریائے فرات کے کنارے پر قریب قریب یہ ہی واقعہ پیش آیا تھاالفاظ اور زبان میں چاہے فرق ہو لیکن جذبات فرات کے کنارے بانسی بجانے والے گڈریے کے تھے۔‘‘

 ( مطبوعہ ’الناظر‘ ماہ جون 1914/ (’فسانۂ جوش ‘ مطبوعہ دارلناظر پریس لکھنؤ 1926، ص103)

 افسانے میں طنز کا عنصر

سلطان حیدر جوش کے ہاں افسانوں میں گہری طنز نگاری کا زبردست اسلوب پایا جاتا ہے بلکہ یہی موصوف کی شناخت ہے۔ ہر چند کہ درج ذیل اقتباس افسانے میں فلسفیانہ ثقالت اوربوجھل پن کا سبب تسلیم کیے گئے ہیں جو کہانی کے فطری بہاؤ اور وحدت تاثر میں رخنہ اندازی کی وجہ بنتے ہیں۔ تاہم یہ مصنف کے اس دورکے حالات کی منظر کشی وقیع مشاہدات، محسوسات اور تجربات پر مبنی ہیں جوسرمایہ دارانہ نظام کی اساس، طبقہ واری فرق اور استحصال کی ذہنیت پر گہرے طنز کے حوالے سے مصنف نے اس دور کی سرمایہ دارانہ طرز فکر پر کاری چوٹ کی ہے۔ جہاں انھوں نے انسانی مزاج کی خود غرضی، چڑھتے سورج کو سلام کرنے کے رجحانات ، طاقت کے بدلتے محور اور سائنس کی اندھی تقلید تمام اہداف کو اختصار کے ساتھ ایک ہی تیر سے ترازو کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ موصوف کے الفاظ میں اقتباس پیش ہے۔

’’ دنیا فانی اور ناکارہ ہو یا نہ ہو۔ لیکن ظاہر پرست اور مطلب پرست ضرور ہے۔ جس قدر دقیانوسی استقلال اور جہالت آمیز جوش گھٹتا جاتا ہے اسی قدر مطلب پرستی اور طاقت پرستی بڑھتی جاتی ہے۔ موجودہ مہذب تعلیم یافتہ دنیا سائنس کو اپنا مذہب سمجھتی ہے اور سائنس یہ صاف طور پر بتاتی ہے کہ دو طاقتیں جب ایک دوسرے سے ٹکرائیں گی تو زبردست یقیناً کمزور کو پسپا کردے گی۔ اب کوئی وجہ نہیںکہ مہذب دنیا ہمیشہ طاقتور کا ساتھ نہ دے۔ کیونکہ کمزور کی حمایت لینا نہایت غیر فطری اور اصولِ سائنس کے خلاف ہے۔ کمزور ہستی کو جس قدر جلد دنیا سے خارج کردیا جائے اسی قدر اچھا ہے۔ کیونکہ یہ مانا جاتا ہے کہ کمزور کا وجود مستقبل کے لیے ضرر رساں ہے۔وہ جب تک زندہ ہے کمزوری کی وبا پھیلاتا رہے گا اور کمزوری کا بیج بوتا رہے گا۔ اس کی نسل اس سے بھی زیادہ کمزور ہوگی۔ اس لیے نہایت محفوظ اور موجودہ طریقہ یہ ہے کہ کمزور ناچار کا بیج ہی دنیا سے اڑا دیا جائے۔ ‘‘

 ( مطبوعہ ’الناظر‘ ماہ جون 1914/ (’فسانۂ جوش ‘ مطبوعہ دارلناظر پریس لکھنؤ 1926، ص94)

مکالمہ

ترقی پسند تحریک اور جدیدیت کی ہر دو تحریکات کے زمانے میں افسانوں کے اجزائے ترکیبی میں مکالمہ بھی ایک اہم اور لازمی جزو ہے مگر ایک صدی قبل جب افسانہ نگاری کی ابتدا ہوئی تب  افسانہ تکنیک کے اعتبار سے واحد متکلم کے انداز بیاں پر مبنی ہوتا ہے۔ لہٰذا افسانے کی ابتدائی ہیئتوں میں بیانیہ اور خصوصاً واحد متکلم کی تکنیک ہی رائج تھی جس میں منظرنگاری ، انشا پردازی اور مصنف کے عندیے و نظریے نیز مافی الضمیر کی ترسیل خود ہی کرنی پڑتی تھی۔ جبکہ بعد کے ادوار میں مصنف کے عندیے اور مافی الضمیر کی ترسیل کا بوجھ کرداروں کے شانوں پر آن پڑا جو بڑے طویل عرصے پر محیط بہت تجربات ، مغربی انداز بیاں کی تقلید اور بہت مشقوں اور تنقیدوں کے بعد نکھر کر سامنے آیا ہے۔

زبان و بیان

سلطان حیدر کی زبان و بیان میں پرانی ٹکسالی ، با محاورہ ، تشبیہات ، استعارات ، تلمیحا ت سے آراستہ اور ماضی کے دلچسپ حوالوں سے مزین ہے اور افسانے کے بہاؤ کو قاری کی ذہنی رو سے ہم آہنگی رکھتی ہے۔ ان اوصاف کے بجز ان کی زبان میں متروک، گنجلک اور پیچیدہ الفاظ مفقود ہیں۔ حسن بیان کے ساتھ تاثر کا پہلو ہاتھ سے جانے نہیں پاتا اور قاری کو ساتھ لیے ہوئے افسانہ اختتام کو پہنچتا ہے۔

نقطۂ عروج

فی زمانہ رائج نقطۂ عروج اس افسانے میں دھیما ہے دور حاضر کی طرح اس قدر چونکانے والاتو نہیںہے مگر مجموعی تاثر اور اس زمانے کی اقدار، سوچ و فکر اور حالات کی تصویر کشی موصوف نے بڑی عمدگی و مہارت سے کی ہے۔

 

