15/2/22

بہار کی خواتین افسانہ نگار - مضمون نگار : ریحانہ پروین

 



          بہار میں اردو افسانہ نگاری کاپہلا دور 1936سے شروع ہوتا ہے۔ بہار میں اردو کے پہلے افسانہ نگار مسلم عظیم آبادی کو تسلیم کیا جاتا ہے۔    ان کے ساتھ ساقی عظیم آبادی اور جمیل مظہری بھی افسانے لکھ رہے تھے ۔ جمیل مظہری کا افسانہ ’’فرض کی قربان گاہ‘‘ ،رسالہ’’ ندیم ‘‘گیا  میں شائع ہوا۔ مسلم عظیم آبادی کا افسانہ’’ محبت وجاہ وثروت کی کشمکش ‘‘کے عنوان سے’’الناظر‘‘ لکھنؤ سے شائع ہوا۔ اسی دور میں زبیر احمد تمنائی کا افسانہ ’’سماج کی قربان گاہ پر‘‘حبیب اللہ جھٹکیا وی کا افسانہ ’’قربان گاہ رسم پر ایک بھینٹ‘‘ اور سید مظہر الحق قادری کا افسانہ ’’سو سائٹی کی قربان گاہ پر‘‘ کے نام سے شائع ہوئے۔

          جہاں تک بہار میں فکشن افسانہ نگاروں کا معاملہ ہے تو اردو کی پہلی خواتین ناول نگار رشیدۃ النسائ جو پٹنہ کی رہنے والی تھیں۔ انھوں نے 1881میں ’’اصلاح النسائ‘‘ کے نام سے ایک ناول لکھا۔ جو 1894میں ان کے صاحبزادے نے شائع کرایا۔

          اب تک کی تحقیق کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ شکیلہ اختر بہار کی پہلی خواتین افسانہ نگار ہیں۔ ان کا پہلا افسانہ بعنوان ’’رحمت‘ ‘ 1936 میں رسالہ ’’ادبِ لطیف‘‘ لاہور میں شائع ہوا تھا۔ اب تک ان کے چھ افسانوی مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔(1)درپن ،(2)آنکھ مچولی (3) ڈائن ،(4)آگ اور پتھر(5)لہو کے مول(6)آخری سلام۔ ان کا ایک نا ولٹ ’’تنکے کا سہارا ‘‘بھی اہمیت کا حامل ہے۔ شکیلہ اختر کے مشہور افسانوں میں ’’آنکھ مچولی‘‘ ، ’’ڈائن‘‘ ،’’پیاسی نگاہیں‘‘، ’’گھریا ویرانہ‘‘، ’’سیندور کی ڈبیا‘‘ ، ’’موسی‘‘، ’’لجیا‘‘، ’’کیڑے‘‘ اور مظلوم و غیرہ ہیں۔ موضوع و مواد، زبان و بیان، کردار و مکالمے، مناظر وماحول وغیرہ پر ان کی گرفت بہت مضبوط ہے۔ جزئیات نگاری میں بھی کمال رکھتی ہیں۔ ’’ڈائن‘‘ میں تلخ حقیقت نگاری اور ’’نئی نسل‘‘میں اخلاقی قدروں کی پامالی کو پیش کیا گیا ہے۔ ’’پیاسی نگاہیں‘‘ میں ایک بیوہ عورت کے درد کو بیا ن کیا گیا ہے۔ ’’آنکھ مچولی ‘‘ ایک نفسیاتی افسانہ ہے جس میں پروین کے کردار کو بہت ہی خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

          شکیلہ اختر کے بعد نسیمہ سوزاور رضیہ رعنانے بھی افسانے لکھے ہیں۔ نسیمہ سوزکے افسانے رسالہ ’’ندیم‘‘، ’’سہیل‘‘ گیا اور ’’ادبِ لطیف‘‘ لاہور میں شائع ہوئے۔ بعد میں نسیمہ سوزپا کستان چلی گئیں اس لیے ان کی تخلیقات بہت کم نظروں سے گزری ہیں۔ رضیہ رعنا بھی چند افسانے لکھنے کے بعد شاعری کی طرف چلی گئیں۔

          خواتین افسانہ نگاروں میں اعجاز شاہین، نعیمہ قمر، عصمت آرا، نصرت آرا، امتیاز فاطمی، شمیم افزائ قمر، شمیم صادقہ وغیرہ نے کئی اچھے افسانے لکھیں۔ اس دور کا آغاز 1960سے ہوتا ہے۔

          شمیم صادقہ اس دور میں ایک اہم افسانہ نگار کے روپ میں اُبھرتی ہیں۔ ان کے مشہور افسانوں میں’’کر چیاں‘‘، ’’لت‘‘ اور ’’ ڈیڈ ہاؤس‘‘ کو شمار کر سکتے ہیں۔ شمیم صادقہ نے موضوع سے زیادہ اسلوب پر دھیان دیا ہے۔آدھے ادھورے چہرے، تنہائی کا کرب،ذات کی شناخت کا مسئلہ اور اس کی اہمیت ان کے افسانوں میںزیادہ نمایاں ہے۔ ان کے افسانے ایک نئے منظر نامے کا پتہ دیتے ہیں اور یہ محسوس کراتے ہیں کہ کس طرح عورتیں مردوں کے مقابلے میں کھڑی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ممتاز افسانہ نگاروں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ ان کے تین افسانوی مجموعے’’کر چیاں‘‘ 1979 ’’ادھورے چہرے‘‘ 1980اور ’’طرح ِدیگر‘‘ 1984میں شائع ہوئے۔ شمیم صادقہ کا افسانہ ’’ڈیڈ ہاؤس ‘‘ میں ایک بوڑھے اور بوڑھی کی کہانی پیش کی گئی ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ ہندوستان میں ڈیڈ ہاؤس کی کوئی ضرورت نہیں لیکن افسانہ کے آخر میں اس کا بیٹا اسے چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔ ہندوستان میں ’’ڈیڈ ہاؤس ‘‘ بھی نہیں ہے جہاں وہ اپنی بقیہ زندگی گزار سکے۔ بوڑھے والدین کے درد کو شمیم صادقہ نے بہت خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے۔

          اعجاز شاہین خواتین افسانہ نگاروں میں ایک اہم نام ہے۔ 1962 سے ان کے افسانے رسالوں میں شائع ہونے لگے تھے۔ ان کے دو افسانوی مجموعے ’’تصور اور تصویر‘‘ 1975میں اور ’’یہ وادیاں‘‘ 1983میں شائع ہو چکے ہیں۔ اعجاز شاہین کا انداز ِ بیان بے حد خوبصورت ہے اگر یہ کہا جائے تو بے جانہ ہوگا کہ اعجاز شاہین نے اپنے تجربات اور مشاہد ات کو اکثر اوقات بڑے خوبصورت انداز میں کہانی کا رنگ دے دیا ہے وہ خود اعتراف کرتی ہیں:

’’میرے اکثر افسانے کا موضوع بے بس مظلوم عورت …بے چاری عورت جو سراپا ایثار وفا ہے اکثر غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ اس نے اپنا حق پا لیا۔‘‘

          اعجاز شاہین کے افسانوں میں ہماری معاشرتی زندگی کی تلخ سچائیاں پوشید ہ ہیں۔ ان کے نمائندہ افسانوں میں ’’دو بوند آنسو‘‘ ،        ’’تصور اور تصویر‘‘ ، درد لا دوا‘‘، شیشہ کی دیوار‘‘، کچی کلی‘‘ اور ’’آئینہ‘‘ وغیرہ کا شمار ہوتا ہے۔دونوں افسانوی مجموعے پر اعجاز شاہین کو بہار اردو اکاڈمی نے انعامات سے نوازاتھا۔