Shahzad Bakht Ansari

Pen Name:Shab Ansari

238, New  Ward, Mamletdar Lane

Malegaon- 423203

Dist. Nashik (Maharashtra)

 

 



15/11/21

دکن کی مایہ ناز محقق ڈاکٹر ثمینہ شوکت - مضمون نگار : ڈاکٹر رؤف خیر

 



 تاریخ شاہد ہے کہ کئی شخصیتیں پسِ پردہ رہ کر کارنامے انجام دیتی رہی ہیں۔نظام سادس میر محبوب علی خان نہایت کم سنی میں تخت پر بٹھائے گئے تھے اور امور سلطنت سالار جنگ اول بہ حیثیت مختارالملک انجام دیا کرتے تھے۔ نظام سادس کے ہوش سنبھالنے کے باوجود ان کی رہنمائی سالار جنگ ہی فرمایا کرتے تھے کہ وہ ایک تجربہ کار سیاسی مدبر تھے۔ اس طرح کی بے شمار مثالیں تاریخ میں ملتی ہیں۔

چند و لعل بھی ایسی ہی ایک سیاّس شخصیت کا نام ہے۔ ان کے بارے میں جاننے کے لیے انہی کی خود نوشت سوانح ’’عشرت کدئہ آفاق‘‘ کا ر آمد ثابت ہوتی ہے۔ فارسی سے جس کا اردو ترجمہ ’’فرحت کدئہ آفاق‘‘ کے نام سے راجا راجیشور رائو نے کیا۔ یہ دونوں کتابیں حیدرآباد ہی میں شائع ہوئیں۔ ڈاکٹر ثمینہ شوکت نے ’’عشرت کدئہ آفاق‘‘ کا سنہ اشاعت 1234ھ متعین کیا ہے۔ اس کے علاوہ چند و لعل کی زندگی پر روشنی ڈالنے والی کچھ اہم تاریخیں بھی ہیں جن کو کھنگال کر ڈاکٹر ثمینہ شوکت نے حقائق برآمد کیے ہیں جیسے :

1۔منشی فیض اللہ کی نایاب تاریخ ’’خزانہ  گوہر شاہوار‘‘ مخطوطہ ۔ مخزونہ کتب خانۂ آصفیہ 1246ھ 1830 حیدرآباد۔

2۔غلام حسین خان جوہر کی ’’گلزارِ آصفیہ ‘‘(1260ھ)

3۔منشی قادر خان بیدری کی تاریخ آصف جاہی۔ 1268ھ (جو 1266ھ میں مکمل ہو چکی تھی)

4۔غلام امام خان ترین کی تاریخ رشید الدین خائی۔ 1270ھ مطابق  1854

5۔مانک راؤ وٹھل راؤ کی ’’بستان ِ آصفیہ‘‘

6۔عبدالجبار خاں ملکا پوری کی ’’محبوب الزمن‘‘

7۔تذکرئہ شعراے دکن از سید مراد علی طالع

8۔میر منشی التفات حسین کی مرتبہ تاریخ نگار ستان ِ آصفی سنہ تصنیف 1231ھ مطابق 1815

9۔راجا مکھن لعل کی ’’تاریخ یاد گار مکھن لعل‘‘ 1242ھ جو چند و لعل کی زندگی میں لکھی گئی تھی۔

آئیے ’’چند و لعل شاداں‘‘پر دادِ تحقیق دینے والی معتبر و مستند وثقہ ہستی ڈاکٹر ثمینہ شوکت کے بارے میں پہلے جاننے کی کوشش کریں۔

پروفیسر ثمینہ شوکت 19جون 1936 کو گلبرگہ میں پیدا ہوئیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی میٹرک کی سند میں ان کا سالِ پیدائش 1934 درج ہے۔ ان کی ابتدائی تعلیم میٹرک تک گلبرگہ ہی میں ہوئی۔ انٹر میڈیٹ انھوں نے خانگی طور پر کامیاب کیا ۔1952میں بی ۔اے اور 1954 میں ایم۔اے (اردو) عثمانیہ یونیورسٹی سے کامیاب کیا۔ 1960میں عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد سے’’ مہاراجا چندو لعل حیات اور کارنامے ‘‘ کے موضوع پر پروفیسر عبد القادر سروری کے زیر نگرانی پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے مذکورہ مقالے کے ممتحن علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسر رشید احمد صدیقی تھے۔ اس کے زبانی امتحان (viva)کے لیے پروفیسر گیان چند جین حیدرآباد تشریف لائے تھے۔

ڈاکٹر ثمینہ شوکت کا پی ایچ ڈی کا مذکورہ مقالہ دو حصوں میں شائع ہوا۔ پہلا حصہ ’’مہاراجا چندو لعل شاداں اور حیدرآباد کا سیاسی و سماجی پس منظر‘‘ 1979 میں منظر عام پر آیا۔اس مقالے کا دوسرا حصہ ’’مہاراجا چند و لعل شاداں۔حیات اور کارنامے ‘‘1983 میں منظر ِ عام پر آیا۔ جس وقت ڈاکٹر ثمینہ شوکت حیدرآباد یونیورسٹی میں ریڈر ہوکر شعبہ اردو میں خدمات انجام دے رہی تھیں ،اتفاق سے اسی زمانے میں پروفیسر گیان چند جین کا بھی حیدرآباد یونیورسٹی میں پروفیسر کی حیثیت سے تقرر عمل میں آیا تھا۔ ڈاکٹر ثمینہ شوکت کے اس مقالے کے پیش لفظ مورخہ 11؍اپریل 1979 میں گیان چند جین نے بڑا علیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ انکشاف فرمایا:

’’انھوں نے (ثمینہ شوکت) نے ’’مثنوی لطف‘‘ترتیب دے کر شائع کی۔ میں اپنے ڈی لٹ کے مقالے ’’اردو مثنوی شمالی ہند میں ‘‘ کو (کذا) اشاعت کے لیے انجمنِ ترقی اردو کو دے چکا تھا۔ مسودہ واپس لے کر میں نے اس میں ’’مثنوی لطف ‘‘ کے تعارف کا اضافہ کیا۔ 1965 میں جب میں جموں اردو یونیورسٹی میں اردو کا پروفیسر مقرر ہواوہاں ایم ۔اے کے نصاب میں ڈاکٹر ثمینہ شوکت کا مرتبہ ’’شکار نامۂ گیسو دراز ‘‘شامل تھا۔