          اسی زمانے میں عصمت آرا نے بھی چند خوبصورت افسانے اردوکو دیے ہیں۔ ان کے افسانے ’’دودھ کا جلا‘‘، ’’خول‘‘، ’’بابل کے گیت‘‘، ’’ستاروں کی موت‘‘ اور ’’گردِ کارواں‘‘ اہم ہیں۔ ان کا کوئی بھی افسانوی مجموعہ سامنے نہیں آیا ہے۔ افسانہ ’’گردِ کا رواں ‘‘میں عصمت آرانے لڑکیوں کے مزاج اور ان کی پسند نا پسند کو بہت دلکش انداز میں پیش کیا ہے۔ افسانہ ’’بابل کے گیت‘‘ میں شادی بیاہ کے مسئلے کو اٹھا یا ہے۔

          نصرت آرا بھی اردو کی ایک اہم افسانہ نگار تسلیم کی جاتی ہیں۔ ان کا ایک افسانوی مجموعہ ’’درد کا رشتہ‘‘ 1973میں منظر عام پر آیا۔اس میں کل سولہ افسانے شامل ہیں۔ نصرت آرا کے نمائند ہ افسانوں میں ’’درد کا رشتہ‘‘، ’’چوٹ‘‘، ’’باغی‘‘،’’ چنگاری کی آنچ‘‘، ’’کانٹے، ’’داغ‘‘ اور ’’قاتل‘‘ وغیرہ ہیں۔نصرت آرا نے بہت خوبصورت افسانے لکھے ہیں۔ اردوکی خواتین افسانہ نگاروں میں ان کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔

          نعیمہ قمر نے جب افسانہ لکھنا شروع کیا تو ان کے افسانے ’’آج کل‘‘،’’ایوان اردو‘‘ اور ’’شاعر‘‘ جیسے رسالوں میں شائع ہوئے لیکن بہت جلد افسانوی افق سے وہ غائب ہو گئیں۔ ان کے مشہور افسانوں میں ’’یادوں کاچراغ‘‘ ،’’طوفان کے بعد‘‘ اور ’’خواب اور حقیقت‘‘ وغیرہ ہیں۔ ان کے افسانے جدید طرز کے ہوتے تھے زبان و بیان پر مہارت حاصل تھی۔ انھوں نے اپنے وقت کے موجودہ سماجی مسائل کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا۔

          ذکیہ مشہدی ار دو کی معتبر افسانہ نگار ہیں۔ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’پرائے چہرے‘‘ 1984میں شائع ہوا۔ اس کے علاوہ ان کے پانچ افسانوی مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔’’تاریک راہوں کے مسافر‘‘ 1993 ’’صدائے بازگشت‘‘ 2003 ’’نقش نا تمام‘‘ 2008’’یہ جہان رنگ وبو‘‘ 2013اور ’’آنکھن دیکھی‘‘ 2015میں منظر عام پر آچکے ہیں اس کے علاوہ ان کے دو ناولٹ ’’پار سا بی بی کا بگھار‘‘ اور’’بلہاکہ جاناںمیںکون‘‘بھی شائع ہو چکے ہیں۔ ذکیہ مشہدی کے مشہور افسانوں میں ’’ماں‘‘، بکسا‘‘، ’’ہدو کا ہاتھی‘‘ ’’بُدا نہیں مری‘‘ ،’’ بھیڑیئے سیکولر تھے‘‘،’’ منظور وا‘‘، ’’اجن ماموں کا بیٹھکہ‘‘ اور ’’ہر ہر گنگے‘‘ کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ذکیہ مشہدی نے گھر اور آنگن کو اپنے افسانوں میں اس طرح سمیٹا ہے کہ وہ گھر آنگن نہ ہو کر ایک دنیا معلوم ہوتی ہے۔ افسانہ ’’ماں‘‘ میں ایک غریب عورت کی کہانی ہے جو اپنے محسن کو اپنا سب کچھ سونپ دیتی ہے لیکن اس کا محسن اسے گناہ سمجھتا ہے اور اس کا کفارہ ادا کرنا چاہتا ہے۔ ’’ہدو کا ہاتھی‘‘ میں اقدار کی پامالی کو پیش کیا گیا ہے۔افسانہ ’’بھیڑیئے سیکولر تھے‘‘ میں کئی ڈائمنشن نکلتے ہیں۔ افسانہ کی شروعات ساس سسر اور بہو کے رشتے کی تلخی سے ہوئی ہے ساس سسر مزاجاً سخت ہیں جو بہو کے ساتھ سختی سے پیش آتے ہیں۔ ایک عورت جو اپنا سب کچھ چھوڑ کر ایک اجنبی گھر پریوار میں آتی ہے اور اُسے وہ عزت نہیں ملتی جس کی وہ مستحق ہے تو اس کے اندر کی عورت ٹوٹ جاتی ہے۔ سروجا کو لہو کے بیل کی طرح کام میں لگی رہتی ہے اور جب وہ اپنے بیٹے مہیش کو سوتا ہوا چھوڑ کر ساگ دھونے چلی گئی اور جب واپس آئی تو اندھیرے کا فائدہ اُٹھا کر بھیڑیا اس کے بچّے کو لے کر بھاگ گیا۔ بدّا نہیں مری ’’کا آغاز‘‘ گاؤں کی مشترکہ تہذیب کی منظر نگاری سے ہوتا ہے۔ صفیہ افسانہ کا بنیادی کردار ہے جس کے گرد افسانہ گھومتا ہے۔ اس کی سہیلی ودھیا عرف بدّا بھی افسانہ میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے جو ہندو گھرانے سے تعلق رکھتی ہے۔ دونوں میں گہری دوستی ہے۔ دونوں کی شادی ہو جاتی ہے لیکن اب گاؤں کا ماحول بدل چکا ہے۔ نظریات میں تبدیلی آچکی ہے۔ گاؤں میں مذہبی جھگڑے پھیل رہے ہیں۔ گاؤں آنے پر صوفیہ بدّا کے بھائی سے ملنے جاتی ہے کیونکہ بدّا مر چکی ہے۔ بدّا کے بھائی کی تنگ نظری کودیکھ کر حیرت میں پڑ جاتی ہے۔ مصنفہ نے بدلتے حالات کی بہت خوبصورت عکاسی کی ہے۔

          قمر جہاں اردو کی اہم افسانہ نگار ہیں۔ اب تک ان کے تین افسانوی مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ ’’چارہ گر‘‘، ’’اجنبی چہرے ‘‘اور ’’یا د نگر‘‘ کے علاوہ کئی تنقیدی کتابیں بھی شائع ہو چکی ہیں۔ قمر جہاں کے افسانوں میں آج کی زندگی اور موجودہ عہد کے سائنسی ترقیوں کو بھی محسوس کیا جا سکتا ہے۔بقول اقبال واجد :

’’ہم قمرجہاں کو کسی بھی ازم کے خانہ میں رکھنا پسند نہیں کرتے۔ وہ بلا شبہ ایک Genuine فن کار ہیں جو خود اپنی تخلیقی تشکیل پر رواں دواں ہیں…انہوں نے 1980 کے بعد اردو افسانے میں اپنی ایک الگ پہچان بنائی ہے۔یہ پہچان اُن کی اپنی دریافت بھی ہے۔اور ان کا اپنا طرزِنشان بھی ۔‘‘