 برسوں اُسے پڑھانے کا اتفاق ہوا۔ حسن اتفاق ایسا ہوا کہ مارچ 1979 میں ،میں نئی مرکزی حیدرآباد یونیورسٹی میں اردو کا پروفیسر ہوکر آگیا۔ ڈاکٹر ثمینہ شوکت کا پہلے ہی یہاں تقرر ہو چکا تھا۔ اس طرح مجھے ان کے ساتھ کام کرنے کی مسرت حاصل ہوئی ۔‘‘  (پیش لفظ)

پی ایچ ڈی کی تکمیل سے پہلے ہی عثمانیہ یونیورسٹی کے ویمنس کالج (کوٹھی) میں ثمینہ شوکت صاحبہ کا تقرر بہ حیثیت اردو لکچرر 1958 میں ہو چکا تھا۔ 1969 میں وہ ریڈر بن کر عثمانیہ یونیورسٹی منتقل ہوگئیں اور پھر 1979 میں چھے زائد تدریجی اضافوں Incrementsکے ساتھ بطور ریڈر اردو حیدرآباد یونیورسٹی میں تقرر عمل میں آیا جہاں 1984ئ میں انھیں پروفیسر کے عہدے پر ترقی دی گئی اور وہ صدرِ شعبہ بن گئیں ۔1994 میں وہ وظیفہ حسنِ خدمت پر سبک دوش ہوئیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے افرادِ خاندان کے ساتھ رہنے کے لیے وہ ٹورنٹو کینیڈا منتقل ہوگئیں۔

18؍ فروری 1965 کو ثمینہ شوکت کی شادی جناب سکندر توفیق سے ہوئی جو گورنمنٹ پالی ٹکنک کالج میں انگریزی کے لکچرر تھے اور اردو کے شاعر تھے۔ سکندر توفیق ڈرامے بھی لکھا کرتے تھے ۔ ان کے ڈراموں کا مجموعہ ’’کیا گھر نگر کیا خانقاہ ‘‘ کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔

سکندر توفیق نے دکن کالج پونے سے صوتیات Phonetics میں ڈپلوما بھی کیا تھا۔ ’’اردو کی ترسیلی لسانیات‘‘ میں وہ اپنی شریکِ حیات ثمینہ شوکت کے شریک مصنف (co-writer)بھی رہے۔

سکندر توفیق خلاقانہ تجربے بھی کیا کرتے تھے چنانچہ انھوں نے سات مصرعوں کی نظم کی بنیاد ڈالی اور اس کا نام ’’سباعی‘‘ رکھا تھا۔ اس کے موجدو خاتم و ہی ثابت ہوئے۔ یہ اختر اعی’’ سباعی‘‘ ناکام تجربہ ثابت ہوئی۔

ڈاکٹر ثمینہ شوکت نے اپنے تحقیقی مقالے ’’ مہاراجا چندو لعل شاداں اور حیدرآباد کا سیاسی و سماجی پس منظر ‘‘ کا انتساب اس طرح کیا ہے۔

’’سکندر توفیق کے نام جو میرے رفیق ِ زندگی ہی نہیں رفیقِ قلب و ذہن بھی ہیں‘‘۔ ثمینہ شوکت جون 1979ڈاکٹر حبیب نثار کی اطلاع کے مطابق پروفیسر ثمینہ شوکت کا انتقال ٹورنٹو کینیڈا میں 2016 میں ہوا۔

ڈاکٹر ثمینہ شوکت کی تحقیق کا ایک شاہ کار ’’شکار نامہ ‘‘ ہے جو گلبرگہ کے حضرت خواجہ گیسو دراز کے اہم اردو رسالوں میں شامل ہے اور جو کئی مخطوطات کے متن کو سامنے رکھ کر 1962 میں مرتب کیا گیا تھا جس کے بارے میں گیان چند جین نے کہا کہ یہ جموں یونیورسٹی کے نصاب میں شامل ہونے کی وجہ سے وہ اسے اپنے طلبہ کو پڑھاتے رہے ہیں جب وہ جموں میں اردو کے استاد تھے۔

1959 ہی میں ڈاکٹر ثمینہ شوکت نے ممکنہ مآخذ کے حوالوں سے  مہ لقا بائی چندا کو اردو کی اولین صاحبِ دیوان شاعرہ ثابت کیا تھا۔ مہ لقا بائی ایک حسین طوائف تھیں اور چندو لعل کی بھی منظور ِ نظر تھیں۔ چند و لعل ان پر کافی مہربان تھے۔ دونوں کے مابین کافی بے تکلفی بھی تھی۔ درگا پر شاد نادِر نے ’’تذکرۃ النسائ ‘‘ میں ایک واقعہ درج کیا ہے جس سے ان دونوں کے ’’تعلقات‘‘ پر روشنی پڑتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

ایک روز راجہ (چندو لعل شاداں) صاحب نے صبح کے وقت اس (مہ لقا) کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا:

ہے چین کہاں جب سے مری آنکھ لڑی ہے

ملنے کی نجومی تو بتا کون گھڑی ہے

اس شوخ دیدہ و دہن دریدہ حاضر جواب نے فوراً یہ شعرفی البد یہہ موزوں کرکے سنایا:

پہلے ہی سے چِلّا کے مرے دل کو ستامت

اے مرغِ سحر چپ رہ ابھی رات بڑی ہے

اس سخن گسترانہ انداز سے اس طوائف کی بے باکی اور بے تکلفی ظاہر ہوتی ہے۔     

959 تک مہ لقا بائی چندا ہی کے سر اولین صاحب ِ دیوان شاعرہ ہونے کا سہرا باندھا جاتا رہا ہے۔ بعد کی تحقیق میں اسد علی خان تمناّ کی بیگم لطف النسا پہلی صاحب ِ دیوان شاعرہ قرار پائیں۔ لطف النسائ امتیاز نے اپنے دیوان کے آخر میں اس کے ترتیب پانے کی تاریخ بھی خود موزوں کی ہے۔

چوں از کنیز حضرتِ خاتون دریں زماں

اشعار ِ تازہ جمع تہہ دل شگفتہ شد

از روئے ’’یمن‘‘ سال ِ ہمایون ایں کتاب

’’دیوانِ امتیاز بخوانید‘‘ گفتہ شد

’’دیوانِ امتیاز بخوانید‘‘ کے اعداد 1203ہوتے ہیں ان میں روے یمن یعنی (ی) کے دس عدد جمع کرلیں تو 1213ھ تاریخ بر آمد ہوتی ہے۔ اس طرح امتیاز کا دیوان 1213ھ میں اور مہ لقا بائی چندا کا دیوان اس کے ایک سال بعد 1214ھ میں منظر عام پر آیا تھا۔

(ملاحظہ ہو عہد ارسطو جاہ ۔علمی ادبی خدمات از ڈاکٹر لئیق صلاح سنہ اشاعت جنوری 1986نیشنل فائن پر نٹنگ پریس چار کمان حیدرآباد)

1962 ہی میں ڈاکٹر ثمینہ شوکت نے ’’مثنوی لطف ‘‘ اور ’’حیات لطف ‘‘ دوکارنامے انجام دیے جن کی اہمیت کا اندازہ پروفیسر گیان چند جین کے اس اعلیٰ ظرفی کے مظاہرے سے ہوتا ہے کہ انھوں نے ڈاکٹر ثمینہ شوکت کی تحقیق ’’مثنوی لطف ‘‘ کو اپنے چھپنے والے ڈی لٹ کے مقالے ’’اردو مثنوی شمالی ہند میں‘‘ کا حصہ بنالیا ۔اسی زمانے میں ڈاکٹر ثمینہ شوکت کی تحقیقی کتاب ’’حیات لطف ‘‘ بھی آئی جس میں مرزا علی لطف کے کوائف اور ان کے فکرو فن کا جائزہ پیش کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر ثمینہ شوکت نے بڑی عرق ریزی سے تلاش کرکے لطف کی مثنوی اور مخطوطہ دیوان کے ساتھ ساتھ ممکنہ مآخذ سے لطف کا کلام اخذ کرکے لطف کے حیات اور کارناموں پر سیر حاصل مقدمے کے ساتھ کلیاتِ لطف بھی 1962 میں مرتب کیا۔ 1962 میں ڈاکٹر ثمینہ شوکت نے ’’دیوان ِ لطف ‘‘ بھی مدون کیا جس میں مرزا علی لطف کی غزلیات ،قصائد اور دیگر اصنافِ کلامِ لطف جمع کرکے کارنامہ انجام دیا۔

مرزا علی لطف کے فکروفن پر ڈاکٹر ثمینہ شوکت کی داد ِ تحقیق میں ان کے استاد پروفیسر عبدالقادر سروری کے بے پایاں لطف کا یقینا دخل ہے جس نے سدّ سکندری بھی پار کرلی تھی ۔چند وؔ سے چندا ؔتک یہ بے پایاں لطف بر قرار رہا ہے۔

مرزا علی لطف پر اتنا کچھ مواد حاصل ہونے کا نتیجہ یہ بھی نکلا کہ عثمانیہ یونیورسٹی سے مرزااکبر علی بیگ نے ’’مرزا علی لطف حیات اور کارنامے ‘‘ پر پی ایچ ڈی کرلی۔

مشاہیر نے ڈاکٹر ثمینہ شوکت کی مرزا علی لطف پر دادِ تحقیق کی کھل کر داد دی اس وقت کے نائب صدر جمہوریہ ڈاکٹر ذاکر حسین نے اپنے خط مورخہ 20؍ ستمبر 1962 میں فرمایا:

’’آپ کی بھیجی ہوئی کتاب ’’مثنوی لطف ‘‘ بہت پسند آئی اور آپ کی محنت کا اندازہ کرکے خوشی ہوئی۔امید ہے کہ ہر ایک پڑھنے والے کویہ کتاب پسند آئے گی۔ خدا آپ کو مبارک کرے۔ مخلص ذاکر حسین  پروفیسر سعید احمد اکبرآبادی ، ڈین شعبہئ دینیات مسلم یونیورسٹی علی گڑھ ایڈیٹر ’’برہان‘‘ دہلی نے یوں تبصرہ فرمایا:’’مرزا علی لطف کا دیوان اور ان کی مثنویاں گوشہئ گم نامی میں پڑی ہوئی تھیں اور ان کے حالات کا بھی کچھ ایسا علم نہیں تھا۔ محترمہ ثمینہ شوکت جنھوں نے لطف کے کلیات کو جس میں دیوان بھی ہے اور مثنوی بھی، بڑی محنت سے مرتب کرکے شائع کیا ہے۔ ‘‘

ڈاکٹر مسعود حسین خان۔ ایم ۔اے ،پی ایچ ڈی،ڈی لِٹ صدرشعبہئ اردو عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآبادفرماتے ہیں:

’’مثنوی لطف کے لیے ادارئہ تحقیقات کا بہت ممنون ہوں۔ ڈاکٹر ثمینہ شوکت نے ذاتی طور پر ’’لطف ‘‘ کیا ہے۔ انھیں تحقیقی کا م کرنے کا بہت سلیقہ ہے(بلکہ سگھڑپن) معلوم ہوتا ہے۔ حالات اور متن کی تدوین بڑے اچھے انداز میں کی گئی ہے ۔‘‘

پروفیسر ہارون خان شروانی ایم ایل سی۔ سابق صدر شعبہئ تاریخ و سیاست و(صدردہلی کالج دہلی) کی رائے بھی سند کا درجہ رکھتی ہے۔