          شمیم افزائ قمر اردو کی اہم افسانہ نگار تسلیم کی جاتی ہیں۔ ان کا افسانہ ’’دل کا کیا رنگ کروں‘‘ بے حد مقبول ہے۔ ’’وش کنیا‘‘، ’’زیر لب‘‘ اور ’’کاغذی پیرہن ‘‘ان کے اچھے افسانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ان کے دو افسانوی مجموعے ’’کاغذی پیرہن‘‘ اور ’’سب خیریت ہے‘‘ شائع ہو چکے ہیں۔ ان کا اندازِ بیان دلکش اور صاف ستھرا ہے۔ افسانہ ’’دل کا کیا رنگ کروں‘‘ میں مدعو لیکا اور امر جیت کی کردار نگاری کمال کی ہے ۔ بقول کلام حیدری یہ افسانہ کسک کا افسانہ ہے۔

          تبسم فاطمہ کے دو افسانوی مجموعے’’لیکن جزیرہ نہیں‘‘ 1995اور ’’تاروں کی آخری منزل ‘‘2012میں شائع ہو چکے ہیں۔ پہلے مجموعے کے مقابلے دوسرا مجموعہ ہر اعتبار سے بہتر اور خوبصورت کہانیوں کا مجموعہ ہے۔ ’’تاروں کی آخری منزل‘‘ کے نام میں بھی کشش ہے۔ موضوع میں نئے پن کے ساتھ اسلوب میں بھی ہنر مندی اور قاری کو آسانی سے اپنی گرفت میں لینے کا انداز نمایاں ہے۔تبسم فاطمہ کے یہاں باغیانہ تیور دکھائی دیتے ہیں ۔ وہ سوئی ہوئی عورت کو جگانا چاہتی ہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ عورت اپنے حق کے لیے لڑے اور نئی ایجادات کو نہ صرف اپنی زندگی میں شامل کرے بلکہ مردوں سے بھی آگے نکل جائے۔ افسانہ ’’جرم،’’تاروں کی آخری منزل‘‘، حصار شب کا طلسم‘‘اور ’’ندامت‘‘ وغیرہ ان کے کامیاب افسانے ہیں۔

          تسنیم کوثر کا ایک افسانوی مجموعہ’’بونسائی‘‘ 1995میں شائع ہوا ۔ ان کے افسانوں میں عورت کا ایک نیا روپ سامنے آتا ہے۔ ’’بونسائی‘‘، ’’ملیچھ‘‘،’’مہاجر‘‘،’’انوکھارشتہ‘‘اور’’گردش ایام ‘‘ان کے مشہورافسانے ہیں۔ ان کااسلوب ان کے ہم عصروں سے علیحدہ ہے۔ کہانی کہنے کافن بھی انھیںآتاہے اورنبھانابھی ۔حالانکہ انھوںنے بہت کم افسانے لکھے لیکن بہارکی خواتین افسانہ نگاروںمیںایک اہم افسانہ نگار تسلیم کی جاتی ہیں۔

          عنبری رحمن کا ایک افسانوی مجموعہ منظرِ عام پر آچکا ہے۔ عنبری رحمن نے اپنے افسانوں میں مردوں کی نفسیات اور ان کی ذہنیت کا بھر پور مطالعہ کیا ہے۔ان کے مشہورافسانوںمیں’’آخرمیںبھی انسان ہوں‘‘،’ ’کسوٹی ‘‘، ’’چڑیوںکاچمپا‘‘اور’’میرافیصلہ‘‘ہے۔وہ عورت کو مجبوراوربے بس دیکھنا نہیں چاہتیں بلکہ عورت کے اندر توانائی پیداکرناچاہتی ہیں۔

          تسنیم کوثر کی ہی معاصر نکہت پر وین بھی ہیں۔ ان کا افسانوی مجموعہ ’’سلسلے درد کے‘‘ 1997میں منظرِ عام پر آیا اور ادبی حلقے میں مقبولیت حاصل کر چکا ہے۔ ’’رشتوں کے گیت ‘‘، ’’سلسلے درد کے‘‘ ،’’پتھر کا آدمی ‘‘، اور ’’بوجھ‘‘ وغیرہ ان کے مشہور افسانوں میں شمار ہوتے ہیں۔

           زینب نقوی کاتعلق سیوان سے ہے ۔ان کا پہلاافسانوی مجموعہ ’’ریت کی دیوار‘‘2004میںشائع ہوا جس میںکل 15افسانے شامل ہیں۔زینب نقوی کے افسانے کے موضوعات عام زندگی سے لیے گئے ہیں۔وہ چھوٹے چھوٹے واقعات کواس طرح افسانے میںڈھال دیتی ہیں کہ پڑھنے والااس سے متاثر ہوئے بغیر نہیںرہتا۔ان کے مشہور افسانوںمیں’مہندی آپ کی‘،’‘زیور،’ہنی مون‘،’اپناپرایا‘،’خوشی کے آنسو‘ اور ’ریت کی دیوار‘ہیں۔

           نزہت پر وین کاپہلاافسانہ ’گردان‘کے نام سے 1972 میںشائع ہوا۔وہ1972سے لگاتارلکھ رہی ہیں۔ ’گردان‘ ، ’اندھیرے کاسفر‘ ’روشن اندھیرا‘اور ’تاش کے پتے‘ان کے مشہورافسانے ہیں۔

           نزہت نوری1941میںگیامیںپیداہوئیں۔ان کا پہلا افسانہ 1969میںبیسویںصدی ،دہلی میںشائع ہوا۔وہ تقریباً سبھی بڑے اور معیاری رسالوںمیںشائع ہوچکی ہیں۔’سبز نقش‘،’شیشے کاچاند‘،’روشنی اورریزے‘،’سناٹا‘ان کے مشہورافسانے ہیں۔

           شیریںنیازی کاافسانوی سفر 1960کے آس پاس شروع ہوا۔ انھوںنے تقریباًدوسوافسانے لکھے ہیں۔وہ عام زندگی کو اپنے افسانے کاموضوع بناتی ہیں۔ریزہ ریزہ ،ایک پتہ پت جھڑ کا،ٹوٹے شیشے کادرپن،فسانہ شب تار ان کے مشہورافسانے ہیں۔

           امتیاز فاطمی کاافسانوی مجموعہ ’ڈوبتی شام‘1993میںشائع ہوا۔ انھوںنے عورتوںکے دکھ دردکواپنے افسانوں کاموضوع بنایا۔وہ عورتوں کو تعلیم یافتہ دیکھناچاہتی ہیںتاکہ ایک نئے سماج کی تشکیل ہوسکے۔’مٹی کے دئیے ‘،’شمع فروزاں‘،’امربیل‘اور’گھرکاچراغ‘ان کے اہم افسانے ہیں۔

           صبوحی طارق کا پہلاافسانہ ’جنگلی پھول کے نام سے‘سالنامہ عفت کراچی 1962میںشائع ہوا۔وہ پابندی سے لکھتی رہی ہیںاورملک کے اہم اورمعیاری رسالوںمیںشائع ہوتی رہی ہیں۔ان کاایک افسانوی مجموعہ ’دردکاگلاب‘1986میںشائع ہوا۔’تم زلیخاہو‘،’دردکاگلاب‘، ’تنہائی کازہر‘،’شعلوںکی لپک‘ان کے مشہورافسانے ہیں۔

          ذکیہ مشہدی اورقمرجہاںکے بعداشرف جہاںمقبول افسانہ نگار تسلیم کی جاتی ہیں۔ وہ پٹنہ یونیورسٹی میںصدرشعبہ اردوبھی رہ چکی ہیں۔ان کاافسانوی مجموعہ’شناخت‘ کے نام سے1997میںشائع ہوا۔ اشرف جہاں کے افسانوںمیںعور ت کی شناخت کامسئلہ ابھرکرسامنے آتاہے۔ وہ عورت کو مختلف زاویے سے دیکھتی ہیں۔’وہ شام‘،’شناخت‘،’موم کی مریم‘اور’فکرآگہی‘ان کے مشہورافسانے ہیں۔