’’لطف ؔ کے نام اور اس کی مثنوی سے بہت کم لوگ آشنا تھے۔ فاضل مو ـ لفہ نے حیدرآباد کے دو اور علی گڑھ اور رام پور کے ایک ایک نسخے کا تن دہی سے مطالعہ کیا ہے اور ساتھ ہی کم و بیش ایک سو صفحے کی تمہید کے ذریعے اردو پر یمیوں کو لطف ؔ اور ان کے زمانے کے ماحول سے دوچار کرنے کی کوشش کی ہے۔ ‘‘

پروفیسر اے سی شرما، صدر شعبہ اردو و فارسی جبل پور یونیورسٹی فرماتے ہیں:

’’مثنوی لطف ‘‘ موسوم بہ ’’نیرنگ ِ عشق‘‘ اردو ادب اور تاریخ میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ جدید اضافے نے دیرینہ ادبی و تاریخی کمی کو پورا کیا ہے یہ ادبی قوتِ تخلیق اور ناقدانہ نگاہ پر شاہد ہے۔ میری رائے میں اس مثنوی کا درس گاہوں کے نصاب میں شامل کرنا حق بجانب ہوگا۔ مجھے قوی امید ہے کہ اس مستند نسخے کو اربابِ ذوق و شوق ہاتھوں ہاتھ لیں گے۔‘‘

محترمہ ڈاکٹر ثمینہ شوکت صاحبہ نے ’’مہاراجا چندو لعل شاداں اور حیدرآباد کا سیاسی و سماجی پس منظر ‘‘ کے عنوان سے جو دادِ تحقیق دی ہے وہ بھی اپنی جگہ دستاویزی حیثیت کی حامل ہے۔چھ سو صفحات پر پھیلی ہوئی ان کی یہ معرکہ آرا کتاب 1979 میں اردو اکاڈمی آندھرا پردیش (موجودہ تلنگانہ اسٹیٹ اردو اکیڈمی) اور ایچ ای ایچ دی نظامس ٹرسٹ حیدرآباد کے رقمی تعاون سے منظر عام پر آئی۔ سید منظور محی الدین کی کتابت کی مرہون ِ منّت یہ کتاب نیشنل فائن پرنٹنگ پریس چار کمان حیدرآباد کے زیر اہتمام لیتھو پر شائع ہوئی ہے۔ کاغذ بہت معمولی ہے اور اس تحقیقی کتاب کے شایانِ شان نہیںہے۔چھ سو صفحے پر مشتمل اس اہم کتاب کی قیمت صرف پینسٹھ روپے پچاس پیسے ہے۔

چندو لعل شاداں کے تعلق سے اس کتاب کے پیش لفظ میں ڈاکٹر گیان چند جین نے بڑی بے باکی سے فرمایا:

’’مصنفہ سے خائف ہوئے بغیر میں یہ کہنے کی اجازت چاہوں گا کہ چندو لعل کوئی بڑے شاعرنہ تھے۔ ان کی بنیادی اہمیت ریاستی مدارالمہام کی ہے۔ ادب میں ہم انھیں شاعر سے زیادہ شاعروں کے مربی کی حیثیت سے پہچانتے ہیں۔‘‘

اس کتاب کے مطالعے کے بعد ہم پر روشن ہوا کہ چندو لعل ’’راجا‘‘ تو نہیں تھے مگربڑے سیاس اور بادشاہ گر تھے۔ چندو لعل شاداں آصف جاہی سلطنت میں اس قدر دخیل تھے کہ جسے چاہے سرفراز کرنے کے جتن کرسکتے تھے او رجسے چاہے معتوب و بے دخل کردیا کرتے تھے۔ انگریز ذمہ داروں تک بھی ان کی رسائی تھی۔ انگریز بھی ان کے ذریعے اپنا کام نکال لیا کرتے تھے۔ انھیں آلہئ کار بناتے تھے۔ چندو لعل اور انگریز امدادِ باہمی پر عمل پیرا تھے۔چند و لعل دولتِ آصفیہ میں بظاہر پیش کار تھے مگر دراصل defactoمدارالمہام کے فرائض بھی وہ انجام دیا کرتے تھے۔ ناصر الدولہ کو بھی سریر آراے سلطنت بنانے میں چندو لعل نے اہم حصہ (کردار)ادا کیا نتیجتاً ناصر الدولہ ان کے احسان مند تھے اور ان کی ہر اعتبار سے قدر کیا کرتے تھے۔

چندو لعل شاداں پر لکھتے ہوئے انہی کی خود نوشت ’’عشرت کدئہ آفاق‘‘ کو ڈاکٹر ثمینہ شوکت نے اصل مآخذ بنایا ہے۔ اس کے علاوہ اس دور کی دیگر تاریخوں کا حوالہ بھی دیا ہے۔ ’’عشرت کدئہ آفاق‘‘ چند و لعل نے فارسی میں لکھی تھی جس کا اردو ترجمہ راجا راجیشور رائو نے کیا تھا۔ عشرت کدئہ آفاق کی تصنیف 1234ھ میں ہوئی۔ چندو لعل نے خود اپنے تعارف میں کہا:

’’ان کا وطنِ مالوف معروف آباد ہے۔ وہ قوم سے کھتری کے فرقہ مہرہ سے تعلق رکھتے ہیں۔

ان کا سلسلہ اکبر بادشاہ کے نورتن راجا ٹوڈرمل سے ملتا ہے جو خود بھی کھتری قوم کے مہرہ شاخ سے وابستہ تھے۔۔۔۔‘‘

اس دور کی دیگر تاریخوں نے بھی اس پر صاد کیا۔ ظاہر ہے چندو لعل کے اثر و رسوخ کے سبب بے چون و چرن تاریخی نسب مان لینے میں ہی عافیت تھی۔