           نشاط افزانے 1964سے لکھناشروع کیا۔ان کاافسانوی مجموعہ ’آخر بہارآئی‘1994میںشائع ہوا۔ان کے یہاں گھرآنگن کی کہانی ہے۔موضوعات کاتنوع ہے اورلڑکیوںکے ذہنی انتشارکوبہت خوبصورتی سے اپنے افسانوںمیںپیش کیاہے۔’چاہت کی رہگزر‘،’جن پرتکیہ تھا‘،’آخر بہارآئی‘ان کے مشہورافسانے ہیں۔

     کہکشاں پروین کاپہلاافسانہ1979میںشائع ہوا۔ان کے افسانوںکاایک مجموعہ’ایک مٹھی دھوپ‘1986میںمنظرعام پر آچکا ہے۔ انھوں نے اپنے سماج ،ماحول اورتہذیب کواپنے افسانوںمیںجگہ دی ہے۔’ایک مٹھی دھوپ‘،’تلاش‘،’سمجھوتہ‘اور ’پھول کازخم‘ان کے اہم افسانے ہیں۔

           آشا پر بھات بہارکی اہم افسانہ نگار تسلیم کی جاتی ہیں۔ان کے دوافسانوی مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔انھوںنے بہت کم وقت میں اپنی پہچان بنائی ہے اوراردوفکشن میںاپنی اہمیت کالوہامنوایاہے۔آشاپربھات کے بغیر بہارمیںاردوافسانے کی تاریخ نہیںلکھی جاسکتی ۔

          امروز جہاں نے اپناافسانوی سفر1982سے شروع کیا۔ان کاایک افسانوی مجموعہ ’جذبوںکی آگ‘1990میںمنظر عام پر آ چکا ہے۔’گھرکااندھیرا‘،’زخمی کلی‘،’شکست آرزو‘،’جذبوںکی آگ ‘اور ’بزدل ‘ ان کے مشہورافسانے ہیں۔

           شگفتہ عارف کاایک افسانوی مجموعہ ’ہنستے زخم‘1990میںشائع ہوچکاہے۔ ان کے کرداراورموضوعات بالکل سامنے کے ہوتے ہیںجن سے ان کا روزسابقہ پڑتاہے۔ ٹھیلہ والا،ضمیرکی آواز،کہرااورہنستے زخم ان کے اہم افسانے ہیں۔

           ناہید اخترنے بہت کم افسانے لکھے لیکن اپنے اسلوب کی وجہ سے اردوافسانے میںایک اہم مقام بنایا۔’نارسائی کادکھ‘،’پپوکاجنم دم‘، اور ’اماںجی‘ان کے اہم افسانے ہیں۔

           عامر ہ فر دوسی نے1984سے افسانہ لکھناشروع کیا۔ابھی تک ان کاکوئی بھی افسانوی مجموعہ شائع نہیںہواہے۔’خواب ریزہ ریزہ‘،’زخمی کلی‘،’بیٹی‘،’دیوار‘اور’سویرا‘ان کے اہم افسانے ہیں۔

           محمودہ نغمی تقریباً پچیس سال سے افسانے  لکھ رہی ہیں۔ ان کے افسانوںمیںمسلم معاشرے کے مسائل نمایاں طور پر سامنے آتے ہیں۔ ان کا کوئی بھی افسانوی مجموعہ منظر عام پرنہیں آیاہے۔

           کہکشاں انجم 1968سے لکھ رہی ہیں۔’یادوںکے چراغ‘، ’انتظار کے قیدی‘،’پتھرکے گلاب‘اور’نئی سحر‘ان کے مشہورافسانے ہیں۔

          اس کے علاوہ بے بی موتی ناز پوری، نیلو فر پروین، نسرین ترنم، اورحُسن جبیں شکیل نے بہار کی اردو افسانہ نگاری کے فروغ میں اہم کار نامہ انجام دیا ہے۔

rrr

Rehana Parvin

Diamond Moble Care

Opp: UCO Bank

Gaya-823001 (Bihar)

Mob: 7903952526






14/2/22

قرۃالعین حیدرکا فن اور ‘جلاوطن’ - مضمون نگار : ڈاکٹر محمد شفقت کمال

 



          بیسویں صدی میں اردو فکشن کے جن علم برداروں نے اسے نئے خدوخال اور نئی وسعتوں سے ہمکنار کرایا اور زندگی کے مختلف اقدار کو سمجھنے اور اسے نئے زاویہ نگاہ سے دیکھنے کا ہنر سکھایا ان میں قرۃالعین حیدر کا نام سب سے اہم ہے۔ ان کی پیدائش سرزمین علی گڑھ میں ہوئی۔ اسے علی گڑھ کی مٹی کا اثر کہئے یا پھر لکھنؤکی تہذیبی روایات کا ثمرہ کہ جس نے قرۃالعین کے فلسفیانہ خیالات کو نہ صرف جلا بخشی بلکہ وہ نظیر بھی قائم کی جس کی مثال بہت کم ملتی ہے۔قرۃ العین حیدر نے اپنی شعور کی آنکھیں ایک ادبی گھرانے میں کھولیں ۔ان کے والد اردو کے مشہور فکشن نگار سجاد حیدر یلدرم تھے اور والدہ نذر سجاد حیدر تھیں جن کا شمار اردو کے خواتین فکشن نگاروں میں ہوتا ہے۔اس طرح ادب کا ذوق انھیں وراثت میں ملا۔گھر کے علمی وادبی ماحول نے ان کے تخلیقی ذہن کی مزید آبیاری کی۔شاید یہی وجہ ہے کہ محض ۱۱ سال کی عمر میں جب شعور وآگہی پورے طور پر پختہ بھی نہیں ہوپا تے ،جب آنکھوں کی چلمن میں قوس وقزح کی طرح ہزاروں سپنے رقص کرتے رہتے ہیں ،ایسے وقت میں انھوںنے اپنا پہلا افسانہ تخلیق کیا جس کی خوب پذیرائی ہوئی۔ان کا یہ تخلیقی سفر80 سال کی عمر تک جاری رہا۔اس دوران انھوں نے کئی بہترین ناول،ناولٹ اور افسانے تخلیق کیے اور ورجنا وولف کے اس سوال کا جواب بھی دے دیا جو انھوں نے کیمبرج یونیورسیٹی کے یخ بستہ لیکچر روم میں اٹھایا تھا کہ کیا ایک خاتون اعلیٰ ادب کی تخلیق کرسکتی ہے۔ اس حوالے سے اگر دیکھا جائے تو ہمیں یہ کہنے میں ذرا بھی تامل نہیں کہ قرۃ العین حیدر نے نہ صرف اعلی ادب کی تخلیق کی بلکہ ان کی شخصیت اردو ادب میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ان کے یہاں انسانی وجود کے داخلی اضطراب کے ساتھ ساتھ ذہنی آشوب اور احساس تنہائی کی صدائے بازگشت ہے جو ان کی تخلیقات کو ایک نئی معنویت عطا کرتے ہیں۔