 میر محبوب علی بادشاہ نظامِ سادس کے ایماپر پیرانِ پیر کے خاندان کے ایک فرد سید عبدالرزاق کو حیدرآباد مدعو کیا گیا اور بادشاہ کے ساتھ ساتھ بیشتر در باری عبدالقادر جیلانی  ؒ کے سلسلے سے وابستہ ہوکر قادری ہوگئے تھے ۔تاریخی عمارت چار مینار میں پیرانِ پیر کا اولین چلہ قائم کیا گیا اور ہر سال گیارھویں کے موقع پر دفتر ِ امور مذہبی کے زیر اہتمام گیارہ دیگ بریانی چارمینار لاکر تقسیم کی جاتی تھی جسے غریب عوام اپنی بھوک مٹانے کے لیے اور خواص بہ طور تبرک حاصل کرتے تھے۔ (ملاحظہ ہو ’’حیدرآباد کی خانقاہیں‘‘ مطبوعہ 1994)

مآخذ:

1۔مہاراجا چند و لعل شاداں اور حیدرآباد کا سیاسی و سماجی پس منظر۔ڈاکٹر ثمینہ شوکت کا پی ایچ ڈی کا مقالہ ، نیشنل فائن پرنٹنگ پریس۔ چار کمان حیدرآباد۔ مطبوعہ1979

2۔ڈاکٹر ثمینہ شوکت حیات و خدمات ۔ڈاکٹر شفیق احمد کا پی ایچ ڈی کا مقالہ ۔جو کالج آف لنگویجس میں ڈاکٹر فاطمہ آصف کی زیر نگرانی لکھا گیا جس پر عثمانیہ یونیورسٹی نے شفیق احمد کو 2006میں Ph.Dکی ڈگری سے نوازا۔

3۔عہد ارسطو جاہ۔ علمی و ادبی خدمات ۔ڈاکٹر لئیق صلاح کا پی ایچ ڈی کا مقالہ ،نیشنل فائن پرنٹنگ پریس چار کمان حیدرآباد۔ مطبوعہ 1986

 

 

Dr. Raoof Khair

Moti Mahal Golconda Fort

Hyderabad-500008 (Telangana State)

cell : 9440945645

Email : raoofkhair@gmail.com





12/11/21

حیرت فرخ آبادی: ایک معتبر شاعر - مضمون نگار: نصیر افسر

 



جوہونہار طالب علم آٹھویں جماعت میں ہی شاعری کا آغاز کرے اور ایک نظم میں اپنے کلاس فیلو محمد آفاق کی دکھ بھری زندگی کی روداد لکھ دے وہ یقینا مستقبل میں ایک اچھا شاعر ہونے کا پتہ دیتا ہے۔یہ معاملہ کسی اور کانہیں بلکہ اس شاعر کا ہے جس کا اصلی نام جیوتی پرساد مصرا ہے اور اردو کا ادبی حلقہ اسے حیرت فرخ آبادی کے نام سے جانتا اور پہنچانتا ہے۔

حیرت فرخ آبادی صاحب کی پیدائش 8فروری 1930کو اتر پردیش کے ضلع بہرائچ میں ہوئی تھی۔ان کے والد محترم جناب متھرا پرساد مصرا ضلع فرخ آباد کے مشن ہائی اسکول میں دینیات کے استاد تھے اور نوزبانوں میں دسترس حاصل کی تھی۔کئی چرچوں کے پاسٹر بھی تھے۔ ان کے والد ایک حادثے کے شکار ہوئے اور1935 میں 41سال کی عمر میں اس دارفانی سے رخصت ہوئے۔والد کے انتقال کے بعد ان کے خاندان پر مصیبتوں کا پہاڑ ٹو ٹ پڑا۔سب سے چھوٹا بھائی ڈیڑھ سال کا اور سب سے بڑی بہن 14 سال کی تھی۔سات بھائی بہنوں کی ذمے داری ان کی والدہ پر آپڑی۔جو خود بھی پلورسی کی بیماری سے ٹھیک ہوئی تھیں۔ چھوٹے بیٹے کو اسپتال کےBaby fold میں رکھوایا۔تین بیٹوں اور تین بیٹیوں کو الگ الگ ہاسٹل میں ڈالا اور خود ہر دوئی میں لڑکیوں کے ہاسٹل میں میٹرنMetronکی نوکری کی۔چھٹیوں میں جب سارے بچے گھر پر ہوتے تو دووقت کا کھانا بھی مشکل سے ہوپاتاتھا۔اس انتہائی غریبی کی زندگی گزارنے میں حیرت  صاحب کو ایک دردمند دل کی آشنائی عطاہوئی جو ان کے پورے کلام میں جھلکتی ہے۔حساس اور دردمنددل نے حیرت  صاحب کو ایک بہت ہی نیک اور اچھا انسان بنایا اور اس غریبی نے ان کو قنوطی کے بجائے ایک رجائی شاعر بنادیا۔دوسروں کا دکھ درد ان کا اپنا دکھ درد ہوگیا۔ہائی اسکول اور انٹر پاس کرنے کے بعد 1952 میں حیرت صاحب اپنی منجھلی بہن کے پاس گورکھپور چلے گئے۔وہاں انہوں نے سینٹ اینڈ ریوز کا لج میں داخلہ لیا۔ انھیں انگریزی ادب، اردو ادب اور فلسفہ پڑھنے کا موقع مجنوں  گورکھپوری صاحب سے ملا۔تھوڑے ہی عرصے میں حیرت صاحب نے اپنے آپ کو مجنوں صاحب کی نظروں میں ایک محنتی طالب علم ثابت کرلیا تو مجنوں صاحب نے بھی پڑھائی کے سلسلے میں ان کی مدد کرنا شروع کردی۔ ایک دن حیرت صاحب نی اپنی نظم’ایک غریب طالب علم‘ کی اصلاح کرنے کی درخواست مجنوں صاحب سے کی تو انھوں نے کہا کہ بیٹا اصلاح سے شعر دوغلا ہوجاتا ہے۔ میری اصلاح کے بعد اس نظم میں 75 فیصد الفاظ اور خیالات میرے ہوجائیںگے اور تم 25 فیصد رہ جائو گے تو حیرت صاحب نے اُن سے کہا کہ ہم نئے لکھنے والے کیا کریں۔ انھوں نے کہا بیٹا اساتذہ کے کلام سے لائبریری بھری پڑی ہے وہاں روز جائو اور ڈھائی تین گھنٹے ان  کا کلام پڑھو۔ دوتین ہزار شعر یاد ہو جائیںگے اور تم خود اپنی غلطیاں سدھار لوگے۔جب فراق گورکھپوری صاحب چھٹیوں میںگورکھپور تشریف لاتے تو مجنوں گورکھپوری صاحب کی رہائش گاہ پہ گھنٹوں ادبی گفتگو ہوتی اور حیرت صاحب ان دونوں اساتذہ حضرات کی کار آمد گفتگو سے استفادہ کرتے اور درمیان میں ان کی خدمت بھی کرتے جاتے۔ اساتذہ کرام کی بے حد حوصلہ افزائی اور قارئین کی پذیرائی کے علاوہ خود کے ذوق وشوق نے حیرت صاحب کو اچھے نوجوان شعراکی صف میں لاکھڑا کیا جس سے آپ کے ذوق کی تسکین بھی ہوتی رہی اور شعر کہنے کے شوق کی مسلسل آبیاری بھی ہوتی رہی۔نتیجہ یہ ہوا کہ اتر پردیش کے مشاعروں کے علاوہ اطراف کی ریاستوں کے مشاعروں میں بھی مدعو کیے جانے لگے۔ آپ کی شاعری حقیقت پر مبنی اور عام فہم ہونے کی وجہ سے مقبولیت کو دعوت دینے لگی اور لوگوں کے دلوں میںاۡترتی چلی گئی۔