          اردو افسانے میں قرۃالعین حیدر نے باضابطہ طور پر اپنی شناخت اس زمانے میں قائم کی جب ہندوستان کے منظر نامے پر زبردست تبدیلی ہورہی تھی۔ پورا سماجی نظام درہم برہم تھا ۔ایک طرف جاگیرانہ نظام کا انہدام ہورہا تھاتو دوسری طرف اس کی جگہ سرمایہ دارانہ نظام اور مغربی تہذیب وتمدن لے رہی تھی۔ مشرق سے طلوع ہونے والا آفتاب اب مغرب میں غروب ہونے کو تھا۔ ایسے میں تقسیم ہند کے سانحہ نے انسانی زندگی کی تمام تر بنیادوں کو منتشر کردیا ۔ اب انسان کا وجود ریزہ ریزہ ہوچکا تھا اور یہ زندگی کے لیے نہایت ہی پریشان کن مرحلہ تھا۔قرۃ العین حیدر نے تقسیم سے کچھ قبل ہی لکھنا شروع کیااور جلد ہی افسانوی منظر نامے پر اپنا اعتبار قائم کرنے میں کا میاب ہوگئیں۔ ان کے مخصوص اور منفرد اسلوب نے اردو فکشن میں ایک نئی روایت کو جنم دیااور اپنی ایک منفرد شناخت قائم کی۔قرۃ العین حیدر کا اختصاص یہ ہے کہ وہ اپنے منفرد اسلوب کے علاوہ نفسیاتی اور فلسفیانہ پہلوئوں پر بھی گہری نظر رکھتی ہیں۔ان کے افسانوں میں معاصر انسانی رویوں کی شکست و ریخت ہے، جس کو وہ ماضی کی بازیافت اور وقت کے تسلسل کے طور پر برتتی  ہیں۔ قرۃ العین حیدرخا لص کلاسیکی ضابطے کی افسانہ نگار ہیں۔لیکن ان کے یہاں ماضی کی بازیافت ہے، وہ فنطاسی((fantacy محض تکنیک کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔غالباً یہی وجہ ہے کہ وہ کہا نی بیان نہیں کرتیں بلکہ آئیڈیازفارم کرتی ہیں۔تا ہم ان کی زبان بیانیہ کی ٹھوس زبان ہے۔ان کی کہانی کے متن میںایک اور کہانی پوشیدہ ہوتی ہے جس کو ہم بر صغیر کے دم توڑتی مشترکہ تہذیب و ثقافت اور جاگیر دارانہ نظام کے بکھرنے کا نوحہ کہہ سکتے ہیں۔

          جہاں تک قرۃ العین حیدر کے فکشن کا تعلق ہے ان کے ناول جس بسیط ماضی اور تاریخی و تہذیبی دور کی بازیافت کرتے ہیں۔ان کے افسانے اس کے متحمل نہیں ہو سکے، اور نہ ہی ان کے اس وژن کو ہی ان افسانوں میں کوئی راہ ملی جو ان کے ناولوں میں نظر آتا ہے۔یہاں تک کہ افسانہ ’’جلا وطن‘‘ اور ’’ہاؤسنگ سوسائٹی‘‘ جیسے طویل افسانوں  میں بھی وہ تقسیم کی تہذیبی اور تاریخی واردات کو اس طرح پیش نہیں کر سکیں،جس کو وہ ناول کے پیرایہ میں پیش کرتی ہیں۔وہ بیک وقت ماضی اور حال دونوں میں سانس لیتی ہیں۔ ان کے بیشتر افسانے اچھے خاصے طویل ہوتے ہیں کیوں کہ وہ جس سماجی نظام اور تاریخی و تہذیبی ماحول کو پیں نظر رکھتی ہیں اس کے لیے افسانہ متحمل نہیں ہو سکتا۔یہاں تک کہ وہ جس معاشرے کی تاریخ وتہذیب اور ثقافت کی عکاسی کرتی ہیںوہ در اصل اودھ کی جاگیردارانہ اقدار کے زوال کی کہانی ہے۔اس کہانی میں مشترکہ تہذیب کا بیان بھی ہے اور اس کے انہدام کا رونا بھی ۔کیونکہ برصغیر میں دم توڑتی ہوئی مشترکہ تہذیب     قرۃ العین حید ر کو بارہا پریشان کر تی تھی جس کا اظہار انھوں نے اپنی تخلیقات میں جابجا کیا ہے۔ پیش نظر افسانہ ’’جلاوطن‘‘تقسیم ہند کے اسی کرب کی داستان ہے۔یہ داستان محض ذہنی انتشار کی د استان نہیں ہے بلکہ مشترکہ تہذیب کے انہدام کی بھی داستان ہے ۔اس میں رشتوں کے مابین پیدا شدہ خلیج ،تہذیبی اقدار کے زوال کے ساتھ ساتھ اجنبیت و جلا وطنی کے کرب کا بھی بیان ہے۔اس سلسلے میںشفیع جاوید کا قول کافی غور طلب ہے۔

’’’جلاوطن ‘اور ’ہاؤسنگ سوسائٹی‘قرۃ العین حیدر کے یہ دونوں قدرے طویل افسانے ہیں اور ان کے تخلیقی سفر کے دو اہم سنگ میل ہیں۔ جہاں تصادم ہے،تاریخ اور تاریخیت (Hiastoricity) ہے،نئے دور کی پیچیدہ دنیا ہے،عالم تمام الجھا ہوا ہے۔ جلاوطنی اور ہجرتوں کے عبرتناک بیان ہیں۔ انسانی رشتوں کے انہدام کا تاسف ہے اور وہ صدی جو ابھی کچھ ہی دنوں قبل گزری ہے ،اس میں زوال آدم اور گمشدہ جنتوں کے کرب جھیلتے ہوئے لوگ ہیں۔‘‘ 

          (قرۃ العین حیدر : شخصیت اور فکر و فن، خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ، اگست2008 ،ص 171 )

          جلاوطن ا فسانہ میں تقسیم ہند کی ہولناکیوں کا ذکرہی نہیں ملتابلکہ تقسیم سے قبل وتقسیم کے بعد کا منظر نامہ بھی ملتا ہے۔یہاں تقسیم ہند سے قبل کا ہندوستا ن اپنی مشترکہ تہذیب وتمدن کی گواہی دے رہاہے۔ہندوستانی تاریخ کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ اخوت وبھائی چارگی ،اخلاق ومحبت یہاں کی تہذیبی روایت کا حصہ رہی ہے۔ قدیم ہندوستان میں سامراجیت کے تصور نے اگرچہ اپنے پنکھ پسارے رکھے تھے لیکن اس معاشرے کی خوبصورتی یہ تھی کہ لوگ مذہبی تفریق کی بنا پر ایک دوسرے سے خائف نہیں تھے۔ ہندوئوں کے مذہبی تہواروں مثلاً ہولی ، دیوالی ،درگا پوجا اور مسلمانوں کے مذہبی تہواروں مثلاً عید ، بقر عید اور محرم وغیرہ  میں دونوں اقوام کے لوگ شریک ہوتے اور قو می یکجہتی کا بھر پور ثبوت دیتے۔ حکومت چاہے ہندوئوں کی رہی ہو یا مسلمانوں کی آپسی بھائی چارگی کا جو تصور ہندوستانی معاشرے میں قائم تھا اس کی مثال تاریخ میں بہت کم ملتی ہے۔ اگریہ کہا جائے کہ اس عہد میں ہندو ومسلم کا رہن سہن ،کھان پان سب کچھ ایک جیسا تھاتو مبالغہ نہ ہوگا۔اس سلسلے میں ذرا یہ مکالمہ دیکھیے:

’’ہندو مسلمانوں میں سماجی سطح پر کوئی واضح فر ق نہ تھا۔ خصوصاً دیہاتوں اور قصبہ جات میں عورتیں زیادہ تر ساریاں اور ڈھیلے پائجامے پہنتیں۔ اودھ کے بہت سے پرانے خاندانوں میں بیگمات اب تک لہنگے بھی پہنتیں ۔ بن بیاہی لڑکیاں ہندو اور مسلمان دونوں ساری کے بجائے کھڑے پائیچوں کا پائجامہ پہنتیں۔۔۔۔۔۔  زبان اور محاورے ایک ہی تھے۔ مسلمان بچے برسات کی دعا مانگنے کے  لیے منہ نیلا پیلا کیے گلی گلی ٹین بجاتے پھرتے اور چلاتے __ برسورام دھڑا کے سے بڑھیا مرگئی فاقے سے۔ گڑیوں کی بارات نکلتی تو وظیفہ کیا جاتا__ ہاتھی گھوڑا پالکی__ جے کنہیاں لا ل کی۔مسلمان پردے دار عورتیں جنہوں نے ساری عمر کسی ہندو سے بات نہ کی تھی ۔رات کو جب ڈھولک لے کر بیٹھتیں تو لہک لہک کر الاپتیں__بھری گگری موری ڈھرکائی شام__کرشن کنہیاکے اس تصور سے ان لوگوں کے اسلام پر کوئی حرف نہ آتا تھا ۔ یہ گیت اور کجریاںاور خیال، یہ محاورے، یہ زبان، ان سب کی بڑی پیاری اور دلآویز مشترکہ میراث تھی۔ یہ معاشرہ جس کا دائرہ مرزا پور اور جون پور سے لے کر لکھنؤ اور دلّی تک پھیلا ہوا تھا۔ ایک مکمل اور واضح تصویر تھا۔جس میں آٹھ سو سال کے تہذیبی ارتقا نے بڑے گمبھیر اور بڑے خوبصورت رنگ بھرے تھے۔‘‘ 

          ( قرۃ العین حیدر، پت جھڑ کی آواز(افسانوی مجموعہ)، مکتبہ جا معہ لمیٹڈ، نئی دہلی، 1965،ص 58-59)

          یہ تمام جزئیات دراصل اس تمدن کی مظہر تھیں جنہیں پچھلی صدیوں میں مسلمانوں کی تہذیبی ہمہ گیری اوروسعت نظر اور ایک رچے ہوئے جمالیاتی حس نے بڑے چاو سے جنم دیا تھا۔یہ گیت اور گجریاں اور خیال، یہ محاورے،یہ زبان ، ان سب کی بڑی پیاری اور دل آویز تصاویرہمار ے مشترکہ تہذیب کی میراث تھی جسے قرۃ العین حیدر کے یہاں بخوبی تلاش کیا جا سکتا ہے۔ اب جب کہ موجودہ تناظر میں اس کی نوعیت یکسر بدل چکی ہے، لیکن روایت کا اپنا جدلیاتی عمل تو ہوتا ہی ہے اور زبان و بیان کی جمالیات کے اپنے کچھ بنیادی خصائص بھی ہوتے ہیںجو کہ زماں و مکاں کے پا بند ہونے کے باوجود ہر مقام اور ہرزمان میں اپنی لازوال قوتوں کاثبوت فراہم کرتے ہیں۔ تاہم اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ وہ زماں و مکاںکی پابند ہو کر رہ جاتی ہیں۔ بلکہ اس کے بر عکس وہ زماں و مکاں یکسر توڑ پھوڑ دیتی ہیں۔ کیونکہ وہ جس سماج اور جس عہد سے بر سر پیکار ہیں اس میں روایت کی جڑیں بہت گہری اور وسیع ہیں تاہم فن کی اساسی اقدار یا یہ کہہ لیجیے فکشن کے اساسی اقدار پر وہ کسی مغالطے کا شکارقطعی نہیں ہو تیں۔ ان کے افسانوی بنت میں ڈرامائی کیفیت اور مصور کی جزئیات کام کرتی ہیں۔  قرۃ العین حیدر حقیقت کو رد تو نہیں کرتیںلیکن حقیقت کا نیا انکشاف ضرور کرتی ہیں چونکہ انھوں نے اپنے افسانوں میں ان تمام حالات کو پیش نظر رکھا جہاں زندگی کی اعلیٰ قدریں اپنی معنویت کھو رہی تھیں یا کھو چکی تھیں۔ افسانہ ’’جلا وطن‘‘ کو اگر سماجی اور ثقافتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تویہ تقسیم سے قبل اور بعد کی صورت حال کو ایک ناسٹلجیا کے طور پر پیش کرتا ہے۔

          قرۃالعین حیدر نے ’’جلا وطن‘‘  میں اپنے تمام مرکزی کرداروں کی جلا وطنی کی داستان سنائی ہے ۔ انھوںنے ایسے کردار پیش کیے ہیںجن کا تعلق تین الگ الگ نسل سے یا یوں کہیں تین جنر یشن سے ہے۔ یہ کردار گرچہ اپنی نسلوں کی نمائندگی کرتے ہیں لیکن ہر ایک کی زندگی انتہائی کرب انگیزاور جلا وطنی کے درد کو سمیٹے ہوئے ہے۔دوسرے لفظوں میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ اس عہد کا مقدر ہی جلا وطنی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ مصنفہ نے جان بوجھ کرزیادہ تر کرداروں کی نفسیاتی کیفیت کو اس جلا وطنی کے پس منظر میں دکھانے کی کوشش کی  ہو تا کہ قارئین اس ذہنی کرب کو محسوس کر سکیں جسے اس عہد کے ہر خاص و عام نے ہر لمحہ برداشت کیا ہے۔

          افسانے کے پہلے مرکزی کردار آفتاب رائے نہایت ملنسار ، با اخلاق اور روایتی اقدار کے پاسدارہیں۔وہ ایک یونیورسٹی میںتاریخ کے پروفیسرہیں۔ مشترکہ تہذیب کے پروردہ آفتاب رائے تقسیم سے قبل کے بدلتے ہوئے سیاسی اور سماجی حالات سے مایوس ہیں۔ جہاں ایک طرف ہندومہاسبھائی انھیں مسلمان بننے کامشورہ دیتے ہیں اور جون پور کا قاضی جیسے فقرہ سے نوازتے ہیں وہیں دوسری طرف مسلمان نو عمر لڑکے لڑکیاں انھیں کٹر مہا سبھائی تصور کرتے ہیں ۔گویا کہ آفتاب رائے جیسا مشترکہ تہذیب کا پروردہ دونوں فرقے کے لوگوں کو قابل قبول نہیں ہوتا۔ اس صورت حا ل میں آفتاب رائے اپنوں کے درمیان پھیلی اس جلا وطنی کے کرب کو بڑی شدت سے محسوس کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی ذات کے کھول میں سمٹ کر رہنا پسند کرتے ہیں اور جلا وطنی کی زندگی کو اپنا تے ہیں۔یہاں مصنفہ نے بڑے سفاکانہ انداز میں آفتاب رائے کی نسل کا المیہ پیش کیاہے۔

           اس افسانے کادوسرا مرکزی کردار کنول کماری ہے جسے آفتاب رائے نے نہ صرف ٹھکرا دیا بلکہ اس پر تحفظ کوشی اور سماجی ومعاشی معیار کی جستجو کا الزام بھی عائد کردیا ۔ کنول کماری آفتاب رائے کے اس رویے سے جس ذہنی کرب میں مبتلا ہوئی وہ اس کے لیے نہایت اذیت ناک ثابت ہوئی۔ یہی ذہنی کرب ، ازلی و ابدی پچھتاوئے کا یہی ویرانہ، اسے جلا وطنی کی کیفیت سے دوچار کرتا ہے اور وہ اس کشمکش میں یہ کہہ اٹھتی ہے کہ:

’’آفتاب بہادر تم کو پتہ ہے کہ میری کیسی جلاوطنی کی زندگی ہے ۔ذہنی طمانیت اور مکمل مسرت کی دنیا جو ہوسکتی تھی۔ اس سے دیش نکالا جو مجھے ملا ہے اسے بھی اتنا عرصہ ہوگیا کہ اب میں اپنے متعلق کچھ سوچ بھی نہیں سکتی۔‘‘  (ایضا ً ، ً  ص 84 )

          آفتاب رائے کا کنول کے بجائے اپنے خاندان کو ترجیح دینا ان کی ذہنیت پر سوال اٹھاتا ہے۔ یہاں قرۃ العین حیدر نے تانیثیت کے پس منظر میں کنول کماری کے احساسات کا جائزہ لیا ہے۔ جہاں درد ہے ، کسک ہے ،شکست خوردگی کا احساس ہے ۔ آفتاب رائے نے کنول کماری کے عوض زندگی کے جو خواب سجائے تھے وہ شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکے۔ شکست خواب کا کرب ناک دور شروع ہوا۔ زمینداری کا خاتمہ ہوگیا۔ اب اس کی جگہ سرمایہ دارانہ نظام نے لے لی۔ وہ اپنے ہی معاشرے میں اجنبی ہوگئے اور اپنی تلاش وجستجومیں خود کو Undergroundکرلیا۔ اس سلسلے میں مسرت جہاں نے بہت خوب لکھا ہے:

’’آفتاب رائے اپنی تہذیبی فضا سے سیاسی تبدیلیوں کے ہاتھوںجلا وطن ہوئے انھوں نے خود بن باس لیا،اپنی تکمیل کی خاطر انھوں نے کنول کو چھوڑا تاکہ خود بے گانگی کا شکار نہ ہوں۔ کنول کو سب ملا جو آفتاب رائے کو نہ ملا لیکن اسے خود بیگانگی کا کرب ملا وہ اپنی ذات سے جلاوطن ہوئی۔ آفتاب رائے کی جلاوطنی خوداختیاری ہے اور کنول کی مجبورانہ ۔رام نے اپنی تکمیل کے  لیے بن باس لیا،وہ ہیروبنے خود کو پایا۔ پھر حکومت ہی نہیں بلکہ دلوں کے راج سنگھاسن پر بھی بیٹھے ۔سیتا نے رام کی طرح بن باس لیا خود کو کھویا ۔لاکھوں کے بول سہے اور بن باس ختم ہونے کے بعد اس کا نیابن باس شروع ہوا جس کی کوئی معیاد نہ تھی، ازلی ابدی جلاوطنی…‘‘    

          (قرۃ العین حیدر کی افسانہ نگاری: ایک تنقیدی مطالعہ، ڈاکٹر مسرت جہاں،عرشیہ   پبلی کیشنز، دہلی ،2014، ص 122)

          بہرحال آفتاب رائے اور کنول کماری کے کردار کی صورت میں قرۃالعین حیدر نے نہ صرف ایک عورت کے فطری جذبات کو انگیز کیا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اس دور کے بدلتے حالات اور تہذیبوں کے تصادم کو بھی پیش نظر رکھا ہے۔ ایک طرف کنول کماری ہے جو آفتاب رائے کو اپنی اس جلاوطنی کی زندگی کے لیے قصور وار ٹھہراتی ہے تو دوسری طرف آفتاب رائے آخر تک اپنی ذات کوپانے کی جستجو      میں منہمک ہے۔ ادھر کنول کماری ہے جو انھیں کھو کر بھی نہیں کھوتی وہیں دوسری طرف ٓفتاب رائے اپنی ذات کے کھول میں سمٹ کر بھی اس جلا وطنی کے کرب سے محفوظ نہیں رہ پاتے۔

          یہاں قرۃ العین حیدر نے جس خوبصورتی اور جس فنی چابکدستی سے اس جلا وطنی کے کرب کو پیش کیا ہے وہ ان کی سماجی و اخلاقی اقدار کی نمائندگی کرتا ہے۔ہمیں اس امر کو بھی ذہن نشیں رکھنا چاہیے کہ قرۃالعین حیدر کی رومانیت میں کلاسیکی اقدار و اخلاق کی بوسونگھ لینا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ تا ہم اسلوب کے اظہار سے وہ رومانی کہی جا سکتی ہیں۔ اسی ضمن میںمشہور و معروف افسانہ نگار انتظارحسین کا قول صادق آتا ہے کہ تقسیم سے پہلے قرۃالعین حیدرنہ اس انداز میں سوچ سکتی تھیں نہ لکھ سکتی تھیں۔ چونکہ قرۃالعین حیدر کلاسیکی ضبط کی افسانہ نگار ہیںاس  لیے ان کے یہاں ماضی کی بازیافت ہے جو ایک مخصوص سچویشن میں قاری کے ذہن پر اثر انداز ہوتی ہے اور اسی مناسبت سے ہمارا ردعمل کبھی کم شدید ہوتا ہے اور ذہن کے کسی ایک کونے میں وارداتوںکا ایک سلسلہ ابھرنے لگتا ہے اور پوری طرح ذہن پر چھا جا تا ہے۔ جہاں سے یہ عمل شروع ہوتا ہے وہیں سے کہانی اپنی جگہ پکڑ لیتی ہے۔

            افسانہ نگار جس عہد میں زندگی گزار رہا  ہوتا ہے وہ ا س عہد کی سیاست سے بے تعلق ہو سکتا ہے نہ سماجی اقدار سے اور نہ ہی اپنی ذات سے۔ ایسی صورت میں وہ جذبات کے دباؤ کو محسوس کئے بغیر بھی نہیں رہ سکتا۔یہ الگ بات ہے کہ جذبے کا یہ دباؤ اس کے نزدیک کتنا معنی رکھتا ہے۔ اگر اس پس منظر میں ہم دیکھیں تو ان کے افسانوں میں کہانی کرداروں کے ساتھ اپنے شیریں اسلوب میں تاریخ کی بازیافت اور تہذیب و ثقافت میں رنگ بھرتی ہوئی نظر آتی ہے ۔ افسانہ جلا وطن میں کشوری اور کھیم وتی کے کردار بھی غور طلب ہیں۔ گرچہ ان کرداروں کا تعلق نئی نسل سے ہے لیکن یہ بھی جلا وطن کے کرب سے دو چار ہیں۔کشوری اور کھیم وتی بچپن کی سہیلیاں تھیں۔ عید ،شب برات، ہولی و دیوالی کی خوشیوں میں جھوم جایا کرتی تھیں۔ لیکن اس گنگا جمنی تہذیب پر سیا ست کے کالے بادل منڈرانے لگتے ہیں اور آہستہ آہستہ ان کے درمیان مذہبی فرقہ پرستی کی دیواریں حائل ہونے لگتی ہیں۔ یونیورسٹی کی سیاسی فضا میں دونوں اس قدر کھو جاتی ہیں کہ انھیں ایک دوسرے کے خاندانی روایات و اقدار اور جذبات کا خیال بھی نہیں رہتا ۔ کھیم وتی ہندو مہا سبھا کی حمایتی بن جاتی ہے جبکہ کشوری مسلم لیگ کی ایک سرگرم رکن بن کر ہمارے سامنے آتی ہے اوردونوں لمحہ لمحہ بنتے بگڑتے سیاسی مذہبی اور تہذیبی کشیدگی میں پوری طرح ملوث ہو جاتی ہیں جیسے جیسے سیاسی حالات تبدیل ہوتے ہیں ان دونوں کے مابین بھی دیواریں حائل ہونے لگتی ہیں۔ ایک وقت ایسا آتا ہے جب دونوں ایک دوسرے کی شکل تک دیکھنا پسند نہیں کر تیں۔اس کے بر عکس کشوری کے با با سید جعفر عباس ایک قوم پرست اور روایتی اقدار کے حا مل انسان تھے۔