تلاش رزق آپ کو جھارکھنڈ کی راجدھانی رانچی لے آئی جہاں آپ نے 1960 میں شہر سے 15 کیلو میٹر دور واقع نیوری کے رہائشی اسکول وکاس ودیالیہ کے شعبۂ انگریزی کے ہیڈ کی حیثیت سے ملازمت شروع کی۔ آکاشوانی رانچی سے نشریات بھی شروع ہوگئیں اور بعد ازاں دوردرشن ودیگر چینلس سے بھی نشریات ہونے سے نئے شہر کے اردو حلقہ میں مقبولیت بڑھتی گئی۔ان جگہوں پر آنے جانے سی ریاست کے نامور شعرائے کرام جیسے پرکاش فکری، وہاب دانش، صدیق مجیبی، پرویز رحمانی، اسلم بدر، نظر رانچوی، اثررانچوی،  توحید رانچوی، شان بھارتی، رونق شہری،غیاث انجم، علی منیر، نصیر افسر، نہال حسین وغیرہ سے ملاقاتیں ہونے لگیں۔

معروف ادبا ویونیورسٹی کے اساتذہ کرام میں پروفیسر وہاب اشرفی، پروفیسر انوار احمدخان،پروفیسر سمیع الحق، پروفیسر احمد سجاد، پروفیسر ابوذر عثمانی، پروفیسر سید شمیم الدین، پروفیسر منظر حسین، پروفیسرحسن مثنیٰ،پروفیسر عبدالقیوم ابدالی، پروفیسر کہکشاں پروین، پروفیسر ہمایوں اشرف کے علاوہ بے شمار ادب نواز حضرات سے رابطہ قائم ہوتا گیا جس سے احباب کا دائرہ بڑھتا ہی چلاگیا۔انھیں اس بات پر فخر ہے کہ پورے ملک میں ان کے احباب پھیلے ہوئے ہیں ادبا،شعراکے علاوہ قارئین کی ایک بڑی تعداد ہے۔

جہاں تک ان کی شاعری کا تعلق ہے تو آپ کا یہ ماننا ہے کہ آپ نے شاعری کے چار ادوار دیکھے ہیں یعنی روایت، ترقی پسندی، جدیدیت ومابعد جدیدیت۔چونکہ ان کی شاعری روایتی دور میں شروع ہوئی ہے اس لیے ان کی شاعری میں روایت کا پاس ولحاظ خصوصی طور پر نمایاں ہے۔ جیسے جیسے ادوار بدلتے گئے قدریں بھی بدلتی گئیں۔ یہ بات یقینی طور سے کہی جاسکتی ہے کہ کوئی بھی شاعر ادوار کی تبدیلی اور زمانے کے بدلائو سے اچھوتا نہیں رہ سکتا ہے۔ وہ اپنے دور کی تلخیوں اور کرب ودرد سے ناآشنا نہیںرہ سکتاہے۔ وقت کی تبدیلی ہمیشہ حیرت صاحب کی شاعری پراثر انداز رہی ہے۔اس لیے وہ کہتے ہیں کہ           ؎

وقت کے ساتھ بدل جاتا ہے اندازسۡخن

شاعرآزاد ہے لہجے کئی اظہار کے ہیں

آپ کی کئی کتابیں منظرعام پر آچکی ہیں جن میں بطور خاص ’نوائے ساز دل‘،حس التماس اور اس کا دوسرا ایڈیشن شائع ہو کر مقبول عام ہوا۔ہندی میں آپ کی کتاب ’جوکریدے گھائو من کے‘ نے کافی مقبولیت حاصل کی۔ڈاکٹر ہمایوں اشرف نے’حیرت فرخ آبادی،فن اور فنکار‘ مرتب کی جس میں پوری اردو دنیا کے نامور ناقدوں کے قریباً 45مضامین اور 20 خطوط اور ان کا منتخب کلام شائع کیا ہے جو حیرت صاحب کے کلام کی مقبولیت ثابت کرتاہے۔حیرت صاحب کئی سالوں سے انجمن بقائے ادب، رانچی(رجسٹرڈ)میں صدر کی حیثیت سے اردو ادب کی خدمت میںلگے رہے۔ تادم حیات یعنی اکیانوے سال کی عمر تک تمام مقامی مشاعروں، کوی سمیلنوں میں شرکت کرتے رہے۔اور کورونا وبا کے وقفے کو چھوڑ کر اب بھی روزانہ تین گھنٹے صبح اور تین گھنٹے شام کو متفرق کمپٹیشن میں بیٹھنے والوں کو اسکول کے لڑکے لڑکیوں کو انگریزی پڑھاتے رہے۔ میرا ان کا ساتھ1973سے ہے عمر میں وہ مجھ سے کئی سال بڑے ہیں لیکن ہمیشہ مجھے اپنے چھوٹے بھائی کی طرح پیار کرتے ہیں۔ میں ناقدتو ہوں نہیں لیکن ہندوستان  کے کئی مشہور ناقدین کے مضامین میںسے ایک ایک دود و جملے نقل کرنا چاہتاہوں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ یہ مشاہیر ادب حیرت صاحب کی شاعری کے بارے کیا کہتے ہیں۔