           قرۃالعین حیدرکے نزدیک ماضی کی باز یافت کا عمل ہی وہ واحد شناخت ہے جو انھیں انفرادیت عطا کرتی ہے۔ یہ المیہ کم نہیں کہ انھوںنے انسان کی ان بنیادی قدروں سے اسے ناپنے یا دریافت کرنے کی کوشش کی۔ان کا یہ رومان پرور رویہ ان کی جذباتیت کی گواہی دیتا ہے۔ قرۃالعین حیدر ہر صورت حال ہر واقعے اور تبدیلی کی گواہ ہی نہیں بنتیں بلکہ اس میں اپنی شراکت داری اور موجودگی کا جواز فراہم کرتی ہیں۔ جس کو ہم ایک حد تک اجتماعی Isolation  کا نام دے سکتے ہیں۔گویا محض داخلیت پر یہ اصرار ان کی ذہنی کیفیت کی غمازی کرتا ہے۔اجتماعی  Isolation  کا یہ عمل ایک حد تک اذیت ناک مرحلے میں داخل ہو جاتا ہے اور ان کے ذہنی کرب کی آماجگاہ بن جا تا ہے۔

          کشوری اپنی تعلیم مکمل کرنے کے فوراً بعد پاکستان جانا چاہتی ہے جب کہ اس کے والد ہندوستان میں رہنا پسند کرتے ہیں۔ لیکن اپنے والد صاحب کو اکیلا چھوڑ کر وہ پاکستان نہیں جانا چاہتی۔ معاشی حالات خراب ہونے کی وجہ سے وہ ہندوستان میں ملازمت کی تلاش کرتی ہے مگر اسے ہر جگہ مایوسی کا سامنا کرنہ پڑتا ہے۔وہ Economicsکی بہترین طالبہ ہونے کے باوجود نوکری پانے سے قاصر رہتی ہے ۔

          اس طرح کے مکالموں سے قرۃالعین حیدرنے تقسیم کے بعد کے سیاسی اور سماجی رویے کو نہ صرف منعکس کیا ہے بلکہ اس ذہنی کرب اور کشمکش کو بھی پیش کیا ہے جس سے اس عہد کا ہر خاص و عام دوچار تھا۔کشوری کو ہندوستان میں رہنے کے باوجود پاکستانی تصور کرنا دراصل اس جلا وطنی کی داستان ہے جس کی جڑیں بے دخلی ، بے زمینی اور تہذیبی اقدار کے مٹنے سے سروکار رکھتی ہیں۔ یہ جلا وطنی محض کشوری کی نہیں بلکہ یہ اس عہد کا المیہ ہے جس کو قرۃالعین حیدر نے انتہائی کرب سے بیان کیا ہے۔یہ اقتباس دیکھئے:

’’ہم لوگ یونیورسٹی کی اونچی اونچی ڈگریاں حاصل کررہے ہیں۔ تہذیبی میلے اور تہوار منعقد کرنے میں مصروف ہیں۔ ہے مارکیٹ کے مخصوص تھیٹر وں میںاپنے بیلے کے پروگرام پیش کرتے ہیں۔ امن کانفرنسوں اور یوتھ فیسٹولزمیں شامل ہوتے ہیں لیکن یہاں سے واپس لوٹ کرکیا ہوگا۔

 تم نے کبھی خیال کیا ہے کہ میں کہاں جاؤں گی __؟ میرا گھر اب کہاں ہے؟ کیا میں اور میری طرح دوسرے ہندوستانی مسلمان ایسے مضحکہ خیز اور قابل رحم کرداربننے کے مستحق تھے__؟؟ ‘‘   ( ایضا ً ، ص 88-89)

          ان تمام غیر یقینی اور بے اطمنانی کے باوجود قرۃالعین حیدر نا امید نہیں ہیں انھیں یقین ہے ایک نہ ایک دن حالات ضرور بدلیں گے اور روح کی یہ جلا وطنی ضرور ختم ہو گی اور مستقبل کے امکانات روشن ہوںگے۔ در اصل یہ ایک طرح کی رجائیت ہے اور قرۃالعین حیدر اپنے ناول اور افسانوں میں اسے قائم رکھتی ہیں۔ جلا وطن کا اختتام جتنا ڈرامائی ہے اس سے کہیں زیادہ رجائی ہے:

’’یہ ہمارا پرانہ عہد نامہ تھا۔ان کے خیالات تباہ ہو چکے ۔اب ان کے پاس کیا باقی رہا ہے__آرگن کے مدھم اور لرزہ خیز سروں کے ساتھ قدم اٹھائے ہوئے وہ سب آہستہ آہستہ اپنے راستے پر واپس آئے۔

کنول رانی __کسی نے اندھیرے میںیک لخت پہچان کر چپکے سے پکارا۔ یہاں آجاو۔اور ہمارے ساتھ کھڑے ہو کر اس خوبصورت روشنی کو دیکھو جو آسمان پر پھیل رہی ہے۔ اب کسی پچھتاوے ۔کسی افسوس کا وقت نہیں ہے۔

پرانے عہد نامے منسوخ ہوئے ‘کشوری نے آہستہ سے دہرایا۔ ہم ا س طرح سے زندہ نہ رہیں گے۔ ہم یوں اپنے آپ کونہ مرنے دیں گے۔ ہماری جلاوطنی ختم ہوگی

ہمارے سا منے آج کی صبح ہے۔ مستقبل ہے ساری دنیا کی نئی تخلیق ہے۔ لیکن کنول کماری—تم اب بھی رو رہی ہو—؟‘‘(ایضاً، ص 91 )

          اس اقتباس سے افسانہ نگار کے رجائی پہلو کی بھر پور عکاسی ہو تی ہے۔یہ وہی کنول کماری اور کشوری ہے جو بچپن میںایک دوسرے کی دوست ہیں لیکن کالج اور یو نیور سٹی کے زمانے میں حالات کے جبر کا شکار ہو جاتی ہیں۔ تقسیم ملک کے بعد کنول کماری لندن چلی جا تی ہے کشوری بھی حالات سے مجبور ہو کر معاشی مجبوریوںکی وجہ سے لندن چلی جا تی ہے اور وہاں پر جب دونوں کی ملاقات ہوتی ہے تو کنول کنواری کشوری کو پاکستانی ہونے کا طعنہ دیتی ہے یہ قرۃالعین حید کی رجائیت ہی ہے کہ وہ اس طعنہ زنی کے باوجود دونوں کرداروں کو پھر سے یکجا کر دیتی ہیں اور دونوں میں بھائی چارگی کا وہ جذبہ پیدا کرتی ہیں جو افسانہ نگار کو بے حد عزیز ہے ۔

          مختصر طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ افسانہ محض تقسیم کا المیہ نہیں بلکہ مذہبی بھائی چارگی کے درمیان بڑھتی خلیج کی داستان بھی ہے ۔ یہ المیہ ہماری مشترکہ تہذیب کے زوال کی نشاندہی کرتاہے۔ا یک سچے فنکار کی کامیابی کی دلیل یہ ہے کہ اس کی تخلیقات ہر عہد میں با معنی ہوتی ہیںاور اپنے اندر قارئین کو متاثر کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تویہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ قرۃالعین حیدر کا افسانہ ’’ جلا وطن‘‘ ان کے بہترین افسانوں میں سے ایک ہے۔

 

Dr. Mohammad Shafquat Kamal

HOD Urdu                            

T. D. B College

Raniganj- 713347 (W.B)

Mob: 9333719601

E-mail: shafquatkamal@gmail.com




تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...