ڈاکٹر فضل امام: ’’حیرت کی شاعری میں دھرتی کی سوندھی سوندھی خوشبو قلب ونظر کو سرور بخشتی ہے اور دل ودماغ کو فرحت عطا کرتی ہے۔ دراصل حیرت کی شاعری ایک ایسا آئینہ خانہ ہے جس میں فسانۂ ہستی کے مختلف عناوین اپنے سیاق وسباق کے ساتھ مل جاتے ہیں۔‘‘

شمس الرحمٰن فاروقی: ’’آپ کا کلام بہت خوب ہے یقیناً آپ نے اردو غزل کی روایت اور اس کے اصولوں کو پوری طرح حاصل کیا اور برتا ہے۔چونکہ آپ انگریزی زبان کے استادر ہے ہیں اور اس پرطرہ یہ کہ مجنوں گورکھپوری کے شاگرد بھی رہے ہیں،لہٰذا آپ کی شاعری میں روایتی مضامین سے پرہیز نظرآتاہے۔‘‘

وہاب اشرفی: ’’حیر ت زندگی کے جس موڑپر ہیں تجربے اور مشاہد ے کا ایک وسیع خزانہ فطری طور پر انہیں حاصل ہوچکاہے چنانچہ انھیں نئے مضمرات کو بس میں کرنے کی جہت غیر فطری نہیں بنتی اور وہ نئے امکانات سے باخبر ہوکر غزل کو تازہ بکا ربنا نے میں کامیاب نظرآتے ہیں۔ان کا ایک رخ انگریزی شعروادب کا گہر امطالعہ جس کے وہ ایک عرصے تک استاد رہے ہیں۔ایسے میںانہیں معلوم ہے کہ نئے ٹرینڈز(Trends)اور اس کے کیا مطالبات ہوتے ہیں۔لہٰذا ان کے کلام میں وہ عنصر سرے سے نہیں جسے ہم غیر متوازن کہہ سکیں۔‘‘

عبد القیوم ابدالی: ’’یہ دردوغم یہ شاعری حیرت اسی کی دین ہے ممنون ہوں مشکور ہوں کیا کیا دیا’دیوانگی

حیرت بھائی جس دیوانگی کی بات کررہے ہیں وہ بلاتفریق مذہب وملت انسان کا انسان سے حددرجہ پیار ہے جسے انھوں نے دیوانگی کا نام دیا ہے۔دیوانگی وہ بلا ہے جو دیواروں میں قید نہیں رہ سکتی۔فطرت نے ان کے خمیر میں نہ جانے کہاں کی مٹی ملاکر گوندھی ہے کہ کبھی صندل کی خوشبو آتی ہے، کبھی گلاب کی اور کبھی عود کی۔پھر بھی ان کی شاعری میں حزن ویاس کی ایک عجیب سی فضا کا احساس ساہوتاہے۔لگتا ہے جیسے شام کا ایک ملگجا اندھیرا ہرسو چھا یا ہوا ہے۔حیرت صاحب کی یہ دیوانگی انھیں اور ان کی شاعری کو ایک الگ پہچان عطاکرتی ہے۔‘‘

8فروری 2020 کو ہماری انجمن بقائے ادب اور حیرت صاحب کے خاندان نے مل کران کی 90 ویں سالگرہ کا جشن منایا۔اس تقریب میںجھارکھنڈہائی کورٹ کے جسٹس وکرم آدتیہ پرساد،رانچی یونیورسٹی کے سبکدوش وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹرانوار احمد خان، جھارکھنڈ کے ڈائریکٹر جنرل آف پولس جناب کمل نین چوبے گورکھپور کے پروفیسر عبیداللہ چودھری اورراقم الحروف نے حیرت کی زندگی اور ان کی شاعری پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ لیکن صد افسوس کہ بر صغیر کا ایک مشہور ور معروف شاعر جناب جیوتی پرساد مصر، عرف حیرت فرخ آبادی کا 11 جولائی کی رات پونے بارہ بچے اپنے رہائشی مکان واقع کھوسلہ ہائوس ، نارتھ آفس پاڑہ، ڈورنڈہ ، رانچی میں انتقال ہو گیا۔ وہ دوران گفتگو اکثر مجھے کہتے تھے کہ میں تو اس دنیا سے جانے کے لیے تیار بیٹھا ہوں۔ انھوں نے اپنے دونوں بیٹیوں کو تاکید کر رکھی تھی کہ جب ان کا آخری وقت آئے ، طبیعت بگڑ جائے توکسی بھی ہسپتال میں داخل نہ کرایا جائے اور گھر پر ہی رہنے دیا جائے۔ ایسا انھوں نے اس لیے کہا تھا کہ 51 دنوں قبل  ان کی شریک حیات کا لمبی بیماری کے بعد انتقال ہو گیا تھا اور لاکھوں روپئے خرچ کرنے کے بعد بھی صحت یاب نہ ہو سکی تھیں۔

اب حیرت صاحب کااس طرح دار فانی سے کوچ کرجانا اردو ادب کا بڑا خسارہ ہے۔

 

Naseer Afsar

D-1, Friends Compound

Rahmat Colony, P.O: Doranda

Ranchi - 834002 (Jharkhand)

 

ماہنامہ  اردو دنیا، ستمبر 2021

 


تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...